18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 18:45–49

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ فَاَصْبَحَ هَشِیْمًا تَذْرُوْهُ الرِّیٰحُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقْتَدِرًا Open ayah 18:45 in the Quran reader

اور ان سے دنیا کی زندگی کی مثال بھی بیان کردو (وہ ایسی ہے) جیسے پانی جسے ہم نے آسمان سے برسایا تو اس کے ساتھ زمین کی روئیدگی مل گئی پھر وہ چورا چورا ہوگئی کہ ہوائیں اسے اڑاتی پھرتی ہیں اور خدا تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

اَلْمَالُ وَ الْبَنُوْنَ زِیْنَةُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ اَمَلًا Open ayah 18:46 in the Quran reader

مال اور بیٹے تو دنیا کی زندگی کی (رونق و) زینت ہیں اور نیکیاں جو باقی رہنے والی ہیں وہ ثواب کے لحاظ سے تمہارے پروردگار کے ہاں بہت اچھی اور امید کے لحاظ سے بہت بہتر ہیں

وَ یَوْمَ نُسَیِّرُ الْجِبَالَ وَ تَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً١ۙ وَّ حَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًاۚ Open ayah 18:47 in the Quran reader

اور جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور تم زمین کو صاف میدان دیکھو گے اور ان (لوگوں کو) ہم جمع کرلیں گے تو ان میں سے کسی کو بھی نہیں چھوڑیں گے

وَ عُرِضُوْا عَلٰى رَبِّكَ صَفًّا١ؕ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍۭ١٘ بَلْ زَعَمْتُمْ اَلَّنْ نَّجْعَلَ لَكُمْ مَّوْعِدًا Open ayah 18:48 in the Quran reader

اور سب تمہارے پروردگار کے سامنے صف باندھ کر لائے جائیں گے (تو ہم ان سے کہیں گے کہ) جس طرح ہم نے تم کو پہلی بار پیدا کیا تھا (اسی طرح آج) تم ہمارے سامنے آئے لیکن تم نے تو یہ خیال کر رکھا تھا کہ ہم نے تمہارے لئے (قیامت کا) کوئی وقت مقرر نہیں کیا

وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْهِ وَ یَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَةً وَّ لَا كَبِیْرَةً اِلَّاۤ اَحْصٰىهَا١ۚ وَ وَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا١ؕ وَ لَا یَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا۠ Open ayah 18:49 in the Quran reader

اور (عملوں کی) کتاب (کھول کر) رکھی جائے گی تو تم گنہگاروں کو دیکھو گے کہ جو کچھ اس میں لکھا ہوگا اس سے ڈر رہے ہوں گے اور کہیں گے کہ ہائے شامت یہ کیسی کتاب ہے کہ نہ چھوٹی بات کو چھوڑتی ہے اور نہ بڑی بات کو (کوئی بات بھی نہیں) مگر اسے لکھ رکھا ہے اور جو عمل کئے ہوں گے سب کو حاضر پائیں گے اور تمہارا پروردگار کسی پر ظلم نہیں کرے گا

دنیا کے فناء وزوال کی ایک مثال قال اللہ تعالیٰ واضرب لہم مثل الحیوۃ الدنیا کماء انزلنہ .... الیٰ .... ولا یظلم ربک احدا۔ (ربط) گزشتہ آیات میں دو شخصوں کی مثال بیان کی تھی جس سے دنیا کی بےثباتی اور ناپائیداری کو بتلانا مقصود تھا اب پھر دنیا کی بےثباتی کے لئے ایک دوسری مثال بیان فرماتے ہیں تاکہ دنیا کی اندرونی حقیقت ظاہر ہوجائے اور لوگ اس کی ظاہری زیب وزینت کو دیکھ کر فریفتہ نہ ہوں اور اس کی ظاہری آرائش سے دھوکہ نہ کھائیں اور سمجھ جائیں کہ یہ دنیا ہیچ ہے۔ قابل فخر نہیں قابل فخر اور قابل شکر باقیات صالحات یعنی اعمال صالحہ ہیں جن کے مقابلہ میں ساری دنیا کی آرائش اور زیبائش ہیچ ہے۔ دنیا تو خسیس ہے اگر نفیس کی خواہش ہے تو آخرت کی تیاری کریں اور آخرت کے لیے کوئی ذخیرہ اور خزینہ تیار کریں اور وہ خزانہ اعمال صالح کا ہے دیکھ لو کہ ابلیس تکبر اور اپنی اصل پر غرور کی وجہ سے کیسا ذلیل و خوار ہو کر نکلا۔ اور آخر میں فرمایا کہ قوم عاد اور ثمود کی بستیوں کو دیکھ لیں کہ تکبر اور غرور کی وجہ سے کیسے ہلاک ہوئے خلاصہ کلام یہ ہے کہ اس آیت سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ یہ متکبرین ایک حقیر اور فانی چیز پر فخر کر رہے ہیں حالانکہ ایک خسیس اور سریع الزوال چیز پر فخر کرنا نادانی ہے۔ پھر قیامت کے ہولناک منظر کو بیان کیا کہ اس دنیا کے فناء وزوال کے بعد جب قیامت قائم ہوگی تو اس وقت ایمان اور عمل صالح کام آئے گا۔ دنیا کی مال و دولت کچھ کام نہ آئے گی چناچہ فرماتے ہیں اور اے نبی آپ ﷺ ان کافروں کے لئے جو اموال و اولاد پر فخر کرتے ہیں دنیاوی زندگی کی مثال بیان کر دیجئے کہ وہ کیسی ہری بھری معلوم ہوتی ہے اور پھر کیسی جلدی زائل اور فنا ہوجاتی ہے وہ ایسی ہے جیسے ہم نے آسمان سے پانی برسایا پھر اس پانی کے ذریعہ سے گنجان روئیدگی حاصل ہوئی۔ جس سے وہ زمین تروتازہ اور سرسبز و شاداب ہوگئی اور خوش نما معلوم ہونے لگی پھر آخر کار وہ خشک ہو کر ریزہ ریزہ ہوگئی جس کو ہوائیں اڑانے لگیں اور اللہ تعالیٰ ہر شئی پر قادر ہے وہی اپنی قدرت سے سبزہ اگاتا ہے اور پھر اس کو خشک کرکے ہوا میں اڑاتا ہے۔ اسی طرح دنیا کا حال ہے کہ اول اول سبزہ اور کھیتی کی مانند تروتازہ اور خوش نما معلوم ہوتی ہے اور خوب بہار دکھاتی ہے پھر جس طرح چند روز کے بعد سبزہ سوکھ کر ریزہ ریزہ ہوجاتا ہے اور دائیں اور بائیں ہوائیں اس کو اڑا لے جاتی ہیں اسی طرح چند روز بعد یہ دنیا بھی فنا ہوجائے گی۔ لہٰذا چند روزہ رونق اور بہار پر پھولنا اور اترانا عقل کا کام نہیں خوب سمجھ لو کہ جس خدا نے تم کو آل و اولاد کی زینت عطا کی ہے وہ اس کے فناء کرنے پر بھی قادر ہے مال اور بیٹے جن پر کافر اتراتے ہیں اور فخر کرتے ہیں محض دنیاوی زندگی کی زینت ہیں زاد آخرت نہیں اور ایسی چیز پر دل لگانا اور فخر کرنا جو چند روز کے بعد زائل ہوجائے اور آخرت میں کچھ کام نہ آئے عاقل کا کام نہیں حضرت علی ؓ سے منقول ہے کہ مال اور بیٹے دنیا کی کھیتی ہے اور اعمال صالحہ آخرت کی کھیتی ہے اور باقی رہنے والی نیکیاں یعنی وہ اعمال صالحہ جو خالص اللہ کے لئے کئے گئے ہوں اور طمع اور غرض کا شائبہ اس میں نہ ہو وہ تیرے پروردگار کے نزدیک ثواب کے اعتبار سے خوب تر ہیں اور باعتبار امید اور توقع کے بہتر ہیں یعنی اعمال صالحہ پر اللہ تعالیٰ سے اچھی امید رکھی جاسکتی ہے کیونکہ اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ جو نیک عمل کرے گا وہ بہشت میں من مانی مراد پائے گا اس کے سوا تمام امیدیں موہوم ہیں اعمال صالحہ کا ثمرہ دائمی اور باقی ہے اور غیر اعمال صالحہ کا نتیجہ وقتی اور عارضی ہے۔ باقیات صالحات کی تفسیر میں سلف اور خلف سے مختلف اقوال منقول ہیں (قول اول) ابن عباس ؓ وغیرہ سے منقول ہے کہ باقی رہنے والی نیکیاں سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر ولاحول لا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔ یہ کلمات ماثورہ ہیں اور اس کی تائید مرفوع حدیثوں سے بھی ہوتی ہے۔ قول دوئم : باقیات صالحات سے نماز ہائے پنجگانہ مراد ہیں۔ قوم سوئم : باقیات صالحات سے وہ تمام اعمال صالحہ مراد ہیں جن کے ثمرات باقی رہنے والے ہیں جیسے کسی کو علم سکھایا جائے جو جاری رہے یا کوئی نیک رسم جاری کرے یا مسجد یا کنواں یا سرائے یا باغ یا کھیت خدا کے لئے وقف کر جائے یا اولاد کو تربیت کرکے صالح یا عالم یا عمل چھوڑ جاتے تو یہ سب صدقات جاریہ ہیں جن کا ثواب مرنے کے بعد بھی اس کو ملتا رہے گا اور یہی قول سب اقوال میں راجح اور صحیح ہے اور یہی قول سب سے اعم اور اشمل ہے جس میں نماز اور اعمال حج اور روزہ اور کلمات ماثورہ سبحان اللہ والحمدللہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم وغیرہ وغیرہ اور تمام پاکیزہ اقوال اور افعال جن کا ثمرہ آخرت کے لیے باقی رہے وہ سب باقیات صالحات میں داخل ہیں اور اسی قول کو امام طبری (رح) اور حافظ ابن کثیر (رح) نے اختیار فرمایا ہے۔ خلاصہ کلام یہ کہ باقیات صالحات کی تلقین سے آخرت کی ترغیب مراد ہے کہ اس کے لیے تیاری کریں اب آئندہ آیات میں قیامت کے ہولناک واقعات سے آگاہ کرنے کے لئے چند انواع کا ذکر فرمایا۔ (نوع اول) ویوم نسیر الجبال اور اس دن کو یاد کرنا چاہئے کہ جس دن ہم پہاڑوں کو انکی جگہوں سے ہٹا کر چلا دیں گے جن کا وجود اور بقاء لوگوں کی نظروں میں مستحکم ہے ان کو روئی کے گالوں کی طرح اڑا دیں گے۔ (نوع دوم) وتری الارض بارزۃ اور تو اس دن زمین کو کھلا ہوا چٹیل میدان دیکھے گا نہ اس پر کوئی پہاڑ ہوگا نہ درخت نہ مکان پوری طرح زمین قاع صفصف ہوگی یعنی برابر اور ہموار میدان ہوگی نہ اس میں اونچائی ہوگی نہ نچائی کسی چیز کا اس پر نام و نشان نہ ہوگا زمین کے مردے اور اس کے خزینے اندر سے نکل کر سب باہر آجائیں گے غرض یہ کہ اس دن زمین صاف ہموار میدان بن جائے گی اور کوئی چیز زمین کے جوف (پیٹ) میں نہ رہے گی اس کا اندرونی جوف سب ظاہر ہوجائے گا۔ (نوع سوئم) اور اس دن ہم سب لوگوں کو میدان حشر میں حساب و کتاب کے لیے جمع کریں گے پھر ہم اولین و آخرین میں سے بغیر جمع کئے کسی کو نہیں چھوڑیں گے کہ وہاں نہ لایا جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ پر نہ بھول چوک ممکن ہے نہ عجز ممکن ہے قل ان الاولین والاخرین لمجموعون الی میقات یوم معلوم۔ (نوع چہارم) وعرزموا علی ربک صفا اور اس دن تمام اولین و آخرین حساب کے لیے تیرے پروردگار کے روبرو کھڑے کئے جائیں گے یعنی اس دن تمام لوگ حساب کے لیے احکم الحاکمین کے روبرو کھڑے کئے جائیں گے کما قال تعالیٰ یوم یقوم الناس لرب العالمین۔ (نوع پنجم) لقد جئتموانا کما خلقناکم اول مرۃ : پھر پیش ہونے کے بعد منکرین قیامت کو ملامت کی جائے گی اور سن سے کہا جائے گا البتہ تحقیق تم آج ہمارے حضور میں حاضر ہوئے ہو بےحشمت و وقار اور بےخدمت گار اور بےمال و منال اور بے کرتے پاجامے ننگے بےپروبال جیسا ہم نے تم کو پہلی بار پیدا کیا تھا اب تو تم نے آنکھوں سے دیکھ لیا اور تم کو یقین آگیا کہ خدا تعالیٰ کس طرح دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے اور وہ اموال و اولاد اور وہ باغات و مکانات جن پر تم فخر کیا کرتے تھے ان میں سے کوئی چیز اس وقت تمہارے پاس نہیں جس طرح پہلی مرتبہ تم ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتے تھے اسی طرح پھر تم کو پیدا کیا گیا ہے تم کو چاہئے تھا کہ پہلی مرتبہ کی پیدائش دیکھ کر تم دوسری مرتبہ کی پیدائش کے قائل ہوجاتے مگر تم قاتل نہ ہوئے۔ بلکہ تم نے دینا میں یہ گمان کیا کہ ہم تمہارے حساب کے لئے کوئی وقت موعود نہ لائیں گے۔ یعنی تم قیامت کو جھوٹ سمجھتے تھے اور دنیاوی حیات پر مغرور اور مفتون تھے اس لئے تم نے پیغمبروں کی تکذیب کی اور آخرت کے ماننے والوں پر طعن کیا اور ان کو ذلیل و خوار جانا اور بےیارومددگار سمجھ کر ان کو ستایا تمہارا سارا گھمنڈ ختم ہوا اب خالی ہاتھ آئے ہو اس وقت اللہ کے آگے ننگے پاؤں اور ننگے بدن اور غیر مختون محشور ہوئے ہو۔ یعنی ختنہ کے وقت تمہارے بدن کی جو ذرا کھال کٹ گئی تھی وہ بھی واپس کردی گئی۔ دیکھ لیا کہ خدا تعالیٰ کس طرح دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے۔ (نوع ششم) ووضع الکتب فتری المجرمین مشفقین مما فیہ ویقولون یویلتنا مال ھذا الکتب لا یغادر صغیرۃ ولا کبیرۃ الا احصھا اور اس دن ہر شخص کا نامہ اعمال اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا پس تو اس دن مجرموں کو دیکھے گا کہ خوف سے ڈرنے والے اور کانپنے والے ہوں گے ان جرائم کی سزا کے ڈر سے جو ان کے نامہ اعمال میں درج ہوں گے اور کہیں گے ہائے ہماری کم بختی یہ کیسی کتاب ہے کہ نہ چھوٹی بات کو چھوڑتی ہے نہ بڑی بات کو مگر سب کو گھیرے میں لیے ہوئے ہے کراما کاتبین نے ایک ایک ذرہ لکھ دیا ہے کوئی چیز چھوڑی نہیں یہ بات وہ اپنے نامہ اعمال کو پڑھ کر کہیں گے۔ (نوع ہفتم) ووجدوا ما عملوا حاضرا ولا یظلم ربک احدا : اور جو انہوں نے دنیا میں کیا تھا وہ سب اس نامہ اعمال میں لکھا ہوا موجود پائیں گے تاکہ ان پر حجت قائم ہو اور تیرا پروردگار کسی پر ظلم نہیں کرتا نہ وہ کسی کو بےقصور پکڑتا ہے اور نہ کسی کی نیکی کو ضائع کرتا ہے اور کسی کی نیکی کو ضائع کرتا ہے اس وقت جو کچھ تم دیکھ رہے ہو وہ سب تمہارے عمل کا پھل ہے۔ ف
Ayahs 18:50–59

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّهٖ١ؕ اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ وَ ذُرِّیَّتَهٗۤ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِیْ وَ هُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ١ؕ بِئْسَ لِلظّٰلِمِیْنَ بَدَلًا Open ayah 18:50 in the Quran reader

اور جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس (نے نہ کیا) وہ جنات میں سے تھا تو اپنے پروردگار کے حکم سے باہر ہوگیا کیا تم اس کو اور اس کی اولاد کو میرے سواء دوست بناتے ہو حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں (اور شیطان کی دوستی) ظالموں کے لئے (خدا کی دوستی کا) برا بدل ہے

مَاۤ اَشْهَدْتُّهُمْ خَلْقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَا خَلْقَ اَنْفُسِهِمْ١۪ وَ مَا كُنْتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّیْنَ عَضُدًا Open ayah 18:51 in the Quran reader

میں نے ان کو نہ تو آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے کے وقت بلایا تھا اور نہ خود ان کے پیدا کرنے کے وقت اور میں ایسا نہ تھا کہ گمراہ کرنے والوں کو مددگار بناتا

وَ یَوْمَ یَقُوْلُ نَادُوْا شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهُمْ وَ جَعَلْنَا بَیْنَهُمْ مَّوْبِقًا Open ayah 18:52 in the Quran reader

اور جس دن خدا فرمائے گا کہ (اب) میرے شریکوں کو جن کی نسبت تم گمان (الوہیت) رکھتے تھے بلاؤ تو وہ ان کو بلائیں گے مگر وہ انکو کچھ جواب نہ دینگے اور ہم ان کے بیچ میں ایک ہلاکت کی جگہ بنادیں گے

وَ رَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَ لَمْ یَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا۠ Open ayah 18:53 in the Quran reader

اور گنہگار لوگ دوزخ کو دیکھیں گے تو یقین کرلیں گے کہ وہ اس میں پڑنے والے ہیں اور اس سے بچنے کا کوئی راستہ نہ پائیں گے

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِلنَّاسِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ اَكْثَرَ شَیْءٍ جَدَلًا Open ayah 18:54 in the Quran reader

اور ہم نے اس قرآن میں لوگوں (کے سمجھانے کے) لئے طرح طرح کی مثالیں بیان کی ہیں لیکن انسان سب چیزوں سے بڑھ کر جھگڑالو ہے

وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْۤا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰى وَ یَسْتَغْفِرُوْا رَبَّهُمْ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمْ سُنَّةُ الْاَوَّلِیْنَ اَوْ یَاْتِیَهُمُ الْعَذَابُ قُبُلًا Open ayah 18:55 in the Quran reader

اور لوگوں کے پاس جب ہدایت آگئی تو ان کو کس چیز نے منع کیا کہ ایمان لائیں اور اپنے پروردگار سے بخشش مانگیں بجز اس کے کہ (اس بات کے منتظر ہوں کہ) انھیں بھی پہلوں کا سا معاملہ پیش آئے یا ان پر عذاب سامنے آموجود ہو

وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١ۚ وَ یُجَادِلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ وَ اتَّخَذُوْۤا اٰیٰتِیْ وَ مَاۤ اُنْذِرُوْا هُزُوًا Open ayah 18:56 in the Quran reader

اور ہم جو پیغمبروں کو بھیجا کرتے ہیں تو صرف اس لئے کہ (لوگوں کو خدا کی نعمتوں کی) خوشخبریاں سنائیں اور (عذاب سے) ڈرائیں اور جو کافر ہیں وہ باطل (کی سند) سے جھگڑا کرتے ہیں تاکہ اس سے حق کو پھسلا دیں اور انہوں نے ہماری آیتوں کو اور جس چیز کو انکو ڈرایا جاتا ہے ہنسی بنا لیا ہے

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ فَاَعْرَضَ عَنْهَا وَ نَسِیَ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُ١ؕ اِنَّا جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِنْ تَدْعُهُمْ اِلَى الْهُدٰى فَلَنْ یَّهْتَدُوْۤا اِذًا اَبَدًا Open ayah 18:57 in the Quran reader

اور اس سے ظالم کون جس کو اسکے پروردگار کے کلام سے سمجھایا گیا تو اس نے اس سے منہ پھیرلیا اور جو اعمال وہ آگے کرچکا اسکو بھول گیا ہم نے انکے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں کہ اسے سمجھ نہ سکیں اور کانوں میں ثقل (پیدا کردیا ہے کہ سن نہ سکیں) اور اگر تم ان کو راستے کی طرف بلاؤ تو کبھی راستے پر نہ آئیں گے

وَ رَبُّكَ الْغَفُوْرُ ذُو الرَّحْمَةِ١ؕ لَوْ یُؤَاخِذُهُمْ بِمَا كَسَبُوْا لَعَجَّلَ لَهُمُ الْعَذَابَ١ؕ بَلْ لَّهُمْ مَّوْعِدٌ لَّنْ یَّجِدُوْا مِنْ دُوْنِهٖ مَوْئِلًا Open ayah 18:58 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار بخشنے والا صاحب رحمت ہے اگر وہ ان کے کرتوتوں پر ان کو پکڑنے لگے تو ان پر جھٹ سے عذاب بھیج دے مگر ان کے لئے ایک وقت (مقرر کر رکھا ہے) کہ اس کے عذاب سے کوئی پناہ کی جگہ نہ پائیں گے

وَ تِلْكَ الْقُرٰۤى اَهْلَكْنٰهُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا وَ جَعَلْنَا لِمَهْلِكِهِمْ مَّوْعِدًا۠ Open ayah 18:59 in the Quran reader

اور یہ بستیاں (جو ویران پڑی ہیں) جب انہوں نے (کفر سے) ظلم کیا تو ہم نے انکو تباہ کردیا اور انکی تباہی کے لئے ایک وقت مقرر کردیا تھا

گندم از گندم بروید جو زجو از مکافات عمل غافل مشو غرور اور تکبر کا حال اور مال قال اللہ تعالیٰ واذا قلنا للملئکۃ اسجدوا لادم .... الیٰ .... وجعلنا لمہلکم موعدا۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اہل دولت کے غرور اور تکبر کا حال بیان کیا اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ تمام خرابیوں کی جڑ یہی تکبر ہے جس کا آغاز ابلیس لعین سے ہوا اور تواضع اور نیاز مندی اور حق کے سامنے سر تسلیم خم کردینا بھی تمام بھلائیوں اور خوبیوں کی جڑ ہے۔ جس کا آغاز حضرت آدم (علیہ السلام) سے ہوا یہ تمہارے باپ کا طریقہ ہے لہٰذا تم کو چاہئے کہ اپنے باپ آدم (علیہ السلام) کے طریقہ پر چلو پس خوب سمجھ لو کہ جو دولت مند کفر کرتے ہیں اور اپنے مال و دولت پر فخر کرتے ہیں اور فقراء مسلمین اور درویشان اسلام کو حقیر سمجھتے ہیں وہ سب ابلیس لعین کے مقتدی اور متبع ہیں جس طرح شیطان نے غرور کیا اور آدم (علیہ السلام) کو حقیر سمجھا اسی طرح یہ مال دار مشرک غریب مسلمانوں کو حقیر سمجھتے ہیں ابلیس کے انجام کو دیکھ لیں اور اپنے انجام کو سوچ لیں۔ (ربط دیگر) کہ انسان کی غفلت اور سرکشی کے دو سبب ہیں ایک تو دنیا کی مال و دولت (اس کی کیفیت پہلے بیان ہوچکی ہے) اور دوسرا سبب اغواء شیطانی ہے اس آیت میں اس کا ذکر فرماتے ہیں اور بنی آدم (علیہ السلام) کو ابلیس کی عداوت پر آگاہ فرماتے ہیں کہ یہ تمہارا اور تمہارے باپ کا قدیمی دشمن ہے اس سے ڈرتے رہنا اور بچتے رہنا۔ چناچہ فرماتے ہیں اور یاد کرو اس وقت کو کہ جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو بطور تحیت و تکریم سجدہ کرو تو سوائے ابلیس کے سب نے سجدہ کیا اس نے آدم (علیہ السلام) کے شرف اور کرامت کو تسلیم نہ کیا اور اس نے اس لئے سجدہ نہ کیا وہ قوم جن سے تھا عنصر ناری کے غلبہ سے وہ علو اور تکبر کی طرف مایل ہوا۔ پس اپنے پروردگار کے حکم سے باہر نکل گیا اور آدم (علیہ السلام) اور اس کی اولاد کا دشمن ہوگیا تو بنی آدم جس کا یہ حال ہے کیا تم اس کو اور اس کی اولاد کو مجھے چھوڑ کر اپنا دوست بناتے ہو۔ حالانکہ وہ تمہارے جانی دشمن ہیں اور میں نے تو اس لعین کو تمہارے باپ کی وجہ سے اپنی بارگاہ سے نکال باہر کیا پھر مجھے چھوڑ کر ایسے دشمن کو اور اس کی ذات کو کیوں اپنا دوست بناتے ہو ظالموں کے لئے یہ بہت ہی برا بدل ہے یعنی کیا یہ ظلم نہیں کہ جس ارحم الراحمین اور اکرم الاکرمین نے تم کو مکرم اور مشرف کیا اسے چھوڑ کر اس جدی دشمن کو اپنا دوست بنانا چاہتے ہو اس آیت سے معلوم ہوا کہ ابلیس کے بیوی بچے بھی ہیں اس لیے کہ ذریت بغیر جورو نہیں ہوتی اس قسم کے اقوال زیادہ تر مجاہد (رح) اور شعبی (رح) اور اعمش (رح) سے منقول ہیں اور بعض مرفوع حدیثوں سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے مطلب یہ ہے کہ ارحم الراحمین اور اکرم الاکرمین کو چھوڑ کر اپنے آبائی دشمن کو دوست بنانا بہت ہی برا بدل ہے۔ بقول دشمن پیمان دوست بشکستی ببیں کہ از کہ بریدی وبا کہ پیوستی اور ظاہر ہے کہ دوست کو چھوڑ کر آبائی دشمن کو اپنا دوست بنانا پڑا ہی ظلم ہے اب آئندہ آیت میں یہ بتلاتے ہیں کہ جن کو تم نے اپنا دلی اور متولی بنایا ہے وہ سب کے سب تمہاری طرح میرے بندے اور غلام ہیں کسی چیز کے مالک نہیں اس لیے کہ میں نے ان شیطانوں کو آسمانوں اور زمین کی پیدائش کے وقت اپنی مدد اور مشورہ کے لئے حاضر نہیں کیا تھا اور نہ خود ان کی پیدائش کے وقت ان کو بلایا تھا کہ بلا کر ان سے پوچھا ہو تاکہ تم کو کیسا بنایا جائے مطلب یہ ہے کہ میں نے آسمان اور زمین اور تمام مخلوقات کو خود اپنی قدرت سے پیدا کیا ہے ان کی پیدائش میں میں نے کسی سے مدد نہیں لی اور نہ کسی سے صلاح اور مشورہ لیا اور اگر بفرض محال مدد بھی لیتا تو میں ان بدبخت اشقیاء گمراہ کرنے والوں کو قوت بازو بنانے والا نہیں جنہیں جانتا ہوں کہ میری راہ سے بہکانے والے ہیں مطلب یہ ہے کہ کجا یہ شیاطین و کفار اور کجا آفرینش پروردگار قادر مطلق کو کسی کی مدد کی کیا ضرورت اور جن کو تم خدا کا شریک ٹھہراتے ہو اس کی حقیقت قیامت کے دن کھل جائے گی اس دن خدا تعالیٰ بالواسطہ فرشتوں کے مشرکوں سے کہے گا کہ جن کو تم اپنے زعم میں میرا شریک قرار دیتے تھے بلند آواز سے ان کو اپنی اعداد کے لئے پکارو تاکہ تمہاے زعم کے مطابق وہ تمہاری مدد اور سفارش کریں پس وہ ان کو اپنی مدد کے لئے بلائیں گے۔ سو وہ شرکاء ہوجائے گا کہی یہ بالکل عاجز ہیں اور ان کو سفارش وغیرہ کا کوئی اختیار نہیں اور عیسیٰ (علیہ السلام) جیسے مقبولان خداوندی بجائے سفارش کرنے کے ان کافروں سے اپنی براءت اور بیزاری کا اظہار فرمائیں گے کہ ہم ان گمراہوں کے فعل سے بالکل بیخبر ہیں اور نہ ہم ان کے اس شرک پر راضی ہیں۔ خلاصہ کلام یہ کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام اہل محشر کے سامنے ان گمراہوں کو بطور ملامت و توبیخ یہ حکم دے گا کہ جن کو تم شرکاء گمان کرتے تھے ان کو پکارو تاکہ تم کو اس عذاب سے چھڑوائیں اور تمہاری کچھ مدد کریں یہ لوگ پکاریں گے اور جواب نہ پائیں گے تو خوار اور ناامید ہو کر رہ جائیں گے اور پھر ہم ان عابدوں اور معبودوں کے درمیان ایک مہلک آڑ حائل کردیں گے جس سے ان کے درمیان تفرقہ پڑجائے گا اور ایک فریق دوسرے فریق سے مل نہ سکے گا اور نہ اس کے پاس جاسکے گا۔ کام آنا یو درکنار درمیان میں ایک عظیم خندق حائل ہوگی اور موبق کے معنی جائے ہلاکت کے ہیں اس سے مراد آگ کی خندق ہے یا جہنم کی کسی وادی کا نام ہے جب درمیان میں یہ آڑ حائل ہوجائے گی تو ان کی امداد سے بالکل مایوسی ہوجائے گی اور بجائے مدد اور شفاعت کے اکفروں کو یہ موبق نظر آئے گی جو جہنم کی راہ ہے اور اس وقت مجرم لوگ دور سے آگ کو دیکھیں گے تو دیکھتے ہی یقین کرلیں گے کہ وہ ضرور اس آگ میں گرنے والے ہیں اور اس سے ہٹنے اور بچنے کی کوئی جگہ نہ پائیں گے کیونجہ وہ آگ ان کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہوگی اور ہر طرف سے فرشتوں کا پہرہ ہوگا یہ اس واسطے فرمایا کہ جن کو وہ خدا کا شریک ٹھہراتے تھے۔ وہ ایسے عاجز ہیں کہ اس مصیبت کے وقت میں ان کی کوئی مدد نہیں کرسکیں گے اور مسند احمد اور مستدرک حاکم وغیرہ میں ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کافر جہنم کو چالیس سال کی مسافت میں دیکھے گا مطلب یہ ہے کہ شاید اس آگ کو دیکھنے سے پہلے معافی کی۔ کچھ امید ہو لیکن اس آگ کو دیکھنے کے بعد یقین کامل ہوجائے گا کہ ہمیں اس میں گرنا ہے اور اس سے کوئی مفر نہیں اب اس کے بعد قرآن کریم کے جامعیت کو بیان فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق ہم نے اس قرآن میں لوگوں کی ہدایت اور نصیحت کے لیے ہر قسم کی مثال تفصیل کے ساتھ بار بار بیان کردی ہے تاکہ لوگ راہ حق سے نہ بھٹکیں مگر باوجود اس تفصیل اور واضح بیان کے لوگ حق سے جھگڑا لگاتے ہیں اور ہے انسان جھگڑنے میں سب سے بڑھ کر انسان کی فطرت اور جبلت میں مجادلہ اور مخاصمہ ایسا مرکوز ہے کہ حق کے مقابلہ میں مجادلہ کے لیے تیار ہوجاتا ہے اور یہ جدال کبھی تو ایمانیات اور اعتقادیات میں ہوتا ہے مثلا توحید اور رسالت کے بارے میں یا قیامت کے بارے میں مجادلہ کرے تو یہ کفر ہے اور کبھی عبادات اور اعمال صالحہ میں ہوتا ہے تو یہ جدال معصیت یعنی گناہ ہے مثلا کوئی شخص ایمانیات یعنی توحید و رسالت میں تو نہیں جھگڑا کرتا مگر کسی حق بات میں اور عمل کے بارے میں جھگڑا کرتا ہے تو یہ جدال کفر نہ ہوگا بلکہ معصیت اور گناہ ہوگا اور کبھی یہ جدال قربات اور مستحبات میں ہوتا ہے تو یہ جدال بےادبی ہے۔ مثلا صحیحین میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ رات کے وقت ان کے اور فاطمہ الزہرا ؓ کے پاس آئے تو فرمایا کہ تم دونوں نماز کیوں نہیں پڑھتے (یعنی صلاۃ اللیل اور رات کے نوافل کیوں نہیں پڑھتے) علی ؓ کہتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ہمارے نفوس یعنی ہماری جانیں اللہ کے ہاتھ میں ہیں جب وہ ہم کو رات کو نماز کے لئے اٹھانا چاہتا ہے تو اٹھا دیتا ہے۔ جب میں نے یہ جواب دیا تو آنحضرت ﷺ پشت پھیر کر واپس ہوئے اور مجھ سے کچھ نہیں کہا اور اپنے رانوں پر ہاتھ مارتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے واپس ہوئے وکان الانسان اکثر شیء جدلا یعنی انسان بڑا جھگڑالو ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا یہ جواب طاعات اور قربات یعنی مستحبات میں مجادلہ تھا کہ اپنی غفلت کی پردہ پوشی کے لیے خدا کی قدرت اور اس کی قضاء و قدر کو پیمانہ بنایا آنحضرت ﷺ نے اس آیت کی تلاوت سے اس طرف اشارہ فرمایا کہ علی ؓ کا یہ جواب درحقیقت ایک نوع کا مجادلہ ہے جو خلاف ادب ہے اور عملا بےرخی اور بےالتفاتی برتی تاکہ ناپسندیدگی کا اظہار ہوجائے اور جب لوگوں کے پاس ہدایت قرآنی آپہنچی تو ان کو اس ہدایت ایمانی پر ایمان لانے اور اس کے قبول کرنے سے اور اپنی سابقہ ضلالت سے توبہ اور استغفار کرنے سے کوئی امر مانع نہیں ہوا مگر یہ بات مانع ہوئی کہ ان کو اس بات کا انتظار اور طلب ہے کہ ان پر بھی وہی سنت الٰہی جاری ہو کر جو گزشتہ جدال اور مقابلہ کرنے والوں پر جاری ہوئی تھی یا اس بات کے منتظر ہیں کہ عذاب الٰہی ان کے سامنے آکھڑا ہو حاصل یہ کہ ان مجادلین اور معاندین پر یہ امر بخوبی منکشف ہوگیا ہے کہ قرآن حق ہے اور محمد ﷺ اللہ کے رسول برحق ہیں۔ جدال اور عناد کے عادی ہیں یہ لوگ ایمان لانے والے اور حق کے ماننے والے نہیں بلکہ اس کے منتظر ہیں کہ اگلے مجادلین کی طرف ہلاک کئے جائیں یا عذاب الٰہی ان کی آنکھوں کے سامنے آجائے تب مانیں۔ حالانکہ اس وقت کا ماننا قابل قبول نہیں اور نہ مفید ہے اور ہم نہیں بھیجتے رسولوں کو مگر صرف اہل ایمان کو بشارت دینے کے لیے اور اہل ضلالت کو عذاب الٰہی سے ڈرانے کے لئے ان پر یہ لازم نہیں کہ خواہ مخواہ لوگوں کو حق منوالیں اور جو لوگ کافر ہیں وہ بےہودہ اور مہمل باتوں کے ذریعے جھگڑتے ہیں تاکہ اس کے ذریعے حق کو باطل اور باطل کو حق اور سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنا دیں اور ان لوگوں نے بنا لیا ہے میری آیات کو اور اس عذاب کو جن سے ان کو ڈرایا گیا۔ مضحکہ یعنی اسکو مذاق اور ٹھٹھا بنا لیا ہے یعنی ان لوگوں نے آیات الٰہیہ کو اور مواعید خداوندی کو مضحکہ بنا لیا ہے اور اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جس کو اس کے پروردگار کے کلام سے نصیحت کی گئی اور اس کو ہوشیار کردیا گیا پھر اس نے ان کی طرف سے منہ موڑا اور فراموش کردیا جو اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے یعنی اپنے گناہوں اور بدکاریوں کے انجام کو بھول گیا اور یہ نہ سوچا کہ جو کفر اور گناہ اپنے ہاتھوں اپنے نفس پر ظلم کرکے اس کو تباہ اور برباد کر ڈالا اور ہرچند کہ اس کو آیات خداوندی سے نصیحت کی گئی مگر ایک نہ سنی اصل وجہ اس کی یہ ہے کہ تحقیق ہم نے ایسے مجادلین اور معاندین کے دلوں پر غفلت کے پردے ڈال دئیے ہیں تاکہ قرآنی ہدایت کو نہ سمجھ سکیں اور ان کے کانوں میں گردانی ڈال دی ہے تاکہ حق کو نہ سن سکیں اور اے نبی ﷺ اگر آپ ان کو راہ راست کی طرف بلائیں تو ایسی حالت میں وہ کبھی بھی ہدایت پر نہیں آئیں گے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ کفر اور ایمان اور ہدایت اور گمراہی سب اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے مگر اس کا علم سوائے خدا کے کسی کو نہیں بندہ کو چاہئے کہ اللہ کے حکم پر چلے رہا یہ امر کہ اللہ کے علم میں کیا ہے سو اس کا علم کسی کو نہیں بندہ کو حکم یہ ہے کہ کسب معاش کے لیے تجارت کرے یا زراعت کرے باقی اس تحقیق میں پڑنا کہ مقدر میں کتنا رزق لکھا ہے یہ جہالت اور حماقت ہے اور اے نبی تیرا پروردگار بڑا بخشنے والا ہے خداوندی رحمت ہے اس لئے وہ ان مجادلین اور معاندین اور مجرمین پر بالفعل اور فی الفور عذاب نازل نہیں کرتا اگر وہ ان کو ان کے اعمال پر کپڑنے لگے تو ان کی بد اعمالیوں کا مقتضی یہ ہے کہ دنیا ہی میں ان پر جلد عذاب نازل کرے مگر وہ ایسا نہیں کرتا وہ بڑا علیم اور کریم ہے عذاب میں جلدی نہیں کرتا بلکہ ان کی سزا کے لیے ایک وقت مقرر ہے یعنی روز قیامت جس سے چارہ اور مفر نہیں ہرگز نہ پاویں گے اس وعدہ سے پناہ اور بھاگنے کی جھگہ کہ اس کے آنے سے پہلے ہی کہیں جا چھپیں اور اس سے محفوظ ہوجائیں اور یہ اجڑی ہوئی بستیاں تمہارے سامنے ہیں۔ یعنی قوم عاد اور قوم ثمود اور قوم لوط کی اجڑی ہوئی بستیاں تمہارے سامنے ہیں ہم نے ان کو ہلاک کردیا جب انہوں نے کفر اور شرک کرکے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور ہم نے ان کی ہلاکت کے لئے ایک وقت مقرر کردیا تھا۔ ایک لمحہ اور ایک لحظہ کا بھی فرق نہ ہوا اسی طرح آپ ﷺ کے زمانہ کے سرکشوں اور جدال کرنے والوں کے لیے بھی علم الٰہی میں ایک وقت مقرر ہے یہ لوگ بھی اپنے وقت پر ہلاک ہوں گے آپ ﷺ تسلی رکھئے اور ان کی تکذیب اور جدال کی پرواہ نہ کیجئے۔
Ayahs 18:60–74

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِفَتٰىهُ لَاۤ اَبْرَحُ حَتّٰۤى اَبْلُغَ مَجْمَعَ الْبَحْرَیْنِ اَوْ اَمْضِیَ حُقُبًا Open ayah 18:60 in the Quran reader

اور جب موسیٰ نے اپنے شاگرد سے کہا کہ جب تک دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں ہٹنے کا نہیں خواہ برسوں چلتا رہوں

فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَیْنِهِمَا نَسِیَا حُوْتَهُمَا فَاتَّخَذَ سَبِیْلَهٗ فِی الْبَحْرِ سَرَبًا Open ayah 18:61 in the Quran reader

جب انکے ملنے کے مقام پر پہنچے تو اپنی مچھلی بھول گئے تو اس نے دریا میں سرنگ کی طرح اپنا راستہ بنا لیا

فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتٰىهُ اٰتِنَا غَدَآءَنَا١٘ لَقَدْ لَقِیْنَا مِنْ سَفَرِنَا هٰذَا نَصَبًا Open ayah 18:62 in the Quran reader

جب آگے چلے تو (موسی نے) اپنے شاگرد سے کہا کہ ہمارے لئے کھانا لاؤ اس سفر سے ہم کو بہت تکان ہوگئی ہے

قَالَ اَرَءَیْتَ اِذْ اَوَیْنَاۤ اِلَى الصَّخْرَةِ فَاِنِّیْ نَسِیْتُ الْحُوْتَ١٘ وَ مَاۤ اَنْسٰىنِیْهُ اِلَّا الشَّیْطٰنُ اَنْ اَذْكُرَهٗ١ۚ وَ اتَّخَذَ سَبِیْلَهٗ فِی الْبَحْرِ١ۖۗ عَجَبًا Open ayah 18:63 in the Quran reader

(اس نے) کہا کہ بھلا آپ نے دیکھا کہ جب ہم نے پتھر کے پاس آرام کیا تھا تو میں مچھلی (وہیں) بھول گیا اور مجھے (آپ سے) اسکا ذکر کرنا شیطان نے بھلا دیا اور اس نے عجب طرح سے دریا میں اپنا راستہ لیا

قَالَ ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ١ۖۗ فَارْتَدَّا عَلٰۤى اٰثَارِهِمَا قَصَصًاۙ Open ayah 18:64 in the Quran reader

(موسی نے) کہا یہی تو وہ (مقام) ہے جسے ہم تلاش کرتے تھے تو وہ اپنے پاؤں کے نشان دیکھتے دیکھتے لوٹ گئے

فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَاۤ اٰتَیْنٰهُ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَ عَلَّمْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا Open ayah 18:65 in the Quran reader

(وہاں) انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ دیکھا جس کو ہم نے اپنے ہاں سے رحمت (یعنی نبوت یا نعمت ولایت) دی تھی اور اپنے پاس سے علم بخشا تھا

قَالَ لَهٗ مُوْسٰى هَلْ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا Open ayah 18:66 in the Quran reader

موسیٰ نے ان سے (جس کا نام خضر تھا) کہا کہ جو علم (خدا کی طرف سے) آپ کو سکھایا گیا ہے آپ اس میں سے مجھے کچھ بھلائی (کی باتیں) سکھائیں تو میں آپ کے ساتھ رہوں

قَالَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:67 in the Quran reader

(خضر نے کہا) کہ تم میرے ساتھ رہ کر صبر نہ کرسکو گے

وَ كَیْفَ تَصْبِرُ عَلٰى مَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ خُبْرًا Open ayah 18:68 in the Quran reader

اور جس بات کی تمہیں خبر ہی نہیں اس پر صبر کر بھی کیونکر سکتے ہو ؟

قَالَ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّ لَاۤ اَعْصِیْ لَكَ اَمْرًا Open ayah 18:69 in the Quran reader

(موسی نے) کہا خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے اور میں آپ کے ارشاد کے خلاف نہیں کروں گا

قَالَ فَاِنِ اتَّبَعْتَنِیْ فَلَا تَسْئَلْنِیْ عَنْ شَیْءٍ حَتّٰۤى اُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا۠ Open ayah 18:70 in the Quran reader

(خضر نے) کہا اگر تم میرے ساتھ رہنا چاہو تو (شرط یہ ہے کہ) مجھ سے کوئی بات نہ پوچھنا جب تک میں خود اس کا ذکر تم سے نہ کروں

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا رَكِبَا فِی السَّفِیْنَةِ خَرَقَهَا١ؕ قَالَ اَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ اَهْلَهَا١ۚ لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا اِمْرًا Open ayah 18:71 in the Quran reader

تو دونوں چل پڑے یہاں تک کہ جب کشتی میں سوار ہوئے تو (خضر نے) کشتی کو پھاڑ ڈالا (موسی نے) کہا کیا آپ نے اس کو اسلئے پھاڑا ہے کہ سواروں کو غرق کردیں ؟ یہ تو آپ نے بڑی عجیب بات کی

قَالَ اَلَمْ اَقُلْ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:72 in the Quran reader

(خضر نے) کہا کہ کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کرسکو گے

قَالَ لَا تُؤَاخِذْنِیْ بِمَا نَسِیْتُ وَ لَا تُرْهِقْنِیْ مِنْ اَمْرِیْ عُسْرًا Open ayah 18:73 in the Quran reader

(موسی نے) کہا کہ جو بھول مجھ سے ہوئی اس پر مواخذہ نہ کیجئے اور میرے معاملہ میں مجھ پر مشکل نہ ڈالئے

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا لَقِیَا غُلٰمًا فَقَتَلَهٗ١ۙ قَالَ اَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِیَّةًۢ بِغَیْرِ نَفْسٍ١ؕ لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا نُّكْرًا Open ayah 18:74 in the Quran reader

پھر دونوں چلے یہاں تک کہ (راستہ میں) ایک لڑکا ملا تو (خضر نے) اسے مار ڈالا (موسی نے) کہا کہ آپ نے ایک بےگناہ شخص کو (ناحق) بغیر قصاص کے مار ڈالا (یہ تو) آپ نے بری بات کی

قصہ حضرت موسیٰ باخضر (علیہما السلام) قال اللہ تعالیٰ واذ قال موسیٰ لفتہ لا ابرح .... الیٰ .... لقد جئت شیئا نکرا۔ (ربط) چونکہ قریش نے آنحضرت ﷺ کی آزمائش کے لیے روح اور اصحاب کہف اور ذوالقرنین کے متعلق جو سوالات کیے تھے وہ یہود کے بتلانے اور سمجھانے سے کئے تھے کہ اگر آنحضرت ﷺ ان باتوں کا جواب دے دیں تو جانو کہ وہ نبی ہیں ورنہ نہیں اس لئے یہود کے سنانے کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرماتے ہیں تاکہ معلوم کریں کہ نبی کے لیے یہ شرط نہیں کہ اس کو سب چیزیں معلوم ہوں اور وہ تمام اخبار اور قصص کا عالم ہو بلکہ نبوت کے لیے وحی اور علوم ہدایت کی معرفت ضروری ہے۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) باوجود کلیم ہونے کے ان علوم سے واقف نہ تھے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت خضر (علیہ السلام) کو عطا کیے تھے اس لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے خضر (علیہ السلام) کی ملاقات کے لیے سفر کیا تاکہ وہ ان سے علوم حاصل کریں جو اللہ تعالیٰ نے خاص ان کو عطا کئے ہیں معلوم ہوا کہ نبی اور رسول کے لیے تمام علوم کا عالم ہونا اور تمام واقعات اور قصص سے باخبر ہونا اور ہر قسم کے علم سے واقف ہونا ضروری نہیں البتہ نبی کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان علوم ہدایت سے پوری طرح باخبر ہو جن کو رضائے خداوندی اور قرب خداوندی اور امت کی اصلاح اور تربیت میں دخل ہو اور اللہ تعالیٰ نے حضرت خضر (علیہ السلام) کو جو علم دیا وہ اس قسم کا نہ تھا بلکہ دوسری قسم کا تھا اس قسم کے علوم میں خضر (علیہ السلام) موسیٰ (علیہ السلام) سے بڑھ کر تھے مگر عند اللہ افضلیت اور تقرب کا دارومدار علوم ہدایت اور علوم شریعت پر ہے ان علوم میں موسیٰ (علیہ السلام) سب سے اعلیٰ اور افضل اور سب سے بالا اور برتر تھے ان علوم میں روئے زمین پر ان سے بڑھ کر کوئی نہ تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) ایک بار بنی اسرائیل میں وعظ فرما رہے تھے تو کسی نے پوچھا کہ ا وقت آدمیوں میں سب سے بڑا عالم کون ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا ” میں “ مطلب یہ تھا کہ جن علوم کو ہدایت اور قرب الٰہی کے حصول میں دخل ہے ان علوم میں کوئی میرے برابر نہیں اور یہ کلام باعتبار معنی اور مقصود کے صحیح تھا کیونکہ آپ (علیہ السلام) اللہ کے اولوالعزم رسول تھے اور کلیم اللہ تھے اور صاحب تورات تھے اور صاحب معجزات عظیمہ تھے اس وقت روئے زمین پر آپ (علیہ السلام) سے بڑھ کر کسی کو علوم ہدایت کی معرفت حاصل نہ تھی۔ مگر لفظ ظاہرا مطلق تھا مقام رسالت کے مناسب یہ تھا کہ علی الاطلاق اپنے کو سب سے بڑا عالم نہ کہتے سب سے زیادہ علم کی نسبت خداوند ذوالجلال کی طرف مناسب تھی مقربین کی ادنیٰ اور ادنیٰ اور معمولی سے معمولی بات پر بھی باز پرس ہوجاتی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا کہ اپنے برگزیدہ بندے کو احتیاط فی الکلام کی تعلیم دی جائے موسیٰ (علیہ السلام) کا جواب اگرچہ باعتبار معنی اور مقصود کے صحیح تھا لیکن حق تعالیٰ کو یہ الفاظ پسند نہ آئے اس لئے کہ جواب کے ظاہری عموم اور اطلاق سے یہ مترشح ہوتا تھا کہ روئے زمین پر من کل الاوجوہ موسیٰ (علیہ السلام) اعلم الناس ہیں اس لئے بغرض تادیب و تنبیہ یہ ارشاد ہوا کہ ہمارا ایک بندہ مجمع البحرین میں ہے وہ تم سے زیادہ علم رکھتا ہے۔ مطلب یہ تھا کہ بعض علوم میں وہ تم تادیب و تنبیہ یہ ارشاد ہوا کہ ہمارا ایک بندہ مجمع البحرین میں ہے وہ تم سے زیادہ علم رکھتا ہے مطلب یہ تھا کہ بعض علوم میں وہ تم سے زیادہ ہے گو ان علوم کو قرب الٰہی اور رضائے خداوندی کے حصول میں دخل نہ ہو۔ لہٰذا سائل کے جواب میں اپنے کو مطلقاً اعلم الناس کہنا مناسب نہ تھا بلکہ مناسب یہ تھا کہ جواب کو خدا تعالیٰ کے علم محیط پر محول کرتے اور کہتے کہ اللہ اعلم کہ اللہ ہی سب سے زیادہ جاننے والا ہے اللہ کے بہت سے مقبول اور مقرب بندے ہیں سب کی خبر اس کو ہے اور اسی کو معلوم ہے کہ اس نے اپنے خزانہ غیب میں سے کس کو کون سا علم عطا کیا ہے فوق کل ذی علم علیم۔ حق جل شانہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس سہو اور نسیان پر متنبہ فرمایا اور خضر (علیہ السلام) کے پاس جانے کا حکم دیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) اس ارشاد خداوندی کو سن کر ان سے ملنے کے مشتاق ہوئے اور پوچھا کہ ان سے ملنے کی کیا صورت ہے ارشاد ہوا کہ مجمع البحرین یعنی روم اور فارس کے دو سمندر آپس میں ملتے ہیں وہاں پتھر کے پاس میرا ایک نیک بندہ ہے جو تجھ سے زیادہ علم رکھتا ہے ہم نے اس کو ایک خاص علم دیا ہے جا کر اس سے ملو اور ناشتہ کے لیے ایک مچھلی تل کر اپنے زنبیل میں رکھ لو اور روانہ ہوجاؤ جہاں وہ مچھلی گم ہوجائے وہیں تم کو ہمارا وہ بندہ ملے گا۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک مچھلی بھنوا کر زنبیل میں رکھ لی اور یوشع بن نون کو اپنے ساتھ لے کر مجمع البحرین روانہ ہوئے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اے نبی وہ وقت یاد کرو جب کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے نوجوان خادم سے جس کا نام یوشع بن نون تھا یہ کہا کہ میں اس سفر میں برابر چلتا رہوں گا یہاں تک کہ میں اس مقام پر پہنچ جاؤں جہاں دو دریا آپس میں ملتے ہیں یا طلب مطلوب میں مدتوں چلتا رہوں۔ یعنی جب تک خدا کے اس نیک بندہ سے ملاقات نہ ہوگی میں سفر سے منہ نہ موڑوں گا۔ دست از طلب ندارم تا کام من برآید یا تن رسد بجاناں یا جاں زتن برآمد چناچہ بھنی ہوئی مچھلی ساتھ لے کر دونوں سفر کے لیے روانہ ہوئے پس جب یہ دونوں ان دور دریاؤں کے ملنے کی جگہ پر پہنچے تو اپنی مچھلی وہیں بھول گئے پس وہاں پہنچ کر وہ مچھلی باذن الٰہی زندہ ہوگئی اور دریا میں جا داخل ہوئی اور اس نے دریا میں ایک سرنگ کی طرح راہ بنالی جہاں مچھلی جاتی وہاں دریا کا پانی دونوں طرف سے کھڑا ہوجاتا اور بیچ میں ایک طاق سا بن جاتا جب یہ دونوں حضرات مجمع البحرین پر پہنچے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تو سوگئے اور یوشع بن نون (علیہ السلام) جاگتے رہے وہاں ایک چشمہ تھا یوشع بن نون اس چشمہ سے وضو کرنے لگے ان کے ہاتھ سے ایک دو قطرہ پانی کا اس بھنی ہوئی مچھلی پر ٹپک پڑا اس سے وہ مچھلی فورا زندہ ہوگئی یا کسی طرح سے وہ مچھلی باذن اللہ زندہ ہوگئی۔ واللہ اعلم۔ (تفصیل کے لیے فتح الباری کتاب الانبیاء دیکھئے) اور دریا میں چلی گئی اور پانی میں جاکر بیٹھ گئی اور وہاں اس کے لیے مثل روشن دان کے ایک طاق بن گیا۔ یوشع بن نون (علیہ السلام) کو یہ دیکھ کر بڑا تعجب ہوا اور قصد کیا کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) جاگیں گے تب ان سے اسکا ذکر کروں گا مگر جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جاگے تو یوشع (علیہ السلام) اس کا تذکرہ کرنا بھول گئے اور دونوں حضرات وہاں سے آگے چل کھڑے ہوئے۔ پھر جب دونوں وہاں سے آگے بڑھے اور چلتے چلتے دور نکل گئے تو اگلے روز دن چڑھے موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے خادم یوشع بن نون سے کہا کہ ہمارا صبح کا کھانا لاؤ تحقیق ہم سفر کی اس منزل میں تعب اور مشقت کو پہنچے ہیں یعنی تھک گئے ہیں۔ مجمع البحرین تک موسیٰ (علیہ السلام) کو تھکن نہیں ہوئی جب منزل مقصود سے آگے بڑھے تب تھکن محسوس ہوئی اور بھوک بھی لگی اور کھانا طلب کیا دیکھا تو مچھلی ندارد ہے اس وقت یوشع بن نون (علیہ السلام) کو مچھلی کا حال دیا آیا اور بولے کہ بھلا آپ کو معلوم بھی ہے کہ جب ہم اس پتھر کے پاس ٹھہرے تھے اور آپ تو وہاں سو گئے تھے اور مچھلی یکایک زندہ ہو کر دریا میں داخل ہوگئی اور اس کے لیے ایک طاق سا بن گیا اور میرا ارادہ یہ تھا کہ جب آپ بیدار ہوں گے تو آپ سے اس واقعہ کا ذکر کرو گا مگر جب آپ بیدار ہوئے تو تحقیق میں آپ سے اس مچھلی کا ذکر کرنا بھول گیا۔ اور یہ پتھر جس کے پاس جاکر ٹھہرے تھے مجمع البحرین پر تھا اور یہی مقام ان کی منزل مطلوب و مقصود تھی۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بتلا دیا تھا کہ خضر (علیہ السلام) کے ملنے کی جگہ کی نشانی یہ ہے کہ جہاں وہ مچھلی زندہ ہوجائے تو مجھے مطلع کرنا لیکن بایں ہمہ یوشع بن نون اس کا ذکر کرنا بھول گئے اور کہا کہ مجھے شیطان نے بھلا دیا کہ میں اس واقعہ کا آپ سے ذکر کرتا نہ معلوم کمبخت شیطان نے مجھ کو کس دھیان میں لگا دیا کہ میں آپ سے اس عجیب و غریب واقعہ کا ذکر کرنا بھول گیا۔ عین منزل مقصود پر پہنچ کر اصل مقصود سے ذھول اور غفلت شیطان ہی کا کچھ اثر معلوم ہوتا ہے جس نے قدرت الٰہی کے ایسے کرشمہ کو بھلا دیا ورنہ یہ عجیب و غریب کرشمہ قدرت بھولنے کے لائق نہ تھا۔ بظاہر سفر کی جلدی کے بارے میں اس کا ذکر کرنا بھول گئے۔ یوشع بن نون نے اپنی اس سہونسیان کو تواضعا شیطان کی طرف منسوب کیا۔ شیطان کا اصل زور تو اس کے دوستوں ہی پر چلتا ہے کما قال تعالیٰ انما سلطان علی الذین یتولونہ لیکن بھول چوک اور وسوسہ شیطانی کبھی کبھی خدا کے نیک بندوں کو بھی پیش آجاتی ہے۔ کما قال تعالیٰ ان الذین اتقوا اذا مسھم طائف من الشیطان تذکروا فاذاھم مبصرون مگر یہ بھول چوک عباد صالحین کے حق میں مضر نہیں ہوتی بلکہ ان کے حق میں مزید ترقی مدارج کا سبب بن جاتی ہے جیسا کہ یہاں سفر کی مزید مشقت سے ان کو زیادہ عروج ہوا اور مظہر کرامت بنے کہ بھنی ہوئی مچھلی زندہ ہوگئی۔ خلاصہ کلام یہ کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے یوشع بن نون سے کھانا طلب کیا تو دیکھا کہ مچھلی ندارد ہے تو یوشع بن نون نے معذرت کی اور عرض کیا کہ جب ہم اس پتھر کے پاس ٹھہرے تھے تو مچھلی وہیں مفقود ہوگئی تھی اور میں آپ سے اس قصہ کا ذکر کرنا بھول گیا تھا اور وہ قصہ یہ ہوا کہ اس مچھلی نے زندہ ہونے کے بعد دریا میں عجیب طرح سے راستہ بنا لیا ایک عجیب بات تو یہ ہوئی کہ بھنی ہوئی مچھلی زندہ ہوگئی اور دوسری عجیب بات یہ ہوئی کہ وہ زندہ ہو کر دریا میں سرنگ بناتی چلی گئی اور پانی میں جاکر بیٹھ گئی وہاں طاق سا کھلا رہ گیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ قصہ سن کر فرمایا یہ تو وہ مقام ہے جس کی ہم تلاش اور جستجو میں تھے اللہ تعالیٰ نے اس نیک بندہ کا یہی پتہ بتایا تھا کہ جہاں مچھلی گم ہوجائے وہیں اس سے ملاقات ہوگی اس لیے ہم کو پھر اسی جگہ واپس لوٹنا چاہئے۔ پس لوٹ پڑے دونوں اپنے نشان قدم پر کھوج لگاتے ہوئے اور پھر اسی پتھر کے پاس واپس آگئے جہاں مچھلی بھولے تھے سو وہاں پہنچ کر ان دونوں نے یعنی موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے رفیق یوشع بن نون نے ہمارے بندوں میں سے ایک خاص بندہ کو پایا یہ بندہ خدا وہی خضر (علیہ السلام) ہیں جن کی ملاقات کے لئے یہ سفر کیا اس جگہ اللہ تعالیٰ نے اس خاص بندہ کے دو وصف بیان کئے۔ (اول) اتینہ رحمۃ من عندنا یعنی ہم نے اس کو اپنی خاص رحمت اور خاص عنایت سے سرفراز کی اتھا بعض کہتے ہیں کہ رحمت سے نبوت اور ہدایت مراد ہے اور جمہور مفسرین کے نزدیک رحمت سے ولایت اور مقبولیت مراد ہے اور فقط رحمت مجمل ہے جس میں دونوں معنی کا احتمال ہے اس لیے بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ حضر (علیہ السلام) ولی تھے نبی نہ تھے۔ (دوسرا وصف) اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ بیان فرمایا وعلمناہ من لدنا علما اور ان کو ہم نے اپنے پاس سے ایک خاص علم عطا کیا تھا جو نظروفکر سے حاصل نہیں ہوسکتا ہم نے اپنے پاس سے ان کو باطنی علم سکھایا وہ علم ہمارے ساتھ خاص ہے بغیر ہمارے سکھائے کوئی اس علم کو نہیں جان سکتا۔ صوفیائے کرام کی اصطلاح میں ایسے ہی علم کو علم لدنی کہتے ہیں جس میں اسباب ظاہری کا دخل اور واسطہ نہ ہو اور عالم غیب سے براہ راست علم اس کے قلب میں داخل ہو ملائکہ پر جو منجانب اللہ علوم فائض ہوتے ہیں وہ اسی قسم کے ہوتے ہیں قلب میں عام طور پر جو علم داخل ہوتا ہی وہ حواس ظاہری کے دروازوں سے داخل ہوتا ہے ایسے علم کو علم حصولی اور علم اکتسابی کہتے ہیں اور جب کسی کے قلب میں کوئی دروازہ عالم ملکوت کی طرف کھل جائے اور بلا ان ظاہری دروازوں کے کوئی علم قلب میں پہنچ جائے تو ایسے علم کو علم لدنی کہتے ہیں جو علم قلب کے باہر کے دروازہ سے داخل اور حاصل ہو وہ علم حصولی ہے اور جو علم قلب کے اندر کسی باطنی دروازہ سے آئے وہ ” علم لدنی “ اور ” علم وہبی “ اور ” علم حضوری “ کہلاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خضر (علیہ السلام) کو اسرار غیبی اور باطنی حکمتوں اور مصلحتوں کا علم عطا فرمایا تھا اور موسیٰ (علیہ السلام) کو احکام شریعت کا علم عطا فرمایا تھا ہر گلے را رنگ وبوئے دیگر است چناچہ جب ملاقات ہوئی تو خضر (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا انی علیٰ علم من علم اللہ علمنیہ لا تعلیم وانت علی علم من علم اللہ علمک اللہ لا اعلم یعنی مجھے اللہ کی طرف سے ایک خاص علم ملا ہے جو اللہ تعالیٰ نے خاص مجھ کو عطا کیا ہے۔ (جس کا تعلق اسرار کونیہ اور جزئیات غیبیہ سے ہے یہ علم مجھ کو ایک خاص مقدار میں ملا ہے تم اس کو نہیں جانتے اور تم کو منجانب اللہ ایک خاص علم ملا ہے جس کا تعلق اسرار شریعت اور احکام ہدایت اور اصلاح امت سے ہے۔ یہ علم اللہ نے خاص تم کو سکھایا ہے اس علم کو نہیں جانتا مطلب یہ ہے کہ میرا علم اور تمہارا علم دو مختلف قسمیں ہیں۔ دونوں یکجا جمع نہیں ہوسکتیں اس لیے تم میرے ساتھ نہیں رہ سکتے اور وہاں ایک چڑیا دکھائی دی کہ دریا میں سے پانی پیتی تھی تو خضرت (علیہ السلام) نے کہا کہ میرا اور تمہارا اور ساری مخلوقات کا علم اللہ کے سامنے ایسا ہے جیسے دریا میں سے چڑیا کے منہ میں ایک قطرہ آلگا ہے اور یہ بھی محض تفہیم کے لئے تھا ورنہ درحقیقت یہ نسبت بھی نہیں اس لیے کہ ساری دنیا کا علم بھی متناہی ہے اور اس کو خدا تعالیٰ کے غیر متناہی علم سے کیا نسبت۔ خدا تعالیٰ کے دریائے علم کی کوئی حد اور انتہاء نہیں جس کو جو علم ملا وہ اس کے دریائے علم کا ایک قطرہ ہے اور ایک قطرہ آب پر ناز کرنا مناسب نہیں اس دریا پر نظر کرو جہاں سے یہ قطرہ ملا ہے۔ خضر (علیہ السلام) کی اس بےمثال تمثیل وما اوتیتم من العلم الا قلیلا کی خوب تفسیر ہوگئی اور مشرکین مکہ نے جو اہل کتاب کے مشورہ سے آپ کے امتحان کے لیے تین سوال کئے تھے ان کے ساتھ اس قصہ کا ربط خوب ظاہر ہوگیا کہ نبی کے لیے تمام علوم کا عالم ہونا ضروری نہیں ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے وہاں پہنچ کر ان کو سلام کیا بعد ازاں موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ میں اس لیے آیا ہوں کہ اگر آپ اجازت دیں تو میں آپ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے تعلیم دی گئی ہیں ان میں سے آپ کچھ مجھ کو بھی تعلیم کریں۔ موسیٰ (علیہ السلام) صاحب شریعت نبی اور رسول تھے علوم شریعت سے پورے واقف اور باخبر تھے لیکن جو علم خضر (علیہ السلام) کو دیا گیا تھا اس علم کا تعلق شریعت سے نہ تھا بلکہ اس کا تعلق اسرار کونیہ اور امور باطنیہ سے تھا اور ایسے علم کا جس کا تعلق شریعت اور احکام خداوندی سے نہ ہو نبی کا غیر نبی سے ایسے علم کا سیکھنا نبوت کے منافی نہیں اور حدیث انتم اعلم بامور دنیاکم اس کی مؤید ہے معلوم ہوا کہ صاحب شریعت پیغمبر کا کسی غیر نبی سے ایسے امور کو سیکھنا کہ جن کا اصول دین اور فروغ دین سے کوئی تعلق نہ ہو شان نبوت کے منافی نہیں۔ خضر (علیہ السلام) نے کہا اسے موسیٰ (علیہ السلام) تم میرے ساتھ رہ کر میری باتوں پر صبر نہیں کرسکو گے کیونکہ تم شریعت کے پابند ہو اور احکام شریعت کا دارومدار ظاہر پر ہے اور مجھ سے ایسے امور صادر اور سرزد ہوں گے کہ جو بظاہر شریعت کے خلاف ہوں گے اور ان کے اصل راز اور اندرونی حقیقت کی آپ کو خبر نہ ہوگی۔ آپ ان کو دیکھ کر حیران ہوں گے آپ کی نظر صرف ظاہر پر ہوگی اور اس شئے کی باطنی حکمتوں اور مصلحتوں کا آپ کو علم نہ ہوگا اس لئے آپ ایسے امور کو دیکھ کر صبر نہ کرسکیں گے میں جانتا ہوں کہ آپ میری باتوں کا انکار کریں گے اور آپ اس انکار میں بلاشنہ معذور ہوں گے اس لیے کہ ازروئے شریعت امر بالمعروف اور نہی عند المنکر فرض ہے اور آپ نبی ہیں اور نبی سے امور منکرہ پر صبر نہیں ہوسکتا۔ لیکن میں بھی ان امور کے کرنے میں معذور ہوں گا اس لیے کہ میں منجانب اللہ اس کا مامور ہوں گا اور من جانب اللہ میں اس کی باطنی حکمت و مصلحت پر مطلع ہوں گا اور آپ ان مصالح سے آگاہ نہ ہوں گے اس لیے آپ میری باتوں پر صبر نہ کرسکیں گے بہرحال آپ کے لیے میری باتوں پر صبر کرنا اور سکوت اور خاموشی اختیار کرنا بہت دشوار ہوگا اور اگر سوالات اور مؤاخذہ اور روک ٹوک کا سلسلہ جاری رہا تو تعظیم و تعلم کا سلسلہ کیسے جارہ رہ سکے گا اور بیشک آپ اس چیز پر کیسے صبر کرسکتے ہیں جو آپ کے احاطہ علم سے باہر ہو آپ کی نظر اس امر کی ظاہری قباحت پر تو ہوگی مگر اس کے باطنی محاسن آپ کے علم سے پوشیدہ ہوں گے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب میں کہا کہ اگرچہ میں ظاہر شریعت کا مکلف ہوں باطن سے مجھے کوئی سروکار نہیں لیکن میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ آپ کی مخالفت نہ کروں گا۔ انشاء اللہ آپ مجھے صابر پائیں گے اور حتی الوسع میں کسی بات میں آپ کی نافرمانی نہ کروں گا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ جو امر آپ سے صادر ہوگا اگرچہ وہ بظاہر میری نظر میں قبیح ہوگا مگر درحقیقت قبیح نہ ہوگا اس لئے کہ جب اللہ رب العالمین نے آپ کی معیت اور مصاحبت کا حکم دیا ہے تو یہ اس امر کی قطعی دلیل ہے کہ آپ کا جو کام ہوگا وہ عین منشاء خداوندی ہوگا اس لیے میں انشاء اللہ حتی الوسع اس پر صبر کروں گا صبر کا وعدہ فرمایا اور تبرک کے لیے انشاء اللہ کی قید لگا دی جیسا کہ انبیاء کی سنت ہے کما قال اللہ تعالیٰ ولا تقولن لشکیء انی فاعل ذلک غدا الا ان یشاء اللہ موسیٰ (علیہ السلام) نے بطور تبرک اور بطریق توکل انشاء اللہ کہا کہ بندہ کا فعل خواہ صبر ہو اور خواہ شکر ہو سب اللہ کی مشیت پر موقوف ہے بندہ اپنے کسی قول اور فعل اور عمل میں مستقل نہیں لا حول ولا قوت الا باللہ العلی العظیم۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ سارا کلام درحقیقت حضرت خضر (علیہ السلام) کے اس قول انک لن تستطیع معی صبرا کا جواب تھا اہل فہم حضرات موسیٰ (علیہ السلام) کے اس جواب باصواب پر غور فرمائیں کہ جس کے ہر لفظ اور ہر حرف سے ادب اور تواضع ٹپک رہی ہے۔ (اول) ہل اتبعک سے اتباع چاہی کہ اگر آپ اجازت دیں تو میں اپنے آپ کو تابع کر دوں۔ (دوم) علی ان تعلمنی سے اقرار کیا کہ آپ عالم اور معلم ہیں اور میں آپ کا متعلم بننا چاہتا ہوں۔ (سوئم) مما علمت کہہ کر حضرت خضر (علیہ السلام) سے بعض علم کی درخواست کی کہ آپ اپنے علم میں سے کچھ حصہ اور اس کا کوئی جز مجھ کو مرحمت فرمائیں مطلب یہ تھا کہ میں تمہیں چاہتا کہ علم میں آپ کے برابر ہوجاؤں بلکہ یہ چاہتا ہوں کہ جو علم آپ کو حاصل ہے اس میں سے کوئی جز مجھے عطا فرمائیں۔ (چہارم) یہ کہ علمت سے اس بات کا اقرار کیا کہ یہ علم آپ کو من جانب اللہ ملا ہے۔ (پنجم) لفظ رشدا سے اس بات کا اقرار کیا کہ وہ علم رشد و ہدایت ہے اس رشد میں سے کچھ عطا کیئے جانے کی درخواست کی۔ (ششم) ستجدنی انشاء اللہ ما یرا یعنی انشاء اللہ آپ مجھ کو صابر پائیں گے۔ (ہفتم) ولا اعصی لک امرا یعنی آپ کے کسی حکم کی خلافت و رزی نہ کروں گا۔ ایک روایت میں ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت خضر (علیہ السلام) سے تعلیم کی درخواست کی تو خضر (علیہ السلام) نے کہا اے موسیٰ ! کیا تمہیں توریت کا علم کافی نہیں موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا میں اللہ کے حکم سے حاضر ہوا ہوں اس پر خضر (علیہ السلام) نے فرمایا اچھا اگر تم میرے ساتھ رہنا چاہتے ہو تو اس بات کا خیال رکھنا کہ مجھے سے کسی چیز کے متعلق سوال نہ کرنا یہاں تک کہ میں خود تم کو اس کے حال سے آگاہ کر دوں مطلب یہ ہے کہ اگر ہم میرے ساتھ رہنا چاہئے ہو تو شرط یہ ہے کہ مجھ سے کچھ نہ پوچھنا اور نہ مجھ پر اعتراض کرنا کہ یہ کیوں کیا یا ایسا کیوں کیا یہاں تک کہ میں خود تم سے اس کا ذکر کروں۔ (تفسیر سراج منیر ص 321 ج 2) اب آئندہ آیات میں اللہ تعالیٰ ان وقائع کو بیان کرتے ہیں جو اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر (علیہ السلام) کے درمیان پیش آئے۔ پس ان شرائط کے تسلیم کرلینے کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) خضر (علیہ السلام) کے ساتھ ہو لئے اور آگے روانہ ہوئے ظاہر یہ ہے کہ یوشع بن نون بھی ساتھ تھے کیونکہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے تابع تھے اس لیے اصل متبوع یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کردیا اور تابع (یوشع بن نون) کا ذکر چھوڑ دیا اور قشیری (رح) کہتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے خضر کی ملاقات کے بعد حضرت یوشع کو واپس کردیا (واللہ اعلم) بہرحال حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت خضر (علیہ السلام) دونوں روانہ ہوئے اور چلتے چلتے ایسے مقام پر پہنچے جہاں کشتی پر سوار ہونے کی ضرورت پیش آئی ناخدا نے حضرت خضر (علیہ السلام) کو پہچان کر بصد تعظیم و تکریم کشتی میں مفت سوار کرلیا۔ یہاں تک کہ جب دونوں اس کشتی میں سوار ہوگئے تو کچھ دور چل کر حضرت خضر (علیہ السلام) نے کشتی کا ایک تختہ اکھاڑ کر اس میں سوراخ کردیا موسیٰ (علیہ السلام) یہ دیکھ کر گھبرائے کہ اب کشتی میں پانی بھر جائے گا اور کشتی غرق ہوجائے گا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے گھبرا کر کہا اے خضر کیا تو نے اس کشتی کو اس لیے پھاڑا ہے کہ کشتی والوں کو غرق کر دے اور بیوجہ سب کی جانیں ضائع ہوں اور احسان کا بدلہ نقصان سے دیں مال بھی برباد اور جانیں بھی برباد البتہ تحقیق تم نے عجیب ہی کام کیا ہے ایک تختہ نکال کر کشتی والوں پر آفت برپا کردی۔ خضر (علیہ السلام) نے کہا میں نے کہا نہیں تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہ کر سکوگے۔ آخر وہی ہوا جو میں نے کہا تھا موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا میں بھول گیا تھا۔ لہٰذا مجھے میری بھول چوک پر نہ پکڑو اور میرے معاملہ پر سختی نہ کرو تاکہ میرے لئے آپ کی معیت اور مرافقت میں دشواری نہ ہو بھول چوک میں نرمی اور چشم پوشی چاہئے نہ کہ مؤاخذہ اور سخت گیری فعل نسیان اللہ تعالیٰ کے نزدیک عدم کے حکم میں ہے پھر کشتی سے اتر کر دونوں آگے روانہ ہوئے اور ایک بستی میں پہنچے اور چند لڑکوں کے پاس سے گزرے جو کھیل رہے تھے یہاں تک کہ جب وہ دونوں ایک کمسن لڑکے سے ملے جو ان کھیلنے والوں میں سب سے زیادہ حسین و جمیل تھا حضرت خضر نے اس کو پکڑ کر مارڈالا قتل کردیا یا زمین پر لٹا کر چھری سے ذبح کردیا یا اس کا سر اس کے دھٹر سے جدا کردیا یا اس کا سر دیوار سے مار دیا اور مار کر چل کھڑے ہوئے ایک کمسن بچے کے اس حیرت انگیز قتل کو دیکھ کر موسیٰ (علیہ السلام) کو جوش آگیا اور بولے اسے خضر کیا تو نے ایک پاک اور بےگناہ جان کر بغیر کسی جان کے عوض اور بدلہ کے یونہی مار ڈالا۔ یہ تو معصوم بچہ تھا اس نے تو کسی کا خون بھی نہیں کیا تھا ایسا معصوم بچہ اگر کسی کا خون بھی کر ڈالے تو اس پر قصاص نہیں آپ نے اس کو کیسے مار ڈالا ہے بیشک آپ نے بہت ہی ناپسندیدہ اور برا کام کیا جس کا عقل اور فطرت اور شریعت سب ہی انکار کرتی ہیں آپ کا یہ فعل پہلے فعل سے زیادہ سخت ہے آپ نے ایسا برا کام کیا جس کا تدراک بھی ممکن نہیں کشتی کے شگاف کا من وجہ تدارک ممکن ہے۔ مگر قتل کا تدارک ممکن نہیں مار ڈالنے کے بعد جان ڈالنا کسی کے اختیار میں نہیں نیز قتل سے جان کا نقصان یقینی ہے اور شگاف سے کشتی کا غرق ہونا یقینی نہیں ممکن ہے۔ کہ کشتی باوجود شگاف کے غرق نہ ہو یا لوگ کسی اور طرح سے بچ جائیں۔ الحمدللہ آج بتاریخ 14 ذی الحجہ الحرام یوم شنبہ سنہ 1389 ھ عصر اور مغرب کے درمیان پندرھویں پارہ کی تفسیر سے فراغت ہوئی۔ (فللہ الحمد اولا وآخرا) ۔