29. Surah Al-Ankaboot

العنكبوتThe Spider · 69 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 29:31

وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا مُهْلِكُوْۤا اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ١ۚ اِنَّ اَهْلَهَا كَانُوْا ظٰلِمِیْنَۚۖ Open ayah 29:31 in the Quran reader

اور جب پہنچ گئے ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ابراہیم کے پاس عطاء فرزند کی خوشخبری کے ساتھ تو ابتدائی گفتگو کے بعد کہا کہ بیشک ہم نے ہلاک کرنا ہے اس بشتی کے باشندوں کو کہ بیشک اس کے باشندے بڑے ہی ظالم ہیں

37 رحمت اور نقمت دونوں اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس خوشخبری لے کر پہنچے "۔ یعنی { البشریٰ } میں الف لام عہد کا ہے۔ مراد ہے عطائے فرزند کی خوشخبری۔ جیسا کہ دوسری جگہ اس کی تصریح فرمائی گئی ہے کہ یہ بچہ آپ کو بڑھاپے میں اور بڑی تمناؤں اور دعاؤں و التجاؤں کے بعد ملا تھا۔ بہرکیف یہاں سے یہ حقیقت بھی پوری طرح واضح ہوجاتی ہے کہ رحمت اور نقمت دونوں اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہیں کہ وہی فرشتے جو قوم لوط کیلئے عذاب کا تازیانہ لیکر آتے ہیں وہی حضرت ابراہیم کیلئے حضرت اسحاق جیسے بیٹے اور یعقوب جیسے پوتے کی خوشخبری لاتے ہیں۔ سو اللہ ۔ وحدہ لاشریک۔ اپنے علم محیط اور حکمت کاملہ کے مطابق جسکو چاہے رحمت سے نوازے اور جسکو چاہے نقمت سے دوچار کرے ۔ والعیاذ باللہ ۔ جس طرح کہ ایک ہی بارش کسی کیلئے رحمت کا ذریعہ بنتی ہے اور کسی کیلئے نقمت اور عذاب کا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس سے ان تمام مشرک قوموں کی تردید ہوجاتی ہے جو اس وہم میں مبتلا ہیں کہ خیر کا خالق الگ دیوتا ہے اور شر کا الگ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو رحمت و نقمت کی ہر حالت میں اللہ ہی کی طرف متوجہ ہونا چاہیے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید - 38 قوم لوط کی ہلاکت کا کام : سو ارشاد فرمایا گیا کہ فرشتوں نے حضرت ابراہیم سے کہا کہ " ہم نے ہلاک کرنا ہے اس بستی کے باشندوں کو " کیونکہ ان فرشتوں کو خاص طور پر اسی مہم کے لئے بھیجا گیا تھا۔ اس لئے وہ اس کام کو مجازی طور پر اپنی طرف منسوب کرتے ہیں۔ جیسے بادشاہ کی طرف سے بھیجا جانے والا کوئی مبعوث کسی مہم کو اپنی طرف منسوب کر کے کہے کہ ہم نے یہ کام کرنا ہے۔ کیونکہ اس کو سرکاری طور پر یہ کام سونپا گیا ہوتا ہے۔ اس لئے وہ مجازی طور پر اسے اپنی طرف منسوب کرتا ہے۔ لہٰذا اس سے اللہ کے بندوں کے لئے خاص خدائی اختیارات ثابت کرنا اور ان کے لئے مافوق الاسباب متصرف ہونے کے شرکیہ عقیدے کا جواز ڈھونڈنا جس طرح کہ اہل بدعت کے بعض بڑوں نے کیا ہے، بالکل غیر منطقی اور بےبنیاد بات ہے کہ یہاں تو نصِّ صریح سے ثابت ہے کہ ان فرشتوں کو یہ کام سونپا گیا تھا اور کسی کے لئے ایسی کوئی نص کہاں ہے ؟ لہذا اس پر قیاس قیاس مع الفارق ہے۔ بہرکیف ان فرشتوں نے اگرچہ حضرت ابراہیم کو بیٹے اور پوتے کی خوشخبری سے نوازا لیکن ان کا اصل کام قوم لوط کو ہلاک کرنا تھا۔ اس لیے انہوں نے کہا کہ " بیشک ہم نے اس بستی کے باشندوں کو ہلاک کرنا ہے کہ یہ لوگ ظالم ہیں " ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 39 ظلم کا نتیجہ و انجام ہلاکت و تباہی ۔ والعیاذ باللہ : سو فرشتوں نے حضرت ابراہیم سے کہا کہ " ہم نے اس بستی کے باشندوں کو ہلاک کرنا ہے کہ یہ لوگ یقینا بڑے ظالم ہیں "۔ سب سے بڑا ظلم جس میں وہ مبتلا تھے شرک تھا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر صاف اور صریح طور پر ارشاد فرمایا گیا تھا ۔ { اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ } ۔ اور اس پر مستزاد یہ کہ وہ لوگ دوسرے بھی طرح طرح کے مظالم میں ملوث و مستغرق تھے۔ پس ان کے آپریشن کا وقت آن پہنچا ہے اور اللہ تعالیٰ کی اجازت اور ڈھیل بھی ایک حد تک ہی ہوتی ہے۔ سو ظلم کا نتیجہ و انجام بہرحال ہلاکت و تباہی ہے اور ظالم کو خواہ جتنی بھی ڈھیل ملے اس نے آخرکار تباہی کے گھاٹ پر اتر کر رہنا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف۔ { اِنَّ اَہْلَہَا کَانُوا ظالِمِیْنَ } ۔ کے اس جملے سے فرشتوں نے قوم لوط کی ہلاکت کی علت بیان کردی اور اس امر کو واضح کردیا کہ ان کو ہلاک کیے جانے کا فیصلہ خود ان کے ظلم کے نتیجے میں کیا گیا۔ اور ان لوگوں کا یہ ظلم ان کے کفر و شرک کے عمومی جرم کے علاوہ فطرت کی راہ سے انحراف کے اس خاص جرم کی بنا پر بھی تھا جس کا ارتکاب یہ لوگ کھلم کھلا اور علی الاعلان کرتے تھے۔ اور جب اللہ کے رسول نے ان کو اس کے نتائج سے خبردار کیا تو انہوں نے ان کی بات کو ماننے اور ان کی تنبیہ وتحذیر اور نصیحت و موعظت پر کان دھرنے کی بجائے الٹا ان سے عذاب لانے کا مطالبہ کردیا۔ سو اس قماش کے لوگوں پر اللہ کا جو عذاب آتا ہے وہ خود ان کے اپنے ظلم کا پیدا کردہ ہوتا ہے۔ اللہ ان پر کوئی ظلم نہیں کرتا ۔ { وَمَا ظَلَمَہُمَ اللّٰہُ وَلٰکِنْ کَانُوْا اَنْفُسَہُمْ یَظْلِمُوْنَ } ۔ سو ظلم کا انجام برا ۔ اللہ تعای ظلم کی ہر قسم اور شکل سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayahs 29:32–33

قَالَ اِنَّ فِیْهَا لُوْطًا١ؕ قَالُوْا نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَنْ فِیْهَا١٘ٙ لَنُنَجِّیَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ۗ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 29:32 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا اس میں تو لوط بھی ہیں فرشتوں نے کہا ہم خوب جانتے ہیں کہ اس میں کون کون ہیں ہم ضرور بچا لیں گے لوط کو بھی اور ان کے گھر والوں کو بھی سوائے ان کی بیوی کے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں ہوگی

وَ لَمَّاۤ اَنْ جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالُوْا لَا تَخَفْ وَ لَا تَحْزَنْ١۫ اِنَّا مُنَجُّوْكَ وَ اَهْلَكَ اِلَّا امْرَاَتَكَ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 29:33 in the Quran reader

اور جب ہمارے بھیجے ہوئے یہ فرشتے پہنچ گئے لوط کے پاس تو وہ سخت پریشان ہوگئے ان کے آنے کی وجہ سے اور ان کی وجہ سے ان کا دل تنگ ہوگیا اور فرشتوں نے جو یہ دیکھا تو انہوں نے کہا کہ آپ نہ کوئی خوف کھائیں نہ غم کریں ہم کوئی آدمی نہیں بلکہ عذاب کے فرشتے ہیں سو ہم نے بچانا ہے آپ کو بھی اور آپ کے گھر والوں کو بھی بجز آپ کی بیوی کے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں ہوگی

40 حضرت ابراہیم کے لیے تسلیہ و تسکین : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ فرشتوں کی طرف سے حضرت ابراہیم کو لوط کے بارے میں اطمینان دلایا گیا کہ آپ ان کے بارے میں فکرمند نہ ہوں۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت ابراہیم کی اس بارے تشویش کے جواب میں ایسوں نے کہا کہ ہمیں خوب معلوم ہے کہ اس میں کون کون ہیں۔ یعنی جب ہم کو انہیں عذاب دینے پر مامور کیا گیا ہے تو اس کے لازمی تقاضے کے طور پر ہمیں یہ بتا کر بھیجا گیا ہے کہ کون کون لوگ عذاب کے مستحق ہیں اور کون نجات کے۔ اور ہم نے اسی کے مطابق حکم بجا لانا ہے۔ اور یہ ایک سیدھی سادی اور مطابق فطرت بات ہے۔ مگر جن لوگوں کو فطرت سے انحراف اور زیغ کی بیماری لگ جاتی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ وہ ایسے مواقع سے اپنے خود ساختہ اور شرکیہ عقائد کے لئے دلیل کشید کرنے لگتے ہیں۔ جیسا کہ اہل بدعت کے بعض تحریف پسندوں نے کیا۔ اور انہوں نے یہاں سے غیر اللہ کے لئے علم غیب کے اپنے خود ساختہ عقیدے کے لئے دلیل کشید کرنے کی کوشش کی۔ حالانکہ ملائکہ ورسل کے لئے وہ علم جو ان کے منصب کے لئے ضروری ہوتا ہے وہ نہ تو محلِّ نزاع ہے اور نہ ہی اس کا کسی نے کبھی انکار کیا ہے کہ وہ تو ۔ { مِنْ اَنْبَآئِ الْغَیْبِ } ۔ " غیب کی کچھ خبروں سے " کے قبیل سے ہے۔ اور عالم الغیب وہ ہوتا ہے جو مَا کَانَ وَمَا یَکُوْنُ کا علم رکھے۔ اور وہ صرف اللہ پاک ہی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف فرشتوں نے حضرت ابراہیم کو اطمینان دلایا کہ آپ مطمئن رہیں۔ ہم لوط اور انکے متعلقین کو خوب جانتے ہیں۔ ان کو ہم عذاب سے بچا لیں گے۔ اور عذاب ان کی قوک کے ان بدبختوں ہی پر آئے گا جو اپنے کفر وانکار اور اپنی بدبختی پر اڑے ہی رہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ 41 لوط اور ان کے متعلقین کی نجات و حفاظت کا وعدہ : سو فرشتوں نے حضرت ابراہیم کی تشویش کے جواب میں کہا کہ " ہم بچا لیں گے ان کو بھی اور ان کے سب متعلقین کو بھی سوائے ان کی بیوی کے "۔ یعنی چونکہ ہمیں اللہ کے حکم و فرمان کے مطابق اس کام کو انجام دینا ہے اور اسی کام کے لئے ہمیں مامور فرمایا گیا ہے۔ اس لیے ہم اس کام کو پوری احتیاط اور ذمہ داری سے انجام دیں گے۔ لہذا اس پر قیاس کر کے اللہ کے بندوں کو مافوق الاسباب طور پر متصرف ماننا جس طرح کہ اہل بدعت کے بعض تحریف پسندوں نے کیا ہے انحراف پسند لوگوں کا ہی کام ہوسکتا ہے کہ اس کے لئے قرآن و سنت کی کوئی نص نہیں۔ بلکہ نصوص قرآن و سنت اس کے خلاف ناطق ہیں۔ سو اس کے باوجود ایسا عقیدہ رکھنا، کھلا مکابرہ اور صاف سینہ زوری ہے ۔ والعیاذ باللّٰہِ الَّذِیْ لَا اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۔ بہرکیف حضرت ابراہیم کو جب فرشتوں کی طرف سے اطمینان ہوگیا کہ ان کی یہ آمد ان کیلئے کسی خطرے کا باعث نہیں اور یہ کہ ان کی اصل مہم قوم لوط کو انکے آخری انجام تک پہنچانا ہے تو اب حضرت ابراہیم کو لوط اور ان کے متعلقین کے بارے میں فکر لاحق ہوگئی کہ ان کا کیا بنے گا۔ تو انہوں نے اس بارے حضرت لوط سے متعلق سوال کیا کہ ان لوگوں کے اندر تو لوط اور اس کے متعلقین بھی رہتے ہیں ان کا کیا بنے گا ؟ تو اس پر فرشتوں نے ان کو یقین دلایا کہ ان کے بارے میں ہم اچھی طرح جانتے ہیں اور انکو ہم بہرحال بچا لیں گے۔ سو اس سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ نجات دہندہ سب کے اللہ تعالیٰ ہی ہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ - 42 لوط کی بیوی کی ہلاکت اور اس میں درس عبرت و بصیرت : سو ارشاد فرمایا گیا " سوائے ان کی بیوی کے کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں ہوجائے گی "۔ اور ان کے ساتھ وہ بھی ہلاکت اور تباہی کے گڑھے میں جاگرے گی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ یہاں سے چند اہم امور واضح ہوجاتے ہیں۔ ایک یہ کہ اگر انسان ایمان کی دولت سے محروم ہو تو دوسرے کی صحبت اور رشتہ داری سے اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا خواہ وہ صحبت اور رشتہ داری کسی نبی ہی کی کیوں نہ ہو۔ اور خواہ وہ رشتہ زوجیت ہی کا کیوں نہ ہو۔ دوسرے یہ کہ پیغمبر مختار کل نہیں ہوتے ورنہ حضرت لوط اپنی بیوی کو دولت ایمان سے محروم نہ رہنے دیتے۔ اور جب نبی کا یہ حال ہے تو پھر اور کسی ولی بزرگ کے لئے اس کا سوال ہی کیا پیدا ہوتا ہے ؟ تیسرے یہ کہ اللہ پاک کے سوا حاجت روا و مشکل کشا کوئی نہیں ہوسکتا خواہ وہ کوئی نبی ہی کیوں نہ ہو۔ چوتھے یہ کہ ہدایت وغوایت اللہ پاک ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ وہی جسے چاہے اس سے نوازے اور سرفراز فرمائے۔ جیسا کہ دوسری جگہوں پر اس کی تصریح فرمائی گئی ہے کہ وہی جانتا ہے کہ کون کس لائق ہے۔ کیونکہ اس چیز کا دار و مدار انسان کے قلب وباطن پر ہے جس کو اللہ ہی جانتا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayahs 29:34–35

اِنَّا مُنْزِلُوْنَ عَلٰۤى اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 29:34 in the Quran reader

ہم نے اتارنا ہے اس بستی کے باشندوں پر ایک بڑا ہی ہولناک عذاب آسمان سے ان کی ان بدکاریوں کی بناء پر جو کہ یہ لوگ اب تک کرتے چلے آئے ہیں

وَ لَقَدْ تَّرَكْنَا مِنْهَاۤ اٰیَةًۢ بَیِّنَةً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 29:35 in the Quran reader

اور ہم نے اس بستی سے ایک کھلی نشانی چھوڑ دی ان لوگوں کے لئے جو عقل سے کام لیتے ہیں

45 قوم لوط پر ہولناک عذاب نازل کرنے کی خبر : بہرکیف فرشتوں نے حضرت لوط کو نجات کی خوشخبری دینے کے بعد ان کو اس فیصلہ خداوندی سے بھی آگاہ کردیا کہ ہم نے اس بستی والوں پر اب آسمانی قہر نازل کرنا ہے۔ ان کی ان بدکاریوں کی بنا پر جو یہ لوگ اب تک کرتے رہے ہیں۔ یعنی اس حقیقت سے ان کو مطلع کردیا کہ ان بدبختوں کی مدت مہلت اب ختم ہوچکی ہے اور اب انہوں نے اپنے آخری انجام کو پہنچ کر رہنا ہے۔ معلوم ہوا کہ گناہوں کی اصل اور پوری سزا تو اگرچہ انسان کو آخرت میں ہی ملے گی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے میں ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَ وُفِّیَتْ کُلُّ نَفْسٍ مَّا کَسَبَت وَہُمْ لاَ یُظْلَمُوْنَ } ۔ (آل عمران :25) مگر کبھی کبھی اور کچھ نہ کچھ سزا اس دنیا میں بھی ملتی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ جیسا کہ دوسری بہت سی نصوص میں اس کی تصریح موجود ہے اور حکیم الامت حضرت تھانوی ۔ نور اللہ مرقدہ ۔ نے اپنے رسالے " جزاء الاعمال " میں ان نصوص کو جمع فرما دیا ہے ۔ فَجَزَاہ اللّٰہُ خَیْرًا ۔ بہرکیف فرشتوں نے حضرت لوط کو بتایا کہ ہم نے ان لوگوں پر ان کی بدکاریوں کی بنا پر ایک سخت عذاب اتارنا ہے اور اس عذاب کی ہولناکی واضح کرنے کیلئے ایک تو اس کو { رجز } کے لفظ سے تعبیر فرمایا گیا جس کے معنیٰ دہلا اور تھرا دینے والے عذاب کے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور پھر اس کے ساتھ { من السمائ } کی قید سے اس کی شدت کو اور سخت کردیا گیا۔ جیسا کہ ہم لوگ اس بارے میں اپنے محاورے میں قہر الہی یا آسمانی عذاب کے الفاظ استعمال کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayahs 29:36–38

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ۙ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ ارْجُوا الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 29:36 in the Quran reader

اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھی ہم نے رسول بنا کر بھیجا تو انہوں نے بھی اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو ! تم بندگی کرو صرف اللہ کی اور امید رکھو قیامت کے دن کی اور مت پھرو تم زمین میں فساد مچاتے ہوے

فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ٘ Open ayah 29:37 in the Quran reader

مگر ان لوگوں نے جھٹلا دیا شعیب کو سو آپکڑا ان کو اپنے وقت پر اس زلزلے نے جو ان کے لئے مقرر کردیا گیا تھا جس سے وہ سب کے سب اوندھے منہ پڑے رہ گئے

وَ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ قَدْ تَّبَیَّنَ لَكُمْ مِّنْ مَّسٰكِنِهِمْ١۫ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ كَانُوْا مُسْتَبْصِرِیْنَۙ Open ayah 29:38 in the Quran reader

اپنے گھروں میں اور عاد اور ثمود کو بھی ہم نے ہلاک کیا اور کھلی پڑی ہے تمہارے سامنے اے لوگو ! ان کی تباہی ان کے مکانون کے ان کھنڈرات سے اور ان کا ھال بھی یہی تھا کہ خوشنما بنا رکھا تھا ان کے لئے شیطان نے ان کے کاموں کو اس طرح اسنے روک دیا تھا ان کو راہ حق وصواب سے اور یوں وہ لوگ بڑے ہوشیار تھے

46 قصہ شعیب کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا رسول بنا کر "۔ یعنی ان کے قومی بھائی کو کہ حضرات انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ ایسے ہی ہوتے ہیں۔ مگر اہل بدعت کا اس سب کے باوجود کہنا ہے کہ نبی کو اپنی امت کا بھائی کہنے میں اس کی توہین ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو یہ ان لوگوں کی جہالت یا تجاہل عارفانہ کا نتیجہ ہے ورنہ قرآن پاک جگہ جگہ اور طرح طرح سے اس حقیقت کو واضح فرماتا ہے۔ بہرکیف قوم شعیب جس کے بارے میں پہلے بھی بیان کیا جا چکا ہے ایک بڑے اہم تجارتی سنگم پر واقع تھی اور یہ ایک بڑی تجارتی قوم تھی۔ خود تجارت پیشہ ہونے اور ایک خاص تجارتی سنگم پر واقع ہونے کے باعث ان لوگوں نے تجارت کے میدان میں بڑا نام کمایا اور خوب خوب فائدے حاصل کیے۔ اور اسی وجہ سے انہوں نے مال و زر کی ہوس میں مبتلا ہو کر ناپ تول میں کمی کرنا شروع کردی۔ اور یہ مرض ان میں اتنا بڑھ گیا کہ ان کا قومی مرض اور اجتماعی روگ بن گیا۔ سو حضرت شعیب نے ان کو اس پر ٹوکا اور توحید کے ساتھ ساتھ ان کو ناپ تول میں کمی کرنے کی اس جرم کے ترک کرنے کی بھی تعلیم و تلقین فرمائی۔ مگر اس بدبخت قوم نے اس پر کان نہ دھرا اور کوئی توجہ نہ دی جس کے نتیجے میں بالآخر وہ ہلاکت و تباہی کے انتہائی ہولناک گڑھے میں گر کر اپنے اس ہولناک انجام کو پہنچ کر رہی جس سے نکلنے اور بچنے کی اس کے بعد کوئی صورت ان کے لیے ممکن نہ رہی۔ تو کیا اس جیسا دوسرا کوئی خسارہ ممکن ہوسکتا ہے ؟ اور یہی نتیجہ ہوتا ہے دعوت حق و ہدایت سے منہ موڑنے اور حق کو جھٹلانے کا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین ۔ 47 کفر و شرک کی راہ فساد فی الارض کی راہ ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ کفر و شرک کی راہ پر چلنا زمین میں فساد پھیلانا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو حضرت شعیب نے ان سے فرمایا کہ " تم لوگ زمین میں فساد مچاتے مت پھرو "۔ معلوم ہوا کہ کفر و شرک کی راہ پر چلنا فساد پھیلانا ہے کہ اس سے اللہ کے عذاب کو دعوت دینا ہے اور اس سے طرح طرح کی مصیبتیں آتی اور ایسے عذاب نازل ہوتے ہیں جن میں گیہوں کے ساتھ گھن بھی پس جاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور اصلاح کی صورت صرف یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کا بندہ بن کر رہے اور زندگی کے ہر دائرے میں اس کی مقرر فرمودہ حدود کی پابندی کرے اور اس میں خود اس کا اپنا ہی بھلا ہے۔ اس دنیا میں بھی اور اس کے بعد آخرت میں بھی۔ اور یہ چیز عقل و فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ کیونکہ اصلاح احوال اصل اساس و بنیاد ہے حضرت خالق جل مجدہ کے ساتھ صحیح تعلق کی۔ اگر اس بنیاد کو چھوڑ دیا جائے ۔ والعیاذ باللہ ۔ تو سارا نظام ہی درہم برہم ہوجائے گا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { لو کان فیہما اٰلہۃ الا اللہ لفسدتا } ۔ یعنی اگر آسمان اور زمین کی اس کائنات میں دو خدا ہوتے تو یہ دونوں کبھی کے درہم برہم ہوگیے ہوتے۔ پس سلامتی ونجات کی راہ توحید و بندگی رب کی راہ ہے۔ اور جو لوگ عقیدئہ توحید کی خدمت اور اس کی حفاظت میں مشغول ہیں وہی اس کائنات کی بہتری اور اس کی اصلاح کی خدمت انجام دیتے ہیں۔ اس لیے حضرت شعیب نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم لوگ اللہ ہی کی عبادت و بندگی کرو قیامت کی امید رکھو اور زمین میں فساد مچاتے مت پھرو۔
Ayah 29:39

وَ قَارُوْنَ وَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ١۫ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ مَا كَانُوْا سٰبِقِیْنَۚۖ Open ayah 29:39 in the Quran reader

اور قارون، فرعون، اور ہامان کو بھی ہم نے ہلاک کیا اور بلاشبہ ان کے پاس موسیٰ آئے تھے کھلی نشانیاں لے کر مگر ان لوگوں نے اپنی بڑائی کا گھمنڈ کیا اللہ کی زمین میں اور وہ ایسے نہ تھے کہ نکل جائیں ہماری گرفت اور پکڑ

50 استکبار ہلاکت و تباہی کا باعث۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ قارون، فرعون اور ہامان وغیرہ سب نے استکبار سے کام لیا اور اپنی بڑائی کا گھمنڈ کیا اور وہ ایسے نہ تھے کہ ہماری گرفت و پکڑ سے نکل جائیں۔ سو حق کے مقابلے میں تکبر کرنا اور اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا ہو کر اسے ٹھکرا دینا ہولناک اور دائمی ہلاکت و تباہی کا پیش خیمہ ہوتا ہے مگر یہ ہولناک اور تباہ کن مرض کل کے باطل پرستوں میں بھی موجود تھا اور آج بھی موجود ہے۔ سو کتنے ہی لوگ آپ کو ایسے ملیں گے جو محض اپنی بڑائی کے زعم باطل اور گھمنڈ فاسد میں مبتلا ہو کر قبول حق کے شرف سے محروم رہتے ہیں۔ اور یہی دراصل خرابیوں کی خرابی اور ہلاکت و تباہی کی جڑ بنیاد ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ عظمت اور بڑائی اللہ وحدہ لاشریک ہی کا حق ہے۔ بندے کی شان کے لائق عبدیت اور بندگی ہی میں کمال پیدا کرنا اور حق کے آگے صدق دل سے جھکنا ہے ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو ہلاک شدہ قوموں کے ذکر کے بعد تاریخ کے بعض نمایاں متکبرین کو بطور نمونہ سامنے رکھ دیا گیا تاکہ ہر دور کے مستکبرین ان کے آئینے میں اپنا چہرہ خود دیکھ لیں۔ ان کے انجام سے سبق لیں اور اس کے مطابق اپنے حال اور مآل کا جائزہ خود لے لیں اور اپنی روش کی اصلاح کرلیں۔ ورنہ اپنے آخری اور ہولناک انجام کے لیے تیار ہوجائیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ غفلت و لاپرواہی کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔
Ayah 29:40

فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِ حَاصِبًا١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَخَذَتْهُ الصَّیْحَةُ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْاَرْضَ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا١ۚ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 29:40 in the Quran reader

سے آخرکار ہم نے ان میں سے ہر ایک کو پکڑا اس کے گناہ کی بناء پر پھر ان میں سے کسی پر تو ہمنے پتھراؤ کرنے والی ہوا بھیجی کسی کو آدبوچا ہولناک آواز نے اور کسی کو ہم نے دھنسا دیا زمین میں اور کسی کو ہم نے غرق کر ڈالا اور اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر کوئی ظلم کرتا مگر وہ بدبخت اپنی جانوں پر خود ہی ظلم کرتے رہے تھے

51 انکار حق کا نتیجہ و انجام بہرحال ہلاکت و تباہی ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آخرکار ہم نے ان میں سے ہر ایک کو پکڑا اس کے جرم و گناہ کی پاداش میں۔ سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ انکار حق تمام خرابیوں کی جڑ بنیاد ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ { ذنب } کو یہاں پر مفرد لایا گیا ہے حالانکہ ان لوگوں کے جرائم متعدد تھے۔ کیونکہ اصل اور بنیاد ان سب جرائم کی ایک ہی تھی۔ یعنی قبول حق سے اعراض و انکار۔ سو معلوم ہوا کہ حق کا انکار کرنا سب برائیوں کی جڑ بنیاد ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس تکذیب اور انکار حق گناہوں کا گناہ اور خرابیوں کی خرابی ہے۔ اور اس کا آخری نتیجہ اور انجام بہرحال ہمیشہ کی ہلاکت و تباہی ہے۔ اور ایسے لوگوں کو ڈھیل جتنی بھی ملے وہ بہرحال ڈھیل اور مہلت ہی ہوتی ہے جس نے بہرحال اپنے وقت پر ختم ہوجانا ہوتا ہے۔ اور اس کے بعد ایسے لوگوں نے بہرحال اپنے کفر وانکار کے انجام کو پہنچ کر رہنا ہوتا ہے۔ اس لیے منکرین و مجرمین کو ملنے والے ڈھیل سے کسی کو کبھی دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے ہمیشہ اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 52 { حاصب } کے عذاب کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان میں سے کسی پر ہم نے { حاصب } کا عذاب بھیجا۔ جیسے قوم عاد اور قوم لوط پر کہ قوم عاد پر مسلسل سات راتیں اور آٹھ دن ہوا کا ایسا ہولناک طوفان مسلط کردیا گیا۔ (الحاقہ :7-8) جس نے بڑے بڑے ڈیل ڈول کے ان لوگوں کو اس طرح اٹھا اٹھا کر اور پٹخ پٹخ کر مارا کہ گویا وہ اکھڑی ہوئی کھجور کے تنے پڑے ہوئے ہیں ۔ { کَأَنَّھُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنْقَعِرٍ } ۔ (القمر : 20) ۔ اور قوم لوط پر پتھروں کی بارش برسائی گئی اور ان کی بستیوں کو تہ وبالا کرکے رکھ دیا گیا۔ جیسا کہ دوسرے مختلف مقامات پر اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ مثلا سورة شعراء میں ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَاَمْطَرْنَا عَلَیْہِمْ مَطَرًا فَسَائَ مَطَرُ الْمُنْذِرِیْنَ } ( الشعراء :173) ۔ یعنی " ہم نے ان پر ایک بڑی ہولناک بارش برسائی۔ سو بڑی ہی بری بارش تھی ان لوگوں کی جن کو خبردار کیا گیا تھا "۔ اور بعینہ یہی بات سورة نمل کی آیت نمبر 58 میں ارشاد فرمائی گئی۔ { حاصب } سے مراد کنکر برسانے والی ہولناک ہوا ہے جس طرح کہ قوم عاد اور قوم لوط پر ایسی ہولناک ہوا کو مسلط کیا گیا۔ جیسا کہ ابھی اوپر گزرا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو قوم عاد جسکو اپنی قوت کا بڑا زعم اور گھمنڈ تھا اور اس کا کہنا تھا ۔ { مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّۃً } ۔ کہ " ہم سے بڑھ کر طاقت اور قوت اور کس کی ہوسکتی ہے "۔ سو اس کو ہوا کے ایسے ہولناک عذاب سے تباہ کیا گیا کہ ان کی وہ مزعومہ قوت انکے کچھ کام نہ آسکی اور وہ ہمیشہ کے لیے مٹ مٹا کر قصہ پارینہ بن کر رہ گئے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اللہ کی عذاب اور اس کی پکڑ کا مقابلہ کرنے کی ہمت اور سکت کسی میں نہیں ہوسکتی۔ 53{ صَیْحَۃ } کے عذاب کا ذکر ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا " اور کسی کو آدبوچا ایک ہولناک آواز نے "۔ جس سے وہ تمامتر مادی ترقی و قوت کے باوجود وہیں کی وہیں ڈھیر ہو کر رہیں جیسے قوم ثمود اور اہل مدین کہ ان کو اس ہولناک آواز نے اس طرح تباہ و برباد کرکے رکھ دیا کہ ان کو ہمیشہ کے لئے مٹا دیا گیا۔ سو انہوں نے بھی جب کفر و انکار اور تکذیبِ حق کے اس سنگین اور ہولناک جرم پر اصرار کیا اور اپنے پیغمبر کی آواز پر کان نہ دھرا اور ان کی دعوت کو قبول نہ کیا تو آخرکار ان کو ایک ایسی ہولناک آواز نے آپکڑا کہ وہ سب کے سب ہمیشہ کیلئے بجھ کر رہ گئے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اپنی جس مادی قوت و ترقی کا ان کو بڑا دعویٰ اور گھمنڈ تھا وہ ان کے کچھ کام نہ آئی۔ سو اصل قوت جسمانی قوت نہیں ایمانی قوت ہے۔ اور اصل ترقی مادی ترقی نہیں بلکہ قوت ایمان و یقین اور شان عبدیت ورجوع الی اللہ کی ترقی ہے۔ ورنہ اندھیرے ہی اندھیرے اور ہلاکت و بربادی میں ترقی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر مستقیم وثابت قدم رکھے اور نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 54 { خسف ارض } کے عذاب کا ذکر ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا " اور کسی کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا "۔ یعنی قارون، جس کو اس کے خزانوں سمیت پیوند خاک کردیا گیا اور اسکا مال و دولت اسے کچھ کام نہ آسکا جس پر وہ پھولا نہیں سماتا تھا اور جس کی بناء پر وہ حق کا انکار اور اس کی تکذیب کرتا رہا تھا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو کامیابی اور فوز و فلاح کا وسیلہ و ذریعہ ایک اور صرف ایک ہے یعنی حق کو قبول کرکے صدق دل سے اس کے آگے جھک جانا اور دارین کی سعادت و سرخروئی اور اس کی فوز و فلاح کا راز اسی میں مضمر ہے۔ ورنہ ہلاکت ہی ہلاکت ہے ۔ والعیاذ باللہ جل و علا ۔ ایمان و یقین کے بغیر اور اپنے خالق ومالک کے حضور جھکے بدوں نہ انسان کو شرف انسانیت میسر آسکتا ہے اور نہ وہ سعادت و سرخروئی کی راہ پاسکتا ہے اور نہ وہ اپنے عمل کی پاداش اور اللہ پاک کی گرفت و پکڑ سے بچ سکتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی ما یحب ویرید ۔ اللہ نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔ 55 { غرقابی } کے عذاب کا ذکر وبیان ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کسی کو ہم نے غرق کردیا "۔ جیسے قوم نوح جو طوفان نوح میں غرقاب ہوئی اور جیسے فرعون اور اس کی قوم جن کو قلزم میں غرق کیا گیا اور فرعون تو ۔ { اَنَا رَبُّکُمُ الاَعْلیٰ } ۔ کا دعویٰ کرتا تھا۔ اور جسکو یہ گھمنڈ تھا کہ مجھے مصر کی بادشاہی حاصل ہے ۔ { أَلَیْسَ لِیْ مُلْکُ مِصْرَ وَہٰذِہِ الاَنْہَارُ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِیْ } ۔ (الزخرف :51) یعنی " کیا یہ حقیقت نہیں کہ مجھے مصر کی بادشاہی حاصل ہے اور یہ نہریں میرے نیچے سے بہتی ہیں "۔ اور جس کا حضرت موسیٰ ۔ (علیہ السلام) ۔ کے بارے میں کہنا تھا کہ " کیا میں اس شخص سے بہتر نہیں ہوں جو بےقدرا اور بیان کرنے کے بھی قابل نہیں " ۔ { اَمْ اَنَا خَیْرٌ مِنْ ہٰذَا الَّذِیْ ہُوَ مُہِیْنٌ وَلاَ یَکَادُ یُبِیْن } (الزخرف :52) ۔ سو اپنی خدائی کا دعویٰ کرنے والے فرعون اور ایسے گھمنڈ رکھنے والے اور اس کے ساتھی ہامان کو ان کے لشکروں سمیت اکٹھے اور ایک ہی وقت میں غرق کردیا گیا اور ان کی وہ حکومت اور قوت انکے کچھ بھی کام نہ آسکی جس کا اس کو بڑا زعم اور گھمنڈ تھا اور جس کی بنا پر اس نے خدائی دعوٰی کرلیا تھا ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 56 انکار و تکذیبِ حق خود اپنی جانوں پر ظلم ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ ایسا نہیں کہ ان پر ظلم کرتا مگر یہ لوگ اپنی جانوں پر خود ہی ظلم کرتے رہے تھے "۔ حق کا انکار اور اس کی تکذیب کر کے۔ سو جو کوئی حق کا انکار اور اس کی تکذیب کرتا ہے وہ درحقیقت اپنی ہی جان پر ظلم کرتا ہے ۔ { وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَہٗ } ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو دین حق کا انکار اور اپنے خالق ومالک حقیقی کی اطاعت اور اس کی عبادت و بندگی سے منہ موڑنا ظلم اور سب سے بڑا ظلم ہے اور اس کا آخری نتیجہ اور انجام بہرحال ہلاکت و تباہی ہے۔ ایسے لوگوں کو قدرت کی طرف سے جو ڈھیل ملتی ہے اس سے کبھی دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیئے کہ ظلم کا نتیجہ بہرحال ہلاکت و تباہی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور ایسے لوگوں کو ملنے والی ڈھیل بہرحال ایک ڈھیل ہے جس نے بالآخر ختم ہوجانا ہے۔ اور ایسوں نے آخرکار اپنے ہولناک انجام کو پہنچ کر رہنا ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 29:41

مَثَلُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ كَمَثَلِ الْعَنْكَبُوْتِ١ۚۖ اِتَّخَذَتْ بَیْتًا١ؕ وَ اِنَّ اَوْهَنَ الْبُیُوْتِ لَبَیْتُ الْعَنْكَبُوْتِ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:41 in the Quran reader

مثال ان لوگوں کی جنہوں نے اللہ کے سوا کچھ اور کارساز بنا رکھے ہیں مکڑی کی سی ہے کہ وہ اپنا کوئی گھر بنالے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ گھروں میں سب سے زیادہ کمزور گھر مکڑی ہی کا ہوتا ہے کاش کہ یہ لوگ جان لیتے حق اور حقیقت کو

57 شرک اور اہل شرک کی تمثیل مکڑی کے جالے سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جن لوگوں نے اللہ کے سوا اور کارساز بنا رکھے ہیں ان کی مثال ایسے ہے جیسے مکڑی نے ایک گھر بنایا " اور اس میں کوئی شک نہیں کہ گھروں میں سب سے کمزور گھر مکڑی کا گھر ہی ہوتا ہے۔ سو جس طرح مکڑی کا جالا بظاہر بڑا پھیلا ہوا اور تنا ہوا ہوتا ہے اور وہ مکھی مچھر جیسی کمزور چیزوں کو پھانس بھی لیتا ہے مگر نہ وہ سردی گرمی سے بچا سکتا ہے نہ ہی باد و باراں وغیرہ کے اثرات سے۔ اور وہ ہوا کے ایک ہی جھونکے یا کسی معمولی ٹھوکر سے تار تار ہوجاتا ہے۔ اسی طرح ان کے ان معبودان باطلہ اور کارسازان خود ساختہ کا حال ہے جن کو ان لوگوں نے اللہ پاک کے سوا ازخود گھڑ رکھا ہے اور ان کو یہ لوگ حاجت روا و مشکل کشا سمجھ کر پوجتے پکارتے ہیں۔ جیسا کہ آج کل کے اہل بدعت کا حال ہے کہ ان کے آستانے اور دربار ظاہری طور پر اگرچہ بڑے سجے سجائے ہوں گے۔ دولت کی ریل پیل ہوگی۔ طرح طرح کی سریں اور دھنیں رقص کناں ہوں گی۔ ہر طرف سج دھج اور زرق برق کا سماں ہوگا۔ چیلے چانٹے خوب پھیلے بکھرے ہوں گے اور وہ جھوٹے قصے، جعلی کہانیاں اور بناوٹی کرامتیں سنا سنا کر لوگوں کو طرح طرح کی شرکیات کی ترغیب دے رہے ہوں گے مگر حقیقت میں ان کو خدائے پاک کی خدائی میں ذرا برابر کوئی اختیار نہیں ہوتا ۔ { مَا یَمْلَکُوْنَ مِنْ قِطْمِیْرٍ } ۔ کے ارشاد ربانی کے مصداق کچھ بھی کرنے کے اہل نہیں ہوں گے۔ سو ایسوں کو پکارنے والے اپنے مالک حقیقی سے روگرداں ہو کر۔ { خَسِرَ الدُّنْیا وَ الاٰخِرَۃَ } ۔ کا مصداق بنے ہوتے ہیں ۔ { ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوْبُ } ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد ربانی میں مکڑی کے جالے کی اس تشبیہ سے شرک کے ضعف اور اس کے بودے پن کو واضح فرمایا گیا ہے کہ جن جھوٹے سہاروں کو یہ لوگ بہت کچھ سمجھتے ہیں وہ مکڑی کے جالوں کی طرح ہیں۔ سو مشرکوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا جو طرح طرح کے سہارے گھڑ رکھے ہیں وہ سب اسی طرح جھوٹے اور بےحقیقت ہیں اور وہ دنیا کی طرح آخرت کے اس جہاں میں بھی جھوٹے اور بےحقیقت ثابت ہوں گے۔ کل قیامت کے روز جب خداوند قدوس کا قانون مجازات اور اس کا عدل بےلاگ ظہور میں آئے گا وہاں پر ان لوگوں کے یہ خود ساختہ و من گھڑت شفعاء و سفارشی ان کے کچھ کام نہ آسکیں گے جن پر یہ لوگ دنیا میں تکیہ کیے بیٹھے تھے۔ تب ان پر یہ حقیقت پوری طرح واضح ہوجائے گی کہ جن سہاروں کو یہ لوگ قلعے کی دیوار سمجھ رہے تھے ان کی حقیقت مکڑی کے جالے سے زیادہ نہیں تھی۔
Ayahs 29:42–69

اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 29:42 in the Quran reader

بیشک اللہ جانتا ہے ہر اس چیز کو جس کو یہ لوگ پوجتے پکارتے ہیں اللہ کے سوا اور وہی ہے سب پر غالب نہایت حکمت والا

وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ١ۚ وَ مَا یَعْقِلُهَاۤ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ Open ayah 29:43 in the Quran reader

اور یہ مثالیں یوں تو ہم سب ہی لوگوں کی فہمائش کے لئے بیان کرتے ہیں مگر ان کو سمجھتے وہی لوگ ہیں جو علم حق کی روشنی رکھتی ہیں

خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 29:44 in the Quran reader

اللہ ہی نے تن تنہا پیدا فرمایا ہے آسمانوں اور زمین کی اس عظیم الشان کائنات کو حق کے ساتھ بیشک اس میں بڑی بھاری نشانی ہے ایمان والوں کے لئے۔

اُتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لَذِكْرُ اللّٰهِ اَكْبَرُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ Open ayah 29:45 in the Quran reader

پڑھتے (اور سناتے) جاؤ (اے پیغمبر ! ) اس (عظیم الشان) کتاب کو جو بذریعہ وحی بھیجی گئی ہے آپ کی طرف اور قائم رکھو نماز کو بیشک نماز روکتی ہے بےحیائی اور برائی سے1 اور اللہ کی یاد یقینا سب سے بڑھ کر ہے2 اور اللہ خوب جانتا ہے وہ سب کچھ جو تم کرتے ہو (اے لوگوں !

وَ لَا تُجَادِلُوْۤا اَهْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ۖۗ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ وَ قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِالَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ وَ اِلٰهُنَا وَ اِلٰهُكُمْ وَاحِدٌ وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 29:46 in the Quran reader

اور جھگڑا مت کرو تم (اے مسلمانو ! ) اہل کتاب سے مگر اسی طریقے کے ساتھ جو کہ سب سے اچھا ہو سوائے ان لوگوں کے جو ان میں سے ظلم پر ہی کمر بستہ ہوں اور کہو کہ ہم تو بہرحال ایمان رکھتے ہیں اس (کتاب) پر جو اتاری گئی ہماری طرف اور (اس پر بھی) جو اتاری گئی تمہاری طرف اور (حق اور حقیقت بہرحال یہی ہے کہ) ہمارا معبود اور تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے اور ہم سب اسی کے فرماں برادر ہیں3

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ۚ وَ مِنْ هٰۤؤُلَآءِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِهٖ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 29:47 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے اتاری آپ کی طرف (اے پیغمبر ! ) یہ کتاب سو جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی (اس سے پہلے) وہ اس پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور ان لوگوں (یعنی اہل مکہ) میں سے بھی کچھ لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں اور ہماری آیتوں کا انکار نہیں کرتے مگر وہی لوگ جو منکر (اور ہٹ دھرم) ہیں

وَ مَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ وَّ لَا تَخُطُّهٗ بِیَمِیْنِكَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 29:48 in the Quran reader

اور آپ (اے پیغمبر ! ) اس سے پہلے نہ تو کوئی کتاب پڑھتے تھے اور نہ ہی آپ اپنے ہاتھ سے کچھ لکھتے تھے اگر کہیں ایسا ہوتا تو یہ باطل پرست شک میں پڑ سکتے تھے (مگر ایسی تو کوئی بات بھی نہیں)4

بَلْ هُوَ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ فِیْ صُدُوْرِ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 29:49 in the Quran reader

بلکہ یہ (قرآن) تو کھلی آیتیں ہیں ان لوگوں کے سینوں میں جنہیں علم دیا گیا ہے اور ہماری آیتوں کا انکار نہیں کرتے مگر وہی لوگ جو ظالم ہیں

وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیٰتٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 29:50 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ کیوں نہ اتاری گئیں ان پر نشانیاں ان کے رب کی طرف سے (یعنی ان کی فرمائش کے مطابق سو ان سے) کہو کہ نشانیاں تو اللہ ہی کے پاس ہیں اور میں تو صرف خبردار کرنے والا ہوں کھول کر (حق اور حقیقت کو)1

اَوَ لَمْ یَكْفِهِمْ اَنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ یُتْلٰى عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَرَحْمَةً وَّ ذِكْرٰى لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 29:51 in the Quran reader

اور کیا ان لوگوں کے لئے یہ نشانی کافی نہیں کہ ہم نے آپ پر یہ (عظیم الشان) کتاب نازل کی جو (دن رات) پڑھ کر سنائی جاتی ہے ان کو بیشک اس میں بڑی بھاری رحمت اور عظیم الشان نصیحت ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان رکھتے ہیں2

قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ شَهِیْدًا١ۚ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْبَاطِلِ وَ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ١ۙ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 29:52 in the Quran reader

(ان سے) کہو کہ کافی ہے اللہ میرے درمیان اور تمہارے درمیان گواہی دینے کو وہ جانتا ہے وہ سب کچھ جو کہ آسمانوں اور زمین میں ہے اور جو لوگ ایمان لائے باطل پر اور انہوں نے انکار کیا (حقیقتوں کی حقیقت یعنی) اللہ کا وہی ہیں سراسر خسارے والے

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ١ؕ وَ لَوْ لَاۤ اَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَآءَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ وَ لَیَاْتِیَنَّهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 29:53 in the Quran reader

اور یہ لوگ آپ سے (اے پیغمبر ! ) جلد عذاب لانے کا مطالبہ کرتے ہیں اور اگر (اس کے لئے) ایک مدت مقرر نہ ہوتی تو یقینا وہ عذاب ان پر کبھی کا آگیا ہوتا اور (وقت آنے پر) وہ یقینا ان پر ایسا اچانک آکر رہے گا کہ ان کو خبر تک نہ ہوگی

یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ١ؕ وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 29:54 in the Quran reader

آپ سے عذاب جلد لانے کا مطالبہ کرتے حالانکہ جہنم (کے ہولناک عذاب) نے (چاروں طرف سے) گھیرے میں لے رکھا ہے ایسے کافروں کو

یَوْمَ یَغْشٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ وَ یَقُوْلُ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:55 in the Quran reader

جس دن کہ ڈھانک رہا ہوگا ان کو وہ عذاب ان کے اوپر سے بھی اور ان کے پاؤں کے نیچے سے بھی اور کہے گا ان سے وہ (اللہ) کہ اب چکھو مزہ اپنے ان کرتوتوں کا جو تم لوگ (زندگی بھر) کرتے رہے تھے

یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ اَرْضِیْ وَاسِعَةٌ فَاِیَّایَ فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 29:56 in the Quran reader

اے میرے وہ بندوں جو ایمان لائے ہو ! میری زمین بہت وسیع ہے پس تم لوگ (اس حقیقت کو پیش نظر رکھتے ہوئے) ہر حال میں میری ہی بندگی کرو

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١۫ ثُمَّ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 29:57 in the Quran reader

ہر جی کو موت کا مزہ بہرحال چکھنا ہے پھر تم سب کو آخرکار لوٹ کر ہماری ہی طرف آنا ہے

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ غُرَفًا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَۗۖ Open ayah 29:58 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے کام بھی نیک کئے تو ہم ان کو جنت کی ایسی عالی شان عمارتوں میں جگہ دیں گے جن کے نیچے سے بہہ رہی ہوں گی طرح طرح کی (عظیم الشان) نہریں جہاں ان (خوش نصیبوں) کو ہمیشہ رہنا نصیب ہوگا کیا ہی عمدہ (اور خوب) بدلہ ہے ان عمل کرنے والوں کا

الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ Open ayah 29:59 in the Quran reader

جنہوں نے (زندگی بھر) صبر (و استقامت) سے کام لیا اور جو اپنے رب ہی پر بھروسہ کرتے رہے1

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ دَآبَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا١ۗۖ اَللّٰهُ یَرْزُقُهَا وَ اِیَّاكُمْ١ۖ٘ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 29:60 in the Quran reader

اور کتنے جاندار ایسے ہیں جو اپنی روزی (اپنے ساتھ) اٹھائے نہیں پھرتے اللہ ہی روزی دیتا ہے ان کو بھی اور تم کو بھی (اے لوگوں ! ) اور وہی ہے سننے والا (ہر کسی کی اور) جاننے والا (سب کچھ)2

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ۚ فَاَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 29:61 in the Quran reader

اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ کس نے پیدا کیا ہے آسمانوں اور زمین (کی اس کائنات) کو ؟ اور (تمہارے) کام میں لگا دیا سورج اور چاند (عظیم الشان کروں) کو ؟ تو (اس کے جواب میں) یہ سب کے سب ضرور بالضرور یہی کہیں گے کہ اللہ ہی نے پھر کہاں اوندھے کئے جاتے ہیں یہ لوگ ؟

اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ لَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 29:62 in the Quran reader

اللہ ہی روزی کشادہ فرماتا ہے اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہتا ہے اور وہی تنگ کرتا ہے جس کیلئے چاہتا ہے بیشک اللہ ہر چیز کو پوری طرح جانتا ہے3

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ نَّزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ مَوْتِهَا لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 29:63 in the Quran reader

اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ کون ہے وہ جو آسمان سے بارش برساتا ہے پھر اس کے ذریعے وہ زندہ کرتا ہے اس زمین کو اس کے بعد کہ یہ مردہ (اور ویران) پڑی ہوتی ہے ؟ تو یہ لوگ ضرور بالضرور یہی جواب دیں گے کہ اللہ ہی (یہ سارے کام کرتا ہے) کہو الحمد اللہ مگر اکثر لوگ (پھر بھی) عقل سے کام نہیں لیتے

وَ مَا هٰذِهِ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَهْوٌ وَّ لَعِبٌ١ؕ وَ اِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ لَهِیَ الْحَیَوَانُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:64 in the Quran reader

اور اس دنیا کی زندگی کی حقیقت تو ایک تماشا اور کھیل کے سوا کچھ نہیں اور یہ ایک قطعی حقیقت ہے کہ آخرت کا جو گھر ہے وہی حقیقی زندگی ہے کاش کہ یہ لوگ جان لیتے4

فَاِذَا رَكِبُوْا فِی الْفُلْكِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ اِذَا هُمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 29:65 in the Quran reader

پھر (یہ بھی دیکھو کہ) جب یہ لوگ کشتی پر سوار ہوتے ہیں تو اللہ ہی کو پکارتے ہیں اسی کے لئے خالص کر کے اپنے دین کو مگر جب وہ انھیں بچا کر خشکی پر لے آتا ہے تو یکایک یہ لوگ شرک کرنے لگتے ہیں1

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ۙۚ وَ لِیَتَمَتَّعُوْا١ٙ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:66 in the Quran reader

تاکہ (اس طرح) یہ لوگ ناشکری کریں ہماری ان نعمتوں کی جن سے ہم نے ان کو نوازا ہوتا ہے اور تاکہ کچھ اور مزے اڑا سکیں یہ لوگ (دنیائے دوں کے) سو عنقریب ان کو خود ہی معلوم ہوجائے گا

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّ یُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ١ؕ اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَةِ اللّٰهِ یَكْفُرُوْنَ Open ayah 29:67 in the Quran reader

تو کیا ان لوگوں نے کبھی اس پر غور نہیں کیا کہ ہم نے (ان کے اس شہر کو) ایک عظیم الشان حرم (اور) امن کا گہوارہ بنادیا جب کہ ان کے آس پاس کے لوگوں کو (ان کے سامنے) اچک لیا جاتا ہے کیا پھر بھی یہ لوگ باطل کو مانتے ہیں اور اللہ کی نعمتوں کا کفر (و انکار) کرتے ہیں2

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهٗ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 29:68 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوسکتا ہے جو جھوٹ باندھے اللہ (پاک) پر جھٹلائے حق کو جب کہ وہ اس کے پاس پہنچ جائے کیا جہنم میں ٹھکانہ نہیں ایسے کافروں کا

وَ الَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ۠ Open ayah 29:69 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے جہاد کیا (اور مشقت اٹھائی) ہماری راہ میں (اور ہماری رضا کے لئے) تو ہم ان کو ضرور نوازیں گے اپنی (رضا اور خوشنودی کی) راہوں سے اور بیشک اللہ یقینی طور پر ساتھ ہے ایسے نیکوکاروں کے

58 اللہ تعالیٰ کی عظمت شان اس کے احاطہ علم کے اعتبار سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک اللہ پوری طرح جانتا ہے ان سب چیزوں کو جن کو یہ لوگ پوجتے پکارتے ہیں اللہ کے سوا "۔ تعمیم ملاحظہ ہو کہ اول تو { شیئ } خود نکرہ ہے جو ہر چیز کو شامل ہے۔ پھر اس پر { من } استغراقیہ سے مزید تاکید۔ یعنی کوئی بھی چیز خواہ کوئی فرشتہ ہو یا انسان، شجر ہو یا حجر، بت ہو یا جن وغیرہ وغیرہ۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ مافوق الاسباب کسی کو بھی پکارنا شرک ہے جو کہ سب سے بڑا گناہ اور ناقابل معافی جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اب وہ لوگ دیکھ لیں جو اس وحدہ لاشریک کو چھوڑ کر اس کی عاجز مخلوق کو پکارتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے " یا رسول اللہ اغثنی " کوئی کہتا ہے " یا علی مدد " اور کوئی کہتا ہے " یا پیر دستگیر " وغیرہ وغیرہ۔ سو ایسے لوگ خود دیکھ اور سوچ لیں کہ وہ کہاں کھڑے ہیں اور کس انجام کے مستحق ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ ہاں اسباب کے درجے میں کسی دنیاوی حاکم کے سامنے کسی امر سے متعلق شکایت کرنا، ڈاکٹر یا حکیم سے علاج کرانا، دوا لینا وغیرہ اس میں داخل نہیں۔ کہ شریعت مطہرہ نے دنیا کے اس دارالاسباب میں ان اسباب کو اختیار کرنے سے منع نہیں فرمایا بلکہ اجازت دی ہے۔ اور پیغمبر ﷺ نے خود اور آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ کے صحابہ ؓ اور تابعین و اتباع تابعین نے اپنی اپنی زندگیوں میں اس پر عمل کر کے دکھایا۔ لہذا ایسا کرنا نہ منع ہے اور نہ ہی اس پر مافوق الاسباب طریقے سے کسی کو پکارنے کو اس پر قیاس کرنا صحیح ہے کہ مافوق الاسباب مدد کرنا اللہ تعالیٰ کی صفت اور اسی کا خاصہ ہے۔ اور اس کی مخلوق میں سے کسی کو بھی اس میں شریک ماننا شرک ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور یہی بات جمہور مفسرین کرام نے کہی ہے اور کہتے ہیں۔ چند حوالے ملاحظہ ہوں ۔ " أی مِنْ دُوْنِہ مِنَ الاَوْثَانِ وَالاَصْنَامِ وَالْجِنِّ والِانس وانَّہا لَا تَنْفَعُ وَلَا تَضَرّ " ۔ (المراغی : ج 20 ص 144) ۔ یعنی اس کے سوا جس کو بھی یہ لوگ پکارتے ہیں خواہ وہ مورتیاں اور بت ہوں یا جنوں اور انسانوں میں سے کچھ ہستیاں کہ ان کے اختیار میں نہ نفع ہے نہ نقصان ۔ " أی الذی تَدْعُوْنَہ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِن شَیْ " ۔ (جامع البیان : ج 2 ص 39) ۔ یعنی " اللہ کے سوا جس کسی چیز کو بھی تم لوگ پکارو گے وہ سب اس میں داخل ہے " ۔ مِنْ مَلَکٍ أوْ بَشَرٍ أوْ حَجَر۔ یعنی " خواہ وہ کوئی فرشتہ ہو یا انسان یا درخت اور پتھر " کہ " شی " کا عموم ان سب ہی کو شامل ہے۔ اور دعا کے لغوی معنیٰ ندا و پکار کے ہی آتے ہیں۔ لغت کی تمام کتابوں میں اس کے یہی معنیٰ مذکور ہیں۔ چناچہ امام راغب اصفہانی کہتے ہیں ۔ " الدعا النداء " ۔ (مفردات : ص 160) ۔ اب ذرا اہل بدعت کے بعض تحریف پسندوں کی منطق ملاحظہ ہو اور ان کی جہالت یا تجاہل عارفانہ کو دیکھئے کہ وہ موصوف اس موقعہ پر اس بارے میں لکھتے ہیں کہ " اس قسم کی آیات میں بعض فضلائے دیوبند { یدعون } کے معنیٰ پکارنے کے کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ " یا رسول اللہ " اور " یا غوث " وغیرہ کہنا شرک ہے۔ مگر خود ہر حاجت پر امیروں حکیموں اور حاکموں کو پکارتے ہیں "۔ اب ان بدعتی تحریف پسندوں سے کوئی پوچھے کہ کیا صدیاں پہلے گزرنے والے یہ سب علماء و مفسرین کرام دیو بند کے فضلاء ہی تھے ؟ سو یہاں سے یہ بھی اندازہ کیجئے کہ فضلائے دیوبند کا اعلانِ حق اہل بدعت کے دل و دماغ پر کس طرح سوار ہے کہ ان کو ہر طرف وہی نظر آتے ہیں۔ اور کیا اہل بدعت کے اس مفتی صاحب کو تحت الاسباب اور فوق الاسباب کا فرق بھی معلوم نہیں ؟ اگر معلوم نہیں اور پھر بھی دعویٰ ہے شیخ التفسیر اور مفتی ہونے کا تو اس سے بڑھ کر المیہ اور کیا ہوسکتا ہے ؟ اور اگر معلوم ہونے کے باوجود جان بوجھ کر سادہ لوح عوام کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں تو پھر معاملہ اور بھی افسوسناک اور سنگین ہوجاتا ہے ۔ وَالْعَیَاذ باللّٰہِ ۔ اِنْ کُنْتَ لا تَدْرِیْ فَتِلْک مُصِیْبَۃ۔ وَإنْ کُنْتَ تَدْرِیْ فَالمْصِیْبَۃُ اَعْظَمُ ۔ والعیَاذ باللّٰہِ العظیم من کُلِّ سُوْئٍ وَشرہ ۔ بہرکیف ان مذکورہ بالا چند حوالوں سے واضح ہوگیا کہ یہ مسئلہ صرف فضلائے دیوبند کا نہیں جس طرح کہ ایسے اہل بدعت کا کہنا ہے۔ بلکہ یہ جمہور امت اور سلف و خلف کے تمام اہل علم و فضل کا قول ہے۔ اور علماء و فضلائے دیوبند بھی وہی کچھ کہتے ہیں جو کہ سلف امت سے ثابت و منقول ہے اور جو کہ مقتضیٰ ہے نصوص کتاب و سنت کا ۔ اللہ ہمیشہ راہ حق پر مستقیم وثابت قدم رکھے ۔ آمین۔ 59 اللہ تعالیٰ کی صفت عزت وحکمت کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور انداز حصر وقصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا " اور وہی ہے سب پر غالب نہایت حکمت والا "۔ لہذا اس کو نہ کسی معین و وزیر کی ضرورت ہے اور نہ کسی مساعد و مشیر کی۔ نہ اس کی گرفت سے کوئی بچ کر نکل سکتا ہے اور نہ اس کی پکڑ سے کوئی کسی کو چھڑا سکتا ہے کہ وہ عزیز و غالب اور نہایت ہی زبردست ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور وہ فوراً نہیں پکڑتا بلکہ زمانوں پہ زمانے ڈھیل دئے چلا جاتا ہے کہ وہ حلیم بھی ہے اور حکیم و کریم بھی ۔ جل و علا شانہ ۔ سو عزیز اور حکیم کی ان دونوں صفتوں کے ذکر سے کئی اہم اور انقلاب آفریں درس ملتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ جو صدق دل سے اس کی طرف رجوع کرے گا اور حقیقی معنوں میں اس کا بندہ بن کر رہے گا ۔ وباللہ التوفیق ۔ تو وہ عزت اور حکمت کی دولت سے سرفراز ومالا مال ہوگا۔ اور جو اس سے منہ موڑے گا اور اعراض و روگردانی کرے گا وہ محروم اور خائب و خاسر ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ کہ اس مالک الملک ربِّ عزیز و حکیم سے منہ موڑنا سب سے بڑی محرومی اور حقیقی خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو وہ سب پر غالب اور سب کی رسائی سے بالا و برتر ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور اس کا ہر کام اور ہر حکم نہایت علم و حکمت پر مبنی ہے۔ سو اس عزیز و حکیم کے کسی امر و ارشاد اور قضاء اور فیصلہ پر کسی کا اپنے زور سے خواہ وہ شخص کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو اثر انداز ہونا ممکن نہیں۔ سو مشرک لوگوں نے جو اپنے خودساختہ معبودوں کے بارے میں اس طرح کے تصورات قائم کر رکھے ہیں کہ وہ اس کے یہاں اثرانداز ہو کر ان کی بخششیں کرا دیں گے وہ سب سراسر فراڈ اور فریب ہے۔ اور اس بنیاد پر جو وہ اپنی فرصت حیات کو داؤ پر لگائے ہوئے ہیں وہ نہایت ہی ہولناک خسارے میں پڑے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔