45. Surah Al-Jaathiya

الجاثيةCrouching · 37 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 45:20

هٰذَا بَصَآئِرُ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ Open ayah 45:20 in the Quran reader

یہ (قرآن) مجموعہ ہے بصیرت افروز آیتوں کا سب لوگوں کے لئے اور سراسر ہدایت اور عین رحمت ہے ان لوگوں کے لئے جو یقین رکھتے ہیں

36 قرآن حکیم مجموعہ بصائر : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ قرآن مجموعہ ہے بصیرت افروز آیتوں کا "۔ جو کہ قلب و نظر کو جلا بخشتی، عقل و خرد کو منور کرتی اور راہ حق و صواب کو واضح کرتی ہیں۔ اور اس طرح یہ انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز و سرشار کرتی جاتی ہیں ۔ فالحمد للہ رب العالمین ۔ سو یہ قرآن حکیم چشم کشا اور بصیرت افزا آیتوں کا مجموعہ ہے۔ پس جو لوگ اس سے منہ موڑتے اور روگردانی سے کام لیتے ہیں وہ خود اپنی ہی نحوست اور بدبختی کے داغ کو پکا کر رہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کس قدر بدبخت اور کتنے محروم ہیں مشرکین و منکرین کے وہ گروہ جو اس کے خلاف محاذ بناتے ہیں اور اس طرح وہ اپنے ساتھ دوسروں کو بھی محروم کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کی آیات کریمات کا مذاق اڑاتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ اس کتاب حکیم کی بےمثال روشنی سے محروم ہو کر کفر و شرک اور انکار و بغاوت کے ہولناک گڑھوں میں چھلانگ لگاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل سوء وانحراف۔ 37 قرآن حکیم سراسر رحمت اور نری ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ کتاب حکیم سراسر ہدایت اور عین رحمت ہے ان لوگوں کیلئے جو یقین رکھتے ہیں یا یقین رکھنا چاہتے ہیں "۔ کہ اس سے فائدہ وہی خوش نصیب انسان اٹھاتے ہیں جو ایمان و یقین کی دولت سے سرشار ہوں یا اس پر یقین کرنا چاہتے ہوں۔ ورنہ اس کتاب مقدس کی ہدایت اور رحمت تو سب کے لئے عام ہے۔ سو جو لوگ اس کتاب حکیم کے انذار اور اس کی بشارت پر یقین رکھتے ہیں یہ کتاب ان کیلئے حق و ہدایت کی راہیں کھولتی ہے۔ اور اس کے نتیجے میں یہ انکو اپنی خاص رحمتوں اور عنایتوں سے نوازتی ہے۔ اور اس کی یہ رحمت و عنایت اور نوازش اگرچہ اہل ایمان و یقین کو اس دنیا میں بھی ملتی ہے مگر اسکا کامل ظہور آخرت میں ہوگا ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔ سو ایمان و یقین کی دولت دنیا و آخرت کی سعادت و سرخروئی کیلئے اصل اساس اور شاہ کلید ہے۔ اس ارشاد ربانی سے یہ حقیقت بھی واضح ہوجاتی ہے کہ انسان کی اصلاح اور اس کے فساد اور اس کے بناؤ بگاڑ کا اصل اور بنیادی تعلق اس کے اپنے قلب و باطن سے ہے۔ اگر وہ اپنے اندر ایمان و یقین کی دولت سے سرفرازی کے لیے طلب صادق رکھے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو ضرور نوازے گا کہ اس کا کام اور اس شان ہی نوازنا ہے۔ ورنہ انسان کیلیے محرومی ہی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر گامزن رکھے ۔ آمین۔
Ayah 45:21

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ اجْتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ سَوَآءً مَّحْیَاهُمْ وَ مَمَاتُهُمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ۠ Open ayah 45:21 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے جو کہ برائیوں کا ارتکاب کئے جا رہے ہیں یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم انہیں ان لوگوں کی طرح کردیں گے جنہوں نے ایمان لا کر نیک کام کئے ہوں گے ؟ کہ ان کا جینا اور مرنا ایک جیسا ہوجائے ؟ بڑا ہی برا فیصلہ ہے جو یہ لوگ کر رہے ہیں

38 نیک اور بد کبھی باہم برابر نہیں ہوسکتے : سو ارشاد فرمایا گیا " اور کیا نیک اور بد باہم برابر ہوسکتے ہیں ؟ "۔ ستفہام انکاری ہے۔ یعنی نہیں ایسا نہیں ہوسکتا کہ یہ دونوں فریق ایک برابر ہوجائیں۔ نہ دنیا میں نہ آخرت میں۔ کیونکہ اس دنیاوی زندگی میں بھی ان میں سے ایک فریق ایمان و اطاعت کی پاکیزہ زندگی گزارتا ہے اور دوسرا کفر و معصیت کی ناپاک و خبیث زندگی۔ اور اس دنیاوی فرق کے نتیجے میں آخرت میں پہلا فریق جنت کی اعلیٰ ترین اور بےمثال نعمتوں کی دائمی سعادتوں سے بہرہ مند ہوگا اور دوسرا دوزخ کے دائمی عذاب میں مبتلا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سلف میں سے بہت سے حضرات کے بارے میں منقول ہے کہ وہ اس آیت کریمہ کو پڑھتے وقت اسے بار بار دوہراتے یہاں تک کہ صبح ہوجاتی کہ پتہ نہیں ہمارا شمار کس فریق میں ہوگا۔ اور حضرت فضیل بن عیاض اس کی تلاوت کے موقع پر اپنے نفس کو خطاب کر کے فرماتے ۔ " لَیْتَ شَعْرِیْ مِنْ اَیِّ الفریقین اَنْتَ " ۔ " کاش کہ مجھے پتہ چل جائے کہ تو ان دونوں میں سے کسی فریق میں داخل ہے ؟ " اور جب ان حضرات کا یہ حال تھا تو ہم کس شمار میں ہیں۔ پتہ نہیں ہمار کیا بننے والا ہے۔ پس اللہ پاک ہی سے اس کی رحمت و عنایت اور کرم خاص کی عرض والتجا ہے۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ برائیوں کا ارتکاب کرتے رہے ہوں وہ اور وہ لوگ جو ایمان اور عمل صالح کی دولت سے سرشار ہوں کبھی ایسا نہیں ہوسکتا کہ وہ دونوں باہم ایک برابر ہوں اور ان کا جینا اور مرنا ایک ہی برابر ہوجائے۔ سو جو لوگ ایسا کہتے اور اس طرح سوچتے ہیں وہ بالکل غلط کہتے اور بڑا ہی برا سوچتے ہیں ۔ { سَائَ مَا یَحْکُمُوْنَ } ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 39 منکرین و مکذبینِ حق کے برے فیصلے کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " بڑا ہی برا فیصلہ ہے وہ جو یہ لوگ کرتے ہیں "۔ کہ ہم ان دونوں فریقوں کو ایک برابر کردیں گے۔ بھلا یہ کس طرح ممکن ہوسکتا ہے ؟ اور اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے کیونکر پورے ہوسکتے ہیں ؟۔ سو یہ بات اس شعور عدل و انصاف کے بھی منافی اور اس کے قطعی خلاف ہے جو قدرت نے انسان کی فطرت وجبلت کے اندر ودیعت فرما رکھا ہے کہ برائی کی زندگی گزارنے والا اور حق و ہدایت کی راہ پر چلنے والا ایک برابر ہوجائیں اور نیک و بد یکساں ہوجائیں۔ اور یہ بات ان قوانین عدل و انصاف کے بھی خلاف اور انکے منافی ہے جو لوگوں کے درمیان مسلم رہے ہیں۔ تو پھر اللہ پاک۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کے بارے میں آخر یہ بات کس طرح باور کی جاسکتی ہے کہ اس کے یہاں نیک و بد ایک برابر ہوجائیں ؟ اور ان دونوں کے ساتھ یکساں معاملہ کیا جائے ؟
Ayah 45:22

وَ خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 45:22 in the Quran reader

اور اللہ ہی نے پیدا فرمایا آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ (تاکہ انسان اس سے طرح طرح سے مستفید ہو) اور تاکہ پورا بدلہ دیا جائے ہر کسی کو اس کی (زندگی بھر کی) کمائی کا اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا1

40 کائنات کی تخلیق بالحق اور اس کا طبعی تقاضا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ ہی نے پیدا فرمایا آسمانوں اور زمین کی اس عظیم الشان کائنات کو حق کے ساتھ "۔ اور جب اس سارے کارخانہ ہست و بود کی پیدائش ہی حق کے ساتھ اور حق کے لئے ہے جو کہ عدل و انصاف کا مقتضیٰ ہے تو پھر یہ کیونکر ممکن ہوسکتا ہے کہ نیکوکار اور بدکار دونوں فریقوں کو ایک برابر کردیا جائے ؟ ۔ حاشا و کلا ۔ سو ان دونوں فریقوں کے کئے کرائے کے فرق و نتائج کے ظہور کے لئے ضروری ہے کہ جزا و سزا کا ایک دن بپا ہو۔ تاکہ ہر کوئی اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا صلہ و بدلہ بھرپور طریقے سے پا سکے اور اس طرح عدل وانصاف کے تقاضے اپنی کامل اور آخری شکل میں پورے ہو سکیں۔ سو وہی ہے قیامت کا دن جو اس جہان رنگ و بو کے خاتمے کے بعد بپا ہوگا۔ اگر ایسا دن نہ آئے اور یہ دنیا اسی طرح چلتی رہے یا چلتے چلتے یونہی ختم ہوجائے کہ اس کے بعد نہ کوئی سزا ہو نہ کوئی جزا تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس دنیا کی تخلیق تخلیق بالحق نہ ہوئی بلکہ یونہی عبث اور بیکار ہوئی۔ اور اسکا خالق کوئی حکیم نہ ہوا بلکہ کوئی تماشہ بین ہوا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس دنیا کے بعد یوم الفصل کا آنا اور اس میں عدل و انصاف کے تقاضوں کے مطابق آخری فیصلہ ہونا اس کائنات کی تخلیق بالحق کا لازمی تقاضا اور طبعی مقتضیٰ ہے۔ ورنہ یہ سارا کارخانہ ہست وبود عبث و بیکار قرار پاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا - 41 قیامت کے روز کامل انصاف ہوگا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس روز ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا "۔ کہ نہ تو کسی نیکو کار کے ثواب میں کوئی کمی کی جائے گی اور نہ کسی بدکار کے عذاب میں ناحق طور پر کوئی زیادتی کی جائے گی۔ بلکہ ہر ایک کو وہی بدلہ دیا جائے گا جس کا وہ اپنی کمائی کی بنا پر مستحق ہوگا۔ اور دنیا کی موجودہ زندگی میں ایسے نہ ہوتا ہے نہ ہوسکتا ہے۔ کیونکہ یہ جزا و بدلے کی جگہ نہیں امتحان و عمل کی جگہ ہے۔ جزا اور بدلے کی جگہ آخرت ہے جہاں ہر کسی کو اپنے کئے کرائے کا پورا پورا بدلہ ملے گا۔ پس آخرت کا بپا ہوناعقل و نقل ہر اعتبار سے ضروری ہے تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے صحیح طور پر اور بھرپور طریقے سے پورے ہوں۔ اور اس طرح اس حکمتوں بھری کائنات کی تخلیق کا نتیجہ سامنے آسکے۔ سو آخرت کے اس یوم عظیم میں ایسا کامل عدل وانصاف ہوگا کہ کسی سے بھی کسی طرح کی کوئی زیادتی اور بےانصافی نہیں ہوگی۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہاں ان سے کسی طرح کی کوئی زیادتی نہ ہوگی۔ اس قید سے شرک اور شفاعت کے ان مشرکانہ تصورات کی جڑ نکال دی گئی جس میں یہ مشرک لوگ ہمیشہ مبتلا رہے ہیں اور آج بھی مبتلا ہیں۔ اور یہی حال اہل کتاب کا ہے۔ ایسے لوگوں کا کہنا اور ماننا یہ ہے کہ ہمارے اعمال خواہ کچھ بھی ہوں ہمارے شرکاء اور ہمارے شفعاء ہم کو چھڑا اور بچا لیں گے۔ تو ایسے میں قیامت کو ماننا اور نہ ماننا دونوں برابر ہوجاتے ہیں کہ ایسے میں ہر ظلم اور ناانصافی کی راہ کھل جاتی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ جبکہ قیام قیامت کا اصل مقصد ہی یہ ہے کہ عدل وانصاف کے تقاضے پورے ہوں اور کامل طور پر اور اپنی آخری شکل میں پورے ہوں۔ اور ہر کسی کو عدل و انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق اس کے زندگی بھر کے کیے کرائے کا پورا پورا صلہ و بدلہ مل سکے۔
Ayah 45:23

اَفَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ وَ اَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰى عِلْمٍ وَّ خَتَمَ عَلٰى سَمْعِهٖ وَ قَلْبِهٖ وَ جَعَلَ عَلٰى بَصَرِهٖ غِشٰوَةً١ؕ فَمَنْ یَّهْدِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ اللّٰهِ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 45:23 in the Quran reader

تو کیا تم نے اس شخص کے حال (اور اس کی بدبختی) پر بھی غور کیا جس نے اپنی خواہش کو ہی اپنا معبود بنا رکھا ہو اور اللہ نے اس کو گمراہی (کے گڑھے) میں ڈال دیا ہو اس کے علم کے باوجود اس کے کانوں اور اس کے دل پر اس نے مہر لگا دی ہو اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہو سو کون ہے جو ایسے شخص کو ہدایت دے سکے اللہ کے بعد ؟ کیا تم لوگ پھر بھی کوئی سبق نہیں لیتے ؟

42 خواہش پرستی باعث ہلاکت و محرومی : سو خواہش پرستی کی ہلاکت خیزیوں اور خواہش پرستوں کے حال پر دعوت غور و فکر دینے کے لیے ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا تم نے اس شخص کے حال پر بھی کبھی غور کیا جس نے اپنی خواہش کو ہی اپنا معبود رکھا ہو "۔ یعنی اس کا حال واقعی قابل غور اور لائقِ عبرت ہے کہ ایسے شخص کا انجام بہت برا اور نہایت بھیانک ہے۔ کیونکہ راستے اصل میں دو ہی ہیں۔ ایک ھدیٰ کا اور دوسرا ھویٰ کا۔ اِتِّباعِ ہُدٰی یعنی ہدایت کی پیروی کی راہ سلامتی و نجات اور دارین کی سعادت و سرخروئی کی راہ ہے۔ جبکہ اتباع ھویٰ یعنی خواہشات نفس کی پیروی کی راہ ہلاکت اور تباہی کی راہ ہے کہ ایسے شخص نے نجات و سرخروئی اور فوز و فلاح کی راہ کو چھوڑ کر ہلاکت و تباہی کی راہ کو اپنایا۔ اور متاع حیات کو یونہی ضائع کردیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو انسان جب راہ حق و ہدایت سے منہ موڑ کر خواہشات کے پیچھے ہولیتا ہے تو وہ ہولناک تباہی کی راہ پر گامزن ہوجاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اتباع ہویٰ یعنی خواہش پرستی کی راہ ہلاکت و تباہی کی راہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف یہاں پر خواہش پرستی کے بڑے مریضوں اور اس کے اولین مصداق یہود کے حال بد پر غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے کہ قدرت نے ان کو کتاب ہدایت کی عظیم الشان روشنی سے نوازا تھا تاکہ اسے اپنا کر یہ لوگ اپنے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان کریں اور دوسروں کو بھی راہ حق کے اپنانے کا درس دیں۔ مگر انہوں نے اس کو پس پشت ڈال کر خواہشات نفس کو اس طرح اپنا لیا کہ انہی کو اپنا معبود بنا لیا۔ اور ان کے ایسے پجاری بن گئے کہ ہلاکت و تباہی کے ہولناک گڑھے میں جا گرے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 43 خواہش پرستی سب سے بڑی بدبختی ۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس سے بڑھ کر بدبخت اور کون ہوسکتا ہے جس نے اپنی خواہش کو ہی اپنا معبود بنا لیا ہو ؟ "۔ اسی کو اس نے اپنی زندگی کا حاصل اور مقصد سمجھ رکھا ہو اور اسی کے لئے وہ جیتا اور اسی کے لئے مرتا ہو۔ حلال و حرام کی تمیز اس نے اٹھا دی ہو اور اپنے خالق ومالک کی مرضی و نامرضی کو وہ بھول چکا ہو۔ اور اس طرح اس نے اپنے آپ کو شرف انسانیت سے گرا کر قعر حیوانیت میں پہنچا دیا ہو۔ تو ظاہر ہے کہ اس سے بڑھ کر خسارہ و نقصان اور اس سے زیادہ محرومی و بدنصیبی اور کسی کی نہیں ہوسکتی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اسی لئے نبی اکرم ﷺ نے ایمان کا معیار اس امر کو قرار دیا کہ انسان کی نفسانی خواہشات اس کے دین حق کے تابع ہوں۔ چناچہ آپ نے ارشاد فرمایا ۔ " لا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی یَکُوْنَ ہَوَاہُ تَبْعًا لِّمَا جِئْتُ بِہ " ۔ یعنی " تم میں سے کسی کا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کی خواہشات اس کے دین کے تابع نہ ہوجائیں جس کو میں لیکر آیا ہوں "۔ کیونکہ اتباع ھویٰ ہی درحقیقت وہ چیز ہے جو انسان کو راہ حق و ہدایت سے پھیرتی اور محروم کرتی ہے۔ اسی لئے حضرت نبی معصوم (علیہ الصلوۃ والسلام) نے اپنی زبان حق ترجمان سے آسمان کے نیچے پوجا جانے والا سب سے بڑا اور سب سے برا معبود اسی امر یعنی اتّباعِ ھَوٰی کو قرار دیا۔ چناچہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ۔ " مَا عُبِدَ تَحْتَ اَدِیْمِ السَّمَآئِ الٰہ اَبْغَض اِلَی اللّٰہِ مِنَ الْہَوٰی " ۔ یعنی " اللہ تعالیٰ کے نزدیک خواہش سے بڑھ کر کوئی بڑا معبود ایسا نہیں جس کی آسمان کی اس چھت کے نیچے پوجا کی گئی ہو "۔ اسی لئے انسان جس قدر اِتِّبَاعِ ہَوٰی سے دور رہے گا اسی قدر حق کے قریب اور امن و سلامتی میں رہے گا۔ چناچہ حضرت سہیل تستری فرماتے ہیں کہ تیری خواہش نفس تیری بیماری ہے۔ لیکن تو اگر اس کی مخالفت کرے تو یہی تیری دوا اور علاج بھی ہے " ۔ " ھَوَاکَ دَائُ کَ فَاِنْ خالَفْتَہٗ فہُوَ دَوَائُک " ۔ (تفسیر المراغی وغیرہ) ۔ بہرکیف اتباع ھویٰ کی اس خطورت کو دیکھئے اور پھر یورپ و امریکہ وغیرہ کے ان تمام مادہ پرست معاشروں کی ہلاکت و بربادی کا اندازہ کیجئے کہ جن کی معاشرت اور زندگی کی اساس و بنیاد ہی اتباع ھویٰ پر ہے۔ نیز اسی سے اندازہ کیجئے کہ کتنے خطاکار اور کوتاہ بیں ہیں ہمارے معاشرے کے وہ زعماء اور لیڈران قوم جو اپنی ملت کو ان ہی مادہ پرست اور تباہی کے دھانے پر کھڑے لوگوں کے نقش قدم پر چلانا چاہتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف احکام خداوندی کو پس پشت ڈال کر خواہشات نفس کی پیروی کرنا دراصل ان کی بندگی کرنا ہے۔ اور یہ سب سے بڑی بدبختی اور باعث ہلاکت و تباہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 44 خواہش پرستی کا نتیجہ علم کے باوجود گمراہی ۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ نے اس کو گمراہ کردیا ہو علم پر "۔ یعنی علم کی روشنی رکھنے کے باوجود۔ جیسا کہ اوپر ارشاد فرمایا گیا تھا ۔ { مِنْ بَعْدِ مَا جَائَ ہُمُ الْعِلْمُ } ۔ یعنی " انہوں نے اختلاف کیا اس کے بعد کہ ان کے پاس علم آچکا تھا محض آپس کے حسد اور عناد کی بنا پر "۔ جس سے ان کا جرم اور بھی زیادہ سنگین ہوجاتا ہے کہ ایسے لوگ علم کی روشنی کے باوجود راہ حق و صواب سے محروم رہے۔ (صفوۃ التفاسیر) ۔ نیز اس کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ پاک نے اپنے علم کی بنا پر ان کو گمراہی کے اس گڑھے میں ڈال دیا کہ ایسے لوگ اپنے خبث باطن کی بنا پر اسی کے اہل تھے۔ سو ان لوگوں کی محرومی اس بنا پر نہیں کہ انکو علم کی روشنی نہیں ملی تھی بلکہ ان کی بدبختی کا اصل سبب یہ ہے کہ انکو اللہ تعالیٰ نے جو علم دیا انہوں نے اس کی قدر کرنے کی بجائے اپنی خواہشات کی پیروی کی۔ اور انہی کو انہوں نے اپنا معبودبنا لیا۔ اور ان کی اس ضلالت پسندی کی سزا انکو یہ ملی کہ انکو ان کی اپنی پسند کردہ گمراہی کے حوالے کردیا گیا اور انکو روشنی پانے کے بعد اندھیروں میں بھٹکتا چھوڑ دیا گیا۔ سو ایسوں سے کسی خیر کی کوئی توقع نہیں رکھی جاسکتی۔ یہ اپنے کیے کرائے کی دلدل میں خود پھنسے ہوئے ہیں۔ سو خواہش پرستی کا نتیجہ وانجام علم کے باوجود حق سے محرومی اور گمراہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 45 خواہش پرستوں کی ایک خاص سزا کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ خواہشات نفس کے پجاریوں کے لیے قدرت کی طرف سے مہر جباریت کی سزا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ نے مہر کردی ہو اس کے کانوں اور اس کے دل پر اور پردہ ڈال دیا ہو اس کی آنکھوں پر "۔ ان کے اپنے خبث باطن کی بناء پر جس کے نتیجے میں اب ان کو نہ راہ حق کو دیکھنا نصیب ہوسکتا ہے اور نہ حق بات سننا اور سوچنا۔ (المراغی وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ ۔ کہ اللہ پاک کا دستور اور اس کی سنت اور قانون یہی ہے کہ جو لوگ اس کی بخشی ہوئی نعمتوں کی ناقدری کرتے ہیں انکو ان کی نعمتوں سے محروم کردیا جاتا ہے۔ اس طرف سے ایسوں کو ڈھیل تو بیشک ملتی ہے لیکن بالآخر انکو اسی دستور و قانون خداوندی کے مطابق اپنے کیے کرائے کا بھگتان بھگتنا ہی پڑتا ہے۔ اور بڑی ہولناک شکل میں بھگتنا پڑتا ہے۔ سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ خواہشات نفس کی پیروی کرنے والوں کے قوائے علم و ادراک پر قدرت کی طرف سے آخرکار جباریت کی مہر کردی جاتی ہے جس کے نتیجے میں وہ ادراک و فہمِ حق و حقیقت کی اہلیت و صلاحیت سے محروم ہوجاتے ہیں۔ اور وہ ۔ { کَالاَنْعَِامِ بَلْ ہُمْ اَضَلُّ } ۔ کا مصداق بن کر رہ جاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 46 تو مہر جباریت کے ماروں کی ہدایت ممکن نہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر ایسوں کو کون ہدایت دے سکتا ہے اللہ کے بعد ؟ " یعنی اللہ کے گمراہ کردینے کے بعد۔ اور ظاہر ہے کہ ایسا کوئی بھی نہیں۔ پس استفہام یہاں پر انکاری ہے۔ یعنی ایسے شخص کو کوئی بھی ہدایت نہیں دے سکتا۔ اور یہ حق و ہدایت کی روشنی اور دولت سے ہمیشہ کے لئے محروم ہوجانا ہے جو کہ سب سے بڑا اور حقیقی معنوں میں خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو جنکے دلوں پر قانون قدرت کے مطابق مہر کردی جائے، انکے کانوں میں ڈاٹ لگا دی جائے اور ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی جائے انکو ہدایت کے نور سے نوازنا کسی کے بس میں نہیں ہوسکتا۔ اور ایسوں کیلئے دائمی محرومی مقدر ہوجاتی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس سے ہدایت و ضلالت کے بارے میں دستور الہی اور قانون خداوندی کو بیان فرمایا گیا ہے کہ جو لوگ نور حق و ہدایت کے طالب بننے کی بجائے اس سے منہ موڑتے اور اعراض و روگردانی برتتے ہیں وہ اس سے محروم ہوجاتے ہیں۔ اور وہ ۔ { نُوَلِّہ مَا تَوَلّٰی } ۔ کا مصداق بن کر رہ جاتے ہیں۔ اور ان کے قوائے علم و ادراک ماؤف و معطل ہوجاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 45:24

وَ قَالُوْا مَا هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا یُهْلِكُنَاۤ اِلَّا الدَّهْرُ١ۚ وَ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۚ اِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ Open ayah 45:24 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ ہماری زندگی تو بس یہی دنیاوی زندگی ہے اسی میں ہمارا مرنا اور جینا ہے اور ہمیں ہلاک نہیں کرتا مگر یہی زمانہ حالانکہ ان کے پاس اس کا کوئی علم نہیں یہ لوگ محض ظن (و گمان) سے کام لیتے ہیں2

47 دہریوں کی منطق کا حوالہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں ہلاک نہیں کرتا مگر زمانہ "۔ یعنی یہ سب کچھ زمانے کا چکر ہے اور بس۔ اسی لئے ایسے لوگ دہریے کہلاتے ہیں۔ اور زمانہ جاہلیت میں عربوں کا طریقہ تھا کہ ان کو جب کوئی تکلیف یا مصیبت پہنچتی تو وہ زمانے ہی کو اسکا ذمہ دار اور اصل فاعل اور موثر سمجھ کر اس کو گالی دیتے اور کہتے ۔ " یَا خَیْبَۃَ الدَّہْرِ " ۔ اسی لئے حدیث میں زمانے کو گالی دینے سے منع فرمایا گیا ہے۔ چناچہ حضرت نبی معصوم (علیہ الصلوۃ والسلام) نے ارشاد فرمایا ۔ { لا تَسُبُّوْا الدَّہْرَ فَاِنَ الدَّہْرَ ہُوَ اللّٰہُ } ۔ یعنی یہ لوگ تو زمانے کو موثر حقیقی سمجھ کر گالی دیتے اور برا بھلا کہتے ہیں لیکن موثر حقیقی اصل میں زمانہ نہیں اللہ ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس زمانے کو گالی مت دو کہ یہ اصل اللہ تعالیٰ کو گالی دینا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور اپنی اسی ٹیڑھی سوچ اور گمراہ کن منطق کی بنا پر یہ لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں اور بڑی رعونت کے ساتھ کہتے ہیں کہ زندگی تو بس یہی دنیاوی زندگی ہے اور بس۔ اسی کے مزے سب کچھ ہیں۔ اس دنیاوی زندگی کے بعد نہ کوئی زندگی ہے نہ موت۔ اور جو لوگ مرنے کے بعد پھر زندہ ہونے اور حساب کتاب کے قصے بیان کرتے ہیں وہ سب ان لوگوں کی خام خیالی اور محض دھونس ہے۔ ایسا کچھ نہیں ہونے کا وغیرہ وغیرہ۔ سو دہریہ لوگوں کا یہی حال پہلے تھا اور یہی آج ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 48 منکرین کی باتیں بےبنیاد اور محض اٹکل پچو : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ لوگ ایسی باتیں کرتے اور کہتے ہیں حالانکہ انکے پاس اس سے متعلق کسی بھی طرح کا کوئی علم نہیں "۔ یعنی " من " یہاں پر استغراقیہ ہے۔ یعنی ان لوگوں کے پاس اپنے اس قول وقرار کے بارے میں خواہشات نفس کی پیروی اور ظن وتخمین کے گھوڑے دوڑانے کے سوا کسی بھی قسم کا کوئی علم نہیں جس پر ان کی ایسی باتوں کی اساس و بنیاد ہو۔ اور ظاہر ہے کہ محض ظن وتخمین کی بنا پر ایسی باتیں کرنا حماقت و سفاہت کے سوا کچھ بھی نہیں ۔ { وَاِنَّ الظَّنَّ لا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًا } ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ " ایسے لوگ بغیر کسی علم کے محض اٹکل کے تیر چلا رہے ہیں "۔ انکا جی قیامت کو ماننا نہیں چاہتا کہ اس سے ان کی عیش پرستیوں پر قدغن لگتی اور اس میں ان کیلئے رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ اور اس طرح یہ لوگ ایک ایسی حقیقت کا انکار کر رہے ہیں جسکی شہادت انسان کی فطرت کے اندر موجود ہے۔ اور جس کی گواہی اس کائنات کا پورا نظام دے رہا ہے۔ اور جو اس جہان ہست و بود کے خالق کی قدرت، اس کی حکمت، اس کی رحمت و ربوبیت اور اس کے عدل و انصاف کا لازمی تقاضا ہے۔ اگر وہ ظہور میں نہ آئے تو یہ دنیا ایک بازیچہ اطفال اور ایک کھلنڈرے کا کھیل بن کر رہ جاتی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ حالانکہ یہ چیز حضرت خالق حکیم کی حکمت کے تقاضوں کے خلاف ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 45:25

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ مَّا كَانَ حُجَّتَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتُوْا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 45:25 in the Quran reader

اور جب ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ہماری کھلی کھلی آیتیں تو ان کے پاس کوئی حجت اس کے سوا نہیں ہوتی کہ یہ کہتے ہیں کہ لے آؤ تم لوگ ہمارے باپ دادوں کو اگر تم سچے ہو

49 منکرین کا حق کے مقابلے میں ایک لچر اور بیہودہ قول : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب قیامت کے بارے میں ان لوگوں کو ہماری کھلی کھلی اور نہایت واضح اور روشن آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو اس کے جواب میں یہ لوگ کہتے ہیں کہ لے آؤ ہمارے باپ دادا کو اگر تم لوگ سچے ہو "۔ یعنی وہی مرغے کی ایک ٹانگ کہ جب تک قیامت کا وہ دن ہمارے مشاہدے میں نہیں آئے گا ہم نہیں مانیں گے۔ اور دور قدیم کی مادہ پرست ذہنیت کی یہی چھاپ آپ کو عصر حاضر کے بہت سے پڑھے لکھے برخود غلط لوگوں پر بھی پوری طرح عیاں نظر آئے گی کہ یہ لوگ بھی عالم غیب کی باتوں اور وہاں کے غیبی حقائق کا اپنی ان مادی اور مادہ پرست آنکھوں سے مشاہدہ کرنا چاہتے ہیں ۔ { تَشَابَہَتْ قُلُوْبُہُمْ } ۔ لیکن ایسے مادہ پرست لوگ یہ نہیں جانتے کہ عالم غیب اور عالم آخرت کے حقائق اس موجود و مشاہد دنیا سے یکسر مختلف ہیں۔ پھر ان غیبی امور کا اس جہان رنگ و بو میں دیکھنے کا سوال ہی کیا پیدا ہوسکتا ہے ؟ اور جب آخرت کے اس جہان غیب نے آنا ہی اس دنیا کے خاتمے کے بعد ہے تو پھر اس کو اس دنیا میں لا دکھانے کا سوال ہی کیا پیدا ہوسکتا ہے ؟ مگر یہ لوگ ہیں کہ اس طرح کی لچر اور بیہودہ باتوں کا سہارا لے کر حق کا راستہ روکنا چاہتے ہیں۔ اور اس قسم کی بےبنیاد باتوں کے سہارے یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ اس طرح انہوں نے کوئی بڑا تیر مار دیا۔ اور اس کے نتیجے میں یہ اس خوش فہمی میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ جس چیز سے قرآن دنیا کو ڈراتا اور خبردار کرتا ہے اس سے ان کی جان چھوٹ گئی۔ اور یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ اس طرح یہ ہلاکت و تباہی کے کس ہولناک ہاویے کی طرف بڑھے چلے جا رہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 45:26

قُلِ اللّٰهُ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یَجْمَعُكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 45:26 in the Quran reader

(ان سے) کہو کہ اللہ ہی ہے جو تمہیں زندگی بخشتا ہے پھر وہی تمہیں موت دیتا ہے پھر وہی جمع فرمائے گا تم سب کو قیامت کے اس دن جس میں کوئی شک نہیں مگر اکثر لوگ جانتے نہیں

50 قرآن کا منکرین کو صاف اور دوٹوک جواب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان سے کہو کہ اللہ ہی تم کو زندگی دیتا ہے۔ پھر وہی تم کو موت دیتا ہے۔ اور پھر اللہ ہی جمع کر لائے گا تم سب لوگوں کو قیامت کے دن "۔ یعنی تم سے یہ کس احمق نے کہا کہ عالم آخرت کی وہ زندگی ہمارے بس اور اختیار میں ہے جو تم ہم سے اس طرح کے مطالبے کرتے ہو کہ " لا دکھاؤ ہمارے باپ دادوں کو اگر تم سچے ہو "۔ اور احیاء و اماتت کا یہ کام کسی انسان کے بس میں آخر ہو ہی کیسے سکتا ہے ؟۔ نیز تم سے یہ کس نے کہا کہ آخرت کا وہ جہان نادیدہ اسی دنیائے ہست و بود میں بپا ہوگا ؟ یہ سب کچھ تو ہماری اس دنیاوی زندگی کی طرح از اول تا آخر اللہ پاک ہی کے قبضہء قدرت و اختیار میں اور اسی کے احاطہ علم میں ہے۔ اور اس کا ظہور و وقوع بھی دنیا کی زندگی کے خاتمے کے بعد ہوگا۔ اور اس کا صحیح اور پورا علم بھی اللہ پاک ہی کو ہے کہ یہ سب کچھ کب ہوگا۔ انبیاء و رسل تو وحی کی بنا پر صرف اس کی خبر دیتے ہیں کہ اس نے بہرحال واقع ہو کر رہنا ہے۔ اور تم لوگوں نے اپنے زندگی بھر کے اپنے کئے کرائے کا جواب دینا اور اس کا پھل پانا ہے اور بس۔ اس سے زیادہ نہ کچھ ان کے بس میں ہے اور نہ کبھی انہوں نے اس طرح کا کوئی دعویٰ ہی کیا ہے ۔ صَلَوَات اللّٰہِ وسلامہ عَلَیْھِم اجمعین ۔ یہاں پر " یجمعکم " کے بعد " الی " کا صلہ اتصال اور تسلسل کو ظاہر کر رہا ہے۔ یعنی یہ جمع کرنا قیامت تک جاری رہے گا۔ قیامت سے پہلے نہ کسی کو اٹھایا جاتا ہے اور نہ ہی دین حق نے ایسی کوئی بات کہی ہے۔ لہذا ان لوگوں کا مطالبہ بےمعنیٰ ہے۔ 51 منکرین کے حال پر اظہار حسرت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جس چیز سے ان لوگوں کو آگاہ اور خبردار کیا جاتا ہے اس میں کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں " لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں۔ اور اپنی جہالت اور بےعلمی کی وجہ سے یہ لوگ بعث بعد الموت کا انکار کرتے ہیں۔ جیسا کہ مشہور ہے ۔ " النَّاسُ اَعْداء لِمَا جَہِلُوْا " ۔ سو جہالت اور نور علم سے محرومی خرابیوں کی خرابی اور منبع شر و فساد ہے ۔ والعیاذ باللّٰہ ۔ اور علم سے مراد ہے وہ علم ہے جو انسانوں کو حق اور حقیقت کی روشنی سے آگاہ کرتا ہے۔ اور وہ علم صرف دین متین کا علم ہے جو اب قرآن و سنت کے ان دو عظیم الشان اور بےمثال مقدس ذخیروں کی صورت میں موجود ہے۔ اور جو قیامت تک آنے والی دنیا کی ہدایت و راہنمائی کیلئے کافی و وافی ہے۔ سو جو لوگ اس دین متین کی تعلیمات مقدسہ اور اس کے نور حق و ہدایت سے محروم ہیں وہ سراسر اندھیروں میں ہیں خواہ وہ دنیاوی اعتبار سے اور مادی ترقی کے لحاظ سے کتنی ہی ترقی کیوں نہ کرجائیں۔ نیز یہاں پر اس حقیقت کو بھی ایک مرتبہ پھر واضح فرما دیا گیا کہ لوگوں کی اکثریت جاہل اور نور علم سے محروم ہے۔ لہذا عوام کی اکثریت کو حق و باطل کا معیار نہیں قرار دیا جاسکتا۔ بہرکیف اس ارشاد میں منکرین کے حال پر اظہار حسرت ہے کہ جس عظیم الشان حقیقت سے ان لوگوں کو آگاہ کیا جا رہا ہے اس میں کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں۔ یعنی وہ جانتے نہیں کہ اس عظیم الشان حقیقت کا انکار کر کے وہ اپنے لیے کس قدر ہولناک انجام کا سامان کر رہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 45:27

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَّخْسَرُ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 45:27 in the Quran reader

اور اللہ ہی کے لئے ہے بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی اور جس دن آ کھڑی ہوگی قیامت کی وہ (ہولناک) گھڑی تو سخت خسارے میں پڑجائیں گے اس روز باطل پرست

52 باطل پرست سراسر خسارے میں ۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جس روز قیامت قائم ہوگی اس روز باطل پرست سراسر خسارے میں ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ ۔ کہ اپنے سوئِ اختیار کی بنا پر وہ قبول حق کی استعداد اور اس کی فرصت کو ضائع کر کے ابدی نعمتوں کی بجائے دائمی عذاب کے مستحق بن چکے ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور یہ خسارہ باطل پرستوں کو اگرچہ آج اور اس دنیا میں بھی اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہے اور وہ برابر اسی میں غلطاں و پیچاں ہیں مگر آج ان کے دل و دماغ پر غفلت کا ایسا پردہ پڑا ہوا ہے اور ان کی آنکھوں پر ہویٰ و ہوس کی ایسی سیاہ پٹی بندھی ہوئی ہے کہ یہ لوگ اصل حقیقت کے دیکھنے سمجھنے سے قاصر اور عاری ہیں۔ اور دین و وحی کی جو روشنی انسان کو اصل حقائق سے آگاہ و روشناس کرتی ہے اس سے انہوں نے منہ موڑا ہوا ہے۔ اور اپنی آنکھیں انہوں نے بند کر رکھی ہیں۔ مگر کل قیامت کے مشاہدے اور کشف حقائق کے اس جہاں میں جب یہ سارے پردے ہٹ جائیں گے اور ان کی آنکھیں پوری طرح کھل جائیں گی تو ان کا کفر و باطل اور خسارہ و نقصان اپنی اصل اور کامل شکل میں اور پوری طرح سب کے سامنے عیاں اور آشکارا ہوجائے گا۔ تب ان کی حسرت و افسوس کا کوئی کنارہ نہیں ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 45:28

وَ تَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِیَةً١۫ كُلُّ اُمَّةٍ تُدْعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا١ؕ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 45:28 in the Quran reader

اس دن تم ہر گروہ کو گھٹنوں کے بل گرا دیکھو گے ہر گروہ کو پکارا جا رہا ہوگا اس کے اپنے نامہ اعمال کی طرف (اور ان سے کہا جائے گا کہ) آج تمہیں پورا بدلہ دیا جائے گا تمہارے ان کاموں کا جو تم لوگ کرتے رہے تھے (اپنی دنیاوی زندگی میں)1

53 قیامت کے روز لوگوں کی بدحالی کی تصویر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس روز تم ہر گروہ کو گھٹنوں کے بل گرا دیکھو گے "۔ شدت ہول اور خوف کی بناء پر۔ ابن کثیر کہتے ہیں کہ یہ اس وقت ہوگا جبکہ دوزخ کو ان کے سامنے لایا جائے گا اور اس کی چیخ و پکار اور دھاڑنے کی آوازیں سن کر ان کی حالت غیر ہوجائے گی۔ (ابن کثیر، صفوۃ وغیرہ) ۔ اَللّٰہُمَّ اَعِذْنَا مِنْ کُلِّ نَوْعٍ مِّنَ الْعَذَاب والْفَزِعِ- " جثا الرجل " اس وقت بولا جاتا ہے جب آدمی اپنے دونوں زانوؤں پر بیٹھا ہو۔ غلام، محکوم اور مجرم اپنے آقاؤں اور حاکموں کے حضور اپنا فیصلہ سننے کیلئے اسی طرح عاجزانہ اور بےکسانہ طور پر بیٹھا کرتے تھے۔ اسی لیے یہاں پر لوگوں کی یوم حشر کی عاجزانہ حالت کی تصویر کیلئے اس لفظ کو استعمال فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس روز ہر گروہ اپنا فیصلہ سننے کیلئے اسی طرح دو زانو بیٹھا ہوگا۔ " کل امہ " کے عموم سے واضح ہوجاتا ہے کہ مومن و کافر، اَبرار و فجار اس دن سب اکٹھے ہوں گے۔ کوئی بھی اس حاضری سے مستثنٰی نہیں ہوگا۔ " کتاب " کا لفظ یہاں پر دفتر اعمال کے لیے استعمال فرمایا گیا ہے۔ سو اس دفتر میں تمام امتوں اور گروہوں کے اعمال کا ریکارڈ موجود ہوگا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس روز ہر گروہ اپنا فیصلہ سننے کے لیے دو زانو بیٹھا ہوگا اور ہر گروہ کو اس کے دفتر اعمال کی طرف پکارا جائے گا " ۔ اللہم احسن عاقبتنا فی الامور کلہا واجرنا من خزی الدنیا و عذاب الآخرۃ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔ 54 انسان کے لیے اس کے اپنے ہی اعمال کا بدلہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ قیامت کے روز ہر کسی کو اس کے اپنے ہی اعمال کا بدلہ ملے گا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " قیامت کے روز ان سے کہا جائے گا کہ آج تمہیں بدلہ دیا جائے گا تمہارے انہی کاموں کا جو تم لوگ خود کرتے رہے تھے " یعنی اپنی دنیاوی زندگی میں۔ اور بلا کم وکاست تمہارے وہ تمام اعمال تمہارے سامنے رکھے جا رہے ہیں جو تم زندگی بھر کرتے رہے تھے تاکہ تم زندگی بھر کی اپنی کمائی کا پورا صلہ اور پورا بدلہ پا سکو۔ بلاشبہ ہم لکھوا رہے تھے تمہارے وہ سب عمل جو تم لوگ اپنی دنیاوی زندگی میں کرتے رہے تھے۔ واضح رہے کہ لکھوانے سے مراد یہی نہیں کہ قلم کے ذریعے کاغذ پر لکھوا دیا جائے اور بس۔ یہ تو اس کی ایک اہم اور عام شکل ہے۔ اس لئے اس کو عموماً مراد لیا جاتا ہے۔ ورنہ لکھوانے سے اصل مراد اس کا محفوظ کرنا اور ریکارڈ تیار کرانا ہے جس کی کتنی ہی صورتیں آج انسان نے خود تیار کرلی ہیں۔ اور پتہ نہیں آئندہ اس میں کیا کچھ اضافے کئے جائیں گے۔ اور جب انسان اپنی مخلوقیت اور ہر طرح کی محدودیت کے باوجود اتنا کچھ کرسکتا ہے تو پھر حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ جس کی قدرت کی کوئی حد و انتہا ہی نہیں اس نے اس بارے کیا کچھ کیا ہوگا۔ وہ کیا کچھ کرسکتا ہے۔ اور کیا کچھ کرے گا اس کا اندازہ کرنا بھی اس انسان ضعیف البنیان کے بس کا روگ نہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس نے اپنی قدرت بےپایاں اور حکمت بےنہایت سے ایسے ایسے انتظامات فرمائے ہیں کہ انسان کے صرف ظاہری اعمال ہی نہیں اس کی نیتیں اور ارادے تک محفوظ ہیں۔ اور انہی کی چھان پھٹک پر اس کی عدالت حق و انصاف میں ٹھیک ٹھیک عدل و انصاف کے ساتھ فیصلے ہوں گے ۔ { یَوَمَ تُبْلَی السَّرَائِرُ فَمَالُہٗ مِنْ قُوَّۃٍ وَّلا ناصِرٍ } ۔ (الطارق : 9-10) ۔ کوئی چیز انسان کے عمل و کردار کی ایسی نہیں ہوگی جو محفوظ ہونے سے رہ گئی ہو ۔ { مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ الا لَدَیْہِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ } ۔ (قٓ: 18) ۔ پس نہ تو نیکی کرنے والے کے لئے اس طرح کی کسی فکر و اندیشہ کی کوئی ضرورت ہے کہ اس کا کوئی عمل محفوظ ہونے سے رہ جائے گا اور ضائع ہوجائے گا اور نہ برائی کرنے والے کے لئے اس طرح کے کسی اطمینان اور بےخوفی کی کوئی گنجائش ہے کہ وہ اپنے کئے کرائے کی سزا پانے اور کسی بھی عمل کے بھگتان کے بھگتنے سے بچ سکے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف انسان کا ہر عمل جو اس نے اپنی دنیاوی زندگی میں کیا ہوگا اس کی اس کتاب یعنی نامہ اعمال میں محفوظ ہوگا اور اپنے عمل ہی کا بدلہ اس کو ملے گا۔ اور جن لوگوں نے اپنے مشرکانہ ڈھکوسلوں اور اپنے خودساختہ عقائد کے مصنوعی اور فرضی سہاروں کے اعتماد پر عمل کی کوئی پونجی جمع نہیں کی ہوگی ان کیلئے اس روز محرومی کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ اور یہی ہے سب سے بڑی محرومی ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 45:29–31

هٰذَا كِتٰبُنَا یَنْطِقُ عَلَیْكُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 45:29 in the Quran reader

یہ ہماری کتاب بول رہی ہے تم پر حق کے ساتھ بلاشبہ ہم لکھوا لیا کرتے تھے وہ سب کچھ جو تم لوگ کر رہے تھے2

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُدْخِلُهُمْ رَبُّهُمْ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ Open ayah 45:30 in the Quran reader

پھر جو لوگ ایمان لائے ہوں گے اور انہوں نے (ایمان کے مطابق) نیک کام بھی کئے ہوں گے تو ان کو داخل فرما دے گا ان کا رب اپنی خاص رحمت میں یہی ہے کھلی (اور حقیقی) کامیابی

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١۫ اَفَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَاسْتَكْبَرْتُمْ وَ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 45:31 in the Quran reader

اور جو کفر ہی کرتے رہے ہوں گے تو (ان سے کہا جائے گا کہ) کیا یہ حقیقت نہیں کہ میری آیتیں تم لوگوں کو پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی تھیں مگر تم لوگ اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا (ان سے منہ موڑے ہوئے) تھے اور تم لوگ مجرم بن کر ہی رہے ؟

57 منکرین کی تذلیل و تحقیر کا ایک منظر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کفار و منکرین سے کہا جائے گا کہ کیا تم لوگوں کو میری آیتیں پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں ؟ "۔ مگر تم لوگوں نے اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں ان سے منہ موڑا اور تم لوگ مجرم ہی بنے رہے اور تم نے حق کو قبول کر کے نہ دیا۔ سو اب چکھو مزہ اپنے اس کفر و انکار اور استکبار کا جس کو تم نے زندگی بھر اپنائے رکھا کہ یہ سب کچھ تمہارا اپنا ہی کیا دھرا اور کیا کرایا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو استکبار یعنی اپنی بڑائی کا زعم اور گھمنڈ باعث محرومی و ہلاکت ہے کہ اس کی بنا پر انسان حق اور حقیقت کی دولت سے محروم ہوجاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو انسان کی کامیابی اسی میں ہے کہ وہ حق کے آگے جھک جائے اور اس کو صدق دل سے اپنا لے ۔ وباللہ التوفیق -
Ayah 45:32

وَ اِذَا قِیْلَ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ السَّاعَةُ لَا رَیْبَ فِیْهَا قُلْتُمْ مَّا نَدْرِیْ مَا السَّاعَةُ١ۙ اِنْ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّ مَا نَحْنُ بِمُسْتَیْقِنِیْنَ Open ayah 45:32 in the Quran reader

اور جب (تم سے) کہا جاتا تھا کہ اللہ کا وعدہ یقینی طور پر سچا ہے اور قیامت کے بارے میں کسی شک کی گنجائش نہیں تو تم لوگ کہتے تھے کہ ہم نہیں جانتے قیامت کیا ہوتی ہے ہم تو محض ایک گمان سا رکھتے ہیں (اس کا کوئی) یقین ہم کو بہرحال نہیں

58 انکار قیامت سب سے بڑی محرومی اور بدبختی : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ قیامت کا انکار سب سے بڑی بدبختی اور محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب تم لوگوں سے کہا جاتا کہ اللہ کا وعدہ قطعی طور پر حق ہے اور قیامت کے بارے میں کسی شک کی کوئی گنجائش نہیں تو تم کہتے کہ ہم نہیں جانتے کہ قیامت کیا ہوتی ہے "۔ اور یہ تمہارے اس تکبر و سرکشی کا ایک نمونہ تھا جس نے تم کو حق کی دولت اور ہدایت کی روشنی سے محروم رکھا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو یہ انکے اس استکبار ہی کا نتیجہ اور اسکا شاخسانہ تھا کہ دنیا میں جب ان سے کہا جاتا کہ اللہ کا وعدہ قطعی طور پر حق اور سچ ہے تو یہ اپنے متکبرانہ انداز میں سر جھٹک کر کہہ دیتے کہ " ہم نہیں جانتے کہ قیامت کیا ہوتی ہے ؟ " اور اس طرح یہ لوگ سنی ان سنی کردیتے۔ جس کی وجہ سے یہ دنیا و آخرت کے خسارے میں مبتلا ہوگئے اور۔ { خَسِرَ الدُّنْیَا وَالآخِرَۃ } ۔ کا مصداق بن کر رہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو استکبار یعنی اپنی بڑائی کا گھمنڈ باعث محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 59 عقیدئہ آخرت کے بارے میں محض ظن و گمان کافی نہیں : سو اس ارشاد سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ عقیدئہ آخرت کے بارے میں یقین کی ضرورت ہے محض ظن کافی نہیں۔ کیونکہ محض ظن و گمان تو منکرین کو بھی حاصل تھا۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ عقیدئہ آخرت کے بارے میں پختہ ایمان و یقین کی ضرورت ہے۔ محض ظن و گمان سے کام نہیں چلے گا ۔ اَللّٰہُمَّ زِدْنَا اِیْمَانًا وَیقیناً بِکَ و بِمَا اَنْزَلْتَ و بِرَسُوْلِکَ الّذِیْ اَرْسَلْتَ ۔ سو محض ظن و گمان تو آخرت کے بارے میں منکرین بھی اپنے دل میں رکھتے تھے مگر انکا مطالبہ یہ تھا کہ جب انکو پورا یقین ہوجائے گا وہ تب مانیں گے۔ اور یقین کے لیے ان کا مطالبہ یہ تھا ۔ { اِیْتُوْنَا بآبَائِنَا مِنْ قَبْلُ اِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَ } ۔ (الجاثیۃ : 25) ۔ یعنی " ہمارے پاس ہمارے باپ دادا کو لے آؤ اگر تم سچے ہو "۔ اور ظاہر ہے کہ یہ ایک انہونی بات اور احمقانہ مطالبہ تھا جو عقل اور نقل دونوں کے تقاضوں کے خلاف تھا اور ہے کہ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ انسان صرف اسی چیز کو مانے جس کو وہ اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ اور جس کو وہ اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ سکے اس کو نہ مانے۔ خواہ اس کے لیے عقل ونقل کے کتنے ہی دلائل کیوں نہ ہوں۔ تو پھر انسان اور ایک حیوان کے درمیان کیا فرق باقی رہ جاتا ہے کہ حیوان بھی وہیں منہ مارتا ہے جہاں اس کو سبز چارہ نظر آتا ہے اور جہاں سبزہ نہ ہو وہاں سے وہ منہ اٹھا کر چل دیتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 45:33–34

وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 45:33 in the Quran reader

اس وقت کھل جائیں گی ان کے سامنے ان کے اعمال کی برائیاں اور گھیر کر رہے گی ان کو وہ آفت جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے1

وَ قِیْلَ الْیَوْمَ نَنْسٰىكُمْ كَمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا وَ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 45:34 in the Quran reader

اور ان سے کہہ دیا جائے گا کہ آج ہم تم کو بھلائے دیتے ہیں جیسا کہ تم نے (دنیا میں) بھلا دیا تھا اپنے اس دن کی (حاضری و) پیشی کو اب تمہارا ٹھکانا (دوزخ کی دہکتی بھڑکتی) یہ آگ ہے اور تمہارا کوئی مددگار نہیں ہے

60 بدعملیوں کے نتائجِ بد کا ظہور آخرت میں : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ بدعملوں کی بدعملیوں کے نتائج آخرت میں ہی ظاہر ہوں گے۔ تب ایسے لوگوں کی آنکھیں کھلیں گی۔ سو وہاں انکے برے اعمال کی وہ برائیاں کھل کر اور اپنی اصل شکل میں انکے سامنے آجائیں گی جو دنیا میں ان کو نظر نہیں آرہی تھیں کہ ابتلا و آزمائش کے تقاضوں کی بنا پر دنیا میں ان پر پردہ پڑا ہوا تھا۔ سو دنیا میں انسان جو جو عقلی اور اخلاقی جرائم کرتا ہے انکے اصل اور حقیقی نتائج اس کے سامنے نہیں آتے۔ اس لیے وہ ان پر دلیر ہو کر انکے وقتی فائدوں اور عارضی لذتوں میں ایسا کھو جاتا ہے کہ کسی ناصح کی نصیحت قبول کرنے کی بجائے الٹا اپنے ایسے سچے خیر خواہوں کو بیوقوف سمجھنے اور انکا مذاق اڑانے لگتا ہے۔ لیکن کل قیامت کے اس یوم حساب میں جو کہ کشف حقائق اور ظہور نتائج کا دن ہوگا جب اللہ پاک کے حکم و ارشاد سے اعمال سے پردہ اٹھا دیا جائے گا اور انکے حقیقی نتائج اپنی اصل شکل میں اس طرح سامنے آجائیں گے کہ اندھے سے اندھا انسان بھی انکو خود دیکھ لے گا، تب اس کے سامنے واضح ہوجائے گا کہ جو انبیاء و رسل انکو انکے اعمال کے ان برے انجام سے خبردار کیا کرتے تھے وہ کتنے سچے اور کس قدر انکے خیرخواہ تھے۔ مگر اس وقت حسرت کے سوا انکے پاس کچھ نہ ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ بری روش اور برے انجام سے ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 61 آخرت فراموشی کا نتیجہ و انجام نہایت ہی ہولناک ۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو اس سے آخرت کے یوم حساب کو فراموش کردینے کا ایک نہایت ہی ہولناک نتیجہ و انجام بیان فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا جائے گا کہ سو جس طرح تم لوگ دنیاوی مشاغل اور اس کی فانی لذتوں میں کھو کر اپنے اس عظیم الشان اور ہولناک دن کو بھلا چکے تھے اب تم کو بھلا دیا جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور بھلا دینے سے مراد انکو نظرانداز کردینا ہے۔ سو ایسے بدبختوں کو وہاں پر پہلے ہی مرحلے میں خبردار کردیا جائے گا کہ جس طرح تم لوگوں نے دنیا میں انبیاء و رسل اور اللہ کے نیک بندوں کو اور انکے انذار کو نظرانداز کیے رکھا، اسی طرح اب تم کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔ سو آخرت کو فراموش کرنے کا یہ نہایت ہی ہولناک انجام ہوگا۔ سو اس روز ایسے بدبختوں سے صاف طور پر کہہ دیا جائے گا کہ دنیا میں تم لوگوں نے اپنے اس یوم عظیم کو بھلا دیا تھا اور تم نے اس کے تقاضوں کو پس پشت ڈال کر سنی ان سنی کردی تھی۔ سو اس کے نتیجے میں اب ہم تم کو نظر انداز کیے دیتے ہیں۔ سو اب تم کتنا ہی چیخو چلاؤ تمہاری کوئی شنوائی نہیں ہونی۔ 62 منکروں کا ٹھکانا دوزخ ۔ والعیاذ باللہ العظیم -: سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان سے کہا جائے گا کہ اب تم سب لوگوں کا ٹھکانہ ۔ اے منکرو !۔ دوزخ ہے۔ اور تمہارا کوئی مددگار نہیں " جو تمہیں چھڑا اور بچا سکے اور اس مشکل وقت میں تمہارے کچھ کام آسکے۔ " من " یہاں پر استغراقیہ ہے جو عموم و استغراق کا فائدہ دیتا ہے۔ یعنی اب تمہارے لئے یہاں کسی بھی طرح کا کوئی یار و مددگار نہیں۔ کیونکہ جو فرضی اور من گھڑت سفارشی اور مددگار تم لوگوں نے بنا رکھے تھے وہ سب بےاصل اور بےحقیقت تھے۔ ان کے کام آنے کا تو کوئی سوال ہی نہیں۔ اور جو حقیقی معنوں میں سب کا ولی و کارساز ہے اس سے تم نے تعلق رکھا ہی نہیں تھا۔ تو ایسے میں تمہارا کوئی یار و مددگار کہاں سے اور کیسے ہوسکتا ہے ؟ ۔ { وَضَلَّ عَنْہُمْ مَّا کَانُوْا یَفْتَرُوْن } ۔ (ہود : 21) ۔ اَللّٰھُمَّ فَکُنَ لَنا واجعَلْنا لَکَ وَاھْدِنَا وَاھْدِ بِنَا وَخُذْ بِنَواصِیْنَا اِلٰی مَا فِیْہِ حُبک والرّضا ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ وہاں پر ایسے بدبختوں سے کہا جائے گا کہ جس طرح تم لوگوں نے اپنی دنیاوی زندگی میں اپنے اس یوم حساب کو اور اس کے تقاضوں کو فراموش اور نظرانداز کیے رکھا تھا اسی طرح اب تم لوگوں کو فراموش اور نظرانداز کیا جاتا ہے۔ اب تم دوزخ کے اس ہاوئے میں پڑے رہو۔ یہی ٹھکانا ہے تم سب کا۔ یہاں تم جتنا بھی چیخو چلاؤ تمہاری کوئی شنوائی نہیں ہوگی۔ اور اپنی جس جمعیت اور اکثریت اور اپنے خود ساختہ معبودوں اور من گھڑت حاجت رواؤں اور مشکل کشاؤں پر تم لوگوں کو دنیا میں بڑا زعم اور گھمنڈ تھا ان میں سے کوئی بھی تمہاری کچھ بھی مدد نہیں کرسکے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 45:35

ذٰلِكُمْ بِاَنَّكُمُ اتَّخَذْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا وَّ غَرَّتْكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ۚ فَالْیَوْمَ لَا یُخْرَجُوْنَ مِنْهَا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 45:35 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ تم لوگوں نے اللہ کی آیتوں کو مذاق بنا لیا تھا اور تم کو دھوکے میں ڈال رکھا تھا دنیاوی زندگی (اور اس کی چمک دمک) نے سو اب نہ تو ان لوگوں کو نکالا جائے گا اس (آگ) سے اور نہ ہی ان سے کوئی توبہ طلب کی جائے گی

63 اللہ کی آیتوں کا مذاق اڑانا باعث ہلاکت و تباہی ۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان بدبختوں سے کہا جائے گا کہ یہ اس لیے کہ تم لوگوں نے مذاق اڑایا اللہ کی آیتوں کا۔ سو اللہ پاک کی آیتوں کا مذاق اڑانا وہ بدترین کفر ہے جو انسان کو حق و ہدایت کی دولت سے محروم کردیتا ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العظیم ۔ سو جب تم لوگوں کو تمہارے اس ہولناک دن کی ہولناکی اور اس کے تقاضوں کے متعلق اللہ کی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتیں تو تم انکا مذاق اڑاتے۔ اور تم وہاں سے اس طرح پیٹھ پھیر کر چل دیتے کہ گویا کہ تم نے سنا ہی نہیں۔ سو اب چکھو مزہ اپنے اس استہزاء و مذاق کا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا مذاق اڑانا محرومیوں کی محرومی اور باعث ہلاکت و تباہی ہے۔ مگر افسوس کہ دنیا میں اس ہولناک جرم کا ارتکاب ہمیشہ کیا گیا۔ منکرین کا رویہ و وطیرہ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے۔ بلکہ اب تو اس کے لیے نت نیے طریقے اختیار کیے جاتے ہیں اور شیطان ان کو نت نئی پٹیاں پڑھاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین۔ 64 حیات دنیا کی دھوکہ دہی کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان بدبختوں سے مزید کہا جائے گا کہ تم لوگوں کو دھوکے میں ڈال رکھا تھا دنیاوی زندگی نے۔ اس کی چمک دمک اور ریل پیل پر تم لوگ ریجھ گئے تھے۔ اور تم نے اسی کو مقصود بنا لیا تھا۔ اور اسی کو سب کچھ سمجھ رکھا تھا۔ اور تمہاری ساری تگ و دو اسی کے لئے ہوتی تھی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور تم نے اس کی بنا پر یہ سمجھ رکھا تھا کہ تم ٹھیک ہو اور تمہارے طریقے میں کوئی خرابی ہی نہیں۔ ورنہ تم کو یہ دنیا کیوں ملتی ؟ اور اسی بنا پر تم لوگ حق اور اہل حق کی بات کو سننے ماننے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتے تھے۔ اور اپنی دنیاوی رفاہیت و خوشحالی سے تم لوگ یہ نتیجہ نکالتے تھے کہ جو کچھ تم لوگ کہتے اور کرتے ہو وہی ٹھیک ہے۔ اگر اس میں کوئی غلطی ہوتی تو تم کو یہ سب کچھ کیوں ملتا اور اسی غرور میں مبتلا ہو کر تم لوگ حق اور اہل حق کا مذاق اڑاتے اور تم ان کو طعنے دیتے تھے کہ اگر تم سچے ہوتے تو تم کو دنیاوی عیش و عشرت اور رفاہیت و خوشحالی کا یہ سامان کیوں نہ ملتا جو ہمیں ملا ہوا ہے وغیرہ وغیرہ ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا - 65 منکرین کے لیے دوزخ کا دائمی عذاب ۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو ان کے بارے میں مزید ارشاد فرمایا گیا کہ " اب نہ تو انکو وہاں سے نکالا جائے گا اور نہ ہی ان سے توبہ طلب کی جائے گی "۔ نہ وہاں پر اور نہ اس دنیا میں دوبارہ بھیج کر۔ کیونکہ توبہ و عمل کا وقت گزر چکا ہوگا۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ حیات دنیا کی یہ فرصت جو آج ہمیں میسر ہے قدرت کی کس قدر عظیم الشان نعمت ہے کہ اس میں اپنی آخرت کو بنانے سنوارنے اور اس کے لئے کمائی کرنے، نیز اپنے گناہوں کو معاف کرانے اور توبہ و استغفار کرنے کا ہر موقع آج ہمیں حاصل و میسر ہے۔ جبکہ کل قیامت و آخرت کے اس جہاں میں ہزار تمنا و آرزو کے باوجود اس کے لئے کسی موقع کے ملنے اور میسر آنے کا کوئی سوال نہیں ہوگا ۔ اللہ تعالیٰ حیات دنیا کی اس فرصت مستعار کی قدر و قیمت کو پہچاننے کی اور اس کے ایک ایک لمحے کو اپنی رضا میں صرف کرنے کی توفیق بخشے ۔ آمین ثم آمین۔ یہاں پر انداز کلام کی یہ تبدیلی بھی ملاحظہ ہو کہ آیت کریمہ کے شروع میں تو مخاطب کے صیغے استعمال فرمائے گئے اور اب آخر میں یہ غیب کا صیغہ ہے۔ گویا کہ نظرانداز کرنے کی جو دھمکی انکو دی گئی تھی اس پر اب عمل شروع ہوگیا ہے۔ اور اب یہ لوگ اس قابل ہی نہیں رہے کہ ان سے خطاب کیا جائے۔ لہذا اب انکو یہ بات غیب کے صیغے سے فرمائی جا رہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل سوء وخزی و حرمان -
Ayah 45:36

فَلِلّٰهِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ رَبِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 45:36 in the Quran reader

بس تعریف سب کی سب اللہ ہی کے لئے ہے جو مالک ہے آسمانوں اور زمین (کی اس ساری کائنات) کا جو پروردگار سارے جہانوں کا

66 تعریف اللہ ہی کے لیے ۔ سبحانہ وتعالیٰ : سو آخر میں ساری بحث کا خلاصہ سامنے رکھتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ " تعریف سب کی سب اللہ ہی کیلئے ہے "۔ کہ ہر خوبی و کمال کا مالک وہی اور صرف وہی وحدہ لاشریک ہے۔ اور مخلوق میں سے جس کسی کو بھی کوئی خوبی و کمال حاصل ہے وہ اسی کی بخشش و عطا سے ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ { وَمَا بِکُمْ مِّنْ نِّعْمَۃٍ فَمِنَ اللّٰہِ } ۔ (النحل : 53) ۔ یعنی " تم کو جو بھی کوئی نعمت حاصل ہے وہ اللہ ہی کی طرف سے ہے "۔ اس لئے تم بھی اے انسانو اسی کی اور صرف اسی وحدہ لاشریک کی تعریف و توصیف سے رطب اللسان رہو۔ یہی وجہ ہے کہ مومن کی زبان پر ہر وقت " الحمد للّٰہِ " ہی صدا و پکار ہوتی ہے ۔ فَلَکَ الْحَمْدُ یَا رَبِّیْ حَمْدًا یَّلِیْقُ بِجَلِال وَجْہِِکَ وَعَظِیْمِ سُلْطانک ۔ سو اس ارشاد سے اس بحث کے آخر میں یہ سارا خلاصہ سامنے رکھ دیا گیا کہ جب یہ سارے حقائق واضح ہیں اور ان سب سے اللہ تعالیٰ ہی کی عظمت شان آشکارا ہوتی ہے تو اس سے یہ امر واضح اور پکا ہوگیا کہ سب تعریفیں بھی اللہ وحدہ لاشریک ہی کیلئے ہیں جو کہ رب ہے آسمانوں اور زمین کا۔ اور جو کہ رب ہے سب جہانوں کا ۔ فالحمدللہ رب العالمین ۔ سو جب آسمانوں اور زمین کی اس پوری کائنات کا خالق اور مالک وہی وحدہ لا شریک ہے اور اس میں حکم و تصرف بھی اسی کا چلتا ہے تو پھر اس کے سوا اور معبود گھڑنے اور ارباب بنانے کی آخر کیا تک ہوسکتی ہے ؟ سو ایسا کرنا نری حماقت اور کھلی جہالت ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 45:37

وَ لَهُ الْكِبْرِیَآءُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۪ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 45:37 in the Quran reader

اور اسی کے لئے ہے بڑائی آسمانوں اور زمین (کی اس پوری کائنات) میں اور وہی ہے سب پر غالب نہایت ہی حکمتوں والا

67 عظمت وکبریائی اللہ تعالیٰ ہی کا حق ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر وقصر کے اسلوب و انداز میں ارشاد فرمایا گیا کہ " اسی کیلئے ہے بڑائی آسمانوں اور زمین میں "۔ سو یہاں پر حصر کے ساتھ فرمایا گیا ہے کہ کبریائی اسی کا اور صرف اسی وحدہ لاشریک کا حق ہے۔ پس تم بھی ہمیشہ اس کی عظمت وکبریائی کے ترانے گایا کرو۔ اور حدیث قدسی میں فرمایا گیا کہ اللہ پاک فرماتا ہے " کبریائی میری چادر ہے اور عظمت و بڑائی میری ازار۔ پس جس نے ان دونوں میں سے کسی ایک میں بھی ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی تو میں اسے دوزخ کی آگ میں پھینک دوں گا " ۔ " اَلْکِبْرِیَائُ رِدَائِیْ والْعَظْمَۃُ اِزَارِیْ فَمَنْ نَازَعَنیِ وَاحدً مِّنْہُمَا الْقَیْتُہٗ فِی النَّارِ " ۔ (اخرجہ الامام احمد و مسلم و ابوداؤد ‘ وابن ماجہ وغیرہ) ۔ سو جب زمین و آسمان کی اس ساری کائنات کا خالق ومالک بھی وہی وحدہ لاشریک ہے تو عظمت وکبریائی بھی اسی کا حق ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کسی اور کے لیے عظمت وکبریائی کی کوئی گنجائش آخر کہاں سے اور کیسے نکل سکتی ہے ؟ پس عظمت وکبریائی کا اصل حقدار وہی وحدہ لا شریک ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ - 68 اللہ تعالیٰ کی صفت عزت و حکمت کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ ہی سب پر غالب نہایت ہی حکمت والا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور حسب سابق حصر و قصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " وہی ہے سب پر غالب نہایت ہی حکمت والا "۔ چونکہ وہ سب پر غالب ہے اس لئے جو چاہے کرسکتا ہے۔ کوئی اس کے آگے رکاوٹ نہیں بن سکتا۔ مگر چونکہ وہ انتہائی حکمت والا بھی ہے اس لئے وہ جو بھی کچھ کرتا ہے نہایت ہی حکمت کے ساتھ کرتا ہے ۔ جَلَّ جَلالُہٗ وَعَمَّ نَوَالُہٗ ۔ اور جب یہ صفت اور شان اس وحدہ لاشریک کے سوا اور کسی کی نہ ہے نہ ہوسکتی ہے تو پھر معبود برحق بھی اس کے سوا اور کوئی نہیں ہوسکتا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس ہر طرح کی عبادت و بندگی بھی اسی کا اور صرف اسی وحدہ لاشریک کا حق ہے۔ پس اس نے اپنی حکمت کاملہ اور رحمت شاملہ کی بنا پر جو سرکشوں کو مہلت دے رکھی ہے اس سے کسی کو کبھی دھوکے میں نہیں پڑنا چاہئیے کہ اس عزیز و حکیم کی گرفت بھی بہت سخت ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ نیز اس سے یہ امر بھی واضح ہوجاتا ہے کہ جو صدق دل سے اس کا بن گیا وہی سچی اور حقیقی عزت و حکمت سے سرفراز ومالا مال ہوگیا اور جس نے اس سے منہ موڑا اور بےرخی و روگردانی برتی وہ بہرحال سچی اور حقیقی عزت وحکمت سے محروم ہوگیا، خواہ دنیاوی اعتبار سے وہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو اور ابنائے دنیا اس کو کیا ہی سمجھتے اور مانتے کیوں نہ ہوں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -