Ayah 65:11[ 36] بعثت رسول کے ایک مقصد عظیم کا ذکر وبیان۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس نے مبعوث فرما دیا تمہارے لیے ایک ایسا عظیم الشان رول جو تم لوگوں کو پڑھ کر سناتا ہے ایسی عظیم الشان آیتیں جو کھول کر یان کرنے والی ہیں حق اور حقیقت کو، حلال اور حرام کو، جائز اور ناجائز کو، صحیح اور غلط کو، پس جو حجرات اس کا ترجمہ واضح یا کھلی آیتیں کرتے ہیں وہ اس لفظ کا پورا ترجمہ نہیں لگتا کہ یہ ترجمہ تو دراصل بینات کا ہے نہ کی مبینت کا جو کہ یہاں مذکور ہے بہر کیف یہ اشارہ فرمایا گیا کہ اللہ نے تمہاری طرف ایک عظیم الشان ذکر بھی اتارا ہے ایسا عظیم الشان جو کہ تمہارے لیے دراین کی سعادت سے بہرہ مندی و سرفرازی کا کفیل وضامن ہے اور اس کے ساتھ ہی اس نے تمہارے اندر ایک عظیم الشان رسول بھی مبعوث فرمایا ہے جو تم لوگوں کو اس ذکر عظیم کی آیات بینات پڑھ پڑھ سناتا ہے سو اس کے باوجود جو لوگ راہ حق سے منہ موڑتے ہیں وہ بڑے ہی ظالم اور بےانصاف ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم، بکل حال من الاحوال۔
[ 37] اہتمام ہدایت کی غرض وغایت کا ذکر وبیان۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ تاکہ وہ نکالے ایمان والوں کو تاریکیوں سے روشنی کی طرف اور حق و ہدایت سے محرومی کی ان تاریکیوں سے جو کہ ظاہری اور حسی تاریکیوں سے کہیں بڑھ کر خطرناک اور تباہ کن و ہلاکت خیز ہیں والعیاذ باللہ کیونکہ یہ ظاہری اور حسی تاریکیاں انسان کو دوزخ میں نہیں لے جاتیں جبکہ کفر و شرک کی یہ معنوی اور غیر محسوس تاریکیاں انسان کو ہادیہ جہنم میں گرا دینے والی ہیں والعیاذ باللہ العظیم سو اس ارشاد سے اہتمام کی غرض وغایت کو ذکر اور بیان فرما دیا گیا جو اللہ نے اپنے بندوں کی ہدایت کے لیے فرمایا ہے چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ یہ سب اہتمام اس لیے فرمایا گیا ہے کہ تاکہ اس طرح اللہ اپنے ان بندوں کو جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل بھی کیے ان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لائے سو اس سے دو اہم بنیادی حقیقتیں واضح ہوجاتی ہیں ایک یہ کہ یہ سب کچھ اس وحدہ لاشریک نے محض اپنے بندوں کے بھلے اور فائدے کے لیے کیا ہے اس پر اس کا اپنا کوئی فائدہ نہیں کہ وہ اس طرح کے ہر تصور سے پاک اور اعلی وبالا ہے سبحانہ، تعالی۔ اور دوسری اہم اور بنیادی حقیقت اس سے یہ واضح فرما دی گئی کہ اس قدر اہتمام کے باوجود جو لوگ تاریکی کو روشنی پر ترجیح دیں گے ان کے لیے کل قیامت کے روز اللہ کے حضور پیش کرنے کے لیے کوئی عذر ممکن نہیں ہوگا، والعیاذ باللہ العظیم بہر کیف ارشاد فرمایا گیا کہ تاکہ وہ نکال لائے ان کو تاریکیوں سے اس نور عظیم کی طرف۔ جو کہ ظاہری اور حسی نور سے کہیں بڑھ کر اہم اور عظیم الشان اور دارین کی سعادتوں کی راہ دکھانے والا نور ہے سو اللہ نے تو بندوں کی ہدایت و راہنمائی کے لیے ایسا عظیم الشان ذکر بھی نازل فرما دیا جو کہ فطرت کے تمام مضمرات کی تذکیر ویاد دہانی کراتا ہے اور اپنا عظیم الشان رسول بھی بھیج دیا ہے جو ایمان والوں کو اللہ کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور جس کی صفت وشان ہی مذکر ہے سو اس کے بعد جن لوگوں نے ہدایت پر گمراہی کو اور روشنی پر تاریکی کو ترجیح دی اس کی ذمہ داری خود انہی پر ہے ایسے لوگوں پر اللہ کی حجت تمام ہوگئی اور ان کے لیے اپنے رب کے حضور پیش کرنے کے لیے کسی عذر و معذرت کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی اور ایسے لوگ اپنی گمراہی اور محرومی اور بدبختی کے خود زمہ دار ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم، من کل زیغ وضلال وسوء و انحراف بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیات۔
[ 38] ایمان والوں کے لیے دائمی جنتوں کا مثزدہ جانفزا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو کوئی ایمان لائے گا اللہ پر اور اپنے اس ایمان کے مطابق وہ نیک عمل بھی کرے گا تو اللہ اس کو داخل فرمائے گا ایسی عظیم الشان جنتوں میں جن کے نیچے سے بہہ رہی ہوں گی طرح طرح کی عظیم الشان نہریں جہاں ان کو ہمیشہ ہیمش رہنا نصیب ہوگا سو خلود دوام جنت کی ایک منفردہ و بےمثال نعمت ہے جس سے اس کے خوش نصیب باسیوں کو نوازا جائے گا اور خلود دوام جت کی ایک خاص امتیازی اور منفرد و بےمثال نعمت ہے جو اس دنیا میں ممکن ہی نہیں کیونکہ اس دنیا کی ہر نعمت بھی فانی اور عارضی اور یہاں کی نعمتوں سے مستفید و فیضیاب ہونے والے لوگ بھی فانی ہیں پس یہ جنت کی ایک عظیم الشان اور منفرد و نعمت دائمی ہوگی کہ وہاں انسان کو دوام اور خلود نصیب ہوگا اللھم شرفنا بھا دنیا میں اس خلود دوام کی یہ نعمت کسی کے لیے ممکن ہی نہیں یہاں کی نہ کوئی نعمت دائمی ہوسکتی ہے اور نہ ہی نعمت پانے والا کوئی شخص کہ یہاں کی ہر چیز فانی ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا کل من علیھا فان، ویبقی وجہ ربک ذوالجلال والاکرام۔ (الرحمن، 25، 26، 27 پارہ 27) اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل وکرم سے نصیب فرمائے آمین ثم آمین۔ سو اس ارشاد سے ایک طرف تو یہ اہم اور بنیادی حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ اصل چیز آخرت اور نعیم جنت سے سرفرازی ہی ہے پس اسی کو اپنا اصل مقصد اور حقیقی نصب العین بنانا چاہیے اور دوسرے یہ کہ جو لوگ آخرت کو بھول کر دنیا کو اپنا مقصد بنائے ہوئے ہیں وہ بڑے ہی محروم اور کوتاہ نظر لوگ ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے اور ہر قسم کے شرور فتن کے ہمیشہ اور ہر اعتبار سے محفوظ رکھے اور ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا کی راہوں پر گامزن رہنے کی توفیق بخشے آمین، ثم آمین۔
[ 39] اہل ایمان کے لیے رزق حسن کی رحمت و عنایت کا ذکر وبیان۔ سو اس سے ایمان والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے رزق حسن کی بشارت کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ بیشک اللہ ان کو بڑے ہی عمدہ رزق سے نوازے گا ایسے عمدہ اور اس قدر عظیم الشان رزق سے کہ اس دنیا فانی میں اس کا وہم و گمان بھی کسی کے دل ودماغ پر نہیں گزر سکتا اللھم ارزقنا، بہر کیف اس ارشاد سے یہ واضح فرما دیا گیا کہ جو کوئی ایمان اور عمل صالح کی راہ کو اپنائے گا اور حدود الہی کی حفاظت و پاسداری کرے گا وہ مطمئن رہے کہ یہ سودا کوئی خسارے کا سودا نہیں بلکہ نہایت نفع کا سودا ہے کہ ایسوں کو اللہ ان عظیم الشان جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے طرح طرح کی عظیم الشان نہریں بہہ رہی ہوں گی جہاں ان کو ہمیشہ رہنا نصیب ہوگا اور اللہ ان کو بڑے ہی عمدہ رزق سے نوازے گا اور یہ رزق حسن اس واہب مطلق نے ان خوش نصیبوں کے لیے تیار کر رکھا ہے سو ایمان و یقین اور عمل صالح کی دولت انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز کرنے والی دولت ہے کہ اس سے انسان کو اس دنیا میں حیات طیبہ یعنی پاکیزہ زندگی نصیب ہوتی ہے اور آخرت میں ابدی جنت کی سدا بہاری نعمتیں نصیب ہوں گی، وبا اللہ التوفیق لما یحب ویرید۔
Ayah 65:12[ 40] حضرت خالق جل مجدہ کی عظمت شان کا ذکر وبیان۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ وہ ہے جس نے پیدا کیا سات آسمانوں کو اور زمین سے بھی انہیں کے مانند۔ جس کی پوری حقیقت کا ادراک ہماری سمجھ اور ہمارے دائرہ علم سے بالا ہے۔ اس لیے اس میں زیادہ کھود کرید کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ سلف کے ارشاد کے مطابق اس کو ویسے ہی مبہم رہنے دیا جائے جیسا کہ قرآن کریم میں اس کو مبہم رکھا گیا ہے۔ اور ان مختصر حواشی میں تو ویسے بھی ایسی بحثوں کی گنجائش نہیں مفصل تفسیر کی سعادت اگر نصیب ہوگئی تو انشاء اللہ ضروری تفصیل اس میں عرض کردی جائے گی، واللہ الموفق والمعین، بہر کیف اس ارشاد سے اللہ نے آخر میں اپنی صفت قدرت اور صفت علم کی تذکیر یاد دہانی فرمائی ہے سو اس کی قدرت بےپایاں ہے وہ جو چاہے کرسکتا ہے اور اس کا علم بھی کامل اور محیط کل ہے کوئی بھی چیز اس کے دائرہ علم اور قدرت سے باہر نہیں ہوسکتی پس کوئی یہ گمان نہ کرے کہ خدائے پاک کی کل کائنات اتنی ہی ہے جتنی کہ اس کو نظر آرہی ہے یہ تو اس کی اتھاہ کائنات کا ایک نہایت ہی محدود اور حقیر سا حصہ ہے یہ آسمان جو تم لوگوں کو اپنے اوپر تنا ہوا نظر آ رہا ہے اس قادر مطلق خالق کل جل وعلا نے اس جیسے سات آسامن اور بنائے ہیں اور یہ زمین جس پر تم لوگ چلتے پھرتے اور رہتے بستے ہو صرف یہی ایک زمین نہیں بلکہ زمینیں بھی آسمانوں کی طرح سات ہیں سبحان اللہ، کیا کہنے اس خالق ومالک کی عظمت شان کے جس کے یہ عظیم الشان مظاہر ہر طرف پھیلے بکھرے ہیں۔ سبحانہ وتعالی۔
[ 41] سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کے درمیان اس کے احکام اترتے ہیں یعنی وہ خاص احکام جو ان کے کام ونظام کے لیے ضروری ہوتے ہیں سو جس طرح تمہارے آسمان اور زمین کے درمیان خدا وند قدوس کے احکام و فرامین کا نزول ہوتا ہے اسی طرح دوسرے آسمانوں اور زمینوں کے اندر بھی اس کے احکام نازل ہوتے ہیں سبحانہ وتعالی۔ سو اللہ تعالیٰ نے اپنی کائنات کے یہ راز تم پر کھول دئیے تاکہ تم لوگوں پر یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہوجائے کہ اللہ کی قدرت کی کوئی حد و انتہا نہیں سبحانہ وتعالی۔ رہی یہ بات کہ ان ساتوں آسمانوں اور زمینوں کے درمیان ایک ہی ایک ہی طرح کے قوانین وانوامیس پائے جاتے ہیں اور ان کے درمیان ایک ہی قسم کی مخلوق آباد ہے یا ان کے درمیان مختلف قسم کے قوانین نوامیس نافذ ہیں اور ان کے اندر الگ الگ قسم کی مخلوق آباد ہے یا مختلف قسم کی تو اس کے بارے میں قطعیت کے ساتھ کچھ کہنا ہمارے لیے ممکن نہیں کہ اس کے لیے کوئی صریح وقطعی قسم کی دلیل ہمارے پاس موجود نہیں محض مثلھن کے لفظ سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ ہر عالم میں ایک ہی قسم کی مخلوق رہتی ہو اور ان کے درمیان ایک ہی قسم کے احکام و قوانین نازل ہوتے ہیں یہ مشابہت تو محض تخلیق کے اعتبار سے ہے کہ جس طرح اللہ نے سات آسمان بنائے اسی طرح اس نے زمینیں بھی سات بنائی ہیں اور بس۔ رہے ان کے قوانین ونوامیس تو ان کے بارے میں نہ اللہ تعالیٰ نے کوئی تصریح فرمائی اور نہ ہی ان کا فہم و ادراک ہمارے حیطہ بس میں ہے۔ سبحان اللہ۔ کیا کہنے حضرت خالق جل مجدہ کی عظمت کی ان شانوں اور مظاہرے کے۔ فسبحان اللہ وبحمدہ و سبحان اللہ العظیم۔
[ 42] اللہ تعالیٰ کے احاطہ علم کا ذکر وبیان۔ سو ارشاد فرمایا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلا شبہ اللہ کے علم نے ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے پس نہ کوئی چیز اس کے احاطہ علم اور ادراک سے باہر ہوسکتی ہے اور نہ ہی اس کی گرفت وپکڑ سے خارج، سو اس سے دوسرے مقصد کی توضیح فرما دی گئی جس طرح اس قادر مطلق کی قدرت کی کوئی حد وانتہاء نہیں اسی طرح اس عالم کل کے علم کی بھی کوئی حد وانتہاء نہیں اس کا علم ان تمام عوالم کی ہر چیز کو محیط اور شامل ہے سو اس کی قدرت بھی کامل اور لا محدود ہے اور اس کا علم بھی کامل اور لا محدود ہے اس لیے اس کی مخلوق کے اسرار وحکم کا علم و احاطہ اس کے سوا اور کسی کے لیے ممکن نہیں وہی اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہے اس بارے میں جتنی کچھ روشنی عطا فرمادے باقی تمام راز آخرت کے اس جہان غیب ہی میں کھل سکیں گے جو کہ کشف حقائق ظہور نتائج اور مشاہدے کا جہاں ہے۔ انسان کو جو کچھ علم ملا وہ تھوڑا اور ظواہر مظاہر کی حد تک ہی ہے۔ ویسئلونک عن الروح، قل الروح من امر ربی، وما اوتیتم من العلم الا قلیلا۔ سورة بنی اسرائیل 85، پارہ 15) والحمدللہ رب العالمین۔