Ayahs 18:18–21بقیہ قصہ مذکورہ
قال اللہ تعالیٰ وتحسبھم ایقاظا وھم رقود .... الیٰ .... لنتخذن علیہم مسجدا۔
اور اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے ان کی حیات کی حفاظت کا ایک سامان یہ کیا کہ اے دیکھنے والے اگر تو ان کو دیکھے تو ان کو جاگتا ہوا خیال کرے حالانکہ وہ سو رہے ہیں خواب میں غرق ہیں اور اس نیند کی حالت میں ہم ان کی کروٹیں بدلتے رہتے ہیں کبھی دائیں طرف اور کبھی بائیں طرف تاکہ زمین ان کے جسموں کو نہ کھا جائے اور ان کا کتا غار کی دہلیز پر اپنی دونوں بانہیں پسارے پڑا ہے ابن کثیر (رح) نے ذکر کیا ہے کہ یہ کتا ان میں سے کسی کے شکار کا تھا اور اس کتے کا نازم قطمیر تھا کہتے ہیں کہ وہ کتا بہشت میں جائے گا۔
سگ اصحاب کہف روزے چند پئے نیکاں گرفت مردم شد !
یہ تو غار کے اندر ان کی زندگی کی حفاظت کی کیفیت کا بیان ہوا۔ اور باہر کے دشمنوں سے ان کی حفاظت کا یہ سامان کیا کہ اس غار میں رعب اور جلال اور ہیبت کی یہ کیفیت پیدا کردی کہ اے دیکھنے والے اگر تو ان کو جھانک کر دیکھے تو تو الٹے پاؤں ان سے پشت پھیر کر بھاگے اور ان کی رعب اور ہیبت سے تو بھر دیا جائے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک ہیبت اور دہشت ڈال دی کہ کوئی ان کے قریب نہیں جاسکتا اور نہ کوئی ان کو چھو سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس جگہ میں یہ دہشت اور ہیبت اس لیے رکھ دی کہ لوگ اس جگہ کو تماشا نہ بنالیں اور ان کے آرام میں مخل نہ ہوں اپنی قدرت سے ان کی دربانی کے لئے دروازہ پر ایک کتا بٹھلا دیا جو ان کی طرح وہ بھی صدیوں تک سوتا رہا اور کروٹوں کا بدلنا زمین سے حفاظت کے لئے تھا اور یہ خداداد اور رعب و جلال دشمنوں سے حفاظت کے لیے تھا کہ کوئی دشمن اندر نہ جاسکے بادشاہوں کی ڈیوڑھی پر پہرہ اور بہر یدار ہوتا ہے جو اجنبی آدمی کو اندر جانے سے روکتا ہے یہاں اللہ تعالیٰ نے غیبی طور پر ہیبت اور جلال کا پہرہ قائم کردیا کہ کسی شخص کو اندر جانے کی ہمت ہی نہ ہو اور ظاہری طور پر غار کے منہ پر ایک کتا بھی بٹھلا دیا تاکہ اجنبی آدمی کو آنے جانے سے روک دے اور جس طرح ہم نے اپنی قدرت سے ان کو طویل مدت تک صحیح سالم اور ہر موذی سے ان کی حفاظت کی اسی طرح ہم نے سینکڑوں برس کے بعد ان کو صحیح سالم نیند سے اٹھایا اور خواب سے ان کو جگایا کہ باوجود اتنا طویل عرصہ گزرنے کے نہ ان کے جسم میں کوئی تغیر آیا اور نہ ان کے کپڑے پرانے ہوئے۔ جس طرح کمال قدرت کے ساتھ ان کو سلایا تھا اسی طرح کمال قدرت سے ان کو جگایا تاکہ اس طویل خواب سے بیدار ہو کر آپس میں ایک دوسرے سے پوچھیں۔ جس سے اخیر میں ان پر خدا کی قدرت اور اس کی رحمت و عنایت اور اس کی عطا کردہ کرامت منکشف ہو کہ حق تعالیٰ کی قدرت اور عنایت ایسی ہوتی ہے کہ مشاہدہ سے ان کے ایقان اور عرفان میں زیادتی ہو اور خدا کی اس نعمت کا شکر کریں۔
چناچہ ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ تم کتنی مدت سوئے رہے قرائن سے ان کو یہ معلوم ہوا اور یہ محسوس ہوا کہ ہم عادت سے زیادہ سوئے ہیں اس لیے یہ سوال کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک دن یا ایک دن سے کچھ کم سوئے رہے پھر کچھ قرائن اور آثار سے ظاہر ہوا کہ ہم طویل مدت تک سوئے رہے تو بولے کہ تمہارا پروردگار ہی خون جانتا ہے جتنی مدت تم سوئے رہے۔ خیر اب اس بات کو چھوڑو اس بیکار گفتگو سے کیا فائدہ اپنے کام کی بات کرو۔ پس تم تو اپنے میں سے ایک آدمی کو یہ روپیہ دے کر شہر کی طرف بھیجو۔ پس وہ شخص وہاں جاکر دیکھے کہ کس دکاندار کے پاس پاکیزہ اور حلال کھانا ہے پھر اس سے وہ پاکیزہ اور حلال کھانا خرید کر تمہارے پاس لائے۔ پاکیزہ اور ستھرے کھانے سے مراد یہ ہے کہ وہ کھانا حلال اور اور طیب ہو بتوں کے نام پر ذبح کیا ہوا نہ ہو۔ کیونکہ بازار میں اکثر بتوں کے نام کا ذبیحہ بکتا تھا اس لیے خریدنے سے پہلے تحقیق کرلینا کہ یہ کھانا بتوں کے نام پر تو ذبح کیا ہوا نہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ وہ کسی مسلمان سے غضب کیا ہوا نہ ہو اور آنے اور جانے اور کام کرنے میں لطافت اور ہوشیاری اور نرمی اور آہستگی کو ملحوظ رکھے اور شہر والوں میں سے کسی کو اپنی بابت شعور اور احساس بھی نہ ہونے دے کہ یہ کون شخص ہے۔
یعنی کوئی ایسی بات نہ کرے جس سے اہل شہر ہمارے حال سے آگاہ ہوجائیں کیونکہ اس میں ذرا شک نہیں کہ اگر وہ تم پر مطلع ہوجائیں تو وہ تم کو سنگسار کردیں گے یا جبرا تم کو اپنے مذہب میں داخل کرلیں گے اور اگر خدانخواستہ ایسا ہوا تو تم کبھی فلاح نہ پاؤ گے اور کفر کی وجہ سے دائمی عذاب میں مبتلا ہوجاؤ گے۔ جبر اور اکراہ کی حالت لیں اگرچہ زبان سے کلمہ کفر کہہ لینا جائز ہے لیکن بکثرت ایسا ہوتا ہے کہ ابتداء میں جان بچانے کے لیے بادل نخواستہ زبان سے کفر کا کلمہ کہہ لیتا ہے مگر جب دن رات کافروں کے ڈر سے کفر کے اقوال و اعمال کرنے پڑتے ہیں تو رفتہ رفتہ دل سے کفر کی کراہت اور نفرت کم ہوتی جاتی ہے بالآخر دل کفر پر جم جاتا ہے۔
چناچہ واقعات اس کے شاہد ہیں کہ ابتداء میں کوئی مسلمان کافروں کے دباؤ سے ان میں شامل ہوگیا اور دنیاوی مصالح اور منافع کے پیش نظر ان کے ساتھ ہوگیا۔ بالآخر نتیجہ یہ نکلا کہ رفتہ رفتہ انھی جیسا ہوگیا اللہم انی اسالک ایمانا لایرید : اور اگر بالفرض یہ شخص محض ظاہرا کافروں کے ساتھ رہا اور دل سے ان سے متنفر رہا اور بیزار رہا تو اس طرح سے یہ شخص تو دنیا سے ایمان سلامت لے گیا لیکن آنے والی نسل تو ان کے ظاہر کا اتباع کرے گی اور ظاہرا و باطنا ملت کفر میں داخل ہوجائے گی جیسا کہ آج کل بھارت میں فتنہ برپا ہے اللہ پناہ میں رکھے۔ اور جس طرح ہم نے اپنی کمال قدرت سے ان کو سلایا اور جگایا اسی طرح ہم نے لوگوں کو ان کے حال پر مطلع فرمایا تاکہ لوگ اس واقعہ سے جان لیں اور یقین کرلیں کہ بیشک اللہ کا وعدہ بعث اور حشر و نشر کے بارے میں بالکل صحیح اور درست ہے اس لیے کہ اتنے عرصہ دراز تک ان کا سونا اور جاگنا مرنے اور قیامت کے دن اٹھنے سے بڑی مشابہت رکھتا ہے اور یقین کے ساتھ جان لیں کہ قیامت کے قائم ہونے میں ذرا شک نہی وہ ضرور ہونے والی ہے۔ اور ہر شخص اپنے اس جسم کے ساتھ اٹھایا جائے گا اس زمانہ کے لوگوں کو قیامت کے بارے میں شک پیدا ہوگیا تھا کوئی اس کا انکار کرتا اور کوئی اس کا اقرار کرتا اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کے واقعہ بیداری کو قیامت کی ایک نشانی بنایا کہ جو لوگ حشر کے منکر ہیں وہ جان لیں کہ جو خدا اصحاب کہف کی توفی اور قبض ارواح یعنی جان نکالنے کے بعد نیند کی حالت میں تین سو نو برس تک ان کے بدن کو زندہ بلا تغیر کے قائم اور محفوظ رکھنے اور دوبارہ ان کے نفوس اور ارواح کو ان کے ابدان میں واپس کرنے پر قادر ہے وہی خدا ہزاراں ہزار سال کے بعد مردوں کی جان واپس کرنے پر اور دوبارہ ان میں روح ڈالنے اور زندہ کرنے پر قادر ہے۔
پیش قدرت کا رہا دشوار نیست عجز را با قدرت حق کار نیست
خلاصہ کلام یہ کہ حق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے لوگوں کو اصحاب کہف کے اس حال سے اطلاع دی جب وہ آپس میں اپنے دین کے بارے میں جھگڑ رہے تھے کہ قیامت ہوگی یا نہیں بعض اس کو ثابت کرتے تھے اور بعض اس کے منکر تھے کہ اعادہ معدوم کا کیوں کر ہوگا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کو ظاہر کرکے منکرین قیامت پر حجت قائم کردی اور یہ ظاہر کردیا کہ قیامت قائم ہوگی اور حشر روح اور جسم دونوں ہی کا ہوگا۔ خلاصہ کلام یہ کہ تنازع سے حشر و نشر اور قیامت کے بارے میں نزاع اور اختلاف مراد ہے اور بعض علماء یہ کہتے ہیں اذیتنازعون بینھم امرھم میں نزاع سے غار کے بارے میں نزاع اور اختلاف مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ جب اصحاب کہف کا حال ظاہر ہوگیا تو لوگوں کی رائے یہ ہوئی کہ یہاں بطور یادگار کوئی عمارت بنا دینی چاہئے اور جو اہل ایمان تھے اور غالب تھے وہ یہ کہتے تھے اس جگہ کوئی عبادت خانہ بنا دینا چاہئے۔ جیسا کہ آئندہ آیت میں ارشاد ہے پس جب اہل کہف کا حال ظاہر ہوگیا تو لوگ کہنے لگے کہ ان کے غار پر کوئی عمارت بنوا دو اس عمارت سے مقصود یا تو یہ تھا کہ غار کا منہ بند ہوجائے اور ان کی لاشیں محفوظ ہوجائیں یا بطور نشانی ان کی یادگار قائم کرنا تھا۔ اس کے علاوہ وہ لوگ اصحاب کہف کے احوال کے بارے میں گفتگو کرتے رہے پھر جب کوئی تحقیقی بات معلوم نہ ہوئی تو تھک کر یہ کہا کہ ان کا پروردگار ہی ان کے صحیح حال کو خوب جاننے والا ہے۔ غرض یہ کہ کسی نے کچھ کہا اور کسی نے کچھ بالآخر جو لوگ اپنی بات میں غالب رہے یعنی بیدروس اور اس کے اصحاب تو انہوں نے یہ کہا کہ ہم تو ان کے پاس ایک مسجد بنائیں گے یعنی ایک عبارت خانہ بنائیں گے تاکہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ یہ لوگ خدائے وحدہ لاشریک لہ کے عبادت گزار بندے تھے معبود نہ تھے۔ موحد تھے مشرک نہ تھے اور ان کی عبادت کے مناسب بھی یہی ہے کہ ان کی بارگاہ میں مسجد یعنی عبادت خانہ بنا دیا جائے۔ قبروں کو سجدہ گاہ بنانا ناجائز اور حرام ہے اور قبروں کے قریب مسجد بنانا جائز ہے معاذ اللہ۔ مسجد بنانے سے یہ غرض نہ تھی کہ لوگ ان کی قبروں کی طرف منہ کرکے نمازیں پڑھا کریں بلکہ غرض یہ تھی کہ صالحین کے قرب و جوار میں ایک عبادت خانہ بنا دیا جائے تاکہ لوگ ان کی طرح عبادت کیا کریں اور وہاں نمازیں پڑھا کریں اور ان کے قرب سے برکت حاصل کریں اور جس طرح اہل کہف بعث و نشور اور قیامت کے قائل تھے اسی طرح لوگوں کو چاہئے کہ مسجد میں حاضر ہو کر اللہ کی عبادت کریں اور آخرت کی تیاری کریں اہل کہف کے ظاہر ہونے پر مومنین غالب ہوئے جو حشر و نشر اور قیامت کے قائل تھے۔ اس لیے ان کی رائے یہ ہوئی کہ ان کی یاد میں مسجد نبوی جائے جو آخرت کا بازار ہے عبادت گزار بندوں کی یادگار میں ان کے قریب مسجد بنا دینا مناسب ہے جس میں دن رات اللہ کی عبادت ہوتی رہے۔
ذکر قول دیگر رد تفسیر آیت مذکورہ
اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ اذیتنازعون بینھم امرھم میں تنازع دربارہ حشر و نشر مراد نہیں بلکہ اصحاب کہف کی موت اور حیات کے بارے میں نزاع مراد ہے۔ امرھم کی ضمیر اصحاب کہف کی طرف راجع ہے اور مطلب یہ ہے کہ جب لوگ اصحاب کہف کے حال پر مطلع ہوگئے اور اصحاب کہف اپنے گار میں اپنی جگہ پر چلے گئے تو لوگوں میں اختلاف ہوا کہ اصحاب کہف وفات پاگئے یا حسب سابق دوبارہ سوگئے کسی نے کہا سوگئے اور کسی نے کہا وفات پاگئے اور اس بارے میں گفتگو کرتے رہے جب حقیقت حال منکشف نہ ہوئی تو تھک کر کہہ دیا ربھم اعلم بھم کہ خدا ہی کو ان کا صحیح حال معلوم ہے لہٰذا آیت میں تنازعہ سے یہ اختلاف مراد ہے کہ وہ غار میں جاکر دوبارہ سو گئے یا وفات پاگئے پھر اس نزاع سے فارغ ہوئے تو اس فکر میں پڑے کہ ان کی کوئی یاد گار قائم کی جائے۔
امام قرطبی (رح) فرماتے ہیں کہ اس بیداری کے بعد اصحاب کہف کے بارے میں اختلاف ہے بعض کہتے ہیں کہ وہ وفات پاگئے اور مر کر فنا ہوگئے اور بعض کہتے ہیں کہ وہ دوبارہ سوگئے اور ہنوز خواب استراحت میں ہیں اور ان کے اجسام محفوظ ہیں قیامت کے نزدیک جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) آسمان سے نازل ہوں گے اس وقت وہ بیدار ہوں گے اور غار سے نکلیں گے اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ حج کریں گے اور امام مہدی (علیہ السلام) کے مددگار بنیں گے جیسا کہ ایک ضعیف حدیث میں آیا ہے اور پھر قیامت سے پہلے ان کی موت آئے گی۔ (دیکھو تفسیر قرطبی ص 388 جلد 10)
حافظ عسقلانی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ ضعیف حدیث تفسیر ابن مردویہ میں عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے واللہ اعلم۔ (دیکھو فتح الباری ص 365 جلد 6)
بہرحال کسی حدیث سے یہ نہیں معلوم ہوسکا کہ اصحاب کہف اس واقعہ کے بعد زندہ رہے یا انتقال کر گئے اور انتقال کب ہوا اور اگر زندہ رہے تو کب تک رہے اور کب تک رہیں گے واللہ اعلم۔ نیز یہ امر بھی اللہ ہی کو معلوم ہے کہ اصحاب کہف کسی نبی کی شریعت کے متبع تھے بعض کہتے ہیں کہ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پیرو تھے اور بعض کہتے ہیں کہ وہ عیسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے گزرے ہیں واللہ اعلم۔
خلاصہ کلام یہ کہ جب بادشاہ کو اصحاب کہف کا حال معلوم ہوا تو ارکان دولت کو ساتھ لے کر غار پر پہنچا پہلے وہ شخص غار کے اندر گھسا جو کھانا لے کر آیا تھا مگر پھر اندر سے باہر واپس نہ آیا۔ بادشاہ نے بہت کوشش کی کہ اندر جا کر تلاش کرے مگر قضاء و قدر نے راستہ بھلا دیا اور کوئی اندر نہ جاسکا۔ اور بعض کہتے ہیں کہ بادشاہ مع ساتھیوں کے اندر داخل ہوا اور غار والوں سے جاکر ملا اور ان کو گلے لگایا اور باہر آنے کے بعد اس غار کا منہ بند کرا دیا اور بطور یادگار وہاں ایک مسجد تعمیر کرا دی۔
Ayahs 18:22–26ذکر اختلاف اہل کتاب دربارہ شمار اصحاب کہف
قال اللہ تعالیٰ سیقولون ثلثلۃ رابعھم .... الیٰ .... ولا یشرک فی حکمہ احدا۔
گزشتہ آیات میں لوگوں کے نزاع اور اختلاف کا ذکر فرمایا اب ان آیات میں لوگوں کے دوسرے نزاع کو بیان کرتے ہیں اور یہ بتلاتے ہیں کہ اہل کتاب جو علم کے مدعی ہیں اور بطور امتحان آپ ﷺ سے سوال کرتے ہیں وہ خود اصحاب کہف کی تعداد کے بارے میں مختلف ہیں چناچہ فرماتے ہیں۔
عنقریب اہل کتاب یہ قصہ سن کر ان کی تعداد کے بیان کرنے میں اختلاف کریں گے بعض تو یہ کہیں گے کہ وہ تین آدمی تھے اور چوتھا ان کا کتا تھا اور بعض یہ کہیں گے کہ وہ پانچ آدمی تھے چھٹا ان کا کتا تھا اور یہ دونوں گروہ بےتحقیق باتیں کر رہے ہیں جیسے غائبانہ چیز پر بےدیکھے پتھر پھینکنا بےکار ہے۔ اسی طرح یہ دونوں قول اٹک پچو اور ناقابل اعتبار ہیں۔ اٹکل کے تیر چلا رہے ہیں اور بعض یہ کہتے ہیں کہ وہ سات آدمی تھے آٹھواں ان کا کتا تھا۔ اے نبی آپ ان اخیلاف کرنے والوں سے کہہ دیجئے کہ میرا پروردگار ان کی شمار کو خوب جانتا ہے کہ ان اقوال میں سے کون سا قول صحیح ہے یا سب غلط ہیں ان کی شمار کو بہت تھورے آدمی جانتے ہیں کیونکہ ان کی تعین سے کوئی امر شرعی متعلق نہ تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے آیت میں اس اختلاف کے متعلق کوئی صریح فیصلہ نہیں فرمایا مگر آیت سے بطور اشارہ یہ مفہوم ہوتا ہے کہ من وجہ تیسرا قول قدرے صحیح ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس تیسرے قول کو نقل کرکے اس کا رد نہیں فرمایا بلکہ اس پر سکوت فرمایا۔ عبد اللہ بن عباس ؓ سے منقول ہے کہ وہ یہ فرمایا کرتے تھے کہ میں بھی ان بعض میں سے ہوں جن کو اللہ تعالیٰ نے مستثنیٰ فرمایا۔
پس اگر یہ لوگ اپنے اختلاف سے باز نہ آئیں تو آپ ﷺ ان کے بارے میں اہل کتاب سے بحث نہ کیجئے مگر سرسری طور اس لیے کہ اول تو تعیین عدد پر کوئی دلیل نہیں اور اگر بالفرض معلوم بھی ہوجائے تو کوئی متعدد بہ فائدہ بھی نہیں اور ان کے متعلق اہل کتاب میں سے کچھ پوچھئے بھی نہیں جس قدر ضروری تھا وہ آپ ﷺ کو ہم نے بتلا دیا اور غیر ضروری امر کی تحقیق میں پڑنا بےکار ہے بےکار چیزوں میں الجھنے کی ضرورت نہیں۔
شان نزول : مشرکین مکہ نے یہود کے سکھانے سے آنحضرت ﷺ سے اصحاب کہف کا قصہ دریافت کیا آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں کل اس کا جواب دوں گا اور انشاء اللہ کہنا بھول گئے۔ آپ ﷺ کا خیال تھا کہ جبرئیل (علیہ السلام) وحی لے کر آئیں گے نزول وحی کے بعد میں ان کو بتلا دوں گا۔ جبرئیل امین (علیہ السلام) پندرہ دن تک نہ آئے آپ ﷺ بہت غمگین ہوئے تب یہ مفصل قصہ نازل ہوا اور اخیر میں یہ آیت اتری آپ ﷺ جب کسی سے کوئی وعدہ کیا کریں تو انشاء اللہ ضرور کہہ لیا کریں۔
جن کو رتبے ہیں سوا ان کو سوا مشکل ہے
اتنی سی بھول پر بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے تنبیہ آئی چناچہ فرماتے ہیں اے نبی ﷺ آپ کسی کام کے متعلق ہرگز نہ کہا کیجئے کہ میں اس کام کو کل کروں گا مگر اس شرط کے ساتھ کہ اگر خدا نے چاہا تو کروں گا بغیر اس کی مشیت کے کچھ نہیں کرسکتا اس لیے کہ بندہ اپنے ارادہ اور اختیار میں مستقل نہیں بندہ کا اختیار اور بندہ کی قدرت، اللہ کی قدرت اور مشیت اور اختیار کے تحت ہے نہ اس کے برابر ہے نہ اس کے اوپر ہے نیز بندہ کو خبر نہیں کہ کل آئندہ کیا ہوگا معلوم نہیں کہ کل تک زندہ بھی رہے گا اور اگر زندہ بھی ہو تو معلوم نہیں کہ اس کام کو بھی کرسکے یا نہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ” انشاء اللہ “ کہے اور جب انشاء اللہ کہنا بھول جاؤ تو جب یاد آئے خواہ ایک سال کے بعد تو انشاء اللہ کہہ کر اپنے پروردگار کو یاد کرلیا کرو تاکہ گزشتہ غفلت اور بھول چوک کی تلافی ہوجائے اور یہ مطلب نہیں کہ اگر طلاق دینے کے ایک سال بعد بھی انشاء اللہ کہو گے تو طلاق واقع نہ ہوگی اس لیے کہ اس حکم سے عقود اور معاملات کا مسئلہ بیان کرنا مقصود نہیں بلکہ اللہ کے نام کی برکت اور اس کی مشیت پر نظر رکھنے کا مسئلہ بیان کرنا مقصود ہے۔
مقام اصحاب کہف
اصحاب کہف کا مقام متعین کرنے کے بارے میں حضرات مفسرین کرام ؓ نے متعدداقوال نقل کیے ہیں بعض یہ کہتے ہیں کہ یہ غار بلا دروم کے کسی پہاڑ کے اندر واقع ہے اور بعض کہتے ہیں کہ بلاد موصل میں نینوی کے قریب کہتے ہیں کہ وہ ایلہ کے قریب ہے اور بعض کہتے ہیں کہ وہ بلقاء کے شہروں میں کسی جگہ ہے۔ حافظ ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو اس غار کا پتہ نہیں بتلایا کہ وہ کس ملک اور کس زمین اور کس شہر میں ہے کیونکہ اس سے ہمارا کوئی دینی اور دنیوی فائدہ متعلق نہیں شاید اس کے اخفاء میں اللہ کی کوئی حکمت اور مصلحت ہو اگر اس کے بتلانے میں ہماری کوئی دینی یا دنیوی مصلحت اور منفعت ہوتی تو اللہ اور اس کا رسول ہم کو ضرور خبر دیتے کہ وہ غار کہاں واقع ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس غار کی صفت اور حالت کی تو خبر دے دی مگر اس کے مقام اور مکان کی خبر نہیں دی۔ لہٰذا ہمیں اس کے درپے نہ ہونا چاہئے اور بعض مفسرین نے تکلف کیا اور اس بارے میں کچھ اقوال ذکر کیے جیسا کہ ابھی گذرے وہ سب تکلف ہیں واللہ اعلم۔ (دیکھو تفسیر ابن کثیر ص 75 جلد 3)
امام رازی (رح) فرماتے ہیں کہ صحیح ہو کہ اصحاب کہف کا مقام اور ان کی جگہ معلوم نہیں کہ کہاں واقع ہے اس لئے کہ یہ بات عقل سے تو معلوم نہیں ہوسکتی کہ فلاں شخص کا مقام فلاں جگہ پر ہے اور اس کا مشاہدہ اور معائنہ بھی ممکن نہیں اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے کہ اس غار پر منجانب اللہ ایک رعب اور جلال ایسا ہے کہ ہیبت کے مارے کوئی اس غار کے اندر داخل نہیں ہوسکتا۔ حق تعالیٰ کا نبی اکرم ﷺ کو ارشاد ہے لواطلعت علیہم لولیت منھم فرارا ولملئت منھم رعبا اگر آپ ﷺ ان کو جھانک کر دیکھیں تو ہیبت کے مارے پشت پھر کر بھاگیں اور ان کی طرف سے خوف اور دہشت سے بھر جائیں پس جب نبی کریم (علیہ السلام) الصلوٰۃ والتسلیم ہیبت اور جلال کی وجہ سے اس غار میں داخل نہیں ہوسکے تو اور کس کی مجال ہے کہ وہ اس غار میں داخل ہوسکے لہٰذا جو شخص یہ کہے کہ میں یا فلاں شخص اصحاب کہف کو غار میں دیکھ کر آیا ہوں تو یہی اس بات کی دلیل ہے کہ یہ غار وہ غار نہیں جس کی حق تعالیٰ نے قرآن کریم میں خبر دی کیونکہ جب اس غار میں جھانکنا ممکن نہیں تو داخل ہونا کیسے ممکن ہوگا۔ غرض یہ کہ عقل اور مشاہدہ سے اس غار کو معلوم کرنا ناممکن ہے اور حق تعالیٰ نے اس غار کے مقام اور مکان کا کوئی پتہ نہیں دیا لہٰذا ثابت ہوا کہ اصحاب کہف کے مقام اور مکان کے علم کی کوئی راہ نہیں نہ عقل سے اور نہ مشاہدہ سے اس بارے میں کوئی نص قرآنی اور ارشاد نبوی ﷺ موجود نہیں جس سے اس غار کا مقام معلوم ہو سکے تو اس کے علم کو اللہ کے حوالہ کرنا چاہئے۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم واحکم۔ (دیکھو تفسیر کبیر ص 494 جلد 5)
اور آپ کہہ دیجئے کہ اے قریش ! تم اصحاب کہف کے قصہ سے تعجب نہ کرو مجھے خدا تعالیٰ سے امید ہے کہ وہ میری اس امر کی طرف راہنمائی کرے جو رشد اور صواب کے اعتبار سے اصحاب کہف کے قصہ سے بھی زیادہ عجیب و غریب ہو اور میری نبوت کی قریب ترین دلیل ہو چناچہ اللہ تعالیٰ نے حسب وعدہ امید سے بڑھ کر اصحاب کہف کے قصہ سے زیادہ واضح دلائل نبوت اور براہین رسالت آپ ﷺ کو عطا کیئے۔ کیونکہ اصحاب کہف اور ذوالقرنین کا قصہ جس کا انہوں نے سوال کیا تھا وہ اس اعتبار سے آپ کی نبوت کی دلیل تھا کہ وہ غیب کی خبروں میں سے ایک خبر تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کے قصہ سے بڑھ کر اور بہت سی غیبی خبریں جن کا زمانہ اصحاب کہف سے بھی زیادہ قدیم ہے وہ اور آئندہ ہونے والی باتیں آپ ﷺ کو بذریعہ بتلائیں اور آپ نے ان غیبی خبروں کو لوگوں کے سامنے بیان کیا جو اصحاب کہف کے قصہ سے کہیں بڑھ کر ہیں جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے تلک من انباء الغیب نوحیھا الیک ما کنت تعلمھا انت ولا قومک من قبل ھذا۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ جب قریش کو اصحاب کہف کا قصہ سن کر تعجب ہوا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو حکم دیا کہ ان مشرکوں سے یہ کہو کہ میری نبوت کا ثبوت کچھ اس قصہ پر منحصر نہیں مجھے اللہ سے امید ہے کہ وہ اس بڑھ کر مجھ کو نبوت کا ثبوت عطا کرے گا تم نے یہ قصہ میرے امتحان کے لئے پوچھا تھا کہ اگر یہ سچے پیغمبر ہیں تو اس قصہ کو بیان کردیں گے ورنہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بتلا دیا کہ اگر یہ لوگ اس کے عالوہ کسی اور شئے کا آپ سے سوال کریں گے جو آپ کو معلوم نہ ہوگی تو اللہ تعالیٰ بذریعہ وحی اس سے بڑھ کر آپ ﷺ کو بتلا دے گا۔ آیت کی یہ تفسیر رجاج (رح) سے منقول ہے۔
یا یہ معنی ہیں کہ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو نصیحت فرمائی کہ اگلی بات کی بابت بغیر انشاء اللہ کہے وعدہ نہ کیا کریں اور اگر کسی وقت بھول جائیں تو جب یاد آئے انشاء اللہ کہہ لیا کریں اور فرمایا کہ آپ امید رکھیں کہ اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کا درجہ اس سے بھی زیادہ کرے یعنی آپ کبھی نہ بھولیں اور آئندہ کبھی بھولنے کا موقعہ نہ آئے۔ (ماخوذ از موضح القرآن)
یا یہ معنی ہیں کہ جب کسی چیز کو بھول جایا کرو تو اللہ کو یاد کرو اور یہ کہہ لیا کرو وعسی ان یھدین ربی لاقرب من ھذا : یعنی امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بھولی ہوئی چیز کے بدلہ میں اس سے زیادہ بہتر اور نافع چیز عطا فرمائیں اور عجب نہیں کہ یہ نسیان ہی میرے حق میں بہتر ہو کما قال تعالیٰ او ننسھا نات بخیر منھا : علامہ زمخشری (رح) فرماتے ہیں کہ یہ معنی ظاہری سیاق کے زیادہ مطابق معلوم ہوتے ہیں۔
پھر اس تنبیہ کے بعد اصحاب کہف کے متعلق ایک بات بیان کرکے قصہ کو ختم فرماتے ہیں اور یہ لوگ جو آپ سے اصحاب کہف کے متعلق سوال کرتے ہیں کہ وہ کتنی مدت غار میں رہے تو آپ ان کے جواب میں یہ کہہ دیجئے کہ اصحاب کہف اپنی غار میں تین سو برس رہے اور ان تین سو برس کے علاوہ نو برس اور زیادہ ہیں اس کے بعد وہ خواب سے جگائے اور اٹھائے گئے اور آپ کہہ دیجئے کہ پوری طرح اللہ ہی کو خوب معلوم ہے۔ جتنی مدت وہ غار میں ٹھہرے اسی کو تمام آسمانوں اور زمین کا علم غیب ہے اس پر کہف کا حال کیسے مخفی رہ سکتا ہے عجیب دیکھنے والا اور عجیب سننے والا ہے۔ ظاہرو مددگار نہیں اور وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں کرتا اس لیے لازم ہے کہ کوئی اس کے غیب میں دخل نہ دے اور جتنی بات اس نے بتلا دی ہے اس پر اکتفاء کرے اور اپنی طرف سے کوئی بات رجما بالغیب نہ کہے۔
Ayahs 18:27–31حکم تلاوت قرآن و مدارات درویشان وخرقہ پوشان
قال اللہ تعالیٰ واتل ما اوحی الیک .۔... الیٰ .... وحسنت موتفقا۔
(ربط) شروع سورت میں نزول کتاب کی نعمت کو بیان فرمایا اور اس کے بعد دنیا کے فناء وزوال کو بیان کیا پھر اس کے بعد اصحاب کہف کا قصہ بیان کیا جنہوں نے دنیا پر لات ماری اور مضبوطی کے ساتھ حق پر قائم رہے بالآخر کامیاب ہوئے اور ظالم اور متکبر دنیا سے رخصت ہوئے اب اصحاب کہف کے قصہ کے بعد پھر اس قرآن کی تلاوت کا حکم دیتے ہیں جس میں دشمنان اسلام کے سوالات کے جوابات نازل ہوئے۔ جس سے آنحضرت ﷺ کی نبوت ثابت ہوئی اور پھر اصحاب کہف جیسے درویشان اسلام اور اہل خرقہ یعنی گدڑی اور کمبل پوشوں کی مجالست اور مدارات اور خاطر داری کا حکم دیتے ہیں اور نبی ﷺ کو یہ تعلیم دیتے ہیں کہ عمار ؓ اور سلمان ؓ اور صہیب ؓ اور بلال ؓ اور ابن مسعود ؓ جیسے درویشوں کو جو زہد و قناعت اور صبر اور استقامت میں اصحاب کہف کا نمونہ ہیں ان پر خاص نظر عنایت رکھئے اور اہل دنیا اور مالداروں کے کہنے سے ان درویشوں کو اپنی مجلس سے علیحدہ نہ کیجئے اور جو لوگ اپنے مال و دولت پر فخر کرتے ہیں ان کی پرواہ نہ کیجئے چاہے ایمان لائیں یا نہ لائیں ان اہل دنیا کی طرف التفات نہ کیجئے۔
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) ازالۃ الخفاء میں فرماتے ہیں کہ ان آیات میں پہلے تلاوت قرآن کا حکم دیا بعد ازاں ان لوگوں کے ساتھ رہنے کا حکم دیا جو رضائے الٰہی کے طالب ہوتے ہیں اور صبح و شام عبادت الٰہی میں مشغول رہتے ہیں اور ایسے لوگوں سے منہ موڑنے کی ممانعت فرمائی اور اہل غفلت سے اعتراز اور کنارہ کشی کا حکم دیا اور اس آیت میں جس جماعت کی مجالست اور مصاجت رکھنے کا حکم دیا گیا وہ مہاجرین اولین تھے جو کثرت عبادت و اطاعت کے ساتھ موصوف تھے اور خواہ ابتداء ہی سے وہ فقیر تھے یا اپنا مال و متاع راہ خدا میں خرچ کرکے تنگ دست ہوگئے تھے۔ یہ ان کا عظیم وصف تھا وھذا ھو المقصور۔
کفار یہ کہتے تھے کہ اگر آپ ﷺ یہ چاہتے ہیں کہ ہم آپ ﷺ کی بات کو سنیں اور آپ پر ایمان لے آئیں تو جب ہم آپ ﷺ کے پاس آیا کریں تو آپ ان فقراء مسلمین کو اپنے پاس سے ہٹا دیا کریں ہمارا اور انکا مل کر بیٹھنا ہماری شان کے خلاف ہے ان کے جبوں اور کپڑوں سے بو آتی ہے یہ لوگ ہمارے برابر کے نہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی اور آپ ﷺ کو ان کی درخواست قبول کرنے سے منع کردیا۔ اور آپ ﷺ کو حکم دیا کہ آپ ان متکبرین اور معزورین کی بات کی طرف توجہ اور التفات نہ کریں اور ان درویشان اسلام کی صحبت اور مجالست کو برقرار رکھیں اور ان سے اپنی نظر التفات نہ ہٹائیں یہ درویشان اسلام صبح و شام اللہ کی ذکر اور دعا میں مشغول ہیں اور ہمارے مخلص بندے ہیں اور اصحاب کہف نمونہ ہیں ان اہل غفلت کے کہنے سے آپ ان فقراء مومنین کو اپنے پاس سے نہ ہٹائیں اور نہ اٹھائیں ان متکبرین کو یہ گوارہ نہ تھا کہ کوئی ان کے برابر بیٹھ سکے اللہ تعالیٰ نے بتلا دیا کہ ان کی یہ درخواست قابل منظوری نہیں اصل عزت والے یہ فقراء صادقین ہیں اور یہ مغرورین اور متکبرین اللہ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں اور اسی مضمون کی ایک آیۃ سورت انعام میں گزر چکی ہے ولا تطرد الذین یدعون ربھم بالغداوۃ والعشی حضرت موسیٰ اور حضرت خضر (علیہما السلام) کے قصہ تک یہی مضمون چلا گیا ہے۔
چناچہ فرماتے ہیں اور اے نبی ﷺ ! آپ اپنے پروردگار کی اس کتاب کو جو بذریعہ وحی آپ کے اس بھیجی گئی ہے اس کو پڑھئے اور دوسروں کو بھی سنائیے اور لوگوں تک اس کو پہنچائیے یہی آپ کی نبوت کی کافی اور شافی دلیل ہے اور یہ خیال نہ کیجئے کہ ان دولت مندوں کے اسلام میں داخل ہوجانے سے اسلام کو ترقی ہوگی ان پر دین کی ترقی کا دارومدار نہیں اس دین کی ترقی کے ہم ذمہ دار ہیں۔ ہم آپ ﷺ سے وعدہ کرچکے ہیں اللہ کی باتوں کو یعنی اس کے وعدوں کو کوئی بدلنے والا نہیں۔ خدا کے تمام وعدے اور تمام پیشین گوئیاں پوری ہو کر رہیں گی کسی کی موافعت یا مخالفت وعدہ الٰہی پر اثر انداز نہیں ہوسکتی یا یہ معنی کہ کافروں کے اس قول کی پرواہ نہ کیجئے جو یہ کہتے ہیں ائت بقران غیر ھذا او بدلہ : یعنی اس قرآن کے سوا دوسرا قرآن لاؤ جس میں بتوں کی مذمت اور شرک کا رد نہ ہو یا اس میں کچھ ردوبدل کر دو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ کے کلمات میں کوئی متغیر و تبدل ممکن نہیں اور بجز ذات خداوندی کے آپ کوئی پناہ نہ پائیں گے اس کے سوا کوئی پناہ دینے والا نہیں۔
شروع سورت میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا تھا کہ زمین کی چیزیں اور تمام اسباب تجمل فقط دنیا کی زینت ہیں نہ کہ آخرت کی اور دنیا کی زینت فانی اور سریع الزوال ہے اس سے دل بستگی نہ چاہئے عاقل کا کام دار آخرت کی فکر ہے اس کے بعد اصحاب کہف کا قصہ ذکر فرمایا کہ جو شاہی خاندان کے افراد تھے اور محلوں کے رہنے والے تھے دنیا کی زینت کو چھوڑ کر اپنے دین کو لے کر بھاگ نکلے اور غار میں جا چھپے اب اس کے بعد اشراف مکہ کے متعلق ایک ہدایت فرماتے ہیں رؤساء مکہ دنیا کی زینت پر فریفتہ تھے اور اسباب دنیا کے غرور میں ان کو فقراء مسلمین کے ساتھ آنحضرت ﷺ کے پاس بیٹھنا ناگوار تھا اس لیے ان رؤساء نے آنحضرت ﷺ سے یہ درخواست کی کہ جس وقت ہم آپ ﷺ کے پاس آیا کریں اس وقت یہ لوگ آپ ﷺ کے پاس نہ آیا کریں۔ آپ ہمارے لئے علیحدہ مجلس رکھئے اور ان درویشوں کو اس مجلس میں ہمارے ساتھ شریک نہ کیجئے یہ لوگ صوف کے جبے پہنے رہتے ہیں اور میں ان کو پسینہ آتا ہے اور اس سے بدبو آتی ہے اور ہم شرفاء اور سادات حفر ہیں اگر ہم اسلام لے آئے تو ہماری تقلید میں سب لوگ مسلمان ہوجائیں گے۔ غرض یہ کہ سرداران قریش نے ان جبہ پوشوں اور کمبل والوں کے پاس اور ان کے ساتھ بیٹھنا کسر شان سمجھا ممکن ہے کہ آنحضرت ﷺ کو اس وقت یہ خیال آیا ہو کہ اگر تھوڑی دیر کے لیے غرباء کو علیحدہ کردیا جائے تو کیا مضائقہ ہے یہ تو سچے اور پکے مسلمان ہیں ہی اگر سرداران قریش اس طرح اسلام میں داخل ہوجائیں تو یہ اسلام کے لیے باعث تقویت ہوگا اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں اے نبی آپ ان اہل دنیا کی ذرا برابر پرواہ نہ کیجئے۔ بلکہ اپنی نشست و برخاست میں ہمہ تن اپنے آپ کو ان لوگوں میں مقید اور پابند رکھئے جو صبح و شام یعنی شروع دن سے لے کر اخیر دن تک اپنے رب کی یاد میں لگے رہتے ہیں اور اس ذکر اور عبادت سے فقط رضائے خداوندی کے طالب ہیں اس سے ان کی کوئی دنیاوی غرض نہیں اور چاہئے کہ آپ کی آنکھیں ان فقراء مسلمین سے نہ پھرجائیں یعنی ایسا نہ ہو کہ کسی وقت آپ ﷺ کی نظر التفات ان اہل دنیا کی طرف پھرجائے گویا کہ آپ دنیاوی زندگی کی زیب و ینت اور اس کی آرائش کی طرف مائل ہونے لگے کیونکہ امیروں کی دلجوئی کے لئے فقیروں کو پاس نہ آنے دینا بھی ایک قسم کی دنیا کی زینت کی رعایت ہے جس سے اللہ کا نبی پاک اور منزہ ہے حق جل شانہ نے ان آیات میں اپنے نبی کو کافروں کی اس قسم کی دلجوئی سے منع فرما دیا کیونکہ مجلس اور مجالست میں امیروں اور فقیروں میں فرق اور امتیاز قائم کرنا بظاہر حیات دنیا کی زینت کی رعایت ہے ورنہ عقبی اور آخرت کی راہ سے فقراء اسلام کو جو امتیاز حاصل ہے وہ شاہان دنیا کو بھی حاصل نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل کرکے بتا دیا کہ یہ متبرین ایمان لانے والنے نہیں ان کا ایمان محض موہوم اور متحمل ہے اور محض موہوم اور محتمل فائدہ کی خاطر محبین مخلصین کے احترام اور دلجوئی کو کیوں نظر انداز کردیا جائے نیز غریبوں کے ساتھ اس قسم کا معاملہ کرنے میں یہ بھی احتمال ہے کہ لوگ اس طرز عمل کو دیکھ کر نبی سے بدگمان نہ ہوجائیں اور اسلام کے قبول کرنے میں تردد کرنے لگیں اور چند متکبرین کے اسلام لے آنے میں اسلام کا اتنا فائدہ نہیں جتنا کہ اس بدگمانی سے اسلام کو ضرر پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد آنحضرت ﷺ ان فقراء اور درویشان اسلام کی پہلے سے زیادہ خاطر داری اور مدارت کرنے لگے اور خاص طور پر ان کے پاس آکر بیٹھنے کا مجھ کو حکم دیا میری زندگانی اور موت انہی کے ساتھ ہے۔
مسئلہ : عالم شریعت اور شیخ طریقت پر لازم ہے کہ فقراء کی صحبت اور مجالست کو نعمت سمجھے اور اپنی مجلس کو عام رکھے امراء اور اغنیاء کی رعایت سے اپنی مجلس سے فقراء کو نہ اٹھائے ایسا کرنا اللہ تعالیٰ نے نزدیک مذموم ہے فقراء اور مساکین کے پاس بیٹھنے سے دنیا نظروں میں خوار ہوتی ہے یہ آیت بلال ؓ اور عمار ؓ اور صہیب ؓ اور خباب ؓ اور عبد اللہ بن مسعود ؓ کے بارے میں نازل ہوئی جو صوف کے جبے پہنے ہوئے حضور پر نور ﷺ کی مجلس میں آتے تھے اور ان میں پسینہ آجاتا تھا جس سے ان اشراف قریش کو کراہت محسوس ہوتی اس سے معلوم ہوا کہ صوف کا جبہ درویشان اسلام کا لباس ہے۔ اسی لئے صوفی کو صوفی کہتے ہیں کہ جو ازراہ تواضع و درویشی صوف (بالوں) کا لباس پہنے۔
اور مت کہنا مانو اس شخص کا جس کا دل ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے اور دنیائے دون کا اس کو دیوانہ بنا دیا ہے اور وہ شخص ہمہ تن اپنی نفسانی کا تابع اور پیرو ہوگیا ہے نفس کا بندہ (غلام) بنا ہوا ہے جدھر اس کا نفس اس کو لے جاتا ہے ادھر دوڑا چلا جاتا ہے ذلت اور عزت سے کو کوئی بحث نہیں اور اس کا کام جد اعتدال سے گزرا ہوا ہے آپ ہرگز ہرگز ایسے لوگوں کا کہنا نہ مانیے اور ان کے کہنے سے فقراء صادقین اور اہل مخلصین کو اپنے پاس سے ہرگز نہ ہٹائیے اور ذرہ برابر ان اہل غفلت کی پرواہ نہ کیجئے اور ان اہل غفلت اور اہل ذکر مخلصین کو اپنے پاس سے ہرگز نہ ہٹائیے اور ذرہ برابر ان اہل غفلت کی پرواہ نہ کیجئے اور ان اہل غفلت اور اہل ثروت سے صاف کہہ دیجئے کہ یہ دین حق تمہارے پروردگار کے پاس سے آیا ہے جو مشعل ہدایت ہے۔ پس جس کا جی چاہئے ایمان لائے اور جس کا جی چاہے کفر کرے خدا تعالیٰ کو نہ تمہارے ایمان کی ضرورت ہے اور نہ تمہارے کفر سے ڈر ہے تمہارے کہنے سے میں ان فقراء صادقین ذاکرین مخلصین کو اپنے پاس سے نہیں ہٹا سکتا اور جو حق کا کافر اور منکر ہو وہ قابل التفات نہیں اور یہ کلام بطور تہدید اور تحریف ہے نہ کہ بطور تخبیر و اباحت، اس کے بعد کافروں اور مسلمانوں کے اخروی درکات اور درجات کو بیان فرماتے ہیں اس میں شک نہیں کہ ہم نے ظالموں کے لئے آگ تیار کر رکھی ہے وہ ان کی منتظر ہے۔ اس کی قنائیں اور پردے ہر طرف سے ان کو گھیر لیں گے اس کی چار دیواری سے باہر نہیں نکل سکیں گے اور اگر وہ پیاس سے چلائیں گے اور فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی ایسے پانی سے کی جائے گی جو پگھلے ہوئے تانبے کی مانند ہوگا۔ یا تیل کے تلچھٹ کی مانند ہوگا جو برتن کی تہہ میں رہ جاتا ہے اور اس قدر تیز گرم ہوگا کہ پاس لاتے ہی منہ کو بھون ڈالے گا اور وہ دوزخ بہت ہی بری آرام گاہ ہوگی۔ اور وہ پانی بہت ہی برا ہوگا۔
اب ان اشقیاء کے بعد سعداء کا حال اور مال ذکر کرتے ہیں تحقیق جو لوگ اس حق پر ایمان لائے جو آپ ﷺ دے کر بھیجے گئے ہیں اور اس کی ہدایت کے مطابق اچھے عمل کیے تو بلاشبہ ایسے نیک و کاروں کا اجر ہم ضائع نہیں کریں گے ایسے ہی لوگوں کے لیے ہمیشہ کے باغات ہوں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی وہاں ان کو سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے جو بادشاہوں کی زینت ہے۔
زار المسیر میں سعید بن جبیر ؓ سے منقول ہے کہ ہر جنتی کے لیے تین کنگن ہوں گے ایک چاندی کا ایک موتی کا اور ایک یاقوت کا یا یہ مطلب ہے کہ کسی کے ہاتھ میں سونے کا کنگن ہوگا اور کسی کے ہاتھ میں چاندی کا اور کسی کے ہاتھ میں موتیوں کا اور ایک احتمال یہ بھی ہے چنیں اور گاہے چناں ہو۔ مطلب یہ ہے کہ عالم آخرت میں معاملہ برعکس ہوگا اہل ایمان اگرچہ وہ درویش اور فقیر ہوں وہ تو ایسے محلوں اور باغوں اور عیش و عشرت میں ہوں گے اور اہل کفر ذلت و خواری میں ہوں گے اور سبز کپڑے پہنیں گے۔ باریک ریشم کے اور دبیز ریشم کے، اور کافروں کو گندھک کے کرتے پہنائے جائیں گے تکیہ لگانے والے ہوں گے۔ تختوں پر جیسا کہ امیروں کی عادت ہے مطلب یہ ہے کہ غایت درجہ عین و آرام میں ہوں گے کیا خوب جزاء ہے ایمان کی اور اعمال صالحہ کی اور جنت خوب آرام گاہ ہے یا وہ تخت خوب تکیہ گاہ ہیں جن پر یہ درویشاں اسلام شاہانہ لباس میں بیٹھے ہوں گے۔ اب آئندہ آیات میں دنیا کے چاہنے والے کی مثال بیان فرماتے ہیں۔
Ayahs 18:32–44بنی اسرائیل کے دو بھائیوں کی مثال
قال اللہ تعالیٰ واضرب لہم مثلا رجلین .... الیٰ ۔۔۔۔ ھو خری ثوابا وخیر عقبا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں کفار کی اس درخواست کو رد فرمایا جو اپنے مال و دولت کے نشہ میں چور تھے اور فقراء مسلمین کو حقیر سمجھتے تھے اور ان کے ساتھ بیٹھنے میں عار محسوس کرتے تھے اور اپنے مال و دولت پر فخر محسوس کرتے تھے اور آنحضرت ﷺ سے یہ کہتے تھے کہ جب ہم آپ ﷺ کے پاس آیا کریں تو آپ ان دو ویشان اسلام اور فقراء مسلمین کو اپنے پاس سے ہٹا دیا کریں اب ان آیات میں ان متکبرین کے سنانے کیلئے اور دنیا کی بےثباتی اور ناپائیداری بتلانے کے لئے بنی اسرائیل کے دو بھائیوں کی ایک مثال ذکر فرماتے ہیں جن میں سے ایک مالدار کافر تھا اور آخرت کا منکر تھا اور اپنے مال و دولت پر مغرور تھا اور دوسرا ایک مومن اور درویش تھا مال دار کافر مال و دولت کے نشہ میں سلسلہ عالم کو قدیم سمجھتا تھا اور آخرت کا منکر تھا اور فقیر مسلمان بھائی، اس کو خدا کی عظمت اور جالال کی تلقین کرتا تھا اور یہ سمجھتا تھا کہ یہ عالم قدیم نہیں اور اس کارخانہ عالم کی باگ ڈور اس پروردگار کے ہاتھ میں ہے جس نے تجھ کو مٹی سے پیدا کیا اصل دولت اور اصل عزت پروردگار عالم کی اطاعت اور عبادت میں ہے جو فقراء مسلمین کو حاصل ہے اور تو اس عزت سے محروم ہے یہ درویش بھائی اپنے دولت مند بھائی کو ڈراتا تھا کہ خدا کی ناشکری نہ کر مبادا کہ کوئی بلا نازل ہوجائے۔ چناچہ اس پر ایک بلا آسمانی ناگہانی طور پر نازل ہوئی جس سے دم کے دم میں وہ تمام باغ اجڑ گیا اور مالک باغ حسرت سے ہاتھ ملتا رہ گیا تب اس کی آنکھ کھلی کہ اللہ ہی جو چاہتا ہے کرتا ہے۔
خلاصہ کلام یہ کہ اللہ تعالیٰ آئندہ آیات میں ایک طالب دنیا اور ایک طالب آخرت کا قصہ بیان فرماتے ہیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ اموال کی کثرت اور اعوان انصار کی قوت قابل فخر چیز نہیں ہوسکتی ہوسکتا ہے کہ دم کے دم میں تو نگر۔ فقیر ہوجائے اور فقیر۔ تو نگر ہوجائے قابل فخر تو ایمان اور عمل صالح اور تقویٰ ہے اور یہ دنیا تو چند روزہ باغ و بہار ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اے نبی ﷺ ! دنیا کی بےثبانی اور ناپائیداری ظاہر کرنے کے لئے دو شخصوں کا قصہ بیان کر۔ وہ دو آدمی تھے آپس میں بھائی بھائی تھے ان میں سے ایک کو جو کافر تھا ہم نے انگوروں کے دو باغ دئیے تھے اور ان دونوں باغوں کو ہم نے کھجوروں کے درختوں سے گھیر دیا تھا۔ یعنی ہر چار طرف کھجور کے درخت تھے اور ان دونوں باغوں کے درمیان ہم نے کھیتی بھی کردی تھی جس سے قوت روزینہ ان کو حاصل ہوتی تھی اس میں کوئی جگہ خالی نہ تھی تمام زمین سے قسم قسم کی پیداوار تھی دونوں باغ اپنا پورا پھل دیتے تھے اور باغ کی پیداوار میں ذرہ برابر کمی نہ تھی اور ہم نے ان دونوں باغوں کے درمیان نہر بھی جاری کردی تھی جس کا پانی کبھی منقطع نہیں ہوتا تھا اور وہ نہر دونوں کو ہمیشہ پانی پہنچاتی اور اس پیداوار کے علاوہ اس شخص کے لئے اور بھی قسم قسم کے پھل تھے اور ابن عباس ؓ اور مجاہد (رح) اور قتادہ (رح) سے مروی ہے کہ ثمر سے مال مراد ہے۔ یعنی سوائے ان دو باغوں کے اس کے پاس اور بھی قسم قسم کا مال تھا یعنی سونا اور چاندی وغیرہ تھا۔ پس یہ مالدار کافر اپنے ساتھی یعنی مومن بھائی سے جو غریب تھا۔ بولا۔ درآں حالیکہ وہ اس سے گفتگو کر رہا تھا یعنی یہ کہتا جاتا تھا اور وہ جواب دیتا جاتا تھا۔ دونوں میں باہم گفتگو ہو رہی تھی اثناء گفتگو میں اس کافر بھائی نے فخرا کہا کہ میں تجھ سے مال میں بڑھا ہوا ہوں اور حشم و خدم کے اعتبار سے زیادہ عزت والا ہوں پھر یہ مال دار کافر اپنے غریب مومن ساتھی کا ہاتھ پکڑ کر اپنے باغات اور ان کی پیداوار اور مال و دولت کو دکھلاتا تھا اور فخر کرتا جاتا تھا اور اسی طرح اس کا ہاتھ پکڑے ہوئے اپنے باغ میں داخل ہوا درآں حالیکہ وہ اپنے کفر اور فخر کے سبب اپنی جان پر ظلم کر رہا تھا۔ فخر اور خود بینی کی وجہ سے اور پھر دنیا کی محبت کے سبب سے مومن بھائی نے اس کو فخر اور کفران نعمت کی شامت سے ڈرایا مگر ایک نہ سنی اور بولا کہ میں گمان نہیں کرتا کہ یہ باغ کبھی اجڑے۔ کفار کا ہمیشہ یہی خیال ہوتا ہے کہ وہ ہمیشہ عیش و آرام میں ہی رہیں گے اور بولا کہ میں گمان نہیں کرتا کہ قیامت قائم ہوگی اور اگر بفرض محال تیرے اعتقاد کے مطابق میں اپنے پروردگار کی طرف لوٹایا بھی جاؤں تو اس سے بہتر مکان میں وہاں پاؤں گا کیونکہ میری یہ امیری اس بات کی دلیل ہے کہ میری شان اسی لائق ہے کہ مجھے یہ مال و دولت ملے اور میرا رب مجھ سے راضی ہے جب اس نے مجھے یہاں دیا تو وہ مجھ کو وہاں بھی دے گا۔ اور اس سے بہتر دے گا۔ اکثر کفار اور اغنیاء کا یہی حال ہے کہ وہ اپنی دولت اور عیش و عشرت اور دنیاوی عزت و راحت کو اپنی مقبول خداوندی اور مکرم عند اللہ ہونے کی دلیل سمجھتے ہیں یہ حال تو کافروں کا ہے اور بہت سے مالدار مسلمانوں کا بھی یہی حال ہے بزبان قال تو نہیں بزبان حال وہ بھی یہی کہہ رہے ہیں اور عملا فقراء اور غرباء کی مجالست سے عار کرتے ہیں۔ اس کی یہ باتیں سن کر اس سے اس کے دیندار و نادار ساتھی نے اثناء گفتگو میں کہا کیا تو اس خدا کی قدرت کا منکر ہوگیا ہے جس نے تجھ کو مٹی سے پیدا کیا پھر تجھ کو نطفہ سے نکالا جبکہ تو مردہ بدست زندہ تھا اور کسی چیز کا مالک نہ تھا ماں اور دایہ کی گود میں پرورش پا رہا تھا۔ پھر خدا نے تجھ کو اپنی قدرت سے پورا مرد بنا دیا اب تجھے اس خدا کی قدرت میں شک ہوگیا کہ جب میں مرجاؤں گا اور مر کر مٹی میں ہوجاؤں گا تو وہ مجھے کیسے دوبارہ پیدا کرے گا جس خدا نے تجھ کو پہلی بار مٹی سے پیدا کیا وہی خدا تجھ کو دوبارہ مٹی سے پیدا کرنے پر بھی قادر ہے۔ بھلا ایسے قادر مطلق کو قیامت کا قائم کرنا کیا مشکل ہے۔ خیر تو مانے یا نہ مانے لیکن میرا عقیدہ تو یہ ہے کہ وہی اللہ میرا پروردگار ہے یہی میرے دل میں ہے اور یہی میری زبان پر ہے اور میں اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرتا۔ نہ اعتقاد میں نہ قول میں اور نہ فعل میں اس جواب سے الوہیت اور وحدانیت کا بھی اثبات ہے۔ کیونکہ جو ذات پاک عالم کی خالق اور مربی ہے وہ اس عالم کے دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے اور یہ کیوں نہ ہوا کہ جب تو اپنے باغ میں داخل ہوا تھا تو یہ کہا ہوتا کہ جو خدا نے چاہا وہی قابل شدنی ہے بغیر اللہ کی مشیت کے کسی میں قوت اور زور نہیں یعنی باغ کو دیکھ کر تجھے چاہئے تھا کہ اپنی عاجزی کا اقرار کرتا اور دل و جان سے یہ کہا ہوتا کہ یہ سب کچھ باغ و بہار اللہ کی مشیت اور اس کے فضل سے ہے وہ چاہے تو اس کو آباد رکھے اور چاہے تو اس کو اجاڑ دے وہ ہر طرح سے قادر ہے بندہ میں قدرت نہیں کہی باغ کو اور اس کی بہار کو قائم رکھ سکے اسی طرح زندگی کی باغ و بہار۔ امیری اور فقیری سب اس کی مشیت سے ہے دم کے دم میں امیر کو فقیر اور فقیر کو امیر بنا سکتا ہے۔ زجاج (رح) کہتے ہیں کہ کسی میں طاقت نہیں کہ جو نعمت اور مال و دولت اس کے ہاتھ میں ہے وہ اس کو تھام سکے مگر اللہ تعالیٰ کی مشیت سے۔
فائدہ : جو شخص اپنے باغ میں یا مکان میں داخل ہوتے وقت ما شاء اللہ لاقوۃ الا باللہ کہے تو وہ باغ اور مکان بلا اور آفت اور نظربد سے محفوظ رہے گا۔
حکایت : امام دار الہجرت مالک بن انس (رح) نے اپنے مکان کے دروازہ پر یہ لکھا تھا ماشاء اللہ لاقوۃ الا باللہ کسی نے پوچھا کہ آپ نے یہ کیوں رکھا تو کہا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ولولا اذ دخلت جنتک قلت ماشاء اللہ لاقوۃ الا باللہ۔
اس نصیحت کے بعد اس غریب مسلمان بھائی نے اس کے تکبر اور فخر کا جواب دیا اور کہا اگر آج تو مجھے مال اولاد میں اپنے سے کمتر دیکھتا ہے تو تجھ کو زیبانہ تھا کہ تو مجھ پر بڑائی اور تکبر ظاہر کرنے لگے پس کیا عجب ہے کہ میرا پروردگار دنیا یا آخرت میں یا دونوں جگہ مجھ کو تیرے سے بہتر باغ دے دے۔ اور اس تیرے باغ پر آسمان سے کوئی بلا اور آفت بھیج دے جس کا تجھ کو وہم و گمان بھی نہ ہو پھر وہ تباہ ہو کر دفعۃً چٹیل میدان ہوجائے جس پر گھاس کا بھی نام و نشان نہ ہو یا اس کا پانی زمین کے اندر اتر جائے تو اس کو ڈھونڈ کر بھی واپس نہ لاسکے۔ یہ بات تیری قدرت سے باہر ہے۔ چناچہ ایسا ہی ہوا کہ جو بات اس مرد مومن کی زبان سے نکلی تھی وہ سچ کردی۔ اور بلاسبب ظاہری کے دفعتہ اور ناگہانی طور پر آسمان سے ایک آفت آئی جس سے وہ باغ تباہ ہوگیا اللہ نے آسمان سے اس باغ پر ایک آگ بھیجی جس نے اس کو جلا کر خاک سیاہ کردیا اور اس کا پانی زمین کے نیچے اتر گیا اور اس باغ کا سارا پھل عذاب آسمانی کے گھیرے میں لے لیا گیا اور غیب سے ایسی تباہی آئی کہ وہ باغ اور درخت اور عمارت سب خراب اور مسلمار ہوگئے۔ پس صبح کی اس کافر نے اس حالت میں کہ کف افسوس ملتا تھا اس مال پر جو اس نے اس باغ میں صرف کیا تھا۔ حسرت سے ہاتھ ملتا رہ گیا کہ اب ہاتھ میں سوائے افسوس اور حسرت کے کچھ نہیں رہا اور اس باغ کی عمارتیں اپنی چھتوں پر گر پڑی تھیں اور وہ اس حال کو دیکھ کر کف افسوس ملتا جاتا تھا اور یہ کہتا جاتا تھا کہ کاش میں نے اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہوتا۔ یعنی جب اس کا باغ جل گیا تب اسے معلوم ہوا کہ یہ اس کے کفر و شرک کی سزا تھی اپنے کئے کفر پر نادم ہوا اور اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ مومن ہوگیا اس لیے کہ یہ ندامت خوف خداوندی اور کفر کی قباحت کی وجہ سے نہ تھی بلکہ ایک دنیاوی مصیبت اور آفت کی وجہ سے تھی۔ لہٰذا ایسی تمنا بیکار ہے اور نہ ہوئے اس کے لئے اعوان و انصار اور حشم و خدم کی کوئی جماعت بجز خدا کے جو اس کو مدد دیدے اور نہ وہ خود اپنا بدلہ لینے پر قادر تھا۔ یہیں سے ثابت ہوا کہ کارسازی اور اختیار صرف خدائے برحق کے لئے ہے کیونکہ مصیبت کے وقت جزع و فزع صرف اللہ کی طرف کرنا۔ یہ اس امر کی قطعی دلیل ہے کہ خدائے برحق وہی ہے کہ جس کو سارا اختیار ہے اور اس کے سوا سب باطل ہے اور عارضی چیز پر فخر کرنا نادانی ہے وہ اہل طاعت کو انعام اور جزا دینے میں سب سے بہتر ہے اور اسی کی اطاعت کا انجام سب سے بہتر ہے۔ یعنی انجام اور عاقبت کے اعتبار سے اہل ایمان اور اہل طاعت سے بڑھ کر کوئی نہیں ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے دو مردوں کی مثال بیان کی ان کی تعیین میں مفسرین نے مختلف اقوال ذکر کہتے ہیں بعض کہتے ہیں کہ یہ دونوں بھائی بنی اسرائیل میں سے تھے اور انھی دو بھائیوں کا قصہ اللہ تعالیٰ نے سورة والصافات میں ذکر کیا ہے کما قال تعالیٰ قال قائل منھم انی کان لی قوین الخ اور بعض کہتے ہیں کہ اہل مکہ میں سے قبیلہ مخزوم کے دو بھائیوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی جن میں سے ایک بھائی مسلمان تھا اور دوسرا کافر اور مقصود یہ ہے کہ مال و دولت پر فخر کرنا اور فقراء مسلمین کو حقیر سمجھنا بہت ہی برا ہے اصل عزت حق تعالیٰ کے تعلق اور اس کی اطاعت میں ہے۔ (دیکھو تفسیر کبیر ص 500 جلد 5 و تفسیر قرطبی ص 399 جلد 10)
فائدہ : حق تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ وہ اکثر اپنے مقبول بندوں کو دنیا سے دور رکھتا ہے اور کافروں کو دنیا کی عیش و آرام سے خوب نوازتا ہے اور اہل ایمان پر بلائیں نازل کرتا ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں۔
یعنی اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تمام لوگ کفر کے فتنہ میں مبتلا ہوجائیں گے تو ہم کافروں کو اتنا مال و دولت دیتے کہ ان کے گھروں کی چھتیں بھی چاندی کی کردیتے قاعدہ اکثریہ تو یہ ہے مگر بعض مرتبہ کافر کا غرور اور تکبر توڑ دینے کے لئے کوئی بلاء آسمانی اس کے مال و دولت پر نازل کرتے ہیں کہ متنبہ ہوجائے کہ یہ دنیا ہیچ ہے۔ اور امیری اور فقیری سب اس کے ہاتھ میں ہے وہ دم کے دم میں بڑے سے بڑے متکبر اور سرکش کو محتاج اور خوار بنا ڈالتا ہے اس لئے آئندہ آیت میں دنیا کی حقیقت سمجھانے کے لئے ایک مثال بیان فرماتے ہیں۔