Ayahs 38:55–64بعداز ذکر احوال سعداء تذکرۂ مجرمین واشقیاء :
قال اللہ تعالیٰ ھذا : (آیت ) ” وان للطغین ....... الی ....... ان ذلک لحق تخاصم اھل النار “۔
قرآن کریم کا یہ طرز بیان ہے کہ اخیار و برگزیدہ بندوں کے ذکر کے بعد اشقیاء وبدبختوں کا ذکر کیا جاتا ہے اور مطیعین پر انعامات کے بیان کے بعد مجرمین کی سزاؤں کو ذکر فرمایا جاتا ہے تو اسی طرح یہاں بھی انبیاء سابقین کے اوصاف و فضائل کے بعد نافرمانوں اور سرکشوں کی سزاؤں اور انکی بدحالی کو بیان کیا جارہا ہے ،
فرمایا یہ سن چکے جو انعامات و فضائل تھے اہل وتقوی اور مطیعین اور سرکشوں ونافرمانوں کے لئے تو بد ترین ٹھکانہ ہوگا جو جہنم ہے جس میں یہ گھسیں گے سو کیا ہی وہ بری جگہ آرام کی ہوگی یہ ہے عذاب مجرمین کے لئے اب چاہئے کہ یہ مجرمین اس عذاب کو چکھیں جو کھولتا ہوا گرم پانی ہے اور پیپ اور اسی قسم کی اور بھی طرح طرح کے شدید اور درد ناک عذاب میں ان مجرمین اور سرکشوں کو جو نافرمانوں کے پیشوا تھے مبتلا کرتے ہوئے کہا جائے گا یہ ایک اور جماعت ہے لو دیکھ لو جو گھسی اور دھنستی چلی آرہی ہے تمہارے ساتھ جہنم میں جن کو دیکھتے ہوئے تم کہو گے نہ ہو جگہ تمہارے واسطے کشادہ اور آرام کی یہ تو جہنم میں گھسنے والے لوگ ہیں اس لیے ان کے آنے کی کیا خوشی ہوسکتی ہے اور کیا ہی ان سے کو چیز اور نفع کی توقع کی جاسکتی ہے اس پر وہ لوگ جنہوں نے اپنے بڑوں کی پیروی کی تھی اپنے متبوعین کو غصہ اور نفرت سے کہیں گے تمہارے ہی واسطے نہ ہو کوئی جگہ کشادہ اور ٹھکانہ آرام کا تم ہی نے تو ہم کو یہاں لا اتارا ہے سو یہ تو بہت ہی برا ٹھکانہ ہے پھر اپنے پروردگار کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے کہیں گے اے ہمارے پروردگار جس کسی نے ہمیں یہاں لا اتارا ہے اصل مجرم تو وہی ہے بس اس کا عذاب تو جہنم میں دو گنا کردے اور اسی حالت میں از راہ تعجب وحیرت کہیں گے کیا ہوگیا کہ ہم یہاں نہیں دیکھ رہے ہیں ان لوگوں کو جن کو ہم برے لوگوں میں شمار کیا کرتے تھے ان کے مذہب ودین اور انکے اعمال واحوال کو ہم بری نظر سے دیکھتے تھے اور ہم نے ان ایمان والوں کو مذاق بنایا ہوا تھا جن کو دیکھ کر ہم ان پر ہنسا کرتے اور ان کو ذلیل کرتے تھے واقعۃ وہ لوگ اس جگہ نہیں ہیں یا ہماری نگاہیں ان سے چو ک گئی ہیں بیشک یہ بات برحق ہے یعنی جھنمیوں کا اس طرح آپس میں جھگڑنا کہ ایک دوسرے پر لعنت وملامت کریں گے اور سوائے حسرت وملامت کے اور کچھ حاصل نہ ہوگا اور آپس میں ایک دوسرے پر طعن وتشنیع اور ملامت سے عذاب جہنم میں تخفیف کے بجائے قلبی کوفت اور ذہنی پریشانی میں اور اضافہ ہوگا جسمانی تکلیف کی تو پہلے ہی کوئی حد نہ ہوگی اس ذہنی کو فت سے انکی اذیتوں کی کوئی انتہا نہ رہے گی۔
یہ گفتگو جس کا ذکر ان آیات میں فرمایا گیا جہنمیوں کی آپس میں ہوگی جس وقت فرشتے ان کو فوج در فوج لا لا کر جہنم کے کنارے پر جمع کرتے ہوں گے پہلا گروہ سرداروں کا ہوگا ان کے بعد ان کے متبعین اور چھوٹوں کو لایا جائے گا تو سرداروں کی جماعت اس دوسری جماعت کو دور سے آتے دیکھ کر کہے گی لو دیکھ لو یہ ایک اور فوج دھنستی اور کھپتی چلی آرہی ہے تمہارے ساتھ دوزخ میں گرنے کے لئے خدا کی مار ہو ان پر یہ بھی یہیں آکر مرنے کو تھے خدا کرے انکو کہیں کشادہ اور آرام کی جگہ نہ ملے ان سرداروں کی گفتگو سن کر یہ چھوٹے کہیں گے کمبختو ! تم ہی پر خدا کی مار ہو تم کو ہی کوئی جگہ آرام کی نہ ملے تم ہی تو تھے کہ تم نے ہم کو گمراہ کیا اور آج تمہاری ہی بدولت ہم اس مصیبت میں مبتلا ہورہے ہیں اب تو بس یہی ایک ٹھکانہ ہے اور کوئی جگہ ہے کہاں کہ جس میں جائیں اس لعن وطعن کے ساتھ خدا کی طرف متوجہ ہو کر دعا کریں گے کہ اے پروردگار ان لوگوں کو دوگنا عذاب دے جنہوں نے ہمیں بھی گمراہ کیا اسی حالت میں ان کے ذہن میں یہ بات آئے گی کہ دنیا کی زندگی میں جن لوگوں کو حقیر اور کمتر سمجھتے تھے اور اپنے مال و دولت کے زعم میں اہل ایمان اور غربا اور فقراء کو حقیر سمجھتے تھے آج وہ یہاں اس ذلت و حقارت کے مقام میں نہیں ہیں تو ایک دوسرے سے سوال کریں گے اور اپنے دنیوی اس اعتقاد کا اس درجہ اثر دماغوں پر مسلط ہوگا کہ یہ سوچنے لگیں گے کہ شاید وہ ہمیں نظر نہیں آرہے ہیں ورنہ تو وہ ضرور یہاں ہونے چاہئیں تو اس طرح مزید ملال اور حسرت کی اذیت میں مبتلا ہوں گے جسمانی اذیتوں کے ساتھ آپس کی تو تو میں میں لعن طعن جھگڑا کرب اور بےچینی میں اضافہ کررہی رہا تھا مزید برآں اس حسرت میں مبتلا ہو کر اور بھی تلملائیں گے بس یہی ان اہل نار کا حال ہوگا جو انکے اعمال واطوار کا نتیجہ ہے حمیم گرم اور کھولتے ہوئے پانی کو کہا جاتا ہے (آیت) ” غساق “۔ اکثر مفسرین فرماتے ہیں جہنمیوں کے زخموں کی پیپ اور آلائش ہے جو سانپ اور بچھوؤں کے زہر کے ساتھ ملی ہوئی ہوگی اور بعض کا خیال ہے کہ غساق نہایت ٹھنڈے پانی کو کہتے ہیں جو حمیم کی ضد ہے جس کے پینے سے انتہائی اذیت اور تکلیف ہوگی۔ واللہ اعلم بالصواب۔
جامع ترمذی میں ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر اس غساق کا جو جہنمیوں کو پلایا جائے گا، ایک ڈول دنیا میں بہا دیا جائے تو اس کی بدبو اور گندگی سے تمام دنیا والے بدبودار ہوجائیں گویا بدبو ان میں ایسی سرایت کرجائے کہ وہ بذاب خود بدبودار ہوجائیں کعب احبار ؓ بیان کرتے ہیں غساق جہنم میں ایک چشمہ ہے جس کی طرف ہر زہریلے سانپ اور بچھو کا زہر بہ کر آتا ہے جس میں جہنمیوں کو غوطہ دیا جائے گا اور اس کی وجہ سے انکے جسم گل سڑ جائیں گے۔
Ayahs 38:65–88اعلان توحید و رسالت وتخویف از آخرت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل انما انا منذر ...... الی ...... ولتعلمن نباہ بعد حین “۔
ابتداء سورت قرآن کریم کی حقانیت اور اثبات و رسالت سے تھی اس سلسلہ میں حضرات انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے اوصاف ایمان وتقوی اور انابت الی اللہ اور ان اوصاف پر مرتب ہونے والے ثمرات و انعامات کے بیان کے بعد پھر اصل مقصد کی طرف رجوع فرماتے ہوئے توحید و رسالت کو ثابت کیا جارہا ہے کہ آپ ﷺ یہ اعلان کردیجئے کہ میں تو اللہ واحد قہار کی طرف سے منکرین ومجرمین کو ڈرانے والا ہوں اور میں جو کچھ کہتا ہوں وہ وحی الہی ہوتی ہے ظاہر ہے کہ اللہ کا رسول یہی کرسکتا ہے خدا کے پیغمبروں کا یہ کام نہیں ہے کہ زبردستی کسی پر ہدایت مسلط کردیں جب کہ خود وہ قبول ہدایت سے انکار کرتا ہو تو ارشاد فرمایا آپ کہدیجئے اے منکرین توحید و رسالت تمہارے اس انکار وتکذیب کا مجھے ذرہ برابر کوئی نقصان نہیں اس کا اصل نقصان تو تم ہی کو پہنچے گا میں تو عذاب خداوندی سے تم کو ڈرانے والا ہوں جیسے اللہ کے دوسرے پیغمبر بھی اس کے عذاب سے لوگوں کو ڈراتے رہے اور یہ سن لو نہیں ہے کوئی معبود عبادت کے لائق بجز اللہ واحد (یکتا) کے جو بڑا ہی غالب ہے جو رب ہے آسمانوں اور زمینوں کا اور ان تمام چیزوں کا جو انکے درمیان میں ہیں جو زبردست اور گناہوں کو بڑا ہی بخشنے والا ہے آپ کہہ دیجئے یہ اعلان توحید اور اس کی طرف مخلوق خدا کو دعوت دینا جس کے واسطے اللہ نے مجھ کو رسول بنایا بڑی ہی عظیم الشان خبر اور بلند پایہ مضمون ہے چاہیئے تو یہ تھا کہ اس کی طرف تو جہ کرتے اور اس کو قبول کرتے مگر افسوس تم تو اس سے بےرخی کررہے ہو نہ تم رسالت پر ایمان لائے اور نہ قرآن کو مانا حالانکہ یہ سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے جس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ مجھے تو کوئی علم نہ تھا ملاء اعلی (عالم بالاکا) جبکہ وہ اللہ کے فرشتے آپس میں تکرار وخصومت کررہے تھے تخلیق آدم اور ابلیس کا سجدہ سے انکار کے بارے میں اور اس بارے میں کہ کس بنا پر آدم (علیہ السلام) کو خلافت الہیہ فی الارض کے منصب سے نوازا جارہا ہے یہ سب کچھ میں نے نہ کسی کتاب میں پڑھا اور نہ کسی معلم سے سیکھا یہ تو صرف اللہ کی طرف سے وحی ہے جس کی وحی میری طرف کی جاتی ہے میں تو صرف اللہ کی طرف سے تم کو آخرت اور عذاب آخرت سے صاف صاف ڈرانے والا ہوں وہ اختصام و گفتگو ملاء اعلی کی یہ تھی کہ جبکہ آپ ﷺ کے رب نے فرشتوں سے کہا بیشک میں بنانے والا ہوں ایک انسان کو گارے سے سو جب میں اس کے پتلے یعنی اعضاء جسمانیہ کو پورا بنا چکوں اور اس میں اپنی طرف سے روح کو پھونک دوں تو تم سب اسکے سامنے سجدہ میں گر پڑنا چناچہ جب اللہ نے اس کو بنالیا اور اس میں روح پھونک دی تو سب کے سب فرشتوں نے آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کیا مگر ابلیس نے سجدہ سے انکار کیا کہ وہ غرہ میں آگیا اور کافروں میں سے ہوگیا حق تعالیٰ نے ابلیس کو اس غرور و انکار پر فرمایا اے ابلیس تجھے کس بات نے روکا سجدہ کرنے سے اس کو جس کو میں نے اپنے دونوں ہاتھوں ،۔ 1
حاشیہ نمبر 1 (” من روحی “ میں نسبت حق تعالیٰ نے اپنی طرف اس لئے فرمائی کہ روح آب وخاک سے نہیں بلکہ عالم غیب سے آئی یہ مضمون سورة بنی اسرائیل میں گذر چکا وہاں اضافت کی حکمت پر کلام کیا گیا ہے تفصیل کیلئے استاد محترم حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی (رح) کے مضمون ” الروح فی القرآن “ کی طرف رجوع فرمایا جائے۔
یہ قصہ سورة اعراف و دیگر متعدد سورتوں میں گذر چکا ہے (آیت ) ” لما خلقت بیدی “۔ یعنی جس کو میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے پیدا کیا ان الفاظ کے ترجمہ میں تو ضیحی کلمات اور قدرت خاصہ ان متکلمین کے مسلک کے پیش نظر اضافہ کئے جو اس طرح کی صفات اور شؤن خداوندی کی تاویل قدرت امر اور مشیت جیسے الفاظ سے کرلیتے ہیں حضرت شاہ صاحب (رح) کہتے ہیں یعنی بدن کو ظاہر کے ہاتھ سے۔
اور روح کو غیب (باطن) کے ہاتھ سے اللہ غیب کی چیزیں ایک طرح کی قدرت سے اور ظاہر کی چیزیں دوسری طرح کی قدرت سے بناتا ہے اس انسان میں دونوں طرح کی قدرت خرچ کی “۔ اس وجہ سے بیدی تثنیہ کا لفظ استعمال فرمایا حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی (رح) اپنے فوائد میں تحریر فرماتے ہیں ہمارے نزدیک اللہ ک نعوت وصفات میں سلف کا مسلک ہی اقوی واحوط ہے یا یہ مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض مخلوقات کو کسی کسی دوسری مخلوق سے پیدا کرتا ہے مثلا بارش کو بادلوں سے اور دھوئیں کو آگ سے اور بعض کو بغیر کسی دوسری مخلوق کے پیدا کرتا ہے تو حضرت آدم (علیہ السلام) اسی دوسری مخلوق میں سے ہیں کہ ان کو کسی کے توسط اور دخل سے نہیں پیدا کیا گیا۔ )
اور قدرت خاصہ سے بنایا کیا تو غرور میں آگیا یا بتا کہ کیا تو بڑے درجے والوں میں سے تھا حالانکہ یہ باطل ہے کیونکہ جب فرشتوں کو سجدہ کا حکم ہوا تو وہ سربسجود ہوگئے اور یقیناً تجھ سے افضل اور بڑھ کر ہیں تو یہ مجال تیری کیونکر ہوئی کہ میرے حکم کی تعمیل سے تو نے روگردانی کی کہا میں آدم سے بہتر ہوں کیونکہ آپ نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا ہے اور اس (آدم) کو خاک سے پیدا کیا ہے اور جب کہ میں اس سے بہتر ہوں تو مجھے سجدہ کا حکم دینا حکمت کے خلاف ہے ارشاد ہوا تو اچھا تو پھر آسمان سے نکل کیونکہ بیشک تو اس حرکت سے کہ حکم خداوندی کا مقابلہ کیا اور اس پر طعن واعتراض کیا کہ یہ حکم خلاف عقل و حکمت ہے مردود ہوا اور بیشک تجھ پر میری لعنت رہے گی قیامت کے دن تک اور ظاہر ہے کہ جس پر قیامت کے روز تک لعنت رہی تو بعد میں تو اس پر رحمت کا کوئی امکان نہیں ہوسکتا کیونکہ لعنت اور غضب خداوندی کسی سے اگر منقطع ہوسکتا ہے تو وہ دارالعمل میں رہتے میں رہتے ہوئے تائب ہوجانے کی وجہ سے ہوسکتا ہے اور جب قیامت قائم ہوگئی تو توبہ کا دروازہ بند ہوچکا بولا اگر مجھ کو آدم (علیہ السلام) کی وجہ سے ملعون ومردود کیا گیا تو پھر مجھ کر مہلت دیدیجئے قیامت کی دن تک تاکہ میں ان کی اولاد سے خوب بدلہ لوں ادھر قدرت خداوندی کو دار دنیا میں ہدایت وگمراہی کا مقابلہ رکھنا تھا تاکہ ابتلاء وآزمائش ہوسکے اس وجہ سے ارشاد ہوا اچھا جب مجھے تو مہلت مانگتا ہے تو جا تجھ کو مہلت دیدی گئی ایک وقت معلوم ومعین تک کہنے لگا جب مجھے مہلت مل گئی تو قسم ہے تیری عزت کی کہ میں البتہ ضرور ان سب کو گمراہ کروں گا بجز آپ کے ان بندوں کے جو ان میں منتخب کئے گئے ہیں فرمایا تو ٹھیک بات ہے اور میں سچ ہی کہا کرتا ہوں کہ میں تجھ سے اور ان سے جو تیرے ساتھ دیں گے یقیناً ان سب سے دوزخ کو بھردوں گا ان تمام حقائق کو سن کر چاہئے کہ لوگ اللہ کی باتوں پر ایمان لائیں اور ان کی صداقت وحقانیت پر یقین کریں اگر اس کے باوجود بھی کوئی بدباطن کسی قسم کا شک وتردد کرے یا کوئی معاند آپ ﷺ کے حق میں کسی طمع و لالچ کا تصور کرے تو آپ ﷺ اتمام حجت اور بطور قطع عذر کہہ دیجئے میں تم سے اس قرآن اور اللہ کے احکام کی تبلیغ پر نہ کچھ معاوضہ چاہتا ہوں اور نہ میں تصنع و بناوٹ کرنے والوں میں سے ہوں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ قرآن تو اللہ کا کلام ہے اور ایک عظیم پیغام نصیحت ہے تمام جہان والوں کے لیے اسی مقصد کے لیے اللہ نے مجھ کو نبی بنایا اور اس میں سراسر تمہارا ہی نفع ہے اور اگر اس حق اور حقیقت کے واضح ہوجائے گا کہ اللہ کا دین حق ہے اسی دین کی پیروی کرنے والوں کو فتح و کامرانی نصیب ہوگی اور اگر ان تاریخی حقائق سے بھی کسی کو حقیقت نہ کھلی تو موت بھی کچھ دور نہیں اور نہ ہی قیامت کچھ بعید ہے اور ہر شخص کی موت تو خود ایک قیامت ہی ہے تو اس وقت معلوم ہوجائے گا کہ محمد رسول اللہ ﷺ نے جو کچھ کہا تھا وہ حق تھا اور ان پر ایمان نہ لانا منکرین کی ہلاکت وتباہی کا باعث بنا مگر ظاہر ہے کہ مرنے کے بعد یا قیامت برپا ہونے پر اگر کسی نے حق پہنچانا تو اس وقت کی معرفت یا ایمان سے تو کچھ فائدہ نہ ہوگا قتادہ (رح) نے (آیت ) ” بعد حین “۔ کی تفسیر میں موت کو بیان کیا ہے اور عکرمہ (رح) کہا کرتے تھے اس سے قیامت مراد ہے قتادہ (رح) نے حسن بصری (رح) کا قول نقل کیا ”۔ یا ابن آدم عند الموت یاتیک الخبر الیقین “۔ کہ ابن آدم موت کے وقت تجھ کو یقین حاصل ہوگا (تفسیر ابن کثیر 4)
اور سدی (رح) سے منقول ہے کہ یہ بدر کا دن ہے کہ بدر کی فتح پر منکرین کو یقین کرنا پڑے گا کہ جو کچھ غلبہ حق کی خبر خدا کے پیغمبر نے دی تھی وہ برحق ہے (آیت ) ” ما کان لی من علم بالملا الاعلی “۔ کے ترجمہ میں اضافہ کردہ الفاظ جبکہ اللہ کے فرشتے آپس میں تکرار وخصوصمت کررہے تھے تخلیق آدم (علیہ السلام) اور ابلیس کا سجدہ سے انکار کرنے کے بارے میں “ سے ان أیمہ مفسرین کے قول کی طرف اشارہ ہے جنہوں نے یہ بیان کیا کہ اس ” اختصام “ سے حضرت آدم (علیہ السلام) کا یہ قصہ مراد ہے جس میں حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کا حکم دیا گیا اور ابلیس نے انکار کیا اور بعض علماء مفسرین نے بیان کیا کہ خلافت آدم (علیہ السلام) کے متعلق مخاصمت نہیں ہے بلکہ اعمال بنی آدم یعنی کفارات میں ملائکہ کی خصومت مراد ہے جس کی تفصیل حدیث اختصام الملاء الاعلی میں مذکور ہے جس کو امام ترمذی (رح) نے اپنی جامع میں تخریج کیا ہے عبدالرحمن بن عائش باسناد مالک بن یخامر حضرت معاذ بن جبل ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک روز صبح کی نماز کے وقت نبی کریم ﷺ دیر تک تشریف نہ لائے حتی کہ سورج نکلنے کے قریب ہوگیا اس وقت آپ ﷺ بڑی عجلت کے ساتھ تشریف لائے نماز کی اقامت ہوئی اور آپ ﷺ نے نماز مختصر پڑھائی سلام پھیرنے کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا اے لوگو ! تم اپنی اپنی جگہ اسی طرح بیٹھے رہو پھر فرمایا ہماری طرف رخ کرتے ہوئے آج رات جب میں تہجد کے لیے بیدار ہوا اور جس قدر مقدر تھا نماز پڑھی تو دوران نماز مجھ پر اونگھ (غلبہ نوم) طاری ہوئی تو میں نے اپنے پروردگار کا بڑی ہی بہترین صورت میں دیدار کیا اس وقت جبکہ مجھے اللہ کی تجلی نصیب ہوئی تو مجھ سے رب العزت نے سوال کیا اے محمد ﷺ جانتے بھی ہو ملأ اعلی کس بات میں خصومت کررہے ہیں میں نے عرض کیا اے میرے پروردگار مجھے نہیں معلوم آپ ہی خوب جانتے ہیں تو حق تعالیٰ نے اپنا دست بےمثال میرے شانوں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک اور سکون مجھے اپنے سینہ میں محسوس ہونے لگی جس سے میرے واسطے ہر چیز ظاہر ہوگئی (جو حق تعالیٰ مجھ سے سوال فرما رہے تھے) اور یہ ایسا ہی تھا جیسے حضرت آدم (علیہ السلام) کو تعلیم اشیاء فرما کر فرشتوں سے دریافت کیا گیا تو جواب ملا (آیت ) ” سبحانک لاعلم لنا الا ما علمتنا “۔ لیکن جب (آیت ) ” وعلم ادم الاسمآء کلھا “۔ کی صورت ہوئی تو پھر فرمایا گیا (آیت ) ” یادم انبءھم باسمآءھم “۔ اسی طرح ان علوم ومضامین کا القاء اس طرح اس تاثیر غیبی اور باطنی سے فرمادیا گیا تو پھر آپ ﷺ نے سب باتوں کا جواب دیا اور کہا جی ہاں ! اے پروردگار کفارات میں یعنی ان اعمال میں فرشتوں کی خصومت ہورہی ہے کہ ان کا اجر وثواب کیا ہے یا یہ کہ ان اعمال کو فرشتوں کی کون سی جماعت پہلے بارگاہ رب العزت میں لے کر پہنچتی ہے اور وہ کفارات یہ ہیں باوجود متقتوں کے وضومکمل آداب کی رعایت کے ساتھ کرنا زیادہ سے زیادہ قدم چلنا مسجدوں کی جانب اور نماز کا انتظار کرنا نماز کے بعد، پھر ارشاد ہوا پھر کن اعمال میں خصومت ہے جواب دیا درجات میں سوال ہوا درجات کیا ہیں بتایا اطعام طعام افشاء سلام اور تہجد کی نماز ان اوقات میں جب کہ لوگ سوئے ہوئے ہوں ارشاد ہوا سوال کرو فرماتے ہیں میں نے مانگا اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں خیر کے کاموں کا اور برائیوں کے چھوڑنے کا اور مساکین کی محبت کا اور یہ کہ میری مغفرت فرما اور جب تو کسی قوم کو فتنے میں ڈالنے کا ارادہ کرے تو مجھے اس سے پہلے اٹھالے۔ اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیری محبت کا اور اس شخص کی محبت کا جو تجھ سے محبت رکھتا ہو اور اس عمل کی محبت جو تمیری محبت کے قریب کردے آپ ﷺ نے یہ کلمات ارشاد فرمائے ہوئے فرمایا یہ کلمات حق ہیں ان کو یاد کرلو اور سیکھ لو اور ایک روایت میں ہے کہ دوسروں کو بھی سکھاؤ یہ مضمون امام احمد (رح) نے اپنی مسند میں ذکر فرمایا اس حدیث کی سند میں اگرچہ بعض محدثین نے کچھ کلام کیا ہے مگر امام ترمذی (رح) نے اس کی تحسین فرمائی۔ حافظ ابن کثیر (رح) نے اس حدیث اختصام کو نقل کرنے کے بعد یہ فرمایا اس آیت میں جس اختصام کا ذکر ہے وہ یہ اختصام نہیں کیونکہ خود قرآن کریم نے اس اختصاص کی تفسیر (آیت ) ” اذ قال ربک للملئکۃ “۔ سے فرما دی کہ یہ اختصام خلافت آدم (علیہ السلام) اور ان کو امر بالسجود کے بارے میں ہے۔
حضرت استاد شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی (رح) اس موقعہ پر اپنے فوائد قرآن میں فرماتے ہیں ملأ اعلی اوپر کی مجلس) ملائکہ مقربین وغیرھم کی مجلس ہے جن کے توسط سے تدابیر الہیہ اور تصریفات کو نیہ ظہور پذیر ہوتی ہیں یعنی ملا اعلی میں نظام عالم کے فنا وبقا کے متعلق جو تدبیریں یا بحثیں اور قیل وقال ہوتی ہے مجھے اس کی کیا خبر تھی جو تم سے بیان کرتا اللہ تعالیٰ نے ان میں جن اجزاء پر مطلع کردیا وہ بیان کردیئے میں جو کچھ کہتا ہوں اس کی وحی اور اعلام سے کہتا ہوں مجھ کو یہی حکم ملا ہے کہ سب کو اس آنے والے خوف ناک مستقبل سے خوب کھول کھول کر آگاہ کردوں۔
رہا یہ کہ یہ وقت کب آئے گا اور قیامت کب قائم ہوگی ؟ نہ انذار کے لیے اسکی ضرورت ہے اور نہ اس کی اطلاع کسی کو دی گئی ہے ایک حدیث میں ہے کہ چند انبیاء (علیہم السلام) کے ایک اجتماع میں قیامت کا ذکر چلا کہ کب آئے گی سب نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر حوالہ کیا انہوں نے فرمایا مجھے علم نہیں پھر سب نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر حوالہ کیا انکی طرف سے بھی یہی جواب ملا آخر میں سب نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کی طرف رجوع کیا تو انہوں نے یہی کہا کہ عین قیامت کا تو مجھے بھی علم نہیں اور یہ لفظ فرمائے ” والمسؤل عنھا باعلم من السائل “۔
معلوم ہوتا ہے کہ ملأ اعلی میں قیامت کے متعلق اس قسم کی بحث و تکرار رہتی ہے تو اس کے بارے میں آپ ﷺ نے صاف فرما دیا (آیت) ” ماکان لی من علم بالملا الاعلی اذ یختصمون “ کہ مجھے تو ملاء اعلی کا کوئی علم نہیں جبکہ وہ اس معاملہ میں خصومت کرتے ہیں۔
بہر کیف وحی خدواندی سے آپ ﷺ نے صاف ارشاد فرمایا کہ علم صرف اللہ کی شان ہے اللہ کا پیغمبر صرف وہی بتاتا ہے جو اس کو وحی سے بتادیا جائے اس کو نہ ملائکہ اعلی میں خصومتوں کا علم ہے اور نہ قیامت کے واقع ہونے کا علم ہے کہ کب واقع ہوگی۔
اللھم ارزقنا حلاوۃ الایمان وبشاشتہ توفنا مسلمین والحقنا بالصالحین سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون وسلام علی المرسلین والحمد للہ رب العلمین۔
الحمد للہ آج مورخہ 22 شوال المکرم 1400 ھ سورة ص کی تفسیر سے فراغت ہوئی اے خداوند عالم قبول فرما۔ آمین یا رب العالمین “۔