Ayah 31:2039 شکر خداوندی کے آفاقی دلائل میں غور و فکر کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا تم لوگ دیکھتے نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کس قدر پر حکمت طریقے سے تمہارے کام میں لگا دیا آسمانوں اور زمین کی سب چیزوں کو "۔ اس تسخیر ۔ کام میں لگانے ۔ کی آگے پھر دو صورتیں ہیں۔ کیونکہ کائنات کی یہ تمام چیزیں دو قسم پر ہیں۔ ایک قسم کی چیزیں تو وہ ہیں جو انسان کے ارادے اور اس کی مرضی کے تابع کردی گئیں۔ جیسے اس کی ملکیت کی جملہ اشیاء کہ وہ ان میں جس طرح چاہے تصرف کرتا ہے۔ اور دوسری قسم کی اشیاء وہ ہیں جو انسان کے ارادہ ومرضی کے تابع تو نہیں مگر وہ کام اسی کے نفع اور فائدے کے لئے کر رہی ہیں۔ جیسے سورج، چاند اور زمین و آسمان اور دن رات وغیرہ کی دیگر بیشمار چیزیں۔ اور ان کو انسانی ارادے کے تابع نہ کرنا بھی ایک اور مستقل نعمت اور احسان ہے۔ جس سے حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ نے محض اپنے فضل وکرم سے اپنی مخلوق کو نوازا ہے۔ کیونکہ اگر ایسے نہ ہوتا تو یہ نظام عالم برقرار نہ رہتا بلکہ درہم برہم ہوجاتا کہ ہر آدمی کی خواہش ورغبت دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔ تو پھر وہ اس کائنات کی کسی ایک چیز پر اتفاق کس طرح کرسکتے تھے جس کے باعث ایک کچھ چاہتا اور دوسرا کچھ۔ ایک کہتا ابھی رات ہونی چاہیئے تاکہ میں آرام کرسکوں اور دوسرا کہتا نہیں دن ہونا چاہیئے تاکہ میں اپنا فلاں اور فلاں کام کرسکوں۔ ایک کہتا ابھی بارش ہونی چاہیئے اور دوسرا کہتا نہیں ہونی چاہیئے وغیرہ وغیرہ۔ تو اس طرح لازماً نظام عالم میں سخت خلل واقع ہوتا اور یہ سب کچھ تباہ و برباد ہوجاتا۔ سو اس خالق کل اور مالک مطلق نے اس سب سلسلہ کو اپنی ہی مشیت اور ارادے کے تابع رکھ کر تمہارے لیے کام میں لگا دیا اور اپنی حکمت بےپایاں سے اس کو چلا رہا ہے اور تمہارے اختلاف کا اس میں کوئی موقع ہی نہیں رہنے دیا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو کائنات کی یہ پر حکمت تسخیر قدرت کا ایک عظیم الشان اور بےمثال انعام واحسان ہے جس سے اس نے اپنی مخلوق اور اپنے بندوں کو نوازا ہے اور اس میں اس کا دوسرا کوئی بھی شریک وسہیم نہیں۔ اس لیے ہر قسم کے شکر اور حمد وثناء کا حقدار بھی وہی وحدہ لا شریک ہے ۔ فلہ الحمد ولہ الشکر قبل کل شی وبعد کل شیء و بقدر ما یحب ویرضی جل وعلا -
40 ظاہری اور باطنی تمام نعمتیں اللہ ہی کی عطا کردہ ہیں : سو ارشاد فرمایا گیا " اور اس نے پورا فرما دیا تم پر اپنی نعمتوں کو ظاہری بھی اور باطنی بھی "۔ کھلی نعمتیں وہ جو ظاہر ہوں اور حواس و ادراک کے دائرے میں آسکیں۔ اور باطنی اس کے سوا جس میں مختلف اور معروف معنوی اور روحانی نعمتوں کے علاوہ بیشمار ایسی نعمتیں بھی ہیں جن کا انسان ضعیف البنیان کو پتہ بھی نہیں۔ مگر وہ ان سے برابر مستفید ہو رہا ہے۔ جیسا کہ اب سائنس کی ترقی کے ساتھ ساتھ انسان کو اس کا پتہ چلتا جا رہا ہے مگر اللہ پاک نے اپنی قدرت کاملہ، حکمت بالغہ اور رحمت شاملہ سے انسان کو ان سے ہمیشہ سے نواز رکھا ہے بغیر اس کی طرف سے کسی اپیل و درخواست کے۔ انسانی جسم کے اندر بھی اور اس کے باہر بھی۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کس قدر فیاض و مہربان و کریم وہاب اور قادر و حکیم ہے وہ مالک۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس کی یہ نعمتیں ظاہری اور مادی بھی ہیں اور باطنی اور معنوی بھی۔ شکل و صورت، قدو قامت، ہاتھ پاؤں، غذا و لباس اور اس قبیل کی دوسری بیشمار نعمتیں بھی ہیں اور سمع و بصر، عقل و ادراک، فکر و فہم اور بصیرت و ہدایت بھی جو کہ باطنی اور اہم نعمتیں ہیں۔ یہ سب اسی وحدہ لاشریک کی بخشی ہوئی اور اس کی عطا فرمودہ ہیں۔ ان میں سے کسی بھی نعمت کے بارے میں کوئی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ یہ اس کو اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کی طرف سے ملی ہے یا اس کے سوا اور کوئی اس کو یہ نعمت دے سکتا ہے۔ سو جب ان تمام نعمتوں کو بخشنے والا وہی وحدہ لاشریک ہے تو بندے کی تمام شکرگزاری اور نیازمندی کا حقدار بھی وہی اور صرف وہی ہے۔ اس میں اس کا کوئی بھی شریک نہیں ہوسکتا۔ پس اس کے حق عبادت و بندگی میں بھی کوئی اس کا شریک نہیں ہوسکتا ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
41 پھر بھی اللہ کے بارے میں جھگڑا ۔ والعیاذ باللہ : یعنی اللہ تعالیٰ کی یہ اور یہ نعمتیں اور ایسے اور ایسے کرم و احسان جن میں انسان سر سے پاؤں تک اور ظاہر و باطن ہر اعتبار سے ڈوبا ہوا ہے لیکن پھر بھی کچھ لوگ اللہ کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں۔ چناچہ کوئی اس کے وجود ہی میں اختلاف رکھتا اور اس کا منکر ہو رہا ہے اور کہتا ہے کہ یہ کائنات الل ٹپ یونہی وجود میں آگئی یا ایک اندھی بہری فطرت نے اس کو جنم دیا اور اس کو وجود بخشا اور وہی اس کو چلا رہی ہے۔ اور کوئی کہتا ہے کہ وہ فلاں فلاں دیویوں اور دیوتاؤں کے روپ میں پایا جاتا ہے۔ اور کوئی کہتا ہے کہ اس کی مخلوق میں سے فلاں فلاں ہستیاں اس کی صفات اور اس کے حقوق و اختیارات میں اس کی شریک وسہیم اور اس کی صفات کا مظہر ہیں۔ اور یہ کہ اللہ پاک کی بارگہ اقدس و اعلٰی تک رسائی حاصل کرنے کے لئے انہی کو وسیلہ و واسطہ بنانا اور انہی کو راضی رکھنا ضروری ہے۔ ایسی ہستیاں راضی ہوگئیں تو سب کام بن گیا۔ " ہماری ان کے آگے اور ان کی اس کے آگے " وغیرہ وغیرہ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو یہ کس قدر ظلم اور کتنی بےانصافی کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں جو کہ ظاہری بھی ہیں اور باطنی بھی اور جو کائنات کی اس کھلی کتاب میں ہر طرف پھیلی بکھری ہیں اور جو اپنی زبان حال سے پکار پکار کر کہہ رہی ہیں کہ ہر طرح کی شکرگزاری اور نیازمندی کا حقدار وہی وحدہ لاشریک ہے۔ مگر اس کے باوجود کچھ لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ اسی کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں۔ مگر اس قادر مطلق خالق ومالک کل نے پھر بھی ایسے لوگوں کو مہلت اور ڈھیل دے رکھی ہے۔ سو یہ اسی کی اور صرف اسی وحدہ لا شریک کی شان ہوسکتی ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
42 جھگڑا بھی بغیر کسی حجت وبرہان کے : یعنی اللہ کے بارے میں یہ جھگڑا بھی بغیر کسی حجت وبرہان کے۔ یعنی ستم بالائے ستم یہ کہ ایسے لوگ یہ جدال و مناقشہ بھی کسی عقل سلیم یا نقل صحیح یا کسی کتاب منیر کی اساس و بنیاد پر نہیں محض اہوا و اَوھام اور ظنون و اباطیل کے سہاروں پر کر رہے ہیں اور بغیر کسی سند و ثبوت کے محض اوہام و ظنون اور بےبنیاد خیالات کی بناء پر ایسی بحثیں کرتے ہیں۔ سو یہی حال ایسے لوگوں کا کل تھا اور یہی آج ہے۔ چناچہ آج بھی کتنے ہی لوگوں کو آپ دیکھیں گے کہ وہ خالص دینی نوعیت کے مسائل کے بارے میں بھی رائے زنی کرتے ہوئے کہتے ہیں " میرے خیال میں " یا " میرے نزدیک " یا " میری رائے میں " ایسے نہیں، ایسے ہے۔ " میری سمجھ کے مطابق یہ مسئلہ اس طرح نہیں، اس طرح ہے " وغیرہ وغیرہ۔ سو صاحب بات آپ کے گمان و خیال یا عقل و سمجھ کی نہیں بلکہ حجت و برھان کی ہے۔ اگر آپ کے پاس حجت وبرہان ہے تو پیش کیجئے ورنہ محض عقل و قیاس کے گھوڑے نہ دوڑائیے کہ بات خود ساختہ ڈھکوسلوں کی نہیں بلکہ حق اور صدق کی ہے۔ اور اس کیلئے قیاسات اور خودساختہ مفروضوں سے کام نہیں چلے گا بلکہ دلیل وبرہان کی روشنی اور قوت چاہیئے۔ وہ اگر ہے تو لاؤ پیش کرو لیکن اکثر لوگوں کا بحث مباحثہ بغیر کسی دلیل و سند کے ہی ہوتا ہے۔
Ayahs 31:21–2245 اپنی ذات کو اللہ کی حوالے کردینا سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو کوئی اپنی ذات اللہ کے حوالے کردے اس نے یقینا اپنے رب سے ملانے والی مضبوط رسی کو تھام لیا "۔ یعنی اپنی خواہش ومرضی ترک کرکے وہ اپنے آپ کو اللہ کے حکم اور اس کی مرضی کے تابع کر دے جس کی صحیح اور کامل صورت دین اسلام ہے کہ اسلام کے معنیٰ ہی " سپردن " اور " گردن نہادن " کے کئے گئے ہیں۔ یعنی اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کردینا اور اپنی گردن اس کے آگے ڈال دینا۔ اور یہی ذریعہ ہے دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا۔ اور اس سے محرومی دنیا و آخرت کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اپنی ذات کو اللہ کے حوالے کردینے والے نے یقینا مضبوط رسی کو تھام لیا جو انسان کو رب سے ملاتی اور اس کو دارین کی سعادت و سرخروئی عطا کرتی ہے۔
46 اسلام کی اصل روح احسان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کر دے بشرطیکہ وہ نیکوکار ہو "۔ کہ اس کی اندر کی نیت بھی صحیح ہو اور باہر کا عمل بھی درست ہو کہ نیت خالص اللہ کے لئے ہو اور عمل اس کی ہدایات کے مطابق۔ سو " احسان " کے معنیٰ کسی کام کو کمال درجہ خوبی اور صدق و اخلاص کے ساتھ کرنے کے آتے ہیں۔ سو اس سے " اسلم " کے معنیٰ متعین ہوگئے کہ اسلام وہ مطلوب و مقصود ہے جو کمال درجہ خوبی و یکسوئی اور جاں نثاری کے ساتھ ہو۔ ان مشرکین اور منافقین کی طرح نہیں جو دعویٰ تو اسلام اور ملت ابراہیمی کا کرتے ہیں اور نام خدا کا لیتے ہیں لیکن اس کی خدائی اور اس کے حقوق و اختیارات میں دوسروں کو شریک جانتے اور مانتے نہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو صدق و اخلاص اور حسن عمل کے ساتھ اللہ کی طرف متوجہ ہوجانا ہی اصل مطلوب ہے اور یہی دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا واحد ذریعہ و وسیلہ ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل ۔ اللہ ہمیشہ راہ حق و صواب پر مستقیم وثابت قدم رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
47 عروئہ وثقیٰ سے سرفرازی کی بشارت : سو ارشاد فرمایا گیا " جس نے اسلام اور احسان کی اس راہ کو اپنایا تو اس نے یقینا تھام لیا ایک بڑے ہی مضبوط کڑے کو "۔ جو چھوٹ تو سکتا ہے مگر ٹوٹ نہیں سکتا۔ اور جو بندے کو اس کے رب سے ملاتا ہے۔ سو اللہ پاک کے ساتھ تعلق اور اس وحدہ لاشریک پر اعتماد کا یہ تعلق انسان کو ہلاکت کے ہر گڑھے سے بچانے والا ہے جبکہ اس کے سوا دوسرے تمام سہارے تار عنکبوت کی طرح ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اپنے خالق ومالک کے ساتھ یہ سچا اور پکا تعلق ہی سلامتی کی واحد راہ اور نجات کا ذریعہ ہے۔ اس کے برعکس باپ دادا کی اندھی تقلید اور دوسرے فرضی اور خود ساختہ سہاروں میں سے کوئی بھی چیز کام آنے والی نہیں۔ جن لوگوں نے ایسی بےحقیقت چیزوں پر تکیہ و آسرا کر رکھا ہے وہ سخت غلطی اور ہولناک خسارے میں مبتلا ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔
48 سب کاموں کا رجوع اللہ ہی کی طرف : پس جو اس کو منظور وہی ہوگا۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر کے اسلوب و انداز میں ارشاد فرمایا گیا " اور اللہ ہی کی طرف لوٹتے ہیں سب کام "۔ پس ہوگا وہی جو اس کو منظور ہوگا۔ اس لئے تکیہ ہمیشہ اسی پر رکھو۔ نیز ہر کام کا انجام اسی کی طرف ہے جس پر وہ سزا و جزا دے گا۔ لہذا ہر کوئی اس حقیقت کو بھی ہمیشہ اپنے پیش نظر اور ملحوظ خاطر رکھے کہ اس کے حضور میرا معاملہ صحیح رہے اور وہ مجھ سے ناراض نہ ہو ۔ اللّھُمَّ اَنَا راضٍ عَنْکَ مِنْ اَعْمَاقِ قلْبِیْ ۔ اَللُّھُمَّ فَارْضِ عَنِّیْ بِمَحْضِ مَنِّکَ وَکَرِمک وَخُذْ بِنَاصِیَتِیْ اٖلٰی مِا فِیْہٖ حُبَّکَ وَرِضَاکَ یا ارحم الراحمین ویا اکرم الاکرمین ۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اسلام اور احسان کا راستہ ہی وہ واحد راستہ ہے جو انسان کو اس کے خدا سے ملاتا ہے اور جو اس کیلئے نجات کا ذریعہ بن سکتا ہے کہ سب کا مرجع اور ماوی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اس پوری کائنات کا خالق ومالک وہی وحدہ لا شریک ہے۔ اس میں جو کچھ ہوتا ہے وہ اسی کے حکم سے اور اسی کی مشیت ومرضی کے تحت ہوتا ہے۔ جن لوگوں نے اس کے سوا دوسرے خود ساختہ اور من گھڑت سہاروں پر تکیہ و اعتماد کر رکھا ہے وہ بڑے سخت خسارے میں مبتلا ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 31:2349 پیغمبر کے لیے تسلی کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا " اور جس نے کفر کیا تو اس کا کفر آپ کیلئے غم کا باعث نہیں بننا چاہیئے "۔ کہ اس سے وہ آپ ﷺ کا کچھ نہیں بگاڑے گا اپنا ہی نقصان کرے گا کہ حق و ہدایت سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور آپ ﷺ کا کام صرف پیغام حق پہنچا دینا ہے اور بس۔ بہرکیف اس میں پیغمبر کیلئے اور پیغمبر کے واسطے سے آپ کی امت کے ہر داعی کیلئے یہ تسکین وتسلیہ کا سامان ہے کہ جو لوگ دعوت حق کا مقابلہ کرنے اور اس کا راستہ روکنے کی کوشش کرتے ہیں، ان کی بنا پر آپ غم میں نہ پڑیں۔ انہوں نے بالآخر ہمارے ہی پاس لوٹ کر آنا ہے۔ تب ہم ان سے خود نمٹ لیں گے۔ سو پیغمبر کے ذمے پیغام حق پہنچا دینا ہے اور بس۔ اس سے آگے حق کو منوانا اور اس کو لوگوں کے دلوں میں اتار دینا نہ ان کے بس میں ہے اور نہ ہی یہ ان کی ذمہ داری ہے۔ لہذا پیغام حق پہنچادینے کے بعد جو اپنے کفر و باطل پر اڑے اور جمے رہیں گے ان کے لیے فکرمند اور غمگین ہونے کی ضرورت نہیں۔ اس کے بعد ان کا معاملہ خدا کے حوالے۔
50 اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا حوالہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک اللہ پوری طرح جانتا ہے دلوں کے بھیدوں کو "۔ اس لیے اس سے کوئی بھی چیز چھپی نہیں رہ سکتی۔ اور وہ اپنے علم وقدرت کے اعتبار سے تمہارے ساتھ ہے ۔ سبحانہ تعالیٰ ۔ مگر اس کے باوجود آج کا کلمہ گو مشرک کہتا ہے تم اس تک وسیلہ و واسطہ کے بغیر براہ راست نہیں پہنچ سکتے۔ جیسا کہ دنیا کے کسی بادشاہ وغیرہ کے پاس براہ راست نہیں پہنچ سکتے۔ اور یہ کہ تم جب سیڑھی کے بغیر چھت پر نہیں چڑھ سکتے تو اللہ تک کس طرح پہنچو گے ؟ وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح تمہاری رسائی اس تک اس وقت نہیں ہوسکتی جب تک کہ تم ہمارے ان خود ساختہ وسیلوں میں سے کوئی وسیلہ نہ پکڑو وغیرہ وغیرہ۔ بھلا جو ذات دلوں کے چھپے بھیدوں تک کو پوری طرح جانتی ہے اس کو دنیاوی بادشاہوں پر قیاس کرکے اس کیلئے واسطے اور وسیلے تجویز کرنا کس طرح درست ہوسکتا ہے۔ بہرکیف یہاں پر اللہ تعالیٰ کے کمال علم کے اس حوالے سے واضح فرما دیا گیا کہ کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ ساری دنیا کے اقوال و اعمال کو اللہ کس طرح جان سکے گا۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ یہ امر اللہ کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں۔ اس کے علم کے احاطے اور کمال کا یہ عالم ہے کہ وہ سینوں میں چھپے رازوں کو بھی جانتا ہے اور پوری طرح جانتا ہے۔ کوئی چیز اس کے احاطہ علم سے باہر نہیں ہوسکتی ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر قائم رکھے ۔ آمین۔
Ayah 31:2451 کفار و منکرین کے لیے تھوڑی سے مہلت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم انکو تھوڑی سی مدت کیلئے مزے کرنے کا موقع دے رہے ہیں "۔ یعنی دنیا کی اس زندگی اور اس کی اس محدود فرصت تک کیلئے۔ اور ظاہر ہے کہ دنیا کی یہ زندگی جتنی بھی طویل ہوجائے بہرحال محدود اور چند روزہ ہی ہے۔ اس کو انہوں نے آخرکار اور بہرطور چھوڑنا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں آخرت کی زندگی ابدی اور دائمی ہے۔ اس کے سامنے اور اس کے مقابلے میں اس کی کوئی حقیقت اور حیثیت ہی نہیں۔ بہرکیف اس ارشاد سے آگاہ فرما دیا گیا کہ کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ آخرت کا معاملہ یونہی ہے یا وہ بہت دور ہے۔ نہیں بلکہ وہ ایک قطعی اور اٹل حقیقت ہے جسکی طرف ہم ان کو کشاں کشاں لیے جا رہے ہیں اور ان کو وہاں پر ایک بڑے ہی سخت عذاب میں مبتلا ہونا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ زیغ وضلال کی ہر شکل سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔
Ayahs 31:25–2653 سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ ہی کا ہے وہ سب کچھ جو کہ آسمانوں اور زمین میں ہے "۔ خلقًا بھی ملکاً بھی اور تصرفاً بھی۔ سو جس طرح بلا شرکت غیرے اس سب کا خالق وہ ہے، اسی طرح اس کا مالک بھی تنہا وہی ہے اور اس میں تصرف و حکم بھی اسی کا چلتا ہے۔ پس ہر طرح کی بندگی بھی اسی وحدہ لاشریک کا حق ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو آسمانوں اور زمین کی اس پوری کائنات کا خالق ومالک بھی تنہا وہی ہے اور اس میں حکم و تصرف بھی اسی وحدہ لاشریک کا چلتا ہے۔ اور اس کے اندر پائے جانے والے بےحد و حساب خزانوں کا مالک بھی تنہا وہی ہے۔ سب اسی کے محتاج اور سر تا پا محتاج اور اسی کے در کے سوالی ہیں۔ وہی وحدہ لاشریک ہے جو ہر طرح سے اور ہر کسی سے غنی و بےنیاز ہے ۔ جل و علا شانہ ۔ اس لیے حمد و شکر کا سزاوار و حقدار بھی وہی وحدہ لاشریک ہے اور ہر قسم کی عبادت و بندگی بھی اسی کا حق ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ جس طرح اس کی صفت خلق و تصرف میں کوئی اس کا شریک نہیں اسی طرح اس کے حق عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک وسہیم نہیں ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور عبادت و بندگی کی ہر شکل و قسم اسی وحدہ لا شریک کا حق ہے۔
54 اللہ ہی ہے بےنیاز اور ہر خوبی کا حق دار ۔ سبحانہ وتعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ وہی ہے بےنیاز اور ہر خوبی کا حقدار۔ لہذا نہ تو وہ غنی مطلق تمہاری کسی تعریف کا محتاج ہے اور نہ ہی اس حمید مطلق کی محمودیت تمہاری حمد و ثنا پر موقوف ہے۔ یہ سب کچھ تو تمہارے اپنے ہی فائدے اور بھلے کے لئے ہے ورنہ وہ تو اپنی ذات میں آپ محمود ہے اور ہر خوبی و کمال کا مالک ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اللہ پاک کی عظمت وقدرت کے بیان کیلئے ساتوں سمندر کی سیاہی اور زمین بھر کے درختوں کی قلمیں ختم ہوجائیں گی مگر اس کی صفات اور خوبیان ختم نہیں ہونگی۔ اور جب اس کی ان صفات اور محامد و فضائل میں کوئی اس کا شریک وسہیم نہیں تو پھر اس کے حق عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک وسہیم کس طرح ہوسکتا ہے ؟ اور اسی بنا پر شکر و ثنا کا حق دار بھی تنہا وہی ہے۔ اس کے سوا کسی کا بھی یہ درجہ اور مرتبہ نہیں کہ اس کو اس کی اس صفت اور اس کے اس حق میں شریک کیا جاسکے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 31:2755 اللہ پاک کی بےمثال عظمت شان کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تمام روئے زمین کے درخت قلمیں بن جائیں اور ان میں سات سمندر اور بھی شامل کردیے جائیں تو بھی اس کی باتیں ختم نہ ہونگی "۔ کہ یہ سب چیزیں بہرحال محدود ہیں اور اس کی باتیں یعنی اس کی مقدورات و معلومات لامحدود ۔ جل شانہ و عز برھانہ ۔ اور کلمات سے مراد اس کی وہ نشانیاں ہیں جو اس کی ذات وصفات اور اس کی قدرت و حکمت پر دلالت کرتی ہیں۔ چونکہ اس کی ہر نشانی اس کے کلمہ " کن " کی مظہر ہے اور وہ اپنی زبان حال سے اس کی قدرت و عظمت کی ناطق بھی ہے اس لیے اس کو " کلمات " سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ سو کس قدر اندھے اور اوندھے اور کتنے ظالم ہیں وہ لوگ جو اس خداوند قدوس کی ذات اقدس و اعلیٰ سے منہ موڑ کر طرح طرح کی عاجز اور بےحقیقت مخلوق کو اپنا معبود قرار دے کر اس کے آگے جھکتے اور ان کی پوجا پاٹ کرتے ہیں۔ کوئی لکڑی پتھر وغیرہ کے کسی خودساختہ اور بےحقیقت بت کے آگے جھکتا ہے اور کوئی کسی حیوان یا کسی ننگ دھڑنگ ملنگ کے آگے اور کوئی کسی جبے قبے، بناوٹی " سرکار " کے آگے وغیرہ وغیرہ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 31:2856 بعث بعد الموت کے بارے میں قدرت کے ایک نمونے کا ذکر وبیان : سو بعث بعد الموت کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ سب لوگوں کو دوبارہ پیدا کرنا ایک جان کے پیدا کرنے کی طرح ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تم سب لوگوں کو پیدا کرنا اور دوبارہ اٹھانا محض ایک شخص کی طرح ہے "۔ کہ اس قادر مطلق کے یہاں صرف حکم کرنے کی دیر ہوتی ہے اور بس ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو جب اس قادر مطلق کی عظمت شان کا یہ عالم ہے تو پھر اس کیلئے سب لوگوں کا دوبارہ زندہ کرکے اٹھانا کچھ بھی مشکل نہیں ہوسکتا۔ اور جب وہ عزیز کے ساتھ حکیم بھی ہے تو اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ تم کو دوبارہ اٹھائے۔ سو سب لوگوں کو دوبارہ پیدا کرنے کے بارے میں کسی شک کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ سکتی۔ سو اس کی صفت عزیز کا تقاضا ہے کہ اس کے لیے دوبارہ پیدا کرنا کچھ بھی مشکل نہیں اور اس کے حکیم ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ وہ سب کو دوبارہ پیدا کرے۔ تاکہ ہر کوئی اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا صلہ و بدلہ پا سکے اور اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے بدرجہ تمام و کمال پورے ہوں۔ ورنہ آسمان و زمین کے اس پورے کارخانے کا وجود عبث اور بیکار ہو کر رہ جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
57 اللہ ہر کی کی سنتا، سب کچھ دیکھتا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ اللہ ہر کسی کی سنتا سب کچھ دیکھتا ہے۔ لہذا اس کی بارگہ اقدس میں اپنی عرض پیش کرنے کے لئے نہ تو تمہیں وسائط ڈھونڈنے کی ضرورت ہے اور نہ اس کو دنیاوی بادشاہوں پر قیاس کرنا صحیح ہے کہ اس کی شان سب سے اعلیٰ وبالا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ نیز کسی کو یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیئے کہ اتنی بےحد و حساب مخلوق کے جملہ احوال و کو ائف اور ان کے معاملات کا علم کس کو ہوسکتا ہے کہ وہ ان کا حساب کرنے بیٹھے گا۔ سو اس خالق ومالک کیلئے یہ کچھ بھی مشکل نہیں کہ وہ سب کچھ سنتا اور ہر کسی کو دیکھتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کوئی بھی چیز اس کے علم اور مشاہدے سے باہر نہیں ہوسکتی۔ اس لیے سب لوگوں کا حساب کرنے اور ان کو سزا و جزا دینے میں اس کو کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔ سو سمیع وبصیر کی ان دو صفتوں کے ذکر سے قیامت کے اصل مقصد یعنی حساب و کتاب اور سزا و جزا کی تذکیر و یاددہانی فرما دی گئی ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید بکل حال من الاحوال وفی موطن من المواطن فی الحیاۃِ-
Ayah 31:2958 رات اور دن کے ادل بدل میں غور و فکر کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا تم نے دیکھا اور غور نہیں کیا کہ اللہ داخل فرماتا ہے رات کو دن میں اور دن کو رات میں "۔ اور دن رات کا یہ ادلنا بدلنا ہمیشہ تمہارے سامنے رہتا ہے جس میں تمہارے لئے طرح طرح کے درسہائے عبرت و بصیرت ہیں مگر تم لوگ غور و فکر سے کام نہیں لیتے۔ سو ذرا سوچو کہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرنے کا یہ عمل جو تمہارے سامنے لگاتار ہو رہا ہے، جسکے نتیجے میں کبھی رات بڑی کبھی دن اور کبھی اس کے برعکس۔ اور یہ عمل نہایت ہی باریکی اور انتہائی پر حکمت طریقے سے مسلسل اور لگاتار جاری ہے۔ آخر یہ کون کر رہا ہے ؟ سو رات اور دن کی آمد و رفت کا یہ سلسلہ جو لگاتار جاری وساری ہے اپنی زبان حال سے پکار پکار کر تم لوگوں کو دعوت غور و فکر دے رہا ہے کہ اس خالق ومالک کی تدبیر و تصرف اور اس کے حکم و ارشاد کا سلسلہ اس کی اس کائنات میں برابر اور ہر وقت جاری ہے۔ اور جب اس کی اس شان اقدس و اعلیٰ میں کوئی اسکا شریک وسہیم نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک وسہیم کس طرح ہوسکتا ہے ؟۔ نیز اس کا تقاضا یہ ہے کہ بندہ دل وجان سے اپنے اس خالق ومالک کے حضور جھک جائے اور ہمیشہ اس کے ذکر وشکر اور حمد وثنا سے رطب اللسان رہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔
59 شمس و قمر کی تسخیر میں سامان عبرت و بصیرت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اسی نے تمہارے کام میں لگا رکھا ہے سورج اور چاند کے ان عظیم الشان کروں کو جن سے تمہارے طرح طرح کے اور عظیم الشان فوائد و مصالح وابستہ ہیں۔ ورنہ کس کے لئے ممکن تھا کہ وہ تمہارے بھلے کے لئے ان عظیم الشان کروں کو اس قدر حکمت اور ضبط و انتظام کے ساتھ تمہارے کام میں لگا دیتا ؟ سو سورج و چاند کے یہ عظیم الشان اور چمکتے دمکتے کرے تمہارے خادم ہیں جن کو اس قادر مطلق نے اپنی قدرت بےنہایت اور رحمت بےغایت سے اس طرح تمہارے کام میں لگا دیا۔ سو کتنے ظالم اور کس قدر احمق ہیں وہ لوگ جو اپنے ان خادموں کی پوجا کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنا ہی بنائے رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
60 اللہ تعالیٰ کے علم و آگہی کا حوالہ و ذکر : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تمہارے کاموں سے پوری طرح باخبر ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " یقینا اللہ پوری طرح باخبر ہے تمہارے ان تمام کاموں سے جو تم لوگ کرتے ہو "۔ سو دنیا والوں سے تو تم چھپ سکتے ہو مگر اس وحدہ لاشریک سے تمہاری کوئی حرکت پوشیدہ نہیں رہ سکتی کہ اس کی شان ہے ۔ { یَعْلَمُ خَائِنَۃَ الاَعْیُنِ وَمَا تُخْفِی الصُّدُوْر } ۔ سو تمہیں اس کے یہاں حاضر ہو کر اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہوگا۔ اب ہر کوئی خود دیکھ لے اور اپنا محاسبہ خود کرلے کہ وہ اپنے آپ کو کس انجام کا مستحق بنا رہا ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف اس بارے دعوت غور و فکر کیلئے ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم لوگ اس خالق کل اور مالک مطلق کے نظام ربوبیت وقدرت کے ان نشانہائے عبرت و بصیرت میں صحیح طور پر غور و فکر سے کام لو تو تمہارے لیے اس امر میں کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ سکتی کہ اللہ تعالیٰ تمہارے تمام احوال و کو ائف اور جملہ اعمال سے پوری طرح باخبر ہے۔ اور اگر وہ باخبر نہ ہو تو تمہاری پرورش کے یہ عظیم الشان اور حیرت انگیز انتظامات کس طرح فرمائے ؟ اور اگر وہ باخبر ہے، اور یقینا ہے، تو پھر وہ تمہاری پرسش کیوں نہیں کرے گا کہ تم نے اس کی پروردگاری کا کیا حق ادا کیا ؟ ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کے کاموں کی توفیق بخشے ۔ آمین۔
Ayahs 31:30–3161 سمندر میں چلتے بحری جہازوں اور کشتیوں میں سامان غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا تم نے غور نہیں کیا کہ یہ کشتیاں اور بحری جہاز کس طرح رواں دواں ہیں سمندر میں اللہ کے فضل و کرم سے ؟ "۔ کہ جس پانی کی سطح پر ایک چھوٹا سا کنکر بھی نہیں ٹک سکتا اس پر ہزاروں ٹن وزن کے یہ دیوہیکل جہاز کس طرح رواں دواں ہیں ؟ اور اتنے وزن کا لوہا کس طرح پانی پر دوڑے چلا جا رہا ہے ؟ پہاڑوں جیسی طوفان خیز موجوں کو کس طرح دبایا اور زیر کیا جاتا ہے ؟ کیسے کیسے طوفانوں سے سابقہ پڑتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اور جس ذات نے انسان ضعیف البنیان کو اس قدر عقل و خرد، سمجھ بوجھ اور قوت و طاقت سے نوازا وہ کس قدر وہاب و کریم اور فیاض و رحیم ذات ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو کتنا ظالم اور کس قدر بےانصاف ہے وہ انسان جو اس ذات اقدس و اعلیٰ سے منہ موڑ کر دوسروں کے آگے جھکتا ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس خالق کل اور مالک مطلق رب ذوالجلال کی ان رحمتوں اور عنایتوں کا تقاضا یہ ہے کہ تم لوگ دل و جان سے اس کے حضور جھک جھک جاؤ اور اس طرح اس کے حق شکر کی ادائیگی کے شرف سے بھی مشرف ہو سکو اور اس کے نتیجے میں اپنے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان کرسکو ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
62 صبر و شکر دو عظیم الشان صفتیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ اس میں بڑی بھاری نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لیے جو بڑا صبر کرنے والا شکر گزار ہے "۔ یعنی جو تنگ حوصلہ اور تھڑدلے لوگوں کی طرح نعمت ملنے پر اترانے نہ لگے اور تکلیف پہنچنے پر آس توڑ کر بےصبری نہ کرنے لگے بلکہ ہر حال میں صبر و شکر سے کام لینے والا ہو۔ سو صبر و شکر کی دو صفتیں عظیم الشان صفتیں ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا " ایمان کے دو حصے ہیں۔ آدھا صبر ہے اور آدھا شکر "۔ (المراغی وغیرہ) ۔ سو اس ارشاد سے ترغیب دی گئی کہ تنگ دلی اور کم ظرفی کی بجائے تم لوگ اپنے اندر صبر و شکر کی صفات پیدا کرو۔ یعنی تم لوگوں کو ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ ذرا میں مغرور ہوگئے اور ذرا میں مایوس ہوگئے اور حوصلہ چھوڑ دیا۔ بلکہ تم کو ایسا ہونا چاہیے کہ ابتلاء و آزمائش کے مواقع میں صبر و ضبط سے کام لینے والے بنو۔ اور نعمت سے سرفرازی کی صورت میں شکر کرنے والے تاکہ صبر و شکر کی اس راہ پر چل کر تم حقیقی فوز و فلاح سے سرشار اور مالامال ہو سکو ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید بکل حال من الاحوال -
Ayah 31:3263 توحید کی ایک فطری دلیل کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب سمندر میں ان پر سائبانوں کی طرح کوئی موج چھا جاتی ہے تو یہ لوگ اللہ ہی کو پکارتے ہیں "۔ سو یہ توحید کی فطری آواز ہے کہ مصیبت کے وقت انسان اللہ ہی کو پکارتا ہے۔ سو یہ ہے فطرت کی وہ آواز و پکار جو انسان کے اندر سے ایسے موقع پر ابھر کر سامنے آجاتی ہے۔ مگر آج کل کے کلمہ گو مشرک نے اپنی فطرت کو اس قدر مسنح کر کے رکھ دیا کہ وہ مشکل کے اس موقع پر بھی اللہ پاک کو پکارنے کی بجائے اس کی مخلوق ہی میں سے کسی کو پکارتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ مشرک لوگوں کی کشتی جب موجوں کے طوفانوں میں گھر جاتی ہے تو وہ اللہ ہی کو پکارتے ہیں۔ اور اس کے سوا باقی تمام سہارے ان سے گم ہوجاتے ہیں۔ اپنا مالک حقیقی ہی ان کو یاد آتا ہے اور مشکل و مصیبت کے اس وقت میں یہ اسی کو پکارتے ہیں اور سو سو طرح اس کے حضور فریاد کرتے اور چیخ چیخ کر دعائیں کرتے اور آئندہ کے لیے اطاعت و وفاداری کے عہد کرتے ہیں۔ مگر بعد میں پھرجاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین۔
64 تنگ ظرف اور ناشکرے انسان کی عہد شکنی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " مصیبت کے بھنور سے نکلنے کے بعد کچھ ہی لوگ راہ راست پر رہتے ہیں "۔ یعنی اکثر پھرجاتے ہیں اور اپنے عہد و پیمان کو بھول جاتے ہیں۔ " اقتصاد " کے معنیٰ راست روی اور میانہ روی دونوں کے آتے ہیں۔ اور مآل ان دونوں کا ایک ہی ہے۔ مطلب یہ کہ مصیبت سے رہائی پا کر باہر آنے پر کچھ ہی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اللہ پاک کی اس رحمت و عنایت کو یاد رکھتے ہوئے راست بازی اور میانہ روی پر قائم رہتے ہیں ورنہ اکثریت کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف اللہ پاک کی رحمت و عنایت کو بھول جاتے ہیں بلکہ وہ اس کے ساتھ دوسروں کو اس کا شریک ماننے لگتے ہیں کہ ہمیں تو فلاں حضرت نے بچایا۔ فلاں ہستی نے ہاتھ رکھا تھا۔ یہ فلاں کا کرم ہے وغیرہ وغیرہ۔ اور اسی بنا پر ایسے لوگ دوسروں کے آستانوں پر جاتے، وہاں جبہ رسائی کرتے، پھیرے لگتے، دیگیں پکاتے، چادریں چڑھاتے، نذریں مانتے اور نیازیں دیتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا ۔ { ثُمَّ اِذَا کَشَفَ الضُّرَّ عَنْکُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْکُمْ بِرَبِّھِمْ یُشْرِکُوْنَ } ۔ (النحل : 54) ۔ نیز ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { ثُمَّ اِذَا اَذَاقَہُمْ مِّنْہُ رَحْمَۃً اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْہُمْ بِرَبِّھِمْ یُشْرِکُوْنَ } ۔ (الروم : 33) ۔ سو اللہ پاک ایسی تمام شرکیات سے پاک ہے ۔ کما قال تعالیٰ ھُوَ عَنْ نّفْسِہٖ بِنَفْسِہٖ ۔ { سُبْحَان اللّٰہِ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ } ۔ (الحشر :23) ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ مصیبت میں پھنسنے پر تو ایسے لوگ بڑے عہد و پیمان کرتے ہیں لیکن یہاں اس سے نکلنے پر وہ سب کچھ بھول جاتے ہیں اور بڑے بدعہد اور ناشکرے بن جاتے ہیں۔ " ختار "، " ختر " سے مبالغے کا صیغہ ہے جسکے معنیٰ ہیں بدترین قسم کی بےوفائی اور عہد شکنی کرنے والا۔ سو اللہ پاک۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کے ساتھ اس طرح عہد کرکے اس کو توڑنا بدترین قسم کی غداری ہے۔ اور ایسے لوگوں کیلئے نہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کی نشانیاں کارگر ہوتی ہیں اور نہ ہی ان کیلئے کوئی تنبیہ و انذار مفید ہوسکتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل زیغ و ضلال -
Ayah 31:3365 قیامت کے یوم عظیم کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا " اے لوگو ڈرو اس ہولناک دن سے جس میں نہ کوئی باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آسکے گا اور نہ بیٹا اپنے باپ کے "۔ یہاں پر " ولد " نہیں " مولود " فرمایا گیا ہے۔ کیونکہ " مولود " صلبی بیٹے کو کہا جاتا ہے جبکہ " ولد " کا اطلاق بیٹے پوتے وغیرہ سب پر آتا ہے۔ تو معنیٰ یہ ہوئے کہ اس دن باپ اپنے حقیقی اور صلبی بیٹے کے بھی کچھ کام نہیں آسکے گا جس سے انسان کی اصل اور بڑی توقعات وابستہ ہوتی ہیں۔ اور جب اس قدر قریبی رشتوں میں سے بھی کوئی کام نہ آئے گا تو اور کوئی کیا اور کیسے کچھ کام آسکے گا ؟ ہر کسی کو اس دن اپنی ہی پڑی ہوگی اور ہر ایک اس روز اپنی ہی پریشانی میں ایسا مبتلا ہوگا کہ دوسرے کسی کا اسے ہوش تک نہ رہے گا ۔ { لِکُلّ امْرِئٍ یَوْمِئِذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْہِ } ۔ (عبس : 37) ۔ سو کتنے خسارے میں ہیں وہ لوگ جو اپنے دنیاوی مشاغل میں مشغول و منہمک اور اس ہولناک دن کو بھولے ہوئے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد سے لوگوں کو تنبیہ فرمائی گئی ہے کہ اپنے رب کی گرفت و پکڑ اور قیامت کی اس ہولناک دن کے عذاب سے بچنے کی فکر و کوشش کرو جس دن نہ کوئی باپ اپنی اولاد کے کچھ کام آسکے گا اور نہ ہی کوئی بیٹا اپنے باپ کے کچھ کام آنے والا بن سکے گا بلکہ ہر ایک کو اپنی ہی پڑی ہوگی اور ہر کسی کو اپنا بوجھ خود ہی اٹھانا ہوگا۔ اور جب باپ بیٹے کا رشتہ بھی کچھ کام نہ آسکے گا جو کہ سب سے بڑا اور سب سے قریبی رشتہ ہے تو پھر اور کسی رشتے کے کام آنے کا کیا سوال ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
66 دنیا اور شیطان کی دھوکہ دہی سے بچنے اور خبردار رہنے کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا " اور خبردار تم کو دھوکے میں نہ ڈالنے پائے دنیا کی زندگی اور تم کو دھوکے میں نہ ڈالنے پائے وہ بڑا دھوکے باز "۔ جس کا کام ہی دھوکہ دینا اور گمراہ کرنا ہے۔ یعنی ابلیس لعین جس نے حضرت حق جل مجدہ کے سامنے اور اعلانیہ طور پر ابن آدم سے دشمنی کرنے اور اس کو گمراہ کرنے کی قسم کھائی تھی۔ اور وہ دھوکہ بھی انسان کو طرح طرح سے دیتا ہے۔ مثلاً کسی کو وہ دھوکا اس طرح دیتا ہے کہ ہم لوگ یونہی مر کھپ کر ختم ہوجائیں گے۔ نہ دوبارہ زندہ ہو کر اٹھنا ہے نہ سزا و جزا پانے کی کوئی بات ہے۔ یا وہ کسی کو اس طرح کہتا ہے کہ سزا جزا تو ہوگی مگر محض روحانی طور پر تناسنح اور آواگون کی شکل میں ہوگی اور بس۔ یا یہ کہ ابھی بہت عمر لمبی پڑی ہے ابھی سے فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ ابھی عیاشیاں کرلو بعد میں توبہ کرلیں گے۔ یا یہ کہ اس دن ہمیں فلاں فلاں ہستیاں چھڑا لیں گی کہ ہم ان کے دامن سے وابستہ اور ان ہی کا لڑ پکڑے ہوئے ہیں۔ ہم تو بس انہی کے نام کی نذر و نیاز دے دیا کریں گے، چڑھاوے چڑھا دیا کریں گے، انہی کو حاجت روائی و مشکل کشائی کے لئے پکار لیں گے اور بس۔ اور اس طرح کی دھوکہ بازیوں سے وہ لعین انسان کو عمل اور آخرت کے لئے کمائی سے محروم رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ فرصت عمر اس کے ہاتھ سے نکل جاتی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو راہ حق کے راہی کو یہی دو دھوکے لگتے ہیں۔ ایک دنیاوی زندگی اور اس کی ریل پیل اور چہل پہل سے کہ یہی دنیا اور اس کے نشے ہیں اور بس۔ اس کے بعد کا جہاں کس نے دیکھا وغیرہ۔ اور دوسرا ابلیس لعین کا دھوکہ جو چھپا ہوا اور سب سے بڑا اور خبیث دشمن ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اس لیے ان دونوں دھوکوں سے متنبہ اور خبردار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ کا وعدہ قطعی طور پر حق اور سچ ہے۔ پس تم لوگوں کو نہ تو دنیا کی زندگی اور اس کی چمک دمک دھوکے میں ڈالنے پائے اور نہ ہی تم کو اللہ کے بارے میں دھوکے میں ڈالنے پائے وہ بڑا دھوکے باز یعنی ابلیس لعین ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 31:3467 قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر اور تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا " بلاشبہ اللہ ہی کے پاس ہے قیامت کا علم "۔ یعنی قیامت کا علم کہ وہ کب آئے گی۔ اور قیامت کو " ساعۃ " ۔ " گھڑی " سے تعبیر اس لئے کیا جاتا ہے کہ وہ اچانک پل بھر میں آجائے گی ۔ { لَا تَأتِیْکُمْ اِلَّا بَغْتَۃً } ۔ ( الکشاف وغیرہ) ۔ نیز اس لئے کہ وہ اس دنیا کی آخری گھڑی ہوگی ۔ " لاَنِّہَا آخِرُ سَاعَۃِ الدّٰنیا " ۔ (الکشاف وغیرہ) ۔ آیت کریمہ میں غیوب خمسہ کے بیان کے ضمن میں قیامت کا ذکر جملہ اسمیہ سے فرمایا گیا ہے کہ یہ ایک ہی واقعہ اور ایک ہی اٹل حقیقت ہے۔ اس میں تجدد و استمرار نہیں۔ بخلاف باقیوں کے۔ ان کی صورت اس سے مختلف ہے۔ کافر لوگ تمسخر اور استہزاء کے طور پر کہا کرتے تھے کہ اگر تم لوگ سچے ہو تو بتاؤ کہ قیامت کے بارے میں تمہارا یہ وعدہ اور یہ دھمکی کب پوری ہوگی ؟ قرآن حکیم میں ان کی اس بات کو کئی جگہ دہرایا گیا ہے۔ مثلاً سورة یونس میں اس بارے انکے قول کو نقل کرکے ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَیَقُوْلُوْنَ مَتٰی ہٰذَا الْوَعْدُ اِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَ } ۔ (یونس : 48) ۔ اسی طرح سورة انبیا :38، سورة نحل :71، سورة سبا :29 اور سورة یاسین :48 وغیرہ میں ان کے اس قول کو نقل فرمایا گیا ہے۔ سو ایسے ہی لوگوں کے جواب میں ارشاد فرمایا گیا کہ قیامت کا علم تو اللہ کے سوا کسی کو نہیں لیکن کسی چیز کا وقت نہ معلوم ہونے سے اس کی نفی لازم نہیں آتی۔ کتنے ہی حقائق ہیں جن کا وقت کسی کو معلوم نہیں ہوتا لیکن وہ قطعی ہوتے ہیں۔ جیسے یہ غیوب خسمہ ۔ اللہ ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین۔
68 بارش برسانے کا معاملہ اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں : سو ارشاد فرمایا گیا " اور وہی بارش برساتا ہے "۔ یعنی یہ بارش جس سے تمہارے طرح طرح کے فوائد و منافع وابستہ ہیں۔ یہ اسی کے حکم و تصرف سے برستی ہے اور وہی جانتا ہے کہ یہ کب، کہاں، کتنی اور کس شکل میں بر سے گی۔ لوگ اپنے علم اور تجربات کی بنا پر اس بارے تخمینے اور اندازے تو لگا سکتے ہیں، اور لگاتے ہیں مگر قطعی اور یقینی علم اس بارے کسی کو بھی نہیں ہوسکتا سوائے اللہ وحدہ لاشریک کے۔ موجودہ دور میں حکومتیں لاکھوں کروڑوں روپے موسمیات کے بارے میں خرچ کرتی ہیں لیکن اس سب کے باوجود اور تمام تر سائنسی ترقیوں اور مادی وسائل کے باوصف محکمہ موسمیات والے جو کچھ کہتے بتاتے ہیں وہ ظن وتخمین ہی کے درجے میں ہوتا ہے۔ کتنی ہی مرتبہ ایسے ہوتا ہے کہ بارش کے ہونے نہ ہونے کا معاملہ محکمہ موسمیات کی پیشینگوئی کے بالکل برعکس ہوتا ہے اور کتنی مرتبہ ایسی صورت پیش آتی ہے کہ محکمہ موسمیات والے اس کی کوئی توجیہ نہیں کرسکتے جنکو اس وقت بھی جبکہ راقم آثم یہ سطور تحریر کر رہا (29 جنوری 2003 ء دس بجے شب ) ۔ پی ٹیوی کی خبروں میں دکھایا گیا کہ اسلام آباد میں بہت بڑی بارش اور ژالہ باری ہوئی لیکن یہ سب کچھ صرف دو کیلو میٹر کے ایریے میں ہوا اور بس۔ آخر کیوں ؟ اس کا کوئی جواب موسمیات والوں کے پاس نہیں۔ پس اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی مشیت ہے اور بس۔ وہ جو چاہے اور جیسا چاہے کرے کہ اس کی مخلوق پر صرف اسی کی مشیئت چلتی ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
69 رحموں کے اندر کا حال اللہ تعالیٰ ہی کے علم میں ہے : سو ارشاد فرمایا گیا " اور وہی جانتا ہے کہ ماؤں کے رحموں کے اندر کیا ہے "۔ کہ بچہ ہے یا بچی۔ کامل ہے یا ناقص۔ نیک ہے یا بد۔ شقی ہے یا سعید۔ زندہ رہے گا یا مرجائے گا وغیرہ وغیرہ۔ کہ یہ سب کچھ صرف اللہ پاک ہی جانتا ہے۔ کلمہ " ما " کا عموم ان سب امور کو شامل ہے۔ اسی لئے یہاں پر " من " نہیں " ما " فرمایا گیا ہے جو کہ صفات و کیفیات کیلئے استعمال ہوتا ہے جبکہ " من " ذوات اور ذوی العقول کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ سو صرف بچے کی ذات کا جان لینا کافی نہیں جس میں سے کچھ کا ذکر ہم نے ابھی کیا ہے۔ بلکہ اصل چیز اس کی صفات اور وہ معنوی و مخفی امور ہیں، جن کو اللہ ہی جانتا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
70 آنے والے کل کا علم کسی کو نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا اور کسی کو پتہ نہیں کہ وہ کل کیا کرے گا۔ پروگرام تو وہ بیشک بناتا رہے اور بناتا رہے گا لیکن ہوگا کیا ؟ یہ اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ وہی جانتا ہے کہ کس نے کیا کرنا ہے اور کس کے لئے کیا مقدر ہے۔ وہ کیا فرائض انجام دے گا اور کن حالات اور مشاغل سے اس کو واسطہ پڑے گا۔ لوگ بڑے بڑے پروگرام بناتے ہیں لیکن عین وقت پر کوئی ایسی آفت پڑتی ہے کہ سب کچھ دھرے کا دھرا رہ جاتا ہے۔ بلکہ بڑی بڑی حکومتیں اپنے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے میں ناکام ہوجاتی ہیں۔ کتنی مرتبہ ایسے ہوتا ہے کہ حکومت بڑے وثوق و اعتماد کے ساتھ منصوبہ بندی کرتی ہے کہ اس سال ہم اتنی گندم یا اتنا چاول یا فلاں غلہ پیدا کریں گے لیکن معمولی سے موسمی تغیر و تبدل اور بارش کی کمی بیشی اور اس کے اتار چڑھاؤ سے اس ساری منصوبہ بندی پر پانی پھرجاتا ہے اور سب کچھ دھرے کا دھرا رہ جاتا ہے۔ سو معاملہ سب کا سب اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور وہی وحدہ لا شریک ایسا ہے جس کے یہاں گزشتہ کل اور آنے والا کل اور ماضی وحال اور مستقبل ایک برابر ہیں۔ پس وہی معبود برحق ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
71 کسی کو اپنی موت کے بارے میں کوئی پتہ نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا " اور کسی کو پتہ نہیں کہ اس کی موت کس دھرتی میں آئے گی "۔ اور جب موت کی جگہ کا پتہ نہیں حالانکہ وہ اسی دنیا میں موجود ہے تو پھر موت کے وقت کا پتہ کیونکر ہوسکتا ہے جبکہ وہ ابھی تک آیا ہی نہیں۔ پس کوئی نہیں جانتا کہ اس نے کب کہاں اور کس طرح مرنا ہے۔ سو اپنی زندگی اور موت کا مسئلہ انسان کیلئے سب سے اہم اور سب سے قریبی ہے لیکن کوئی نہیں جانتا کہ وہ کس سرزمین میں مرے گا اور کہاں دفن ہوگا۔ انسان پیدا کہیں ہوتا ہے، رہتا بستا کہیں ہے لیکن اس کی موت کہیں آتی ہے اور وہ دفن کہیں ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ کتنی ہی مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان گھر سے خوشی خوشی کسی تقریب میں شرکت کی غرض سے نکلتا ہے لیکن پھر اس کے بعد اس کی لاش ہی واپس آتی ہے۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بارات کی گاڑیاں حادثے کا شکار ہوگئیں اور دلہا دلہن سمیت کتنے ہی لوگ لقمہ اجل بن جاتے ہیں اور وہاں خوشیوں کی بجائے صف ماتم بچھ جاتی ہے وغیرہ وغیرہ ۔ اللہ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین۔
72 غیوب خمسہ کا علم بھی اللہ ہی کے پاس ہے : پس ان غیوب خمسہ کا بھی کامل، صحیح، کلی اور یقینی علم اسی وحدہ لاشریک کے پاس ہے۔ یہاں ایک بات تو یہ جان لینی چاہیئے کہ احادیث طیبہ میں ان پانچ چیزوں کو مفاتح الغیب ۔ " غیب کی کنجیاں " ۔ یا " غیب کے خزانے " قرار دیا گیا ہے جن کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں۔ نہ کسی نبی مرسل کو اور نہ کسی ملک مقرب کو ۔ { فَلم یُطْلِعْ عَلَیْہِنَّ مَلَکًا مُقّرَبَا وَلَا نَبِیًّا مُرْسَلًا } ۔ (ابن کثیر : ج 3 ص 400 روح المعانی : ج 21 ص 238) ۔ صحیح بخاری میں ہے ۔ " مَفَاتِحُ الْغَیْبِ خَمْسَۃٌ لَا یَعْلَمُہَا اِلَّا اللّٰہُ " ۔ (صحیح بخاری : ج 2 ص 681) ۔ نیز صحیح روایات کے مطابق جب ایک شخص نے آنحضرت ﷺ سے قیامت کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے جواب میں فرمایا کہ اس کا علم تو ان پانچ چیزوں میں سے ہے جن کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ پھر آپ نے یہی آیت کریمہ تلاوت فرمائی ۔ " فِی خَمْسٍ لَا یَعْلَمُہُنَّ اِلَّا اللّٰہُ ثُمَّ تَلا ہٰذِہ الْاٰیَۃَ " ۔ (صحیح بخاری : ج ص 12، صحیح مسلم : ج 1 ص 69 سنن نسائی : ج 2 ص 263، سنن ابن ماجہ : ج ص 7) ۔ اسی لئے جمہور مفسرین کرام کا بھی اس پر اتفاق ہے کہ غیب کی ان پانچ باتوں کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ چند حوالے ملاحظہ ہوں ۔ " ہذہ الخمسۃ لایعلمہا اِلَّا اللّٰہ ولا یعلمہا ملک مقرب و لا نبی مرسل ۔ فمن ادَّعی ہٰذا فقد کفر بالقرآن لاَنَّہ ‘ خَالَفَہ ‘ ۔ " (قرطبی : ج 14 ص 82، خازن : ج 5 ص 183، ابن کثیر : ج 3 ص 400) ۔ " ہٰذَہ الخمسۃ لایعلمہا الَّا اللّٰہ " ۔ (مدارک : ج 3 ص 219) دوسری بات یہاں پر یہ واضح رہنی چاہیئے کہ ان غیوب خمسہ میں سے پہلی چیز تو چونکہ ایک ہی حقیقت ہے یعنی قیامت۔ اس لئے جمہور سلف و خلف کا اس پر اتفاق ہے کہ اس کا علم اللہ پاک کے سوا کسی کو بھی نہیں۔ حوالہ کے لئے ملاحظہ ہو (قرطبی : ج 11 ص 350، ابن جریر ج 16 ص 99، معالم : ج 2 ص 365، ابن کثیر : ج 4 ص 399، مدارک : ج 2 ص 67، خازن : ج 5 ص 388، روح المعانی : ج 29 ص 20، جامع البیان : ج 2 ص 156، المراغی : ج 21 ص 3، صفوۃ التفاسیر : ج 2 ص 498 وغیرہ وغیرہ) ۔ مگر ان میں سے بقیہ چار امور چونکہ مفاہیم کلیہ پر مشتمل ہیں جن کے ماتحت بیشمار افراد ہیں اس لئے ان بیشمار جزئیات میں سے کسی ایک یا ایک سے زیادہ جزئیات کا علم کسی کو مل جائے تو وہ خرق عادت کے طور پر ایک استثنائی صورت ہوگی۔ جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے غزوئہ بدر کے موقع پر کفار قریش کے بارے میں فرمایا تھا ۔ " ھَذَا مصْرَعُ فُلَانٍ " ۔ یا حضرت فاطمہ ؓ کو بچے کی پیدائش کی خوشخبری دی تھی یا غزوئہ خیبر کے موقع پر فرمایا تھا کہ میں کل یہ جھنڈا ایک ایسے شخص کو دوں گا جس کے ہاتھ پر اللہ فتح ظاہر فرمائے گا وغیرہ۔ تو یہ سب خرق عادت اور آپ ﷺ کے معجزات کے قبیل سے ہے۔ اور اللہ پاک کے ساتھ ان چاروں امورکا جو علم مختص ہے وہ ان کے مفہوم کلی کے اعتبار سے ہے کہ اس اعتبار سے ان میں سے کسی کا علم بھی اللہ کے سوا کسی کے پاس نہیں۔ تیسری بات یہاں پر یہ واضح رہنی چاہیئے کہ علم سے مراد وہ علم ہے جو قطعی ہو۔ اور اسباب و مقدمات کے بغیر ہو۔ لہذا محکمہ موسمیات والے یا کچھ لوگ جو پیشینگوئیاں کرتے رہتے ہیں وہ اس کے خلاف نہیں۔ کیونکہ ایک تو وہ علم قطعی نہیں ہوتا بلکہ محض ظن اور تخمین کے قبیل سے ہوتا ہے۔ چناچہ وہ پیشینگوئیاں کبھی صحیح نکلتی ہیں کبھی غلط۔ اور دوسرے وہ اسباب کے مطابق اور اندازے کے طور پر ہوتا ہے نہ کہ اس کے بغیر۔ تو ان کا علم یقینی اور قطعی نہیں ہوتا۔ اور چوتھی بات یہ بھی معلوم ہونی چاہیئے کہ جن غیوب کو اللہ پاک کے سوا کوئی نہیں جانتا وہ انہی پانچ میں منحصر نہیں بلکہ اس کے علاوہ اور بھی بیشمار غیوب ایسے ہیں۔ ان پانچ کا ذکر تو اس لئے فرمایا گیا کہ اس بارے جس سائل نے سوال کیا تھا اس نے انہی پانچ چیزوں کو ذکر کیا تھا۔ چناچہ ابن منذر نے عکرمہ سے روایت کیا ہے کہ وارث بن عمرو بن حارثہ نامی ایک شخص نے حضور سے پوچھا کہ قیامت کب آئے گی ؟ قحط کب پڑے گا ؟ بارش کب ہوگی ؟ میری بیوی حاملہ ہے وہ کیا جنے گی ؟ میں نے کل اور آج جو کچھ کیا وہ تو مجھے معلوم ہے مگر میں آئندہ کل کیا کروں گا ؟ اور یہ کہ میری موت کہاں واقع ہوگی ؟ تو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ (المراغی : ج 21 ص 100، الکشاف : ج 3 ص 238 وغیرہ وغیرہ) ۔ چناچہ مفسرین کرام نے اس کی تصریح فرمائی کہ خزائن الغیب انہی پانچ چیزوں میں محصور نہیں ہیں۔ ملاحظہ ہو (روح المعانی : ج 21 ص 112، مظہری : ج 3 ص 274) ۔ پانچویں بات یہاں پر یہ واضح رہنی چاہئے کہ غیب کے جس قدر علوم کا تعلق دین اور اس کے مبادی و ضروریات سے ہوتا ہے وہ اللہ پاک اپنے نبیوں کو بدرجہ کمال عطا فرماتا ہے۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا ۔ { عَالِمُ الْغَیْبِ فَلا یُظْہِرُ عَلٰی غَیْبِہٖٓ اَحَدًا اِلَّا مِنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ } ۔ (الجن : 22) ۔ اور اس کو ۔ غیب کی کچھ خبریں ۔ فرمایا گیا ہے۔ مگر جس غیب کا تعلق اور اس کی ضرورت دین کے لئے نہیں اور اس کی کوئی حد نہیں وہ اللہ ہی کے پاس ہے۔ وہ کسی کو نہیں ملتا مگر خرق عادت اور معجزے کے طور پر۔ کوئی جزئی یا کچھ جزئیات کسی کو مل جائیں تو وہ الگ بات ہے۔ پس عالم غیب وہ وحدہ لاشریک ہی ہے کہ سب غیوب کو جاننے والا وہی ہے ۔ جَلَّ جلالُہ ‘ وعزَّ سلطانہ ۔ پس ان پانچ اصولی اور بنیادی امور کو سامنے رکھنے اور ان کو جان لینے کے بعد اہل بدعت کے وہ تمام شکوک و شبہات ہَبَائً مَنْثُوْرًا ہوجاتے ہیں جو وہ اس بارے پھیلاتے رہتے ہیں۔ اور ان کی ان تمام تحریفات وتلبیسات کی قلعی کھل جاتی ہے۔ اور ان کی اصل حقیقت واضح ہوجاتی ہے جو ان کے بڑے لیڈر طرح طرح سے پھیلاتے ہیں کہ اوپر دئیے گئے حوالوں کے مقابلے میں ان لوگوں کی کوئی بھی تحریف وتلبیس چل نہیں سکتی ۔ والْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلمین الذی لا تتِمُّ الصَّالِحاتُ اِلَّا بتوفیقٍ مِّنْہ جَلّ وَ علا ۔ وایاہ نسال مزیدا من التوفیق والسداد فی کل مرحلۃ من المراحل وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔