52. Surah At-Tur

الطورThe Mount · 49 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayahs 52:28–29

اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلُ نَدْعُوْهُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْبَرُّ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 52:28 in the Quran reader

ہم اس سے پہلے صرف اسی کو پکارا کرتے تھے بلاشبہ وہی ہے بڑا احسان کرنے والا انتہائی مہربان

فَذَكِّرْ فَمَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَتِ رَبِّكَ بِكَاهِنٍ وَّ لَا مَجْنُوْنٍؕ Open ayah 52:29 in the Quran reader

پس آپ نصیحت کرتے رہیے کہ آپ اپنے رب کی مہربانی سے نہ تو کاہن ہیں نہ مجنون

[ 35] عقیدہ توحید صلاح و فلاح دارین کی اصل اصیل : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ انسان کی نجات میں اصل عامل کی حیثیت عقیدہ توحید ہی کی ہے۔ چناچہ اہل جنت اپنی فائز المرامی کے بارے میں اور اس سے سرفرازی کے اسباب کے ذکر کے سلسلے میں کہیں گے کہ بلاشبہ اس سے پہلے یعنی دنیا میں ہم لوگ اسی وحدہٗ لاشریک کو پکارا کرتے تھے، اور امید وہم اور خوف و درجاء کی ہر حالت میں ہم اسی کی طرف رجوع کیا کرتے تھے اور اس کے سوا اور کسی کو نہ ہم نے کبھی اس کا شریک وسہیم جانا اور نہ اس کے سوا اور کسی کو ہم نے کبھی پوجا پکارا۔ یعنی ہم عقیدہ توحید اور اس کی حقیقت سے آگاہ، سرفراز، اور اس کئی لذت و حلاوت سے سرشار تھے، اور ہمیشہ اور ہاحال میں اسی وحدہٗ لاشریک کو پکارا کرتے تھے۔ سو اللہ پاک کو پکارانا اور ہر حال اور ہر مقام میں پکارنا اور اسی وحدہ لاشریک کی عبادت و بندگی بجالانا وہ شاہ کلید ہے جو دارین کئی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کی کفیل وضامن ہے، پس اس میں بڑا درس عبرت و بصیرت ہے ان کلمہ گو مشرکوں کے لئے جو اللہ پاک کو چھوڑ کر اس کی عاجز مخلوق کو پکارتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے " یا علی مدد " کوئی " یا پیر دستگیر " کا نعرہ لگاتا ہے۔ کوئی کہتا ہے " یا بہاؤ الحق میرا بیڑا دھک " اور کوئی کہتا ہے " یا معین الدین چشتی اجمیری پار لگادے کشتی میری " وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ یہ سب پاکیزہ ہستیاں جو موت کی گہری نیند سو چکی ہیں خود زندگی بھر اللہ وحدہ ٗ لاشریک ہی کو پکارتی اور اسی کو پکارنے کا درس دیتی رہی تھیں۔ مگر اس سب کے باوجود ایسے لوگ انہی ہستیوں کے نام سے شرک کرنے لگ گئے اور حاجت روائی ومشکل کشائی کے لئے انہی کو بلانا پکارنا شروع کردیا حالانکہ قرآن حکیم ان کے بارے میں صاف وصریح طور پر کہتا ہے۔ { وھم عن دعائھم غافلون }۔ " کہ وہ ان کی دعا و پکار سے بالکل غافل و بیخبر ہیں "۔ مگر اس کے باوجود ایسے لوگوں کو یا اللہ مدد کہنے کی توفیق نصیب نہیں ہوتی، بہرکیف اس ارشاد سے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح اور آشکار فرما دیا گیا کہ انسان کی نجات میں اصل عامل کی حیثیت عقیدہ توحید ہی کو حاصل ہے، اس لئے اہل جنت اپنے اس کلام کے آخر میں اس کا بطور خاص ذکر کریں گے کہ ہم نے ہمیشہ اللہ ہی کو پکارا اور امید و بیم کے ہر حال میں اسی پر بھروسہ کیا، اور اپنے اس عقیدے پر ہم لوگ زندگی بھر مستحکم و مستقیم رہے۔ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ہم پر یہ احسان فرمایا۔ سبحانہ وتعالیٰ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید۔ [ 36] اہل جنت کا انتہاء درجے کا اظہار ممنونیت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ کہیں گے بلاشبہ وہی ہے سب سے بڑا احسان فرمانے والا، انتہائی مہربان۔ کہ اسی نے محض اپنے فضل و کرم سے ہمیں یہ راہ حق و صواب نصیب فرمائی، اور اس پر استقامت بخشی، ورنہ ہم از خود اس شرف سے مشرف ہونے والے نہ تھے۔ { وما کنا لنھتدی لو لا ان ھدانا اللّٰہ }۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اس لئے ہم زندگی میں صرف اسی کی عبادت کرتے، اور اسی وحدہٗ لاشریک کو پکارا کرتے تھے، سو اس طرح وہاں پر احوال دنیا کو یاد کرکے جنت والوں کا سرور دوبالا ہوگا اور ان کی لذت میں اضافہ ہوگا، اور کافر کے افسوس اور یاس و حسرت میں، [ المراغی وغیرہ ] والعیاذ باللہ العزیز سو اہل جنت اللہ پاک کے عظیم الشان اور بےپایاں احسان کو یاد کرکے یہ جملہ حددرجہ ممنونیت اور احسان مندی کے اظہار کے طور پر کہیں گے کہ وہ بڑا ہی کرم و احسان فرمانے والا انتہائی مہربان ہے۔ اس نے نہ صرف یہ کہ ہم سے اپنے وہ تمام وعدے پورے فرمائے جو اس نے اپنے بندوں سے فرمائے تھے بلکہ اس نے ان کو اپنے کرم مزید سے بھی نوازا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ حضرات اہل علم کا کہنا ہے کہ لفظ " بر " جب اللہ تعالیٰ کی صفت کے طور پر آتا ہے تو اس وقت اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کے اپنے بندوں کے ساتھ جو وعدے فرمائے ہیں وہ ان کو پورا کرنے والا ہے سو صدق و وفا اس لفظ کی اصل روح ہے اور اس کے ساتھ صفت رحیم کا اضافہ اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ صرف وعدے ہی پورے کرنے والا نہیں، بلکہ وہ اپنے بندوں کی کوتاہیوں سے درگزر کرکے ان کو اپنے مزید افضال و انعامات سے نوازنے والا بھی ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ کیونکہ وہ رحیم یعنی انتہائی مہربان بھی ہے۔ اللہ ہمیشہ اپنی خاص رحمتوں اور عنایتوں کے سائے میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین،
Ayah 52:30

اَمْ یَقُوْلُوْنَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِهٖ رَیْبَ الْمَنُوْنِ Open ayah 52:30 in the Quran reader

کیا یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ یہ ایک شاعر ہے جس کے بارے میں ہم انتظار کرتے ہیں گردش ایام (کے چکر) کا

[ 38] منکرین و مکذبین کی محرومی اور امت ماری کا ایک نمونہ و مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم ان کے بارے میں منتظر ہیں حادثہ موت کے۔ " منونِ " کے معنی دہر یعنی زمانہ کے آتے ہیں۔ اور " ریب " کے معنی حوادث و آفات کے، اسی طرح " منون " کے معنی موت کے بھی آتے ہیں، کیونکہ یہ لفظ دراصل من سے مشتق ہے جس کے اصل معنی زمانے میں بھی پائے جاتے ہیں سو پیغمبر کے بارے میں ان بدبختوں کا کہنا تھا کہ یہ چونکہ ایک شاعر ہیں جو ختم ہوجائیں گے، جس طرح کہ زبیر اعشی اور نابغہ وغیرہ دوسرے بڑے بڑے شعراء ختم ہو کر مٹ مٹا گئے ہیں۔ پس تم لوگ ان کے بارے میں تھوڑا صبر سے کام لو ان کا معاملہ بھی یونہی تمام ہوجائے گا، بعض روایات میں وارد ہے کہ کفار قریش ایک مرتبہ اپنے پارلیمنٹ ہاؤس [ دارالندوۃ ] میں جمع ہوئے کہ محمد ﷺ کی اس دعوت حق کا مقابلہ کس طرح کیا جائے جو پھیلتی ہی جا رہی ہے، اور اس کا حلقہ اثر بڑھتا ہی جا رہا ہے، تو بنی عبد الدار میں سے ایک شخص نے یہی بات کہی جس پر ان سب نے اتفاق کیا تو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی، [ تفسیر المراغی، وغیرہ ] بہرکیف ان لوگوں کا اپنے پیروؤں سے ان کو ان کے کفر و باطل پر پکارکھنے کے لئے کہنا یہ تھا کہ قرآن کے سننے سے دلوں پر جو اثر ہوتا ہے وہ اس لئے نہیں ہوتا کہ یہ کوئی خدائی کلام ہے، نہیں بلکہ یہ تو لفظوں کی جادوگری اور شاعروں کی شاعری کی طرح تاثیر ہے، جو ان صاحب کی موت کے بعد آپ سے آپ ختم ہوجائے گی، جس طرح ماضی کے دوسرے بہت سے شعراء کا حال ہوچکا ہے، لہٰذا نہ تو اس سے اندیشہ عذاب میں مبتلا ہونے کی ضرورت ہے اور نہ اپنے آبائی دین سے مایوس ہونے اور اس میں شک کرنے کی، پس تم لوگ ان کے حادثہ موت تک انتظار کرلو اور بس۔ اس کے بعد اس دعوت کا خود خاتمہ ہوجائے گا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو الھادی الیٰ سواء السبیل، فعلیہ نتوکل وبہ نستعین، فی کل ان وحین، وھو نعم المولیٰ ونعم النصیر، الذی بیدہ ازمۃ کل خیر وسعادہ، فانہ ھو الذی لاتتم الصالحات الا بتوفیق منہ،
Ayah 52:31

قُلْ تَرَبَّصُوْا فَاِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُتَرَبِّصِیْنَؕ Open ayah 52:31 in the Quran reader

(سو ان سے) کہو کہ اچھا تو تم انتظار کرتے رہو میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں

[ 39] منکرین و مکذبین کے الزام و اعتراض کا جواب : سو پیغمبر کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ اچھا تم لوگ انتظار کرلو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔ وقت آنے پر تمہیں خود معلوم ہوجائے گا اور یہ حقیقت سب کے سامنے آشکار اور واضح ہوجائے گی کہ حق پر کون تھا، اور باطل پر کون ؟ انجام کس کا صحیح تھا اور کس کا خراب ؟ یہ سب کچھ پوری طرح واضح ہوجائے گا اور انجام سب کے سامنے آجائے گا مگر افسوس کہ اس وقت کا تمہارا پچھتانا تمہیں کچھ کام نہ دے گا کہ اس وقت گزر چکا ہوگا کہ جو ایمان مطلوب و محمود اور مفید ہے، وہ ایمان بالغیب ہے جس کا موقع دنیاوی زندگی میں تھا جو کہ اب ہاتھ سے نکل گئی ہے، بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ اگر نہیں مانتے اور تم اگر موت اور انجام ہی کے منتظر ہو تو انتظار کرلو، وقت آنے پر تمہیں خود معلوم ہوجائے گا کہ تمہاری یہ طمع خام پوری ہوتی ہے یا میرے رب کا وعدہ و ارشاد، سو یہ منکرین و مکذبین کے لئے آخری جواب یہی ہوتا ہے، کیونکہ جو ہٹ دھرم حق بات قبول کرنے اور ماننے کے لئے تیار ہی نہ ہوں ان کے لئے آخری جواب یہی ہوتا ہے اور یہی ہوسکتا ہے کہ تم لوگ اگر کسی قیمت پر بھی ماننے کو تیار نہیں ہوتے تو جو مرضی کرو اور جس کھڈ میں چاہو گرو تمہارا راستہ الگ، ہمارا الگ { لکم دینک ولی دین } سو اس کے بعد ہٹ دھرموں کو ان کے ہولناک انجام کے حوالے کردیا جاتا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین،
Ayah 52:32

اَمْ تَاْمُرُهُمْ اَحْلَامُهُمْ بِهٰذَاۤ اَمْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَۚ Open ayah 52:32 in the Quran reader

کیا ان کی عقلیں ان کو ایسی باتیں سکھاتی ہیں یا یہ حد سے گزرنے والے لوگ ہیں ؟

[ 40] ہٹ دھرموں کے قلوب و ضمائر پر ایک دستک : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا ان کی عقلیں ان کو ایسا سیکھاتی ہیں یا یہ حد سے گزرنے والے سرکش اور ہٹ دھرم لوگ ہیں ؟ یعنی معاملہ ان دو صورتوں سے خالی نہیں کہ یا تو ان لوگوں کی عقلیں ان کو یہی کچھ سکھا اور بتارہی ہیں کہ آپ ﷺ ! اللہ کے رسول نہیں بلکہ ایک کاہن، مجنون اور شاعر ہیں، اور یا پھر یہ لوگ سرکش ہیں جو حق بات سننے اور ماننے کو تیار نہیں۔ اور خواہ مخواہ کے بہانے ڈھونڈ رہے ہیں۔ سو اگر پہلی بات ہے تو یہ ان لوگوں کی عقلوں کیلئے ماتم کا مقام ہے۔ پس اب دوسرا مکان ہی باقی رہ جاتا ہے کہ یہ لوگ سرکش ہیں جو حق ماننا چاہتے ہی نہیں۔ سو عقل بشرطیکہ وہ عقل ہو ایسی متعارض و متصادم باتوں کی تعلیم نہیں دے سکتی پس اس کا اصل سبب ان لوگوں کی اپنی ہٹ دھرمی اور سرکشی ہے۔ اور یہی وہ چیز ہے جو ان کو ایسی باتوں کی انگیخت کرتی ہے، اور ان کو حق اور حقیقت کی روشنی سوجھنے نہیں دیتی۔ والعیاذ باللّٰہ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ ان کا معاملہ دو حال سے خالی نہیں کہ یا تو ان کی عقلیں یہی کچھ ان کو سکھاتی ہیں کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول نہیں ایک کاہن، مجنون اور شاعر ہیں، یا پھر یہ بات ہے کہ سرکش لوگ ہیں اور اس بناء پر یہ آپ کی تکذیب کے لئے اس طرح کے بیانے ڈھونڈتے ہیں اور ظاہر ہے کہ کسی کی عقل سلیم اس کو پہلی بات پر آمادہ نہیں کرسکتی، اس لئے اصل راستہ باف ہے کہ یہ لوگ سرکش ہیں، اس لئے یہ حق بات کو ماننے اور اپنانے کے لئے تیار نہیں ہوتے، کہ اس سے ان کی شتر بےمہار والی وہ آزادی متاثر ہوتی ہے جس کو انہوں نے اپنا رکھا ہے اور جس کو یہ آگے کیلئے بھی اپنائے رکھنا چاہتے ہیں، تاکہ یہ شتر بےمہار اور بےنتھے بیل کی طرح اپنی خواہشات نفس کو جیسا چاہیں پورا کریں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے حفظ و ایمان میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین، یامن بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ،
Ayah 52:33

اَمْ یَقُوْلُوْنَ تَقَوَّلَهٗ١ۚ بَلْ لَّا یُؤْمِنُوْنَۚ Open ayah 52:33 in the Quran reader

کیا یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ اس شخص نے خود ہی گھڑ لیا ہے اس (کتاب حکیم) کو ؟ (نہیں) بلکہ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ ایمان لانا ہی نہیں چاہتے

[ 41] عناد و ہٹ دھرمی باعث ہلاکت و محرومی۔ والعیاذ باللّٰہ : سو منکرین و مکذبین کی محرومی کے اصل باعث کی نشاندہی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ ایمان لانا چاہتے ہی نہیں۔ اس لئے یہ اپنے کفر اور بےایمانی اور ہٹ دھرمی و طغیانی کی بناء پر حق کے مقابلے میں ایسی باتیں کہتے اور کرتے ہیں جو ان کی عقلوں کا بھی ماتم کر رہی ہیں، اور ان کو راہ حق و صواب سے محروم اور مزید دور بھی کرتی جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں یہ لوگ ایسی بےتکی اور بےسروپا باتیں کرتے ہیں، معلوم ہوا کہ کفر و بےایمانی اور بدنیتی و بدباطنی جڑ بنیاد ہے تمام شرو فساد کی، والعیاذ باللّٰہ، بہرکیف اس ارشاد میں ان لوگوں کے خبث باطن سے پردہ اٹھاتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ چونکہ ایمان لانا چاہتے ہی نہیں اس لئے یہ اپنے جرم پر پردہ ڈالنے کے لئے اس طرح کی سخن سازیاں کرتے ہیں، اور خوئے بدر ابہانہ بیسار، کے مطابق ایسے لوگ اپنے انکار و تکذیب کو ھق بجانب ثابت کرنے کے لئے طرح طرح کے بہانے بناتے ہیں، اور میں نہ مانوں [ I never agree ] کا تو کوئی جواب نہیں۔ سو ہٹ دھرمی باعث ہلاکت و محرومی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ جب کہ حق کے آگے جھکنا اور سرتسلیم خم کردینا تقاضائے عندیت اور وسیلہء سرفرازی وفائز المرامی ہے۔ وباللّٰہ التوفیق۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین
Ayahs 52:34–35

فَلْیَاْتُوْا بِحَدِیْثٍ مِّثْلِهٖۤ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِیْنَؕ Open ayah 52:34 in the Quran reader

سو یہ لا دکھائیں اس (کلام محکم نظام) جیسا کوئی کلام اگر یہ سچے ہیں (اپنے اس قول وقرار میں)

اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَیْرِ شَیْءٍ اَمْ هُمُ الْخٰلِقُوْنَؕ Open ayah 52:35 in the Quran reader

کیا یہ لوگ بغیر کسی خالق کے یونہی از خود پیدا ہوگئے ؟ یا یہ خود ہی خالق ہیں ؟

[ 42] منکرین و مکذبین کو قرآن کا صاف وصریح چیلنج : سو ارشاد فرمایا گیا کہ لا دکھائیں یہ لوگ اس جیسا کوئی کلام اگر یہ سچے ہیں اپنے الزام و اتہام میں، کہ ان کے پاس اسکے باعث و دواعی پورے موجود ہیں، کہ یہ شاعر اور ادیب وبلیغ بھی ہیں، بلکہ اپنی فصاحت و بلاغت پر ان کو بڑا فخر و ناز ہے، اور یہ حق کے مقابلے میں پوری طرح سینہ سپر اور اس کے خلاف کمربستہ بھی ہیں، جب کہ محمد عربی [ صلوات اللہ وسلامہ علیہ ] نے نہ دنیا میں کبھی کسی سے پڑھا نہ سیکھا، اور نہ ہی کبھی آپ ﷺ نے شعر گوئی فرمائی، نہ شعر گوئی سے آپ ﷺ کو کوئی مناسبت ہی تھی، اور نہ ہی کبھی آپ ﷺ نے اپنی فصاحت و بلاغت کا کوئی دعویٰ ہی کیا، تو اس سب کے باوجود یہ لوگ قرآن حکیم کے معارضے اور اس کے مقابلے سے عاجز اور سراسر بھی عاجز و قاصر ہیں، اور قرآن حکیم جیسا کوئی کلام تو کیا اس کی ایک چھوٹی سے چھوٹی سورت کی کوئی نظیر و مثال لانے عاجز و قاصر ہیں، اور قرآن حکیم کے صاف وصریح اور واضح چیلنج و اعلان کے باوجود عاجز ہیں، تو پھر اس کلام صدق نظام کی صداقت و حقانیت کا اور کیا ثبوت ہوسکتا ہے ؟ سو اس سے قطعی طور پر ثابت ہوگیا کہ یہ کلام کسی بشر کا کلام نہیں، بلکہ خالق بشر حضرت حق۔ جل شانہ وعزبر ھانہ۔ کا کلام نظام ہے جس کا مقابلہ و معاوضہ کسی بھی انسان سے بلکہ تمام انسانوں سے بھی ممکن نہیں۔ سو جس طرح حضرت خالق جل مجدہٗ ۔ کی تخلیق فرمودہ کسی چھوٹی سے چھوٹی چیز کی نظیر لانا بھی ان کے اور کسی بھی انسان کے بس میں نہیں۔ قطعاً نہیں اسی طرح اس کلام حکیم کی کوئی نظیر و مثال پیش کرنا بھی ان کے یا ان کے سوا کسی اور کیلئے بھی ممکن نہیں۔ { ولو کان بعضھم لبعض ظھیراً } یعنی اگرچہ یہ اس کیلئے ایک دوسرے کے مددگار بھی ہوں۔ سو یہ کتنی واضح دلیل اور کس قدر کھلا ثبوت ہے اس امر کا کہ یہ قرآن کسی انسان کا کلام نہیں ہوسکتا بلکہ یہ خالق بشر کا کلام صدق نظام ہے۔ پس ان لوگوں کا اور پوری نوع انسانی کا بھلا اور دنیا و آخرت کے دونوں جہانوں کا بھلا اور حقیقی فائدہ اور فوزوفلاح کا سامان صرف اس امر میں منحصر ہے کہ یہ سب اس کلام صدق نظام پر دل و جان سے ایمان لاکر اس کی تعلیمات مقدسہ کے مطابق اپنی زندگی کی راہیں استوار کریں اور اس طرح خود ان کا اپنا بھلا ہو دنیا اور آخرت دونوں میں۔ پس جو اس کے باوجود اعراض و استکبار سے کام لے گا اور اس کلام حق و صدق سے منہ موڑے گا وہ اپنے لئے دارین کی ہلاکت و تباہی کا سامان کرے گا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔
Ayah 52:36

اَمْ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ١ۚ بَلْ لَّا یُوْقِنُوْنَؕ Open ayah 52:36 in the Quran reader

کیا انہوں نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین (کی اس حکمتوں بھری کائنات) کو ؟ نہیں بلکہ یہ لوگ یقین نہیں رکھتے1

[ 44] منکرین کے عقول و ضمائر سے دوسرا سوال : سو ایسوں کے قلوب و ضمائر کو جھنجھوڑنے کے لئے ان سے دوسرا بڑا اور واضح سوال یہ کیا گیا کہ کیا انہوں نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو ؟ جب نہیں اور یقینا نہیں، تو اس سب کا خالق اللہ وحدہٗ لاشریک کے سوا اور کون ہوسکتا ہے ؟ اور عبادت و بندگی کا حق اس وحدہٗ لاشریک کے سوا اور کسی کو کیونکر ہوسکتا ہے ؟ جس نے خود ان کو بھی پیدا کیا اور ان کے فائدے کیلئے آسمانوں اور زمین کی اس حکمتوں سے پر اور طرح طرح کے فوائد اور عجائب وغرائب سے بھری اس ساری کائنات کو بھی پیدا فرمایا ؟ فلہ الحمد والمنۃ۔ سو اس قادر مطلق کیلئے اس انسان کو اور اس پوری کائنات کو دوبارہ پیدا کردینا آخر کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ سبحانہ وتعالیٰ ۔ پس اس میں یہ درس اور دعوت ہے کہ ان کے پاؤں کے نیچے بچھا ہوا زمین کا یہ حکمتوں بھرا اور عظیم الشان فرش و بچھونا اور ان کے سروں کے اوپر تنی ہوئی آسمان کی یہ عظیم الشان اور بےمثال چھت، اور ان دونوں کے درمیان نہایت حکمت اور انتائی قرینے سے چنی ہوئی یہ گونا گوں اور عظیم الشان نعمتیں، آخر کس کی قدرت و حکمت اور عنایت و رحمت کا نتیجہ ہیں ؟ اور اسکا ان پر کیا حق واجب ہوتا ہے ؟ اور اس کے اس عظیم الشان حق کی ادائیگی کی کیا صورت ہوسکتی ہے ؟ اور کیا ان لوگوں سے ان نعمتوں کے بارے میں کبھی پوچھ گچھ نہیں ہونی چاہیے ؟ سو کائنات کی اس عظیم الشان اور کھلی کتاب میں غور کرنے والوں کے لئے بڑے عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت ہیں۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، سبحانہ وتعالیٰ ۔ [ 45] منکرین کے اصل مرض کی تشخیص : سو ارشاد فرمایا گیا ایسے بدبختوں کے اصل مرض کی تشخیص کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ ایمان لانا چاہتے ہی نہیں، تو پھر یہ لوگ غور کریں، کہ آخر ان کو ہدایت ملے تو کس طرح ؟ اور کیونکر ؟ سو اپنے اس خبث باطن اور سُوئِ اختیار کے نتیجے میں یہ لوگ حضرت حق جل مجدہ۔ کی قدرت اور اس کی وحدانیت پر ایمان و یقین کی دولت سے محرومی کے باعث طرح طرح کے غلط راستوں پر چل رہے ہیں، والعیاذ باللہ، سو اس مختصر سے جملے سے اصل حقیقت کا اظہار فرما دیا گیا اور ان کے اصل مرض کی تشخیص فرما دی گئی کہ جہاں تک حق اور حقیقت کا تعلق ہے وہ تو پوری طرح واضح ہے اور عقل و نقل دونوں اس پر متفق ہیں کہ قیامت قائم ہونی چاہئے اور وہ ضرور قائم ہوگی، تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں، اور اپنی آخری اور کامل شکل میں پورے ہوں، مگر جو لوگ ایک بےنتھے بیل کی طرح اپنی خواہشات کے پیچھے چلنا اور شتر بےمہار کی طرح زندگی گزارنا چاہتے ہیں، وہ اس بات کو ماننا اور اس پر ایمان لانا نہیں چاہتے، تاکہ اس طرح ان کی خواہشات پر کوئی قدغن نہ لگنے پائے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { بل یرید الانسان لیفجر امامہٗ } [ القیامۃ : 5 پ 29] یعنی اصل وجہ یہ ہے کہ ایسا منکر انسان تو یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنی آئندہ زندگی میں بھی فسق و فجور کی راہ پر چلتا رہے تو پھر خواہشات نفس کے ایسے پجاریوں کو حق و ہدایت کی دولت اور نور ایمان و یقین ملے تو کیسے اور کیونکر ؟ جب کہ اس سے سرفرازی کے لئے اولین شرط اور بنیادی تقاضا طلب صادق ہے ؟ سو خواہش پرستی اور ہٹ دھرمی محرومیوں کی محرومی اور فساد بگاڑ کی بنیاد ہے کہ اس کی بناء پر انسان اندھا اور اوندھا ہو کر ہلاکت و تباہی کی راہ پر چل پڑتا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ من کل زیغ و ضلال وسواء وانحراف، وھو الھادی الیٰ سواء السبیل۔
Ayah 52:37

اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآئِنُ رَبِّكَ اَمْ هُمُ الْمُصَۜیْطِرُوْنَؕ Open ayah 52:37 in the Quran reader

کیا ان کے پاس تمہارے رب کے خزانے ہیں ؟ یا یہ ان کے داروغے ہیں ؟

[ 46] منکرین کے ضمیروں سے ایک اور سوال : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کے پاس تمہارے رب کے خزانے ہیں ؟ یا یہ ان پر مسلط اور ان کے داروغے ہیں ؟ کہ جس کو چاہیں دیں اور جس کو چاہیں نہ دیں۔ یعنی یہ خالق تو نہیں، مگر ان کو اتنا غلبہ اور تسلط حاصل ہے کہ اللہ پاک کے خزانوں اور ان کی تقسیم پر انکا حکم چلتا ہو ؟ ظاہر ہے کہ یہ بات بھی نہیں، کہ جس طرح خالق ومالک وہ وحدہٗ لاشریک ہے، اسی طرح اس میں حاکم و متصرف و کارساز بھی تنہا وہی ہے، پس نہ تو اس کے سوا کسی کی بندگی جائز ہے اور نہ ہی اس کے کسی کام پر کسی کو انگلی اٹھانے اور اعتراض کرنے کی کوئی گنجائش ہوسکتی ہے، اور نہ اس کا حق، جیسا کہ کفار کا کہنا تھا کہ یہ قرآن مکہ اور طائف کے لوگوں میں سے کسی بڑے دنیا دار شخص پر کیوں نہیں اتارا گیا ؟ { وقالوا لولا نزل ھذا القرآن علی رجل من القریتین عظیمٍ ۔ [ الزخرف : 31 پ 25] سو جب ان باتوں میں سے کوئی بات بھی نہیں تو پھر آخر ان کو یہ غرہ کیوں ہے کہ یہ خدا کی پکڑ میں نہیں آسکتے ؟ یا جس عیش میں یہ لوگ ہیں اس میں یہ ہمیشہ رہیں گے ؟ نہ یہ اس سے محروم ہوسکتے ہیں، اور نہ کوئی اس کو ان سے چھین سکتا ہے۔ سو آخر اس طرح کی غلط فہمی میں یہ لوگ کیوں پڑے ہیں ؟ اس کے لئے ان کے پاس کیا دلیل و جواز ہے ؟ سو یہی نتیجہ ہوتا ہے اس مت ماری کا جو کفر و شرک کی نحوست کی بنا پر کسی شخص یا قوم پر طاری ہوجاتی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم، جل وعلا من کل زیغ و ضلال۔
Ayah 52:38

اَمْ لَهُمْ سُلَّمٌ یَّسْتَمِعُوْنَ فِیْهِ١ۚ فَلْیَاْتِ مُسْتَمِعُهُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍؕ Open ayah 52:38 in the Quran reader

کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر یہ لوگ (عالم بالا کی باتیں) سن لیتے ہیں ؟ تو لے آئے ان کا سننے والا کوئی کھلی سند

[ 47] منکرین و مشرکین کے زعم باطل پر ایک ضرب کاری : سو ان کے اس زعم باطل کی تردید کے لئے کہ آخرت ہوئی بھی تو یہ وہاں پر بھی عیش کریں گے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس ذہنیت کے لوگوں کا یہ قول نقل فرمایا گیا ہے۔ { ولئن اذقنہ رحمۃً منا من م بعد ضرآء مستہ لیقولن ھذا لی لا ومآ اظن الساعۃ قائمۃً لا ولئن رجعت الی ربی ان لی عندہٗ للحسنی ج فلننبئن الذین کفروا بما عملوا ز ولندیقنھم من عذابٍ غلیظ۔ [ حم السجدۃ : 50 پ 25] یعنی اگر مجھے میرے رب کی طرف لوٹایا بھی گیا تو یقینا اس کے یہاں بھی میرے لئے اچھائی ہی ہوگی۔ سو ایسے لوگوں کے ایسے زعم باطل کی تردید کے لئے ارشاد فرمایا گیا کہ ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس کے ذریعے یہ سنتے ہوں ؟ جس کی وجہ سے ان کو قرآنی ہدایت کی ضرورت ؟ اور ظاہر ہے کہ ایسی کوئی سیڑھی بھی نہیں جس کے ذریعے یہ سنتے ہوں ؟ جس کی وجہ سے ان کو قرآنی آیات کی ضرورت نہیں ؟ اور ظاہر ہے کہ ایسی بھی کوئی صورت نہیں، تو پھر یہ لوگ ہدایت قرآنی سے مستغنی اور بےنیاز ہو کس طرح سکتے ہیں ؟ اور یہ کس طرح اس سے اس قدر بےفکر اور نچنت ہو کر کہتے ہیں کہ اگر کوئی آخرت وغیرہ ہوئی بھی تو وہاں بھی بالاتری انہی کی ہوگی، اور ان کی خود ساختہ سرکاریں ان کو وہاں چھڑالیں گی، وغیرہ وغیرہ۔ سو یہ سب اوہام و ظنون اور من گھڑت و بےبنیاد خیالات ہیں جن کو ان لوگوں نے اپنا رکھا ہے اور اس کے نتیجے میں یہ لوگ اپنے اس خود ساختہ جال میں خود پھنسے ہوئے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم من کل زیغ و ضلال۔ [ 48] منکرین کی تعجیز و بےبسی کا اظہار وبیان : سو منکرین کے مذکورہ بالا زعم باطل کی تردید اور ان کی تعجیز کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ لے آئے ان کا سننے والا کوئی کھلی سند۔ جس سے ان کے اس دعوے کی تصدیق ہو سکے۔ جیسا کہ حضرت محمد ﷺ اپنے دعویٰ پر قطعی دلائل پیش فرما چکے ہیں۔ اور جب ایسی کوئی سند ان کے پاس نہیں اور نہیں ہوسکتی، تو پھر آخر یہ انکار حق پر کیوں اڑے ہوئے ہیں ؟ بہرکیف ان کی تعجیز و تحقیر کے لئے ان سے فرمایا گیا کہ اگر ان کے پاس ایسی کوئی کتاب ہے تو یہ اس کو پیش کریں، منکرین کے ضمیروں پر دستک دینے کے لئے یہی بات سورة القلم میں پوری وضاحت کے ساتھ ارشاد فرمائی گئی ہے۔ سو وہاں پر ارشاد فرمایا گیا۔ { ام لکم کتب فیہ تدرسون۔ ان لکم فیہ لما تخیرون۔ ام لکم ایمان علینا بالغۃ الی یوم القیٰمۃ ان لکم لما تحکمون۔ سلہم ایہم بذٰلک زعیم۔ ام لہم شرکائُ ج فلیاتوا بشرکائھم ان کانوا صدقین۔ } [ القلم : 37-41] یعنی " کیا تم لوگوں کے لئے کوئی ایسی کتاب ہے جس میں تم لوگ پڑھتے ہو کہ تم کو وہی کچھ ملے گا جو تم خود پسند کرو ؟ یا تم لوگوں کیلئے ہمارے ذمے قیامت تک پہنچنے والی کوئی ایسی قسمتیں ہیں کہ تم لوگوں کو یقینا وہی کچھ ملے گا جس کا فیصلہ تم خود کرتے ہو ؟ ان سے پوچھو کہ کون ہے ان باتوں کا ذمہ دار ؟ یا ان کے لئے کوئی ایسے شریک ہیں ؟ جو ان کو یہ کچھ دلواس کیں۔ سو یہ لے آئیں اپنے ان شریکوں کو اگر یہ سچے ہیں اپنے اس دعوے میں " مگر کہاں اور کیسے ؟ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ جل وعلا من کل سوئٍ وزیغ
Ayah 52:39

اَمْ لَهُ الْبَنٰتُ وَ لَكُمُ الْبَنُوْنَؕ Open ayah 52:39 in the Quran reader

کیا اللہ کے لئے تو ہوں بیٹیاں اور خود تمہارے لئے ہوں بیٹے ؟

[ 49] منکرین کی حماقت اور مت ماری کا ایک اور نمونہ و مظہر : کہ یہ لوگ اللہ کے لئے تو بیٹیاں تجویز کرتے ہیں اور خود اپنے لئے بیٹے، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ کے لئے تو ہوں بیٹیاں اور خود تمہارے لئے ہوں بیٹے ؟ تو کیا تم لوگوں کو شرم بھی نہیں آتی کہ اپنے خالق ومالک کی طرف وہ چیز منسوب کرتے ہوئے، جسے تم خود اپنے لئے گوارا نہیں کرتے، افسوس کہ اس مرض کے جراثیم آج بہت سے جاہل مسلمانوں کے اندر بھی موجود ہیں، چناچہ ایسے کسی شخص کے گھر میں اگر لڑکا پیدا ہوگا تو کہتا ہے کہ یہ پیروں نے دیا ہے، اور اس کا نام بھی وہ " پیراں دتہ "، " علی داد "، " علی بخش "، " حضور بخش " اور " حسین بخش " وغیرہ رکھتا ہے، اور اگر لڑکی ہوگی تو کہتا ہے کہ یہ اللہ نے دی ہے، اور اس کا نام وہ کبھی " پیراں دتی " یا " علی بخش " اور " حسین بخش " وغیرہ نہیں رکھے گا۔ سو یہ اسی مرض شرک کے جراثیم ہیں جس میں مشرکین عرب گرفتار تھے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ بہرکیف اس سے ایسے لوگوں کے دلوں پر دستک دی گئی ہے کہ تم کیسے لوگ ہو ؟ اور تمہاری مت کیسی مار دی گئیَ کہ تم جس چیز کو خود اپنے لئے پسند نہیں کرتے اس کو اللہ کے لئے پسند کرتے ہو ؟ آخر تمہاری مت کہاں اور کیسے مار دی گئی ؟ والعیاذ باللّٰہ العظیم من کل زیغ و ضلال وسواء وانحراف، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو الھادی الیٰ سواء السبیل، فعلیہ نتوکل وبہ نستعین، سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayah 52:40

اَمْ تَسْئَلُهُمْ اَجْرًا فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَؕ Open ayah 52:40 in the Quran reader

کیا آپ ان سے کوئی اجر مانگتے ہیں ؟ کہ یہ چٹی کے بوجھ سے دبے جا رہے ہیں ؟

[ 50] پیغمبر (علیہ السلام) کی دعوت حق قطعی طور پر بےلوث : سو اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ پیغمبر (علیہ السلام) کی دعوت قطعی طور پر بےلوث ہے اور محض نصح و خیر خواہی کے جز بےپر مبنی ہے، چناچہ منکرین کی بےقدری اور ناشکری پر اظہار تعجب کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ کیا آپ ان سے کوئی مانگتے ہیں ؟ یعنی اجراً عموم کا فائدہ دیتا ہے۔ یعنی کسی بھی قسم کا کوئی اجر و معاوضہ، خواہ وہ نوٹ اور ووٹ کی شکل میں ہو، یا کسی اور صلہ و ستائش کی صورت میں، اور ظاہر ہے کہ ایسا بھی نہیں کہ آپ ﷺ ان اسے اس طرح کا کوئی اجر و صلہ بھی نہیں مانگتے، تو پھر ان لوگوں کے نہ ماننے کی آخر وجہ کیا ہے ؟ سوائے عناد اور ہٹ دھرمی کے، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو یہاں سے پیغمبر کی دعوت و تبلیغ کی عظمت شان کا بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ان کا ہر کام خالص اللہ تعالیٰ کیلئے ہوتا ہے، وہ کسی سے کوئی اجر و صلہ کبھی نہیں مانگتے، بلکہ ان کا سارا کام للّٰہیت پر مبنی اور رضائے الٰہی کے حصول اور اس سے سرفرازی کیلئے ہوتا ہے۔ علی نبینا وعلی سائرھم الصلوٰۃ والسلام۔ سو ایسے میں ان کی عورت سے منہ موڑنا خود ایسے منکرین و مکذبین ہی کا خسارہ ہے۔ دنیا کی اس عارضی اور فانی زندگی میں بھی، اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہان میں بھی جو اس دنیا کے بعد آنے والا ہے، سو اس طرح انکار حق کے نتیجے میں انسان " خسر الدنیا والاخرۃ " کا مصداق بن جاتا ہے اور یہی ہے سب سے بڑا خسارہ۔ وذالک ھو الخسران المبین، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ [ 51] منکرین کی مت ماری کا ایک اور نمونہ و مظہر : کہ یہ لوگ حق کی اس دولت سے منہ موڑ رہے ہیں جو ان کو بالکل مفت مل رہی ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا آپ ﷺ ان سے کوئی اجر مانگتے ہیں کہ یہ اس کی چٹی کے بوجھ تلے دے چلے جا رہے ہوں ؟ اور ظاہر ہے کہ آپ ﷺ کا ان سے ایسا کوئی مطالبہ بھی نہیں، پھر کسی بوجھ کے محسوس کرنے کا کیا سوال ؟ یہاں پر خطاب اگرچہ آنحضرت ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے لیکن سنانا دراصل ان منکرین اور مخالفین کو ہے، جو حق سے منہ موڑے ہوئے ہیں کہ ان کے اس انکار و اعراض اور کفر و تکذیب کا وبال اور نقصان ہر لحاظ سے خود انہی لوگوں کو پہنچے گا۔ اور نبی اکرم ﷺ کو خطاب کرکے کفار و منکرین کو سنانے کے اس اسلوب میں بلاغت کو یہ نکتہ کارفرما ہے، کہ منکرین حق اس قابل ہی نہیں کہ ان کو مخاطب کرکے ان سے یہ بات کہی جائے، کہ حق کے انکار اور اس سے منہ موڑنے کے بعد انسان شرف انسانیت شرف عظیم سے گر کر حضیض مذلت میں جا پہنچتا ہے اور اس قدر ذلیل ہوجاتا ہے کہ شر البریۃ [ بدترین مخلوق ] بن جاتا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ بہرکیف اس سے منکرین کی اس بےقدری اور مت ماری کا ایک اور نمونہ پیش فرمایا گیا ہے کہ ان کے پاس اللہ کے رسول علم و حکمت کی دولت بےمثال و لازوال لے کر آگئے مگر یہ ہیں کہ اس دولت بےمثال سے منہ موڑ رہے ہیں جو کہ سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ اور واحد ذریعہ وسیلہ ہے، بغیر کسی اجر و عوض کے ان لوگوں کے درمیان بانٹنا اور تقسیم کرنا چاہتے ہیں، مگر یہ لوگ ہیں کہ اس کے سننے کے بھی روا دار نہیں حالانکہ عقل سلیم اور فطرت مستقیم کا تقاضا یہ تھا اور یہ ہے کہ یہ لوگ اس انعام عظیم کے آگے جھک جھک جائے اور دل و جان سے ان کو قبول کرتے اور اس طرح اپنے لئے سعادت دارین سے سرفرازی کا سامان کرتے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ،
Ayahs 52:41–42

اَمْ عِنْدَهُمُ الْغَیْبُ فَهُمْ یَكْتُبُوْنَؕ Open ayah 52:41 in the Quran reader

کیا ان کے پاس غیب (کے حقائق) کا علم ہے جس کی بناء پر یہ لکھ لیتے ہیں ؟

اَمْ یُرِیْدُوْنَ كَیْدًا١ؕ فَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا هُمُ الْمَكِیْدُوْنَؕ Open ayah 52:42 in the Quran reader

کیا یہ لوگ کوئی داؤ چلنا چاہتے ہیں ؟ تو (سن لیں کہ) جو لوگ اڑے ہوئے ہیں اپنے کفر (و باطل) پر وہ خود ہی شکار ہو رہے ہیں اپنی چال بازیوں کے1

[ 52] منکرین حق کے حال پر اظہار تعجب و افسوس : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا ان لوگوں کے پاس غیب کا کوئی علم ہے جس سے یہ لکھ لیتے ہیں ؟ اور اس طرح یہ لوگ قرآنی ہدایت سے بےنیاز ہوگئے ہیں ؟ اور ظاہر ہے کہ یہ بات بھی نہیں کہ غیب کا علم تو صرف اللہ پاک ہی کے پاس ہے، تو یہ لوگ آخر کس بنا پر محمد ﷺ کے بارے میں حوادث زمانہ کی انتظار کرتے ہیں، اور اس وحی خداوندی سے خود بھی محروم ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی محروم کرتے ہیں جو اللہ پاک نے حضرت محمد ﷺ کے ذریعہ دنیا کے لئے بھیجی ہے، اور خود ان ہی لوگوں کے بھلے اور فائدے کے لئے نازل فرمائی ہے۔ بہرکیف ان کے قلوب و ضمائر کو جھنجھوڑتے اور ان کے دل و دماغ پر دستک دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ کیا ان لوگوں کے پاس غیب کا علم ہے، اور غیب کو خود جان لینے کے لئے ان کے پاس کوئی ذریعہ موجود ہے، جس سے یہ لوگ غیب کی تمام باتوں کو خود معلوم کرکے لکھ لیتے ہوں، جو راہ حق و ہدایت کے راہرد کے لئے ضروری ہیں ؟ اور طاہر ہے کہ ایسی کوئی بھی صورت موجود نہیں، نہ ان کے پاس غیب کا علم ہے اور نہ غیبی حقائق کو جاننے کا کوئی ذریعہ ان کو میسر ہے، سو ایسی صورت میں عقل و نقل دونوں کا تقاضا یہ تھا اور یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ کی وحی کے ذریعے ملنے والے ان حقائق کو اپنانے اور ان کے ذریعے اپنے ظاہر و باطن کو سنوارنے بنانے کے لئے فوراً آپ ﷺ کی طرف لپکتے اور آپ کے ذریعے ملنے والے ان علوم و معارف کی طرف، جن سے آپ ﷺ ان کو آگہی بخش رہے ہیں، مگر یہ ہیں کہ پھر بھی آپ ﷺ سے بےرغبتی اور اعراض برتنے اور آپ ﷺ سے دور ہوتے ہیں، سو اس سے ان منکروں کے اظہار و انکار پر اظہار تعجب و افسوس فرمایا گیا ہے۔ یہ لوگ کس طرح حق سے منہ موڑتے، اور اندھے اور اوندھے ہوتے جاتے ہیں اور نور ہدایت سے منہ موڑ کر کس طرح دارین کے خزانے کو اپنا رہے ہیں والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین،
Ayah 52:43

اَمْ لَهُمْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 52:43 in the Quran reader

کیا ان کے لئے کوئی اور معبود ہے اللہ کے سوا ؟ (سو واضح رہے کہ) اللہ پاک ہے اس شرک سے جو یہ لوگ کر رہے ہیں2

[ 54] عقیدہ توحید فوزوفلاح کی اساس و بنیاد : سو ارشاد فرمایا گیا، اور عقیدہ توحید کی تذکیر و یاددہانی کراتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ کیا ان کے کے لئے اللہ کے سوا کوئی اور معبود ہے ؟ جو ان کا خالق ومالک، روزی رساں اور حاجت روا و مشکل کشا ہو، کہ یہ اپنی حاجتوں اور پریشانیوں میں اس کی طرف رجوع کریں ؟ اور اسی کو پکاریں ؟ اور ظاہر ہے کہ ایسا کوئی بھی نہیں، کہ معبود برحق تو بہرحال ایک اور صرف ایک ہے، یعنی اللّٰہ وحدہ لا شریک سبحانہ وتعالیٰ تو پھر یہ لوگ حق سے آخر موڑتے اور اعراض کرتے کیوں اور کس بنیاد پر ہیں ؟ سو سب کو بالآخر اسی معبود برحق کے حضور حاضر ہونا اور اپنی زندگی بھر کے لئے کرائے کا حساب دینا اور اس کا پھل پانا ہے، تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں، سو جو لوگ حق کے خلاف چالیں چلتے ہیں، ان کا اس یوم حساب کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ جس نے بہرحال آکر اور بپا ہو کر رہنا ہے، اس کو اپنے وقت سے کوئی ٹال نہیں سکے گا، سو اس دن ان لوگوں کو کون بچائے گا ؟ کیا انہوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ اللہ کے سوا ان کے کچھ اور معبود ہیں جو ان کی مدد کریں گے ؟ تو ان کی یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ایسے تمام تصورات سے پاک اور اعلیٰ وبالا ہے اس کا نہ کوئی شریک ہے، نہ ہوسکتا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ پس عقیدہ توحید وسیلہ نجات ہے اور شرک موجب ہلاکت و تباہی۔ والعیاذ باللّٰہ جل وعلا من کل زیغ و ضلال وسواء وانحراف، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو الھادی الیٰ سواء السبیل، [ 55] اللہ تعالیٰ شرک کے ہر شائبے سے پاک : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے شرک اور ہر شائبے شرک سے پاک ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ پاک ہے اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔ اور دوسرا ترجمہ اس طرح بھی کیا جاسکتا ہے کہ وہ پاک ہے ان تمام شریکوں سے جو یہ لوگ اس کے لئے ٹھہرا رہے ہیں، مآل دونوں کا بہرحال ایک ہی ہے، کہ اللہ پاک ہے ہر قسم کے شرک اور ہر طرح کے شریکوں سے، اور وہ پاک اور بالا و برتر ہے ایسے تمام تصورات سے، ام استفہامیہ ان تمام پندرہ مقامات پر انکار اور تقریح و توبیخ کے لئے ہے، [ قرطبی، ابو السعود، اور جلالین وغیرہ ] سو ان سے منکرین کی تفریح و توبیخ کی گئی ہے تاکہ یہ لوگ اپنی غلط روش سے باز آجائیں، اور حق کی طرف رجوع کریں، بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ مشرک لوگوں نے جن طرح طرح کے مشرکانہ تصورات کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر رکھا ہے وہ ان سے قطعی طور پر پاک اور بالا ہے، لوگوں نے جو اپنے طور پر اس کے لئے ایسے تصورات قائم کر رکھے ہیں وہ سب ان کی اختراعات اور بےبنیاد خرافات ہیں، اور حق اور حقیقت بہرحال یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے شرک اور اس کے ہر شائبہ شرک سے پاک اور ایسے ہر تصور سے اعلیٰ وبالا ہے۔ پس معبود برحق وہی ہے اور عبادت و بندگی کی ہر قسم اور ہر اس کی ہر شکل اسی کا اور صرف اسی وحدہٗ لاشریک کا حق ہے۔ سبحانہ واللّٰہ تعالیٰ ۔ اللہم انا نعوذ بک من ان نشرک بک شیئا نعلمہ ونستغفرک لما لا نعلمہ تبارکت وتعالیت۔
Ayah 52:44

وَ اِنْ یَّرَوْا كِسْفًا مِّنَ السَّمَآءِ سَاقِطًا یَّقُوْلُوْا سَحَابٌ مَّرْكُوْمٌ Open ayah 52:44 in the Quran reader

اور (ان کی ہٹ دھرمی کا عالم یہ ہے کہ) اگر یہ آسمان کا کوئی ٹکڑا بھی گرتا ہوا دیکھ لیں تو کہیں گے کہ یہ تو ایک بادل ہے تہ بہ تہ جما ہوا

[ 56] منکرین کی ہٹ دھرمی کا عالم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر یہ لوگ آسمان سے کوئی ٹکڑا گرتا ہوا دیکھ لیں تو بھی نہیں مانیں گے۔ بلکہ کہیں گے کہ یہ تو ایک بادل ہے تہ بہ تہ جما ہوا۔ جیسا کہ ان کا مطالبہ تھا۔ { اوتسقط السمآء کما زعمت علینا کسفا } [ بنی اسرائیل : 92] ۔ سو اگر ایسا ہوجائے تو انہوں نے پھر بھی ماننا نہیں۔ کیونکہ یہ ضد اور ہٹ دھرمی پر آئے ہوئے ہیں، اور ضد اور ہٹ دھرمی کا کوئی علاج نہیں، اور ان کی تمام تر حجت بازیاں اور سخن سازیاں محض چالبازی اور فریب کاری کی نوعیت کی ہیں، سو ایسوں کو مطمئن کرنا کسی کے بس میں نہیں، کیونکہ ان کی ضد اور ان کے عناد کا عالم یہ ہے کہ یہ کھلی حقیقت اور امر واقع کا اس طرح انکار کرتے ہیں، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ پس یہ ایسے ہٹ دھرم لوگوں اور ضدی عناصر کی ہٹ دھرمی اور ان کی ضد وعناد کا ایک نمونہ و مظہر ہے کہ اگر یہ لوگ آسمان سے اترتے ہوئے عذاب کو اپنی آنکھوں سے بھی دیکھ لیں بھی تو یہ اس کو ماننے کی بجائے کہیں گے کہ یہ ایک بادل ہے تہ بہ تہ، تو پھر ایسے لوگوں سے قبول حق کی کوئی امید اور توقع آخر کیسے کی جاسکتی ہے ؟ سو ہٹ دھرمی محرومیوں کی محرومی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ،
Ayah 52:45

فَذَرْهُمْ حَتّٰى یُلٰقُوْا یَوْمَهُمُ الَّذِیْ فِیْهِ یُصْعَقُوْنَۙ Open ayah 52:45 in the Quran reader

پس چھوڑ دو ان کو (ان کے حال پر) یہاں تک کہ یہ پہنچ جائیں اپنے اس (ہولناک) دن کو جس میں ان کے ہوش اڑ جائیں گے

[ 57] ہٹ دھرموں سے اعراض و روگردانی کا حکم و ارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا اور پیغمبر (علیہ السلام) کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ ان کو چھوڑ دو ان کے حال پر، اور نہ ان کی پرواہ کریں، اور نہ ہی ان کی وجہ سے غم کھائیں۔ { افمن زین لہٗ سوئُ عملہ فراہ حسناً ط فان اللّٰہ یضل من یشآئُ ویھدی من یشآئُ ز فلا تذھب نفسک علیہم حسرتٍ ط انَّ اللّٰہ علیہم م بما یصنعون } [ فاطر : 8 پ 22] ۔ کہ منوالینا اور حق بات کو دل میں اتار دینا نہ آپ ﷺ کی ذمہ داری ہے اور نہ ہی یہ آپ ﷺ کے بس میں ہے یعنی جب ان کی ہٹ دھرمی واضح ہوگئی اور یہ حق بات کو ماننے اور قبول کرنے کے لئے کسی بھی طرح تیار نہیں ہو رہے، تو ایسوں کے پیچھے لگنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ لہٰذا ان سے منہ موڑ کر ان کو اپنے حال پر چھوڑ دو ، تاکہ یہ اپنے انجام کو خود پہنچ جائیں، اور اپنے کیے کرائے کا بھگتان خود بھگت لیں۔ کیونکہ پتھر پر جونک نہ لگ سکتی ہے اور نہ اس بارے کوشش کرنے کا کوئی فائدہ ہی ہوسکتا ہے۔ پس ان کو ان کے اپنے حال پر چھوڑ دو ۔ ان کے پیچھے لگ کر نہ اپنا وقت ضائع کرو اور نہ اپنے آپ کو تکلیف میں ڈالو کیونکہ لاعلاج مریض کو اس کے انجام کے حوالے کردینا ہی تقاضائے عقل و نقل ہے۔ تاکہ وہ اپنے منطقی انجام کو خود پہنچ جائے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ [ 58] منکرین کا معاملہ ان کے آخری انجام کے حوالے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کو چھوڑ دو یہاں تک کہ یہ پہنچ جائیں اپنے اس انتہائی ہولناک دن کو جس دن ان کے ہوش اڑ جائیں گے۔ یعنی قیامت کا دن جس دن کہ یہ اپنے کیے کرائے کا پورا پورا بدلہ پاکر رہیں گے، جس دن ان کی وہ سب حجت بازیاں اور فلسفہ طرازیاں ختم ہوجائیں گی، جو آج یہ لوگ حق اور اہل حق کے خلاف بگھار رہے ہیں، اور اس روز ان کے ہوش اڑ جائیں گے، اور صور اسرافیل سے ان سب پر غشی طاری ہوجائے گی، جیسا کہ سورة حج میں ان کے اس حال کی تصویر اس طرح پیش فرمائی گئی ہے۔ { یوم ترونھا تذہل کل مرضعۃٍ عما ارضعت وتضع کل ذات حملٍ حملہا وتری الناس سکری وما ہم بسکری ولکن عذاب اللّٰہِ شدیدٌ۔ [ الحج : 2 پ 17] اور تم لوگوں کو مدہوش دیکھو گے حالانکہ وہ مدہوش نہیں ہوں گے لیکن اللہ کا عذاب بڑا ہی سخت ہوگا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو ایسے ہٹ دھرم منکروں کا معاملہ اسی دن پر چھوڑ دو ۔ والعیاذ باللّٰہ جل وعلا، من کل زیغ و ضلال وسواء وانحراف، بکل حال من الاحوال۔
Ayah 52:46

یَوْمَ لَا یُغْنِیْ عَنْهُمْ كَیْدُهُمْ شَیْئًا وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَؕ Open ayah 52:46 in the Quran reader

جس دن نہ تو ان کو اپنا داؤ کچھ کام آسکے گا اور نہ ان کو (اور کہیں سے) کوئی مدد مل سکے گی

[ 59] قیامت کے روز منکرین کی بےبسی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جس دن نہ ان کو اپنا داؤ کچھ کام آسکے گا اور نہ ہی ان کی کہیں سے کوئی مدد کی جائے گی۔ سو جس مکرو فریب اور داؤ بازی کی آج یہ لوگ اس دنیا میں حق کے خلاف استعمال کرتے ہیں اور اس کو اپنی بڑی دانش مندی اور قابلیت سمجھ رہے ہیں، اس ہوشرباون میں نہ تو ان کا ایسا کوئی داؤ چل سکے گا، اور نہ ان کی ایسی کوئی چالبازی ان کے کچھ کام آسکے گی۔ اور نہ ہی ان کے لئے باہر سے ایسی کوئی مدد آسکے گی، جو ان کے کچھ کام آسکے، سو اس دن ان کو اپنے کیے کرائے کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہوگا اور بھرپور طریق سے بھگتنا ہوگا۔ اور نہ ہی ان کو اپنے ان مزعومہ شرکاء و شفعاء میں سے کوئی کام آسکے گا۔ جن کا یہ آج دم بھرتے اور ان پر تکیہ کیے ہوئے ہیں، سو اس سے منکرین کی قیامت کے روز کی بےبسی کی تصویر پیش فرمادی گئی اور صاف وصریح طور پر ان کو بتایا گیا اور ان کے سامنے واضح فرما دیا گیا کہ اس روز ان کو اپنے خالق ومالک حقیقی اللہ وحدہٗ لاشریک ہی سے سابقہ پیش آئے گا۔ ان کا زندگی بھر کا سب کیا دھرا اس کے سامنے پیش کردیا جائے گا اور ان کے خود ساختہ اور من گھڑت سہاروں میں سے کوئی بھی ان کو کوئی فائدہ بہرحال نہیں ہوگا سوائے ان کی آتش یاس و حسرت میں اضافے کے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔
Ayah 52:47

وَ اِنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا عَذَابًا دُوْنَ ذٰلِكَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 52:47 in the Quran reader

اور ان لوگوں کے لئے جو اڑے ہوئے ہیں اپنے ظلم پر یقینا اس سے پہلے بھی ایک عذاب ہے مگر ان میں سے اکثر جانتے نہیں

[ 60] ظالموں کے لئے آخرت سے پہلے دنیا کے عذاب کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور ظالموں کے لئے اس سے پہلے بھی عذاب ہے۔ یعنی آخرت کے اس حقیقی اور دائمی عذاب سے پہلے اس دنیا میں بھی ان کو مختلف قسم کے عذابوں سے واسطہ پڑتا رہے گا تاکہ شاید یہ ہوش کے ناخن لے سکیں اور اس آخری اور ہولناک انجام سے بچ سکیں۔ { ولنذیقنھم من العذاب الادنی دون العذاب الاکبر لعلہم یرجعون } [ سورة السجدہ : 21 پ 21] مگر یہ لوگ اس حقیقت کو سمجھ نہیں رہے، کہ تنبیہات سے ان کو کیا سبق مل رہے ہیں، اور یہ کی مآل کا ران کو کس انجام بد سے سابقہ پڑنے والا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو یہ اسی سنت الہیہ کی طرف اشارہ ہے جس کے مطابق رسول کی تکذیب پر اڑے رہنے والوں کیلئے آخرت کے اس ہولناک عذاب سے پہلے اس دنیا میں بھی عذاب آتا ہے۔ اور یہ عذاب اللہ تعالیٰ کی اسی سنت کے مطابق قریش کے مکذبین پر بھی اسی دنیا میں آیا۔ چناچہ وہ سب کے سب آنحضرت ﷺ کی حیات طیبہ کے دوران اور اسی دنیا میں ذلیل و خوار ہوئے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم من کل زیغ و ضلال۔ [ 61] اکثریت بےعلم اور جاہل لوگوں کی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اکثر لوگ جانتے نہیں۔ یعنی وہ جانتے نہیں حق اور حقیقت کو، اسلئے وہ طرح طرح کے اندھیروں میں ہی ڈوبے رہتے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ لوگوں کی اکثریت حق اور حقیقت کے علم و ادراک سے عاری اور دور محروم ہی ہوتی ہے۔ پس عوام کی اکثریت کا کسی طرف ہوجانا اس کی صداقت و حقانیت کی دلیل نہیں بن سکتا جس طرح کہ دور حاضر میں مغربی جمہوریت کے نوساختہ بت کے پجاریوں کا کہنا ماننا ہے، جس کے مطابق لوگوں کو تولا نہیں جاتا گنا جاتا ہے، اور جس کے مطابق ایک بڑے علم و فضل کے مالک شخص کا بھی ایک ہی ووٹ ہوتا ہے اور ایک ان پڑھ، جاہل گنوار اور بھنگی چرسی شخص کا بھی ایک ووٹ ہے، نیز جیسا کہ ہمارے دور کے اہل بدعت کا کہنا ہے کہ فلاں فلاں رسومات کو چونکہ عوام کالانعام کی اکثریت کی تائید حاصل ہے اس لئے وہ درست ہیں۔ سو مدار عوام کی قلت و کثرت پر نہیں، بلکہ قوت حق و صدق پر ہے، اور حق عبادت ہے " ماقال اللّٰہُ وقال الرسول " سے۔ پس جو اللہ فرمائے اور اس کا رسول فرمائے وہ بہرحال حق اور صدق ہے اگرچہ اس کا ساتھ بھی نہ دے۔ والعیاذ باللّٰہ۔ اور جو بات اللہ اور اس کے رسول کے ارشاد کے خلاف ہوگی وہ بہرحال باطل اور مردہ ہوگی ہے خواہ دنیا ساری بھی اس کی تائید میں کیوں نہ ہو۔ سو عوام کی اکثریت حجت اور سند نہیں ہوسکتی۔ حجت وسند اللہ اور اس کے رسول کا فرمان و ارشاد ہوتا ہے، اس کے مقابلے میں کسی کی بھی کوئی حیثیت ووقعت نہیں ہوسکتی، خواہ وہ کوئی فرد ہو یا جماعت،
Ayah 52:48

وَ اصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَاِنَّكَ بِاَعْیُنِنَا وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِیْنَ تَقُوْمُۙ Open ayah 52:48 in the Quran reader

اور آپ صبر (و برداشت) ہی سے کام لیتے رہیں اپنے رب کے حکم (و فیصلہ) تک کہ یقینا آپ ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں اور تسبیح کرتے رہیں اپنے رب کی حمد کے ساتھ جب آپ اٹھیں

[ 62] صبر و سیلہئِ نظر۔ وباللّٰہ التوفیق : سو ارشاد فرمایا گیا اور پیغمبر کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ آپ ﷺ صبر ہی سے کام لیتے رہیں۔ جیسا کہ اس سے پہلے لیتے رہے ہیں، کہ راہ حق بہرحال وہی ہے جس پر آپ گامزن ہیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا اور تاکید مزید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا۔ { انک لمن المرسلین۔ علیٰ صراطٍ مستقیم } [ یٰسین : 3-4] یعنی " آپ یقینی طور پر رسولوں میں سے ہیں اور سیدھی راہ پر ہیں " نیز ایک اور مقام پر اسی تاکید در تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا۔ { انک لعلی الحق المبین } یعنی یقینی طور پر آپ کھلے اور واضح حق پر ہیں۔ اور حق میں صبر و استقامت ذریعہء ِ فوز و فلاح اور وسیلہئِ ظفر و نجاح ہے۔ لہٰذا آپ ان منکرین و مکذبین کی ایذاء رسانیوں کی پرواہ کیے بغیر اپنے فرائض رسالت کی ادائیگی میں لگے رہیں واضح رہے کہ صبر کے بعد جب لام کا صلہ آجاتا ہے جیسا کہ یہاں پر ہے [ لحکم ربک ] تو یہ اس بات کا قرینہ ہوتا ہے کہ یہاں پر لفظ صبر انتظار کے معنی کو متضمن ہے۔ سو اب اس ارشاد کا معنی یہ ہوگا کہ آپ اپنے رب کے حکم و ارشاد کے انتظار میں ان لوگوں کے بارے میں صبر ہی سے کام لینا کے بارے میں جلد بازی سے کام نہیں لینا، سو راہ حق میں صبر و استقامت ایک اہم مطلب، اور اولوالعزم رسولوں کا شیوہ و طریقہ ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { فاصبر کما صبر اولوا العزم من الرسل ولا تستعجل لہم ط کانھم یوم یرون مایوعدون لا لم یلبثوآ الا ساعۃ من نھار ط بلغ ج فہل یہلک الا القوم الفسقون } [ الاحقاف : 35 پ 26] یعنی جب حقیقت امر یہ ہے تو آپ صبر ہی سے کام لیتے رہیں جیسا کہ دوسرے اولعزم رسولوں نے کام لیا، اور ان لوگوں کے بارے میں جلد بازی سے کام نہیں لینا۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، وھو العزیز الوھاب، [ 63] پیغمبر ( علیہ السلام) براہ راست اللہ تعالیٰ کی حفاظت و نگہبانی میں : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ آپ ﷺ یقینا ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں۔ اور جب ایسا ہے اور ہماری حفاظت و نگرانی آپ کو حاصل ہے، تو پھر آپ کو کسی کی پرواہ ہی کیا ہوسکتی ہے ؟ پس ان لوگوں کے داؤ پیچ آپ کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکیں گے۔ سبحان اللّٰہ !۔ کیسی عظیم اور کس قدر منفرد و بےمثال شان ہے ہمارے پیغمبر کی کہ حضرت حق جل مجدہ کی طرف سے آپ ﷺ کو اس صدائے دلنواز سے نوازا جا رہا ہے، اور آپ ﷺ کو ایسے تاکیدی الفاظ کے ساتھ اس بڑی اور اتنی عظیم الشان بشارت و خوشخبری سے نوازا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ ہماری نگاہوں کے سامنے ہیں اور ہماری نگرانی میں ہیں، سو ایسے میں آپ ﷺ کسی اور کو کیا پرواہ ہوسکتی ہے ؟ صلوات اللّٰہ وسلامہٗ علیہ وعلی الہٖ وصحبہ اجمعین، [ 64] حصول صبر کی تدبیر، تسبیح و تہمید رب : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصول صبر کی تدبیر کی تعلیم کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ آپ تسبیح کرتے رہیں اپنے رب کی حمد کے ساتھ جب آپ ﷺ اٹھیں۔ عام ہے کہ آپ ﷺ جب بھی اور جس حال سے بھی اٹھیں۔ مجلس سے، یا نیند سے، اور نماز کے لئے، یا جہاد کے لئے، یا کسی بھی غرض کے لئے، کہ لفظ کا عموم ان سب ہی احوال کو شامل ہے۔ اور مجاہد وغیرہ کا یہی کہنا ہے۔ اور ترمذی (رح) وغیرہ کی روایت کے مطابق آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو بھی کوئی شخص مجلس سے اٹھتے وقت یہ دعا پڑھ لیا کرے۔ اس کی اس مجلس کی سب خطائیں معاف ہوجائیں گے اور دوسری روایت کے مطابق اگر وہ مجلس نیکی والی ہوگی تو اس دعا کی برکت سے اس نیکی پر مہرگ جائے گی جس پر وہ نیکی ہمیشہ کیلئے محفوظ ہو جائیگی، دعا یہ ہے۔ سبحانک اللّٰہم وبحمدک اشھد ان لا الہ الا انت استغفرک واتوب الیک، اور مسند امام احمد (رح) میں حضرت عبادۃ بن الصامت ؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو کوئی رات کو بیدار ہونے پر یہ دعا پڑھے لا الہ الا اللّٰہ وحدہٗ لاشریک لہٗ ، لہٗ الملک ولہٗ الحمد یحی ویمیت وھو علی کل شی قدیر، اور کہے رب اغفرلی یا کوئی اور دعاء مانگے تو وہ قبول ہوگی، پھر اگر وضو کرکے نماز پڑھے تو وہ قبول ہوگی اور اس کی بخاری اور دوسرے اصحاب سنن نے بھی روایت کیا ہے، [ بخاری کتاب التہجد ] [ ابن کثیر، ابن جریر، قرطبی، مراغی، محاسن وغیرہ ] بہرکیف اس سے حصول صبر کی تدبیر کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے اور وہ ہے اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرنا " فسبحان اللّٰہِ وبحمدہٖ و سبحان اللّٰہِ العظیم " عدد خلقہٖ ، ورضا نفسہٖ ، وزنۃ عرشہٖ ومداد کلماتہٖ ، ما تبقیٰ ھذہ الاسطرو الکلمات۔ سبحانہ وتعالیٰ جل شانہ۔
Ayah 52:49

وَ مِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَ اِدْبَارَ النُّجُوْمِ۠ Open ayah 52:49 in the Quran reader

اور رات کو بھی اور ستاروں کے پیٹھ پھیرنے (اور ڈوبنے) کے بعد بھی

[ 65] خاص وقتوں کی تسبیح کا حکم و ارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا اور رات کو بھی اور ستاروں کے پیٹھ پھیرنے کے بعد بھی : ابن عباس ؓ ما کہتے ہیں کہ اس سے مراد نماز فجر سے پہلے کی دو رکعتیں ہیں۔ جو سنتوں میں سب سے اہم سنتیں ہیں، اور جن کی آنحضرت ﷺ کو بطور خاص زیادہ پابندی فرمایا کرتے تھے، اور صحیح مسلم وغیرہ کی روایت کے مطابق یہ دو رکعتیں دنیا مافیہا سے بہتر ہیں۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ رات میں بھی اپنے رب کی حمد اس کی تسبیح کیا کرو، اور ستاروں کے پیٹھ پھیر جانے یعنی ان کے ڈوب جانے کے بعد بھی، سو اس ارشاد عالی میں رات کی نمازوں کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے، سو رات کے پہلے حصے میں مغرب عشاء کی نماز ہے اور اس کے آخر میں تہجد کی، اور تہجد اگرچہ فرائض میں داخل نہیں، لیکن تحصیل صبر اور تسکین قلب کیلئے اس نماز کی اہمیت سب سے زیادہ ہے، سو ومن اللیل فسبحہ سے مغرب عشاء اور تہجد کی ان تینوں نمازوں کی طرف اشارہ ہوگیا، جو رات کی نمازوں میں خاص اہمیت کی حامل ہیں، کہ یہ دونوں رات کے دوپہروں میں واقع ہیں، جس طرح کہ دن کی نمازوں میں فجر اور عصر کی نمازوں کو خاص عظمت و اہمیت حاصل ہے کہ یہ دن کے دو کناروں پر واقع ہیں پس ان سب کی پابندی اور ان کا التزام صبر و استقامت اور حصول خیر و برکت کیلئے بہت کارگر ہے، وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، وھو الھادی الیٰ سواء السبیل، فعلیہ نتوکل وبہ نستعین، فی کل ان وحین، واخر دعوانا الحمد للّٰہ رب العالمین، وبھذا القدر نکتفی من التفسیر لسورۃ الطور، والحمد للّٰہ الذی تشرفنا بتوفیق منہ سبحانہٗ وتعالیٰ لھذا العمل الجلیل من التفسیر لکتبابہ العزیز الکریم،