18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 18:75–82

قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:75 in the Quran reader

(خضر) نے کہا کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کرسکو گے ؟

قَالَ اِنْ سَاَلْتُكَ عَنْ شَیْءٍۭ بَعْدَهَا فَلَا تُصٰحِبْنِیْ١ۚ قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَّدُنِّیْ عُذْرًا Open ayah 18:76 in the Quran reader

انہوں نے کہا اگر میں نے اس کے بعد (پھر) کوئی بات پوچھوں (یعنی اعتراض کروں) تو مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیے گا کہ آپ میری طرف سے عذر (کے قبول کرنے میں غایت) کو پہنچ گئے

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَیَاۤ اَهْلَ قَرْیَةِ اِ۟سْتَطْعَمَاۤ اَهْلَهَا فَاَبَوْا اَنْ یُّضَیِّفُوْهُمَا فَوَجَدَا فِیْهَا جِدَارًا یُّرِیْدُ اَنْ یَّنْقَضَّ فَاَقَامَهٗ١ؕ قَالَ لَوْ شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَیْهِ اَجْرًا Open ayah 18:77 in the Quran reader

پھر وہ دونوں چلے یہاں تک کہ ایک گاؤں والوں کے پاس پہنچے، اور ان سے کھانا طلب کیا، مگر انہوں نے ان کی ضیافت کرنے سے انکار کردیا۔ پھر انہوں نے وہاں ایک دیوار دیکھی جو (جھک کر) گرا چاہتی تھی، خضرنے اس کو سیدھا کردیا (موسیٰ نے کہا) اگر آپ چاہتے تو (اس کام) کا معاوضہ لیتے (تاکہ) کھانے کا کام چلتا

قَالَ هٰذَا فِرَاقُ بَیْنِیْ وَ بَیْنِكَ١ۚ سَاُنَبِّئُكَ بِتَاْوِیْلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَّلَیْهِ صَبْرًا Open ayah 18:78 in the Quran reader

(خضر نے) کہا کہ اب تجھ میں اور مجھ میں علیحدگی ہے (مگر) جن باتوں میں تم صبر نہ کرسکے میں ان کا تمہیں بھید بتادیتا ہوں

اَمَّا السَّفِیْنَةُ فَكَانَتْ لِمَسٰكِیْنَ یَعْمَلُوْنَ فِی الْبَحْرِ فَاَرَدْتُّ اَنْ اَعِیْبَهَا وَ كَانَ وَرَآءَهُمْ مَّلِكٌ یَّاْخُذُ كُلَّ سَفِیْنَةٍ غَصْبًا Open ayah 18:79 in the Quran reader

(کہ وہ جو) کشتی تھی، غریب لوگوں کی تھی جو دریا میں محنت (کر کے یعنی کشتیاں چلا کر گزارہ) کرتے تھے اور انکے سامنے کی طرف ایک بادشاہ تھا جو ہر ایک کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا تو میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کردوں تاکہ وہ اسے غصب نہ کرسکے

وَ اَمَّا الْغُلٰمُ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤْمِنَیْنِ فَخَشِیْنَاۤ اَنْ یُّرْهِقَهُمَا طُغْیَانًا وَّ كُفْرًاۚ Open ayah 18:80 in the Quran reader

اور وہ جو لڑکا تھا اس کے ماں باپ دونوں مومن تھے ہمیں اندیشہ ہوا کہ وہ (بڑا ہو کر بد کردار ہوگا کہیں) ان کو سرکشی اور کفر میں نہ پھنسا دے

فَاَرَدْنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَیْرًا مِّنْهُ زَكٰوةً وَّ اَقْرَبَ رُحْمًا Open ayah 18:81 in the Quran reader

تو ہم نے چاہا کہ ان کا پروردگار اس کی جگہ ان کو اور (بچہ) عطا فرمائے جو پاک طینتی اور محبت میں زیادہ قریب ہو

وَ اَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلٰمَیْنِ یَتِیْمَیْنِ فِی الْمَدِیْنَةِ وَ كَانَ تَحْتَهٗ كَنْزٌ لَّهُمَا وَ كَانَ اَبُوْهُمَا صَالِحًا١ۚ فَاَرَادَ رَبُّكَ اَنْ یَّبْلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَ یَسْتَخْرِجَا كَنْزَهُمَا١ۖۗ رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ۚ وَ مَا فَعَلْتُهٗ عَنْ اَمْرِیْ١ؕ ذٰلِكَ تَاْوِیْلُ مَا لَمْ تَسْطِعْ عَّلَیْهِ صَبْرًا٢ؕ۠ Open ayah 18:82 in the Quran reader

اور وہ جو دیوار تھی دو یتیم لڑکوں کی تھی جو شہر میں (رہتے تھے) اور اس کے نیچے ان کا خزانہ مدفون تھا، اور ان کا باپ ایک نیک بخت آدمی تھا تو تمہارے پروردگار نے چاہا کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور (پھر) اپناخزانہ نکالیں یہ تمہارے پروردگار کی مہربانی ہے اور یہ کام میں نے اپنی طرف سے نہیں کیے یہ ان باتوں کی حقیقت ہے جن پر تم صبر نہ کرسکے

بقیہ قصۂ موسیٰ (علیہ السلام) با خضر (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ ۔ قال الم اقل لک انک لن تستطیع معی صبرا۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ ذلک تا ویل ما لم تسطع علیہ صبرا موسیٰ (علیہ السلام) نے جب یہ دیکھا کہ خضر (علیہ السلام) نے یکایک ایک معصوم اور بےگناہ بچے کو مار ڈالا تو ان سے ضبط نہ ہوسکا۔ اور بےاختیار کہہ اٹھے۔ لقد جئت شیئا نکرا۔ ( آپ (علیہ السلام) نے تو بڑی ہی بےجا اور ناپسندیدہ حرکت کی) تو حضرت خضر (علیہ السلام) نے جواب میں کہا۔ اے موسیٰ کیا میں تم سے پہلے ہی اول صحبت میں یہ نہیں کہہ دیا تھا کہ تم میرے ساتھ رہ کر ہرگز صبر نہیں کرسکو گے آخر وہی ہوا جو میں نے اول بار کہہ دیا تھا۔ چونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کی یہ دو بار عہد شکنی تھی اس لیے حضرت خضر (علیہ السلام) نے اس مرتبہ مزید تنبیہ کے لیے لفظ لک اور بڑھا دیا یعنی تم ہی سے تو کہا تھا پھر کیوں بھول گئے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اندازہ ہوگیا کہ اس قسم کے تحیر خیز واقعات پر صبر کرنا اور خاموشی کے ساتھ ان کو دیکھتے رہنا بہت ٹیڑھی کھیر ہے اس لیے آخری بات کہہ دی خیر اب تو جانے دیجئے لیکن اگر اس مرتبہ کے بعد آپ سے کسی چیز کے متعلق سوال کروں تو آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھنا بیشک آپ میری طرف سے عذر کی حد اور انتہا کو پہنچ چکے ہیں آپ ایسا کرنے میں معذور ہوں گے اور میری طرف سے آپ کو کوئی الزام نہ ہوگا۔ کیونکہ تین مرتبہ موقعہ دینے سے حجت پوری ہوجائے گی۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو خضر (علیہ السلام) کی بار بار مخالفت سے شرم آئی۔ اور ان کی ملامت سے ڈرے اس لیے ان سے یہ آخری بات کہہ ڈالی کہ اگر تیسری بار آپ سے پوچھوں تو آپ کو جدا کرنے کا اختیار ہے۔ مجھے آپ سے کوئی شکایت نہ ہوگی۔ پھر دونوں آگے روانہ ہوئے یہاں تک کہ ایک بستی والوں پر پہنچے اور ان سے ملے اور کہا کہ ہم مسافر ہیں اور تمہارے مہمان ہیں تو اس بستی والوں سے مہمان ہونے کی حیثیت سے کھانا طلب کیا سو بستی والوں نے ان کی مہمانی سے انکار کردیا۔ صبر کیا اور بھوکے پڑے رہے۔ پھر انہوں نے بستی میں ایک دیوار پائی جو گرا چاہتی تھی۔ یعنی جھکی ہوئی تھی۔ گرنے کے قریب تھی پس خضر (علیہ السلام) نے ہاتھ کے اشارے سے اسکو سیدھا کردیا۔ حدیث شریف میں ہے کہ خضر (علیہ السلام) نے ہاتھ کا اشارہ کیا اور وہ دیوار سیدھی ہوگئی۔ یہ خارق عادت امر ان کی کرامت تھی۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ حال دیکھ کر خضر علی السلام سے کہا کہ آپ نے ایسے سنگ دل اور بےمروت اور بخیل لوگوں کے ساتھ احسان کیا اور مفت ان کا کام کیا اور بلا معاوضہ ان کی دیوار سیدھی کردی۔ آپ اگر چاہتے تو ان سے اجرت لے لیتے اور اس سے ہم کھانا کھالیتے آپ نے ایسے بخیلوں اور تنگ دلوں سے جنہوں نے مہمان مسافر کا کوئی حق نہ سمجھا۔ اجرت کیوں نہ لے لی جس سے ہمارا کھانا کھانے پینے کا کام چل جاتا۔ حضرت خضر (علیہ السلام) نے کہا یہ میرے اور تمہارے درمیان جدائی کا وقت ہے تم نے خود کہہ دیا تھا کہ اگر میں پھر پوچھوں تو مجھے اپنے ساتھ نہ رکھنا۔ لہٰذا آپ حسب وعدہ مجھ سے علیٰحدہ ہوجائیے۔ آپ کا میرے ساتھ نباہ نہیں ہوسکتا لیکن جدا ہونے سے پہلے میں آپ کو ان چیزوں کی حقیقت سے خبردار کیے دیتا ہوں جن پر آپ صبر نہ کرسکے۔ حضرت شاہ عبدالقادر (رح) لکھتے ہیں کہ ” اس مرتبہ موسیٰ (علیہ السلام) نے جان کر پوچھا رخصت ہونے کو۔ یہ سمجھ لیا کہ یہ علم میرے ڈھب کا نہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا علم وہ تھا جس کی خلقت پیروی کرے تو اسکا بھلا ہو۔ حضرت خضر (علیہ السلام) کا علم وہ تھا کہ دوسروں سے اس کی پیروی بن نہ آئے “ (موضع القرآن) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سمجھ گئے کہ اللہ کے علوم کی کوئی حد نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کسی کو کوئی علم دیا اور کسی کو کوئی علم دیا اور اللہ کے بعضے بندے ملائکہ کی طرح ہیں جو کرتے ہیں وہ اللہ کے حکم سے کرتے ہیں اور ان کے افعال کے اسرار لوگوں کی سمجھ میں نہیں آسکتے۔ خضر (علیہ السلام) کا علم اس قسم کا تھا جو ملائکہ کو عطا ہوا اور موسیٰ (علیہ السلام) کا علم اس قسم کا تھا جو اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو عطا کیا اور ان کو اپنا خلیفہ اور مسجود ملائکہ بنایا۔ واللہ اعلم۔ بیان تاویلات واقعات مذکورہ خضر (علیہ السلام) نے یہ ارادہ فرمایا کہ جدا ہونے سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے ہر فعل کی مصلحت سے آگاہ کردیں اور ان تمام واقعات کی تاویلات بیان کردیں جن پر موسیٰ (علیہ السلام) صبر نہ کرسکے اور جن کے ظاہر کو دیکھ کر آپ (علیہ السلام) نے ان کو برا جانا۔ بیان تاویل واقعہ اول وہ جو کشتی تھی وہ چند محتاجوں کی تھی جو سمندر میں کرایہ پر چلاتے تھے اور اس کے ذریعہ دریا میں محنت اور مزدوری کرتے تھے اور اسی پر ان کی گزران تھی۔ سو میں نے چاہا کہ اس کو عیب دار کر دوں تاکہ کوئی غاصب اس کو عیب دار سمجھ کر نہ چھینے اور عیب کو دیکھ کر اس پر دست اندازی نہ کرے اور ان لوگوں کے آ گے ایک ظالم بادشاہ تھا جو ہر صحیح سالم کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا میں نے چاہا کہ اس کشتی کو عیب دار ہونے کی وجہ سے غصب نہ کرسکے اور یہ مساکین بعد میں تختہ لگا کر اس کشتی کو درست کرلیں گے۔ گر خضر در بحر کشتی را شکست صد درستی شکست خضر ہست یہ باعث تھا میرے اس کشتی توڑنے کا جس پر آپ سے صبر نہ ہوسکا۔ بیان تاویل واقعہ دوئم اور وہ جو لڑکا تھا جس کو میں نے مار ڈالا تھا سو بات یہ ہے کہ اس کے ماں باپ ایماندار تھے اور اللہ کو ان کے ایمان کی حفاظت مقصود تھی اور یہ لڑکا اگر بڑا ہوتا تو کافر ہوتا اور ماں باپ کو اس سے غیر معمولی محبت تھی سو ہم کو اندیشہ ہوا کہ یہ لڑکا بڑا ہو کر اپنے ماں باپ کو سرکشی اور کفر میں گرفتار کر دے۔ یعنی جب بالغ ہو تو والدین کو بھی کفر پر مجبور کرے اور وہ اس کی خوبصورتی اور محبت کی وجہ سے اس سے جدا ہونا گوارا نہ کریں۔ اور کفر اختیار کر بیٹھیں اور ہلاکت دائمی میں گرفتار ہوں پس اس طرح لڑکے کا مارا جانا ان کے حق میں مصیبت بنا اور باطن میں اللہ تعالیٰ کی رحمت بنا۔ پس ہم نے ارادہ کیا کہ اس لڑکے کا قصہ تو تمام کردیا جائے اور ان کا پروردگار اس نالائق اور بدبخت بیٹے کے بدلے میں ان کو ایسی اولاد دے خواہ لڑکا ہو یا لڑکی۔ جو از راہ پاکیزگی اس لڑکے سے بہتر ہو یعنی کفر اور شرک اور معصیت اور بداخلاقی اور بد اعمالی سے پاک ہو اور ایمان اور توحید اور اخلاق فاضلہ سے آراستہ ہو اور ازراہ شفقت و محبت والدین سے زیادہ قریب ہو۔ اور احسان اور سلہ رہمی کرنے والی ہو۔ چناچہ اس لڑکے کے مارے جانے کے بعد ان دونوں نیک بختوں سے ایک لڑکی پیدا ہوئی اور ایک نبی سے بیاہی گئی اور اس کے بطن سے ایک نبی پیدا ہوئے جس سے اللہ تعالیٰ نے ایک امت کو ہدایت دی۔ اس طرح سے یہ نیک بخت لڑکی اس بد بخت لڑکے کا بدلہ ہوگئی۔ ہر بچہ ابتداء اگرچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے مگر بعض مرتبہ خارجی اثرات کی وجہ سے بعض آدمیوں کی شروع سے ہی بنیاد بری پڑجاتی ہے مگر اس کا علم سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کو نہیں ہوتا۔ اس لڑکے کی بابت اللہ تعالیٰ نے حضرت خضر (علیہ السلام) کو آگاہ کردیا کہ اس بچہ کی افتاد اور بنیاد بری ہے بڑا ہو کر خود بھی گمراہ ہوگا اور ماں باپ کو بھی گمراہی میں مبتلا کرے گا اگر یہ زندہ رہا تو اس کے سبب اس کے ماں باپ ہلاک اور تباہ ہوجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کو اس کے والدین کے ایمان کی حفاظت مقصود تھی۔ اس لیے ان کی راہ سے اس روڑہ کو نکال دیا گیا اور حضرت خضر (علیہ السلام) کا اس لڑکے کو قتل کرنا اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی وحی سے تھا۔ تا ویل واقعہ سوم اور رہی وہ دیوار جس کو میں نے مفت سیدھا کردیا وہ اس شہر کے دو یتیم بچوں کی تھی جن سے اجرت لینا مناسب نہ تھا اور اس دیوار کے نیچے ان دونوں کے واسطے ایک خزانہ گڑا ہوا تھا اگر وہ دیوار گر جاتی اور خزانہ ظاہر ہوجاتا تو لوگ اس خزانے کو لوٹ لے جاتے اور ان کو بسبب صغرسنی اور کمزوری کے کچھ نہ ملتا اور ان دونوں کا باپ ایک مرد صالح تھا خدا تعالیٰ کو اس کی نیکی کے صلہ میں اس کی اولاد کی حفاظت منظور تھی سو تیرے پروردگار نے یہ چاہا کہ یہ دونوں لڑکے اپنی قوت یعنی عقل اور بلوغ اور جوانی کو پہنچ جائیں اور اس وقت اپنا خزینہ اور دفینہ نکالیں ازروئے مہربانی پروردگار نے مجھے اس دیوار کی اصلاح کا حکم دیا اور ایک اشارہ میں سیدھی ہوگئی۔ اس لیے میں نے اللہ کے حکم سے یہ دیوار مفت سیدھی کردی اور میں نے کوئی کام اپنی رائے سے نہیں کیا بلکہ اللہ کے حکم سے کیا اور جو کام اللہ تعالیٰ کے حکم سے کیا جائے اس پر مزدوری نہیں لینی چاہیے۔ خاتمہ کلام : جب خضر (علیہ السلام) نے تمام واقعات کی تاویلات بیان کردیں تو اخیر میں یہ کہا لیجیئے یہ ہے باطنی حقیقت ان چیزوں کی جن کے ظاہر کو دیکھ کر آپ میں صبر کی طاقت نہ رہی۔ آپ شریعت کے ظاہری احکام کی وجہ سے مجبور اور معذور تھے۔ شریعت میں اس قسم کے افعال کے جواز کی گنجائش نہیں ہوتی اور میں باطنی احکام کی وجہ سے مجبور اور معذور تھا۔ و لکل وجہۃ ھو مولیھا اور حسب وعدہ میں نے آپ کو ان واقعات کے تاویلات سے آگاہ کردیا چناچہ اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) ان سے رخصت ہوئے۔ لطائف و معارف (1) خضر (علیہ السلام) کا نام بلیا بن ملکان تھا اور کنیت ان کی ابو العباس تھی اور خضر بفتح خاء اور کسر ضاد ان کا لقب تھا۔ شاہی خاندان سے تھے دنیا کو ترک کیا اور زہد اور درویشی کی راہ اختیار کی۔ ظاہر میں ذو القرنین کے وزیر تھے لیکن در پردہ فقیر اور درویش تھے اور خضر اس لیے ان کا نام ہوگیا کہ ایک صاف اور چٹیل زمین ان کے بیٹھنے سے سر سبز ہوگئی اور مجاہد (رح) کہتے ہیں کہ خضر کو اس لیے خضر کہا گیا کہ جب وہ نماز پڑھتے تھے تو ان کے ارد گرد کی زمین سر سبز ہوجاتی تھی اور بعض کہتے ہیں کہ ان کا نام ” عابر “ یا ” خضرون “ تھا اور صحیح اور راجح قول یہ ہے کہ ان کا نام بلیا بن ملکان تھا۔ (دیکھو فتح الباری ص 309 جلد 6 حدیث الخضر مع موسیٰ علیہما السلام) (2) جمہور علماء کے نزدیک خضر (علیہ السلام) حضرت نوح (علیہ السلام) کی نسل سے ہیں اور ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ وہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے صلبی فرزند ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ خضر (علیہ السلام) منجملہ فرشتوں کے ایک فرشتہ تھے بنی آدم میں سے نہ تھے (مزید اقوال کی تفصیل کے لیے فتح الباری ص 310 جلد 6 حدیث الخضر مع موسیٰ (علیہما السلام) دیکھیں ) ۔ یہ ناچیز کہتا ہے کہ حقیقت حال تو اللہ کو معلوم مگر خضر (علیہ السلام) کے جو افعال حق تعالیٰ نے ذکر فرمائے تو وہ ملائکہ مدبرات امر سے یعنی کارکنان قضاء و قدر سے ملتے جلتے ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ ملائکہ کرام کا علم اور قسم کا ہے اور انبیاء ومرسلین کا علم اور قسم کا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ دکھلا دیا کہ ہمارے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جو ملائکہ کی طرح ہمارے حکم کے مطابق کام کرتے ہیں اور کسی کی سمجھ میں نہیں آتا کہ در پردہ کیا ماجرا ہے۔ خضر (علیہ السلام) اگرچہ نسل آدم سے ہوں مگر عجب نہیں کہ ان پر غلبہ شان ملکیت کا ہو اور اس طرح کے امور ان کے سپرد کیے گئے ہوں جس طرح کے امور ملائکہ کے سپرد کیے گئے اور عجب نہیں کہ اسی غلبہء ملکیت کی وجہ سے خضر (علیہ السلام) عام نظروں سے محجوب و مستور کر دئیے گئے ہوں جیسے عام لوگوں کو فرشتے نظر نہیں آتے اسی طرح حضرت خضر (علیہ السلام) بھی عام لوگوں کو نظر نہیں آتے۔ خضر (علیہ السلام) حقیقت کے اعتبار سے اگرچہ انسان ہوں مگر عملی طور پر نمونہء ملائکہ ہیں اور رجال غیب میں سے ہیں جو عام نظروں سے پوشیدہ ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو خضر (علیہ السلام) کے پاس جانے کا حکم اس لیے ہوا کہ وہاں جا کر دیکھیں کہ خضر (علیہ السلام) کو جو علم دیا گیا ہے وہ دوسری قسم کا ہے تم اس سے واقف نہیں بلکہ وہ ایسا علم ہے جو بظاہر علوم نبوت اور علوم شریعت کے خلاف ہے اور تم اس کو دیکھ کر صبر نہ کرسکو گے بلاشبہ اے موسیٰ تم ہمارے رسول عظیم اور کلیم ہو اور بلاشبہ اس وقت تمام روئے زمین پر تمہارا ہی مرتبہ سب سے بلند ہے مگر اس بات کو ہر وقت مستحفر رکھو کہ تمہارا علم محیط نہیں تم ہمارے مقرب خاص بندے ہو۔ تمہیں خاص طور پر احتیاط لازم ہے مبادا تمہاری زبان سے کوئی لفظ ایسا نکل جائے کہ جس میں خلاف حقیقت کا کوئی ادنیٰ سا شائبہ یا واہمہ بھی نکل سکے۔ اللہ تعالیٰ کے دریائے علم کی کوئی حد اور انتہا نہیں جس کو جو علم ملا ہے وہ خدا کے دریائے بےپایاں کا ایک قطرہ ہے جب سوال کیا جائے کہ سب سے زیادہ علم والا کون ہے تو ادب کا تقاضا ہے کہ خدا کے علم محیط پر محول کردیا جائے۔ (3) علماء کا اس میں اختلاف ہے کہ خضر (علیہ السلام) نبی ہیں یہ ولی ہیں جمہور علماء کا قول ہے کہ وہ ولی تھے نبی نہ تھے اور علماء کرام کی ایک جماعت یہ کہتی ہے کہ وہ نبی تھے پھرنا معلوم کہ وہ رسول تھے یا رسول نہ تھے صرف نبی تھے۔ علماء کا جو گروہ ان کی نبوت کا قائل ہے وہ حجت اور استدلال میں چند امور ذکر کرتا ہے۔ پہلی دلیل : یہ کہ حق تعالیٰ خضر (علیہ السلام) کے حق میں فرماتے ہیں و اٰ تینٰہ رحمۃ من عندنا۔ یعنی ہم نے ان کو اپنے پاس سے رحمت عطا کی اور رحمت سے نبوت مراد ہے جیسا کہ حق تعالیٰ کے اس قول، وما کنت ترجوٓا ان یلقیٰٓ الیک الکتٰب الا رحمۃ من ربک میں رحمت سے نبوت مراد ہے۔ جواب : نبوت بیشک اللہ کی رحمت ہے مگر ہر رحمت کا نبوت ہونا ضروری نہیں جس طرح نبوت اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے اسی طرح ہدایت اور ولایت بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔ دوسری دلیل : قائلین نبوت دوسری دلیل پیش کرتے ہیں کہ حق تعالیٰ نے خضر (علیہ السلام) کے حق میں یہ فرمایا ہے و علمنٰہ من لدنا علما۔ اللہ تعالیٰ نے خود خضر (علیہ السلام) کو بلا واسطہء معلم کے تعلیم دی اور یہ شان نبی کی ہے۔ جواب : علم لدنی اور الہام ربانی سے نبی ہونا لازم نہیں حق تعالیٰ کا ارشاد ہے و او حینآ الیٰ ام موسیٰٓ ان ار ضعیہ اس آیت میں موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ ماجدہ کی طرف اللہ کی وحی اور الہام کا ذکر ہے مگر وہ نبیہ نہ تھیں اور علیٰ ھٰذا قرآن قریم میں حضرت مریم (علیہ السلام) نے فرشتوں کا کلام اور خطاب اور بشارت مذکور ہے مگر وہ نبیہ نہ تھیں بلکہ ولیہ اور صدیقہ تھیں۔ تیسری دلیل : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کلیم اللہ نے خضر (علیہ السلام) سے درخواست کی حالانکہ نبی کو غیر نبی سے علم سیکھنے کی کوئی ضرورت نہیں اور غیر نبی کو نبی کے اتباع اور پیروی کی ضرورت ہے۔ جواب : نبی کو علوم نبوت اور علم ہدایت اور علوم شریعت میں غیر نبی کی تعلیم اور اس کے اتباع کی ضرورت نہیں مگر یہ جائز ہے کہ نبی ماسوائے علوم نبوت کے کوئی دوسرا علم غیر نبی سے حاصل کرے اور اس دوسرے علم میں اس کی پیروی کرے یہ نبوت کے منافی نہیں ہے جن علوم سے نبوت کو تعلق نہ ہو تو اگر نبی کو ان میں سے کسی علم کی ضرورت اور حاجت ہو تو وہ غیر نبی کے اتباع سے حل کرسکتا ہے اور حدیث جس میں خضر (علیہ السلام) کا واقعہ ہے اس کی مؤید ہے۔ (4) نیز علماء کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ خضر (علیہ السلام) ابھی تک زندہ ہیں یا مرچکے ہیں جمہور علماء شریعت کا مذہب یہ ہے کہ وہ زندہ ہیں اور قیامت تک زندہ رہیں گے۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے چشمہء حیات سے پانی پیا ہے اور یہی وہ شخص ہیں جن کو دجال قتل کر کے زندہ کرے گا۔ اور ان کے بعد کسی کے قتل پر قادر نہ ہوگا قیامت کے قریب جب قرآن سینوں اور مصاحف سے اٹھا لیا جائے گا اس وقت ان کی وفات ہوگی اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ خضر (علیہ السلام) مرچکے ہیں بہر حال علماء میں اختلاف ہے کہ خضر (علیہ السلام) زندہ ہیں یا وفات پا چکے ہیں مگر صوفیائے کرام اور اولیائے عظام بلا اختلاف سب اسی پر متفق ہیں کہ خضر (علیہ السلام) زندہ ہیں۔ حافظ ابو عمرو بن صلاح (رح) اور امام نووی (رح) فرماتے ہیں کہ اکثر علماء کا قول یہ ہے کہ خضر (علیہ السلام) ہم میں زندہ ہیں اور صوفیائے کرام اہل صلاح اور اہل معرفت کا اتفاق اسی پر ہے اور اہل صلاح اور اہل معرفت کے خضر کے دیدار اور ان کے ساتھ یک جا جمع ہونے کی اور ان سے سوال کرنے اور جواب پانے کی اور مقامات متبرکہ میں ان کی زیارت کی اس قدر کثرت سے حکایتیں ہیں کہ جو شمار سے باہر ہیں اور ایسی مشہور کہ ان کے ذکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ بہر حال جمہور علماء کرام اور عامہء اہل صلاح و اولیائے عظام بالاتفاق حضرت خضر (علیہ السلام) کے زندہ ہونے کے قائل ہیں۔ صرف بعض محدثین نے اس کا انکار کیا ہے جن میں ابو یعلیٰ حنبلی (رح) اور قاضی ابوبکر بن عربی (رح) اور ابوبکر بن عیاش (رح) اور ابن جوزی (رح) اور ابن تیمیہ (رح) ہیں۔ یہ حضرات کہتے ہیں کہ حضرت خضر (علیہ السلام) وفات پا چکے ہیں اگر وہ زندہ ہوتے تو آنحضرت ﷺ کی خدمت بابرکت میں ضرور حاضر ہوتے اور آپ ﷺ پر ایمان لاتے اور آپ ﷺ کے ہمراہ جہاد کرتے حالانکہ یہ امر کہیں ثابت نہیں۔ نیز آیت وما جعلنا لبشر من قبلک الخلد سے استدلال کرتے ہیں کہ کسی بشر کے لیے خلود اور دوام نہیں اور نیز بخاری کی اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے اپنی وفات سے ایک ماہ قبل یہ ارشاد فرمایا لا یبقی ممن ہو علی وجہ الارض الیٰ مائت سنۃ کہ جو لوگ اس وقت روئے زمین پر زندہ ہیں وہ سو سال کے بعد باقی نہ رہیں گے اور وفات کے قول کو امام بخاری (رح) کی طرف بھی نسبت کرتے ہیں واللہ اعلم۔ مگر اہل علم پر مخفی نہیں کہ یہ استدلال نہایت ضعیف اور کمزور ہے یہ استدلال اگر صحیح ہوجائے تو اس سے تو ملائکہ اور جنات اور شیاطین سب کی وفات بھی ثابت ہوسکتی ہے بلکہ دجال کی موت بھی ثابت ہوسکتی ہے حالانکہ وہ بالا جماع زندہ ہے اور ایک جزیرہ میں محبوس ہے۔ جمہور علماء کا قول یہ ہے کہ خضر (علیہ السلام) تمام آدمیوں میں سب سے زیادہ طویل العمر ہیں۔ انہوں نے چشمہ حیات سے پانی پیا ہے اور ولی کامل ہیں۔ معمر (طویل العمر) اور محجوب عن الابصار یعنی عام نگاہوں سے پوشیدہ ہیں اور آنحضرت ﷺ سے ان کی ملاقات کا متعدد احادیث میں ذکر آیا ہے جن کا حافظ عسقلانی نے فتح الباری ص 311 جلد 6 میں ذکر کیا۔ وہ روایتیں اگرچہ زیادہ مستند نہیں لیکن موضوع اور بےاصل بھی نہیں اور اس بارے میں زیادہ مشہور، حدیث تعزیت ہے وہ یہ کہ آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد ایک سفید ریش بزرگ حضور پر نور ﷺ کے جنازہ پر آئے اور روئے اور لوگوں کو صبر کی تلقین کی اور غائب ہوگئے ان کے جانے کے بعد ابوبکر صدیق ؓ اور عمر فاروق اعظم ؓ نے لوگوں سے کہا کہ یہ خضر (علیہ السلام) تھے اور یہ حدیث مستدرک حاکم میں جابر بن عبداللہ اور انس بن مالک ؓ سے مروی ہے۔ (دیکھو تحفۃ الذاکرین شرح حصن حصین للشو کانی ص 261) اور بعض روایات میں اس طرح آیا ہے فقال ابوبکر و علی ھذا الخضر (ابوبکر ؓ اور علی ؓ نے کہا یہ خضر (علیہ السلام) ہیں) (دیکھو فتح الباری ص 311 ج ذکر حدیث الخضر مع موسیٰ علیہما السلام) اور کعب احبارؓ سے منقول ہے کہ چار پیغمبر زندہ ہیں جو زمین والوں کے لیے امان ہیں ان چار میں سے دو زمین میں ہیں خضر (علیہ السلام) اور الیاس (علیہ السلام) ۔ یہ دونوں نبی ہیں اور دونوں زندہ ہیں اور ہر سال موسم حج میں ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں۔ یہ دونبی تو زمین میں ہیں اور دو نبی آسمان پر زندہ ہیں ادریس (علیہ السلام) اور عیسیٰ علیہ السلام۔ (دیکھو فتح الباری ص 310 جلد 6 حدیث الخضر مع موسیٰ علیہما السلام) اور دیکھو تفسیر مظہری ص 62 جلد 6 پر مجدد صاحب کا کلام نقل کیا ہے۔ جو لطیف ہے۔ خلاصہ کلام یہ کہ اکثر علماء کا قول یہ ہے کہ خضر (علیہ السلام) ہمارے درمیان زندہ موجود ہیں اور صوفیائے کرام اور اولیائے عظام بلا اختلاف سب اسی پر متفق ہیں اور متفقہ طور پر حضرت خضر (علیہ السلام) سے اپنی ملاقاتوں کو بیان کرتے ہیں اور اولیائے کرام کی یہ حکایتیں حد تواتر کو پہنچی ہیں جو شمار سے باہر ہیں۔ (فتح الباری 310 ج 6) اور یہ امر قطعی اور بدیہی اور مسلم ہے کہ اولیاء کرام اہل کشف اور اہل الہام ہیں اور بلاشبہ یہ گروہ صادقین اور سچوں کا گروہ ہے۔ اس گروہ صادقین کے متفقہ مشاہدات اور مکاشفات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ پھر یہ کہ خضر (علیہ السلام) کی حیات کا مسئلہ امور تشریعیہ سے نہیں بلکہ امور تکوینیہ اور اسرار کونیہ کی جنس سے ہے۔ حضرت استاد مولانا سید انور شاہ قدس اللہ سرہ یہ فرمایا کرتے تھے کہ جب کسی مسئلہ میں علماء شریعت اور اولیائے طریقت کا اختلاف پاؤ تو یہ دیکھو کہ وہ مسئلہ امور تشریعیہ یعنی احکام شریعت سے متعلق ہے یا امور تکوینیہ یا اسرار کونیہ کے باب سے ہے، پس اگر وہ مسئلہ امور تشریعیہ یعنی حلال و حرام اور یجوز اور لا یجوز سے متعلق ہو تو اس وقت علماء شریعت کے قول اور فتویٰ کو ترجیح دینا کیونکہ علماء شریعت کا گروہ احکام شریعت سے خوب آگاہ ہے اور اگر وہ مسئلہ امور تکوینیہ اور اسرار کونیہ سے متعلق ہو اور افعال مکلفین سے اس کا تعلق نہ ہو تو اس جگہ اولیائے طریقت اور اہل معرفت و ارباب بصیرت کے قول کو ترجیح دینا کیونکہ یہ گروہ اہل کشف اور اہل الہام کا گروہ ہے اور بلاشبہ صادقین اور صالحین کا گروہ ہے۔ یہ گروہ جب اپنا کوئی مشاہدہ اور مکاشفہ بیان کرے تو عقلا و نقلا اس کو قبول کرنا ضروری ہے بخاری کی متعدد احادیث میں آیا ہے ارٰی رؤیاکم قد تواطئت علیٰ العشر الاو اخر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے خواب شب قدر کے بارے میں عشرہء اخیرہ پر متفق ہیں اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جس امر پر عباد الصالحین کے خواب متفق ہوجائیں وہ ضرور حق ہوگا۔ حدیث شریف میں ہے کہ مومن کا خواب کاذب نہیں ہوتا اسی طرح جب اہل الہام اور اہل کشف کے مکاشفات اور مشاہدات کسی چیز پر متفق ہوجائیں تو وہ لامحالہ حق ہوگی خاص کر جب علماء شریعت کا بھی وہی قول ہو کہ جس پر تمام صوفیاء اور اولیاء متفق ہوں تو اس کے قبول و تسلیم میں کوئی تردد ہی نہیں ہونا چاہیے اور حیات خضر (علیہ السلام) کا مسئلہ امور تکوینیہ میں سے ہے۔ لہٰذا اس بارے میں اہل کشف اور اہل الہام کے قول کو ترجیح ہوگی۔ واللہ اعلم و علمہ اتم و احکم۔ (5) موسیٰ (علیہ السلام) اور یوشع بن نون جب مقام مجمع البحرین پہنچے تو دونوں مچھلی کو بھول گئے اور وہ بھنی ہوئی مچھلی خدا کی قدرت سے زندہ ہو کر دریا میں چلی گئی اور وہاں اس نے اپنے لیے سرنگ اور طاق بنا لیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے یہ دو معجزے ہوئے ایک دو بھنی ہوئی مچھلی کا زندہ ہوجانا اور دوسرا یہ کہ پانی کا منجمد ہوجانا اور مچھلی کے لیے ایک طاق کا بن جانا۔ مردہ کا زندہ ہوجانا اور پھر دریا میں خشک راہ کی طرح سرنگ بن جانا یہ سب آیات قدرت اور دلائل نبوت تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو خضر (علیہ السلام) کے ملنے کی جگہ یہی نشانی بتلائی تھی کہ جہاں وہ ناشتہ کی مچھلی زندہ ہوجائے اور یہی ان کے ملنے کی جگہ ہے اس قسم کا معجزہ موسیٰ (علیہ السلام) کا سورة بقرہ میں گزر چکا ہے : ان اللہ یا مرکم ان تذبحوا بقرۃ۔۔۔ الیٰ قولہٖ تعالیٰ ۔۔ فقلنا اضربوہ ببعضھا کذٰلک یحی اللہ الموتیٰ و یر یکم اٰ یٰتہٖ لعلکم تعقلون۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوا کہ ایک گائے ذبح کی جائے اور اس کے کسی ٹکڑے کو مقتول پر لگا دو وہ خود ہی زندہ ہو کر اپنے قاتل کا نام بتا دے گا۔ نیز حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عصا کا معجزہ عطا کیا گیا تھا جو زمین پر ڈالنے سے اژدھا بن جاتا تھا۔ یہ بھی ایک قسم کا احیاء موتیٰ تھا بلکہ اس سے بڑھ کر تھا اور مچھلی کے زندہ ہوجانے کی نظیر آنحضرت ﷺ کے معجزات میں بھی موجود ہے کہ فتح خیبر کے بعد خیبر کی ایک یہودیہ نے آنحضرت ﷺ کی دعوت کی اور ایک بھنی ہوئی بکری لا کر آپ ﷺ کے سامنے رکھی جس میں زہر ملایا ہوا تھا۔ آپ ﷺ نے اس میں سے ایک دست کو لیا تو اس نے کہا یا رسول اللہ آپ ﷺ مجھے نہ کھائیے مجھ میں زہر ملایا گیا ہے آنحضرت ﷺ کا یہ معجزہ مچھلی کے معجزے سے بڑھ کر ہے۔ وہ تو فقط زندہ ہوگئی اور اس بکری کے دست نے آپ ﷺ سے باتیں کیں اور دشمنوں نے جو زہر اس میں ملایا تھا اس سے آپ ﷺ کو آگاہ کردیا اور علیٰ ہٰذا ستون حنانہ کا رونا اور پتھروں کا آپ ﷺ کو سلام کرنا اور سنگریزوں کا تسبیح پڑھنا اور درختوں کا آپ ﷺ کے حکم سے رواں ہونا یہ ایک مردہ کے فقط زندہ ہوجانے سے بڑھ کر ہے کیوں کہ یہ جمادات زندہ ہو کر بول رہے ہیں اور آپ ﷺ کی نبوت کی شہادت دے رہے ہیں۔ امام بیہقی (رح) نے دلائل نبوت میں سواد بن عمر (رح) سے روایت کیا ہے کہ امام شافعی (رح) نے فرمایا کہ اللہ نے جو معجزات آنحضرت ﷺ کو دئیے وہ کسی کو نہیں دئیے۔ سواد بن عمر (رح) کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے امام ! حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تو مردوں کو با ذن الہی زندہ کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کو احیاء موتیٰ کا معجزہ عطا فرمایا تھا (یعنی آپ ﷺ کو یہ معجزہ نہیں عطا کیا) اس پر امام شافعی (رح) نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے لیے خشک ستون کو زندہ کردیا جس سے سہارا لگا کر آنحضرت ﷺ خطبہ پڑھا کرتے تھے جب منبر تیار ہوگیا تو وہ خشک ستون تھا بچوں کی طرح رویا جس کے رونے کی آواز تمام حاضرین جمعہ نے سنی یہ معجزہ اس سے بڑھ کر ہے وجہ اس کی یہ ہے کہ خشک ستون کا آپ ﷺ کی مفارقت کے صدمہ سے رونا یہ اسکی کمال محبت کی دلیل ہے اور کمال معرفت کی دلیل ہے اور مچھلی کا سمندر میں راستہ بنالینا اور مچھلی کے چھونے سے پانی کا خشک اور منجمد ہوجانا اور اسی کے لیے مثل روشن دان کے بن جانا یہ معجزہ فلق البحر کے معجزہ کے مشابہ تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) جب رات کے وقت بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے نکلے تو سمندر میں ان کے لیے خشک راستے ہوگئے جیسا کہ قرآن کریم میں مذکور ہے، فاروق اعظم ؓ نے دشمن کے مقابلہ میں ایک لشکر روانہ کیا جس پر علاء بن حضرمی ؓ کو سردار مقرر کیا راستہ میں شدید گرمی پہنچی اور سخت پیاس لگی۔ راوی کہتا ہے کہ علاء بن حضرمی ؓ نے لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھائی اور ہاتھ اٹھا کر دعا کی آسمان پر کہیں ابر کا نام و نشان نہ تھا خدا کی قسم ! ابھی ہاتھ نیچے نہ کیے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک ٹھنڈی ہوا اور بادل بھیجا جس نے پانی انڈیل دیا اور پورا لشکر سیراب ہوگیا اور ہم نے اپنی مشکیں اور برتن سب بھر لیے پھر ہم دشمن کی طرف روانہ ہوئے راستہ میں ایک خلیج آگئی جس سے پار ہونا تقریبا ناممکن تھا۔ علاء بن حضرمی ؓ نے کنارے پر کھڑے ہو کر یہ کلمات پڑھے یا علی۔ یا عظیم۔ یا حلیم۔ یا کریم۔ پھر کہا بسم اللہ پڑھ کر گزرو اور پار ہوجاؤ۔ پس ہم بسم اللہ پڑھ کر روانہ ہوئے اور اپنی سواریوں کو خلیج میں ڈال دیا اور پار ہوگئے اور جانوروں کے کھر بھی پانی سے در نہ ہوئے اور پہنچ کر دشمن پر حملہ کیا اور بحمداللہ فتحیاب ہوئے اور دشمن کو قتل کیا اور گرفتار کیا۔ پھر لوٹ کر اسی خلیج پر پہنچے علاء بن حضرمی ؓ نے پہلے کی طرح کیا اور ہم اسی طرح خلیج سے پار ہو کر خشکی پر آگئے اور پانی کی کوئی تری ہم کو نہیں لگی۔ خطیب (رح) ان روایات کو نقل کر کے لکھتے ہیں کہ اس قسم کی کرامات کے بارے میں بکثرت احادیث آئی ہیں۔ (دیکھو تفسیر سراج منیر ص 319 جلد 2) قصہ ذوالقرنین
Ayahs 18:83–84

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنْ ذِی الْقَرْنَیْنِ١ؕ قُلْ سَاَتْلُوْا عَلَیْكُمْ مِّنْهُ ذِكْرًاؕ Open ayah 18:83 in the Quran reader

اور تم سے ذوالقرنین کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہہ دو کہ میں اس کا کسی قدر حال تمہیں پڑھ کر سناتا ہوں

اِنَّا مَكَّنَّا لَهٗ فِی الْاَرْضِ وَ اٰتَیْنٰهُ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ سَبَبًاۙ Open ayah 18:84 in the Quran reader

ہم نے اس کو زمین میں بڑی دسترس دی تھی اور ہر طرح کا سامان عطا کیا تھا

بود شا ہے در زمان پیش زیں ملک دنیا بودش وہم ملک دیں قال اللہ تعالیٰ ۔ و یسئلونک عن ذی القرنین۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ و کانوا لا یستطیعون سمعا۔ (ربط) شروع سورت میں اصحاب کہف کا قصہ ذکر فرمایا جو قریش کے دوسرے سوال کا جواب تھا۔ اب اخیر سورت میں ذوالقرنین کا قصہ ذکر فرماتے ہیں جو قریش کے تیسرے سوال کا جواب ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ذوالقرنین ایک عادل اور نیک دل بادشاہ تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے مشرق سے مغرب تک کی حکمرانی اور فرمانروائی عطا کی تھی اور روئے زمین کے تمام بادشاہ اس کے زیر فرمان تھے ظاہر میں وہ بادشاہ تھا مگر باطنی طور پر وہ اصحاب کہف سے زیادہ فقیر اور درویش تھا بادشاہت اور ولایت۔ امیری اور فقیری دونوں کا جامع تھا عجیب بادشاہ کہ اپنی نوع کا مجمع البحرین تھا۔ جس میں ظاہری اور باطنی سلطنت کے دونوں دریا جمع تھے۔ علماء شریعت یہ کہتے ہیں کہ ذوالقرنین کو ذوالقرنین اس لیے کہا گیا کہ وہ دنیا کے دونوں کناروں (مشرق و مغرب) پر پہنچ گیا اور مشرق سے لیکر مغرب تک دنیا کا فرماں روا اور بادشاہ بنا اور اولیائے طریقت یہ کہتے ہیں کہ اس کو ذوالقرنین اس لیے کہا گیا کہ اس کو علم ظاہری اور علم باطنی دونوں عطا کیے گئے تھے۔ (فتح الباری ص 272 ج 6 و عمدۃ القاری ص 327 ج 7) یہ ناچیز کہتا ہے۔ دونوں توجیہیں درست ہیں ظاہر کے اعتبار سے تو وجہ یہ ہے کہ وہ زمین کے دونوں کناروں پر پہنچ گیا اس لیے اس کو ذوالقرنین کہا گیا اور باطنی اور معنوی طور پر یہ وجہ بھی درست ہے کہ اس کو علم ظاہر اور باطن دونوں عطا ہوئے تھے اس لیے اس کو ذوالقرنین کہا گیا اور ہر ظاہر کے تحت ایک باطن ہوتا ہے اور یہ باطن اس ظاہر کے ماتحت ہوتا ہے اس لیے کہ ذوالقرنین اگرچہ ظاہر میں بادشاہ تھا مگر باطنی اور معنوی طور پر روئے زمین کو خانقاہ بنائے ہوئے تھا۔ اصحاب کہف، کافر و ظالم فرماں روا سے بھاگ کر پہاڑ کی غار میں جا کر چھپے اور ذوالقرنین یا جوج ماجوج جیسے ظالموں اور مفسدوں کو پہاڑ کے پیچھے دھکیل کر آہنی دیوار قائم کر رہا تھا کہ کوئی کافر اور ظالم اور فتنہ پرداز ملک میں داخل ہو کر فتنہ و فساد برپا نہ کرسکے۔ اصحاب کہف کافروں اور ظالموں سے ڈر کر غار میں جا کر چھپے اور ذوالقرنین جیسا بادشاہ مشرق سے لے کر مغرب تک کافروں اور ظالموں کو دھمکاتا ہوا چلا گیا۔ ذوالقرنین کا یہ قصہ جس طرح اس کی سلطنت اور شان و شوکت کے بیان پر مشتمل ہے اسی طرح اس کی کرامتوں اور خارق عادت کارناموں کے بیان پر بھی مشتمل ہے جو اس کے ولی کامل ہونے کے دلائل ہیں بلکہ اس کے احوال اور اعمال پر نظر کرنے سے یہ خیال ہوتا ہے کہ شاید ذوالقرنین بھی خضر (علیہ السلام) کی طرح نمونہء ملائکہ ہو جس میں شان ملکیت بکسراللام بمعنی بادشاہت اور شان ملکیت بفتح لام بمعنی فرشتہ ہونے کی کچھ صفت اور شان اس میں ودیعت کردی گئی ہو اور یہ خیال اس لیے ہوا کہ بعض علماء نے خضر (علیہ السلام) کی طرح ذوالقرنین کو بھی فرشتہ بتایا ہے اور صحیح یہ معلوم ہوتا ہے کہ ذوالقرنین فرشتہ تو نہ تھا بلکہ فرشتہ صفت انسان تھا جن کو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی قوت اور قدرت کا ایک نمونہ بنایا تھا۔ ذوالقرنین ابراہیم (علیہ السلام) کا ہمعصر تھا۔ ان پر ایمان لایا تھا ان کے صحابہ میں سے تھا۔ خانہ کعبہ کے سامنے ان سے ملا اور مصافحہ کیا اور دعا کی درخواست کی ان کی دعا کی برکت سے مشرق و مغرب کے سفر اس پر آسان ہوگیا اور خارق عادت اور محیر العقول فتوحات پر اس کو قدرت حاصل ہوئی اور خضر (علیہ السلام) اس کے وزیر با تدبیر یا امیر لشکر تھے اللہ تعالیٰ نے ذوالقرنین کو بادشاہت کے ساتھ علم و حکمت بھی عطا فرمائی اور ہیبت کا لباس پہنایا کہ تمام روئے زمین کے بادشاہ ان کے تابع تھے اور اس سے ڈرتے تھے۔ قریش نے یہود کی تلقین سے حضور پر نور ﷺ سے یہ سوال کیا تھا کہ وہ کون سا بادشاہ ہے جس نے مشرق و مغرب کا سفر کیا اور اس کا قصہ کیا ہے ان آیات میں ان کے سوال کے جواب میں ذوالقرنین کا قصہ بیان فرمایا کہ وہ ایک بادشاہ تھا اور مرد صالح تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے مشرق و مغرب کی حکومت اور خارق عادت شان و شوکت سے نوازا تھا اور ہر طرح کے ساز و سامان اس کے لیے مہیا کردیئے تھے جیسا کہ ارشاد ہے انا مکنا لہ فی الارض و اٰتینٰہ من کل شیء سببا جس طرح اللہ تعالیٰ نے سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ہوا کو مسخر کردیا تھا اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ذوالقرنین کے لیے اقطار ارض اور جوانب عالم کو مسخر کردیا تھا اور تمام راستوں کا علم اس کو عطا کردیا تھا۔ (عمدۃ القاری ص 338 ج 7 و زاد المیسر ص 184 جلد 5) روایت کیا گیا کہ چار آدمی تمام روئے زمین کے بادشاہ ہوئے جن میں سے دو مومن تھے اور دو کافر تھے دو مومن ذوالقرنین (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) تھے اور دو کافر بد بخت نصر اور نمرود تھے، اور پانچواں فرمانروا امام مہدی (علیہ السلام) ہیں جو اخیر زمانہ میں ظاہر ہوں گے اور تمام روئے زمین کے بادشاہ ہوں گے پہلے چار بادشاہ امم سابقہ میں سے تھے اور پانچویں بادشاہ امت محمدیہ ﷺ میں سے یعنی (امام مہدی علیہ السلام) ہوں گے۔ لیظھرہ علی الدین کلہٖ ۔ اور یہ ذوالقرنین جس کا ذکر قرآن کریم میں ہے اور جس کو سکندر بھی کہا گیا ہے۔ یہ سکندر یونانی کے علاوہ دوسرا بادشاہ ہے اور سکندر یونانی سے دو ہزار سال قبل گزرا ہے اور جس نے یہ گمان کیا کہ یہ ذوالقرنین وہی سکندر یونانی تھا جس نے اسکندریہ کو تعمیر کیا۔ وسو یہ گمان بالکل غلط ہے اس لیے کہ ذوالقرنین جس کا قصہ قرآن میں بیان ہوا وہ مرد مومن اور دیندار اور انصاف شعار بادشاہ تھا اور سکندر یونانی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہمعصر تھا اور خضر (علیہ السلام) اس کے وزیر با تدبیر یا امیر لشکر تھے اور سکندر یونانی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے وہ ہزار سال بعد پیدا ہوا اور وہ کافر اور مشرک تھا اور ارسطاطالیس اس کا وزیر تھا اور وہ فقط بیت المقدس تک پہنچا تھا مشرق و مغرب تک نہ پہنچا تھا اور نہ اس نے یاجوج ماجوج کے روکنے کے لیے کوئی دیوار بنائی تھی اور حق تعالیٰ نے قرآن کریم میں ذوالقرنین کا قصہ ذکر کیا ہے نہ کہ سکندر یونانی کا لہٰذا دونوں ایک کیسے ہوسکتے ہیں۔ (دیکھو عمدۃ القاری ص 337 ج 7 و فتح الباری ص 270 جلد 6 و قسطلانی ص 111 جلد 7، و تفسیر ابو داؤد) اور اس ذوالقرنین کا زمانہء سلطنت نمرود کے بعد ہے (دیکھو روح البیان ص 290 جلد 5 اور روح المعانی ص 27 جلد 6) یا یوں کہو کہ گزشتہ قصہ میں طلب علم کے لیے سفر کا بیان تھا اب اس قصہ میں انتطام مملکت اور قیام معدلت اور مغرور دین و متکبرین اور مفسدین کی سرکوبی کے لیے سفر کا بیان ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ بادشاہ کامل وہ ہے جو خدا کے ماننے والوں کے ساتھ نرمی کرے اور ظالموں اور مفسدوں کو سزا دے۔ چناچہ فرماتے ہیں اے نبی ! قریش مکہ یہود کے کہنے سے امتحانا آپ ﷺ سے ذوالقرنین کا حال پوچھتے ہیں کہ شاید آپ ﷺ کی نبوت میں قدح کرنے کا کوئی بہانہ مل جائے۔ آپ ﷺ ان کے جواب میں کہہ دیجیے کہ میں عنقریب تمہارے سامنے اس کا مختصر حال ذکر کروں گا اب آگے اس کا قصہ شروع ہوتا ہے وہ یہ کہ وہ ایک جلیل القدر بادشاہ تھا تحقیق ہم نے اس کو زمین میں بڑی قدرت اور غلبہ دیا تھا یعنی ہم نے اس کو اپنی رحمت اور عنایت سے روئے زمین کی حکومت عطا کی تھی۔ مشرق سے لے کر مغرب تک دنیا کو اس کے لیے مسخر کردیا تھا۔ اور ہم نے اس کو وہ تمام اسباب و وسائل عطا کیے تھے جو حکمرانی اور ملکی فتوحات اور دشمنوں کی سرکوبی میں کام آسکیں۔ زاد المیسر ص 184 جلد 5 میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ذوالقرنین کے لیے ابر کو مسخر کردیا تھا کہ ابر پر سوار ہو کر جہاں چاہتا جاتا۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ہوا کو مسخر کردیا تھا اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ذوالقرنین کے لیے بادل کو مسخر کردیا تھا اور ہر قسم کے اسباب و وسائل اس کے لیے مہیا کردیئے تھے اور زمین کی اطراف و جوانب اور اس کے راستوں کا علم بھی اسکو عطا کردیا تھا (دیکھو عمدۃ القاری ض 338 جلد 7) غرض یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ذوالقرنین کو وہ تمام چیزیں عطا کیں جو سلطنت کے لیے درکار ہوتی ہیں اور ہم نے اس کو وہ تمام اسباب و وسائل عطا کیے تھے اور زمین کی تمام راہیں اس کے لیے آسان کردیں کہ جہاں چاہے وہاں پہنچ سکے۔ مشرق سے مغرب تک کا سفر اس کے لیے آسان کردیا گیا۔ اس زمانہ میں ریل اور ہوائی جہاز اور تار برقی عجیب عجیب چیزیں خدا کی قدرت سے انسان کے لیے مہیا ہوگئیں تو کیا عجب ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنے کسی مقبول بندے کے لیے اس سے بڑھ کر عجیب عجیب سامان مہیا کر دئیے ہوں جو کسی صنعت اور کاریگری کے محتاج نہ ہوں جیسے احادیث میں آیا ہے کہ اخیر زمانہ میں امام مہدی (علیہ السلام) تمام روئے زمین کے مالک اور فرماں روا ہوں گے بلا شبہ اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ کسی کو تمام روئے زمین کا مالک بنا دے اور اس کے لیے اسباب و وسائل مہیا فرما دے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ذوالقرنین کے لیے ہر ضرورت کی چیز مہیا کردی تھی۔ زمین اس کے لیے لپیٹ دی گئی تھی۔ دم کے دم میں ہزاروں میل طے کرلیتا تھا جو خدا امریکہ اور روس کے لیے سامان مہیا کرسکتا ہے وہ ذوالقرنین اور سلیمان (علیہ السلام) کے لیے بھی مہیا کرسکتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرما دیاذوالقرنین نے اپنی عمر کے تین سفر کیے ایک مغرب کی طرف دوسرا مشرق کی طرف اور تیسرے سفر کی سمت اور جہت بیان نہیں کی ظاہرا یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ سفر شمال کی جانب تھا آئندہ آیات میں ان تین سفروں کا بیان ہے۔
Ayahs 18:85–88

فَاَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:85 in the Quran reader

تو اس نے سفر کا ایک سامان کیا

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِیْ عَیْنٍ حَمِئَةٍ وَّ وَجَدَ عِنْدَهَا قَوْمًا١ؕ۬ قُلْنَا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِمَّاۤ اَنْ تُعَذِّبَ وَ اِمَّاۤ اَنْ تَتَّخِذَ فِیْهِمْ حُسْنًا Open ayah 18:86 in the Quran reader

یہاں تک کہ وہ سورج کے غروب ہونے کی جگہ پہنچے تو اسے ایسا پایا کہ ایک کیچڑ کی ندی میں ڈدوب رہا ہے اور اس (ندی) کے پاس ایک قوم دیکھی ہم نے کہا ذوالقرنین ! تم کو ان کو خواہ تکلیف دو خواہ ان (کے بارے) میں بھلائی اختیار کرو (دونوں باتوں) کی تم کو قدرت ہے

قَالَ اَمَّا مَنْ ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُهٗ ثُمَّ یُرَدُّ اِلٰى رَبِّهٖ فَیُعَذِّبُهٗ عَذَابًا نُّكْرًا Open ayah 18:87 in the Quran reader

(ذوالقرنین) نے کہا کہ جو (کفر و بدکاری سے) ظلم کرے گا اسے ہم عذاب دیں گے پھر (جب) وہ اپنے پروردگار کی طرف لوٹایا جائے گا تو وہ بھی اسے برا عذاب دے گا

وَ اَمَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهٗ جَزَآءَ اِ۟لْحُسْنٰى١ۚ وَ سَنَقُوْلُ لَهٗ مِنْ اَمْرِنَا یُسْرًاؕ Open ayah 18:88 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے گا اور عمل نیک کرے گا اس کے لیے بہت اچھا بدلہ ہے اور ہم اپنے معاملے میں (اس پر کسی طرح کی سختی نہیں کریں گے بلکہ) اس سے نرم بات کہیں گے

سفر اول قال اللہ تعالیٰ ۔ فاتبع سببا حتٰیٓ اذا بلغ مغرب الشمس۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ وسنقول لہ من امرنا یسرا پس جب حق تعالیٰ نے ذوالقرنین کے لیے ہر قسم کا سامان مہیا کردیا جس سے وہ اپنے عزائم کو پورا کرسکے تو اس نے سفر شروع کیا۔ پہلا سفر اس کا یہ ہوا کہ اس نے بارادۂ فتوحات ملک مغرب کی راہ لی اور ایسا راستہ اختیار کیا کہ جو اسے مغرب تک پہنچا دے یہاں تک کہ جب سفر کرتے کرتے اور درمیانی ممالک کو فتح کرتے کرتے سورج ڈوبنے کی جگہ پہنچا۔ یعنی سمت مغرب میں منتہائے آبادی میں پہنچا جہاں آبادی ختم ہوتی تھی تو اس نے سورج کو سیاہ کیچڑ کے چشمے میں ڈوبتا ہوا پایا یعنی ظاہر نظر میں اس کو ایسا دکھائی دیا جیسے سمندر کا مسافر غروب کے وقت یہ دیکھتا ہے آفتاب سمندر میں ڈوب رہا ہے حالانکہ آفتاب آسمان پر ہوتا ہے مگر سمندر میں ڈوبتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ اسی طرح ذوالقرنین نے اس جگہ پہنچ کر سورج کو اپنی نگاہ میں ایسا پایا کہ وہ کیچڑ کے سیاہ چشمہ میں ڈوب رہا ہے ورنہ عقلا یہ کیسے ممکن ہے کہ آفتاب جیسا جسم عظیم جو زمین سے کئی ہزار گنا بڑا ہے اور زمین سے بہت بلند ہے وہ زمین کے ایک چشمہ میں ڈوب جائے۔ نیز آفتاب تو ہر وقت حرکت میں رہتا ہے آفاق پر سے گزرتا ہے کہیں اسکا طلوع ہوتا ہے اور کہیں اسکا غروب ہوتا ہے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ذوالقرنین جب ساحل غربی پر پہنچا تو وہ ایسی جگہ تھی کہ وہ دلدل اور کیچڑ تھی کی آدمی کا وہاں گذر نہ تھا آگے زمین نہ تھی یہ جگہ زمین کا کنارہ تھی۔ آگے سوائے پانی کے کچھ نہ تھا اس لیے اس کو ایسا نظر آیا کہ سورج کیچڑ کے چشمہ میں ڈوب رہا ہے۔ اس وقت اس کی نگاہ میں سوائے کیچڑ اور دلدل کے کچھ نہ تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا وجدھا تغرب یعنی اپنی نگاہ میں سورج کو ایسا پایا اور یہ نہیں فرمایا کہ کانت تغرب۔ کہ سورج فی الواقع کیچڑ میں ڈوب رہا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ خبر نہیں دی کہ سورج فی الواقع کیچڑ میں ڈوب رہا تھا بلکہ یہ بتلایا کہ ذوالقرنین نے اس کو ایسا پایا۔ معاذ اللہ یہ مطلب ہرگز نہ تھا کہ سورج فی الواقع سیاہ کیچڑ میں گھس گیا تھا یا اس کے اندر اتر گیا تھا یا اس میں جا کر چھپ گیا تھا۔ کیچڑ کے ایک چشمہ میں اتنی گنجائش کہاں سے آئی کہ وہ آفتاب جیسے جرم عظیم کو اپنے اندر سما سکے آفتاب تو زمین سے بہت بلند ہے وہ زمین سے ملاصق اور ملا ہوا نہیں اور اس قدر برا ہے کہ زمین کے چشمہ میں نہیں آسکتا اور نہ ا میں اتر سکتا ہے۔ فائدہ : ایک قرأت میں عین حمءۃ کے بجائے عین حامیۃ آیا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ گرم چشمہ میں آفتاب کو غروب ہوتے ہوئے پایا اور اس کو ایسا نظر آیا کہ آفتاب گرم پانی کے چشمہ میں ڈوب رہا ہے۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ واقع میں بھی ایسا ہی ہوا اور یہ دونوں قرأتیں معروف ہیں معنی کے اعتبار سے دونوں میں کوئی منافات نہیں۔ بہر حال مطلب یہ ہے کہ ذوالقرنین برابر چلتا رہایہاں تک کہ جب خشکی کی حد ختم ہوگئی اور جہاں تک آدمی جاسکتا تھا وہاں تک ذوالقرنین پہنچ گیا تو اس جگہ پہنچ کر ذوالقرنین نے آفتاب کو سیاہ کیچڑ یا گرم پانی کے چشمہ میں ڈوبتے ہوئے پایا۔ اس کے بعد حق تعالیٰ نے اس سے آگے جانے کا ذکر نہیں فرمایا ظاہر تو یہ ہے کہ اس سے آگے نہیں گیا اور ممکن ہے کہ شاید آگے بھی گیا ہو واللہ اعلم۔ اور پھر اس جگہ جہاں پانی کی کیچڑ میں اس کو سورج ڈوبتا ہوا نظر آیا وہاں اس نے ایک قوم کو آباد پایا جو کافر تھی جیسا کہ اگلی آیت و اما من ظلم۔ الخ اس پر دلالت کرتی ہے تو ہم نے ذوالقرنین سے بطور الہام یا کسی نبی کے ذریعے یہ کہا اے ذوالقرنین تجھ کو اس کافر قوم کے بارے میں اختیار ہے یا تو ان کافروں کو سزا دے یعنی ان کو کفر کی سزا میں قتل کرے یا قید کرے یا غلام بنا دے یا یہ کہ تو ان پر احسان کرے کہ فدیہ لے کر ان کو زندہ چھوڑ دے بہر حال تجھ کو اختیار ہے ان دو باتوں کے درمیان۔ ذوالقرنین نے عرض کیا کہ میں اول اس قوم کو ملت ابراہیمی کی دعوت دون گا لیکن اس دعوت کے بعد جو شخص کفر اور شرک کر کے اپنی جان پر ظلم کرے گا سو عنقریب ہم یعنی میں اور میرے ارکان دولت اور حکام حکومت دنیا میں اس کو سزا دیں گے یعنی اس کو قتل کریں گے یہ سزا تو دنیا میں ہوگی پھر وہ مرنے کے بعد آخرت میں اپنے پروردگار کی طرف لوٹا دیا جائے گا پھر اللہ عزوجل اس کو دوزخ کی سزا دے گا اور میری دعوت کے بعد جو ایمان لے آئے گا اور نیک عمل کرے گا تو آخرت میں اس کو نیک بدلہ ملے گا۔ اور ہم بھی دنیا میں اس کے ساتھ آسانی کا معاملہ کریں گے یعنی اس کو مشقت اور محنت میں نہ ڈالیں گے۔ بلکہ اس کے ساتھ رعایت اور نرمی کا معاملہ کریں گے اور جو میری دعوت سے روگردانی کرے گا وہ مستوجب سزا ہوگا۔ عادل فرماں روا کی یہی راہ ہے کہ بروں کو سزا دے اور بھلوں سے نرمی کرے۔
Ayahs 18:89–91

ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:89 in the Quran reader

پھر اس نے ایک اور سامان سفر کا کیا

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَطْلُعُ عَلٰى قَوْمٍ لَّمْ نَجْعَلْ لَّهُمْ مِّنْ دُوْنِهَا سِتْرًاۙ Open ayah 18:90 in the Quran reader

یہاں تک کہ سورج کے طلوع ہونے کے مقام پر پہنچا تو دیکھا کہ وہ ایسے لوگوں پر طلوع کرتا ہے جن کے لئے سورج کے اس طرف کوئی اوٹ نہیں بنائی تھی

كَذٰلِكَ١ؕ وَ قَدْ اَحَطْنَا بِمَا لَدَیْهِ خُبْرًا Open ayah 18:91 in the Quran reader

حقیقت الحال یوں (تھی) اور جو کچھ اس کے پاس تھا ہم کو اس کی خبر تھی

سفر دوم قال اللہ تعالیٰ ۔ ثم اتبع سببا حتٰیٓ اذا بلغ مطلع الشمس۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ بما لدیہ خبرا۔ پھر اس سفر سے فارغ ہو کر اور مغربی ممالک کو فتح کرلینے کے بعد ایک دوسری راہ چلا یعنی مغرب الشمس سے مطلع الشمس کی راہ لی تاکہ مشرقی ممالک کو بھی فتح کرے اور ان کو دین حق کی دعوت دے اور جو اس سے سرتابی کرے اس کو ذلیل و کو ار کرے پس برابر چلتا رہا۔ یہاں تک کہ جب مسافت قطع کر کے زمین کے اس مقام پر پہنچا جہاں اول طلوع آفتاب سے دھوپ پڑتی ہے۔ یعنی جہت مشرق میں منتہائے آبادی پر پہنچا تو اس نے آفتاب کو ایسی قوم پر طلوع ہوتے دیکھا جن کے لیے ہم نے سورج سے درے کوئی پردہ اور بچاؤ نہیں رکھا تھا۔ یعنی وہ لوگ جنگلی اور وحشی تھے۔ حیوانوں کی سی زندگی بسر کرتے تھے خیمے اور مکانات نہیں رکھتے تھے۔ کوئی ستر اور لباس نہیں رکھتے تھے۔ ننگے رہتے تھے ان کا لباس ہی آفتاب تھا گھر بنانا نہیں جانتے تھے کہ سورج کی دھوپ سے بچ سکیں۔ زیر زمین سرنگیں بنا رکھی تھیں۔ جب سورج طلوع ہوتا تو ان میں گھس جاتے۔ اور زوال کے بعد طلب معاش کے لیے غارون سے باہر نکلتے اور الغرض ذوالقرنین کا قصہ اسی طرح ہے جو ہم نے بتلا دیا ہے اور باقی اس ذوالقرنین کے پاس جو لشکر اور ساز و سامان تھا ہم اس سے پورے باخبر ہیں ہمارا علم اس کو احاطہ کی ہوئے ہے ہمارے سوا کسی کو کیا معلوم مطلب یہ ہے کہ فی الحقیقت واقعہ اتنا ہے جتنا ہم نے بتلا دیا باقی تاریک والے اس کے سوا جو کہتے اور لکھتے ہیں وہ یقینی نہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ ذوالقرنین کو یہ شوق ہوا تھا کہ دیکھے دنیا کہاں تک بستی ہے مشرق اور مغرب تک پہنچا مگر اللہ تعالیٰ کے ملک کی حد نہ پا سکا۔ یہ سفر بھی تمام ہو اس کے بعد ایک اور سفر کا بیان ہوتا ہے۔