60. Surah Al-Mumtahana

الممتحنةShe that is to be examined · 13 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 60:10

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا جَآءَكُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُهٰجِرٰتٍ فَامْتَحِنُوْهُنَّ١ؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِهِنَّ١ۚ فَاِنْ عَلِمْتُمُوْهُنَّ مُؤْمِنٰتٍ فَلَا تَرْجِعُوْهُنَّ اِلَى الْكُفَّارِ١ؕ لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَ لَا هُمْ یَحِلُّوْنَ لَهُنَّ١ؕ وَ اٰتُوْهُمْ مَّاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اَنْ تَنْكِحُوْهُنَّ اِذَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ١ؕ وَ لَا تُمْسِكُوْا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ وَ سْئَلُوْا مَاۤ اَنْفَقْتُمْ وَ لْیَسْئَلُوْا مَاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ ذٰلِكُمْ حُكْمُ اللّٰهِ١ؕ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 60:10 in the Quran reader

اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو جب مومن عورتیں ہجرت کرکے تمہارے پاس آئیں تو تم ان کی جانچ پڑتال کرلیا کرو اللہ تو خوب جانتا ہے ان کے ایمان (کی حقیقت) کو (پر تمہیں تحقیق کرنے کی ضرورت ہے) پس اگر تمہیں وہ مومن معلوم ہوں تو تم انہیں کفار کی طرف واپس نہیں کرنا (کیونکہ) نہ تو یہ عورتیں ان (کفار) کے لئے حلال ہیں اور نہ وہ (کافر) ان کے لئے حلال ہیں البتہ ان کے شوہروں نے جو کچھ (ان کے مہر وغیرہ میں) خرچ کیا ہو وہ تم ان کو دے دو اور ان سے نکاح کرلینے میں تم پر کوئی گناہ نہیں جب کہ تم ان کو ان کے مہر دے دیا کرو اور تم خود بھی کافر عورتوں کی عصمتوں کو اپنے قبضے میں نہ رکھو اور جو کچھ تم نے خرچ کیا ہو وہ (ان کافروں سے) مانگ لیا کرو اور جو کچھ انہوں نے خرچ کیا ہو وہ ان کو مانگ لینا چاہیے یہ اللہ کا حکم ہے وہ خود تمہارے درمیان فیصلہ فرماتا ہے اور اللہ سب کچھ جانتا بڑا ہی حکمت والا ہے1

[ 29] مہاجر عورتوں کے بارے میں تحقیق حال کا حکم و ارشاد : سو اس سے ہجرت کرکے آنے والی عورتوں کے بارے میں تحقیق حال کا حکم و ارشاد فرمایا گیا ہے، تاکہ یہ واضح ہوسکے کہ واقعی یہ دل و جان سے مومن ہیں یا صرف ظاہری طور پر ایمان کا دعویٰ کرتی ہیں، اور محض وقتی مصالح و مفادات کی بنا پر ایسا کہتی ہیں اور انہوں نے جو ہجرت کی ہے وہ محض اللہ و رسول کے لئے، اور اس نے دین کی خاطر کی ہے یا اس کے پیچھے والی غرض کار فرما ہے، چناچہ آنحضرت ﷺ ایسی ہر عورت سے قسم دے کر پوچھتے کہ کیا اس نے کہیں اپنے شوہر سے ناراضگی کی بناء پر تو ہجرت نہیں کی ؟ یا محض کسی جگہ سے تنگ ہوکر، یا کسی دوسری جگہ کو پسند کرنے کی بناء پر تو ایسی ہجرت نہیں کی ؟ اور یہ کہ وہ قسم کھا کر کہے کہ اس نے یہ ہجرت محض اللہ اور اس کے رسول کی محبت کی بناء پر کی ہے، سو جب وہ اس امتحان میں پاس ہوجاتی، تو اللہ کے رسول اس کے امتحان کی تصدیق فرما دیتے اور اس کو کفار کی طرف واپس نہیں لوٹاتے تھے، اور اس کے شوہر کو مہر اور خرچہ وغیرہ دے کر اس کی کسی مومن سے شادی کرا دیتے، [ ابن جریر، ابن کثیر، قرطبی، مراغی، خازن، جامع، اور محاسن وغیرہ ] سو اس سے دو باتیں واضح ہوجاتی ہیں ایک یہ کہ مومن کو ہوشیار اور بیدار مغز ہونا چاہئے تاکہ ایسے کسی موقع سے اس کو دھوکہ نہ لگنے پائے اور دوسری بات یہ واضح ہوگئی کہ پیغمبر عالم غیب دان نہیں ہوتے جس طرح کہ اہل بدعت کا کہنا ہے ورنہ آپ کو اس طرح کڑی قسمیں دے کر ان عورتوں کے امتحان لینے کی ضرورت نہ ہوتی، ﷺ سو علم غیب کلی خاصہ خداوندی ہے۔ اس میں اس کا شریک نہ ہے، نہ ہوسکتا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ [ 30] اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور امتحان کے حکمو ارشاد کے ساتھ جملہء معترضہ کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ خوب جانتا ہے ان کے ایمان کو کہ وہ دلوں کی باتوں کو بھی پوری طرح جانتا ہے اس لئے ا سے کوئی چیز چھپی نہیں رہ سکتی، سو تم قسم دے کر اور دوسرے قرائن اور حالات کے ذریعے جہان تک ہوسکے ان کے معاملے کی تحقیق کرلو، اور اسی کے مطابق عمل کرو، رہی اصل حقیقت تو وہ اللہ کو خوب معلوم ہے، اگر اپنی طرف سے پوری کوشش کے باوجود تم اصل حقیقت تک نہ پہنچ سکو تو تم عند اللہ معذور ہو، اور اگر انہوں نے تم کو دھوکہ دیا تو یاد رکھیں کہ اللہ ان کے دلوں کے حال اور ان کے ایمان و کفر سے پوری طرح واقف و آگاہ ہے۔ اس سے ان کی اور کسی کی بھی کوئی حالت و کیفیت مخفی نہیں رہ سکتی۔ سبحانہ وتعالیٰ ، جل شانہ و عم نوالہٗ و عز برھانہٗ ۔ [ 31] ایماندار عورتوں کو کفار کی طرف لوٹانے کی ممانعت کا ذکر وبیان : سو اس سے ایماندار مہاجر عورتوں کو واپس کفار کی طرف لوٹانے کی ممانعت فرما دی گئی۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا پس اگر تم ان کو مومن سمجھو تو ان کو کافروں کی طرف واپس نہیں کرنا۔ یعنی علامات و قرائن اور ظن غالب کے اعتبار سے، کہ دلوں کے اندر کی حقیقت کو جاننا تو تمہارے بس میں بھی نہیں ہے، سو اگر میسر ذرائع تحقیق کے اعتبار سے ان کو مومن سمجھو تو انہیں کافروں کو واپس مت کرو۔ کہ دین و ایمان کے اختلاف کے باعث ان میں سے کوئی ایک دوسرے کے لئے حلال نہیں بلکہ ان میں سے ہر ایک دوسرے پر حرام ہے۔ پس اگر تحقیق اور امتحان کے بعد ثابت ہوجائے کہ وہ عورتیں ایماندار ہیں تو تم ان کو ان کے کافر شوہروں کی طرف واپس نہیں کرنا کہ اب عورتیں ان کافر مردوں کے لیے حلال ہیں اور نہ وہ کافر شوہر ان کیلئے حلال ہیں۔ تو پھر ایسے میں ان کو لوٹانا کس طرح جائز ہوسکتا ہے ؟ والعیاذ باللّٰہ جل وعلا، وعز برھانہ، [ 32] مومن اور کافر کے درمیان رشتہ ازدواج جائز نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ نہ مومنہ عورتیں ان کافروں کیلئے حلال ہیں اور نہ وہ کافر مرد ان عورتوں کے لیے حلال ہیں۔ کیونکہ مومن عورت کافر مرد کے لئے حلال نہیں ہوسکتی، اور یہ تکرار مبالغہ و تاکید کے لئے ہے، کہ مومن عورت اور کافر مرد کے درمیان کسی بھی قسم کا تعلق جائز نہیں ہوسکتا، اسی لئے ان کے درمیان استئناف نکاح بھی درست نہیں، اس لئے تم ان مومن عورتوں کو ان کفار کے حوالے مت کرو، کہ نہ یہ عورتیں ان مردوں کیلئے ہیں اور نہ وہ مرد ان کیلئے، اور وجہ اس کی ظاہر ہے کہ مومن مرد اور عورت جنت کے راہی ہیں اور کافر و مشرک دوزخ کے راہی، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { اولئک الذین یدعون الی النار واللّٰہ یدعوالی الجنۃ والمغفرۃ باذنہ } [ البقرۃ : 221 پ 1] یعنی یہ لوگ دوزخ کی بلاتے ہیں جبکہ اللہ جنت اور اپنی بخشش کی طرف بلاتا ہے، پس عقل ونقل دونوں کا تقاضا ہے کہ ہمیشہ اور دل و جان سے اللہ تعالیٰ ہی کی دعوت و پکار پر لبیک کہا جائے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، [ 33] مونہ مہاجرہ کے مہر کی ادائیگی کا حکم و ارشاد : سو اس سلسلے میں یہ ایک منصفانہ بات کی ہدایت فرمائی گئی ہے کہ جس مومن عورت کو روکا گیا ہے اگر وہ کسی کافر کی زوجیت میں رہی ہو تو اس کا مہر ادا کردو۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ جو کچھ ان لوگوں نے خرچ کیا ہو وہ ان کو دے دو تاکہ ان کو دوہرا خسارہ نہ اٹھانا پڑے، کہ بیوی بھی جائے، اور اس پر خرچ کیا جانے والا مال بھی، سبحان اللّٰہ ! کس قدر عدل و انصاف ہے اسلامی احکام میں کہ کافروں اور دار الحرب کے کافروں کے حقوق کا بھی اس قدر خیال رکھا گیا ہے۔ والحمدللّٰہ جل وعلا۔ سو قرآن حکیم کا یہ فیصلہ نہایت ہی منصفانی فیصلہ ہے کہ جب تحقیق سے ثابت ہوگیا کہ یہ عورتیں سچی ایماندار عورتیں ہیں تو یہ نہ ان کفار کیلئے حلال ہیں اور نہ ہی وہ کافر ان کیلئے حلال ہیں۔ لہٰذا ایسی صورت میں ان کو ان کافروں کی طرف واپس بھیجنا درست نہیں، البتہ وہ عورت اگر کسی کافر کی زوجیت میں تھی تو مسلمانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس کے شوہر کو وہ مہر ادا کریں جو اس نے اس عورت کو دیا تھا، اور اس کی واپسی کی عملی شکل یہی ہوگی کہ اس کی واپسی کا ذمہ دار بیت المال ہوگا، " ما انفقوا " کے الفاظ اگرچہ عام ہیں لیکن میاں بیوی کی جدائی کی صورت میں چونکہ مہر ہی زیر بحث آتا ہے اس لیے یہ قرینہ دلیل ہے کہ یہاں پر وہی مراد ہے، بہرکیف جس مہاجر عورت کو اس کے ایماندار ہونے کی بنا پر اس کے کافر شوہر کی طرف واپس نہیں کیا اسی کا مہر اس کافر کو ادا کرنا مسلمانوں کی ذمہ داری ہے۔ تاکہ اس کے سابق شوہر کی حق تلفی نہ ہو کہ یہ چیز جائز نہیں۔ [ 34] مومنہ مہاجرہ سے نکاح کرنے کی اجازت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسی صورت میں ان سے نکاح کرلینے میں تم پر کوئی گناہ نہیں۔ کیونکہ اسلام لانے سے ان کی گزشتہ زوجیت باطل اور کالعدم ہوگئی، اور اب وہ اس بندھن سے آزاد ہوئیں۔ لہٰذا ان مراحل سے گزر جانے کے بعد اگر کوئی مسلمان ان سے نکاح کرنا چاہے تو بلا تکلف کرسکتا ہے، بشرطیکہ وہ اس کا مہر ادا کر دے، یعنی جو مہر سابق شوہر کو دیا گیا ہے اس کے علاوہ اس عورت کو بھی اس کا مہر دینا ہے، جو نکاح کرنے والا شخص ادا کرے گا، اور " لا جناح " کے الفاظ سے اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ جو عورت اس طرح ہجرت کرکے دار الاسلام میں آگئی اور اسلامی معاشرے میں شریک و شامل ہوگئی تو اس سے نکاح کرنے میں یہ چیز رکاوٹ نہیں بننی چاہے کہ وہ اس سے قبل دار الکفر میں کسی کافر کے نکاح میں رہی تھی۔ یا اس بناء پر کہ اس کے ماں باپ یا دوسرے اولیا جن کی اجازت نکاح میں ضروری ہوتی ہے وہ یہاں موجود نہیں، کیونکہ ایسی عورت اب اپنے سابقہ کافر شوہر اور کافر اقرباء کی جملہ پابندیوں سے آزاد ہوگئی ہے اور دار الاسلام میں آنے اور اسلامی شریعت کی حدود کے اندر رہنے کی وجہ سے وہ اپنی مرضی کی آپ مالک ہوگئی ہے۔ والحمدللّٰہ جل وعلا بکل حال من الاحوال، سبحانہ وتعالیٰ ۔ [ 35] مومنہ مہاجرہ کے مہر کی ادائیگی کا حکم و ارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے نکاح کرنے میں کوئی حرج نہیں جبکہ تم ان عورتوں کو ان کے مہر ادا کردو۔ اس سابقہ خرچ کے علاوہ جو تم نے ان عورتوں کے کافر شوہروں کو دیا ہے، اس کی تصریح اس لئے فرما دی گئی کہ کہیں لوگ اس سابقہ خرچہ ہی کو مہر کی جگہ نہ سمجھنے لگیں روایات کے مطابق صلح حدیبیہ کی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی تھی کہ کفار قریش میں سے اگر کوئی مسلمان وہو کر مدینہ منورہ چلا گیا تو اسے واپس کرنا ہوگا، اور اس کے بموجب آنحضرت ﷺ نے کئی مرد صحابہ کو واپس بھی کردیا تھا۔ جیسے ابو جندل وغیرہ، مگر جب سب سے پہلے ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط ہجرت کرکے مدینہ منورہ آگئیں، تو اب یہ سوال پیدا ہوا کہ کیا ان کو بھی واپس کردیا جائے یا نہیں، چناچہ جب ان کے دو بھائی عمار اور ولید ان کی واپسی کا مطالبہ لے کر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو ابھی آپ نے ان دونوں کا نکاح زید بن حارثہ ؓ سے کرا دیا [ روح، قرطبی، مراغی، جامع، خازن اور محاسن وغیرہ ] سو اس طرح اس سے واضح ہوگیا کہ حدیبیہ کی شرط میں واپسی کا تعلق صرف مردوں سے تھا نہ کہ عورتوں سے، بہرکیف اس سے ایسی مومن اور مہاجر عرتوں سے نکاح کرنے اور ان کے مہر ادا کرنے کی ہدایت فرمائی گئی اور اس امر کی تصریح فرما دی گئی کہ ان سے نکاح کرلینے میں تم پر کوئی حرج نہیں۔ سبحانہ وتعالیٰ ، وھو الھادی الیٰ سواء السبیل، [ 36] کافر عورتوں کو قید نکاح میں رکھنے کی ممانعت : سو ارشاد فرمایا گیا اور تم لوگ [ اے مسلمانو !] مت روکے رکھو کافر عورتوں کی عصمتوں کو۔ " عصم " جمع ہے عصمت کی اور یہاں اس سے مراد نکاح ہے کہ وہ عصمت و پاک دامنی کا محافظ ہے، پس کسی کافر عورت کو اپنے نکاح میں رکھنا جائز نہیں، اور بکاری وغیرہ کی روایت کے مطابق حضرت عمر ؓ نے اس آیت کریمہ کے نزول کے بعد مکہ مکرمہ میں موجود اپنی دو مشرک بیویوں کو طلاق دے دی، ان دو میں سے ایک تھیں قریبہ بنت ابی امیہ بن مغیرہ جس سے اس کے بعد سیدنا امیر معاویہ بن ابو سفیان ؓ نے نکاح کرلیا اس وقت یہ دونوں کفر پر تھے اور دوسری ام کلثوم بنت عمر و بن جر والخزاعیہ تھی جو کہ آپ کے بیٹے عبد اللہ کی والدہ تھی، حضرت عمر ؓ کی طلاق کے بعد اس سے ابو جہم بن خذافہ بن غنم نے نکاح کرلیا، اور یہ دونوں اس وقت کفر میں تھے،[ خازن، ابن کثیر، مراغی وغیرہ ] نہرکیف اس ارشاد سے مسلمانوں کو ہدایت فرمائی گئی کہ تم میں سے جن کی بیویاں دار الکفر میں ہیں اور وہ اپنے کفر پر قائم ہیں، تم لوگ ایسی کافر عورتوں کی عصمتوں کو اپنے قبضے میں مت رکھو، بلکہ ان کو اپنی نکاح کی قید سے آزاد کردو تاکہ وہ جس سے چاہیں نکاح کرلیں۔ سو یہ اسلام کا ایک اور فیاضانہ اقدام تھا جس کی اس ضمن میں تعلیم دی گئی اور اس بارے یہ قدم بالکل یک طرفہ اٹھایا گیا تاکہ ہر ایک کے حقوق کی رعایت اور پاسداری ہوسکے۔ [ 37] اپنی عورتوں کے مہر طلب کرنے کی اجازت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ مانگ لیا کرو جو تم نے خرچ کیا ہو۔ یعنی تمہاری بیویوں میں سے جو دارالکفر میں رہ گئی ہوں اور وہ اپنے کفر پر قائم ہوں تو ان سے تمہارا نکاح ختم ہوگیا، اس لیے تم ان کفار سے جن کے پاس وہ ہوں اپنا مہر وغیرہ خرچ مانگ لیا کرو کہ وہ تمہارا حق ہے، اس اعلان کے بعد معاملے کی صورت اس طرح کی ہوگئی کہ جو عورتیں اپنے اسلام کے بعد ہجرت کرکے مسلمانوں کے پاس آگئیں ان کا نکاح ان کے کافر شوہروں کے ساتھ ختم ہوگیا اور اس کے برعکس جو عورتیں مسلمان شوہروں کے نکاح میں تھیں لیکن وہ ابھی دار الکفر ہی میں تھیں اور اپنے کفر پر قائم تھیں ان کے نکاح مسلمان شوہروں سے کالعدم ہوگئے۔ سو ان کے بارے میں یہ ہدایت فرمائی گئی کہ وہ اپنے مہروں کا معاملہ آپس میں اجتماعی طور پر طے کرلیں تاکہ ہر کسی کو اس کا خرچ کردہ مال واپس مل جائے اور کسی کی حق تلفی نہ ہو۔ اور یہی تقاضا ہے عدول و انصاف کا، وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔ [ 38] کافر لوگوں کو اپنی بیویوں کے مہر مانگنے کی اجازت : سو ارشاد فرمایا گیا کہوہلوگ یعنی کافر اپنا خرچہ مانگ لیں۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے مانگنے پر تم کو انہیں وہ دے دینا چاہئے اے مومنو ! سو اس اعلان کے بعد معاملے کی شکل اس طرح ہوگئی کہ جو عورتیں مسلمان ہو کر دار الالسلام میں آگئیں، ان کا نکاح ان کے کافر شوہروں سے ختم ہوگیا، اور جو عورتیں مسلمانوں کے نکاح میں تھیں لیکن وہ دار الکفر میں ہی رہ گئیں، اور وہ اپنے کفر پر ہی قائم رہیں تو ان کے نکاح مسلمانوں سے کالعدم ہوگئے۔ پس ان کے مہروں کا تبادلہ اجتماعی طور پر کرلیا جائے، مسلمان اپنی سابقہ کافر بیویوں کے مہران کافر لوگوں سے مانگ لیں اور کافر لوگ اہل ایمان سے اپنے مہر مانگ لیں تاکہ ہر ایک کو اس کا خرچ کیا ہوا مل جائے اور کسی کا حق نہ مارا جائے۔ سبحان اللّٰہ ! دوسروں کے حقوق اور عدل و انصاف کا کس قدر خیال رکھا گیا ہے اس دین حنیف میں۔ سو یہ دین عدل و انصاف اور حق و صدق کا درس دیا گیا ہے۔ فالحمد للّٰہ رب العالمین، ویا ارحم الراحمین، ویا اکرم الاکرمین، ویامن بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ، سبحانہ وتعالیٰ ۔ اللّٰہم زدنا ایمانًا بک ویقنًا، وحبًّا فیک وخشوعًا، وخذنا بنواصنا الی ما فیہ طاعتک ومرضاتک بکل حالٍ من الاحوال، [ 39] احکام دین کی عظمت شان کے ایک منفرد پہلو کا ذکر وبیان : سو اس سے ان ہدایات کی عظمت شان اور احکام دین ممتاز و منفرد و پہلو کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ یہ اللہ کا ارشاد فرمودہ حکم ہے۔ یعنی یہ سب جو کہ مذکور ہوا، پس تم لوگ دل و جان سے اس کی پیروی کرو کہ اس میں خود تمہاری بھلائی اور بہتری ہے، اور اللہ کے کسی حکم کو دنیاوی احکام کی طرح نہ سمجھنا جہاں ظاہرداری اور بناوٹ بھی چل جاتی ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ کے ہر حکم و ارشاد کو ذکر فرمادیا گیا ہے کہ یہ کسی انسان کی ہدایات نہیں ہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت ہیں جس کا علم بھی کامل اور اس کی رحمت و عنایت وتعلیم کی بھی کوئی نظیر و مثال ممکن نہیں۔ پس ان کو صدق دل سے اور پوری طرح اپنانے ہی میں تمہارا بھلا ہے کیونکہ یہ احکام و ہدایات اللہ تعالیٰ کے کمال علم و حکمت پر مبنی ہیں، اور ان میں کسی نقص و قصور یا کسی طرح کی جانبداری کا کوئی سوال و احتمال نہیں ہوسکتا۔ پس ان کے اپنانے ہی میں سب کا بھلا اور پورے انسانی معاشرے کی بہتری ہے۔ پس اس کا تقاضا ہے کہ ان کو دل و جان سے اپنایا جائے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب، جل وعلا۔ [ 40] یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہی فیصلہ فرماتا ہے تمہارے درمیان۔ یعنی اپنے احکام و ہدایت کے ذریعے، کہ حاکم اصل میں وہی اور صرف وہی وحدہ لاشریک ہے اور اس کا حکم و ارشاد نہایت ہی عدل و انصاف پر مبنی ہوتا ہے، سبحانہ و تعالیٰ ، اور وہی تمہارے درمیان قیامت کے یوم الفصل میں آخری اور عملی فیصلہ فرما دے گا۔ اور اللہ کا فیصلہ ہی صحیح اور بےلاگ ہوتا ہے۔ اس میں کسی طرح کی کسی جانبداری یا کسی نقص و قصور کا کوئی خدشہ و احتمال نہیں ہوتا۔ اس میں سراسر اس کے بندوں ہی کا بھلا اور فائدہ ہوتا ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس بندوں نے ذلے لازم ہے کہ وہ صدق دل اور اخلاص نیت سے ان کو اپنائیں اور اپنا معاملہ اپنے اس خالق ومالک کیساتھ صحیح اور درست رکھیں۔ کہ یہ اس خالق ومالک کا ان لوگوں پر حق بھی ہے، اور اسی میں ان سب کا بھلا بھی ہے دنیا و آخرت دونوں میں
Ayah 60:11

وَ اِنْ فَاتَكُمْ شَیْءٌ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ اِلَى الْكُفَّارِ فَعَاقَبْتُمْ فَاٰتُوا الَّذِیْنَ ذَهَبَتْ اَزْوَاجُهُمْ مِّثْلَ مَاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 60:11 in the Quran reader

اور اگر تمہاری (کافر) بیویوں (کے مہروں) میں سے کچھ تمہیں کفار سے واپس نہ ملے پھر تمہاری باری آئے تو جن لوگوں کی بیویاں ادھر رہ گئی ہوں تم ان کو اتنی رقم ادا کردو جتنی کہ انہوں نے خرچ کی ہو اور ڈرتے رہا کرو تم اس اللہ سے جس پر تم ایمان رکھتے ہو

[ 41] اللہ تعالیٰ کے کمال علم و حکمت کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ سب کچھ جانتا نہایت حکمت والا ہے۔ پس وہ اپنے بندوں کی مصلحتوں کو پوری طرح جانتا ہے، اور ان کے لیے جو حکم بھی فرماتا ہے وہ نہایت ہی حکمت پر مبنی ہوتا ہے، اور اس میں ان کیلئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان ہوتا ہے، اس لئے اس کے ہر حکم کو دل و جان سے اپنانا چاہیے۔ اللّٰہم ارزقنا التوفیق لذالک والدوام والثبات علیہ۔ سو اللہ تعالیٰ کے کسی بھی حکم و ارشاد کا کوئی بدیل اور متبادل ممکن نہیں، کیونکہ کمال علم اور کمال حکمت اسی وحدہٗ لاشریک کی شان اور اس کی خصوصیت ہے۔ اس کے سوا کسی اور کے لیے یہ ممکن ہی نہیں۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ [ 42] بدلے کی ایک منصفانہ صورت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر مذکورہ بالا اصول کے مطابق کافر لوگ لسی ایسی عورت کو مہر واپس نہ کریں جو اس کے مسلمان شوہر نے اس کو دیا تھا اور پھر تمہاری باری آئے تو تم یہ طریقہ اپناؤ جو آگے بیان ہو رہا ہے سو " عاقبتم " عقبہ سے ماخوذ ہے جس کے معنی نوبت اور باری کے آتے ہیں، یا یہ عقبیٰ سے ماخوذ ہے جس کے معنی انجام اور مال غنیمت کے ہوتے ہیں، مطلب بہرحال یہ ہے کہ تم کفار پر غلبہ پاؤ تو ایسے لوگوں کو جن کی بیویاں کفار کے پاس رہ گئی ہوں، ان کے مہر مال غنیمت سے ادا کردو، اور ابن عباس سے مروی ہے کہ یہ خمس نکالنے سے پہلے ادا کرو، [ مراغی، قرطبی وغیرہ ] نیز یہ کہ اگر وہ لوگ مہر ادا نہ کریں جو اس عورت کے مسلمان شوہر نے اس کو دیا تھا، تو اس صورت میں مسلمانوں کو یہ حق حاصل ہوگا کہ ان کو کسی عورت کا مہر کفار کو ادا کرنا ہے تو وہ ان کو ادا کرنے کی بجائے اپنے اس بھائی کو ہی ادا کردیں، جس کو اس کی چلی جانے والی بیوی کا مہر واپس نہیں ہوا، سو اس سے معاملے کی ایک منصفانہ کاروائی کی ہدایت ہوگئی، جو عدل و انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ تاکہ اس طرح کسی کا حق نہ مارا جائے اور ہر کسی کو اس کا حق مل سکے۔ [ 43] تقویٰ و پرہیزگاری تقاضائے ایمان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ڈرتے رہا کرو تم لوگ اللہ سے جس پر تم ایمان لائے ہو۔ اس کے احکام واوامر کی بجاآوری اور اس کی نواہی سے اجتناب کی پابندی کے ذریعے، کہ تمہارے ایمان کا تقاضا یہی ہے کہ تم لوگ اس کے ہر حکم کی دل و جان سے پاسداری و پابندی کرو، ورنہ ایمان کا دعویٰ محض زبانی جمع خرچ بن کر رہجائے گا، جس کا کوئی فائدہ نہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اور یہاں پر اس خاص وسباق میں تقویٰ کے اس حکم و ارشاد میں اس بارے تنبیہ و تذکیر بھی ہے کہ کہیں تم لوگ اس اجزات کی حدود کو پھلانگ نہیں دینا۔ سو اس حکم و ارشاد سے واضح فرمادیا گیا کہ دشمن کے ساتھ معاملہ کرنے کے سلسلے میں بھی تم لوگ اپنے اس اللہ سے ڈرتے رہنا جس پر ایمان لائے ہو۔ ایسا نہ ہو کہ تم لوگ کسی معقول وجہ کے بغیر کسی انتقامی کاروائی کے لیے کوئی بہانے ڈھونڈ نے لگو۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے اور ہر قسم کے شرور و فتن سے ہمیشہ محفوظ اور سلامت رکھے، آمین ثم آمین یا رب العالمین، ویا ارحم الراحمین، ویا اکرم الاکرمین، یا ذا الجلال والاکرام،
Ayah 60:12

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا جَآءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَكَ عَلٰۤى اَنْ لَّا یُشْرِكْنَ بِاللّٰهِ شَیْئًا وَّ لَا یَسْرِقْنَ وَ لَا یَزْنِیْنَ وَ لَا یَقْتُلْنَ اَوْلَادَهُنَّ وَ لَا یَاْتِیْنَ بِبُهْتَانٍ یَّفْتَرِیْنَهٗ بَیْنَ اَیْدِیْهِنَّ وَ اَرْجُلِهِنَّ وَ لَا یَعْصِیْنَكَ فِیْ مَعْرُوْفٍ فَبَایِعْهُنَّ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 60:12 in the Quran reader

اے نبی جب مومن عورتیں آپ کے پاس ان باتوں پر بیعت کرنے کے لئے آئیں کہ نہ تو وہ اللہ کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک ٹھہرائیں گی نہ چوری کریں گی نہ زنا کریں گی نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی اور نہ ہی وہ کوئی ایسا بہتان لائیں گی جس کو وہ گھڑیں اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان اور نہ ہی وہ آپ کی نافرمانی (اور حکم عدولی) کریں گی نیکی کے کسی بھی کام میں تو آپ ان کی بیعت کو قبول کرلیا کریں اور ان کے لئے اللہ سے بخشش کی دعاء کیا کریں بلاشبہ اللہ بڑا ہی درگزر کرنے والا انتہائی مہربان ہے1

[ 44] عورتوں کی بیعت سے متعلق بعض خاص ہدایات کا ذکر وبیان : سو اس سے عورتوں سے بیعت لینے کے بارے میں بعض خاص ہدایات کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور پیغمبر کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ جب آپ کے پاس ایماندار عورتیں بیعت کرنے کیلئے آئیں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی۔ خواہ وہ لکڑی پتھر وغیرہ کی کوئی بےجان مورتی ہو، یا کوئی زندہ یا مردہ انسان ہو، یا کوئی بھی اور چیز " شیئا " کی تنکیروتعمیم ان سب کو عام وشامل ہے، سو جس طرح اوپر مہاجرات کے امتحان کی ہدایت فرمائی گئی تھی اسی طرح اب اس آیت کریمہ میں یہ ہدایت فرمائی جا رہی ہے کہ جو عورتیں آپ کے پاس اسلام میں داخل ہونے کیلئے آئیں تو ان کو یونہی داخل نہ کرلیا جائے بلکہ ان سے اسلام کے تمام معروفات کی پابندی کے ساتھ ساتھ ان اور ان برائیوں سے بچنے کا بھی بطور خاص اقرار لیا جائے، جو کہ جاہلی معاشرے میں عام رہی ہیں، تاکہ اسلامی معاشرے کے اندر ان برائیوں کے جراثیم پھیلنے نہ پائیں، جن میں سب سے پہلے شرک سے اجتناب کی بیعت کو ذکر فرمایا گیا کہ شرک سب سے بڑا اور کبیرہ گناہ ہے کہ یہ دراصل بغاوت کا جرم ہے اسی لئے اس کو دوسرے مقام پر ظلم عظیم قرار دیا گیا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم، من کل زیغ وضلال، وسوئِ وانحراف، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیوۃ، وھو العزیز الوہاب۔ [ 45] دیگر بعض بڑی برائیوں سے بچنے کی بیعت کا ذکرو بیان : سو شرک کے بعد دوسری برائی جس سے بچنے کی بیعت کا ذکر فرمایا گیا وہ ہے چوری سو وہ عہد کریں کہ وہ چوری نہیں کریں گی۔ سو جس طرح خداوند قدوس کے حقوق میں کسی قسم کا غلط تصرف جائز نہیں اسی طرح بندوں کے مال میں بھی بےجا تصرف جائز نہیں۔ اور تیسری چیز جس کا اس بیعت کے سلسلے میں ذکر فرمایا گیا ہے وہ ہے زناکاری۔ والعیاذ باللّٰہ۔ یعنی وہ اس بات کا عہد کریں کہ وہ زنا کا ارتکاب نہیں کریں گی کہ زنا کاری کا جرم بھی ایک بڑا سنگین جرم ہے جو کہ معاشرے کی بنیادوں کو ڈھا دینے والا جرم ہے۔ والعیاذ باللّٰہ۔ اور اس کے بعد چوتھی چیز ہے قتل اولاد۔ یعنی وہ اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گی، جس کا ارتکاب زمانہ ئِ جاہلیت میں مختلف وجود کی بنا پر کیا جاتا تھا اور ظاہر ہے کہ یہ بھی ایک بڑا ہولناک اور سنگین جرم ہے۔ اس لیے اس کو بھی بیعت کے سلسلے میں یہاں ذکر فرمایا گیا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم، من کل زیغ وضلال، وسوء انحراف، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیٰوۃ، وھو العزیز، وھو العزیز الوہاب، جلا وعلا۔ [ 46] بہتان تراشی سے اجتناب کے عہد کا ذکرو بیان : سو پانچویں چیز یہ ذکر فرمائی گئی کہ نہ وہ کوئی ایسا بہتان لائیں گی جس کو وہ گھڑیں اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان۔ کہ کسی کا بچہ اٹھا کر اپنے خاوند کی طرف منسوب کردیں، جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں عورتیں بچہ نہ ہونے پر طلاق کے خوف سے ایسا کیا کرتی تھیں، زنا کا حمل اس سے مراد نہیں کہ اس کا ذکر اس سے پہلے صراحتاً آچکا ہے، اور بچہ پیدائش کے وقت چونکہ عورت کے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان ہی گرتا ہے اس لئے اس کو یوں تعبیر فرمایا گیا ہے، یہ دراصل کنایہ ہے جنسی اعضا سے، کہ یہ ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان ہی ہوتے ہیں، سو یہ ایک نہایت ہی شستہ اور مہذب اسلوب بیان ہے، اور اسی سے ان تمام برائیوں کی طرف اشارہ ہوجاتا ہے جو جنسی نوعیت کی ہوتی ہیں زنا، تقبیل، اور ملامست وغیرہ اور بہتان تراشی خواہ کسی بھی قسم کی ہو نہایت سنگین برائی ہے لیکن جس بہتان کا تعلق جنسی امور سے ہو اس کی سنگینی دو چند بلکہ دہ چند ہوجاتی ہے بعض اوقات بلکہ بسا اوقات ایسے فتنے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں جس کو دبانا ممکن نہیں رہتا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم، من کل زیغ و ضلال وسواء وانحراف، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب، جل وعلا۔ [ 47] معروف میں نافرمانی نہ کرنے کے عہد کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور نہ ہی وہ نیکی کے کسی کام میں آپ کی نافرمانی کریں گی۔ اور آنحضرت ﷺ کا ہر حکم و ارشاد معروف اور نیکی ہی کا ہوتا ہے، مگر اس کے باوجودیہاں پر اس امر کی تصریح فرما دی گئی، تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ حضرت پیغمبر کی اطاعت بھی جب اس شرط کے ساتھ مشروط ہے تو پھر اور کسی کی مطلق اور بےقید اطاعت و فرمانبرداری کا سوال ہی کیا ہیدا ہوسکتا ہے ؟ اور معروف کا لفظ یہاں پر منکر کے مقابلے میں استعمال ہوا ہے، اوپر جن باتوں کا ذکر ہوا ان سب کا تعلق منکرات کے باپ سے ہے، کیونکہ زمانہء جاہلیت کی رچی بسی باتوں کو نکالنا اور ان برائیوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ضروری تھا، تاکہ قلوب و بواطن مجلی و مصفی ہو کر اسلام کی تعلیمات مقدسہ کو اپنی اصل اور پاک وصاف صورت میں اپنانے کے لائق ہوسکیں، اس لیے ان منکرات سے بچنے اور بچتے رہنے کے بارے میں صاف وصریح طور پر اور تفصیل کے ساتھ اقرار لینے کی ہدایت فرمائی گئی، اور معروفات کے بارے میں آخر میں ایک جامع لفظ کے ساتھ قرار لینے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی، اور شریعت کے معروفات چونکہ معلوم و مشہور ہیں اس لیے ان کی تفصیل کی ضرورت نہیں تھی۔ سبحان اللّٰہ ! نظم قرآنی کے یہ کلمات کریمہ کیسی کیسی باریکیوں اور لطافتوں پر مشتمل ہیں۔ فالحمدللّٰہ رب العالمین۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر قائم رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین، [ 48] صالح عورتوں سے بیعت لینے کا حکم و ارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو عورتیں ان تمام منکرات سے بچتے رہنے اور دین کے تمام معروفات کی پابندی کا عہد و اقرار کریں تو آپ ﷺ ان عورتوں سے بیعت لیا کرو۔ چناچہ آپ نے فتح مکہ کے موقع پر رضا پہاڑی کے دامن میں مردوں کی بیعت سے فراغت کے بعد عورتوں کو بیعت فرمایا، اور آپ ﷺ کی طرف سے حضرت عمر ؓ ان سے بیعت لے رہے تھے، مگر کسی عورت کے ہاتھ سے آپ صلی اللہ علیہ لوسم کا ہاتھ مبارک کبھی چھوا نہیں، بلکہ جب بعض خواتین نے آپ ﷺ سے درخواست کی کہ ابسط یدک لنا یعک [ اللہ کے نبی، اپنا ہاتھ مبارک دیجئے تاکہ ہم آپ کے ہاتھ پر بیعت کریں ] تو آپ نے ارشاد فرمایا ہے۔ [ بخاری کتاب الطلاق، مسند احمد و مسلم، مراغی، صفوۃ، ابن کثیر، محاسن التاویل وغیرہ ] سبحان اللّٰہ ! اللہ کے نبی جو کہ نصوص قرآن و سنت کے بموجب اپنی امت کے لئے بمنزلہ باپ کے ہیں وہ یوں فرما رہے ہیں کہ میں کسی عورت سے ہاتھ نہیں ملاسکتا، اور ان کا عمل اور طریقہ تو یہ ہے مگر آج کا نام نہاد پیر اجنبی عورتوں سے مصافے بلکہ معانقے کرتا، ان سے خلوتوں جلوتوں میں ملتا جلتا، خوش گپیاں کرتا، اور ان سے اپنے پاؤں دبواتا ہے، وغیرہ وغیرہ، اور پھر بھی دعویٰ ہے بزرگی اور پیری فقیری کا، کیا ایسے شخص کی شیطنت میں کوئی کلام ہوسکتا ہے ؟ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ بہرحال اس آیت کریمہ میں نبی اکرم ﷺ کو ایمان و اطاعت اور ترک معاصی وذنوب پر بیعت لینے کا صریح حکم فرمایا گیا ہے، اور اس کا وجود امت کے اندر مختلف شکلوں میں ہمیشہ وجود رہا اور آج تک بھی پایا جاتا ہے، سو حضرت نبیء معصوم (علیہ السلام) کے اس عمل و ارشاد کو بیعت کی اصل اور اہم بنیاد مانا جاتا ہے، [ مسوی، شرح مؤطا، حاشیہ جامع البیان وغیرہ ] بہرکیف اس ارشاد سے بتادیا گیا کہ جب ایسی عورتیں ان تمام منکرات سے بچنے اور دین کے تمام معروفات کی پابندی کا اقرار کرلیں، تو تم ان سے بیعت لے لیا کرو، اور ان کیلئے اللہ سے مغفرت و بخشش کی دعا کیا کرو، کہ اس سے پہلے ان سے جو غلطیاں ہوگئی ہوں اللہ تعالیٰ ان سے درگزر فرمالے، بیشک اللہ بڑا ہی بخشنے والا، انتہائی مہربان بھی ہے، وہ ان کی بخشش بھی فرمائے گا اور ان کو اپنی رحمت سے بھی نوازے گا کہ اس کی شان ہی نوازنا اور کرم فرمانا ہے، سبحانہ وتعالیٰ ۔ جل شانہ و عم نوالہ، اللّٰہم زدنا ایمانًا بک ویقنًا، وحبًّا فیک وخشوعًا، وخذنا بنواصنا الی ما فیہ طاعتک ومرضاتک بکل حالٍ من الاحوال، وفی کل حین من الاحیان، بمحض منک وکرمک واحسانک، یاذالجلال والاکرام، ویا دائم الفضل والاحسان، تبارکت وتعالیت۔
Ayah 60:13

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ قَدْ یَئِسُوْا مِنَ الْاٰخِرَةِ كَمَا یَئِسَ الْكُفَّارُ مِنْ اَصْحٰبِ الْقُبُوْرِ۠ Open ayah 60:13 in the Quran reader

اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو تم دوستی نہیں کرنا ان لوگوں سے جن پر غضب نازل ہوچکا اللہ کا وہ یقینا آخرت سے ایسے ہی مایوس ہوگئے ہیں جیسے قبروں میں پڑے ہوئے کفار مایوس ہوگئے ہیں2

[ 49] مغضوب علیہ قوم سے دوستی کی ممانعت کا ذکر وبیان : سو ایمان والوں کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ تم ان لوگوں سے دوستی نہیں کرنا جن پر اللہ کا غضب ہوا۔ یعنی یہود جو " مغضوب علیہم " کی صفت کے ساتھ مشہور و معروف ہیں، نیز نصاریٰ اور دوسرے سب کفار بھی اسی میں داخل ہیں، کہ درحقیقت وہ سب ہی دین حق سے منہ پھیر کر اللہ کی ناراضگی اور اس کے غضب کے مستحق ہوچکے ہیں، جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ہر کافر پر اللہ کا غضب ہے۔ لان کل کافرٍ علیہ غضب من اللّٰہ [ البحر، القرطبی، الصفوۃ وغیرہ ] پس جیسا کہ علامہ ابن کثیر رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں آیت اپنے ظاہر و مفہوم پر ہے، لہٰذا یہود نصاریٰ اور دسرے کفار میں سے کسی کیساتھ بھی دوستی کا تعلق رکھنا جائز نہیں، [ ابن کثیر، محاسن، مدارک، مراغی وغیرہ ] والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو اس سورة کریمہ کی آخری آیت کریمہ میں اسی مضمون کی پھر تذکیر و یاد دہانی فرما دی گئی، جس سے اس سورة کریمہ کا آغاز ہوا تھا، تاکہ اس طرح اس مضمون کی تاکید بھی ہوجائے اور آغاز و انجام میں نظر و مناسبت کا جمال بھی واضح ہوجائے، جو اس کتاب حکیم کی عظمت شان کا ایک اہم اور واضح پہلو ہے۔ فالحمد للّٰہ رب العالمین۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی خاص رحمتوں کے سائے میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین، ویا ارحم الراحمین، ویا اکرم الاکرمین، ویامن بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ، اللّٰہم زدنا ایمانًا بک ویقنًا، وحبًّا فیک وخشوعًا، وخذنا بنواصنا الی ما فیہ طاعتک ومرضاتک بکل حالٍ من الاحوال، وفی کل موطنٍ من المواطن فی الحیاۃ، بمحض منک وکرمک واحسانک، ودائم الفضل والاحسان، [ 50] یہود کی قیامت و آخرت سے مایوسی کی تصریح : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ آخرت سے ایسے مایوس ہوگئے جیسے قبروں میں پڑے ہوئے کافر لوگ۔ والعیاذ باللّٰہ۔ یعنی " من " یہاں پر بیانیہ ہے اور اصحاب القبور، الکفار کا بیان ہے، یعنی جس طرح قبروں میں پڑے ہوئے کافر ہر خیر اور بھلائی سے مایوس ہوچکے ہیں، کہ اب نہ تو وہ وہاں کے دائمی عذاب سے چھوٹ سکتے ہیں، اور نہ ہی وہ دنیا میں واپس آسکتے ہیں، کہ توبہ و رجوع کرسکیں۔ یہ قول مجاہد وغیرہ کا ہے، اور دوسری صورت میں یعنی جب کہ اس " من " کو ابتدائیہ قرار دیا جائے، تو مطلب یہ ہوگا کہ یہ لوگ آخرت سے ایسے مایوس ہوگئے ہیں کہ جس طرح کفار قبروں میں پڑے ہوئے لوگوں سے مایوس ہوگئے ہیں، کہ کفار تو بعث و نشور اور دوسری زندگی اور اس کے ثواب و عقاب کے سرے سے قائل ہی نہیں، اور وہ اس دنیاوی اور ظاہری موت کو بالکل فناء محض سمجھتے ہیں، اور یہود و نصاریٰ کے دین میں عقیدہ آخرت اگرچہ موجود ہے، لیکن دین حق یعنی اسلام کے انکار کے باعث وہ بھی اپنے دل میں اپنے آپ کو جنت کی نعمتوں سے محروم سمجھتے ہیں، وہذا قول سیدنا ابن عباس و سیدنا قتادہ ؓ وغیرہ، آیت کریمہ کا یہی مطلب تمام ثقہ مفسرین کرام اور جمہور اہل علم نے لیا ہے، ملاحظہ ہو [ روح، قرطبی، مدارک، معارف، مراغی، جامع، محاسن اور خازن وغیرہ غیرہ ] اہل بدعت کے بعض بڑوں نے اپنی افتاد طبع کے مطابق یہاں سے مردوں سے استداد و استعانت کے ثبوت و جواز پر استدلال کیا ہے حالانکہ قرآن و سنت کی صریح نصوص اس کے خلاف موجود ہیں مثلاً یہ کہ سورة مومن پ 24 میں رب تعالیٰ فرماتا ہے۔ { وقال ربکم ادعونی استجب لکم ط ان الذین یستکبرون عن عبادتی سیدخلون جھنم دخرین } [ المومن : 60 پ 24] " تم مجھ ہی کو پکارو میں تمہاری دعا و پکار کو سنوں گا "۔ اور ہر مومن اپنی نماز کی ہر رکعت میں یہ عہد کرتا ہے کہ " مالک ! ہم تیری عبادت و بندگی کرتے اور تجھ ہے سے مدد مانگتے ہیں "۔ [ ایاک نعبد وایاک نستعین ] نیز قرآن پاک فرماتا ہے کہ۔ { ومن اضل ممن یدعوا من دون اللّٰہ من لا یستجیب لہ الی یوم القیمۃ وہم عن دعآئھم غفلون } " اس سے برھ کر گمراہ اور کون ہوسکتا ہے جو اللہ کے سوا یسوں کو پکارے جو قیامت تک اس کی پکار نہیں سن سکتا، اور وہ اس کی پکار سے غافل و بیخبر ہیں "۔ [ الاحقاف : 5 پ 26] اور حدیث شریف میں فرمایا گیا کہ جب تمہیں سوال کرنا ہو تو اللہ ہی سے کیا کرو، اور جب تمہیں مدد مانگنا ہو تو اللہ ہی سے مانگا کرو [ اذا سالت فأسال اللّٰہ واذا استعنت فاستعن باللّٰہ ] وغیرہ کتنی ہی صریح آیات اور احادیث اس مضمون کی موجود ہیں، مگر اس سب کے باوجود ان مشرک اہل بدعت کا کہنا ہے کہ مردوں سے مانگو اور یہ کہ مردے مدد کرسکتے ہیں وغیرہ، والعیاذ باللّٰہ العظیم من کل زیغ و ضلال وسواء وانحراف۔ بہرکیف اب یہ اس سورة کریمہ کے خاتمے پر کفار و مشرکین اور یہود و نصاریٰ سب ہی کے بارے میں مسلمانوں کو متنبہ فرمایا گیا ہے کہ ان لوگوں کی دوستی سے بچنا، کہ ان سب کے ایک ہی انجام سے دو چار ہونا ہے، اور جو کوئی ان کا ساتھی اور دوست بنے گا اس کا حشر بھی وہی ہوگا جو ان کا ہونے والا ہے کیونکہ اصول یہ ہے کہ " المرء مع من احب " یعنی آدمی کا حشر اس کے اپنے دوست ہی کے ساتھ ہوگا، نیز ارشاد فرمایا گیا " المرء علی دین خلیلہ احدکم من یخالل " یعنی آدمی اپنے دوست کے دین پر ہی ہوتا ہے اس لئے ہر کوئی دیکھ لے کہ اس کی دوستی کس کے ساتھ ہے، کیونکہ نیک شخص سے دوستی کا نتیجہ و انجام نجات و کامیابی ہے، اور بےدین شخص سے دوستی ہلاکت و تباہی۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم من کل زیغ و ضلال وسواء وانحراف، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ اور ہر قسم کے شرورو فتن سے ہمیشہ اور ہر اعتبار سے محفوظ اور سلامت رکھے، اور ہمیشہ اپنا ہی بنائے رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین، ویا ارحم الراحمین، ویا اکرم الاکرمین، تبارکت وتعالیت، اللّٰہم زدنا ایمانًا بک ویقنًا، وحبًّا فیک وخشوعًا، وخذنا بنواصنا الی ما فیہ طاعتک ومرضاتک بکل حالٍ من الاحوال، وفی کل حین من الاحیان، بمحض منک وکرمک واحسانک، یاذالجلال والاکرام، ویا دائم الفضل والاحسان،