38. Surah Saad

صThe letter Saad · 88 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 38:30–40

وَ وَهَبْنَا لِدَاوٗدَ سُلَیْمٰنَ١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌؕ Open ayah 38:30 in the Quran reader

اور ہم نے داؤد کو سلیمان عطا کئے بہت خوب بندے (تھے اور) رجوع کرنے والے تھے

اِذْ عُرِضَ عَلَیْهِ بِالْعَشِیِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِیَادُۙ Open ayah 38:31 in the Quran reader

جب ان کے سامنے شام کو خاصے کے گھوڑے پیش کئے گئے

فَقَالَ اِنِّیْۤ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَیْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّیْ١ۚ حَتّٰى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِٙ Open ayah 38:32 in the Quran reader

تو کہنے لگے کہ میں نے اپنے پروردگار کی یاد سے (غافل ہو کر) مال کی محبت اختیار کی یہاں تک کہ (آفتاب) پردے میں چھپ گیا

رُدُّوْهَا عَلَیَّ١ؕ فَطَفِقَ مَسْحًۢا بِالسُّوْقِ وَ الْاَعْنَاقِ Open ayah 38:33 in the Quran reader

(بولے کہ) ان کو میرے پاس واپس لے آؤ پھر ان کی ٹانگوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگے

وَ لَقَدْ فَتَنَّا سُلَیْمٰنَ وَ اَلْقَیْنَا عَلٰى كُرْسِیِّهٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ Open ayah 38:34 in the Quran reader

اور ہم نے سلیمان کی آزمائش کی اور ان کے تخت پر ایک دھڑ ڈال دیا پھر انہوں نے (خدا کی طرف) رجوع کیا

قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَهَبْ لِیْ مُلْكًا لَّا یَنْۢبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ Open ayah 38:35 in the Quran reader

(اور) دعا کی اے پروردگار مجھے مغفرت کر اور مجھ کو ایسی بادشاہی عطا فرما کہ میرے بعد کسی کو شایان نہ ہو بیشک تو بڑا عطا فرمانے والا ہے

فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّیْحَ تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖ رُخَآءً حَیْثُ اَصَابَۙ Open ayah 38:36 in the Quran reader

پھر ہم نے ہوا کو ان کے زیر فرمان کردیا کہ جہاں وہ پہنچنا چاہتے ان کے حکم سے نرم نرم چلنے لگتی

وَ الشَّیٰطِیْنَ كُلَّ بَنَّآءٍ وَّ غَوَّاصٍۙ Open ayah 38:37 in the Quran reader

اور دیووں کو بھی (ان کے زیر فرمان کیا) وہ سب عمارتیں بنانے والے اور غوطہ مارنے والے تھے

وَّ اٰخَرِیْنَ مُقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِ Open ayah 38:38 in the Quran reader

اور اوروں کو بھی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے

هٰذَا عَطَآؤُنَا فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِكْ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 38:39 in the Quran reader

(ہم نے کہا) یہ ہماری بخشش ہے (چاہو) تو احسان کرو (چاہو تو) رکھ چھوڑو (تم سے کچھ) حساب نہیں ہے

وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ۠ Open ayah 38:40 in the Quran reader

اور بیشک ان کے لئے ہمارے ہاں قرب اور عمدہ مقام ہے

قصہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) وبیان انابت الی اللہ مع حکومت وسلطنت وجملہ انعامات دنیویہ : قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” ووھبنا لداؤد سلیمن ....... الی ...... وحسن ماب “۔ گذشتہ آیات میں حضرت داؤد (علیہ السلام) کا واقعہ اور انکو دین ودنیا کی نعمتوں اور حق تعالیٰ کی طرف سے خلافت فی الارض کے اعزاز سے نوازے جانے کا ذکر تھا اس ضمن میں خلافت الہیہ کا مقصد اس کی ذمہ داریوں اور ذمہ داریوں کی تکمیل میں جو چیزیں حائل ہوتی ہیں ان کا بیان کرکے تخلیق کائنات کی حکمت کا ذکر تھا اور یہ کہ نیک وبد کا انجام یوم حساب میں سامنے آکر رہے گا اب اس آیات میں داؤد (علیہ السلام) کے فرزند حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا واقعہ بیان فرمایا جارہا ہے جو نبوت وسلطنت اور جملہ کمالات علمیہ وعملیہ کا حامل ہے حق تعالیٰ کے انعامات میں سے ایک عظیم انعام ہے اس سے بڑھ کر کسی پر کیا انعام ہوسکتا ہے کہ اس کو سلیمان (علیہ السلام) جیسا فرزند نصیب ہوا اور خود سلیمان (علیہ السلام) کا کس قدر عظیم رتبہ ہے کہ انکو دین ودنیا کے ہر اعزاز اور ہر طرح کی نعمت دونوں ہی کمالات و فضائل میں عجیب بلند مقام رکھنے والے تھے (آیت) ” ذلک فضل اللہ یؤتیہ من یشآء “۔ چناچہ ارشاد فرمایا اور عطا کیا ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو سلیمان جیسا فرزند کیا ہی اچھے بندے تھے کہ خدا کی عبودیت و بندگی ان کی زندگی کا ذوق بنی ہوئی تھی بیشک وہ خد کی طرف بڑے ہی رجوع ہونے والے تھے چناچہ ان کا وہ قصہ ایک یادگار اور قابل ذکر قصہ ہے جب کہ ایک روز۔ 1 حاشیہ نمبر 1 (العشی لغت میں زوال کے بعد سے غروب تک وقت کے لیے اطلاق کیا جاتا ہے۔ شام کے وقت انکے سامنے اصیل اور عمدہ۔ 2 حاشیہ نمبر 2 (صافنات جمع صافن کی ہے بعض ائمہ لغت صافن بمعنی واقف بایں معنی عمدہ گھوڑے پر اطلاق کرتے ہیں کہ عمدہ گھوڑے اگلے قدم اٹھا کر پچھلے قدموں پر کھڑے ہوجاتے ہیں جو انکی انکی نجابت و عمدگی کی نشانی ہوتی ہے چناچہ ابو عبیدہ (رح) یہی بیان کرتے ہیں جہاد جمع جواد کی ہے تیز دوڑنے والے گھوڑے کو جواد کہتے ہیں بعض کا قول ہے کہ لمبی گردن کے گھوڑوں کو جیاد کہتے ہیں حافظ ابن کثیر (رح) (آیت ) ” حتی تو ارت بالحجاب “۔ کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ سلیمان (علیہ السلام) کا جہاد والے گھوڑوں کے ملاحظہ میں مشغول ہونا خود رحقیقت ایک عبادت تھا جس میں انہماک واشتغال سے نماز عصر کا فوت ہونا ایسا ہی ہوا جیسے آنحضرت ﷺ کے لئے غزوۂ احزاب میں پیش آیا تھا کہ سورج غروب ہوگیا اور نماز عصر نہ پڑھ سکے تو خدا کے پیغمبر سلیمان (علیہ السلام) کو یہ واقعہ غفلت سے الیعاذ باللہ۔ ہرگز نہیں پیش آیا بلکہ ایک عبادت میں انہماک واشتغال دوسری عبادت کے فوت ہونے کا ذریعہ بنا اس پر سلیمان (علیہ السلام) کے رنج وغصہ کی مثال آنحضرت ﷺ کے غزوۂ احزاب والے واقعہ میں وہ تھی جس کو حدیث نے بیان کیا کہ عمر فاروق ؓ آنحضرت ﷺ کے پاس آئے غروب شمس کے بعد اور کفار مکہ کو بددعائیں دیر ہے تھے کہ خدا ان کی ہلاک کرے یا رسول اللہ ﷺ میں عصر کی نماز نہ پڑھ سکا حتی کہ سورج غروب ہونے لگا آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ خدا کی قسم میں بھی نہیں پڑھ سکا اور آپ ﷺ نے یہ کلمات فرمائے ” ملأ اللہ بیوتھم وفی روایۃ بطونھم وقبورھم نارا حبسونا عن الصلوۃ الوسطی صلوۃ العصر : یعنی خدا تعالیٰ ان کے گھروں اور ان کی قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر سے روکے رکھا تو یہاں اس قصہ میں سلیمان (علیہ السلام) کا رنج وغم اور غصہ اس طرح ظاہر ہوا کہ ان گھوڑوں کی کونچیں کاٹنے لگے یہی تفسیر اکثر ائمہ مفسرین نے اختیار کی ہے حافظ ابن کثیر (رح) (آیت ) ” وطفق مسحا “۔ کا ایک مفہوم بروایت علی عبد اللہ بن عباس ؓ سے یہ نقل کیا ہے کہ ان گھوڑوں کی گردنوں اور پنڈلیوں پر ہاتھ پھیرنے لگے جذبہ محبت اور مسرت کے ساتھ لیکن جمہور مفسرین نے اس تفسیر کو پسند نہیں فرمایا راجح قول یہی ہے کہ غم وغصہ میں ان کی گردنیں اور پنڈلیاں کاٹنے لگے۔ 12۔ ) تیز رو گھوڑے بغرض جہاد پیش کئے گئے اور ان کے دیکھنے میں اس قدر غالب تھا کہ اس امر کا خیال نہ رہا کہ وقت نکلا جارہا ہے اور ہیبت و جلال کے باعث کسی خادم کو اس بات کی جرأت نہ ہوئی کہ مطلع یا متوجہ کردے جونہی وقت کے فوت ہونے پر تنبہ ہوا تو چونک کر کہنے لگے افسوس میں تو مال کی محبت میں لگ کر اپنے رب کی یاد سے یعنی نماز ومعمول سے غافل ہوگیا یہاں کہ آفتاب پردہ میں چھپ گیا اور میری عصر کی نماز فوت ہوگئی اگرچہ جہاد کی تیاری اور جہاد کے لئے گھوڑوں کا معائنہ بھی عبادت ہے لیکن ایمان کے بعد نماز سے اور فرائض سے بڑھ کر کوئی عبادت نہیں اس وجہ سے نماز کے فوت ہونے کا دل پر بےصدمہ ہوا اور اس رنج و صدمہ کی کیفیت میں خدام کو حکم دیا کہ ان گھوڑوں کو میرے سامنے پھر آؤ چناچہ جب وہ لائے گئے تو ان گھوڑوں کی پنڈلیوں اور گردنوں پر تلوار سے ہاتھ صاف کرنا شروع کردیا یعنی اس ملال ورنج اور غصہ کی کیفیت میں سب کو ذبح کرنا شروع کردیا اگر یہ مال کی محبت نہ تھی بلکہ جذبہ جہاد کے باعث تھا مگر صورت ایسی واقع ہوگئی کہ اس کا یہ اثر ہوا خواص اور مقربین کی یہی شان ہوتی ہے کہ اگر بال برابر بھی فرق ہوجائے تو غم اور فکر و پریشانی کی حد نہیں رہتی۔ گرز باغ دل خلالے کم بود، بردل سالک ہزاراں غم بود۔ یہ بات ایسی ہی ہوتی ہے جس طرح ایک صحابی کو نماز میں اپنے باغ کا خیال آیا تو سلام پھیرتے ہی اس کو اللہ کی راہ میں صدقہ کردیا گیا گویا سلیمان (علیہ السلام) نے انکی اللہ کی راہ میں قربنی کر ڈالی اور ہوسکتا ہے کہ اس زمانہ میں گھوڑے کا گوشت حلال ہو یا اسکی قربانی درست ہو یا یہ عمل شدت غضب میں واقع ہوا ہو بہرکیف حضرت سلیمان (علیہ السلام) جیسے برگزیدہ پیغمبر کی غیرت ایمانی نے اس بات پر ان کو آمادہ کیا کہ جس مال کے معاینہ میں نماز ضائع ہوئی اور وہ مال ذکر خداوندی سے غفلت کا سبب بنا اس کو اس طرح ختم کردیا جائے یہ ایمانی غیرت اور ذکر خدا کی محبت کا یہ جوش اور غلبہ یقیناً قابل مدح واقعہ تھا اس وجہ سے اس واقعہ کو اس عنوان سے ذکر فرمایا گیا (آیت ) ” نعم العبد انہ اواب “۔ کہ کیا ہی اچھے بندے تھے کہ کیسے اللہ کی طرف انابت ورجوع والے تھے شوق جہاد اور جذبہ اعلاء کلمۃ اللہ اور قہر اعداء اللہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی عظیم منقبت اور فضیلت کا قصہ تو تھا ہی اسی کے ساتھ ایک دوسرا قصہ بھی ذکر فرمادیا گیا جو انکے ایک ابتلاء وآزمائش کا تھا اور وہ بھی اسی طرح ان کی عظمت وفضیلت کی ایک عظیم نشانی ہے اور یہ دونوں قصے انکے صبر و استقامت کا کامل ترجمانی کرنے والے ہیں اس لحاظ سے گویا داؤد (علیہ السلام) کا جو ایک خاص رنگ (آیت) ” واصبر علی مایقولون “۔ کا تھا وہ اس وراثت نسبی کے ساتھ سلیمان (علیہ السلام) کو بطور وارثت کمالات نبوت کے عطا کردیا گیا۔ فرمایا اور بیشک ہم نے سلیمان (علیہ السلام) کو ایک اور طرح سے بھی آزمایا اور ان کے تخت پر لا ڈالاایک ناتمام دھڑ جس سے وہ سمجھ گئے اور متنبہ ہوئے کہ یہ تو میرا امتحان کیا گیا اور اسی ندامت و پریشانی کی حالت میں پھر ہماری طرف رجوع کیا اور تضرع وزاری کے ساتھ بارگاہ خداوندی میں دعا مانگنے لگے کہ میرے پروردگار میرا قصور معاف کردیجئے جو ہم سے واقع ہوا اور آیندہ کے لئے مجھ کو ایسی سلطنت عطا کر دیجئے جو میرے بعد کسی کو لائق وزیبا نہ ہو بیشک تو ہی بڑا دینے والا ہے کہ جو چاہے عطا فرما دے تیری بارگاہ میں نہ دعا کی قبولیت کوئی دشوار کام ہے اور نہ وہ چیز عطا کرنا دشوار ہے جو مانگی ہے پس ہم نے ان کی دعا قبول کرتے ہوئے تابع کردیا ان کے ہوا کو وہ چلتی نرمی کے ساتھ جہاں وہ جانا چاہتے تو اس نعمت سے گھوڑوں سے مستغنی ہوگئے جن میں وہ جذبہ جہاد کی وجہ سے مصروف ومنہمک ہوئے تھے اور اس انہماک واشتغال میں نماز کا وقت فوت ہوگیا تھا اور اس کے بعد رنج وغصہ میں ان کی کونچیں کاٹ ڈالی تھیں اور جنات و شیاطین کو بھی ان کے واسطے مسخر کردیا جو ہر عمارت بنانے والے اور سمندروں میں غوطہ لگانے والے تھے کہ سلیمان (علیہ السلام) کا حکم پاتے ہی بڑی سے بڑی عمارتیں بنا ڈالیں اور سمندروں میں گھس کر ان کا حکم بجالائیں اور بہت سے اور ایسے جن بھی ان کے واسطے مسخر کردیئے جو زنجیروں میں جکڑے رہئے جو ان میں سے بعضوں کے تمرد اور سرکشی کی سزا بھی ہوئی یہ سب کچھ دے کر ہم نے سلیمان (علیہ السلام) سے کہہ دیا تھا اے سلیمان (علیہ السلام) یہ ہے ہماری عطا کو ہوائیں اور جن بھی تمہارے تابع کردیئے گئے جو دنیا کے کسی بھی بڑے سے بڑے بادشاہ کو حاصل نہیں ہوسکی اب تم جس کو چاہو اس میں سے دو یا جس سے چاہو روک لو بغیر اس کے کہ تم سے اس کا کوئی حساب وسوال ہو اور بیشک ان تمام نعمتوں کے علاوہ سلیمان (علیہ السلام) کے لئے ہمارے یہاں ایک خاص قرب کا مقام اور بہترین ٹھکانہ ہے جو قیامت کے روز ظاہر ہوگا اور اس مقام قرب اور اخروی نعمتوں کے سامنے ظاہر ہے کہ یہ ملک سلیمانی بھی اور دنیا میں حاصل شدہ نعمتیں ہیچ اور حقیر ہیں کیونکہ دنیا کی بڑی سے بڑی نعمت بھی آخرت کی معمولی نعمت کے مقابلہ میں کوئی حقیقت نہیں رکھتی (آیت ) ” تو ارت بالحجاب “۔ کا عنوان اس بات کی صراحت کر رہا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے اس معاینہ کے وقت اتنا وقت گزرا کہ سورج غروب ہوچکا تھا اس کے بعد سورج کے دوبارہ طلوع ہوجانے کا بعض مفسرین نے ذکر کیا ہے لیکن کسی سند سے اس کا ثبوت نہیں بعض مفسرین نے بیان کیا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے سورج کو لوٹایا جانا ایسا ہی تھا جیسا حضرت یوشع (علیہ السلام) کے لئے لوٹایا گیا اسماء بنت عمیس ؓ کی روایت میں آنحضرت ﷺ کے لیے بھی نماز عصر فوت ہوجانے کے بعد سورج لوٹانے کا ذکر ہے مقام صہبا میں جو خیبر کے قریب ایک جگہ ہے ابن الجوزی (رح) نے اس کو موضوعات میں شمار کیا ہے حافظ ابن تیمیہ (رح) نے بھی اس روایت کو رد کیا اور بیان کیا کہ یہ روایت روافض کی وضع کردہ حدیث ہے غزوۂ احزاب میں آنحضرت ﷺ کی نماز عصر فوت ہوجانا احادیث صحیحہ سے ثابت ہے جیسا کہ ارشاد ہے ملأ اللہ تعالیٰ قبورھم وبطونھم نارا شغلونا عن الصلوۃ الوسطی صلوۃ العصر رد شمس غزوۂ احزاب میں بھی ثابت نہیں صحیحین میں حضرت جابر ؓ کی روایت میں تصریح ہے آنحضرت ﷺ اور صحابہ ؓ نے یہ نماز غروب کے بعد ادا کی۔ بہرحال حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے قصہ میں سورج کی واپسی کا واقعہ صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے تفصیل کیلئے تفسیر ابن کثیر (رح) اور تفسیر روح المعانی ملاحظہ فرمائیں۔ تفصیل ابتلاء سلیمان (علیہ السلام) : ان آیات میں ابتداء حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی فضیلت ومنقبت اس طرح بیان کی گئی کہ حق تعالیٰ نے انکو حضرت داؤد (علیہ السلام) کی وراثت سے نوازا اور ظاہر ہے کہ حق تعالیٰ نے داؤد (علیہ السلام) کو کمالات نبوت اور علم وفضل تقوی اور انابت الی اللہ کی جو عظیم خصوصیات عطا کی تھیں ان ہی میں وراثت دنیا مراد ہوسکتا ہے ان کمالات کے ساتھ جو انعام خلافت وسلطنت کا داؤد (علیہ السلام) کو عطا کیا گیا تھا ظاہر ہے کہ انعام کی اس دوسری نوع میں سلیمان (علیہ السلام) کو داؤد (علیہ السلام) کی وارثت سے نوازنا مراد ہے تو اس سلسلہ میں پہلے ان کی یہ فضیلت بیان کی گئی کہ شوق جہاد میں اس قدر انہماک تھا کہ گھوڑوں کا معاینہ کررہے ہیں مگر ساتھ ہی شوق عبادت کا یہ مقام ہے کہ اگر اس میں اشتغال وانہماک سے نماز ضائع ہوگئی تو ان گھوڑوں کی کونچیں کاٹنے لگے جن کی وجہ سے یہ بات پیش آئی انبیاء (علیہم السلام) کے لیے ایسا کوئی واقعہ جس کے باعث کسی بھی حیثیت سے کوئی چیز ان کے بلند ترین مقام سے کچھ کم ہو یا انکے خشیت وتقوی کے مدارج سے گری ہوئی ہو وہ چیز ایک طرح سے ابتلاء کا درجہ رکھتی ہے اگرچہ نہ وہ نقصیر ہوئی ہے اور نہ کچھ امر اور حکم کا ترک یا خلاف ورزی ہوتی ہے لیکن بایں ہمہ وہ واقعہ ان کی عظمتوں اور کمالات کی مزید بلندی کا باعث ہوتا ہے اسی طرح یہ بات بھی تھی تو اس واقعہ کے ساتھ دوسرا ایک واقعہ بھی بیان فرما دیا گیا جس کو (آیت ) ” ولقد فتنا سلیمان والقینا علی کرسیہ جسدا “ سے ذکر فرمایا گیا۔ سلیمان (علیہ السلام) کا یہ ابتلاء کیا تھا اور وہ کون سا واقعہ تھا جس کو ابتلاء کے عنوان سے یہاں بیان کی جارہا ہے، قرآن کریم نے تو اس کی کوئی وضاحت و تفصیل نہیں کی اور نہ کسی صحیح اور نہ کسی صحیح حدیث میں خاص طور سے اس ابتلاء کو معین وواضح کیا گیا۔ بالعموم اس سلسلہ میں جو قصے مشہور ہیں وہ قطعا باطل اور لغو ہیں اور حضرت داؤد (علیہ السلام) کے ابتلاء کے واقعہ کی طرح یہ قصے بھی اسرائیلیات سے ماخوذ ہیں جن کو یہودیوں نے وضع کیا اور من گھڑت افسانوں اور کہانیوں سے زیادہ ہرگز کوئی درجہ نہیں رکھتے حافظ ابن کثیر (رح) اور علامہ آلوسی (رح) نے ان اکاذیب باطلہ میں سے بعض کو بیان کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ایک روز جب بیت الخلاء جانے کا ارادہ کیا تو وہ انگشتری جس پر اسم اعظم لکھا ہوا تھا اپنی ایک بیوی جو ان کی بیویوں میں ان کو زیادہ محبوب اور معتمد تھی دے گئے یا اپنی کسی خادمہ کو اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی حکومت جن وانس پر اسی انگشتری اور اس پر اسم اعظم کی وجہ سے تھی انکے بیت الخلاء جانے کے بعد کوئی شیطان یا ایک جنی صخر نامی سلیمان (علیہ السلام) کی شکل میں ظاہر ہوا اور وہ انگوٹھی لے چلا گیا اور تخت سلیمان پر جا بیٹھا اور حکمرانی شروع کردی اور اس طرح سلیمان (علیہ السلام) کی سلطنت اور نبوت دونوں چیزیں ختم ہوگئیں سلیمان (علیہ السلام) جب فارغ ہو کر واپس آئے اور اپنی انگوٹھی مانگی تو اس سے کہا میں تو سلیمان (علیہ السلام) کو وہ انگشتری دے چکی تو یا سلیمان (علیہ السلام) کی شکل و صورت بھی متغیر ہوگئی اور ان کی بیوی نے اب ان کو پہنچانا بھی نہیں تو سلیمان (علیہ السلام) بولے میں ہی تو سلیمان (علیہ السلام) ہوں بیوی نے کہا تم غلط کہتے ہو تم ہرگز سلیمان (علیہ السلام) نہیں ہو اسی طرح جس کسی شخص کے سامنے سلیمان (علیہ السلام) جاتے وہ نہ پہچانتا کہ یہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) ہیں اور انکی سلطنت وحکمرانی سب ختم ہوگئی اور انکے تخت پر یہ جنی آبیٹھا ان قصہ نگاروں نے بیان کیا کہ اسی کو الفاظ (آیت ) ” والقینا علی کرسیہ جسدا “۔ میں بیان کیا گیا ہے اور یہی وہ فتنہ ہے جس میں انکو مبتلا کیا گیا ان احوال کو دیکھ کر سلیمان (علیہ السلام) بہت گھبرائے اور دعا و استغفار اور تضرع وزاری کے ساتھ اللہ رب العزت کی طرف متوجہ ہوئے اسی توجہ کو (آیت) ” ثم اناب “ میں بیان کیا جارہا ہے چالیس روز کی مدت اسی طرح گزر گئی یہاں تک کہ ایک روز سمندر کے کنارے جب کہ سلیمان (علیہ السلام) مزدور کے طور پر وہاں کام کررہے تھے اور ایک شخص نے مچھلی خریدی تھی جس کو اٹھا کر اس کے گھر تک لے جارہے تھے تو اس نے وہی مچھلی بطور اجرت حمالی ان کو دے دی انہوں نے جب اس مچھلی کو چیرا تو اس کے پیٹ سے وہ انگشتری نکل آتی اور یہ مچھلی وہ تھی جس نے اس دیو کے ہاتھ سلیمان (علیہ السلام) کی انگشتری جب سمندر میں گرگئی تھی اس کو نگل لیا تھا تو وہ انگشتری سلیمان (علیہ السلام) کے پاس آتے ہی پھر حسب سابق ان کی سلطنت لوٹ آئی اور جن وانس ان کے مطیع ہوگئے اور سلطنت کے ساتھ نبوت کے احکام بھی جاری کرنے لگے ” العیاذ باللہ ثم العیاذ باللہ۔ یہ تمام داستان اور یاہ کے قصہ کی طرح بےہودہ لغو اور یہودیوں کی گھڑی ہوئی داستان ہے ان ہی یہودیوں کی جو سلیمان (علیہ السلام) کے بارے میں یہ مشہور کرتے تھے کہ وہ ساحر (جادوگر) ہیں جس کی تردید قرآن کریم نے (آیت) ” وما کفر سلیمان ولکن الشیطین کفروا یعلمون الناس السحر “۔ میں کی ہے کہ یہود خود سحر اور جادو جیسے کفر یہ عمل کرتے اور دوسروں کو بھی جادو سکھایا کرتے تھے سلیمان (علیہ السلام) تو ہز گز ایسے کفر کا ارتکاب نہیں کرسکتے تھے یہ قصہ یا اس طرح کے دوسرے مختلف بیان کردہ قصے نہ عقلا قابل تصور ہیں اور نہ ہی اصول شریعت سے ان کا امکان ہے بلکہ انبیاء (علیہم السلام) کے بارے میں ایسی چیزوں کا اعتقاد کفر ہے کیونکہ انبیاء معصوم ہوتے ہیں اور ان کی عصمت و حفاظت لازمہ نبوت ہے اور نبوت اللہ کی عطا کردہ ہوتی ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ رب العزت کی عطا کردہ نبوت اور ایسے نبی کو اللہ ہی کی طرف سے عطا کردہ سلطنت کوئی جن سلیمان (علیہ السلام) کی شکل بنا کر درہم برہم کرڈالے اور صرف اتنی دیر میں کہ وہ بیت الخلاء گئے اور وہ دیو آکر تخت سلیمانی پر حکمرانی کرنے لگے کسی جن اور شیطان کو یہ قدرت ہی نہیں ہوسکتی کہ وہ پیغمبر کی شکل میں متشکل ہو کر لوگوں کو دھوکہ دے دے۔ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے ” من رانی فی المنام فقد رانی فان الشیطان لایتمثل بی “۔ کہ جس کسی نے مجھے خواب میں دیکھا تو اس نے درحقیقت مجھے ہی دیکھا کیونکہ شیطان کو یہ قدرت نہیں کہ میری شکل بنا کر خواب میں کسی کے سامنے آجائے تو اس حدیث سے ظاہر ہوا کہ مقام نبوت کی عظمت وبلندی کا تو یہ عالم ہے کہ خواب میں بھی کسی مسلمان کے سامنے کوئی جن یا شیطان پیغمبر کی صورت بنا کر ظاہر نہیں ہوسکتا تو یہ کیونکر ممکن ہے کہ ایک دیو سلیمان (علیہ السلام) کی شکل بنا کر آگیا اور ایک آن میں سلیمان (علیہ السلام) کا تخت سلطنت اور کارہائے نبوت پر قابض ہوگیا۔ سلیمان (علیہ السلام) کے ابتلأ کی حقیقت : سلیمان کے اس ابتلاء کی حقیقت اور اس قصہ کی اصل تفسیر وتشریح صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی اس حدیث سے جو ابوہریرہ ؓ سے روایت سے معلوم ہوتی ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) نے (جو جذبہ جہاد میں سرشار تھے اور اسی جذبہ میں گھوڑوں کا معاینہ بھی کررہے تھے جس میں سورج غروب ہوگیا تھا اور نماز فوت ہوگئی تھی) ایک روز یہ کہا کہ میں آج رات اپنی بیویوں پر گشت کروں گا جن کی تعداد سو تھی اور اس قربت کی وجہ سے ہر ایک عورت بچہ جنے گی اور ہر بچہ جوان ہو کر اللہ کی راہ میں مجاہد بنے گا فرشتہ نے ان کے اس کہنے کے وقت القاء کیا کہ انشاء اللہ کہہ لو مگر سلیمان (علیہ السلام) انشاء اللہ کہنا بھول گئے مقربین کا مقام اس قدر بلند ہوتا ہے کہ ان کی ایسی لغزش اور چوک بھی اللہ کی طرف سے باعث تنبیہ و گرفت ہوجاتی ہے تو اس چوک پر اس طرح متنبہ کیا گیا کہ کوئی بھی ان میں سے حاملہ نہ ہوئی بجز ایک کے اور اس ایک حاملہ بیوی نے بھی جو بچہ جنا وہ بھی ادھورا ناتمام تھا بغیر ہاتھ پاؤں کا یہ جسم (دھڑ) تخت پر لاڈالا گیا اسی کو فرمایا گیا (آیت ) ” والقینا علی کرسیہ جسدا “ کہ ہم نے سلیمان (علیہ السلام) کے تخت پر ایک ناتمام جسم (جسد) لاکر ڈال دیا فورا ہی چونک گئے اور سمجھ گئے کہ یہ میری اس چوک پر گرفت اور تنبیہ ہوئی ہے کہ میں نے انشاء اللہ نہیں کہا تھا حالانکہ پیغمبر کا مقام تو بہت عالی اور بلند ہوتا ہے ہر ایمان رکھنے والے شخص کو بھی ہر بات اللہ ہی کی قدرت اور اس کے ارادہ کی طرف حوالہ کرنی چاہیے اور یہ اعتقاد باطن میں ایسا راسخ ہونا چاہئے کہ کسی کام میں بھی اس بات کے تلفظ کو بھی فراموش نہ کرے تو سلیمان (علیہ السلام) فورا ہی متنبہ ہو کر خدا کی طرف استغفار کے ساتھ رجوع ہوئے اور بےقراری کے عالم میں زبان سے یہ دعا نکلی۔ (آیت ) ” رب ھب لی ملکا لا ینبغی لاحد من بعدی انک انت الوھاب “۔ اے پروردگار تو مجھے ایک ایسا ملک (سلطنت) عطا فرما دے جو میرے بعد کسی کو نصیب نہ ہوتا کہ نہ گھوڑوں کے معاینہ کی فکر رہے اور نہ ایسا واقعہ پیش آئے کہ ان کے معاینہ میں نماز فوت ہوجائے اور نہ ہی جذبہ جہاد میں مجاہد بیٹوں کا شوق رہے کہ اس میں کسی چوک ولغزش میں مبتلا ہوجاؤں بلکہ ایسی بادشاہی طاقت وقدرت عطا کر دے کہ ان تمام اسباب ووسائل اور ان کی فکر و تشویش سے بےنیاز ہوجاؤں تو جذبہ اخلاص وانابت سے کی ہوئی یہ دعا بارگاہ رب العزت سے قبول کی گئی اور اس قبولیت کے باعث (آیت) ” فسخرنا لہ الریح “۔ الخ ہوائیں انکے تابع کردی گئیں کہ جہاں چاہیں، ہوا ان کو پہنچا دے اب ان کو گھوڑوں کی ضرورت نہ رہی سلیمان (علیہ السلام) کو فکر لگی ہوئی تھی کہ برق رفتار گھوڑوں کو مرتب کریں اس سے بڑھ کر خدا نے ان پر یہ انعام فرمایا کہ ہوا بھی ان کے واسطے مسخر کردی گئی کہ ہوائیں ان کو اڑائے پھرتیں۔ اور مجاہدین کا شوق اور جذبہ تھا کہ ہر بیوی ایک لڑکا جنے جو اللہ کی راہ میں مجاہد ہو سو اس شوق اور آرزو کی تکمیل اس طرح کی دی کہ شیاطین وجنات کو ان کے واسطے مسخر کردیا یعنی ہر عمارت بنانے والے اور غوطہ لگانے والے کو ان کے حکم کے تابع کردیا جو بڑی سے بڑی عمارتیں اور قلعے تیار کرلیں اور سمندروں میں بھی کود پڑیں اس لیے اب ایسی فوج عطا ہونے کے بعد اس آرزو اور جستجو کی ضرورت نہ رہی کہ اولاد کی ولادت سے مجاہدین کی جماعت تیار ہو۔ اور بہت سے دوسرے جنوں کو بھی ان کے واسطے مسخر کردیا جو زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے یعنی جنات میں وہ جماعت جو مقاصد حسنہ اور دینی کاموں میں کام آنے والی تھی وہ تو ان کے حکم کے مطابق خدمات میں مصروف کردیئے گئے اور جنات سے جو سرکش ومفسد تھے ان کو زنجیروں میں جکڑ کر قید کردیا گیا تھا تاکہ وہ کسی قسم کا تمرد اور سرکشی نہ کرسکیں یہ سب کچھ عطا کرنے کے بعد ہم نے سلیمان (علیہ السلام) سے کہہ دیا کہ اے سلیمان یہ ہے ہماری عطا اور سلطنت وحکمرانی جو تم کو دی ہے اب اس میں تم جس کو چاہو دو یا جس سے چاہو روک لو تمہیں ان سب چیزوں کا حق اور اختیار دیا جارہا ہے جس کا تم سے کوئی حساب نہیں نہ دنیا میں اس پر کوئی محاسبہ ہوسکے گا کہ کسی کی ماتحتی کے باعث کوئی تم سے محاسبہ یا کسی چیز پر مواخذہ کرسکے اور نہ آخرت میں اس کا کوئی حساب ہوگا کیونکہ ان سب نعمتوں کا تم کو مالک بنادیا گیا اور مالک اپنی ملکیت میں ہر طرح تصرف کا مجاز ہے اور بلاشبہ سلیمان (علیہ السلام) کے لئے ہمارے یہاں بہت بڑا قرب کا مقام اور بہترین ٹھکانہ ہے کہ دنیا میں ان نعمتوں سے نوازا گیا اور آخرت میں قرب خاص عطا کیا گیا۔ غرض ان آیات میں جو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے قصہ پر مشتمل ہیں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی فضیلت چند وجوہ سے بیان فرمائی گئی سب سے پہلے تو یہ کہ داؤد (علیہ السلام) جیسے جلیل القدر پیغمبر کو ایسے بہترین فرزند کی عطا سے نوازا گیا جو اپنی ذات میں بڑی ہی خوبیوں والے تھے ان کا نشان اور زندگی کا شعار خدا کی طرف رجوع وانابت تھا خدا کی طرف انابت ورجوع کی کی یہ شان تھی کہ ہمہ وقت اللہ کے دین کی اشاعت وسربلندی کی فکر تھی اعلاء کلمتہ اللہ کے لیے جہاد کی فکر ہے اس میں گھوڑوں کا معاینہ ہورہا ہے اس انہماک میں نماز کا وقت نکل جاتا ہے تو غم وغصہ سے ان گھوڑوں کی کونچیں ہی کاٹی جارہی ہیں اسباب جہاد کی فکر کے ساتھ کبھی مجاہدین کا فکر ہے اور اس جذبہ میں کبھی یہ سوچتے ہیں کہ میری تمام بیویوں کی قربت سے اولاد پیدا ہو تو سب اللہ کی راہ میں شہسوار ومجاہد بنیں اسی انہماک میں ” انشاء اللہ “ کہنے کا خیال نہیں رہا تو مقام نبوت کی عظمت و بلندی کے پیش نظریہ کچھ گری ہوئی بات تھی فورا ہی اس طرح متنبہ کیا گیا کہ صرف ایک ہی بیوی سے ناتمام بچہ پیدا ہوا جس کو ان کے سامنے تخت پر لاکرڈال دیا گیا فورا ہی چونکے اور تضرع دزاری سے اللہ سے دعائیں مانگنے لگے کہ اے اللہ میرا یہ قصور معاف کردے اور جن جذبات کے باعث یہ بات واقع ہوئی اس کے پیش نظر دہ ملک وسلطنت عطا فرمادے جو میرے بعد کسی کو نصیب نہ ہو تو اسکی قبولیت میں ان کے لیے ہوائیں مسخر کردی گئیں جن کے مقابلہ میں گھوڑوں کی کوئی حقیقت نہیں اور جنات مسخر کردئیے گئے کہ ان کے سامنے سو مجاہد انسانوں کی کوئی طاقت نہیں۔ تو ان آیات کی یہ تفسیر حدیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی بنا پر الحمد للہ وہ تفسیر ہے جس کی بنا پر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی وہ عظمت بھی ظاہر ہوجاتی ہے جو داؤد (علیہ السلام) کو سلیمان (علیہ السلام) جیسا فرزند ہبہ کیئے جانے کے باعث ہے پھر یہ کہ انکا شوق جہاد اور اعلاء کلمۃ اللہ کا جذبہ کس قدر بلند تھا اور اسی جذبہ کے باعث ایک ابتلاء وآزمائش بھی پیش آگئی جس سے ان کا مزید انابت الی اللہ کا درجہ معلوم ہوگیا اور ان ہی عظمتوں، فضیلتوں کا یہ نتیجہ وثمرہ ہوا کہ ان کے واسطے ہوائیں اور جنات مسخر کردیئے تو ان تمام وجوہ فضائل کے ساتھ ان واقعات کے اجزاء میں باہمی ربط ومناسبت بھی بخوبی ظاہر ہوجائے گی برخلاف من گھڑت ان واقعات اور کہانیوں کے جن کا عقلا اور شرعا خدا کے برگزیدہ پیغمبروں سے ہرگز کوئی تعلق نہیں ہوسکتا اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ یہ دعا دنیا کی کسی نعمت یا سلطنت وجاہ کی طلب نہ تھی بلکہ یہ صرف اس غرض سے تھی کہ جتنے بھی آدمی میری دعوت وتبلیغ سے دین میں داخل ہوں گے وہ میرے اجر وثواب کا ذریعہ ہوگا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی دعاء رب ھب لی الخ : انبیاء (علیہم السلام) کے احوال وخصا ئص جو قرآن کریم اور نصوص شریعت سے واضح ہوتے ہیں ان سے یہ بات ثابت ہے کہ انبیاء کرام جو چیز مانگتے ہیں وہ خدا کی اجازت اور اس کی منشاء معلوم ہونے پر مانگتے ہیں اس امر کا ثبوت نہیں ملتا کہ بغیر اذن خداوندی کسی چیز کی درخواست کرتے ہوں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے جو دعا (آیت) ” رب لا تذر علی الارض من الکفرین دیارا “۔ مانگی تھی وہ اگرچہ عین منشاء خداوندی کے مطابق تھی اور مجرمین وباغیوں کی عذاب خداوندی سے سرکوبی جو عین حکمت الہیہ ہے اسی کی ترجمان تھی مگر صرف اس وجہ سے کہ صریح طور پر ایسی دعا کی وحی نہیں آئی تھی تو مدت العمر اس پر نادم رہے اور یہ ندامت روز قیامت تک ایسی باقی رہے گی کہ اس کے باعث بارگاہ خداوندی میں شفاعت کرنے سے شرمائیں گے اس لیے ظاہر یہی ہے کہ غیبی طور سے اللہ نے انکے قلب پر اس بات پر مطمئن کردیا ہو کہ اے سلیمان (علیہ السلام) اگر تو تم یہ دعا مانگو تو تمہاری یہ دعا قبول کرلی جائے گی لہذا انہوں نے یہ دعا کی اور وہ بارگاہ رب العزت سے قبول کرلی گئی اس درخواست کو محض قبولیت کے درجہ میں نہیں بیان کیا گیا بلکہ سلیمان (علیہ السلام) کی مدح وثناء کے طور پر بیان کیا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے وقت میں بڑے بڑے جبار اور متکبر بادشاہ تھے اور حق تعالیٰ کی سنت یہی ہے کہ پیغمبر جس زمانہ میں مبعوث ہوا اس کی مناسبت سے عصا اور ید بیضاء کا معجزہ دیا گیا تو اس لحاظ سے سلیمان (علیہ السلام) کو یہ سلطنت عطا کی جو درحقیقت معجزہ تھی اس سے مقصود سلطنت وبادشاہت نہیں بلکہ تبلیغ دین اور مخلوق خدا کی اصلاح وہدایت تھی یہی وجہ ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اپنے آپ کو مسکین کہا کرتے تھے تاریخی روایات سے یہ بھی ثابت ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) اپنی ذات کے لیے سلطنت وبادشاہت سے کسی ادنی درجہ کا بھی انتفاع نہ کرتے حتی کہ ان کا گزران معاش زنبیل سازی بیان کی گئی گویا مزدوری کرکے اپنا کفاف مہیا کرتے۔ فائدہ : انسان فطری طور سے کمزور واقع ہوا ہے اکثر نعمتوں اور راحتوں میں یاد خدا سے کچھ نہ کچھ غفلت ہوجاتی ہے تو اس پہلو کے لحاظ سے بھی ان کو مطمئن کردیا گیا کہ سلیمان (علیہ السلام) کے واسطے ہمارے یہاں بہت ہی بلند واعلیٰ مقام قرب کا ہے اور اخروی انعامات سے اس قدر نوازا گیا کہ دنیوی نعمتیں اور سلطنت وبادشاہت کسی درجہ میں بھی حجاب یا غفلت کا سبب نہیں بن سکے گا ، حضرت والد صاحب مولانا محمد کاندھلوی (رح) کے قلم مبارک سے لکھی ہوئی ایک عبارت جو حکیم الامت مولانا تھانوی (رح) کے وعظ تعلیم العلم سے اقتباس ہے ملی دعا، (آیت) ” رب ھب لی ملکا لا ینبغی “۔ کی تفسیر میں فرمایا قولہ تعالیٰ (آیت ) ” رب ھب لی ملکا لا ینبغی لا حد من بعدی “۔ مولانا رومیرحمۃ اللہ علیہ اسکی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ظاہرا اس سے حرص وحسد کا شبہ ہوتا ہے مگر واقع میں یہ ضعفاء کے حق میں ہے انہوں نے اس دعا میں عین رحمت فرماتی جس کی توجیہ یہ ہے کہ (آیت) ” من بعدی “۔ میں بعد یت زمانیہ مراد نہیں بلکہ بعدیت رتبیہ مراد ہے مطلب یہ ہے کہ مجھ کو ایسا ملک عطا فرما کہ جو مجھ سے کم درجہ والوں کے لیے مناسب نہ ہو کیوں کہ وہ ایسی سلطنت مل جانے سے کفر اور تکبر میں مبتلا ہوجائیں گے اب اس تفسیر پر حضور ﷺ کے متعلق کچھ اشکال نہیں ہوسکتا کیونکہ آپ ﷺ سلیمان (علیہ السلام) کے اعتبار سے (آیت ) ” من معی “۔ بلکہ من قبلی ہیں یعنی آپ ﷺ تو نبوت اور رسالت میں ان کے ہم مرتبہ ہیں اور درجہ میں ان سے بھی افضل ہیں اور خاقانی کا یہ شعر : پس از سی سال ایں معنی محقق شدبخاقانی، کہ یک دم باخدا بودن بہ از ملک سلیمانی۔ اس سے سلیمان (علیہ السلام) کی توہین کا شبہ نہ کیا جائے، یہ اس شخص کے حق میں ہے کہ جہاں دولت اور سلطنت کے ساتھ باخدا بودن جمع نہ ہوسکے بخلاف حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے کہ انکی سلطنت اور مملکت باخدا بودن کے منافی نہ تھی باوجود اتنی عظیم سلطنت کے وہ ایک لمحہ کے لیے بھی خدا تعالیٰ سے غافل نہ تھے اتنہی المراد کذا فی تعظیم العلم ص 29۔ 30 وعظ ششم از سلسلہ تبلیغ۔
Ayahs 38:41–44

وَ اذْكُرْ عَبْدَنَاۤ اَیُّوْبَ١ۘ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّ عَذَابٍؕ Open ayah 38:41 in the Quran reader

اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کرو جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ (بار الہا) شیطان نے مجھ کو ایذا اور تکلیف دے رکھی ہے

اُرْكُضْ بِرِجْلِكَ١ۚ هٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ Open ayah 38:42 in the Quran reader

(ہم نے کہا زمین پر) لات مارو (دیکھو) یہ (چشمہ نکل آیا) نہانے کو ٹھنڈا اور پینے کو (شیریں )

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنَّا وَ ذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 38:43 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو اہل (و عیال) اور ان کے ساتھ ان کے برابر اور بخشے (یہ) ہماری طرف سے رحمت اور عقل والوں کے لئے نصیحت تھی

وَ خُذْ بِیَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّهٖ وَ لَا تَحْنَثْ١ؕ اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًا١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:44 in the Quran reader

اور اپنے ہاتھ جھاڑو لو اور اس سے مارو اور قسم نہ توڑو بیشک ہم نے ان کو ثابت قدم پایا بہت خوب بندے تھے بیشک وہ رجوع کرنے والے تھے

قصہ سوم حضرت ایوب (علیہ السلام) ومناجات ببارگاہ رب العالمین :۔ قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” واذکر عبدنا ایوب ...... الی ....... نعم العبد انہ اواب “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں سلیمان (علیہ السلام) کے ایک ابتلا وآزمائش کا ذکر تھا اب ان آیات میں حضرت ایوب (علیہ السلام) کا ایک قصہ بیان کیا جارہا ہے جس میں ان کے ابتلا اور آزمائش میں صبر و استقامت کا بیان ہے کہ اللہ کے برگزیدہ پیغمبر بیماری و تکلیف اور فقر وفاقہ میں بھی کیسے صابر رہے اور جب انہوں نے اپنے پروردگار کی طرف رجوع کیا تو کسی طرح رحمت خداوندی سے انکی تمام تکالیف دور کرکے انعامات اور رحمتوں سے نوازا گیا اس واقعہ کا ذکر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے واقعہ کے بعد شکر وصبر کا ارتباط رکھتا ہے وہ اللہ کے برگزیدہ ایسے شاکر بندے تھے کہ امم سابقہ میں ایک نمونہ نہیں ملتا تو ایوب (علیہ السلام) ایسے صابر بندے تھے کہ صبر ایوب (علیہ السلام) دنیا میں ایک معیار اور نمونہ کی حیثیت اختیار کرگیا۔ فرمایا اور یاد کرو ہمارے بندے ایوب کو کہ کیسے صابر تھے کہ طرح طرح کے امراض ومصائب اور مشقت وتنگی میں مبتلا ہوتے تو اس وقت اپنے پروردگار کو پکارا اور التجا کی کہ اے میرے پروردگار تحقیق شیطان نے مجھ کو بڑی ہی مشقت اور تکلیف پہنچاتی ہے اور تو ارحم الراحمین ہے مجھ کو شیطان کے شر اور فتنہ سے بچا تو ہم نے انکی دعا قبول کی اور حکم دیا کہ اپنا پاؤں زمین پر مارو چناچہ انہوں نے پاؤں زمین میں مارا تو ان کی شفاء اور تندرستی کا بطور خرق عادت اور معجزہ سامان پیدا کرنے کے لیے ایک چشمہ جاری کردیا گیا اور ان سے کہہ دیا گیا کہ یہ تمہارے واسطے نہانے کا پانی ہے ٹھنڈا اور پینے کے لئے بھی چناچہ اس پانی میں نہائے اور اس کو پیا جس سے بالکل تندرست ہوگئے اور عطا کیے ہم نے ان کو ان کے گھر والے جو حوادث میں ضائع ہوچکے تھے اور ان ہی کے برابر انہی جیسے اور عطا کیے ہم نے ان کو ان کے گھروالے جو حوادث میں ضائع ہوچکے تھے اور ان ہی کے برابر انہی جیسے اور عطا کیے محض اپنی طرف سے مہربانی کرتے ہوئے تاکہ مہربانیوں اور رحمتوں کے یہ واقعات نصیحت و عبرت کا سامان ہوں عقل والوں کے لیے اور وہ یہ سمجھیں کہ خدا کے صابر بندے کس طرح کیسے عظیم انعامات سے نوازے جاتے ہیں حضرت ایوب (علیہ السلام) نے بحالت مرض کسی بات پر خفا ہو کر یہ قسم کھائی تھی کہ تندرست ہوگئے تو اپنی عورت کو سولکڑیاں ماریں گے وہ بی بی اس بیماری کی حالت میں جب کہ سب لوگ ان سے دور ہوچکے تھے تنہا ان کی رفیق و خدمت گزار تھی اور بظاہر قصور وار بھی نہ تھی تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے انکو یہ طریقہ اور قسم کو سچا کرنے کا حیلہ بتلا دیا جو صرف انہی کے لئے مخصوص تھا تو فرمایا اور اے ایوب (علیہ السلام) پکڑ لو اپنے ہاتھ میں سینکوں کی ایک گڈی اور پھر اسکو مارو اپنی بیوی پر تاکہ سولکڑیاں مارنے کی قسم پوری ہوجائے اور تم اپنی قسم میں جھوٹے نہ ہو بیشک ایوب کو ہم نے بہت کہی صابر پایا ان تمام شدائد مرض اور مصائب میں جو انکے حق میں منجانب اللہ اسی طرح مقدر فرمائے گئے جیسے کہ بہت سے انبیاء اور اللہ کے مقربین پر فقروفاقہ اور دشمنوں کی طرف سے مصائب وآلام کے واقعات پیش آئے ہیں اس طرح کے صبر سے ایوب (علیہ السلام) نے ثابت کردیا کہ وہ بہت اچھے بندے ہیں بالخصوص یہ بات قابل تعریف ہے کہ ان تمام مشقتوں میں وہ خدا کی طرف بہت ہی رجوع کرنے والے تھے۔ تحقیق ابتلاء ایوب (علیہ السلام) : ان آیات میں حضرت ایوب (علیہ السلام) کے جس ابتلاء کا ذکر فرمایا گیا ہے اس کی تفصیل کسی صحیح حدیث کے ذریعہ متعین نہیں بالاجمال الفاظ قرآن کریم سے یہی مفہوم ہوتا ہے کہ کسی مشقت و تکلیف یا بیماری کے ذریعہ آزمائش فرمائی گئی جیسے کہ حضرات انبیاء مختلف قسم کی آزمائشوں میں آزمائے جاتے ہیں یہ بھی آزمائے گئے تاکہ دنیا کے سامنے خدا کے برگزیدہ بندوں کے صبر کا نمونہ ظاہر ہوجائے آنحضرت ﷺ کا ارشاد مبارک ہے اشد الناس بلاء الانبیاء ثم الامثل فالامثل کہ دنیا میں سب سے زیادہ شدائد ومصائب میں مبتلاہونے والے خدا کے پیغمبر ہوتے ہیں پھر ان کے بعد وہ جو درجہ بدرجہ ان سے مشابہ و قریب ہوں اس بیماری یا تکلیف کے سلسلہ میں جو واقعات مشہور ہیں کہ تمام بدن گل سڑ گیا اور کوئی حصہ بدن ایسا نہ رہا جہاں آبلے اور پھوڑے نہ ہوں ان کو راکھ پر ڈال دیا گیا اور گھر سے دور کسی جگہ ڈال دیا گیا لوگ کہنے لگے اے ایوب (علیہ السلام) تم نے کوئی گناہ کیا ہے جس کی پاداش میں تم اس مصیبت میں مبتلا کیے گئے تمام گھر اور قبیلہ کے لوگ چھوڑ گئے سوائے انکی بیوی کے وہ خدمت کرتی رہی فقروفاقہ کی حد نہ رہی حتی کہ علاج اور دوا کے لئے بھی کچھ نہ رہا اسی حالت میں کہ بیوی علاج اور دوا کی فکر میں پریشان پھر رہی تھی تو ایک شیطان بشکل طبیب ظاہر ہوا انہوں نے علاج کی درخواست کی تو شیطان نے کہا کہ میں اس شرط پر علاج کروں گا کہ انکو شفا ہوجائے تو یہ کہہ دینا کہ ایوب (علیہ السلام) کو تو نے شفا دی اس کے علاوہ میں تجھ سے کوئی نذرانہ وغیرہ نہیں چاہتا انہوں نے ایوب (علیہ السلام) سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا اے اللہ کی بندی یہ تو شیطان تھا اب میں عہد کرتا ہوں اور قسم کھاتا ہوں کہ اللہ نے اگر مجھے شفا دی تو میں تجھ کو بطور سزا سو قمچیاں ماروں گا (درمنثور) ایوب (علیہ السلام) کو اس بات پر شدید رنج ہوا کہ شیطان کا حوصلہ اس قدر بڑھ گیا کہ وہ میری بیوی سے ایسے کلمات کہلوانا چاہے جو موجب شرک ہوں اگرچہ ایک طرح سے تاویل بھی ممکن ہے اس رنج وغم میں اب اللہ کی طرف خاص تفرع وزاری کے ساتھ متوجہ ہوئے اور فرمایا (آیت ) ” رب انی مسنی الضر وانت ارحم الراحمین “۔ اے اللہ مجھے تکلیف ومصیبت پہنچی ہوئی ہے اور تو ارحم الراحمین ہے کمال ادب کے ساتھ صرف اپنی حالت پروردگار کے سامنے اظہار کردیا اور یہ کہ آپ ارحم الراحمین ہیں جو بھی شان رحیمی کا مقتضی ہو وہ اے پروردگار میرے واسطے فرما دیجئے فورا ہی دعا قبول ہوئی اور پاؤں مارنے کا حکم دیا گیا جس سے پانی جاری ہوگیا اور اس کے ذریعہ غسل سے بدن بھی تندرست ہوگیا اور اسکے پینے سے قلب کو بھی تسکین حاصل ہوئی بطور قدر مشترک روایات میں اس طرح کی باتیں مذکور ہیں ان روایات کے مضامین کو ذکر کرتے ہوئے علامہ آلوسی (رح) تفسیر روح المعانی میں فرماتے ہیں حضرات ائمہ مفسرین اور محققین نے اس طرح کی بیماری کی داستانوں کو قابل اعتماد اور درست نہیں سمجھا اور یہ فرمایا کہ اللہ کے کسی پیغمبر کے لیے ایسی کوئی حالت جو لوگوں کے لیے باعث تنفر اور تکدر ہو نہیں سکتی اس طرح کی بیماری کہ بدن سے کیڑے گرنے لگے اور لوگ ان کو گھر سے باہر کسی جگہ لے جا کر ڈال دیں انبیاء (علیہم السلام) کی اس عظمت ووجاہت کے منافی ہے جو اللہ کی طرف سے خاصہ نبوت ہے عوارض جسمانیہ اور امراض کا انبیاء پر ورود بیشک درست ہے لیکن ایسے امراض جو گندے اور قابل نفرت ہوں مثلا جذام وبرص عمی (نابینا پن) اور جنون واپاہج پن سے محفوظ رکھے جاتے ہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں بنو اسرائیل نے ایک ایسی بیماری اور عیب کا الزام لگایا تھا جو لوگوں میں حقیر ہے تو اللہ نے اس حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی برأت ظاہر فرما دی جیسے کہ (آیت ) ” یایھا الذین امنوا لا تکونوا کالذین اذوا موسیٰ فبراہ اللہ مما قالوا وکان عند اللہ وجیھا “۔ کی تفسیر میں گذر چکا ہے اور (آیت ) ” وکان عنداللہ وجیھا “۔ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ وجاہت انبیاء (علیہم السلام) کا خاصہ نبوت ہے لہذا ایسی کوئی بیماری اور حالت جو باعث عیب یا نفرت ہو انبیاء (علیہم السلام) کے لیے نہیں ہوسکتی حضرت یعقوب (علیہ السلام) کیلئے اگرچہ قرآن کریم میں یہ آیا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے غم میں روتے روتے ان کی آنکھیں سپید ہوگئی تھیں اور بینائی جاتی رہی تھی تو یہاں اولا تو یہ بات قابل ذکر ہے کہ بقول بعض ائمہ مفسرین اصل بینائی ختم نہیں ہوئی تھی بلکہ شدت غم اور کثرت بکا کی وجہ سے ایک پردہ سا آنکھوں پر چھا گیا تھا پھر یہ کہ یہ نابینا پن پیدائشی نہ تھا اسی طرح حضرت شعیب (علیہ السلام) کے بارے میں بعض مؤرخین کا یہ کہنا کہ وہ نابینا تھے صحیح نہیں ہے امام نووی (رح) فرماتے ہیں اغماء اور غشی تو پیغمبروں پر ممکن ہے کیونکہ وہ کوئی مستقل مرض عیب کی قسم سے نہیں البتہ جنون ممکن نہیں کیونکہ جنون عیب ہے الغرض امراض کا عارض ہونا بیشک انبیاء (علیہم السلام) پر ہوتا ہے لیکن صرف اسی حدتک کہ وہ قابل نفرت نہ ہوں اور نہ ہی وہ عیب کے درجہ میں ہوں۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی اس قسم کو پورا کرنے کے سلسلہ میں حق تعالیٰ کی طرف سے یہ صورت ارشاد فرمانا (آیت ) ” وخذ بیدک ضغثا فاضرب “۔ ایک نوع کی سہولت کا مہیا فرما دینا ہے کہ قسم بھی پوری ہوجائے اور اس بیوی کو جو واقعتہ اور حقیقۃ تو کسی جرم کی مرتکب نہیں ہوئی اور نہ ہی وہ کسی ایسی شرعی حد کی مرتکب بنی ہے جس پر اس طرح کی حد جاری کی جائے محض ایک وہم بعید کا درجہ ہوا اور خاندان نبوت کی شان سے قدرے گری ہوئی چیز آگئی تو اس کے تدارک کے لئے بوحی الہی یہ حیلہ اور طریقہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کو بتادیا گیا حقیقت میں جرم تو تھا نہیں بلکہ شبہ بعید تھا تو اس طرح کی حد (سزا) بھی حقیقت سزا نہ رہے صرف مشابہت بعید ہی کے درجہ میں صورت سزا ہی جائے۔ یہ حیلہ ایسا ہی ہوگیا جس طرح حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائی کو اپنے پاس روکنے کی تدبیر کی تھی کہ ان کے سامان میں پیالہ رکھوا دیا اور پھر اعلان ہوا کہ ہماری ایک چیز گم ہوئی ہے تو اس وجہ سے تم لوگ چور ہو تاکہ وہ سب سے یہ یہی کہیں اے یوسف (علیہ السلام) نہیں ایسا نہیں اور اس پر یوسف (علیہ السلام) ان سے یہ بات دریافت کرلیں بتاؤ اگر تم جھوٹے ہو تو کیا سزا ہو اور اس کے جواب میں وہ یہ کہہ دیں (آیت ) ” جزآؤہ من وجد فی رحلہ فھو جزآؤہ “۔ کہ بس اسکی سزا یہی ہے کہ جس کے سامان میں وہ چیز ملے وہ شخص اسی کا بطور غلام و خادم اس کے پاس رہ جائے گا تو اس تدبیر سے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائی بنیامین کو اپنے پاس رکھ لیا اور اس خصوصی تدبیر کو اللہ نے خود ارشاد فرمایا (آیت ) ” کذالک کدنا لیوسف ماکان لیاخذ اخاہ فی دین الملک “۔ کہ ہم نے ہی یہ تدبیر یوسف (علیہ السلام) کو القاء کی کیونکہ وہ اپنے بھائی کو وہاں کے ملکی قانون کے مطابق نہیں روک سکتے تھے تو اس طرح کا یہ بھی ایک خصوصی حیلہ تھا جس کی حضرت ایوب (علیہ السلام) کو اجازت دی گئی فقہاء حنفیہ کے یہاں جو بعض مواقع پر حیلہ کی صورت اختیار کی گئی یا اس کی اجازت دی گئی اس کی نوعیت اس طرح ہے حیلہ اگر اس طرح ہے کہ اس سے حرام شے کو حلال قرار دے لیاجائے یا اس سے شریعت کی غرض فوت ہو یا اس حیلہ سے کسی شخص کا حق ضائع ہوتا ہو تو ظاہر ہے کہ اس طرح کا حیلہ قطعا ممنوع ہے اور اس کو کسی بھی فقیہ نے کسی بھی حالت میں درست نہیں سمجھا حیلہ صرف اس صورت میں گوارہ کیا گیا کہ انسان اسکو اختیار کرکے حرام میں مبتلاہونے سے بچ جائے چناچہ امام محمد (رح) نے کتاب الحجج میں یہی فرمایا کہ حیلہ کا جواز اس وجہ سے نہیں ہے کہ انسان اس کو اختیار کرکے حرام میں داخل ہوجائے گا کہ اس کا جواز صرف اس حدتک ہے کہ اس کے ذریعہ حرام میں مبتلا ہونے سے محفوظ رہے اور اس طرح حلال صورت سے متمتع ہوسکے تفصیلات کے لیے فقہاء کے بیان کردہ جزئیات کی مراجعت کیا جائے الغرض حضرت ایوب (علیہ السلام) کو یہ حکم بارگاہ خداوندی سے از باب عفو وترحم تھا کہ ایسی نیک بی بی ایذارسانی سے بچ جائے اور کسی جھاڑو وغیرہ کی باریک سینک کوڑے کے قائم مقام ہوجائے اور تبدیل صورت سے تبدیل حکم ہوجانا اور باوجود معنوی مغائرت کے صوری مشابہت کو کافی قرار دے لینا یہی حقیقت حیلہ کی ہے جس کو فقہاء حنفیہ نے اس صورت میں جائز قرار دیا جب کہ نہ تو کسی کا حق فوت ہوتا ہو اور یہی حقیقت حلیہ کی ہے جس کو فقہاء حنفیہ نے اس صورت میں جائز قرار دیا جب کہ نہ تو کسی کا حق فوت ہوتا ہو اور نہ حرام کا ارتکاب لازم ہوتا ہو بلکہ وہ حیلہ اس کو اضطرار ومخمصہ کی مصیبت سے نکال کر حرام میں مبتلا ہونے کے بجائے ایک حلال شکل مہیا کرتا ہے تفصیل کے لیے روح المعانی جلد 23 کی مراجعت فرمائیں۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) کے نسب کے بارے میں محمد بن اسحاق (رح) کا قول ہے کہ وہ بنی اسرائیل سے تھے ابن جریر (رح) نے ان کا سلسلہ نسب اس طرح ذکر کیا ہے ایوب بن اموص بن روم بن عیص بن اسحاق (علیہ السلام) ابن عساکر (رح) نے یہ بیان کیا کہ ان کی والدہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیٹی تھیں اور ان کے باپ ان لوگوں میں سے تھے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر ایمان لائے تھے تو اس لحاظ سے ان کا زمانہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے قبل ہوا ابن جریر (رح) نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کے بعد بیان کیا ہے اور بعض نقول سے سلیمان (علیہ السلام) کے بعد ہے (روح المعانی )
Ayahs 38:45–54

وَ اذْكُرْ عِبٰدَنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَ الْاَبْصَارِ Open ayah 38:45 in the Quran reader

اور ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کو یاد کرو جو قوت والے اور آنکھوں والے تھے

اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِۚ Open ayah 38:46 in the Quran reader

ہم نے ان کو ایک (صفت) خاص (آخرت کے) گھر کی یاد سے ممتاز کیا تھا

وَ اِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَیْنَ الْاَخْیَارِؕ Open ayah 38:47 in the Quran reader

اور وہ ہمارے نزدیک منتخب اور نیک لوگوں میں سے تھے

وَ اذْكُرْ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ ذَا الْكِفْلِ١ؕ وَ كُلٌّ مِّنَ الْاَخْیَارِؕ Open ayah 38:48 in the Quran reader

اور اسماعیل اور الیسع اور ذوالکفل کو یاد کرو اور وہ سب نیک لوگوں میں سے تھے

هٰذَا ذِكْرٌ١ؕ وَ اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ لَحُسْنَ مَاٰبٍۙ Open ayah 38:49 in the Quran reader

یہ نصیحت ہے اور پرہیزگاروں کیلئے تو عمدہ مقام ہے

جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الْاَبْوَابُۚ Open ayah 38:50 in the Quran reader

ہمیشہ رہنے کے باغ جن کے دروازے ان کے لئے کھلے ہوں گے

مُتَّكِئِیْنَ فِیْهَا یَدْعُوْنَ فِیْهَا بِفَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍ وَّ شَرَابٍ Open ayah 38:51 in the Quran reader

ان میں تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے اور (کھانے پینے کے لئے) بہت سے میوے اور شراب منگواتے رہیں گے

وَ عِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ اَتْرَابٌ Open ayah 38:52 in the Quran reader

اور ان کے پاس نیچی نگاہ رکھنے والی (اور) ہم عمر (عورتیں) ہوں گی

هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِیَوْمِ الْحِسَابِ Open ayah 38:53 in the Quran reader

یہ وہ چیزیں ہیں جن کا حساب کے دن کے لئے تم سے وعدہ کیا جاتا تھا

اِنَّ هٰذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهٗ مِنْ نَّفَادٍۚۖ Open ayah 38:54 in the Quran reader

یہ ہمارا رزق ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگا

تذکر ۂ اخلاص و فضائل ابراہیم واسحق ویعقوب و دیگر انبیاء کریم (علیہم السلام) : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” واذکر عبدنا ابرہیم واسحق ویعقوب ...... الی ...... لرزقنا مالہ من نفاد “۔ گذشتہ آیات میں حضرت ایوب (علیہ السلام) کے صبر و استقامت کا ذکر تھا اب ان آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) واسحق (علیہ السلام) ویعقوب (علیہ السلام) و دیگر انبیاء (علیہم السلام) کے اخلاص وانابت الی اللہ و دیگر فضائل کا بیان ہے جس سے یہ غرض ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کے ان علمی وعملی اور ظاہری وباطنی کمالات کو معلوم کرکے یہ سمجھا جائے کہ ان حضرات کے مراتب عالیہ اور حق تعالیٰ کی طرف سے انعامات ورحمتوں کی نوازش انہی اوصاف وخوبیوں کے باعث تھی اس لیے اگر کسی کو انعامات و فضائل کا شوق ہے تو اس کو چاہئے کہ اللہ کے ان برگزیدہ پیغمبروں کے نقش قدم پر چلے اور ساتھ ہی یہ بھی سمجھے کہ ان انبیاء (علیہم السلام) کی تکذیب و انکار کرنے والوں کا انجام ہلاکت و بربادی اور ذلت کی صورت میں دنیا کی نظروں کے سامنے آیا اس لیے انبیاء (علیہم السلام) کا انکار وتکذیب کرنے والوں کو ان انجام سے غافل نہ رہنا چاہئے یہ واقعات عبرت ہیں ہر صاحب عقل کو ان سے عبرت حاصل کرنا چاہئے فرمایا اور یاد کرو ہمارے خاص بندوں ابراہیم واسحق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) کو جو ہاتھوں اور آنکھوں والے تھے کہ ان میں قوت عملیہ بھی کامل تھی اور قوت علمیہ بھی اور خاص کرلیا تھا ہم نے ان کو ایک خصوصی صفت کے ساتھ وہ تھی یاد آخرت کی کہ ہمہ وقت اسی کی فکر اور تیاری میں مصروف رہتے اور اپنی تمام عملی قوتوں اور نظر وفکر کی صلاحیتوں کو اسی کے لئے وقف کیئے ہوئے تھے وہ اخلاق فاضلہ اور اعمال صالح میں ایسے کامل تھے کہ اپنے نفس پر غالب تھے طاقتور تھے نگاہوں سے عبرت کے واقعات اور دلائل قدرت دیکھتے رہتے بصر وبینائی کے اس کمال کے ساتھ بصیرت سے حق تعالیٰ کی معرفت کی بلندیوں تک پہنچے ہوئے تھے اور ظاہر ہے کہ علم ومعرفت اور عمل کا کمال ہی اللہ کی بارگاہ میں تقرب اور فضیلت کا باعث ہے اور اللہ کے ان برگزیدہ بندوں نے اپنی ان تمام صلاحیتوں اور قوتوں کو آخرت کی فکر اور تیاری میں مصروف کیا ہوا تھا آخرت کے غم کے سوا اور کوئی فکر وغم ہی نہ تھا۔ غم دیں خور کہ غم غم دین است ہم غمہا فروتر ازین است ، اور بیشک یہ سب ہمارے نزدیک چنے ہوئے برگزیدہ اور نیک لوگوں میں ہیں جمہور قراء کے نزدیک (آیت) ” الایدی “ یا کے ساتھ ہے جو ید کی جمع ہے اور ید کے معنی ہاتھ کے ہیں تو اس لحاظ سے اولو الایدی سے عملی قوت والا ہونا مراد ہوا حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اس کی تفسیر میں یہی فرمایا کرتے ” القوۃ فی العبادۃ “۔ اور ” الابصار “ سے مراد ” الفقہ فی الدین “۔ لیتے ہیں، بغض علماء نے ید کو بمعنی نعمت لیا ہے کہ یہ حضرات بڑے انعامات اور نعمتوں والے تھے۔ بعض قراء نے بغیر یا صرف ” اولے الاید “۔ پڑھا ہے تو لفظ اید بمعنی طاقت ہے تو مراد عبادت میں انکی، ہمت اور جفا کشی اور قوت کا بیان ہے اور یاد کرو اسمعیل (علیہ السلام) اور الیسع اور ذوالکفل کو بھی یہ سب بھی بہت ہی اچھے لوگوں میں ہیں اللہ کے یہاں ان کے درجات بھی ایسے ہی ہیں، جیسے کہ دیگر بیان کردہ برگزیدہ پیغمبروں کے اور ان کو بھی اللہ نے ایک خاص خوبی کے ساتھ چھانٹ لیا تھا اور وہ فکر آخرت تھی کہ اسی میں ان لوگوں نے بھی اپنی عملی اور علمی تمام قوتوں اور صلاحیتوں کو صرف کر رکھا تھا۔ حضرت اسمعیل (علیہ السلام) کا ذکر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے بھائی حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے ساتھ کرنے کے بجائے مستقلا کیا گیا انکی خصوصی عظمت شان کو ملحوظ رکھتے ہوئے ذوالکفل کا تذکرہ سورة انبیاء میں گذر چکا ” الیسع “ صاحب قاموس کہتے ہیں یہ لفظ عجمی ہے اس پر ال کا استعمال اس لفظ کی خصوصیت کا درجہ رکھتا ہے اس کے دیگر نظائر اور اعلام عجمیہ پر الف لام کا استعمال صحیح نہ ہوگا بعض ائمہ لغت نے اسکندر کو الف لام کے استعمال کی خصوصیت میں شامل کیا ہے شیخ سیوطی (رح) نے الاتقان میں اس کے لفظ عربی ہونے کو اختیار کیا ہے اور بیان کیا کہ یہ ” یسع “ مضارع سے منقول ہے ان کی حضرت الیاس (علیہ السلام) نے بنواسرائیل پر اپنا خلیفہ بنایا تھا بعد میں نبوت سے سرفراز فرمائے گئے یہ سب فضائل و کمالات یاد گار ہیں ان سب حضرات انبیاء کے اور شرف وفضل ہیں اور آنے والی نسلوں میں ان کا بہترین ذکر ہے کما قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” وجعلنا لسان صدق علیا “۔ اور بیشک تمام تقوی والوں کے لیے بہترین ٹھکانا ہے اور وہ باغات ہیں ہمیشہ کے لیے بسنے کے جن کے دروازے انکے واسطے کھول دیئے گئے ہیں کہ اعزاز واکرام کا یہ مقام ہوگا کہ جب بھی وہ اپنے باغات ومحلات میں آئیں گے ان کے استقبال کے لیئے فرشتے دروازوں کو کھولے منتظر ہوں گے اس اعزاز واکرام کے ساتھ یہ مقام سکون و اطمینان ہوگا کہ تکیہ لگائے ہوں گے ان میں اعتماد وبھروسہ بھی ہوگا اللہ کی تمام رحمتوں اور عنایات پر اور وقار و سکون ہوگا جسمانی لحاظ سے منگائیں گے ان محلات و باغات میں بہت سے اقسام کے پھل اور میوے اور متعدد اقسام کے مشروبات ان تمام نعمتوں کے علاوہ عیش ولذت کا یہ بھی سامان ہوگا اور ان کے پاس عورتیں ہوگی جو نگاہوں کو نیچا رکھنے والی ہوں گی برابر ہوں گی عمر اور حسن و جمال میں جن کے حسن و جمال اور عفت ووقار سے اہل جنت کے انعامات و راحت میں مزید اضافہ ہوگا بیشک یہ ہیں وہ نعمتیں اور کرامتیں ہمارا عطا کردہ رزق جس کے واسطے نہیں ہے کوئی خاتمہ اور فنا وزوال اور اہل جنت ہمیشہ ان غیر منقطع اور لازوال نعمتوں سے متمتع ہوتے رہیں گے نہ ان راحتوں سے نکلنے اور نہ ان کے منقطع ہونے کا غم ہوگا اور نہ ہی اپنی موت کا اندیشہ ہوگا اس لیے کہ زوال وفنا تو دنیائے فانی کے خواص میں سے ہے دارالخلد تو بقاودوام کی جگہ ہے رزقنا اللہ تعالیٰ منھا بفضلہ وحسن عنایتہ فانہ اکرم الاکرمین وارحم الراحمین۔ امین۔