59. Surah Al-Hashr

الحشرThe Exile · 24 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 59:15

كَمَثَلِ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَرِیْبًا ذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۚ Open ayah 59:15 in the Quran reader

ان کا حال تو انہی لوگوں جیسا ہے جو ان سے کچھ ہی پہلے اپنے کئے کا مزہ چکھ چکے ہیں اور (آخرت میں تو) ان کے لئے ایک بڑا ہی دردناک عذاب ہے

[ 40] بنو نضیر کے انجام کی مثال کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کی مثال ان لوگوں کی طرح ہے جو ان سے کچھ ہی پہلے اپنے کیے کا مزہ چکھے چکے ہیں۔ یعنی یہود و بنو قینقاع جو کہ ان سے پہلے اپنی بد عہدی اور شرانگیزی کی بناء پر جلا وطنی کی ذلت اٹھا چکے ہیں، نیز مشرکین جو غزوہ بدر میں ذلت آمیز اور رسواکن سکشت سے دو چار ہوچکے ہیں، [ خازن، صفوۃ، بیضاوی، مراغی، ابن کثیر وغیرہ ] سو دین حق کی تکذیب و عداوت، اور اللہ اور اس کے رسول سے بغاوت اور ان کی مخالفت کا نتیجہ و انجام بہرحال یہی ہوتا ہے، پہلے بھی یہی تھا اور اب بھی یہی ہے، پس اس کے قانون امہال سے کبھی دھوکہ میں نہیں پڑنا چاہیے۔ والعیاذ باللّٰہ۔ سو اس میں ان لوگوں کے لئے تنبیہ و تذکیر ہے کہ اگر انہوں نے ان منافقین کی باتوں میں آکر کوئی غلط قدم اٹھا لیا تو ان کا حشر بھی وہی ہوگا جو ان سے پہلے ان لوگوں کا ہو ثچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قانون بےلاگ اور سب کیلئے یکساں ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ جل وعلا۔ [ 41] منکرین و منافقین کیلئے دردناک عذاب، والعیاذ باللہ : چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ان کے لئے بڑ ہی دردناک عذاب ہے۔ سو ان کے لئے دنیا میں بھی عذاب ہے، اور آخرت میں بھی۔ یعنی اس دنیاوی عذاب سے ان کے اخروی عذاب میں کوئی تخفیف نہ ہوگی، جیسا کہ اہل ایمان کی دنیاوی تکالیف ان کیلئے مغفرت سیات اور تخفیف عذاب اخروی کا ذریعہ و سبب بن جاتی ہیں۔ کیونکہ اس کی اساس و بنیاد نور ایمان کی دولت پر ہے، اور اس سے یہ یہود و منافقین وغیرہ محروم ہیں۔ پس ایمان کی دولت دارین کی سعادت و سرخروئی کا ذریعہ ہے، اور کفر و نفاق دونوں جہاں کی ہالکت و تباہی کا سامان۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو منکرین و منافقین نے دردناک عذاب کو بہرحال بھگتنا ہے اور دنیاوی عذاب کے باوجود ان کو آخرت کا دردناک عذاب بہرحال بھگتنا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ، چناچہ یہود و بنو نضیر اور بنو قریظہ دونوں کو اس دنیا میں بھی ذلت آمیز اور رسواکن عذاب بھگتنا پڑا، اور ان میں سے جو قریظہ کا عذاب بنو نضیر کے عذاب سے بھی کہیں زیادہ سخت تھا، اور آخرت میں ان پر جو عذاب ہونے والا ہے۔ اس کو اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کے لیے جاننا بھی اس دنیا میں کسی کیلئے ممکن نہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 59:16

كَمَثَلِ الشَّیْطٰنِ اِذْ قَالَ لِلْاِنْسَانِ اكْفُرْ١ۚ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّنْكَ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 59:16 in the Quran reader

ان کی مثال تو شیطان کی سی ہے کہ وہ پہلے تو انسان سے کہتا ہے کہ تو کفر کر مگر جب وہ کفر کر بیٹھتا ہے تو یہ اس سے کہتا ہے کہ میرا تجھ سے کوئی واسطہ نہیں میں تو بہر حال اللہ سے ڈرتا ہوں جو کہ پروردگار ہے سارے جہانوں کا

[ 42] حق کے دشمنوں کی مثال شیطان کی سی۔ والعیاذ باللّٰہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حق کے دشمنوں اور حق کے خلاف ابھارنے والوں کی مثال شیطان کی سی ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ان کی مثال شیطان کی سی ہے۔ یعنی ان منافقین کی مثال جنہوں نے یہود و بنو نضیر کو اپنے جھوٹے وعدوں کے ذریعے حق اور اہل حق کے خلاف اکسایا ابھارا اور ان کو لڑائی پر تیار اور آمادہ کیا، ان کی مثال شیطان کی ہے، کہ وہ بھی انسان کو کفر و بغاوت پر اکساتا ابھارتا ہے، اور اس طرح وہ اس کو تباہی کے گڑھے میں ڈال کر خود اس سے الگ ہوجاتا ہے، [ خازن، صفوۃ وغیرہ ] سو ان منافقوں نے یہود، بنو نضیر کو ابھارہ کہ اگر آپ لوگوں کو نکالا گیا تو ہم بھی آپ کے ساتھ نکلیں گے اور اگر آپ لوگوں پر حملہ ہوا تو ہم آپکا ساتھ دیں گے، اور اس سلسلہ میں ہم کسی کا کوئی دباؤ قبول نہیں کریں گے، سو یہ لوگ شیطان کے بھائی اور اس کے پیروکاری ہیں، اور حق کے خلاف ابھارنے والوں کی مثال شیطان کی سی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر طرح سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین ویا ارحم الراحمین، [ 43] شیطان کا کام عین وقت پر دھوکہ دینا۔ والعیاذ باللّٰہ : سو شیطان چکمہ دے کر انسان کو برائی پر اکساتا ابھارتا ہے۔ مگر اس سے برائی کا ارتکاب کر ادینے کے بعد وہ اس سے کہتا ہے کہ میرا تجھ سے کوئی تعلق نہیں۔ جیسا کہ اس نے غزوہ بدر کے موقع پر کفار قریش سے کیا اور جیسا کہ برصیصاراہب سے کیا کہ اس سے بدکای قتل اور اپنے لئے سجدہ کرانے کے بعد اس کو یہی کہا کہ میرا تجھ سے کوئی واسطہ نہی، جس کا قصہ مختلف کتب و روایات میں مذکور و مشہور ہے، سو ابلیس کی ایسی فریب کاریوں سے ہمیشہ چوکنا رہنے کی ضرورت ہے جس کا سب سے بڑا ذریعہ اللہ کی پناہ میں آنا ہے، کہ ابلیس مکار کے مکرو فریب سے وہی وحدہٗ لاشریک بچا سکتا ہے، اللہ ہمیشہ اور ہر حال میں اور ہر اعتبار سے اپنی پناہ میں رکھے، آمین سو شیطان اور اس کے ایجنٹوں کا طریقہ کار یہی ہے کہ وہ لوگوں کو جرائم پر ابھارتے ہیں، لیکن جب نتائج سامنے آتے ہیں تو یہ ان کی ذمہ داری سے اپنے آپ کو بچانے اور علیحدہ کرنے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں ان کا طریق و ارادات کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے جس کے مختلف مظاہر اور نمونے جگہ جگہ سامنے آتے رہتے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین، ویا اکرم الاکرمین، [ 44] شیطان کی ابلیسی منطق کے ایک نمونے اور مظہر کا ذکر وبیان : سو اس سے شیطان کی ابلیسی منطق کا ایک نمونہ سامنے آتا ہے کہ پہلے تو یہ اپنی پالیسی اور شیطانی منطق کے ذریعے انسان کو کفر پر ابھارتا ہے لیکن جب وہ کفر کا ارتکاب کر بیٹھتا ہے تو اس وقت یہ اس سے منہ پھیر لیتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ میں تجھ سے بری اور لاتعلق ہوں۔ میرا تجھ سے کوئی تعلق واسطہ نہیں۔ میں بہرحال ڈرتا ہوں اللہ سے جو کہ پروردگار ہے سب جہانوں کا۔ مگر اس کا یہ کہنا بھی جھوٹ اور مکروفریب ہوتا ہے، اور یہ اس کی ابلیسی چالوں میں سے ایک چال ہوتا ہے، والعیاذ باللّٰہ، ورنہ اگر وہ اپنے اس قول میں سچا ہوتا تو مطیع و فرمانبردار کیوں نہ ہوجاتا ؟ اور دجل وتلبیس کی راہ ترک کرکے سیدھی راہ پر کیوں نہ آجاتا ؟ بہرکیف یہ اسکا طریقہ واردات ہے کہ انسان کو ہلاکت کے کھڈے میں ڈال کر وہ خود الگ ہوجاتا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ابلیسی چالوں اور اس کے دجل و فریب کی ہر صورت سے ہمیشہ اور ہر طرح سے اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین، ویا ارحم الراحمین، ویا اکرم الاکرمین،
Ayah 59:17

فَكَانَ عَاقِبَتَهُمَاۤ اَنَّهُمَا فِی النَّارِ خَالِدَیْنِ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 59:17 in the Quran reader

پھر ان دونوں کا انجام یہ ہوتا ہے کہ وہ دونوں دوزخ میں ہونگے جہاں انہیں ہمیشہ رہنا ہوگا اور یہی جزا ہے ایسے ظالموں کی1

[ 45] ضلال اور مضل دونوں کا انجام دوزخ۔ والعیاذ باللّٰہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان دونوں کا انجام یہ ہوتا ہے کہ یہ دونوں دوزخ میں ہوں گے جہاں ان کو ہمیشہ رہنا ہوگا۔ اور یہی جزا ہے ظالموں کی۔ جو حق سے منہ موڑتے اور اس سے منہ موڑنے پر ایک دوسرے کی پیٹھ ٹھونکتے ہیں، اور اس طرح وہ اپنی محرومی کو اور گہرا کرتے چلے جاتے ہیں، یہاں تک کہ وہ اپنے اس ہولناک انجام کو پہنچ کر رہتے ہیں جس سے بڑھ کر کوئی خسارہ نہیں ہوسکتا، والعیاذ باللّٰہ سو جرم کرکے اس کی ذمہ داری کا بوجھ دوسروں پر ڈال کر خود کو بچانے کی جو کوشش کی جاتی ہے اس کا فائدہ ان میں سے کسی فریق کو بھی نہیں پہنچے گا، بلکہ دونوں کو جہنم میں پڑنا ہے اور ان کو ہمیشہ ہمیش کیلئے اسی میں پڑے رہنا ہے اور یہی نتیجہ اور انجام ہوتا ہے ظلم کا ارتکاب کرنے والوں کا، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو " ضال و مضل " اور کفر و انکار کا ارتکاب کرنے اور کرانے والوں سب کا انجام ایک ہوگا۔ ان سب کو دوزخ میں داخل ہونا اور وہاں اپنے کیے کرائے کا بھگتان بھگتنا ہوگا اور اپنے کفر و انکار کے نتیجے میں ہمیشہ اس کے اندر رہنا ہوگا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم، من کل زیغ و ضلال وسواء وانحراف، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو الھادی الیٰ سواء السبیل۔
Ayah 59:18

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 59:18 in the Quran reader

اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو ڈرو تم اللہ سے اور ہر شخص کو چاہیے کہ وہ خود دیکھ لے کہ اس نے کیا سامان کیا ہے آنے والے کل کے لئے اور ڈرتے رہا کرو تم (ہر حال میں اپنے) اللہ سے بیشک اللہ پوری طرح باخبر ہے ان تمام کاموں سے جو تم لوگ کرتے ہو

[ 46] تقویٰ و پرہیزگاری وسیلہ نجات و سرفرازی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو تم ہمیشہ ڈرتے رہا کرو اللہ سے۔ سو یہود و منافقین کے حالات کے بیان کے بعد اب اہل ایمان کو خطاب کرکے ان کو خاص ہدایات سے نوازا جا رہا ہے کہ اعداء و مخالفین کے عیوب ذکر کرنے کے بعد نصیحت زیادہ اثر انگیز ہوتی ہے، اور ان کو خطاب بھی وصف ایمان کے ذکر کے ساتھ فرمایا گیا ہے، کہ اس میں ان کے لئے اعزاز بھی ہے کہ ایمان ہی ان کی اصل پہچان اور سب سے بڑی نعمت ہے۔ نیز اس میں تقویٰ و عمل کی ترغیب بھی ہے کہ یہی چیز تمہارے لائق، اور تمہارے صف ایمان کا لازمی تقاضا اور اس کا نتیجہ وثمرہ ہے یعنی تمہارے ایمان کا تقاضا ہے کہ تم ایسے اور ایسے رہو، اپنا محاسبہ خود کر کہ آگے حساب ہر کسی کو خود دینا ہے جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا۔ { حاسبوا انفسکم قبل ان یحاسب علیکم وزبوا اعمالکم قبل ان توزن علیکم } کہ تم لوگ اپنا محاسبہ خود کرتے رہو، قبل اس کے کہ تمہارا محاسبہ دوسروں کی طرف سے لیا جائے اور تم اپنے اعمال کا وزن خود کرتے رہو، قبل اس سے کہ ان کا وزن کسی اور طرف سے کیا جائے، سبحان اللّٰہ ! کتنا عظیم الشان نسخہ اور گُر ہے جو ارشاد فرمایا گیا ہے، جس سے خود بخود اصلاح ہوتی رہتی ہے، اور وہ صحیح راستے پر گامزن رہتا ہے، مگر مسلمان اس سے غافل ہے، الا ما شاء اللہ والعیاذ باللّٰہ جل و علا سو تقوی و پرہیزگاری دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ وسیلہ اور نجات کا باعث ہے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، [ 47] اپنا محاسبہ خود کرنے کی تعلیم و تلقین کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہر شخص دیکھ لے کہ اس نے آنے والے کل یعنی قیامت کے لئے کیا سامان کیا ہے، کیونکہ وہاں پر ہر کسی نے اپنا حساب خود دینا ہے اور اپنے کئے کرائے کا صلہ بدلہ خود پانا ہے، کوئی کسی کے کچھ کام نہیں آسکے گا جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے میں صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا۔ { یوم لا تملک نفس لنفس شیئًا ط والامر یومئذ للّٰہ } [ الانفطار : 29 پ 30] یعنی اس روز کوئی شخص کسی کے کچھ کام نہیں آسکے گا اور اس روز معاملہ سب کا سب اللہ ہی کیلئے اور اسی کے قبضہء قدرت و اختیار میں ہوگا، اور نہ ہی اس روز کوئی کسی کا کوئی بوجھ اٹھائے گا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { ولا تزرو وازرۃٌ وزر اخرٰی } [ بنی اسرائیل : 15 پ 15] یعنی اس روز کوئی بوجھ اٹھا نے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا " پس ہر کوئی اپنا محاسبہ خود کرے اور اپنے بارے میں خود دیکھ لے کہ وہ آنے والے کل کیلئے کیا کر رہا ہے، اور اس یوم عظیم کے بارے میں وہ خود دیکھ اور سوچ لے، سو اس ارشاد عالی میں اپنا محاسبہ خود کرنے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی۔ اور یہ ایسی اہم اور انقلاب آفرین تعلیم ہے کہ اس سے انسان کی خود بخود اصلاح ہوتی رہتی ہے۔ اور اس طرح وہ لگا تار بہتر سے بہتر کی طرف بڑھتا اور ترقی کرتا چلا جاتا ہے۔ [ 48] دنیا آج، اور قیامت آنے والا کل : سو اس ارشاد سے واضح فرمایا دیا گیا قیامت کا قیام ووقوع آنے والے کل کی طرح قطعی یقینی ہے۔ اور غدٍ یعنی آنے والے کل کے اس لفظ سے کئی اہم اور بنیادی درس ملتے ہیں، ایک یہ کہ قیامت کا آثار ایسا ہی یقینی اور قطعی ہے جیسا کہ آج کے بعد کل کا آنا یقینی اور قطعی ہے، نیز اس کا آنا اتنا ہی قریب ہے، جیسا کہ کل کے دن کا آنا آج کے اعتبار سے، کہ آج کا دن ختم ہوتے ہی کل کا دن آپہنچتا ہے۔ اسی طرح اس دنیا کے ختم ہوتے ہی آخرت اور قیامت کا وہ جہاں آپہنچے گا، جس سے دین حنیف کی تعلیمات مقدسہ خبردار کر رہی ہیں، لہٰذا جس طرح آج اور کل کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں، اسی طرح دنیا اور آخرت کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں، ایک کے ختم ہوتے ہی دوسری نے آپہنچنا ہے، اور اس کو دور نہ سمجھا جائے کہ آنے والی چیز نے بہرحال آکر ہی رہنا ہے۔ کل ماھو اتٍ فھوات۔ یعنی جس ثیز نے آنا ہوتا ہے وہ بہرحال آکر ہی رہتی ہے، نیز کسی بھی جی کو یہ پتہ نہیں کہ اس کے نہار زندگی کی شام کب، کہاں اور کیسے ہوجائے، اور " غدٍ " کی تنکیر اس کی تعظیم و تفحیم کے لئے ہے، کہ اس آنے والے کل کی شدت اور اس کی کنہہ و حقیقت کو اللہ پاک کے سوا کوئی نہیں جان سکتا جس کے بارے میں دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا کہ اس ہولناک دن کا شر ہر طرف پھیل رہا ہوگا۔ { یوفون بالنذر ویخافون یوما کان شرہٗ مشتطیرًا } [ الدہر : 7 پ 29] اللہ اس کے شر سے محفوظ رکھے۔ آمین۔ پس عقل و نقل دونوں کا تقاضا ہے کہ اس ہولناک دن اور اس کے تقاضوں کو ہمیشہ اور ہر حال میں یاد رکھا جائے اور اس کے لئے تیاری کی جائے، کہ اس کیلئے تیاری کا موقع اور اس کی فرصت یہی دنیاوی زندگی اور اس کی فرصت محدود ہے اور بس، وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، [ 49] تقویٰ و پرہیزگاری کی تاکید مکرر کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور تاکید کیلئے مکرر ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ ہمیشہ ڈرتے رہا کرو اللہ سے۔ سو یہ تکرار تاکید کے لئے ہے، کہ تقوی ہی اصل اور اساس و مدار ہے، فلاح و صلاح کا، اور یہی ذریعہء نجات اور باعش فوز و فلاح ہے، اللہ نصیب فرمائے اور بدرجہ تمام و کمال نصیب فرمائے، آمین ثم آمین، سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ یہ دنیا کوئی کھیل تماشا ہے جو یونہی ختم ہوجائے گا، نہیں بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ اس کے بعد ایک یوم جزا آنے والے ہے جس میں ہر کسی نے اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا حساب دینا اور اس کا صلہ و بدلہ پانا ہے، تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں اور بدرجہ تمام و کمال پورے ہوں، پس عقل و نقل دونوں کا تقاضا ہے کہ تم لوگ اس یوم عظیم کے تقاضوں کو ہمیشہ اور پیش نظر رکھو، اور اس کے لئے تیاری کرو قبل اس سے کہ فرصت حیات تمہارے ہاتھوں سے نکل جائے، اور تم کو ہمیشہ کیلئے پچھتانا پڑئے، والعیاذ باللّٰہ۔ سو حکمتوں بھری اس دنیا اور اس کے مخدوم ومطاع انسان کے وجود اور اس کی زندگی کا بدیہی تقاضا اور لازمی نتیجہ ہے کہ وہ یوم جزاء آئے تاکہ ہر کسی کو اس کے زندگی بھر کے لئے کرائے کا صلہ و بدلہ ملے اور اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں اور بدرجہء تمام و کمال پورے ہوں۔ ورنہ اس کائنات کا وجود عبث اور بیکار قرار پاتا ہے۔ جو کہ اس کے خالق حکیم کی حکمتوں کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب، ملہم الصدق والصواب، [ 50] اللہ تعالیٰ کے علم و آگہی کی تذکیر و یاددہانی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف " اِنَّ " کی تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ اللہ پوری طرح باخبر ہے ان تمام کاموں سے جو تم لوگ کرتے ہو۔ پس تم لوگ خود دیکھ لو کہ تم کیا کر رہے ہو، کہ کل اپنے رب کی حضور تمہیں اس سب کا جواب دینا ہوگا اور اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا پھل پانا ہوگا، اور وہاں اپنے ایمان و عمل کے سوا کچھ بھی کام نہیں آسکے گا جیسا کہ دوسرے مختلف مقامات پر اس حقیقت کو طرح طرح سے واضح فرمایا گیا ہے، چناچہ سورة شعرا میں ارشاد فرمایا گیا۔ { یوم لا ینفع مال ولا بنون، الا من اتی بقلب سلیم } [ الشعرا : 89-88 پ 19] یعنی اس روز نہ کسی کا مال اس کے کچھ کام آسکے گا اور نہ ہی اس کے بیٹے، سوائے اس کے جو قلب سلیم کے ساتھ اس کے یہاں حاضر ہو، پس کوئی کبھی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ جو کچھ ہم کر رہے ہیں اس کا کسی کو پتہ نہیں، اور اس بارے کسی نے پوچھنا نہیں، بلکہ حق اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ تمہارے ایک ایک عمل سے باخبر ہے اور تمہارے ہر قول و فعل کا باضابطہ طور پر ریکارڈ تیار کیا جا رہا ہے، جس کی تم نے اپنے وقت پر جوابدہی کرنی اور پورا بھگتان بھگتنا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ جل وعلا، پس ہمیشہ اپنے اس خالق ومالک کی رضا و خوشنودی ہی کو اپنے پیش نظر رکھا جائے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال،
Ayahs 59:19–20

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰهَ فَاَنْسٰىهُمْ اَنْفُسَهُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 59:19 in the Quran reader

اور تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے بھلا دیا اللہ کو تو اس کے نتیجے میں اللہ نے ان کو خود اپنی جانوں سے غافل کردیا ایسے ہی لوگ ہیں فاسق (وبدکار)

لَا یَسْتَوِیْۤ اَصْحٰبُ النَّارِ وَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ؕ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 59:20 in the Quran reader

باہم یکساں (و برابر) نہیں ہوسکتے دوزخ والے اور جنت والے، جنت والے ہی حقیقت میں کامیاب (اور فائزالمرام) ہیں

[ 51] غافلوں کے طور طریقوں سے بچنے کی ہدایت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور [ خبردار ] کہیں تم ان لوگوں کی طرح نہیں ہوجانا جنہوں نے بھلا دیا اللہ کو، یعنی و غافل ہوگیا اس کی یاد دلشاد سے، اور اس نے بھلا دیا اپنے اس خالق ومالک کے ان حقوق کو جو اس کی طرف سے اس بندوں پر عائد ہوتے ہیں، حالانکہ ان کی ادائیگی اور انجام دہی، کا فریضہ سب سے اہم، سب سے مقدم، اور سب پر فائق ہے، اور اللہ کو بھلا دینے والے والعیاذ باللّٰہ، اگرچہ بہت لوگ رہے ہیں پہلے بھی تھے اور آج بھی ہیں، جو اس کو بھلا کر خالص حیوان بن کر رہے، بلکہ حیوانوں سے بھی بدتر ہو کر رہ گئے، مگر اس کا سب سے اہم مصداق یہود بےبہبود ہیں جن کی تحریک اور اکساہٹ سے منافق لوگ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف طرح طرح کی فتنہ سامانیوں کا ارتکاب کرتے تھے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو اس ارشاد ربانی سے ایسے غافلوں کی مشابہت سے بچنے کی ہدایت اور تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے، کہ غفلت بیماریوں کی بیماری، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی یاد دلشاد سے سرشار و سرفراز، اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے، آمین ثم آمین یا رب العالمین، ویا ارحم الراحمین، ویا اکرم الاکرمین، ویامن بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ، [ 52] خدا فراموشی کا لازمی اور طبعی نتیجہ خود فراموشی۔ والعیاذ باللّٰہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم ان لوگوں کی طرح نہیں ہوجانا جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا جس کے نتیجے میں اللہ نے ان کو خود ان کی جانوں سے غافل کردیا۔ یعنی ان لوگوں کی خدا فراموشی کا نتیجہ ان کا خود فراموشی کی صورت میں نکلا، جس کے باعث وہ اپنی فوزوفلاح سے غافل و محروم ہو کر دائمی خسارے اور وبال میں مبتلا ہوگئے، والعیاذ باللّٰہ العظیم، سو ذکر و یاد خداوندی دراصل دارین کی سعادت و سرخروئی کی شاہ کلید ہے اور اس سے غفلت و لاپراہی خرابیوں کی خرابی اور ہلاکت و بربادی کی جڑ بنیاد ہے، والعیاذ باللّٰہ العظیم، کیونکہ یاد خداوندی سے محرومی کے بعد انسان غافل ہوجاتا ہے، اپنے مال و انجام سے، اپنے مقصد حیات سے، اور اپنے فرائض و واجبات سے، اور اس کے نتیجے میں وہ اپنی متاع حیات کو لایعنی اور بےکار مشاغل میں ضائع کرکے اپنے رب کے حضور خالی ہاتھ لوٹتا ہے، اور یہ ایسا بڑا خسارہ اور اس قدر ہولناک نقصان و ضیاع ہے کہ پھر اس کی تلافی وتدارک کی بھی کوئی صورت ممکن نہیں رہتی۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم سو خدا فراموشی کے نتیجے میں ایسے لوگ اپنے خیر وشر سے بیخبر اور اپنی عاقبت و انجام سے لاپرواہ، اور بےفکر ہوجاتے ہیں، جو کہ خساروں کا خسارہ ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین، ویا ارحم الراحمین، ویا اکرم الاکرمین، [ 53] خدا فراموش لوگ فاسق و بدکار۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے ہی لوگ فاسق ہیں۔ کہ ایسے لوگ اس کی اطاعت و بندگی کی حدود سے نکل کر دائمی عذاب کا شکار ہوگئے جو کہ خساروں کا خسارہ ہے، والعیاذ باللّٰہ العظیم، سو انہوں نے خدا کو بھلایا تو اس کے نتیجے میں یہ اپنی زندگی اور اس کے تقاضوں سے غافل و بےفکر ہوگئے اور اس طرح ایسے لوگ فاسد و بدکار، اور اپنے خالق ومالک کے نافرمان بن گئے، والعیاذ باللّٰہ، اور خداوند قدوس کی یاد کی اصل روح یہ ہے کہ آدمی اس تعلق کی نوعیت کو ہمیشہ اپنے سامنے مستحضر رکھے، جو اس کے اور اس کے رب کے مابین ہے، اسی کے استحضار سے یہ چیز انسان پر اثر انداز ہوتی ہے اس سے قلب و باطن معمور اور منور ہوتا ہے اور اس کی زندگی میں انقلاب آتا ہے، اور وہ بہتر سے بہتر کی طرف بڑھتی جاتی ہے، وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب، ملہم الصدق والصواب جل جلالہ، وعم نوالہٗ ،
Ayahs 59:21–22

لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰى جَبَلٍ لَّرَاَیْتَهٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَةِ اللّٰهِ١ؕ وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 59:21 in the Quran reader

اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر اتار دیتے تو تم اسے دیکھتے کہ وہ بھی دبا جارہا ہے اور پھٹا پڑ رہا ہے اللہ کے خوف سے اور یہ مثالیں ہم بیان کرتے ہیں لوگوں کے لئے تاکہ وہ غور و فکر سے کام لیں1

هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ١ۚ هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ Open ayah 59:22 in the Quran reader

وہ اللہ وہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو (ایک برابر) جاننے والا ہے نہاں وعیاں کو وہی ہے بڑا مہربان نہایت رحم فرمانے والا

[ 56] قرآن حکیم کی عظمت شان کا ذکر وبیان : سو اس سے قرآن حکیم کی عظمت شان کی توضیح کے لئے ایک موثر اور بلیغ تمثیل بیان فرمائی گئی، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر بھی اتار دیتے اور اس میں فہم و ادراک پیدا کرکے اس کو مکلف کردیتے، جیسا کہ انسان کو کیا ہے، تو وہ پہاڑ بھی خوف و خشیت خداوندی سے پھٹ پڑتا، اور پاش پاش ہوجاتا، لیکن تم لوگ اے منکرو ! اور منافقو ! ایسے سنگدل ہو کہ تم پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا، سو ارشاد میں منکرین و منافقین اور ان کے منکرانہ اور منافقانہ رویے پر زجر و ملامت ہے کہ جہاں تک تعلیم و تذکیر اور اتمام حجت کا تعلق ہے، حضرت حق جل مجدہ نے تمہارے لئے اس میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، اور اس سلسلے میں اس نے تمہارے لیے قرآن حکیم جیسی کامل اور بےمثال کتاب اتاری جو اگر پہاڑ جیسی کسی سخت اور بےحس چیز پر اتاری جاتی تو وہ بھی خشیت الٰہی سے سرافگندہ اور پاش پاش ہوجاتا مگر تم لوگ ہو کہ ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ والعیاذ باللّٰہ۔ [ 57] اللہ تعالیٰ کی خشیت اور اس کا تقاضا ؟: سوا رشاد فرمایا گیا کہ اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر اتار دیتے تو وہ بھی پھٹ پڑتا اللہ کے خوف و خشیت سے۔ اپنی تمام تر صلابت اور پختگی و مضبوطی کے باوجود، خواہ وہ ہمالیہ جیسا کوئی عظیم الشان پہاڑہی کیوں نہ ہو، کہ جبل کی تنکیر و تعیم سب کو عام اور شامل ہے، پس حیف ہے اس انسان پر جو اس عظیم الشان اور بےمثالکتاب مقدس سے متاثر نہ ہوا، والعیاذ باللّٰہ، سو اس ارشاد میں جیسا کہ ابھی اوپر گزرا منکرین و منافقین پر زجر و توبیج اور ان کی علامت ہے کہ جہاں تک تعلیم و تذکیر اور اتمام حجت کا تعلق ہے اس میں تو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی، لیکن تم لوگ ہو کہ تمہارے دل اس سے پھر بھی نہیں پسیجتے، اور تم پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا، آخر تم لوگوں کو کیا ہوگیا ہے، تمہاری آنکھیں کب کھلیں گی ؟ اور تم لوگ کونسے کلام پر ایمان لاؤگے ؟ { دبای حدیث م بعدہ یؤمنون } [ المرسلات : 51 پ 29] سو غفلت کا زنگ ایسا ہولناک زنگ ہے جو انسانوں کے دلوں کو پتھروں جیسا بلکہ اس سے بھی زیادہ سنگدل بنا دیتا ہے۔ جس کے بعد حق بات ان کے دلوں میں اثر نہیں کرتی، اور وہ کچھ سننے، ماننے، کو تیار ہی نہیں ہوتے۔ والعیاذ باللّٰہ جل وعلا۔ اللّٰہم فھذہ نواصینا بین یدیک فخذنا بھا الیٰ ما فیہ حبک ورضاک، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، یاذالجلال والاکرام۔ [ 58] غور و فکر ایک اہم مقصد و مطلب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم لوگوں کے لئے یہ مثالیں بیان کرتے ہیں تاکہ وہ غور وفکر سے کام لیں۔ اور مخلوق میں غور و فکر سے کام لے کر یہ لوگ حضرت خالق جل مجدہ کی عظمت و وحدانیت کی معرفت کے نور سے اپنے دلوں کی دنیا کو آباد ومنور کریں۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ یہ تمثیلیں ہم اس لیے بیان کرتے ہیں کہ تاکہ لوگ اپنے حال پر غور کریں اور اپنے حال و مآل کی اصلاح کی راہ کو اپنائیں، تاکہ اس طرح ان کا دنیا میں بھی بھلا ہو سکے، اور آخرت میں بھی، وباللّٰہ التوفیق۔ مگر مشکل اور مشکلوں کی مشکل یہ ہے کہ لوگ غور و فکر سے کام لیتے ہی نہیں۔ الا ماشاء اللّٰہ۔ اکثر لوگوں کو حال یہ ہے کہ ان کی عقل و فکر اور سوچ و بچار کی تک و دو کا محور و مرکز ان کی بطن و فرج کی خواہشات ہی کی تکمیل ہوتا ہے اور بس۔ مادہ و معدہ کے تقاضوں سے آگے سوچنا ان کو نصیب ہی ہوتا۔ { ذلک مبلغھم من العلم } اس سے آگے کیلئے ان کی سوچ و بچار کی آنکھ اٹھتی ہی نہیں پھر ایسوں کو حق اور ہدایت کا نور ملے تو کیسے ؟ اور ان کو راہ حق نصیب ہو کس طرح اور کیونکر ؟ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ من کل زیغ و ضلال،
Ayah 59:23

هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ اَلْمَلِكُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 59:23 in the Quran reader

وہ اللہ وہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ بادشاہ حقیقی ہے نہایت پاک سراسر سلامتی امن دینے والا نگہبان سبپر غالب ہر خرابی کو درست کرنے والا بڑی ہی عظمت والا اللہ پاک ہے ان تمام چیزوں سے جن کو یہ لوگ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں

[ 62] بادشاہ حقیقی اللہ وحدہٗ لاشریک ہی ہے، سبحانہ وتعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ وہی ہے بادشاہ حقیقی۔ کہ اس کی بادشاہی ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ کیلئے رہے گی، نہ اس کو کوئی خطرہ وزوال ہے، اور نہ ہی وہ کسی کے ماننے اور تسلیم کرنے کی محتاج ہے، اس ساری کائنات کا خالق ومالک بھی تنہا وہی ہے، اور اس میں حکم و تصرف بھی اسی وحدہٗ لاشریک کا چلتا ہے، سو زمین و آسمان کی اس پوری کائنات کو پیدا بھی تنہا اسی وحدہٗ لاشریک نے فرمایا ہے اور اس میں حکم و تصرف بھی اسی کا چلتا ہے۔ اسی لئے اس نے وحی اتاری اور اپنے رسول بھیجے تاکہ اس کے بندے اس کے احکام سے آگاہ ہو سکیں، اور اس خالق ومالک اور بادشاہ حقیقی کی اس قلمرو میں اس ہدایات اور تعلیمات مقدسہ کے مطابق زندگی گزاریں، تاکہ اس طرح وہ سعادت دارین سے سرفراز ہوسکیں۔ اور اس دنیا میں انسانوں میں سے جن کو بھی کوئی حکومت اور بادشاہی عارضی اور ظاہری طور پر ملتی ہے، وہ سب اسی وحدہ لاشریک کی بخشش و عطا اور دارو دہش سے ملتی ہے، کہ بادشاہی دینا اور اس کو چھین لینا اسی کا کام اور اسی کی شان ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ { قل اللّٰہم ملک الملک توتی الملک من تشآء وتنزع الملک ممن تشآء ز وتعزمن تشآء وتذل من تشاء ط بیدک الخیر ط انک علی کل شیء قدیر۔ } [ آل عمران : 26 پ 3] یعنی مالک المک ! تو جس کو چاہتا ہے بادشاہی عطا فرماتا ہے اور جس سے چاہتا بادشاہی چھین لیتا ہے، سو کتنے بدبخت ہیں وہ لوگ جو اس واہب مطلق، جل جلالہٗ سے منہ موڑ کر خود ساختہ ایری غیری اور من گھڑت " سرکاروں " کے آگے جھکتے ہیں مگر ان کو اس کا کوئی شعور و احساس ہی نہیں کہ اس طرح وہ اپنے لئے کسی قدر ہولناک خسارے کا سامان کر رہے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے زیغ و ضلال سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین، ویامن بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ، [ 63] اللہ تعالیٰ ہر قسم کے نقص و عیب سے پاک ہے، سبحانہ وتعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ قدوس ہے یعنی وہ ہر نقص و عیب اور شائبہ شرک سے پاک اور بری ہے۔ پس وہ نہایت ہی پاک اور بری ہے ہر طرح کے نقص و عیب سے اور ہر قسم کے شائبہ و شرکیات سے، اور وہ ہر طرح کی کمزروی اور برائی اور اس کے ہر شائبہ سے بالکل پاک اور منزہ ہے۔ اسی لیے اس نے اپنے بندوں کو پاکیزہ بنانے کے لئے اپنی کتاب اتاری اور اپنے رسول کو مبعوث فرمایا، تاکہ اس کے بندے اس کے ذریعے اس کا قرب حاصل کرکے مقدس اور پاکیزہ مخلوق بننے کے اہل ہو سکیں، اور اس کے نتیجے میں وہ اس دنیا میں بھی حیات طیبہ یعنی پاکیزہ زندگی کی نعمت سے بہرومند ہوسکیں اور آخرت میں بھی حقیقی اور دائمی کامیابی سے سرفراز ہو سکیں۔ پس جا کا تعلق اس کے ساتھ صحیح ہوگا اور وہ اسی کا بن کر رہے گا وہی پاکیزگی کے شرف سے مشرف و فیضاب ہو سکے گا، اور جتنا وہ اس میدان میں آگے بڑھتا جائے گا اتنا ہی اس کا مرتبہ و مقام بلند ہوتا جائے گا اور وہ رشک ملائک بنتا چلا جائے گا۔ وباللّٰہ التوفیق۔ اور اس کے برعکس جو اس سے دور ہوتا چلا جائے گا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ وہ اتنا ہی اس کے نور معرفت و حکمت سے محروم ہو کر طرح طرح کی ظلمات اور مہالک و درکات میں گرتا جائے گا والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہر حال اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین، [ 64] وہ سراسر سلامتی والا ہے : پس نہ تو خود اس کی ذات اقدس کی طرف کوئی نقص وعیب راہ پاسکا ہے نہ پاس کے گا، اور نہ کسی بھی طرح اس کا کوئی امکان ہے۔ اور اپنی مخلوق کو بھی اس نے ہر طرح کے ظلم و سلامتی میں رکھا ہوا ہے، کہ وہ ذرہ برابر کسی پر ظلم نہیں کرتا، سبحانہ وتعالیٰ ، سو اس وحدہٗ لاشریک کی ذات اقدس و اعلیٰ ہر خطرے سے امان اور ہر آفت سے سپر ہے، اور بندہ جب اپنے آپ کو اس کی پناہ میں دے دیتا ہے تو وہ سکھ اور چین پاتا ہے، اور اس کی اسی صفت کریمہ کا فیض ہے کہ بندہ اس کے ذکر اور اس کی یاددلشاد سے اطمینان و سکون قلب کی دولت سے سرفراز ومالا مال ہوتا ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا اور " الا " کے حرف تنبیہ و تخصیص کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا۔ { الذین اٰمنوا وتطمئن قلوبھم بذکر اللّٰہ ط الا بذکر اللّٰہ تطمئن القلوب } [ الرعد : 28 پ 13] یعنی آگاہ ہوا اے لوگو ! کہ اللہ کے ذکر ہی سے اطمینان ملتا ہے دلوں کو۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے حفظ و امام میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین، ویا ارحم الراحمین، ویامن بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ، [ 65] وہ امن دینے والا ہے، سبحانہ وتعالیٰ : یعنی وہ امن دینے والا ہے تمام جہانوں اور اپنی ساری مخلوق کو جس سے ہوا میں اڑنے والے پرندے، سمندر میں تیرنے والی مچھلیاں اور بلوں سوراخوں میں رہنے والے حشرات تک مستفید و فیضیاب ہو رہے ہیں اور حضرت انسان جو کہ اس ساری مخلوق کا مخدوم ومطاع ہے وہ اپنے اردگرد و احاطہ کرنے والی طرح طرح کی اور غیر محسوس و مدرک آفات و بلیات میں بھی امن و عافیت سے زندگی بسر کرتا ہے۔ نیز اس نے اپنے بندوں سے شواب و عذاب کے جو کچھ وعدے وعید فرما رکھے ہیں، ان سب میں بھی اس کی ہر بات سچی ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور بندہ جب شیطان اور اس کے ایجنٹوں کے حملوں سے بچنے کے لئے اپنے آپ کو اس رب رحمان و رحیم کی پناہ میں دے دیتا ہے تو اس کو وہ اپنے امن وامان سے نوازتا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور یہ امن و سلامتی اور حفاظت و پناہ اس وحدہٗ لاشریک کے حفظ وامان کے بغیر اور کہیں سے ملنا ممکن نہیں، اور اس کے دامن پناہ کے بغیر ابلیس کے مکرو فریب اور اس کی شر انگیزیوں اور دسیسہ کاریوں سے بچنے اور محفوظ رہنے کی کوئی صورت ممکن نہیں کہ اس کے سوا اور کوئی بھی جگہ ایسی نہیں جو ابلیس لعین کی رسائی سے محفوظ اور اس کی دسترس سے باہر ہو۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے اور ہر قسم کے شروروفتن سے ہمیشہ محفوظ اور سلامت رکھے اور ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنا ہی بنائے رکھے، آمین ثم آمین یا رب العالمین، ویا ارحم الراحمین، ویامن بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ، [ 66] وہ سب پر نگہبان ہے، سبحانہ وتعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ " مھیمن " یعنی نگران و نگہبان ہے۔ یعنی ہر آفت و مصیبت سے، مھیمن، دراصل عربوں کے اس قول سے ماخوذ ہے۔ ھیمن الطائر علی فراخہٖ ۔ یعنی " پرندے نے اپنے بچوں کو اپنے پروں کے نیچے لے لیا "۔ سو بلاشبہ اسی طرح سمجھا جائے کہ اللہ پاک نے ابھی اپنی گونا گوں مخلوق کو اسی طرح اپنی رحمتوں اور عنایتوں کے سائے میں لے رکھا ہے، اور وہ سب اس کی رحمت و عنایت ہی سے جی رہی ہے۔ نیز وہ اپنے بندوں کے اعمال و احوال پر بھی نظر رکھے ہوئے ہے، تاکہ ان کو اس کے مطابق بدلہ سے سکے، اور کسی کا حق نہ مارا جائے اور اس طرح عدل وانصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں، اور اپنی آخری اور کامل شکل میں پورے ہو سکیں، اور اسی بناء پر قرآن حکیم کو بھی مہیمن فرمایا گیا ہے کہ یہ گزشتہ تمام آسمانی کتابوں کی اصولی تعلیمات کی حامل اور ان کی محافظ و نگہبان کتاب ہے، اور یہ ان کیلئے کسوٹی اور ان کی وکیل اور معتمد کتاب ہے۔ ابن الانباری اس کو توضیح و تشریح میں کہتے ہیں " القائم علی الناس " یعنی جو لوگوں کا محافظ ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور غزالی کہتے ہیں " القائم علی خلقہ " یعنی اپنی مخلوق کی نگرانی کرنے والا جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { واللّٰہ علی کل شیئٍ شھید } پس ساری مخلوق اسی کی رحمت و عنایت کے سہارے زندہ اور موجود ہے اس لئے ہر قسم کی عبادت اور بندگی اسی وحدہ ٗ لاشریک کا حق اور اسی کا اختصاص ہے، سبحانہ وتعالیٰ ، فلہ الحمد ولہ الشکر بکل حال من الاحوال، اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے۔ اور ہر قسم کے شر و روفتن سے ہمیشہ محفوظ و سلامت رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین، ویا ارحم الراحمین، [ 67] اللہ سب پر غالب ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ سب پر غالب بڑا ہی زبردست ہے کہ اس کے ارادہ میں کوئی بھی طاقت حائل نہیں ہوسکتی، وہ جو چاہے جب چاہے اور جیسے چاہے کرے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ پس سچی عزت اسی کی ہے جو اس کا بن گیا۔ فوفقنا اللّٰہم لما تحب وترضی من القول والعمل وکن لنا ولا تکن علینا۔ سو اسی وحدہٗ لاشریک کی اس صفت کریمہ میں اہل ایمان کیلئے تسکین و تسلی اور بشارت و خوشخبری کا سامان بھی ہے کہ جب یہ اس رب عزیز و کریم کے بندے بن کر رہیں گے، تو کوئی انکا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا، اور دوسری طرف اس میں باغی اور سرکش عناصر کے لئے تہدید بھی ہے کہ وہ اس کی پکڑ سے بچ نہیں سکیں گے، پس ہر کوئی خود دیکھ لے کہ وہ یہاں کھڑا ہے اور اپنے اس خالق ومالک عزیز کے ساتھ اس کا معاملہ اور تعلق کس طرح کا ہے ؟ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور یہی خیال و احساس ایسا ہے جو انسان کیلئے صلاح و اصلاح اور دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ ووسلیہ ہے۔ اللّٰہم فخذنا بنواصنا الی ما فیہ حبک ورضاک بکل حالٍ من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، ویامن بیدہ ملکوت کل شیء سو سعادت و سرفرازی اللہ تعالیٰ کی عبادت و بندگی ہی میں ہے، اور بس۔ اسی کی فکر و کوشش میں لگے رہنا چاہئے، اللہ توفیق بخشے اور اس قدر کے وہ ہم سے راضی ہوجائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین ، [ 68] اللہ جبار ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ : یعنی خرابی کو درست کرنے والا جو اس کے شکستہ دل اور حاجت مندوں کو پیش آتی ہے، نیز وہ ایسے غلبے وقہر والا ہے کہ اپنی مخلوق میں جو چاہیے تصرف فرمائے کوئی اس کو روک نہیں سکتا، اور اس کی جناب اقدس و اعلیٰ تک کسی کی وسعت رسی ممکن نہیں۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ " جبار " کے اصلی معنی برے زور آور اور طاقتور کے ہوتے ہیں، اسی لئے عربی زبان میں اس کا اطلاق کھجور کے ان درختوں کے لئے ببھی آیا ہے جو غیر معمولی طور پر اونچے ہوں، اسی لئے قرآن حکیم میں اس کا اطلاق ان زور آور اور طاقتور لوگوں پر بالادست اور ان پر جبر اور ظلم کرنے والے ہوتے ہیں، اس لیے عربی زبان میں اسکا اطلاق کھجور کے ان درختوں کیلئے بھی آیا جو غیر معمولی طور پر اونچے ہوں۔ اسی لیے قرآن حکیم میں اس کا اطلاق ان زور آور لوگوں کیلئے بھی ہوا ہے جن سے ڈر کر بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے شکایت کی تھی کہ موسیٰ بڑے سخت اور زور آور لوگ رہتے ہیں، جن کے ہوتے ہوئے ہم وہاں کبھی نہیں جاسکتے، چناچہ سورة المائدہ میں ارشاد فرمایا گیا۔ { قالوا یموسی ان فیھا قوما ما جبارین وانا لن ندخلہا حتیٰ یخرجوا منھاج فان یخرجوا منھا فانا دخلون } [ المائدہ : 23 پ 6] یعنی انہوں نے کہا کہ اسے موسیٰ اس بستی میں بڑے سخت لوگ موجود ہیں اس لئے ہم اس میں کبھی داخل نہیں ہوں گے، یہاں تک کہ وہ اس سے نکل جائیں اور اللہ تعالیٰ کیلئے اس صفت کریمہ یعنی صفت " جبار " کے استعمال میں تین پہلو ہیں، ایک جبر اصلاح، یعنی وہ ہر خرابی کو درست کرنے والا ہے، اور دوسرا پہلو اس کا ہے جبر قہر و غلبہ، یعنی وہ سب پر غالب اور سب سے زیادہ طاقتور اور زور آور ہے، سبحانہ وتعالیٰ ۔ وہ جس کو چاہئے اور جب چاہئے اپنی گرفت و پکڑ میں لے لے، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ کوئی بڑے سے بڑا ظالم اور جبار بھی اس کی گرفت سے بچ اور بھاگ نہیں سکتا۔ اور تیسرا جبر ہے " جبر غلو " یعنی وہ سب سے اعلیٰ وبالا ہے کسی کی اس تک رسائی نہیں ہوسکتی، جیسا کہ ان تینوں معافی کو اوپر واضح کردیا گیا۔ والحمدللّٰہ۔ سو اس صفت کریمہ کے ذکر استعمال سے ان تمام شرکیہ تصورات اور من گھڑت خیالات کی جڑ نکل جاتی ہے جو لوگوں نے از خود اپنی من گھڑت دیویوں، دیوتاؤں اور اپنی خود ساختہ اور فرضی ددہمی سرکاروں، اور ہستیوں وغیرہ کے بارے میں قائم کر رکھے ہیں اور جن میں اصل اہمیت انہیں فرضی اور وہمی چیزوں کو دی گئی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر طرح سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین، ویامن بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ، سبحانہ وتعالیٰ ۔ [ 69] اللہ بڑی ہی عظمت اور بڑائی والا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ : سو وہ متکبر یعنی سب سے بڑا اور حقیقی معنوں میں سب سے بڑا ہے اور ہر نقص و عیب سے بلند وبالا ہے۔ اصل اور حقیقی عظمت و بڑائی اسی کو اور صرف اسی کو سزا وار ہے، پس اس کی مخلوق میں سے کسی کو بھی اپنی بڑائی کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں، کہ عظمت وکبریائی اور بزرگی و بڑائی اسی وحدہٗ لاشریک کی شان اور اسی کا حق ہے۔ اس کے سوا جس کو بھی کوئی عظمت اور بڑائی حاصل ہے، وہ اس کی ذاتی نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ ہی کی عطاء کردہ اور اسی کی بخشی ہوئی ہے اور وہ بھی ہمیشہ کے لئے نہیں بلکہ جب تک اس وحدہٗ لاشریک کو منظور ہوگا، سبحانہ وتعالیٰ ، اور انسان کا جب خود اپنا وجود ہی دائمی اور ابدی نہیں تو پھر اس کی کسی صفت کے ابدی ہونے کا سوال ہی کیا پیدا ہوسکتا ہے ؟ جبکہ اس وحدہٗ لاشریک کی عظمت اور بڑائی اس کی ذاتی اور زالی و ابدی صفت و شان ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو کبریائی اللہ تعالیٰ ہی کا ھق اور اسی کی صفت خاصہ ہے، کہ وہی وحدہ لاشریک ہے جو مخلوقات کی تمام صفات اور ایسے تمام تصورات سے پاک اور اعلیٰ وبالا ہے۔ اور یہ شان اس کے سوا اور کسی کی بھی نہیں ہوسکتی۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اسی لیے حدیث قدسی میں ارشاد فرمایا گیا۔ العظمۃ از اری والکبریاء ردانی فمن ناز عنی واحداً منھما عدبتہ۔ یعنی " عظمت میری ازار ہے اور کبریائی میری ردائ، پس جس نے ان دونوں میں سے کسی ایک میں بھی مجھ سے جھگڑا کیا میں اس کو عذاب دوں گا "۔ [ ابن کثیر، ابن جریر اور قرطبی وغیرہ ] ۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اور یہ شان جب اس وحدہ لاشریک کے سوا اور کسی کی نہ ہے نہ ہوسکتی ہے تو پھر معبود حقیقی بھی وہی وحدہ لاشریک ہے جو کہ ہر قسم کے شرک اور اس کے ہر شائبہ سے پاک ہے۔ اس لئے آیت کریمہ کے آخر میں ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ پاک ہے ان تمام چیزوں سے جن کو یہ لوگ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں " سبحانہ وتعالیٰ ۔ پس معبود برحق اور مسجور برحق وہی اور صرف وہی وحدہ لاشریک ہے۔ جل جلالہ وعم نوالہ اللّٰہم وخذنا بنواصنا الی ما فیہ حبک ورضاک بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔
Ayah 59:24

هُوَ اللّٰهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى١ؕ یُسَبِّحُ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 59:24 in the Quran reader

وہی اللہ ہے پیدا کرنے والا وجود بخشنے والا صورت گری کرنے والا اسی کے لئے ہیں سب اچھے نام اسی کی پاکی بیان کرتا ہے وہ سب کچھ جو کہ آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہی ہے سب پر غالب انتہائی حکمت والاف 2

[ 70] اللہ ہی خالق ہے سب کا۔ سبحانہ وتعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہی اللہ پیدا کرنے والا ہے " یعنی ہر چیز کو جو اس کو حکمت کے مطابق مقدر فرمانے والا ہے۔ جو اشیاء کو اپنے ارادہ اور مشیت کے مطابق مقدر فرماتا ہے۔ [ فتح القدیر وغیرہ ] اور پھر ان کو خلعت وجود سے نوازتا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو خالق ہر چیز کا اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کی تصریح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا۔ اللہ خالق کل شیء وھو علی کل شیئٍ وکیل۔ [ سورة الزمر : 62 پ 24] یعنی " اللہ ہر چیز کا پیدا کرنے اور اس کو وجود بخشنے والا ہے اور وہی ہر چیز پر نگران اور اس کا محافظ ہے " واضح رہے کہ خلق کے اصل معنی تقدیر اور اندازہ کرنے کے ہیں چناچہ عربی میں کہتے ہیں۔ خلق النعل اذا قدرھا و سواھا بمقیاس [ روح البیان ] لیکن پھر اس کا عام استعمال " ایجاد علی تقدیر واستوائ " کے معنی میں ہونے لگا۔ سو اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو وجود بخشا اور اس کو نہایت عمدہ اندازے اور تقدیر و توازن پر پیدا فرمایا سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور جب خالق وہی وحدہ لاشریک ہے تو معبود برحق بھی وہی ہے، اور عبادت و بندگی کی ہر قسم اور اس کی ہر شکل بھی اسی وحدہ لاشریک کا حق ہے کہ خالق و مخلوق کبھی اور کسی بھی درجے میں برابر نہیں ہوسکتے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { افمن یخلق کمن لا یخلق ط افلا تذکرون }[ سورة النحل : 17 پ 14] یعنی کیا وہ جو سب کو پیدا کرے اور جو کچھ بھی پیدا نہ کرے دونوں باہم برابر ہوسکتے ہیں ؟ کیا تم لوگ اتنا بھی نہیں سمجھتے ؟ " پس معبود برحق وہی وحدہ لاشریک ہے۔ اس کا کوئی بھی شریک وسہیم نہیں، ہر قسم کی عبادت اسی کا حق ہے، والحمدللّٰہ رب العالمین قبل کل شیء وبعد کل شیء وفی کل زمان ومکان۔ [ 71] اللہ ہی وجود بخشنے والا ہے سب کو، سبحانہ وتعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہی وجود بخشنے والا ہے یعنی وہی وجود بخشنے والا ہے ہر مخلوق کو۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ کیونکہ " الباری " کا معنی و مطلب ہے وجود بخشنے والا۔ سو اپنی مقدر فرمودہ ہر مخلوق کو اس کے مقصد تخلیق اور قوانین فطرت کے مطابق وجود بخشنے اور صفحہ ہستی پر لانے والا، اور اس کو عدم محض سے منصہ شہود وجود پر لانے والا۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو پہلا مرتبہ ہوگیا خلق یعنی ہر چیز کے وجود کو مقدر کرنا۔ پھر دوسرا مرتبہ ہوگیا انشاء و ایجاد یعنی عدم سے وجود میں لانا، اور اس کی حکمت کے مرہون منت ہیں، سبحانہ وتعالیٰ ، اس میں سے کسی بھی مرحلے میں اور کسی بھی اعتبار سے اور کسی بھی درجے میں اس وحدہ لاشریک کا نہ کوئی شریک ہے نہ کوئی ہوسکتا ہے، پس معبود برحق وہی وحدہ لاشریک ہے۔ [ خازن اور معالم وغیرہ ] سو الباری ماخوذ ہے البرء سے، جس کے معنی ہوتے ہیں کسی چیز کو اس طور پر وجود بخشنا اور ایجاد کرنا جو اس کے وجود، اس کے مقصد تخلیق اور اس کی غرض وغایت کے تقاضوں کے عین مطابق ہو، اور ایسا کہ وہ ہر طرح کے تفاوت و نقصان سے بری ہو، [ روح وغیرہ ] اور یہ شان صرف اللہ وحدہ لاشریک ہی کی ہوسکتی ہے، پس معبود برحق وہی ہے اور ہر قسم کی عبادت اسی کا حق ہے۔ جل جلالہ وعم نوالہ۔ [ 72] اللہ ہی صورت بخشنے والا ہے سب کو، سبحانہ وتعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہی ہے صورت گری فرمانے وال۔ سو وہی ہے جو اپنی لا تعداد و بیشمار مخلوق میں سے ہر ایک کی نہایت عجیب و غریب اور حیرت انگیز طریقے سے صورت گری فرماتا ہے، اور ایسی کہ کوئی بھی دو چیزیں ایسی نہیں مل سکتیں، جو ظاہر اور باطن پر اعتبار سے آپس میں یکساں اور باہم برابر ہوں، فتبارک اللّٰہ احسن الخالقین اور مخلوق کی صورت گری کی اس صفت میں کوئی بھی اس کا شریک سہیم نہیں ہوسکتا، بلکہ وہی وحدہ لاشریک جسے اور جس طرح چاہے ہر کسی کی اپنی مشئیت ومرضی کے مطابق صورت گری فرماتا ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { فیای صورۃ ماشاء رکبک } [ الانفطار : 8 پ 30] یعنی " اس رب کریم نے جس شکل و صورت میں چاہا تم کو ڈھال دیا "۔ نیز دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { ھو الذی یصورکم فی الارحام کیف یشآء ط الا الہ الا ھو العزیز الحکیم } [ آل عمران : 6 پ 3] یعنی " وہ اللہ وہی ہے جو صورت گری فرماتا ہے تم سب لوگوں کی تمہاری ماؤں کے رحموں کے اندر جس طرح چاہتا ہے۔ وہی ہے بڑا زبردست نہایت ہی حکمت والا " سو " الخالق "، " الباری " اور " المصور " کی ان تینوں صفات کریمہ کے ذکر سے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ ہر چیز کے وجود کے تمام مراحل کو اللہ تعالیٰ ہی اپنی قدرت کاملہ، حکمت بالغہ اور رحمت شاملہ سے طے کرتا ہے۔ سو وہی ہر چیز کا خاکہ تیار کرتا ہے۔ پھر وہی اس کو وجد بخشتا ہے، اور وہی اس کی صورت گرمی کرتا ہے، اور اس کی نوک پلک سنوارتا اور درست فرماتا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ ان میں سے کسی بھی مرحلے میں کوئی بھی اس کا شریک وسہیم نہیں۔ تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک کس طرح ہوسکتا ہے ؟ پس ہر قسم کی عبادت و بندگی اسی وحدہٗ لاشریک کا حق ہے اس کی کوئی بھی قسم کسی اور کیلئے بجالانا شرک اور ظلم عظیم ہے۔ والعیاذ باللّٰہ جل وعلا، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، [ 73] اللہ ہی کے لیے ہیں سب اچھے نام : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ اسی کیلئے ہیں سب اچھے نام کہ سب خوبیوں اور اچھائیوں کا مال و مستحق وہی اور تنہا وہی ہے۔ باقی تمام مخلوق میں سے جہاں بھی کسی کے اندر کوئی خوبی و اچھائی پائی جاتی ہوگی تو وہ اسی کی بخشی ہوئی ہوگی۔ سنن ترمذی اور مسند امام احمد رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ وغیرہ میں آنحضرت ﷺ سے مروی ہے کہ جو کوئی صبح کے وقت تین مرتبہ اعوذ باللّٰہ السمیع العلم من الشیطن الرحیم پڑھ کر سورة ٗ حشر کی یہی آخری تین آیتیں پڑھ لے تو اللہ پاک اس کیلئے ستر ہزار فرشتے مقرر فرما دیتا ہے جو اس کیلئے دعاء کرتے رہتے ہیں، اور اگر اس دن میں اس کو موت آگئی تو وہ شہید مرے گا اور شام کو پڑھنے پر بھی یہی اجر ہے۔ [ ابن کثیر، جامع البیان وغیرہ ] بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ یہ تو اس وحدہ لاشریک کی چند ہی صفات ہیں جو یہاں پر بیان فرمائی گئی ہیں، ورنہ جتنی بھی اچھی صفتیں ہیں ان سب کا حقیقی موصوف وہی وحدہٗ لاشریک ہے، کہ ہر خوبی و کمال کا مستحق و موصوف اور اس کا منبع ومصدر وہی وحدہ لاشریک ہے، اور اسماء کا لفظ یہاں پر صفات کے معنی میں ہے کہ اس وحدہ لاشریک کے جتنے بھی نام ہیں وہ سب اس کی کسی نہ کسی صفت کو ظاہر کرتے ہیں۔ سبحانہ و تعالیٰ سو اس سے دو اہم اور بنیادی درس ملتے ہیں۔ پہلا یہ کہ اللہ پاک۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ کی معرفت اس کے اسماء وصفات ہی سے ہوسکتی ہے۔ ورنہ اس کی کنہ ذات تک پہنچنا تو کسی کیلئے ممکن ہی نہیں۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور دوسری اہم اور بنیادی حقیقت اس سے یہ بھی واضح ہوجاتی ہے کہ قرآن حکیم کی آیات بینات اور اس کی تعلیمات مقدسہ کے " نور مبین " کے بغیر اللہ پاک کی معرفت اور عقیدہ توحید سے سرفرازی ممکن نہیں۔ پس جو لوگ قرآن حکیم کے نور مبین سے محروم ہیں وہ اپنے خالق ومالک کی معرفت اس کی توحید وحدانیت اور اس کے حقوق کے علم و آگہی سے محروم اور سراسر اندھیروں میں ہیں، اور وہ { فی ظلمات بعضھا فوق بعض } کا مصداق ہیں۔ جو کہ خساروں کا خسارہ ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین، ویا ارحم الراحمین، ویا اکرم الاکرمین، ویامن بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ،