Ayah 49:11[ 31] دوسروں کا مذاق اڑانے کی ممانعت کا ذکر وبیان :
سو اس سے آپس میں ایک دوسرے کا مذاق اڑانے کی ممانعت فرما دی گئی چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور ایمان والوں کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ " کوئی قوم کسی دوسری قوم کا مذاق نہ اڑائے کہ ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے کہیں بہتر ہوں "۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک، کہ وہاں فیصلہ صرف ظواہر پر نہیں ہوتا بلکہ حقائق اور بواطن پر ہوتا ہے۔ اور اس کا علم اللہ کے سوا اور کسی کو نہیں ہوسکتا۔ یہاں پر مردوں اور عورتوں دونوں کے بارے میں جمع کے صیغے اختیار فرمائے گئے۔ کیونکہ عیب جوئی عام طور پر دوسروں کے سامنے اور مجمع کے درمیان ہی کی جاتی ہے۔ سو یہاں سے دراصل ان امور سے روکا اور منع کیا جا رہا ہے جو باہمی اختلاف و مخالفت اور جنگ وجدال کا باعث اور سبب بنتے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو اس خطاب و ارشاد سے اہل ایمان کو اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ جو لوگ ایمان و یقین کے شرف سے مشرف ہوچکے ہیں ان کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ ایمان لانے کے بعد دوسرے مردوں کو اپنے سے حقیر سمجھ کر ان کا مذاق اڑائیں۔ اور اس طرح دولت ایمان و یقین سے مشرف ہونے کے بعد اپنے دامن کو فسق کے داغ دھبوں سے ملوث و آلودہ کریں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ کہ عزت و عظمت اور شرف و کرامت کا دارومدار اصل میں انسان کے ایمان و اخلاق اور مصداق و اخلاص پر ہے۔ جس کا تعلق انسان کے اپنے قلب وباطن سے ہے۔ اور اس کا علم اللہ وحدہ لاشریک ہی کو ہے۔ وہی جانتا ہے اور جان سکتا ہے کہ کسی کا دل کیسا ہے، اور اس کے باطن کی کیفیت کیا ہے، اس لیے انسان کو دوسروں کی طعنہ زنی اور ان کا مذاق اذانے کی بجائے اپنے قلب و باطن کی اصلاح کی کوشش میں لگے رہنا چاہئے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، سبحانہ وتعالیٰ وھو الھادی الی سواء السبیل فعلیہ نتوکل وبہ نستعین، فی کل ان وحین۔
[ 32] باہم دگر طعنہ زنی کی ممانعت کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا " اور نہ ہی تمہارے لیے یہ جائز ہے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو طعنے دو "۔ آیت کریمہ میں [ انفسکم ] فرمایا گیا ہے جس کا لفظی ترجمہ ہے " طعنے مت دو تم لوگ اپنے آپ کو "۔ اور مقصود یہ ہے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو طعنے نہ دیا کرو۔ سو اس تعبیر سے یہ عظیم الشان اور اہم درس دیا گیا ہے کہ اپنے مسلمان بھائی کو طعنہ دینا گویا خود اپنے آپ ہی کو طعنہ دینا ہے اور یہ اسلئے کہ مسلمان سب کے سب آپس میں ایک جسم کی مانند ہوتے ہیں۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں وارد ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ " مسلمان باہمی محبت و مودت اور تراحم وصلہ رحمی کے اعتبار سے ایک جسم کی طرح ہیں۔ اگر اس کے کسی ایک عضو کو تکلیف ہوگی تو پورا جسم تکلیف میں مبتلا ہوجائے گا "۔ نیز آیت کریمہ کی اس تعبیر میں یہ درس بھی ہے کہ جب ایک انسان دوسرے کیلئے ایسے کرے گا تو اس طرح گویا کہ وہ اپنے ہی خلاف کر رہا ہے کہ اس طرح یہ غلط راہ نکلتی ہے جس کے نتیجے میں کل اس کو خود بھی ایسی ہی صورت حال سے دو چار ہونا پڑے گا۔ والعیاذ باللّٰہ۔ واضح رہے کہ [ تلمزوا ] " لمز " سے بنا ہے۔ جس کے معنی ہیں " طعن کرنا "، " آنکھوں کے اشاروں کے ساتھ کسی کو کوئی طنز آمیز فقرہ چست کرنا " وغیرہ۔ جیسا کہ پ 10 سورة توبہ کی آیت نمبر 79 میں۔ { والذین یلزون المطوعین من المومنین فی الصدقت والذین لایجدون الا جھدھم فیسخرون منھم ط سخر اللّٰہ منھم ز ولہم عذاب الیم۔} منافقوں کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا۔ یعنی جب غریب مسلمان اپنے گاڑھے خون پسینے کی کمائی میں سے اللہ کی راہ میں کچھ خرچ کرے تو منافق لوگ ان سچے مسلمانوں کی حوصلہ شکنی کیلئے ان پر طنز یہ فقرے چست کرتے ہوئے کہتے کہ لو آج یہ صاحب بھی حاتم طائی کی قبر پر لات مارنے کھڑے ہوئے ہیں وغیرہ۔ سو اس طرح کے زہر آلود فقرے ایسا کہنے والے کے حسد کی بھی غمازی کرتے ہیں اور اس کے کبر و غرور کی بھی۔ اور ان کا اثر دوسروں پر یا تو حاصلہ شکنی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے یا نفرت وعناد کی مشکل میں۔ اور نہ دونوں ہی چیزیں معاشرے کے اندر زہر پھیلانے والی اور اس میں تباہی مچانے والی ہوتی ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اسلئے اس سے اہل ایمان کو اس طرح صاف اور صریح طور پر منع فرمایا گیا ہے کہ ہمزولمز اور طعن وتشنیع کی یہ برائیاں فسق و فجور میں داخل اور تقاضائے ایمان کے منافی ہیں۔ اس لئے جو لوگ شرف ایمان سے مشرف ہوچکے ہیں ان کیلئے یہ زیبا نہیں کہ وہ دولت ایمان سے سرفرازی کے بعد اپنے دامن کو ایسے داغ دھبوں سے آلودہ کریں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی پناہ میں رکھے۔
[ 33] باہم برے نام رکھنے کی ممانعت کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا " اور نہ تم ایک دوسرے کے برے نام رکھو " یعنی دوسرے کو کسی ایسے نام سے نہ پکارو جس میں اس کی توہین ہو، اور وہ اس کو برا لگتا ہو۔ جیس کسی کو " فاسق و فاجر " یا " یہودی و نصرانی " اور " منافق " وغیرہ کہہ کر پکارنا۔ [ المراغی، المحاسن وغیرہ ] حضرت ابو جبیرہ بن الضحاک کہتے ہیں کہ [ ولا تنابزوا بالالقاب ] ۔ کا ارشاد ہم بنو سلمہ کے بارے میں نازل ہوا کہ جب نبی اکرم ﷺ ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لائے تو اس وقت صورت حال یہ تھی کہ ہمارے درمیان کوئی ایسا شخص نہ تھا جس کے دو یا تین نام نہ ہوں۔ اور جب کوئی کسی کو ان ناموں میں سے کسی کے ساتھ پکارتا تو وہ اس کا برا لگتا۔ جب یہ بات آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پیش کی گئی تو اس پر یہ ارشاد نازل ہوا [ رواہ البخاری فی الادب المفرد واہل السنن وغیرہم، ابن جریر، ابن کثیر، المراغی وغیرذالک ] رہ گئے وہ القاب جن میں مذمت اور برائی کا نہیں حسن و خوبی اور مدح و ثنا کا پہلو پایا جاتا ہو، وہ نہ صرف کہ یہ اس ممانعت میں داخل اور ممنوع نہیں بلکہ وہ محمود و مطلوب ہیں۔ جیسے ابوبکر ؓ ۔ کیلئے " صدیق " اور " عتیق " کا لقب ووصف۔ حضرت عمر۔ ؓ ۔ کیلئے " فاروق "، حضرت عثمان غنی۔ ؓ کیلئے " ذوالنورین "، حضرت علی۔ ؓ ۔ کیلئے " اسد اللہ " اور " بوتراب " اور حضرت خالد بن ولید ؓ کیلئے " سیف اللہ " وغیرہ کہ ایسے القاب میں اگلے کیلئے توہین و تحقیر نہیں جو کہ نفرت اور دشمنی کا باعث بنتی ہے۔ بلکہ ان میں اس کے برعکس تعظیم و تکریم ہے جو کہ باہمی الفت اور ترابط و تآلیف کا ذریعہ بنتی ہے اور یہ چیز اصل مطلوب اور محمود ہے۔ والحمدللّٰہ جل وعلا۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے فضائل سے سرشار و بہرہ وہ، اور ہر طرح کے رذائل سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔
[ 34] فسق بڑا برا نام ہے۔ والعیاذ باللّٰہ جل وعلا :
سو اس میں تصریح فرمادی گئی کہ بڑا برا نام ہے فسق ایمان کے بعد۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " بڑا ہی برا نام ہے فسوق ایمان کے بعد "۔ اس ارشاد کے دو مطلب بنتے ہیں۔ اور دونوں ہی مطلوب و مراد ہیں۔ اور یہ کہ " تنابز بالالقاب " یعنی برے نام رکھنا فسق ہے۔ اور جب تم لوگ ایمان کے شرف سے مشرف ہوچکے ہو تو اس فسق کا ارتکاب اور اس میں نام پیدا کرنا بہت ہی بری بات ہے۔ ایمان کی دولت سے محروم کوئی انسان اگر ایسا کرے تو اس پر تعجب کی چنداں ضرورت نہیں۔ مگر تم لوگ اگر نور ایمان و یقین سے سرفرازی کے بعد ایسا کرو گے تو بہت برا ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ کہ جو کوئی ایمان لاچکا ہو تو اس کے بعد اس کو اس کے پرانے وصف کی بنا پر یہودی یا نصرانی وغیرہ کہہ کر پکارنا یا جو کوئی اپنے جرم و گناہ سے توبہ کرچکا ہو تو اس کے بعد اس کو " فاسق " یا " فاجر " اور " شرابی و زانی " وغیرہ کہہ کر پکارنا بہت برا ہے۔ [ جامع البیان، محاسن التاویل، بیضاوی، خازن، مدارک، اور صفوۃ وغیرہ ] ۔ سبحان اللّٰہ ! اس چھوٹے سے جملے میں کتنے عمدہ اور عظیم الشان دو ایسے درس دے دئیے جو معاشرے کی اصلاح کیلئے انقلاب آفریں تاثیر رکھتے ہیں۔ فالحمد للّٰہ رب العالمین۔ سو آپس میں ایک دوسرے پر برے القاب چسپاں کرنا انتہائی توہین و تذلیل کا باعث ہے جس سے عداوتیں اور دشمنیاں جنم لیتی ہیں اور جس سے آگے طرح طرح کے فتنے اور فساد رونما ہوتے ہیں۔ پس جس طرح اچھالقاب سے یاد کرنا باہمی الفت و محبت اور تآلیف و ترابط کا ذریعہ ہوتا ہے اسی طرح برے القاب سے یاد کرنا باہمی دشمنی اور نفرت کا باعث بنتا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ جل وعلا، بکل حال من الاحوال،
[ 35] برائی پر اصرار کرنے والے ظالم۔ والعیاذ باللّٰہ :
سو اس ارشاد میں ایسی بداخلاقیوں کے مرتکبوں کیلئے سخت تنبیہ و تہدید ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " جواب بھی توبہ نہیں کریں گے وہ بڑے ظالم لوگ ہیں " والعیاذ باللّٰہ۔ کہ ایسے لوگ اپنے خالق ومالک کے اوامر کو توڑ کر اور ان کی خلاف ورزی کرکے اس کے حق اطاعت و بندگی کے بارے میں ظلم کرتے ہیں۔ نیز اس طرح کرکے یہ لوگ اس کے رسول برحق اطاعت و اتباع کے بارے میں ظلم کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ نیز اس طرح کرکے یہ خود اپنے حق میں بھی ظلم کرتے ہیں کہ اس طرح یہ لوگ اپنے آپ کو اللہ پاک کے عذاب کا مستحق بناتے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ بہرکیف ان کلمات کریمہ سے ایسے لوگوں کیلئے سخت تنبیہ فرما دی گئی کہ جو اس وضاحت کے بعد بھی باز نہیں آئیں گے اور اس قسم کے کسی فسق کے مرتکب ہوں گے۔ تو وہ یاد رکھیں کہ وہ ظالم ٹھہریں گے۔ سو اس ارشادات سے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے سامنے ایمان کی برکتیں بھی ظاہر فرما دیں اور ان کو کفر و فسق کے نتائج سے بھی آگاہ کردیا۔ پس اب یہ ان لوگوں کی اپنی ذمہ داری ہے کہ وہ ہلاکت و تباہی کی راہ کو اپناتے ہیں یا ہدایت و نجات اور خیر و برکت کی راہ کو۔ سو اس طرح اتمام حجت کے بعد بھی جو لوگ اپنی روش سے باز نہیں آئیں گے وہ اس کے نتائج سے بہرحال دو چار ہو کر رہیں گے۔ اور یہ ان لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ظلم نہیں ہوگا بلکہ اس ظلم کے مرتکب ایسے لوگ خود اپنے کرتوتوں کی بنا پر ہوں گے۔ اور اس کا بھگتان خود ان کو بھگتنا ہوگا۔ " والعیاذ باللّٰہ جل وعلا بکل حال من الاحوال،
Ayah 49:12[ 36] بدگمانی سے بچنے کی تعلیم و تلقین کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا اور ایمان والوں کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ " تم لوگ بچتے رہا کرو کہ بدگمانی بڑا گناہ ہے۔ اور یہ آگے کئی فتنوں کی جڑ بنیاد ہے۔ والعیاذ باللّٰہ۔ اسی لئے نبی اکرم ﷺ نے اس کو سب سے بڑا جھوٹ " اکذب الحدیث " قرار دیا ہے۔ چناچہ صحیح بکاری وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی منقول ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اپنے آپ کو بدگمانی سے بچاؤ کہ بدگمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے " ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث " واضح رہے کہ [ کثیرا من الظن ] " بہت سی بدگمانیوں " کے کلمات کریمہ سے یہاں پر دو اہم درس اور بنیادی سبق اور بھی ملتے ہیں۔ ایک یہ کہ زیادہ تر گمان چونکہ غلط ہی ہوتے ہیں اس لئے گمان کے بارے میں تم ہمیشہ احتیاط ہی سے کام لیا کرو اور خواہ مخواہ ظن و گمان سے کام نہ لیا کرو بعض ظن یقینا گناہ ہوتے ہیں۔ اور دوسرے یہ کہ سب گمانوں سے بچنے کیلئے نہیں فرمایا گیا۔ کیونکہ بعض گمان صحیح بھی ہوتے ہیں۔ جیسے عام مسلمانوں سے نیک گمان رکھنا۔ اور بعض گمان واجب ہوتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ پاک کے بارے میں حسن ظن رکھنا وغیرہ۔ اسی لئے آگے تصریح فرما دی گئی کہ بعض ظن گناہ ہوتے ہیں۔ یعنی سب کے سب ظن گناہ نہیں ہوتے۔ بہرکیف اس ارشاد میں بدگمانی سے ممانعت فرمائی گئی ہے۔ کیونکہ گمان کی اچھائی یا برائی کا معاشرے کی اصلاح اور اس کے فساد کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہوتا ہے۔ کیونکہ حسن ظن اور نیک گمانی انسان کو دوسروں سے جوڑتی اور ان کے قریب کرتی ہے۔ جبکہ بدگمانی انسان کو دوسروں سے دور کرتی اور ان میں باہمی نفرت پیدا کرتی ہے۔ سو اس اعتبار سے گمان فصل ووصل کی اصل اساس اور بنیاد ہے۔ اسلئے ایک مومن کا کام اور اس کی شان یہی ہے کہ وہ دوسروں کے بارے میں ہمیشہ اچھا گمان ہی رکھے۔ الا یہ کہ کسی معتبر ذریعے اور ٹھوس شہادت سے یہ امر واضح ہوجائے کہ وہ حسن ظن کے قابل نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے اور نفس و شیطان کے ہر مکرو فریب سے ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
[ 37] باہمی تجسس کی ممانعت کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا " اور نہ ہی تم تجسس کرو "۔ کہ تجسس اور عیب جوئی تمہاری شان کے لائق نہیں۔ حضرت ابو برزہ اسلمی ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے غیب اور عیب جوئی سے منع کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ " جو کوئی دوسروں کی عیب جوئی میں لگے گا اللہ پاک اس کی عیب جوئی میں لگ جائے گا۔ اور جس کی عیب جوئی اللہ پاک فرمانے لگے تو وہ اسے رسوا کرکے چھوڑے گا اگرچہ وہ اپنے گھر کے نہاں خانہ ہی میں کیوں نہ ہو "۔ [ ترمذی، ابواب البر والصلۃ ابن جریر، ابن کثیر، محاسن التاویل وغیرہ ] ۔ والعیاذ باللّٰہ الذی لا الہ الاھو۔ بہرکیف اس ارشاد میں تجسس یعنی دوسروں کی ٹوہ میں لگنے سے روکا گیا ہے۔ لیکن جیسا کہ اوپر گمان کے بارے میں بیان ہوا کہ ہر گمان برا نہیں بلکہ وہ گمان برا ہے جو برائی کا باعث ہو۔ یہی طریقہ یہاں بھی سمجھا جائے کہ مطلق ٹوہ میں لگنا برا نہیں بلکہ وہ تجسس برا ہے جو برے مقصد سے ہو۔ والعیاذ باللّٰہ۔ لیکن دورحاضر میں تو اس برائی نے ایک پیشے اور فن کی حیثیت اختیار کرلی ہے۔ جدید اخبار نویسی نے تو اس کو بطور خاص بڑی ترقی دی ہے۔ ایسے لوگ تو دن رات کسی نہ کسی سکینڈل کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں اور اس چیز کو اخبار نویسوں کی بڑی چالاکی اور ہوشیاری سمجھا جاتا ہے۔ خاص کر کسی نمایاں شخصیت کی پرائیویٹ زندگی سے متعلق کسی ایسے سکینڈل کی تلاش کو جس سے اس کا اخبار ہاتھوں ہاتھ بک جائے۔ سو اس طرح کا تجسس چونکہ اس اخوت اور باہمی ہمدردی کے بالکل منافی ہے جس پر صالح اسلامی معاشرہ قائم ہوتا ہے اس لیے اہل ایمان کو اس سے اس قدر صراحت کے ساتھ روکا گیا ہے۔ رہا وہ تجسس جو کسی اچھے مقصد کیلئے ہو جیسے دوسرے مسلمان بھائی کی ضروریات اور اس کی مشکلات میں ہاتھ بٹانے کیلئے یا اسلامی حکومت اپنی رعایا کی خبر گیری کیلئے یا دوسروں کے شر سے بچنے کے لیے وغیرہ وغیرہ تو وہ نہ تو ممنوع و محذور ہے اور نہ ہی اس نہی کے عموم میں داخل ہے۔ بلکہ وہ " الامور بمقاصدھا " کے قاعدہ کلیہ کے مطابق مطلوب و محمود ہے۔ تاکہ اس طرح متوقع شرورفتن سے بچاؤ کا سامان کیا جاس کے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید،
[ 38] غیبت کی ممانعت کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا " اور نہ ہی تم لوگ ایک دوسرے کی غیبت کرو "۔ غیبت کی تعریف حدیث پاک میں یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ کسی کی اس کی پیٹھ پیچھے برائی کی جائے۔ حضور ﷺ سے عرض کیا گیا کہ اگر وہ برائی اس شخص میں پائی جاتی ہو تو کیا پھر بھی یہ غنیمت شمار ہوگی ؟ تو اس کے جواب میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر وہ برائی اس میں پائی جاتی ہوگی تو تب ہی تو وہ غنیمت ہوگی ورنہ تو یہ بہتان قرار پائے گا۔ [ جو کہ غیبت سے بھی بڑہ کر ہے ] والعیاذ باللّٰہ[ مسلم، ابو داؤد، ترمذی، نسائی وغیرہ ] اور کسی کی پیٹھ کے پیچھے اس کی برائی کرنے میں یہ بات خود داخل ہے کہ غیبت کرنے والا یہ چاہتا ہے کہ اس کے اس فعل کی خبر اس شخص کو نہ ہو جس کی غیبت وہ کر رہا ہے۔ اپنی اسی خواہش کی بنا پر وہ یہ کام اس کے پیٹھ صرف ان لوگوں کے سامنے کرتا ہے جو یا تو اس کے ہم خیال اور ہمراز ہوتے ہیں، یا کم سے کم اس کو ان لوگوں سے یہ اندیشہ نہیں ہوتا کہ یہ اس کے ہمدرد ہوں گے جس کی برائی وہ ان کے سامنے کر رہا ہے۔ اور یہ کہ وہ اس کا یہ راز اس کے سامنے فاش کردیں گے۔ اور غیبت کی یہی خصوصیت اس کو ایک نہایت مکروہ اور گھناؤ نافعل بنا دیتی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ۔ کیونکہ اس سے نہ کسی حق کی حمیت اور حمایت کا مقصد حاصل ہوتا ہے اور نہ کسی طرح کی کسی اصلاح کی کوئی توقع ہوسکتی ہے۔ بلکہ اس طرح صرف ایک بزدل شخص کسی کے خلاف اپنے دل کی بھڑ اس نکالنے اور اپنی آتش حسد کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتا ہے اور بس۔ والعیاذ باللّٰہ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔
[ 39] غیبت اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے برابر۔ والعیاذ باللہ :
سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ غیبت کرنا اپنے مردہ پڑے ہوئے بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم میں سے کوئی یہ بات پسند کرے گا کہ وہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے ؟ اور ظاہر ہے کہ نہیں کہ انسان کا گوشت کھانا اور وہ بھی اپنے بھائی کا۔ اور وہ بھی مرے ہوئے بھائی کا۔ آخر اس کو کون گوارا کرسکتا ہے ؟ تو پھر لوگ غیبت کو کس طرح گوارا کرتے ہو ؟ سنن ابن ماجہ وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کعبتہ اللہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھا، تو آپ ﷺ کعبہ شریف کو خطاب کر کے فرما رہے تھے کہ کعبہ ! تو کتنا پاکیزہ ہے اور تیری ہوا کس قدر پاکیزہ ہے، تیری شان کتنی بڑی ہے، اور تیری عزت و حرمت کس قدر عظیم ہے، لیکن مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ مومن کی عزت و حرمت اللہ تعالیٰ کے یہاں تیری عزت وحرمت سے بھی کہیں بڑھ کر ہے [ ابن کثیر وغیرہ ] امام احمد رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ اور امام بیہقی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ دو عورتیں زورے میں پیاس کی شدت سے نڈھال ہو رہی ہیں، تو آپ ﷺ نے ان دونوں کو بلا کر قیٔ کرنے کا حکم دیا، اور جونہی انہوں نے قیٔ کی تو ان کے منہ سے گوشت اور جمے ہوئے خون کے ٹکرے اور پیپ نکلی، اس پر آپ نے فرمایا کہ ان دونوں نے اللہ پاک کی حلال کردہ چیزوں سے تو روزہ رکھا مگر اس کی حرام کردہ چیزوں سے پرہیز نہیں کیا، یہ دونوں لوگوں کے گوشت کھاتی رہیں، [ یعنی غیبت کرتی رہیں ] ، یہاں تک کہ ان کے پیٹ خون اور پیپ سے بھر گئے، [ ابن کثیر اور جامع البیان وغیرہ ] ۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللّٰہم احفظنا منھا بمحض منک وکرمک یا ارحم الراحمین۔ بہرکیف اس مثال و ارشاد سے غیبت کے گھنونے پن کو آشکارا فرما دیا گیا کہ یہ اپنے مردہ پڑے ہوئے بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف ہے، جو کہ اپنی مدافعت سے بالکل عاجز اور قاصر ہوتا ہے سو جب تم لوگ اس بات کو گوارا نہیں کرتے کہ اپنے مردہ بڑے بھائی کا گوشت کھاؤ تو پھر غیبت کو کس طرح گوارا کرتے ہو ؟ حالانکہ غیبت کی برائی اور اس کا گھناؤنا پن اس سے بھی کہیں بڑھ کر ہے۔ اللہ ہمیشہ پر حال میں اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین،
[ 40] توبہ اور اصلاح احوال کی ترغیب کا ذکر وبیان :
چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور اللہ تعالیٰ کی شان توابیت اور اس کی رحمت و عنایت کے ذکر وبیان کے طور پر فرمایا گیا کہ بیشک اللہ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا انتہائی مہربان ہے۔ پس سچی توبہ کرنے پر وہ صرف گناہ ہی معاف نہیں فرماتا، بلکہ اپنی مزید رحمت سے بھی نوازتا ہے کہ وہ تواب ہونے کے ساتھ ساتھ رحیم اور مہربان بھی ہے، سبحانہ وتعالیٰ ۔ پس ضرورت اس امر کی ہے بندہ ہمیشہ اور دل و جان سے اس کے حضور جھکے اور جھکا ہی رہے کہ وہاں فیصلے دراصل دلوں کی نیتوں اور ارادوں پر ہی ہوتے ہیں، سو اس ارشاد میں بڑی تنبیہ بھی ہے، اور اصلاح احوال کی ترغیب بھی، لیکن جو لوگ اپنے بھائیوں کا مفت گوشت کھانے کے عادی ہوجاتے ہیں ان کو اس کی ایسی چاٹ لگ جاتی ہے کہ وہ اس کے پیچھے اپنا ایمان ہی گنوا بیٹھتے ہیں، والعیاذ باللّٰہ، پس تم لوگ توبہ اور اصلاح کے ذریعے اس ہولناک انجام سے بچ جاؤ، قبل اس سے کہ تلافی وتدارک کی یہ فرصت تمہارے ہاتھوں سے نکل جو آج حیات دنیا کی صورت میں تمہیں حاصل اور میسر ہے، حیات دنیا کی فرصت بہرحال محدود اور معدود ہے۔ سو اگر تم لوگوں نے سچے دل سے اور صحیح طور پر توبہ کرلی اور تم اللہ کی طرف صدق دل سے رجوع ہوگئے تو تم اس کی رحمت عنایت کی پوری امید رکھو کہ یقینا وہ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا، انتہائی مہربان ہے۔ یہاں پر یہ حقیقت بھی واضح رہے کہ اوپر کی تین برائیاں یعنی دوسروں کا مذاق اڑانا، طعن وتشنیع سے کام لینا، اور برے القاب چسپاں کرنا ان برائیوں میں سے ہیں جن کا ارتکاب انسان اعلانیہ اور عام لوگوں کے سامنے کرتا ہے جبکہ دوسری تین برائیوں یعنی بدگمانی تجسس اور غیبت کا تعلق ان برائیوں سے ہے جو انسان دوسروں سے چھپا کر یا اپنے محرمان راز کے سامنے کرتا ہے۔ سو دین حنیف نے ان دونوں ہی قسم کی برائیوں سے روکا اور منع فرمایا ہے اور یہی تقاضا ہے اسلامی تزکیہ و تطہیر کی اس مقدس تعلیم کا جو ظاہر اور باطن دونوں قسم کے گناہوں سے اجتناب کا درس دیتی ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { وذروا ظاھر الاثم وباطنہٗ ط ان الذین یکسبون الاثم سیجزون بما کانوا یفترون } [ الانعام : 120 پ 8] کہ چھوڑ دو تم لوگ گناہ کے ظاہر کو بھی اور اس کے باطن کو بھی۔ سو جب تک انسان ظاہر اور باطن کے ان دونوں ہی قسم کے گناہوں کو ترک نہیں کردیتا اور ان سے پاک نہیں ہوجاتا اس وقت تک اس کو وہ تزکیہ حاصل نہیں ہوسکتا جو اسلامی تعلیمات کی رو سے مطلوب ہے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، وھو الھادی الی سواء السبیل،
Ayah 49:13[ 41] نسلی اور خاندانی تفاخر و غرور پر فیصلہ کن ضرب کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا اور سب لوگوں کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ " اے لوگو ! ہم نے تم سب کو ایک ہی مرد اور عورت سے پیدا کیا "۔ یعنی آدم و حوا سے۔ تو پھر تمہارے لئے دوسروں کی طعنہ زنی اور ان کو گھٹیا سمجھنا تمہارے لئے کس طرح روا ہوسکتا ہے ؟ جب کہ اصل اور اساس تم سب کی ایک ہی ہے، تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم کی پیدائش مٹی سے ہوئی ہے { کلکم من ادم و ادم من ترابٍ } پس محض نسلی بنیادوں پر اپنی بڑائی جتانے کا کوئی جواز نہیں، کہ یہ چیز بندے کے اپنے اختیار میں نہیں۔ اور جو چیز کسی کے اختیار میں نہ ہو وہ معیار فضیلت نہیں بن سکتی۔ اسی لئے یہاں پر فضیلت و بندگی کا معیار تقویٰ و پرہیزگاری کو قرار دیا گیا ہے جو کہ انسان کے اپنے اختیار میں ہے، اس میں جو جتنا ترقی کرے گا اتنا ہی آگے بڑھتا جائے گا۔ وباللّٰہ التوفیق۔ بہرکیف اس ارشاد ربانی سے اس نسلی، خاندانی اور قبائلی غرور و تفاخر کا یکسر خاتمہ فرما دیا گیا جو ان برائیوں میں سے اکثر کا سبب بنتا ہے، جن کا ذکر اوپر فرمایا گیا اور جس نے دنیا میں ہمیشہ تباہی مچائی۔ اس کی بناء پر جگہ جگہ اور طرح طرح سے خون ریزی ہوئی، اور آج تک ہو رہی ہے اور جس کے باعث تاریخ کے مختلف ادوار میں کشتوں کے پشتے لگے، اور آج تک لگ رہے ہیں، قرآن حکیم نے اس طرح اس کی جڑ کاٹ دی، اور نسلی اور خاندانی تفاخر و غرور پر فیصلہ کن ضرب لگائی۔ فالحمدللہ۔ پس یہ حقیقت صاف اور واضح ہوگئی کہ محض نسالی اور خاندانی تفاخر کوئی چیز نہیں۔
[ 42] خاندانوں اور قبائل کی تقسیم سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے :
چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم ہی نے تم لوگوں کو مختلف قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا "۔ " شعوب " جمع " سعب " کی۔ جس کے معنی قوم کے آتے ہیں۔ اور آج بھی عرب ملکوں میں یہ لفظ اسی معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً عرب آج بھی کہتے ہیں " شعب الامارات "، " الشعب السعودی "، " شعب فلسطین " اور " شعب لیبیا " وغیرہ وغیرہ۔ اور قبائل جمع ہے قبیلہ کی۔ جس کو اردو میں خاندان کہا جاتا ہے۔ عربی زبان کی وسعت اور ہمہ گیری کا یہ بھی ایک مظہر اور ثبوت ہے کہ اس میں طبقات نسل کے اعتبار سے لوگوں کے مختلف طبقوں کیلئے سات نام آتے ہیں جن میں سب سے اوپر شعب ہے اور سب سے نیچے عشیرہ۔ اور باقی ان دونوں کے درمیان۔ اور جب تم لوگوں کو مختلف قوموں اور قبیلوں میں ہم ہی نے تقسیم کیا ہے، تم میں سے کسی کا اس میں کوئی دخل اور اختیار نہیں تو پھر یہ چیز ہو کسی کے بس اور اختیار ہی میں نہیں باہمی تفوق اور تفاخر کا باعث آخر کیونکر بن سکتی ہے ؟ قابل تفاخر تو وہ چیز ہوسکتی ہے جو انسان کے اپنے بس اور اختیار میں ہو، سو کسی خاص خاندان یا قبیلے میں پیدا ہوجانے سے کسی کو کوئی ایسا امتیاز حاصل نہیں ہوجتا کہ وہ اپنے آپ کو دوسروں کے مقابلے میں اعلیٰ و اشرف سمجھنے لگے اور دوسروں کو اپنے مقابلے میں گھٹیا اور حقیر قرار دینے لگے کہ یہ چیز عقل و نقل دونوں کے تقاضوں کے خلاف اور منافی ہے۔ بہرکیف جب خاندانوں اور قبائل کی تقسیم اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے انسان کا اس میں کوئی دخل اور اختیار نہیں تو پھر یہ چیز انسان کی فضیلت اور اس کے تقوق کا باعث اور معیار آخر کس طرح بن سکتی ہے ؟ پس اصل چیز تقویٰ و پرہیزگاری ہے اور بس۔ اللہ نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین۔
[ 43] قوموں اور قبیلوں کی تقسیم محض باہمی تعارف کے لئے :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے تم لوگوں کو مختلف قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا کہ تاکہ تم لوگ آپس میں پہچان کرسکو۔ نہ اس لئے کہ تم محض اس بناء پر ایک دوسرے پر فخر جتانے لگو، اور اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں دوسروں کو اپنے سے گھٹیا اور حقیر سمجھنے لگو، اور اس بناء پر ایک دوسرے کے کشت و خون کے درپے ہوجاؤ، کہ پیدائش کا معاملہ انسان کے اپنے بس اور اختیار میں ہے ہی نہیں، اور فخر اسی چیز پر کیا جاسکتا ہے جو انسان کے اپنے بس اور اختیار میں ہو، سبحان اللہ ! کتنا اہم اور کس قدر معقول اور بنیادی درس دیا اس کتاب حکیم نے دنیا کو، مگر افسوس کہ دنیا اس سے غافل و بیخبر ہے، یہاں تک کہ خود مسلمان بھی اس سے غافل و بےبہرہ ہے۔ اور آج کے جاہل اور غافل انسان نے اس عظیم الشان درس کو بھلا کر عقل و نقل اور فطرت سلیمہ کے عین مطابق ارشاد فرمائی جانے والی ان تعلیمات مقدسہ کو پس پشت ڈال کر نسل و خاندان ہی کو فضیلت و بزرگی کے لئے اصل اور معیار قرار دے رکھا ہے، اور اسی نسلی اختلاف و تفاوت کی بنا کر جگہ جگہ کشت و خون کے بازار گرم کر رکھے ہیں، جس کے نتیجے میں رونگٹے کھڑے کردینے والے حوادث و واقعات، یہاں اور وہاں، جگہ جگہ، اور طرح طرح، سے رونما ہوتے رہتے ہیں، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ قوموں اور قبیلوں کی تقسیم محض تعارف کیلئے ہے، اور معیار فضیلت و برتری صرف تقویٰ و پرہیزگاری ہے، اور بس۔ جس کی یہاں پر تفریح فرما دی گئی، والحمدللّٰہ جل وعلا۔
[ 44] معیار فضیلت و برتری صرف تقویٰ و پرہیزگاری :
پس اگر قابل فخر بننا ہے تو تقوے کا یہ وصف اپنے اندر زیادہ سے زیادہ پیدا کرو، سبحان اللّٰہ، مساوات اور حقوق انسانی کے دعویداروں کی آنکھیں تو آج کھل رہی ہیں، اور وہ بھی محض برائے نام مگر اسلام نے اپنی مقدس تعلیمات میں اس کا درس اور اس قدر واضح اور ٹھوس انداز میں دیا اور آج سے چودہ سو برس پہلے دیا تھا، اور اس وقت جب کہ پوری دنیا سوئی ہوئی تھی اور پوری نوع انسانی کو خطاب کرکے اور اس قدر عمدگی، جامعیت اور معقولیت کے ساتھ درس دیا کہ دور حاضر کی دنیا اپنی تمام تر روشن خیالوں، اور بلند بانگ دعوؤں کے باوجود اس کے عشر عشیر کو بھی نہ آج تک پہنچ سکی ہے، اور نہ قیامت تک پہنچ سکے گی، کہ یہ حضرات خالق جل مجدہ کے علم و حکمت پر مبنی تعلیم ہے، اگر اللہ پاک کی طرف سے مفصل تفسیر لکھنے کے ارادے کو عملی جامہ پہنانے کی توفیق وسعادت نصیب ہوگئی، تو انشاء اللہ اس سلسلہ میں پوری تفصیل وہاں پیش کی جائے گی۔ واللّٰہ الموفق وھو المستعان وعلیہ التکلان بہرکیف اس سے اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ معیار فضیلت و برتری تقویٰ و پرہیزگاری ہے۔ سو اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ عزت والا شخص وہ ہوگا اور وہی ہوسکتا ہے جو اس سے سب سے زیادہ ڈرنے والا اور اس کی مقرر فرمودہ حدود وقیود کی سب سے بڑھ کر پابندی کرنے والا ہوگا۔ خواہ وہ کوئی بھی ہو اور کہیں کا بھی ہو۔ اور اس کا تعلق کسی بھی قوم قبیلے سے ہو۔ وہ کوئی بھی زبان بولتا ہو اور کسی بھی رنگ اور نسل سے تعلق رکھتا ہو۔
[ 45] معاملہ اللہ کے ساتھ صحیح رکھنے کی ضرورت :
کہ سب کچھ اسی وحدہٗ لاشریک کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ بڑا ہی جاننے والا پوری طرح باخبر ہے، سبحانہ و تعالیٰ ، اس لئے ظاہر تو ظاہر ہے تمہارے باطن کی کوئی کیفیت، اور تمہارے دلوں کی کوئی حالت بھی اس سے مخفی و مستور نہیں رہ سکتی، لہٰذا ہمیشہ اپنے باطن اور اپنے دلوں کی دنیا کو درست رکھو، کہ اس وحدہ لاشریک کی نظر ظاہر سے پہلے تمہارے باطن پر ہے، اور وہاں فیصلے صرف ظاہر داری پر نہیں، باطن اور اصل حقائق پر ہوتے ہیں، سو جو عزت کا مستحق ہوگا وہ اپنا مقام عزت بہرحال پاکر رہے گا، اگرچہ وہ کتنے ہی گمنام اور حقیر خاندان سے کیوں نہ اٹھا ہو، اور جو اس کے برعکس عزت و عظمت کا مستحق نہیں ہوگا وہ ذلت و رسوائی کے اس ہولناک گڑھے میں بالآخر گر کر رہے گا جس کا وہ سزا وار ہوگا، خواہ وہ کتنے ہی بڑے خاندان سے تعلق رکھنے والا کیوں نہ ہو، کہ اللہ تعالیٰ ہر کسی کو پوری طرح جانتا ہے سبحانہ ع تعالیٰ ، سو محض اپنے گھمنڈ اور زبانی کلامی دعوؤں سے کچھ نہیں بنتا خواہ کوئی سورج بنسی اور چاند بنسی ہی کیوں نہ بنتا ہو پس اصل چیز یہ ہے کہ اپنے اس خالق ومالک سے معاملہ صحیح رکھا جائے جس کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہر چیز کی باگ ڈور ہے اور جو بندے کے ظاہر و باطن سے پوری طرح واقف و آگاہ ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اللّٰہم فخذنا بنواصینا الی ما فیہ حبک ورضاک بکل ھال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔
Ayah 49:14[ 46] ایمان محض زبانی کلامی دعوے کی چیز نہیں :
سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ایمان محض زبانی کلامی دعوے کی چیز نہیں بلکہ وہ اصل اور حقیقی ایمان مطلوب ہے جو دل میں جاگزیں ہو۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ بدوی لوگ کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے۔ سو تم ان سے کہو کہ تم لوگ ایمان نہیں لائے۔ یہوں نہیں فرمایا کہ تم جھوٹ بولتے ہو، یا تم جھوٹے ہو، بلکہ یوں فرمایا کہ تم ایمان نہیں لائے، سو اس میں ادب اور حسن تخاطب کی تعلیم ہے، کہ مخاطب کو ایسے الفاظ میں خطاب نہ کیا جائے جس سے وہ چڑجائے اور ضد میں آکر حق سے منہ موڑلے، اور یہ حکمت تبلیغ کا ایک بڑا اہم اور بنیادی اصول ہے، جس کو دین حنیف کی تعلیمات مقدسہ میں طرح طرح سے واضح فرمایا گیا ہے، بہرکیف اس میں اطراف مدینہ میں رہنے والے ان بدویوں کا ذکر فرمایا گیا ہے جو اسلام اور پیغمبر اسلام پر یہ احسان جتلاتے تھے کہ ہم لوگ لڑے بھڑے بغیر ایمان لائے ہیں، اور اس بنا پر یہ لوگ اس زعم میں مبتلا تھے کہ ان کیلئے خاص حقوق ورعایات ہونی چاہئیں، اسی لیے ان لوگوں کی خواہش یہہوتی تھی کہ جب یہ آنحضرت ﷺ کی ملاقات کیلئے آئیں تو آپ ان سے بلاتاخیر اور فوری ملاقات کریں۔ یہاں تک کہ اگر آنحضرت ﷺ گھر کے اندر ہوتے تو بھی یہ لوگ انتظار کی زحمت گوارا نہ کرتے، بلکہ باہر سے آپ کا نام لے کر پکارنا شروع کردیتے، اور ان کے اس گنواز پن میں جہاں ان کی تربیت کے فقدان اور اس کی محرومی کا دخل تھا وہیں ان کے اس گھمنڈ کا بھی دخل تھا کہ یہ لوگ لڑے بھڑے بغیر اور بدوں کسی جنگ وجدال کے ایمان لائے ہیں۔ اس لیے ان کا پیغمبر پر اور اسلام پر احسان ہے۔ اس لئے پر موقع پر ان کی نازبرداری ہونی چاہیے۔ سو ان لوگوں کی اس ذہنیت پر یہاں ضرب لگائی گئی ہے۔ والحمدللّٰہ جل وعلا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔
[ 47] ایمان کا اصل محل دل ہے :
سو ان لوگوں سے ارشاد فرمایا گیا کہ حالانکہ ایمان ابھی تک تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔ ابھی یعنی " لما " استعمال ہوا ہے نہ کہ لم کا اور ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ لم تو مطلقاً نفی کے لئے آتا ہے مگر لما اس نفی کے لئے استعمال ہوتا ہے جس میں ابھی تک فعل پایا نہ جاتا ہو لیکن آئندہ پائے جانے کی امید ہو، چناچہ روایات کے مطابق یہ حضرات بھی بعد میں پختہ اور قلبی ایمان سے مشرف ہوگئے تھے، سبحان اللہ ! کیسی نزاکتیں، باریکیاں، اور لطافتیں ہیں، عربی زبان اور اس کتاب حکیم میں۔ فالحمد للّٰہ الذی شرفنا بھذا الکتاب العظیم وبفھم ھذہ اللغۃ والعظیمۃ المبارکۃ۔ بہرکیف اس ارشاد سے ان کو جواب دیا گیا کہ تم لوگ اپنے ایمان کی حکایت اتنی زیادہ نہ بڑھاؤ، اس نے تو ابھی صرف تمہارے دلوں کے دروازے پر دستک دی ہے، ابھی تک وہ ان میں داخل ہوا ہی نہیں، اور یہ ایمان اللہ تعالیٰ کے یہاں معتبر نہیں، اس کے یہاں معتبر وہ ایمان ہے جو انسان کے رگ ر پے میں اس طرح سرایت کر جائے کہ اس کے دل و دماغ اور ظاہر و باطن کو اس طرح اپنے رنگ میں رنگ دے کہ اس کیلئے اس سے الگ ہو کر سوچنا اور کوئی عمل کرنا آسان نہ رہ جائے، سو عقل و خرد کا تقاضا یہ ہے کہ تم لوگ زبانی کلامی ایمان کے دعوے کرنے اور اسلام اور پیغمبر اسلام پر احسان جتلانے کی بجائے اپنے اندر ایسا سچا پکا اور حقیقی ایمان پیدا کرنے کی فکر و سعی کرو، تاکہ تمہارا بھلا ہو دنیا کی اس عارضی زندگی میں بھی اور آخرت کے ابدی جہاں اور حقیقی زندگی میں بھی۔ کیونکہ انسان نے حساب اس ذات کے یہاں دینا ہے جو علیم، بذات الصدور ہے، سبحانہ و تعالیٰ ۔
[ ایمان اور اسلام کے درمیان باہمی نسبت ؟:
سو اس سے معلوم ہوا کہ ایمان کا محل انسان کا دل اور اس کا باطن ہے اور اسلام کا تعلق ظاہری اعضاء وجوارح سے، اسی لئے اس آیت کریمہ سے ایمان اور اسلام کے تغایر پر استدلال کیا گیا ہے، مگر ہمارے نزدیک اس بحث میں صحیح یہ ہے کہ لفظ ایمان و اسلام دراصل ان الفاظ میں سے ہیں جو عربی کے اس مشہور قاعدے کے ماتحت آتے ہیں۔ اذا اجتمعا افترقا اجتمعا۔ یعنی یہ دونوں جب اکٹھے استعمال ہوتے ہیں تو ان کے معانی الگ الگ اور مختلف ہوتے ہیں۔ جیسے یہاں پر ہے۔ اور جب ان دونوں میں سے کوئی ایک بولا جائے تو دوسرے کے مفہوم کو بھی شامل ہوتا ہے۔ جیسے { ان الدین عند اللّٰہ الاسلام } میں ہے، اور اس کی مثال لفظ فقیر اور مسکین کی ہے، کہ ان دونوں لفطوں کی کیفیت بھی یہی ہے، بہرحال ان اعراب [ دیہاتیوں ] سے فرمایا گیا کہ ایمان صرف زبان سے دعوی کردینے کا نام نہیں، بلکہ زبانی دعوے کے ساتھ ساتھ اس کی حقیقت کا دل میں جاگزیں ہونا بھی ضروری ہے، اور تمہارے اندر موجود نہیں، ورنہ تم لوگ اپنے ایمان کا اس طرح ہم پر احسان نہ جتلاتے " کہ ہم بغیر لڑے بھڑے ایمان لائے ہیں، وغیرہ وغیرہ بلکہ تم اللہ کا شکر ادا کرتے کہ اس نے تم کو نور ایمان کی دولت سے نوازا ہے جو کہ سب سے بڑی اور بےمثال دولت ہے اور جو دارین کی سعادت اور سرخروئی سے سرفرازی کا واحد ذریعہ ہے۔
[ 49] اطاعت خدا و رسول کا صلہ وثمرہ خود اطاعت گزاروں کے لیے :
سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ اور اس کے رسول کی سچی اطاعت کا صلہ وثمرہ خود اطاعت گزاروں ہی کو پہنچے گا۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم لوگ اطاعت و فرمانبرداری کروگے اللہ اور اس کے رسول کی تو وہ تمہارے اعمال میں سے کچھ بھی کم نہیں کرے گا یعنی ایمان کامل اور اخلاص واقعی کے ساتھ، اور احسان جتلانے کی بجائے اللہ پاک اور اس کے رسول اکرم کا یہ احسان اپنے اوپر مان کر، کہ اللہ پاک کی طرف سے اور اس کے رسول کے ذریعے تم پر ہدایت کا یہ عظیم الشان احسان ہوا، اور اس کی قدردانی میں تم نے اللہ اور اس کے رسول کا شکر ادا کیا کہ تمہیں ایمان جیسی عظیم و بےمثال دولت نصیب ہوئی ہے، سو اس میں ان احسان جتلانے والوں کو تنبیہ ہے کہ اگر تم اسلام لائے یا تم نے اسلام کی کوئی خدمت کی، تو اس کا احسان آخر کیوں جتلاتے ہو، اس کا صلہ وثمرہ تو خود تم ہی لوگوں کو ملے گا اور یہ سب کچھ خود تم ہی لوگوں کو کام آئے گا، اللہ تمہارے کسی بھی عمل میں ذرہ برابر کوئی کمی کرنے والا نہیں، تو پھر اس کا احسان جتلانے کا کیا مطلب ؟ پس عقل و نقل کا تقاضا یہی ہے کہ انسان اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے ذریعے اپنے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان کرے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، وھو الھادی الی سواء السبیل۔
[ 50] اطاعت گزاروں کے لیے تسکین و تسلی کا سامان :
سو اطاعت گزاروں کی تسکین و تسلی کے لئے ارشاد فرمایا گیا اور " ان " کی تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑا ہی بخشنے والا نہایت ہی مہربان ہے، اس لئے وہ واھب مطلق جل جلالہٗ تمہارے اعمال میں کچھ بھی کمی نہیں کرے گا۔ بلکہ وہ تمہیں پورے اجر وثواب اور اس سے بھی زیادہ سے نوازے گا، اور تمہارے لئے اطاعت و فرمانبرداری کا یہ دروازہ ہمیشہ کیلئے کھلا ہے، سبحان اللّٰہ، کیا کہنے اس کرم کے ؟ کہ کرم ہی کرم اور نوازش ہی نوازش ہے، سو تصریح فرما دی گئی کہ وہ تمہارے کسی بھی عمل میں ذرہ برابر کوئی کمی نہیں کرے گا، بلکہ تمہارے ہر چھوٹے بڑے عمل کا تم کو بھرپور صلہ اور بدلہ دے گا کہ وہبڑا ہی شکور اور قدردان ہے، سبحانہ وتعالیٰ جل و علام، تم ایک کرو گے ستر پاؤ گے سو تمہارا ہر عمل خود تم ہی لوگوں کو کام آنے والے ہے۔ سو جب تم اپنے ہی بھلے کیلئے اور اپنا ہی کام کرتے ہو تو پھر اس کا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ پر احسان رکھنے کا آخر کیا مطلب ؟ اور مزید خوش خبری یہ کہ وہ وحدہٗ لاشریک غفور بھی ہے اور رحیم بھی۔ پس تمہاری خامیوں اور کوتاہیوں سے وہ درگزر بھی فرمائے گا اور تم لوگوں کو اپنی رحمتوں اور عنایتوں سے بھی نوازے گا اور تمہیں صلہ دینے میں ذرہ بھر کوئی کمی نہیں کرے گا اور اس کا بھی کوئی خدشہ و اندیشہ نہیں کہ وہ اعمال کی قیمت کم کرنے کے لئے تمہارے چھوٹے چھوٹے نقائص کو بہانا بنائے کہ وہ ایسے تمام تصورات سے پاک اور اعلیٰ وبالا ہے اور وہ بڑی ہی مغفرت و بخشش اور رحمت والا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ جل وعلا۔
Ayah 49:15[ 51] اہل ایمان کے بعض اہم اوصاف کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا اور کلمہء حصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ مومن تو اصل میں وہی لوگ ہیں جو صدق دل سے ایمان لائے اللہ اور اس کے رسول پر۔ پھر انہوں نے کوئی شک نہیں کیا اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کیا اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ۔ یہی لوگ ہیں سچے۔ یعنی یہی لوگ سچے ہیں اپنے دعویء ایمان میں، کہ انہوں نے اپنے عمل و کردار اور اپنی صفات و خصال سے اپنی صداقت کا ثبوت پیش کردیا، انہوں نے صرف زبانی کلامی دعوی ہی نہیں کیا بلکہ عمل طور پر اس کا ثبوت بھی دیا، اور اللہ کی راہ میں اپنی جانوں اور مالوں کا انذرانہ بھی برضا ورغبت پیش کیا، سو یہ ہیں حقیقی اہل ایمان کے اوصاف کہ وہ صدق دل سے ایمان رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر، پھر اس بارہ کسی قسم کا شک نہیں کرتے اور اللہ پاک کی راہ میں جہاد کرتے ہیں، اپنے مالوں سے بھی اور اپنی جانوں سے بھی، اور یہی ہیں سچے مومن جنہوں نے اپنے دعوے کا عملی ثبوت پیش کیا۔
Ayah 49:16[ 52] ایمان کے دعویداروں کے ضمیر پر ایک دستک کا ذکر وبیان :
سو ایمان کے دعویداروں کے ضمیروں کو جھنجھوڑنے کے لئے اور ان کے ضمیروں پر ایک دستک کے طور پر فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ کیا تم لوگ اللہ کو اپنے دین کی خبر دینے چلے ہو ؟ جو اس طرح اپنے ایمان کے بلند بانگ دعوے کرتے ہو، سو اگر ایسے ہے تو تم لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کو جانتا ہے، اور وہ ہر شئی سے پوری طرح واقف و آگاہ ہے، کوئی بھی چیز اس سے ڈھکی چھپی نہیں، مطلب یہ کہ اگر تم لوگوں کو اپنے دین و ایمان پر ناز ہے تو تم کسی ایسے کے سامنے ناز کرو، جو تمہارے دین و ایمان کی حقیقت سے بیخبر ہو، اس ذات اقدس و اعلیٰ کے سامنے ناز کرنے کا کیا مطلب اور کیا فائدہ ؟ جو اس کائنات کی ظاہر و پوشیدہ ہر چیز سے پوری طرح واقف و آگاہ ہے، کیا وہ تمہارے دین و ایمان کے طول و عرض سے آگاہ نہیں ہوگا، جو اس کائنات کے ذرے ذرے سے واقف و آگاہ ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ لہٰذا تم لوگ ایسے دعوے کرنے کی بجائے اپنے اور سچے پکے ایمان و یقین کو پیدا کرنے کی کوشش کرو، اس واہب مطلق کا دل و جان شکر ادا کرو جس نے تمہیں ایمان و یقین کی دولت بےمثال سے نوازا ہے تاکہ اس طرح تم لوگ سرفراز ہو سکو دین کی سعادت اور سرخروئی سے فلک الحمد والشکر یا ربی علی ماکرمتی وشرفتنی بنعمۃ الدین والایمان وبخدمۃ ھذا الدین المبارک المجید۔
[ 53] اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا حوالہ و ذکر :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہر چیز کو پوری طرح جانتا ہے اس سے کوئی بھی چیز مخفی اور پوشیدہ نہیں ہوسکتی۔ پس ایسے بلند بانگ دعادی کرنے کی بجائے، تم لوگ اپنے ظاہر و باطن کی دنیا کو درست رکھو کہ اس خدائے پاک سے تمہاری کوئی بھی حالت چھپی ہوئی اور پوشیدہ نہیں، کہ وہ ہر چیز کو پوری طرح جانتا ہے جل جلالہ اس سے تمہارے دین و ایمان کی کوئی حالت اور کیفیت نہ مخفی و مستور ہے، نہ مخفی و مستور ہوسکتی ہے، سبحانہ وتعالیٰ ۔ اس لیے اس کے یہاں محض ظاہرداری اور خالی خولی دعو وں سے کام نہیں چلے گا وہاں پر صدق و اخلاص کی ضرورت ہے کہ اس کی شان یعلم خائنۃ الاعین وما تخفی الصدور کی شان ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین،
Ayah 49:17[ 54] بدویوں کے احسان جتلانے کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ آپ پر احسان رکھتے ہیں کہ یہ اسلام لائے۔ جس طرح کہ بنو اسد وغیرہ کے کچھ لوگوں نے آنحضرت ﷺ سے احسان جتلاتے ہوئے کہا تھا کہ ہم بغیر لڑے بھڑے آپ پر ایمان لے آئے جب کہ دوسروں نے آپ سے جنگ وجدال سے کام لیا، وغیرہ، سو یہیں سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ کسی کو اگر دین کی کوئی خدمت انجام دینے کی توفیق مل رہی ہے تو وہ کسی اور پر اس کا احسان جتلانے کی بجائے، اسے خود اپنے اوپر اللہ پاک کا احسان سمجھے کہ اسی کے فضل و کرم سے یہ سعادت نصیب ہوئی ہے، جو کہ دارین کی فوزوفلاح کا ذریعہ ہے، منت منہہ کی خدمت سلطان می کہ منت ازوشناس کہ بخدمت گزاشتت، یعنی بادشاہ پر احسان مت جتلاؤ کہ تم اس کی خدمت کر رہے ہو، بلکہ احسان اس کا سمجھو کہ اس نے تمہیں اپنی خدمت کے شرف سے مشرف فرمایا ہے۔ فلک الحمد والشکر یا ربی علی ما کرمتی وشرفتنی بنعمۃ الدین والایمان وبخدمۃ ھذا الدین المبارک المجید یا ارحم الراحمین ویا اکرم الاکرمین۔ بہرکیف اس سے ان بدوی لوگوں کے اس گھمنڈ کے بارے میں ارشاد فرمایا جو وہ اپنے ایمان و اسلام کے بارے میں اپنے دماغوں میں رکھتے تھے کہ ہم چونکہ کسی لڑائی بھڑائی کے بغیر ایمان لائے ہیں اس لئے ہمارے لئے خاص رعایتیں اور خاص حقوق ہونے چاہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی پناہ میں رکھے اور ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین۔
[ 55] احسان جتلانے والے بدویوں کو جواب :
سو احسان جتلانے والے ایسے اعراب کے جواب میں ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ اپنے اسلام کا احسان مجھ پر نہ رکھو کہ میں نے تم کو اسلام کو دعوت نہ تو اپنے کسی ذاتی فائدے کے لئے دی اور نہ ہی اس سے میرا کوئی ذاتی اور دینوی مفاد وابستہ ہے۔ بلکہ یہ سراسر تمہاری ہی بھلائی اور خیر خواہی کے لئے ہے، تو پھر مجھ پر احسان جتلانے کا کیا مطلب ؟ میں نے تو تم لوگوں کو دین کی دعوت خود تمہارے بھلے کے لیے دی کہ تاکہ اس طرح تمہاری دینا بھی بنے اور آخرت بھی۔ سو تم لوگ اگر دین و ایمان میں سچے ہو تو تمہارا احسان مجھ پر نہیں، بلکہ احسان تو اصل میں اللہ تعالیٰ کا تم لوگوں پر ہے کہ اس نے تم کو اسلام کی نعمت سے نوازا۔ جو کہ سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ پس تم لوگ اسی کا شکر ادا کرو۔
[ 56] احسان تو اصل میں اللہ تعالیٰ ہی کا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اپنے اسلام کا احسان مجھ پر مت جتلاؤ بلکہ احسان تو اللہ کا تم لوگوں پر ہے۔ کہ اس نے تم کو دولت ایمان سے نوازا، کہ ایمان و یقین کی اس دولت اور دین حنیف کی تعلیمات مقدسہ میں تمہارے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان ہے، فالحمدللّٰہ اگر تم لوگ سچے ہو اپنے دعویٰ ایمان میں یعنی اول تو تم لوگ اپنے اس دعوے ہی میں سچے نہیں ہو، بلکہ یہ سب کچھ تمہاری لاف زنی اور محض زبانی جمع خرچ ہے، اور اگر تمہاری اس بات میں کچھ صداقت اور وزن ہے تو تمہیں ہم پر احسان جتلانے کی بجائے اللہ تعالیٰ کا ممنون واحسان اور شکرگزار ہونا چاہیے کہ اس نے تمہیں اس کی توفیق بخشی۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ ورنہ تم لوگ گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ڈوبے ہوئے تھے۔ پس کرم اسی وحدہٗ لاشریک کا ہے۔
Ayah 49:18[ 57] اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا حوالہ و ذکر :
سو مدعیان ایمان کے جواب کیلئے علم الٰہی کے کمال و شمول کا حوالہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ اللہ جانتا ہے آسمانوں اور زمین کی سب چھپی باتوں کو۔ پس اس سے تمہاری کوئی چیز پوشیدہ نہیں رہ سکتی، اس لئے زبانی کلامی دعوے کرنے کی بجائے تم لوگ ہمیشہ اپنے ظاہر و باطن کی اصلاح کی فکر کرو، کہ تمہارا واسطہ ایسی علیم وخبیر ذات سے ہے جس سے آسمان و زمین کی اس پوری کائنات کی کوئی بھی چیز مخفی و مستور نہیں۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ بہرکیف آخر میں اس بات کو پھر واضح فرما دیا گیا کہ اپنے ایمان و اسلام کی حکایت کو زیادہ بڑھانے اور بتانے جتانے کی ضرورت نہیں، بلکہ اپنا معاملہ اللہ کے ساتھ صاف رکھنے کی ضرورت ہے، کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کی اس پوری کائنات کے تمام بھیدوں اور کھلی چھپی باتوں کو پوری طرح اور ایک برابر جانتا ہے۔ اور وہ ان تمام کاموں پر پوری طرح نگاہ رکھے ہوئے ہے جو تم لوگ کرتے ہو۔ اس لیے بلندو بانگ دعوے کرنے اور زبانی کلامی باتیں بنانے کی بجائے اس سے اپنا معاملہ صاف اور صحیح رکھنے کی ضرورت ہے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید،