Ayahs 32:25–2642 تمام اختلافات کا آخری فیصلہ قیامت کے روز ہی ہوگا : یعنی عملی اور آخری طور پر۔ ورنہ دلائل وبراہین کی حد تک فیصلہ تو اس نے اپنے انبیاء ورسل اور اپنی کتابوں خاص کر امام الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ۔ ﷺ ۔ اور آپ ﷺ پر نازل ہونے والی اس کتاب حکیم کے ذریعے اس دنیا میں ہی فرما دیا ہے۔ اور خاتم الکتب یعنی قرآن حکیم کا تو نام ہی " الفرقان " ہے کہ یہ کتاب حکیم حق اور باطل کے درمیان دو ٹوک فیصلہ کردینے والی واحد کتاب ہے۔ سو اس کے بعد حق و باطل کے درمیان فرق وتمیز کے بارے میں کوئی خفا و غموض باقی نہیں رہ گیا۔ لیکن عملی طور اور آخری فیصلہ، فیصلے کے اس بڑے دن میں ہی ہوگا جس نے دنیا کے اس دارالعمل اور دارالامتحان کے بعد پیش آنا ہے۔ سو اس یوم فصل میں آخری فیصلہ کردیا جائے گا جس کے بعد ہر کوئی اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا پورا پورا صلہ اور بدلہ پاکر رہے گا۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ اس دنیا کے بعد ان لوگوں کا معاملہ خداوند قدوس کی اخروی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ وہاں پر وہ ان تمام چیزوں کے بارے میں آخری اور عملی فیصلہ فرما دے گا جن کے بارے میں یہ لوگ دنیا میں اختلاف کرتے رہے تھے۔ اس وقت ان کے اختلاف اور نزاع کا نتیجہ ان کے سامنے آجائے گا اور ہر کسی کو اس کے زندگی بھر کے کیے کرائے کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا -
Ayah 32:2745 پانی کی نعمت کے بارے میں دعوت غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا ان لوگوں نے کبھی اس میں غور نہیں کیا کہ ہم کس طرح چلاتے ہیں پانی کو خشک پڑی زمین کی طرف "۔ یہاں پر برسانے اور اتارنے کا ذکر نہیں بلکہ { نسوق } فرمایا گیا ہے کہ ہم اس کو چلا کر اور ہانک کر اور اسے بادلوں کی شکل میں چلا کر اور ہواؤں کے ذریعے کہیں سے اٹھا کر کہیں برساتے ہیں۔ اور پھر وہاں سے ندی نالوں کے ذریعے اس پانی کو کہیں سے کہیں اور پہنچا دیتے ہیں۔ کیونکہ بہت سی زرخیز مگر نرم اور کمزور زمینیں ایسی ہوتی ہیں جو زیادہ بارشوں کو برداشت نہیں کرسکتیں۔ زیادہ بارشوں کی صورت میں ایسی زمینوں سے اس کے باشندوں کو تکلیفیں اور نقصانات پہنچتے ہیں۔ اس لئے سخت بارش اور برف وغیرہ کو دور پہاڑوں پر برسا کر وہاں سے اس کا پانی ندیوں، نالوں اور دریاؤں، نہروں وغیرہ کے ذریعے وہاں سے چلا کر اس زمین تک پہنچا دیتے ہیں تاکہ وہ اس کی زرخیزی میں کام آئے۔ مفسرین کرام میں سے بعض نے اس کا مصداق ارض مصر کو قرار دیا۔ بعض نے بعض دوسری زمینوں کو۔ مگر پتہ نہیں ان حضرات کو اس طرح کی اس تحدید و تخصیص کی آخر ضرورت کیا پڑی ؟ جبکہ الفاظ کا عموم ایسی ہر زمین کو شامل ہے۔ اور ایسی زمینیں بھی اس کرہ ارضی میں ہر جگہ موجود ہیں۔ جیسے کہ خود ہمارے ملک میں پنجاب و سندھ وغیرہ کی زمینیں۔ اور پنجاب کی تو وجہ تسمیہ ہی یہ ہے کہ اس کو ان پانچ دریاؤں کا پانی سیراب کرتا ہے جو کہ کشمیر وغیرہ دیگر شمالی علاقوں سے بہہ کر اور چل کر ان علاقوں تک پہنچتا ہے۔ اس طرح یہ دریا اس کی زرخیزی میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔ یہی حال ارض مصر کا بھی ہے کہ اس کو دریائے نیل سیراب کرتا ہے۔ یہاں تک کہ عربوں میں یہ مثال مشہور ہے " مِصَرُ تُحْفَۃُ النِّیْلِ " ۔ یعنی " مصر نیل کا تحفہ ہے "۔ بہرکیف پانی کے اس پر حکمت نظام میں حضرت خالق ومالک ۔ جل جلالہ ۔ کی قدرت، حکمت اور رحمت و ربوبیت کے عظیم الشان دلائل ہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور اس کا حق یہ ہے کہ بندہ اپنے اس خالق ومالک کے آگے دل و جان سے جھک جائے۔
46 تو کیا ان لوگوں کو سوجھتا نہیں : اور یہ سوچتے اور غور نہیں کرتے کہ یہ زبردست اور حیرت انگیز نظام کس قادر مطلق اور حکیم مطلق کی قدرت و حکمت اور اس کی رحمت و عنایت کا رہین منت ہے ؟ اور اس خالق ومالک کے ہم پر کیا حقوق عائد ہوتے ہیں ؟ اوپر کی آیت کریمہ میں فرمایا گیا تھا ۔ { اَ فَلا یَسْمَعُوْن } ۔ اور یہاں فرمایا گیا ہے ۔ { اَ فَلا یُبْصِرُوْنَ } ۔ سو اوپر والے ارشاد میں ان کی عدم سماعت پر ملامت فرمائی گئی ہے اور یہاں ان کی عدم بصارت و فقدان بصیرت کی بنا پر ان کی ملامت ہے۔ سو یہ لوگ اندھے، بہرے اور اوندھے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ ورنہ یہ لوگ جب آئے دن زمین کو مردہ اور زندہ ہوتے دیکھتے ہیں تو پھر بھی یہ اس بارے کسی شک و شبہ میں کیسے مبتلا ہوتے ہیں کہ جس خالق نے ان کو عدم محض سے نکال کر خلعت وجود سے نوازا ہے وہ ان کو مر مٹ جانے کے بعد دوبارہ پھر اسی طرح زندہ کرکے اٹھا سکتا ہے جس طرح کہ یہ اس سے پہلے تھے۔ اور جس طرح کہ وہ مردہ پڑی زمین کو ان کے سامنے اپنی باران رحمت سے زندہ کر کے اس میں طرح طرح کی چیزیں اگاتا پیدا کرتا ہے اور اس کو گل و گلزار کردیتا ہے۔ سو اس ارشاد ربانی میں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور ربوبیت کی دو صفتوں کا خاص طور پر بیان فرمایا جارہا ہے۔ کیونکہ یہ دونوں صفتیں قیامت کی ضرورت اور اس کے وقوع کی نہایت واضح دلیلیں ہیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayah 32:2847 منکرین کے مذاق و استہزاء کا ذکر وبیان : سو اس سے منکرین کی طرف سے عقیدئہ قیامت کے مذاق و استہزاء کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ لوگ کہتے ہیں کہ کب پورا ہوگا تمہارا یہ وعدہ اگر تم لوگ سچے ہو ؟ "۔ یعنی قیامت کا وہ آخری اور عملی فیصلہ جس کا ڈراوا تم ہمیں سناتے ہو، آخر وہ کب آئے گا ؟ اور اس کو کس نے روک رکھا ہے ؟ آخر وہ آتا کیوں نہیں ؟ وغیرہ وغیرہ۔ سو اس سے مقصود ان لوگوں کا اصل میں آخرت کا مذاق و استہزاء اور اس کا انکار تھا کہ آخرت واخرت کچھ نہیں۔ یہ محض یونہی ان لوگوں کے مونہوں کی باتیں ہیں وغیرہ ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ان لوگوں کی بلادت و بےبصیرتی، عناد و ہٹ دھرمی اور غفلت و لاپرواہی کا حال یہ ہے کہ تاریخ اور آفاق کے ان تمام آثار و شواہد کی طرف جب ان کی توجہ دلائی جاتی ہے تو یہ سبق لینے کی بجائے الٹا طنز و استہزاء و انکار کے انداز میں یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر تم لوگ اپنے دعوے میں سچے ہو تو بتاؤ تمہارا یہ وعدہ آخر کب پورا ہوگا اور فیصلے کی وہ گھڑی آخر کب آئے گی۔ یعنی یہ لوگ اس کو دلائل و شواہد کی روشنی میں ماننے کیلئے تیار نہیں بلکہ اس کو اسی وقت مانیں گے جب وہ ان کی آنکھوں کے سامنے واضح ہوجائے۔ مگر دیکھنے کے بعد کا وہ ماننا ان کو کچھ کام نہ دے گا۔ کیونکہ مشاہدے کے بعد ماننا مقصود ہی نہیں۔ اصل مقصود ایمان بالغیب ہے۔
Ayahs 32:29–3048 فیصلے کے دن کا ماننا کچھ کام نہیں آئے گا : اس لئے اس کا وقت پوچھنے کی بجائے زندگی کی اس محدود فرصت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کے لئے تیاری کرو کہ اس کے آچکنے کے بعد کچھ بن نہ پڑے گا۔ سو اس ارشاد ربانی سے ان کے مطالبہ عذاب کا جواب دیا گیا کہ اگر یہ لوگ فیصلے کے دن کو دیکھ کر ایمان لانا چاہتے ہیں تو ان کو بتادو کہ اس کے ظہور کے بعد ایمان لانا کسی کے کچھ کام نہ آسکے گا اور نہ ہی اس کے بعد کسی کو اس بات کی اجازت دی جائیگی کہ وہ توبہ و اصلاح کے ذریعے تلافی مافات کرسکے۔ " یوم الفتح " سے مراد فیصلے کا دن ہے اور اس ضمن میں یہ بھی واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں نے اپنی قوموں کو دو قسم کے عذابوں سے ڈرایا ہے۔ ایک قیامت کے دن کا عذاب اور دوسرا وہ عذاب جو ان لوگوں کی بغاوت و سرکشی کی بنا پر آخرت سے پہلے اسی دنیا میں آتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس ارشاد ربانی کا تعلق ان دونوں عذابوں سے ہے۔ پس جس طرح قیامت کے دن کے ظہور کے بعد اور کسی کا ایمان اس کیلئے نافع نہیں ہوسکے گا اسی طرح دنیا میں بھی فیصلہ کن عذاب کے ظہور کے بعد بھی کسی کا ایمان اس کیلئے نافع نہیں ہوگا۔ کیونکہ ایسا ایمان ایمان بالمشاہدہ اور مجبوری کا ایمان ہوگا جبکہ مطلوب و مقصود وہ ایمان ہے جو کہ بالغیب اور اپنے ارادئہ و اختیار سے ہو۔ مجبوری کے ایمان کی حق تعالیٰ کے یہاں کوئی وقعت اور حیثیت ہی نہیں۔ اصل اور مفید ایمان وہی ہے جو بن دیکھے اور بالغیب ہو۔ اور اس کا موقع اس دنیاوی زندگی ہی میں ہے اور بس۔