Ayah 58:12[ 40] غیر ضروری سرگوشیوں سے روکنے کیلئے ایک ہنگامی حکم کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایمان والو اگر تمہیں رسول سے کوئی بات تخلیے میں کرنی ہو تم لوگ ایسے موقع پر کچھ صدقہ کرلیا کرو، یعنی جتنا بھی ہوسکے، روایات میں ہے کہ بعض مالدار اور کھڑ پینچ قسم کے لوگ آنحضرت ﷺ کی مجلس میں بیٹھ جاتے، تاکہ اس طرح وہ دوسروں پر اپنی بڑائی اور اپنا تقرب جتلا سکیں، اس سے آنحضرت ﷺ کو تکلیف الگ ہوتی، اور وقت کا ضیاع الگ، اور فقراء کا حق بھی الگ مارا جاتا، تو اس پر صدقہ دینے کا یہ حکم نازل ہوا جو کہ ایک ہنگامی نوعیت کا حکم تھا، سو اس ایسے لوگوں کا یہ ہجوم چھٹ گیا، اور پھر اس مقصد کے پورا ہوجانے کے بعد یہ حکم منسوخ فرما دیا گیا، اس ہنگامی حکم کے نزول کے بعد سب سے پہلے حضرت علی ؓ آپ ﷺ کی خدمت میں پوچھنے کے لیے ایک دینار صدقہ کرکے حاضر خدمت ہوئے، اور اس کے بعد یہ حکم منسوخ ہوگیا، اس لیے آپ ؓ فرمایا کرتے تھے کہ اس آیت کریمہ پر میں نے ہی عمل کیا، اور کسی اور کو اس کا موقع نہیں ملا، نہ اس پر مجھ سے پہلے کسی نے عمل کیا اور نہ میرے بعد کوئی عمل کرے گا، [ ابن کثیر، محاسن التاویل، خازن وغیرہ ] بہرکیف جیسا کہ ابھی اوپر بیان ہوا یہ ایک ہنگامی اور وقتی نوعیت کا حکم تھا جو غیر ضروری سرگوشیوں کو روکنے کیلئے نازل فرمایا گیا تھا، اور پھر اس کے کچھ ہی بعد اس کو منسوخ کردیا گیا، کہ اصل مقصد پورا ہوگیا تھا، سو یہ ایک ہنگامی حکم تھا۔
[ 41] اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم و ارشاد کی پابندی سراسر خیر و برکت :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ تم لوگوں کے لیے بڑا اچھا اور پاکیزہ طریقہ ہے کہ اس سے آنحضرت ﷺ کی تعظیم و تکریم اور آرام و راحت کے علاوہ آپ ﷺ کے وقت کی دولت بھی ضیاع کا شکار نہیں ہوگی، اور غریبوں کا حق بھی نہیں مارا جائے گا، نیز تمہارے دلوں سے بخل اور مال کی محبت کا ازالہ بھی ہوگا، اور محتاجوں کی امداد بھی، اور کھرے کھوٹے میں تمیز بھی ہوجائے گی، تو ظاہر ہے کہ جس حکم میں اتنے اتنے اور ایسے عظیم الشان فوائد و مصالح موجود ہوں، اس کے اچھا اور پاکیزہ ہونے میں کیا کلام ہوسکتا ہے ؟ سو اگر تم لوگ صدق و اخلاق اور نیک نیتی سے اس پر عمل کرو گے تو یہ تمہارے لیے دنیا و آخرت دنوں میں بھلائی کا ذریعہ اور تمہارے دلوں کو پاک کرنے کا وسیلہ ہوگا، سو اس میں یہ ارشاد بھی ہے کہ یہ حکم پیغمبر کے آرام و آسائش کے خیال سے ہی نہیں، بلکہ اصل میں یہ تمہارے صلاح و فلاح کیلئے دیا جا رہا ہے، بشرطیکہ تم صدق دل سے اس کی قدر کرو، بہرکیف اس سے یہ اصول ہدایت ملتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے حکم و ارشاد کی پابندی اور پاسداری انسان کیلئے سراسر خیر و برکت ہے۔ اللہ توفیق بخشے، اور ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر ثابت قدم رکھے، آمین ثم آمین یا رب العالمین،
[ 42] غیر مستطیع شخص کے لیے استثناء کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم اس کی گنجائش نہ پاؤ تو تم پر کوئی حرج نہیں، پس اس میں فقراء و مساکین کے لیے رعایت اور رخصت ہے، کہ ان کے لیے یہ تقدیم صدقہ ضروری نہیں، جب کہ بعد میں یہ پابندی سب سے اٹھالی گئی، سو یہ حکم ایک موقت اور ہنگامی نوعیت کا حکم تھا جس کو ایک خاص وقتی ضرورت کے لیے ارشاد فرمایا گیا تھا، پھر اس میں بھی اولاً فقراء سے فرمایا گیا کہ اگر تم اس کی گنجائش نہ پاؤ تو تم پر کوئی حرج نہیں، [ المراغی وغیرہ ] بیشک اللہ بڑا ہی بخشنے والا نہایت ہی مہربان ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو غیر مستطیع شخص تقدیم کے اس وقت اور ہنگامی حکم سے مستثنیٰ ہے کہ " لایکلف اللہ نفسا الا وسعھا " کے قاعدہء کلیہ اور ضابطہء عام کا تقاضا بھی یہی ہے یعنی یہ کہ کسی شخص پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔ والحمدللّٰہ جل وعلا۔ اللّٰہم زدنا ایمانًا بک ویقنًا، وحبًّا فیک وخشوعًا، وخذنا بنواصنا الی ما فیہ طاعتک ومرضاتک بکل حالٍ من الاحوال، وفی کل حین من الاحیان، بمحض منک وکرمک واحسانک، یاذالجلال والاکرام، ویادائم الفضل والاحسان،
Ayah 58:13[ 43] ہنگامی حکم کی منسوخی کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم لوگ ایسے نہیں کرسکتے اور اللہ تعالیٰ نے عنایت فرما دی تمہارے حال پر، تو تمہیں معاف کردیا گیا اور اس نے یہ پابندی تم سے اٹھادی، کیونکہ اس سے مخلص و منافق اور کھرے کھوٹے کے درمیان تمیز کا مقصد پورا ہوگیا تھا کہ یہ حکم بنیادی طور پر تھا ہی ایک وقتی مصلحت کیلئے، اور جب وہ پوری ہوگئی، اور وہ مقصد حاصل ہوگیا، تو اس کو اٹھا لیا گیا، سو اس طرح وہ وقتی اور ہنگامی حکم منسوخ فرما دیا گیا، البتہ اس میں اختلاف ہے کہ حکم کتنی دیر رہا، قتادہ (رح) کہتے ہیں کہ یہ حکم ایک دن سے بھی کم مدت تک رہا، پھر اس کو منسوخ کردیا گیا، اور مقاتل بن حیان (رح) کہتے ہیں کہ یہ دس دن تک رہا اور یہ اس حکم کی بقاء کی مدت کے بارے میں زیادہ سے زیادہ عرصے کا قول ہے، جو کہ اس روایت میں بیان کیا گیا ہے۔ بہرکیف یہ ایک وقتی حکم تھا۔ جو خاص ضرورت کیلئے ارشاد فرمایا گیا تھا، اور جب وہ خاص پوری ہوگئی تو اس کو منسوخ فرما دیا گیا کہ ہنگامی نوعیت کے احکام کا تقاضا یہی ہوتا ہے۔
[ 44] امور مصلحہ کی پابندی کا حکم و ارشاد :
سو ہنگامی حکم کی منسوخی کے اعلان کے ساتھ ساتھ نماز، زکوٰۃ اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا حکم و ارشاد فرمایا گیا۔ تاکہ اس طرح تم لوگ دارین کی سعادت و سرخروئی اور فوزوفلاح سے ہمکنار سرفراز ہو سکو، کہ یہ وہ بنیادی اور ابدی احکام ہیں، جو تمہاری سعادت و سرخروئی کے کفیل وضامن ہیں، نماز کی پابندی سے تمہارے اندر اپنے خالق ومالک کے حضور اخبات اور عاجزی کی وہ صفت پیدا ہوگی، جو کہ منبع اور سرچشمہ ہے آگے کئی طرح کی صفات خیر اور خصال حمیدہ کا، اور اس عظیم الشان عبادت کے ذریعے تمہارا تعلق اپنے خالق ومالک سے قائم و استوار ہوگا، جس میں خود تمہاری زندگی ہے اور زکوٰۃ کی ادائیگی سے تمہارے دل دنیا کی محبت سے پاک ہوں گے، مال و دولت میں برکت ہوگی، اور اس کے علاوہ ضرور مندوں کی تمہیں دلی دعائیں بھی ملیں گی، اور ان کی ہمدردیاں حاصل ہونگی، اور معاشرے میں امن و استقرار کا دور دورہ ہوگا، اور محبت و مودت اور الفت و قرابت کے سائے پھیلیں گے، جب کہ اللہ اور اس کے رسول کی سچی اطاعت و فرمانبردای ایسی شاہ کلید ہے جو ہر طرح کی خیرات و برکات کے دروازے کھولنے والی، عظیم الشان راہ ہے، کیونکہ یہ راہ انسان کو اس دنیا میں حیات طیبہ [ پاکیزہ زندگی ] کی سعادت سے بہرہ ور کرنے والی، اور آخرت کے اس ابدی جہاں میں جنت کی سدا بہار نعمتوں سے سرفراز کرنے والی واحد راہ ہے، سبحان اللّٰہ ! کیا کہنے اللہ پاک کی ان جامع تعلیمات اور ہمہ گیر عنایات کے " اللہم فخذنا بنواصینا الی وترضی من القول والعمل، بکل حال من الاحوال، یا ارحم الراحمین ویاکرم الاکرمین " بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اس ہنگامی حکم اگرچہ منسوخ کردیا گیا لیک نماز کی پابندی، زکوٰۃ کی ادائیگی اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت و فرمانبرداری بہرحال مطلوب و مقصود ہے کہ یہ ابدی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہیں۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وھو الھادی الیٰ سواء السبیل، جل جلالہ وعم نوالہ، فعلیہ نتوکل وبہ نستعین، بکل حال من الاحوال، وفی کل وحین من الاحیان،
[ 45] اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا حوالہ و ذکر :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ پوری طرح باخبر ہے، ان کاموں سے جو تم لوگ کرتے ہو۔ اسی کے مطابق وہ تم سے معاملہ فرمائے گا، پس تم ہمیشہ اپنے اعمال کو درست رکھنے کی فکر و کوشش کرو، ظاہر کے اعتبار سے بھی اور باطن کے لحاظ سے بھی، اللہ توفیق عطا فرمائے، آمین، سو اس حقیقت کو ہمیشہ اور ہر حال میں پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے، کہ اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں سے بہرحال پوری طرح باخبر ہے، سبحانہ وتعالیٰ ۔ اسلئے ہمیشہ اسی کی فکر و کوشش میں رہنا چاہیے کہ اس وحدٗ لاشریک سے ہمارا صحیح معاملہ اور درست رہے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وھو الھادی الیٰ سواء السبیل، فعلیہ نتوکل وبہ نستعین،
Ayah 58:14[ 46] منافقوں کے حال پر اظہار تعجب و افسوس :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم نے ان کو نہیں دیکھا یعنی منافقین کو جو دعوی تو ایمان کا کرتے ہیں اور دوستی اسلام کے دشمنوں سے رکھتے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو اس میں ان منافقوں کے حال پر اظہار تعجب ہے کہ یہ لوگ دعوی تو اسلام کا کرتے ہیں، اور دم ایمان کا بھرتے ہیں، مگر محبت ان لوگوں سے کرتے ہیں جو اسلام کے دشمن ہیں، بھلا یہ دونوں باتیں کس طرح جمع ہوسکتی ہیں ؟ کہ آدمی ایماندار بھی ہو اور اس کی دوستی دین و ایمان کے دشمنوں سے بھی ہو ؟
[ 47] دعوی ایمان کا اور دوستی اسلام کے دشمنوں سے ؟ والعیاذ باللّٰہ :
سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ یہ لوگ دعوی تو ایمان کا کرتے ہیں، اور دوستی " مغضوب علیہم " لوگوں سے رکھتے ہیں، یعنی یہود مدینہ سے جو ان منافقین کی پشت پناہی کرتے تھے، [ صفوۃ وغیرہ ] بھال یہ باتیں کس طرح جمع ہوسکتی ہیں ؟ سو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ لوگ اپنے دعویء ایمان میں سچے نہیں ہیں، بلکہ ان کا ایمان نفاق اور دھوکے کا ایمان ہے جس کی اللہ تعالیٰ کی یہاں کوئی قدرو قیمت نہیں۔ اس طرح خالی خولی اور زبانی کلامی ایمان کے دعوے سے یہ لوگ خود اپنے آپ کو ہی دھوکہ دے رہے ہیں، اور اس کے نتیجے میں یہ ایک بڑی ہولناک محرومی کا شکار ہو رہے ہیں، مگر ان کو اس کا احساس و شعور نہیں کو کہ خسارہ در خسارہ ہے، والعیاذ باللّٰہِ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { یخدعون اللّٰہ والذین اٰمنو ج وما یخدعون الا انفسہم وما یشعرون } [ البقرۃ : 9 پ 1] مگر حقیقت میں یہ خود اپنے آپ کو ہی دھوکہ دیتے ہیں مگر ان کو اس کا شعور و احساس نہیں، سو اللہ پاک اور سچے اہل ایمان کے ساتھ دھوکے کا معاملہ کرنا خساروں کا خسارہ ہے، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔
[ 48] منافق لوگ نہ ادھر کے نہ ادھر کے، والعیاذ باللّٰہ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ نہ تمہارے ہیں نہ ان کے ساتھ کہ زبانی دعوؤں کے اعتبار سے تو یہ تمہارے ساتھ ہیں، مگر دل ان کے ان کے ساتھ ملے ہوئے ہیں، پوری طرح یہ لوگ نہ تمہارے ساتھ ہیں، نہ ان کے ساتھ بلکہ اپنی دوغلی پالیسی کے اعتبار سے یہ دونوں کیساتھ اٹکے اور لٹکے ہوئے ہیں۔ { مدبذبین بین ذلک الا الی ھؤلاء ولا الی ھولائِ ط ومن یضلل اللّٰہ فلن تجد لہٗ سبیلا۔} [ النسائ : 143 پ 5] سو یہ لوگ تو اپنے اس دوغلے پن اور منافقانہ روئیے کو اپنی بڑی چالاکی اور ہوشیاری سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ ان کی بڑی حماقت اور اس کا ثبوت ہے کہ اس کی بناء پر ان کا اعتبار نہ ادھر ہے، نہ ادھر، اور اپنی اس منافقت کی بناء پر نہ گھر کے رہے اور نہ گھاٹ کے، اور اس طرح یہ بدبخت محرومی در محرومی کا شکار ہو رہے ہیں، مگر ان کو اس کا احساس و شعور تک نہیں جو کہ خسارہ در خسارہ ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین ویا ارحم الراحمین ویا اکرم الاکرمین،
[ 49] منافقوں کا شیوہ جھوٹی قسمیں کھانا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ جانتے بوجھتے جھوٹ پر قسمیں کھاتے ہیں، اور یہی ان کے نفاق کی علامت ہے، جیسا کہ صحیح حدیث میں نفاق اور منافقوں کی علامتوں کے بیان میں ارشاد فرمایا گیا " اذ حدث کذب " کہ منافق آدمی جب بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے، سو منافق چونکہ صداقت کی دولت اور اس کے اطمینان سے عاری اور محرم ہوتا ہے، اس لئے وہ بار بار قسمیں کھا کھا کر دوسروں کو یقین دلانے کی کوشش کرتا ہے، اس طرح منافق نفسیاتی طور پر خود ایک سخت قسم کے کرب و اضطراب میں مبتلا ہوتا ہے، اس لئے وہ قسمیں کھا کھا کر دوسروں کو یقین دلانے کی کوشش کرتا ہے کہ میں سچا ہوں جس طرح کہ بدعتی مشرک قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ ہم سنی ہیں، حالانکہ وہ طرح طرح کی شرکیات اور بدعات میں مبتلا ہوتے ہیں، سو اہل بدعت ایک بڑے گروہ کا یہ کہنا کہ جس طرح دیوبندی قسمیں کھا کر کہتے ہیں، ہم سنی ہیں، سو اس بدعتی اور مشرک ملا کا یہ کہنا خود اس پر اور اس کے چیلوں چانٹوں پر چسپاں ہوتا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ دیوبندی نہ تو ایسی قسمیں کھاتے ہیں اور نہ ہی ان کو اس کی کوئی ضرورت ہی ہے کہ وہ تو حق پر ہیں، اور صحیح معنوں میں سنت پر چلنے والے ہیں۔ اور حق والوں کو ایسی قسمیں کھانے کی بھلا کیا ضرورت ہوسکتی ہے ؟ اس کا انکار تو بدعتی لوگ کرتے ہیں، جو کام شرک و بدعت کا کرتے ہیں، لیکن دعوی توحید اور سنت اکا کرتے ہیں، اور اس طرح وہ خسارے پر خسارے کے مرتکب ہوتے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہر طرح کے زیغ و ضلال سے ہمیشہ اور ہر اعتبار سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے، آمین ثم آمین یا رب العالمین ویا ارحم الراحمین،
Ayah 58:15[ 50] منافقوں کیلئے سخت عذاب تیار۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ نے ان کیلئے تیار کر رکھا ہے بڑ اہی سخت عذاب۔ والعیاذ باللّٰہ، دنیاوی ذلت و محرومی کے ساتھ ساتھ آخرت میں ان کو دوزخ کے درک اسفل میں جلنا ہوگا، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو ایسے بدبخت لوگ تو یہ سمجھتے ہیں کہ یہ بہت ہوشیار اور چالاک ہیں، لیکن حقیقت میں یہ بڑے ہی احمق اور محروم لوگ ہیں، کہ دولت ایمان و یقین سے محروم ہو کر یہ ہلاکت و تباہی کی راہ پر گامزن ہیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ان کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا اور " الا " کے حرف تنبیہ کے ساتھ فرمایا گیا۔ { الا انھم ھم السفھائُولکن لا یعلمون } [ البقرہ : 13 پ 1] یعنی خبردار آگاہ ہو کہ یہی ہیں پرلے درجے کے بیوقوف لیکن یہ جانتے نہیں، سو یہ لوگ تو اپنے آپ کو بڑا ہوشیار اور چالاک سمجھتے ہیں، کہ ہم نے اپنی دانشمندی اور ہوشیاری سے مسلمانوں اور کافروں دونوں سے بنا رکھی ہے، اور اس طرح ہم دونوں طرف سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ جس راہ پر چل رہے ہیں وہ ہلاکت و تباہی اور دائمی خسارے اور ہولناک بربادی کی راہ ہے، جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ان کیلئے ایک انتہائی ہولناک اور سخت عذاب تیار کر رکھا ہے، جس سے انہوں نے آخر کار اور بہرحال دوچار ہو کر رہنا ہے مگر اس کا کوئی شعور اور احساس ہی نہیں، جو کہ خساروں کا خسارہ ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ اور ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر ہی چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین۔
[ 51] منافقوں کا رویہ بڑا ہی برا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ بڑے ہی برے ہیں وہ کام جو یہ لوگ کر رہے ہیں، یعنی منافقت پر اصرار اور طرح طرح کی وہ منافقانہ چالیں جو یہ لوگ چلتے ہیں، والعیاذ باللّٰہ، کہ اس کے نتیجے میں یہ لوگ اس عذاب شدید سے دوچار ہوں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے نفاق کی بناء پر ان کے لئے تیار کر رکھا ہے، اور اللہ اور اس کے رسول کے دشمنوں پر اس دنیا میں جو عذاب آئے گا، یہ اس میں بھی حصہ پائیں گے، اور آخرت میں ان کیلئے جو عذاب مزید تیار ہے وہ تو ہے ہی، والعیاذ باللّٰہ، اور اس طرح یہ بدبخت اس ہولناک اور شدید عذاب کی طرف بڑھ رہے ہیں جس سے بچنے کی پھر کوئی صورت ان کے لیے ممکن نہیں ہوگی، مگر ان کو اس کا کوئی احساس و شعور ہی نہیں جو کہ خسارہ بالائے خسارہ ہے، کہ جو مریض اپنے مرض کو بھی صحت سمجھتا ہو اور اس کو صحت آخر اور کیونکر کیسے نصیب ہوسکتی ہے ؟ والعیاذ باللّٰہ، اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین، ویا ارحم الراحمین، ویا اکرم الاکرمین، ویامن بیدہ ملکوت کل شیئٍ ،
Ayah 58:16[ 52] منافقوں کے اپنی قسموں کو ڈھال بنانے کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے کہ ان سے یہ لوگ اپنی جانوں کو بچانے کا سامان کرتے ہیں، ان کی جس غلطی پر بھی گرفت کی جائے، یہ اس کے بارے میں جھوٹی قسمیں کھا کر یقین دلانے کی کوشش کرتے ہیں، کہ نہیں، بلکہ ہم ٹھیک ہیں، اور اس طرح یہ لوگ اپنی دانست میں سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنے آپ کو بچانے میں کامیاب ہوگئے، مگر ان کو پتہ نہیں کہ اس طرح یہ لوگ اپنے نفاق کے جال کو اور پکار کرتے اور اس میں مزید از مزید الجھتے اور پھنستے جا رہے ہیں، اور دولت ایمان و یقین سے مزید از مزید اور محروم ہوتے جارہے ہیں جو کہ خساروں کا خسارہ اور محرومیوں کی محرومی ہے، والعیاذ باللّٰہ العظیم، بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ انہوں نے اپنی ان قسموں کی آڑ میں اپنے لیے جائے پناہ بنا رکھی ہے، تاکہ اس طرح یہ اپنے آپ کو دین کے مطالبات سے بچائے رکھیں، اور ان کو اس کا احساس و شعور نہیں کہ اس طرح یہ کتنی بڑی محرومی کا شکار ہو رہے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین، ویا ارحم الراحمین، ویا اکرم الاکرمین، یامن بیدہ ملکوت کل شیئٍ ،
[ 53] منافقوں کا کام راہ حق سے روکنا، والعیاذ باللّٰہ العظیم :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ روکتے ہیں اللہ کی راہ سے کہ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر لوگوں کو شکوک و شبہات وغیرہ کے ذریعے دین حق سے دور و نفور کرتے ہیں، والعیاذ باللّٰہ اور ایمان کا اظہار کرکے انہوں نے اللہ کی راہ میں جو قدم اٹھایا تھا اس کو انہوں نے روک لیا، اور یہ دوسروں کو بھی روکتے ہیں، اور اس سلسلے میں یہ جھوٹی قسموں کا سہارا لیتے ہیں، صد کا لفظ لازم اور متعدی دونوں معنوں میں آتا ہے، یعنی روکنا بھی اور رکنا بھی، اور قرآن حکیم میں یہ لفظ انہی دونوں معنی میں استعمال ہوا ہے، سو منافق لوگ راہ حق و ہدایت سے خود بھی رکتے تھے، اور دوسروں کو بھی روکتے تھے، اور اس طرح یہ بدبخت ضلال واضلال اور محروم ہونے اور محروم ہونے کے دونوں جرموں کے مرتکب ہوتے تھے، اور یہ ان کی بدبختی تھی کہ وہ ان دونوں ہی سنگین اور ہولناک جرموں کے مرتکب ہونے کے باوجود اپنے آپ کو ٹھیک سمجھتے تھے، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو یہ برائی کی ایک نقد سزا ہے، جو ایسے بدبختوں کو ملتی ہے، کہ یہلوگ اپنی برائی کو بھی اچھائی سمجھتے ہیں، اور اس طرح یہ برائی کو برائی سمجھنے کے احساس و شعور سے ہی محروم ہوجاتے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم من کل زیغ و ضلال، وسوئٍ انحراف، جل شانہ و عم نوالہ۔
[ 54] منافقوں کیلئے رسوا کن عذاب، والعیاذ باللّٰہ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کیلئے ایک بڑا ہی رسوا کن عذاب ہے کہ انہوں نے جھوٹی قسموں کے ذریعے اللہ رب العزت کے نام پاک کی توہین کی، اور اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں یہ حق سے دور اور محروم رہے، اس لیے ان کو اس رسواکن عذاب سے بدلہ دیا جائے گا کہ جزا جنس عمل کے مطابق ہوتی ہے، یہ لوگ تو اپنے آپ کو بڑا تیز اور ہوشیار سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ اس ہولناک انجام کی طرف بڑ رہے ہیں، سو کفر و نفاق محرومیوں کی محرومی اور عذاب م ہیں کا باعث۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین ،
Ayah 58:17[ 55] منکرین و منافقین کے ایک دھوکے اور مغالطے کا ازالہ :
سو منکرین و منافقین کو اپنے مالوں اور اولادوں کی بناء پر جو دھوکے لگے ہوئے ان کے ازالے کے لیے ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ کے مقابلے میں نہ تو ان کے مال ان کے کچھ کام آسکیں گے، اور نہ ہی ان کی اولادیں۔ جن کو بچانے اور محفوظ رکھنے کے لیے انہوں نے منافقت کو اپنایا، وقت آنے پر وہ ان کے کچھ بھی کام نہیں آسکیں گے، اور اللہ کے عذاب اور اس کی پکڑ سے ان کو کسی طرح چھڑا اور بچا نہیں سکیں گے، اور یہ مال ودولت سب کچھ یہیں رہ جائے گا، اور اپنا عقیدہ و عمل ہی ساتھ جائے گا، جبکہ اس مال و دولت کا مآل و انجام یہ ہوگا کہ اس سے فائدہ دوسرے اٹھائیں گے مگر وہاں کا حساب کتاب ان کے ذمے ہوگا، سو کس قدر خسارے اور دھوکے میں مبتلا ہیں، وہ لوگ، جو اپنی آخرت اور اس کے تقاضوں سے غافل و لاپرواہ ہو کر دنیا فانی کے خطام زائل کے جمع کرنے اور جوڑ جوڑ کر رکھنے میں لگے ہوئے ہیں، سو ایمان و یقین سے محروم لوگ کے مال و اولاد جن پر ان کو بڑا ناز ہے، دراصل ان کے پاؤں کی دو بیڑیاں ہیں جو ان کو اللہ کی راہ میں آگے نہیں بڑھنے دیتیں۔ مگر ان لوگوں کو اس کا کوئی احساس و شعور ہی نہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔
[ 56] منکرین و منافقین سب دوزخی۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ سب دوزخی ہیں، جہاں ان کو ہمیشہ کیلئے رہنا ہوگا، کہ اپنء زبانی کلامی دعوؤں کے باوجود حقیقت میں یہ لوگ کافر ہی ہیں، اور کفر کی سزا دائمی دوزخ ہے کہ ان کے دل ایمان باللہ کے نور اور اس کی حقیقت سے عاری اور محروم ہیں، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اور مالو دولت اور آل و اولاد کو انہوں نے جو سب کچھ سمجھ رکھا تھا، وہ اللہ کے عذاب سے چھڑانے میں ان کے کچھ بھی کام نہیں آسکے گا، سو منکرین و منافقین یعنی کھلے اور چھپے دونوں ہی قسم کے کافروں کا انجام یکساں ہوگا، یعنی دوزخ کی دہکتی بھڑکتی آگ کہ کفر و انکار اور تکذیب حق کے جرم میں یہ دونوں گروہ باہم شریک اور ایک برابر ہیں، والعیاذ باللّٰہ، سو جس مال و دولت کو ایسے لوگوں نے اپنا قبلہ مقصود بنا رکھا تھا اسی کے لیے یہ جیتے اور مرتے تھے، اور اسی کو یہ سب کچھ سمجھتے تھے، وہ ان کو اللہ کے عذاب سے بچانے میں کچھ بھی کام نہیں آئے گا، اور ان کو آخر کار دوزخ میں داخل ہونا ہوگا، جہاں ان کو ہمیشہ رہنا ہوگا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین ،
Ayah 58:18[ 57] جھوٹی قسموں کی لت کا برا نتیجہ، والعیاذ باللّٰہ :
سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ منافقوں کی جھوٹی قسموں کی لت جو ان کو دنیا میں پڑگئی تھی، وہ قیامت کے روز بھی ان سے جائیگی نہیں، بلکہ یہ وہاں پر اسی طرح کی جھوٹی قسمیں کھائیں گے، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ منافق لوگ قیامت کے روز اللہ کے سامنے بھی جھوٹی قسمیں کھائیں گے، سو یہاں کی پڑی ہوئی بری عادت ان سے وہاں بھی نہیں چھوٹے گی جیسا کہ ایک حدیث شریف میں فرمایا گیا ہے کہ جس طرح تم زندگی گزارو گے اسی طرح تمہیں موت آئے گی، اور جس حالت میں تمہیں موت آئے گی، اسی حالت میں تم دوبارہ اٹھائے جاؤ گے، بہرکیف یہاں پر ارشاد فرمایا گیا کہ اگر یہ لوگ اسی طرح مال اور اولاد کی محبت میں دین کے تقاضوں سے بھاگتے اور جان چھڑاتے رہے تو یہ اس دن کو یاد رکھیں کہ جس دن اللہ ان کو اور ان کی اولاد کو سب کو اٹھائے گا، اور اس دن بھی ان کے پاس جھوٹی قسموں کے سوا کوئی سہارا نہیں ہوگا، جس کا سہارا انہوں نے آج لے رکھا ہے، سو اس روز یہ اللہ کے سامنے بھی ایسے ہی قسمیں کھائیں گے، جس طرح کہ آج تمہارے سامنے کھاتے ہیں، جیسا کہ دوسرے مقام پر مشرکین کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ یہ اس دن قسمیں کھا کر اپنے شرک کا انکار کریں گے، { ثم لم تکن فتنتھم الا ان قالوا واللّٰہِ ربنا ما کنا مشرکین } [ الانعام : 23 پ 7] یعنی قسم ہے اللہ کی جو کہ ہمارا رب ہے، ہم مشرک نہیں تھے مگر ایسی قسموں کا وہاں کیا فائدہ ؟ والعیاذ باللّٰہ العظیم، من کل زیغ و ضلال وسواء وانحراف، جل وعلا۔
[ 58] منافقوں کے ایک گمان باطل کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ اپنے طور پر سمجھیں گے کہ یہ کس بنیاد پر ہیں، اور اس طرح کی جھوٹی قسموں سے ان کو کوئی فائدہ ہوگا، کہ جس طرح دنیا میں اپنی جھوٹی قسموں سے یہ دوسروں کو دھوکہ دے دیا کرتے تھے اسی طرح یہوہاں بھی کام چلالیں گے، مگر حضرت علام الغیوب جل وعلا کے سامنے اس طرح کی توقع رکھنے سے بڑھ کر حماقت اور کیا ہوگی ؟ والعیاذ باللّٰہ، بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ یہ لوگ جس طرح آج یہاں پر یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ یہ جھوٹی قسمیں کھا کر اپنا کام چلا لیتے ہیں، اسی طرح یہ وہاں پر بھی ایسے ہی کام چلالیں گے، اور جس طرح انہوں نے اپنی جھوٹی قسموں سے آج بہتوں کو فریب دے رکھا ہے، اسی طرح وہاں بھی انکا فریب چل جائے گا، مگر ان کا ایسا فریب وہاں کیونکر چل سکے گا جبکہ وہاں ان کے مونہوں پر مہر لگا دی جائے گی، اور ان کے ہاتھ پاؤں اور ان کی کھالیں اور ان کے دوسرے اعضاء وجوارح بھی ان کے جرائم کی خود گواہ دیں گے، سو کشف حقائق اور ظہور نتائج کے اس جہان غیب میں ان کو ایسی قسموں سے کوئی فائدہ بہرحال نہیں پہنچ سکے گا، تب ان کی آنکھیں کھل جائیں گی، اور ان کو سب کچھ پوری طرح معلوم ہوجائے گا مگر اس وقت کا وہ جاننا ماننا سب بےسود و لاحاصل، والعیاذ باللّٰہ۔
[ 59] منافق لوگ پرلے درجے کے جھوٹے، والعیاذ باللّٰہ العظیم :
سو ارشاد فرمایا گیا اور " الا " کے حرف تنبیہ کے ساتھ اور ان تاکید یہ اور جملہ اسمیہ کی تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ پرلے درجے کے جھوٹے ہیں، کہ جھوٹ کی یہ لت ان سے آخرت میں بھی نہیں چھوٹے گی، والعیاذ باللّٰہ، سو اگر کسی نے غلط فہمی سے ان کو سچا گمان کر رکھا ہے تو وہ اس گمان کو اپنے ذہن سے نکال دے، اور جان لے کہ یہ لوگ پرلے درجے کے جھوٹے ہیں، جنہوں نے ادنیا میں اپنے جھوٹ سے لوگوں کو مغالطہ دے رکھا ہے یہ آخرت میں اپنی ان جھوٹی قسموں کے ذریعے اپنے آپ کو دھوکہ دینے کی جسارت کریں گے، سو یہ لوگ وہاں بھی اپنی بریت کیلئے اس طرح کی قسمیں کھائیں گے، جس طرح مشرکین اپنی قسموں کے ذریعے اپنے شرک سے بریت کی کوشش کریں گے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا کہ وہ اللہ کے نام کی قسمیں کھا کر کہیں گے کہ وہ مشرک نہیں تھے [ الانعام : 23] والعیاذ باللّٰہ جل وعلا۔ بہرکیف یہاں ہر اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ یہ لوگ پرلے درجے کے جھوٹے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم، من کل زیغ و ضلال۔
Ayah 58:19[ 60] شیطان کا گروہ قطعی طور پر خسارے والا گروہ ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم :
سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تنبیہ و تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ شیطان کا گروہ ہیں اور آگاہ رہو کہ شیطان کا گرہ ہی خسارے والا ہے، کہ وہ حق سے محروم اور حق کا دشمن گروہ ہے، اور انہوں نے فرصت عمر تو اپنی بدنیتی کی وجہ سے حق سے محرومی میں گزاری، اور اس کے نتیجے میں اب آخرت میں یہ لوگ دائمی نعمتوں سے محروم ہو کر ہمیشہ کے عذاب کا ایندھن بن گئے ہیں، سو اس سے بڑھ کر محرومی اور خسران اور کیا ہوسکتا ہے ؟ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ پس دنیا میں اگرچہ اللہ تعالیٰ کے قانون امہال کے مطابق ایسے لوگوں کو ایک وقت تک ڈھیل ملتی ہے۔ لیکن اصل حقیقت بہرحال یہی ہے کہ یہ سب شیطان کی پارٹی کے لوگ ہیں، اور شیطان کی پارٹی ہی سب سے زیادہ ذلیل و خوار اور ہولناک خسارے والی پارٹی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین، ویا اکرم الاکرمین، اللّٰہم زدنا ایمانًا بک ویقنًا، وحبًّا فیک وخشوعًا، وخذنا بنواصنا الی ما فیہ طاعتک ومرضاتک بکل حالٍ من الاحوال، وفی کل حین من الاحیان، بمحض منک وکرمک واحسانک، یاذالجلال والاکرام، ویادائم الفضل والاحسان،
Ayah 58:20[ 61] شیطان کی پارٹی کے کام کی نشاندہی، والعیاذ باللّٰہ :
سو اس ارشاد سے واضح فرمادیا گیا کہ شیطان کی پارٹی کا اصل کام اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت اور ان کے مقابلے میں محاذ آرائی ہے، اور اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والے سب سے زیادہ ذلیل لوگ ہیں، کہ عزت تو اللہ اور اس کے رسول ہی کیلئے ہے، پس جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرے گا، اور اس کے اوامرو نواہی کی خلاف ورزی کرے گا، تو اس نے لازماً ذلیل و خوار ہی ہونا ہے، والعیاذ باللّٰہ اور شیطان کی پارٹی کا تو کام ہی اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت اور ان کے خلاف محاذ آرائی کرنا ہے، اس لیے انہوں نے آخر کار بہرحال ان ذلیل ترین لوگوں میں شامل ہو کر رہنا ہے جو ان سے پہلے اس جرم کا ارتکاب کرچکے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین
Ayah 58:21[ 62] غلبہ یقینا اللہ اور اس کے رسولوں ہی کیلئے ہے :
کہ غلبہ تو بہرحال حق ہی کیلئے ہے اور حق وہی ہے جو اللہ تعالیٰ فرمائے اور اسکا رسول بتائے، اور ظاہر اور سیاسی اعتبار سے بھی غلبہ حق ہی کا ہوتا ہے، جب کہ اس کیلئے کوشش صحیح طریقے سے کی جائے، اور اللہ پاک کی تائید و نصرت شامل حال رہے، بہرکیف اس ارشاد سے اس دستور الٰہی اور سنت خداوندی کو واضح فرما دیا گیا جو ازل سے اس نے طے کر رکھی ہے، کہ معرکہ حق و باطل میں انجام کار غلبہ اللہ اور اس کے رسولوں ہی کو حاصل ہوگا، شیطان کی پارٹی بہرحال ذلیل و خوار ہوگی، اور اس دستور خداوندی اور سنت الٰہی کے مطابق اللہ تعالیٰ کے جو بھی رسول اس دنیا میں تشریف لائے، وہ جس قوم کے اندر بھی مبعوث ہوئے اللہ تعالیٰ کی عدالت بن کر مبعوث ہوئے، ان کی بعثت و تشریف آوری کے بعد اس قوم کا فیصلہ لازماً ہوگیا، سو اگر اس قوم نے بحیثیت مجموعی اللہ کے رسول کی تکذیب کردی تو اس قوم کے اندر سے رسول اور اس ایمان لانے افراد کو الگ کرکے باقی قوم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے کسی نہ کسی عذاب سے فنا کردیا اور اگر اس قوم کے اندر ایمان لانے والوں کی تعداد معتدبہ رہی تو اتمام حجت کے بعد اہل ایمان کو ان کے خلاف تلوار اٹھانے اور جہاد کرنے کا حکم دیا گیا تاکہ اس طرح وہ اہل حق کے خلاف ان کا زور توڑ دیں اور ان کے فتنہ سے اللہ تعالیٰ کی زمین پاک ہوجائے۔ اور غلبہ نور حق ہی کا ہو، اور کفر و باطل کے اندھیرے چھٹ جائیں۔ وباللّٰہ التوفیق
[ 63] اللہ تعالیٰ کی عظمت شان کے ایک پہلو کا ذکر وبیان :
سو اللہ تعالیٰ کی عظمت شان کے سلسلے میں اس کی صفت قوت و عزت کا حوالہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ بڑا ہی قوت والا نہایت ہی زبردست ہے، پس جو اللہ کا ہوگیا، اور دل و جان سے اس کا بن گیا، وہ حقیقی قوت اور سچی عزت سے سرشار ومالا مال ہوگیا، نیز جو اسکا باغی و سرکش ہوگیا، وہ اس قوی و عزیز کی گرفت و پکڑ سے کبھی اور کسی بھی طرح بچ نہیں سکتا، والعیاذ باللّٰہ العظیم، الا، یہ کہ بغاوت و سرکشی کی اپنی اس روش کو ترک کرکے اسی خالق ومالک کے حضور صدق دل سے سجدہ ریز ہوجائے، سو اس ارشاد سے اوپر کے اس دعوے کی دلیل بیان فرمائی گئی کہ کیوں اللہ اور اس کے رسولوں ہی کیلئے غلبہ لازم اور یقینی ہے، سو فرمایا گیا کہ اللہ کوئی کمزور ہستی نہیں ہے وہ بڑا ہی قوی و عزیز ہے، اور اس کے رسول اس کے سفیر ہوتے ہیں جو لوگوں کو ان کے خالق ومالک اور اس بادشاہ حقیقی کے احکام سے آگاہ کرتے ہیں، سو جو لوگ اپنے خالق ومالک حقیقی کے احکام کی بجاآوری کیلئے صدق دل سے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں، اللہ ان کو زمین میں اقتدار بخشتا ہے، اور ان کو اپنے افضال و عنایات سے نوازتا ہے، اور اس کی مخالفت کرنے والے باغی قرار پاتے ہیں، جن کو بالآخر مٹا دیا جاتا ہے، ان کو ڈھیل جتنی بھی ملے آخر کار انہوں نے مٹ کر ہی رہنا ہوتا ہے، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین
Ayah 58:22[ 64] ایمان و کفر کی دوستی کبھی یکجا نہیں ہوسکتی :
سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ ایمان والے خدا کے دشمنوں سے کبھی دوستی نہیں کر رکھ سکتے، پس جہاں کہیں مسلمانوں کو ظاہری طور پر ایسے لوگوں سے میل جول رکھنا پڑے وہ الگ چیز ہے، لیکن باطن کا تعلق اور دلوں کی محبت خدا و رسول کے دشمنوں، باغیوں اور سرکشوں اور ملحدوں منکروں سے ایک مومن صادق کے لیے ممکن ہی نہیں، پس جو شخص ایک محبوب سے بھی دوستی رکھے اور اس کے دشمن سے محبت بھی رکھے وہ اپنے دعوی ایمان میں یقینا جھوٹا ہے، سو اس ارشاد سے منافقین کے سامنے حق اور باطل کے درمیان کے پرکھ اور تمیز کیلئے ایک واضح کسوٹی رکھ دی گئی، بہرکیف اس سے یہ اہم اور بنیادی حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ ایمان اور کفر کی دوستی یکجا نہیں ہوسکتی کہ یہ اجتماع ضدین ہے جو عقلاً محال ہے، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔
[ 65] ایمان کا رشتہ سب رشتوں سے اعلیٰ وبالا :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایمان والوں کی دوستی اللہ اور اس کے رسول کے دشمنوں سے نہیں ہوسکتی اگرچہ وہ ان کے باپ بیٹے وغیرہ قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں، کیونکہ باپ کا حکم ماننا اگرچہ ضروری ہوتا ہے، بیٹوں کے ساتھ قلبی لگاؤ اگرچہ سب سے زیادہ ہوتا ہے، بھائی اگرچہ دست و باز ہوتے ہیں، اور کینہ قبیلہ اگرچہ انسان کا عموما ڈھارس بنتا ہے، مگر اس سب کے باوجود دولت ایمان کے مقابلے میں یہ سب رشتے ہیچ ہیں اس لیے ایک مومن مخلص ایمان کے مقابلے میں ان کو کسی بھی قیمت پر خاطر میں نہیں لاسکتا، جیسا کہ حضرات صحابہء کرام ؓ نے اس ضمن میں قائم کیں سنہری اور تابناک مثالیں پیش فرمائیں، چناچہ بدر میں حضرات صحابہ اکرام ؓ تعالیٰعنہم نے عملی طور پر اس کی ایسی عظیم الشان اور نادر مثالیں قائم فرمائیں کہ چشم فلک نے ان کی کوئی نظیر و مثال نہ اس سے پہلے کبھی دیکھی ہوگی، اور نہ ہی آئندہ قیامت تک کبھی دیکھ سکے گی۔ چناچہ سیدنا ابو عبیدہ ؓ نے اپنے باپ عبد اللہ بن جراح کو قتل کیا، اور سیدنا حضرت مصعب بن عمیر ؓ نے اپنے بھائی عزیز بن عمیر کو قتل کیا، سیدنا عمر فاروق ؓ نے اپنے ماموں عاص بن ہشام بن مغیرہ کو قتل کیا، سیدنا ابوبکر صدیق ؓ نے اپنے بیٹے عبد الرحمن سے لڑنے کیلئے آمادہ ہوگئے، سیدنا امیر حمزہ ؓ اور سیدنا عبیدہ بن حارث ؓ نے عتبہ و شبیبہ اور ولید بن عتبہ کو قتل کیا، جو ان کے قریبی رشتہ دار تھے، اور سیدنا عمر ؓ نے اسیران بدر کے بارے میں آنحضرت ﷺ سے یہ عرض کیا کہ ان کو قتل کردیا جائے، اور ہم میں سے ہر ایک اپنے رشتہ کو قتل کرے اور رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی سلول کے بیٹے حضرت عبد اللہ ؓ نے جو کہ ایک مخلص مسلمان تھے آنحضرت ﷺ سے اپنے باپ کا سرکاٹ کر لانے کی اجازت چاہی، مگر حضور ﷺ کے انکار فرمانے پر وہ اس سے رک گئے " فرضی اللّٰہ تعالیٰ عنھم وارضاھم " سو دین و ایمان کا رشہ سب رشتوں پر فائق اور سب سے اعلیٰ وبالا رشتہ ہے، باقی سب رشتے اس کے بعد ہیں۔ والحمدللہ رب العالمین الذی بمنہ وکرمہ تتم الصالحات جل جلاہ وعم نوالہ، وصلی اللّٰہ تعالیٰ علی نبیک وصفیک وخلیلک وحبیبک سیدنا محمد وعلی الہ الطیبین واصحابہ الطاھرین۔
[ 66] حضرات صحابہ کرام ؓ کا ایمان سچا اور پکا :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے نقش فرما دیا ایمان کو۔ ان کے صدق و اخلاق کی بناء پر، اور نفش میں جب عام نقش بھی اپنے منقوش سے الگ نہیں ہوتا، تو پھر اس نقش کے کہنے ہی کیا جو اللہ پاک اپنے ایسے پاک طینت اور مخلص بندوں کے دلوں پر فرما دے۔ " اللہم فاکتب الایمان فی قلوبنا "۔ سو جو لوگ اس کسوٹی پر اپنے آپ کو پرکھنے پر کھوانے کیلئے تیار ہوں، درحقیقت وہی لوگ ہیں، جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان ثبت اور نقش فرما دیا، اپنے فضل و کرم سے ان کے صدق و اخلاق کی بناء پر اور ان کو اس اہب مطلق نے اپنی طرف سے ایک خاص فیضان روحانی سے نواز دیا کہ اس کی شان ہی نوازنا اور کرم فرمانا ہے، اور لگاتار نوازنا اور کرم فرمانا ہے، سبحانہ وتعالیٰ ، وہ لوگ جو زبانی کلامی طور پر دعوی تو ایمان کا کرتے ہیں لیکن وہ ساز باز اللہ اور اس کے رسول کے دشمنوں سے رکھتے ہیں، تو ایسے لوگ محض زبان کے مسلمان ہیں ان کے دل لذت ایمان سے آشنا نہیں ہوئے، سو اس ارشاد سے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ حضرات صحابہء کرام ؓ سچے پکے مومن تھے، اور ان کا ایمان ان کے دلوں میں نقش تھا اور جب اللہ فرماتا ہے اور صاف اور صریح طور پر فرماتا ہے کہ اس نے ان کے دلوں میں ایمان کو لکھ دیا، تو پھر اللہ کے لکھے کو کون مٹا سکتا ہے ؟ پس جو بدبخت حضرات صحابہٗ کرام ؓ کے ایمان کا انکار کرے یا اس میں کسی طرح کا شک کرے تو وہ ایسی آیات کریمہ کے انکار کی بناء پر خود کافر قرار پائے گا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔
[ 67] حضرات صحابہء کرام ؓ کیلئے تائید خداوندی کے انعام کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ نے ان کی تائید فرما دی اپنی طرف سے ایک روح کے ذریعے، یعنی ایک ایسے نور سے جس سے تمانیت قلب اور ثبات علی الحق کی دولت نصیب ہوتی ہے، اور اس کو روح کے لفظ سے تعبیر فرمایا گیا ہے کیونکہ اس سے ان کی روحوں کو زندگی ملتی ہے۔ [ کبیر، صفوۃ وغیرہ ] سو اس ارشاد سے اس حقیقت کی طرف اشارہ فرما دیا گیا ہے کہ اپنے باپ، بیٹوں، بھائیوں اور کنبہ قبیلہ کے روابط دل کے رگ ریشے میں رچے بسے ہوتے ہیں، ان کو کاٹ دینا کوئی آسان کام نہیں ہوتا، لیکن جو لوگ ایمان کی غیرت و حرمت اپنے اندر رکھتے ہیں، ان کو اس طرح کی کوئی آزمائش پیش آتی ہے، تو اللہ تعالیٰ اپنے خاص فضل و کرم سے ان کو اپنے خاص فیض روحانی سے قوت بہم پہنچاتا ہے جس کے نتیجے میں وہ ایسی آزمائشوں سے سرخرو کر نکلتے ہیں، جس کے نمونے حضرات صحابہ کرام نے اپنے عمل و کردار سے ایسے ہر موقع پر دکھائے ہیں جیسا کہ ابھی اوپر حاشیہ نمبر 65 میں بھی گزرا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی محبت اور پیروی سرشار رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین ،
[ 68] مومنین صادقین کیلئے خاص انعامات کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ ان کو داخل فرمائے گا ایسی عظیم الشان جنتوں میں جن کے نیچے سے بہہ رہی ہوں گی طرح طرح کی عظیم الشان نہریں، اللہ ان سے راضی ہوا، اور یہ اللہ سے راضی ہوگئے، پس جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے اپنے اقارب کو ناراض کیا تو اس کے بدلے میں اللہ پاک نے ان کو اپنی رضا کے شرف عظیم سے نواز دیا، اور ان کو ایسی نعمتوں سے سرفراز فرما دیا، کہ وہ ان سے راضی ہوگیا، اور یہ اس سے راضی ہوگئے، اور یہی ہے سب سے بڑی کامیابی، کہ رب راضی ہوجائے۔ " ورضوان من اللّٰہ اکبرا " یعنی اللہ تعالیٰ کی رضا سب سے بڑی نعمت ہے، اللہ نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین۔ سو اس ارشاد میں ان انعامات کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ جن سے مومنین صادقین کو ان کے ایمان و یقین صدق و صفا اور اخلاص کی بناء پر نوازا جائے گا، جن میں سب سے بڑا انعام رضائے خداوندی کا انعام ہے سو یہ خوش نصیب دنیا میں اپنے رب کے جن وعدوں ؟ پر جیے وہ سب وہاں پورے ہوگئے، اور ان کے قیاس و گمان سے بھی کہیں بڑھ کر اعلیٰ و افضل درجے اور عمدہ شکل میں پورے ہوگئے، اس لئے وہ جس خوشی و مسرت سے سرفراز و سرشار ہوں گے، اس کا اندازہ کرنا بھی کسی کے بس میں نہیں ہوسکتا، اللہ پاک نصیب فرمائے اور محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین،
[ 69] حضرات صحابہ ؓ کیلئے فوزوفلاح کا مژدہ جانفزا :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ اللہ کی جماعت ہیں اور آگاہ رہو کہ اللہ کی جماعت ہی فلاح پانے والی ہے کہ یہ دنیا میں بھی پاکیزہ زندگی سے سرفراز ہوئے، اور آخرت میں بھی ان کو جنت کی دائمی اور سدا بہار نعمتیں نصیب ہوئیں، اور حرف تاکید و تنبیہ کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ فوزوفلاح انہی کو نصیب ہوگی، جبکہ ان کے مقابل یعنی حزب الشیطان قطعی طور پر نامراد اور بہر صورت خسارے میں ہے، والعیاذ باللہ العظیم، سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ وہ خوش نصیب لوگ ہیں جن کو اللہ کی جماعت [ حزب اللہ ] میں سے ہونے کا شرف حاصل ہے، اور یہی لوگ ہوں گے فلاح پانے والے، جبکہ اوپر شیطان کی پارٹی [ حزب الشیطان ] کا ذکر فرمایا گیا تھا، اور " الا " کے حرف تنبیہ کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا تھا کہ یہی لوگ ہیں خسارے والے اور اس کے مقابلے میں اب اس سورة کریمہ کے خاتمے پر اسی طرح کے حرف تنبیہ " الا " کے ساتھ ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ حزب اللہ [ اللہ کی جماعت ] ہی فلاح پانے والی ہے، سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ دنیا خواہ کچھ بھی کہتی اور سمجھتی ہو لیکن حق اور حقیقت بہرحال یہی ہے، جو قرآن حکیم میں اپنے بیان حق ترجمان سے واضح فرمادی کہ حقیقی کامیابی اور فوزوفلاح حزب اللہ یعنی اللہ کی جماعت کا ہی مقدر ہے، اور حزب الشیطان یعنی شیطان کی پارٹی ہی ناکام و نامراد ہے، پس انسان کو ہمیشہ اللہ والا بننے کی فکر و کوشش میں لگے رہنا چاہیے، وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ وھو العزیز الوھاب، والھادی الی سواء الصراط، جل جلالہ، وعم نوالہ، وبھذا القدر نکتفی من التفسیر لسورۃ المجادلۃ، والحمد للّٰہ رب العالمین الذی شرفنی بتفسیر کتابہ العزیز الکریم، یاذالجلال والاکرام، جل وعلا۔