1. Surah Al-Faatiha

الفاتحةThe Opening · 7 ayahsمعارف القرآن

Ayah 1:5

اِیَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُؕ Open ayah 1:5 in the Quran reader

اے پروردگار ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں

ایک نعبد وایاک نستعین خاص تیری ہی بندگی کرتے ہیں اور خاص تجھ ہی سے ہر کام میں مدد چاہتے ہیں۔ یعنی اجسام علویہ اور سفلیہ اور کواکب اور نجوم اور نور اور ظلمت کسی کو تیرا شریک نہیں ٹھہراتے ہیں ہر خیر وشر اور سعادت ونحوست کا تجھے ہی مالک سمجھتے ہیں پہلی آیت میں حق تعالیٰ کی ربوبیت اور رحمت کو بیان کیا اور معرفت ربوبیت کے بعد معرفت عبودیت کا درجہ ہے۔ اس لیے اس کے بعد عبادت کا ذکر کیا گیا۔ 1 ۔ کسی کی نہایت درجہ تعظیم کے لیے دل جان سے غایت درجہ کا تذلل اختیار کرنا اس کا نام عبادت ہے لہذا جو تذلل اختیاری نہ ہو بلکہ اضطراری یعنی بلا اختیار کے ہو وہ عبادت نہیں کہلائے گا اور اسی طرح جو تذلل کسی کے جبر اور قہر اور زور سے ہو وہ بھی عبادت نہ کہلائے گا اور جس تذلل سے تعظیم مقصود نہ ہو وہ استہزاء اور تمسخر کہلائیگا اور لائق عبادت اور مستحق بندگی وہی ذات ہوگی، جو غایت درجہ کی عظمت اور جلال اور نہایت درجہ خوبی اور کمال اور انتہائی انعام واکرام اور انتہائی جو دو نوال کے ساتھ متصف ہو کہ اس سے بڑھ کر اور کوئی درجہ اور مرتبہ عقل اور خیال میں نہ آسکے۔ اور جو انتہائی عظمت و جلال کے ساتھ موصوف نہ ہو اس کے سامنے انتہائی تذلل اختیار کرنا سراسر بےموقع اور بےمحل ہے اسی وجہ سے قرآن کریم نے شرک کو ظلم عظیم کہا ہے۔ اور کسی چیز کو بےمحل رکھنے ہی کا نام ظلم ہے۔ خداوند ذوالجلال کو اگچہ کسی کی عبادت اور بندگی کی ذرہ برابر حاجت نہیں مگر مقتضائے حکمت یہ ہے کہ صاحب نقصان صاحب کمال کے سامنے تذلل اور پستی اختیار کرے ورنہ کمال اور نقصان کی مساوات لازم آئے گی جو سراسر خلاف حکمت ہے ابتدائے آفرینش عالم سے اس وقت تک دنیا کے تمام عقلاء اور عالم کے تمام حکماء اس پر متفق رہے ہیں کہ ہر صاحب کمال کی تعظیم اور اس کا احترام عقلاً واجب اور فرض ہے یہ ہوسکتا ہے کہ کوئی ناقص کامل کی تعظیم کو اسلیے ضروری نہ سمجھے کہ اس ناقص کو اپنے زعم میں اس کامل کی ضرورت نہیں۔ مگر یہ احتمال خداوند ذوالجلال میں جاری نہیں ہوسکتا۔ اس لیے کہ مخلوق کا خالق سے مستغنی ہونا ناممکن اور محال ہے۔ ممکن کا وجود ہی واجب الموجود کے سہارے سے ہے۔ پناہ بلندی و پستی توئی ہمہ نیستند آنچہ ہستی توئی اسی وجہ سے امام اعظم ابوحنیفہ ؓ فرماتے ہیں کہ جو شخص وجود باری یا توحید باری کا منکر ہو وہ ناجی نہیں بلکہ ناری ہے۔ اگرچہ اس کو کسی نبی کی دعوت نہ پہنچی ہو۔ اس لیے کہ وجود باری اور توحید باری کا مسئلہ فطری اور عقلی اور بدیہی ہے اور عقلاء عالم کا اجماعی ہے۔ بعثت انبیاء پر موقوف نہیں حجت پوری ہوچکی ہے لہذا اب کوئی عذر مسموع نہیں۔ اور اسی وجہ سے کہ عبادت کے لیے نیت کا ہونا بالاجماع شرط قرار دیا ہے۔ حافظ ابن قیم فرماتے ہیں کہ کمال محبت کے ساتھ کمال اطاعت کا نام عبادت ہے۔ کمال عظمت کے ساتھ کمال محبت بھی عبادت کے مفہوم میں داخل ہے۔ جس درجہ کی محبت اور عظمت ہوگی اسی درجہ کی عبادت ہوگی۔ عظمت کے ساتھ جبتک محبت نہ ہو عبادت نہیں کہلائے گی اور ایاک جو نعبد کا مفعول ہے۔ اس کی تقدیم حصر کے لیے ہے یعنی خاص تیری بندگی کرتے ہیں کسی اور کی نہیں نیز تقدیم مفعول میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ عابد کی نظر اپنی عبادت پر نہ ہونی چاہئے بلکہ معبود پر ہونی چاہئے۔ نیز عبادت سے فقط معبود کی رضا اور خوشنودی مقصود ومطلوب ہونی چاہئے۔ خلاف طریقت بود کا ولیا تمنا کنند از خدا جز خدا گر از دوست چشمت بر احسان اوست تو در بند خوشی نہ در بند اوست اور نعبد صیغہ جمع ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ ہم سب تیری بندگی کرتے ہیں بجائے اعبد کے صیغہ جمع لانے میں التزام جماعت کی طرف اشارہ ہے نیز اس طرف بھی اشارہ ہے کہ بندگی کرنے والا اپنی عبادت پر ناز نہ کرے۔ بلکہ یہ سمجھے کہ عبادت کرنے والا صرف وہی ایک نہیں بلکہ بیشمار بندگی کرنے والوں میں سے ایک یہ بھی ہے۔ ابتداء سورت میں طرز کلام غائبانہ تھا۔ اور ایاک نعبد میں بجائے غائبانہ کے حاضرانہ طرز ِ کلام اختیار کیا گیا اور اس طرح غیبت سے خطاب کی طرف انتقال کیا گیا وجہ اس کی یہ ہے۔ 1 ۔ کہ شروع سورت میں حمد اور ثناء کا ذکر تھا اور تعریف اور ثناء غائبانہ زیادہ بہتر ہے اس لیے کہ غائبانہ حمد زیادہ اخلاص کی علامت ہے اور ایاک نعبد میں عبادت کا ذکر ہے اور عبادت اور خدمت حضور میں ہوتی ہے۔ 2 ۔ نیز نمازی نے جب نماز شروع کی تو شروع نماز میں بمنزلہ اجنبی کے آکر کھڑا ہوگیا اور خداوند ذوالجلال کی غائبانہ حمد وثناء شروع کی یعنی الحمد للہ رب العلمین کہا یعنی اسم ظاہر کے ساتھ اس کی حمدوثناء کی اور اسم ظاہر حکم میں غائب کے ہے اور جب حمد وثناء حد کمال کو پہنچی تو جو حجابات درمیان میں تھے وہ اٹھ گئے اور بعد قرب سے اور اجنبیت یگانگت سے بدل گئی اور یہ شخص اس قابل ہوگیا کہ خداوند ذوالجلال کے حضور بصیغہ خطاب عرض معروض کرسکے۔ 3 ۔ نیز ایاک نعبد کے بعد ہدایت کے سوال کا ذکر ہے اور سوال اور درخواست حضوری ہی میں زیادہ بہتر اور مناسب ہوتی ہے اس لیے کہ جب سخی کے سامنے سوال کیا جائے تو سخی اور کریم اس کے رد کرنے سے شرماتا ہے۔ اور ایاک نعبد کے بعد ایاک نستعین کو اس لیے ذکر فرمایا کہ اللہ کی عبادت اور اس کی اطاعت پر قوت اور قدرت بدون اس کی اعانت اور توفیق کے حاصل نہیں ہوسکتی اور توفیق کا طلب کرنا یہی استعانت ہے مطلب یہ ہے کہ عبادت کے لیے بندہ کی حوال اور قوت کافی نہیں جب تک خدا کی اعانت حاصل نہ۔ لا حول ولا قوۃ الا باللہ غرض یہ کہ ایاک نعبد کے بعد ایاک نستعین کا ذکر کرنا عجب (گھمنڈ) کو زائل کرتا اور نخوت اور کبر کو فناء کرتا ہے۔ ایاک نعبد میں فرقہ جبریہ کے رد کی طرف اشارہ ہے جبریہ۔ بندہ کو جماد کی طرح مجبور محض بتاتے ہیں۔ ایاک نعبد سے اس فرقہ کا رد ہوجاتا ہے کیون کی ہعبادت کے معنی اختیاری تذلل کے ہیں۔ فی الجملہ بندہ کے لیے اختیار ثابت ہوا اور جبر محض کی نفی ہوئی اور ایک نستعین میں فقہ معتزلہ کے رد کی طرف اشارہ ہے۔ ارباب اعتزال بندہ کو اپنے افعال کا خالق اور فاعل مستقل قرار دیتے ہیں۔ ایاک نستعین سے اس فرقہ کا رد ہوجاتا ہے اس لیے کہ مطلب یہ ہے کہ بندہ اگرچہ عبادت اور بندگی اپنے اختیار سے کرتا ہے لیکن جماد کی طرح مجبور محض اور اختیار سے عاری اور کو را نہیں مگر ایسا فاعل مستقل بھی نہیں کہ حق تعالیٰ شانہ کی اعانت سے مستغنی اور بےنیاز ہوجائے بندہ فاعل مکتار ضرور ہے مگر اپنے اس خداداد اختیار میں مختار نہیں ہر لمحہ اور ہر لحظہ اس کی اعانت اور امداد کا محتاج ہے۔ فافھم ذلک فانہ دقیق ولطیف وسیاتی تفصیل ذلک انشاء اللہ تعالی۔ (سوال) دربارۂ استعانت بغیر اللہ اس آیت سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ سوائے خدا کے کسی سے مدد نہ مانگی جائے۔ حالانکہ قرآن و حدیث میں جابجا اس کا ذکر ہے کہ ایک دوسرے کی مدد کرو۔ بیمار ہو تو علاج کرو۔ آخر یہ طبیب اور دوا سے استعانت اور استمداد نہیں تو اور کیا ہے لہذا یہ بتلایا جائے کہ وہ کون سی استانت ہے جو غیر اللہ سے جائز ہے اور کون سی کفر اور شرک ہے۔ جواب : جاننا چاہئے کہ غیر اللہ سے مطلقاً استعانت حرام نہیں استعانت بغیر اللہ بعض صورتوں میں کفر اور شرک ہے اور بعض صورتوں میں جائز ہے۔ ضابطہ اس کا یہ ہے کہ اگر سوائے خدا تعالیٰ کے کسی کو فاعل مستقل اور قادر بالذات سمجھ کر یا بعد عطاء الٰہی اور تفویض خداوندی اس کو قادر مختار جان کر اس سے مدد مانگے تو بلا شبہ کفر اور شرک ہے یا اس شیئ کو تاثیر اور فاعلیت میں مستقل بالذات یا مستقل بالعرض تو نہیں سمجھتا لیکن معاملہ اس کے ساتھ مستقل بالذات کا سا نہیں کرتا لیکن دوسروں کو اس کے استقلال کا تو ہم ہوتا ہے تو یہ استعانت بالغیر ناجائز اور حرام ہوگی۔ اور بعض صورتوں میں کفر اور شرک کا اندیشہ ہے۔ جیسا کہ آئندہ تفصیل سے معلوم ہوگا۔ پہلی صورت جبکہ غیر اللہ کو فاعل مستقل اور قادر بالذات سمجھے اس کے شرک ہونے میں تو کسی کو بھی کلام نہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ غیر کو قادر بالذات سمجھے اس کے شرک ہونے میں تو کسی کو بھی کلام نہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ گیر کو قادر بالذات تو نہیں سمجھتا لیکن قادر بعطائے الٰہی سمجھتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے قدرت اور اختیار عطاء کیا ہے کہ جو امور طاقت بشری سے باہر ہیں۔ ان میں جس طرح چاہے تصرف کرے اور جس کو چاہے دے اور جس کو چاہے نہ دے جیسے بادشاہ اپنے وزاء اور حکام کو کچھ اختیارات عطاء کردیتا ہے اور وہ بعد عطائے اختیارات مستقل سمجھے جاتے ہیں۔ اور پھر بادشاہ کے علم اور ارادہ کو دخل نہیں ہوتا۔ اسی طرح معاذ اللہ۔ خدا تعالیٰ نے بھی کچھ اختیارات انبیاء اور اولیاء کو عطاء کیے ہیں اور وہ بعد عطاء الٰہی مستقل اور مختار ہیں۔ مشرکین عرب، ملائکہ اور اصنام کے متعلق بعینہ یہی عقیدہ رکھتے تھے۔ ما نعبدھم الا لیقربونا الی اللہ زلفی۔ مشرکین ان کو مستقل بالذات نہیں سمجھتے تھے۔ بلکہ ان کو فاعل مستقل بعطاء الٰہی سمجھتے تھے۔ اور یہ کہتے تھے کہ ان کے پاس جو چھ ہے وہ خدا ہی کا دیا ہے قرآن کریم میں جا بجا اسی عقیدہ کو باطل کیا گیا کما قال تعالی۔ ویعبدون من دون اللہ ما لا یضرھم ولا ینفعھم وقال تعالیٰ ان الذین تعبدون من دون اللہ لایملکون لکم رزقا فابتغوا عنداللہ الرزق واعبدوہ۔ یہ نادان یہ نہیں سمجھتے کہ خدائی اور خدائی اختیارات کا کسی طرف منتقل ہونا یا عطاء کیا جانا نہ اختیاراً ممکن ہے اور نہ اضطراراً کفار بغیر عطاء الٰہی کسی چیز پر ان کو قادر نہیں سمجھتے تھے۔ وقال تعالیٰ قل انی لا املک لکم ضراً ولا رشداً وقال تعالیٰ قل لا املک لنفسی نفعا ولا ضراً الا ماشاء اللہ۔ ان آیات میں بالذات نفع اور ضرر کے مالکیت اور اختیار کی نفی نہیں اس یلے کہ نہ کوئی نفع اور ضرر کے بالذات مالک اور مختار ہونے کا مدعی تھا اور نہ کوئی عاقل اس کو تسلیم کرسکتا ہے کہ سوائے خدا تعالیٰ کے کوئی نفع اور ضرر کا بالذات مالک ہو۔ مشرکین بھی اس کے قائل تھے۔ اصل مالک اور خالق وہی اللہ ہے۔ تیسری صورت کہ جب اس غیر کو نہ مستقل بالذات سمجھے نہ مستقل بالعرض لیکن معاملہ اس کے ساتھ مستقل بالذات کا سا کرے۔ مثلاً اس کو یا اس کی قبر کو سجدہ کرے یا اس کے نام کی نذر مانے تو یہ بھی حرام اور شرک ہے لیکن یہ شرک اعتقادی نہیں بلکہ عملی ہے۔ اس کا مرتکب حرام کا مرتکب سمجھا جائیگا۔ دائرہ اسلام سے خارج نہ ہوگا۔ چوتھی صورت کہ جب استعانت بالغیر میں اس غیر کے استقلال کا ایہام ہوتا ہو جیسے روحانیات سے مدد مانگنا۔ اگرچہ یہ شخص مستقل نہ سمجھتا ہو لیکن مشرکین چونکہ ارواح کو فاعل مستقل سمجھ کر مدد مانگتے ہیں اس لیے ارواح سے مدد مانگنا قطعا حرام ہوگا۔ حرام ہونے میں کوئی شبہ نہیں تردد اس میں ہے کہ اس شخص کو دائرہ اسلام سے خارج کیا جائے یا نہیں یہ فعل چونکہ شرک کا مظہر اتم ہے اس لیے دارئرہ اسلام سے خارج ہوجانے کا قوی اندیشہ ہے خلاصہ کلام یہ کہ اول کی دو صورتیں قطعاً کفر اور شرک ہیں اور ان کا مرتکب دائرہ اسلام سے خارج ہے اور اخیر کی دو صورتیں قطعا حرام ہیں۔ تردد اس میں ہے کہ ایسے شخص کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج مانا جائے یا نہیں لیکن اگر ایسی شئے سے مدد مانگے کہ جس سے مدد مانگنا کفار اور مشرکین کے شعائر سے ہو تو ایسی صورت میں اگر کوئی فقیہ اور مفتی زنار باندھنے والے کی طرح اس پر بھی ظاہر کے اعتبار سے کفر اور شرک کا فتوی دے اور کافر ہونے کا حکم لگائے تو کچھ مضائقہ نہیں۔ چونکہ وہ شئے شعار کفر اور شرک سے ہے اس لیے اس کی نیت کا اعتبار نہ کیا جائیگا البتہ امور عادیہ جو طاقت بشریہ کے تحت داخل ہوں اور کارخانہ عالم اسباب ان کے ساتھ مربوط اور متعلق ہو اور کسی شخص کو ان کے فاعل مستقل ہونے کا تو ہم بھی نہ ہوتا ہو۔ جیسے روٹی کی امداد سے بھوک دفع کرنا اور پانی کی امداد سے پیاس دفع کرنا تو یہ استعانت بالغیر جائز ہے بشرطیکہ اعتماد محض اللہ پر ہو اور غیر کو محض ایک زریعہ اور وسیلہ اور عون الٰہی کا ایک مظہر سمجھے جیسے نل محض پانی کے آنے کا راستہ ہے اسی طرح اسباب فیض خداوندی کے راستے ہیں اصل دینے والا وہی ہے اور مشرک یہ سمجھتا ہے کہ یہ نل ہی مجھ کو پانی دے رہا ہے۔ اس لیے نل ہی سے پانی مانگتا ہے اور نل ہی کی خوشامد کرتا ہے۔ مثلاً جو شخص دوا کو محض ایک وسیلہ سمجھے اور طبیب کو محض معالج جانے تو کچھ مضائقہ نہیں لیکن اگر دوا کو مستقل مؤثر سمجھے اور طبیب کو صحت بخشنے والا جانے تو یہ شرک ہوگا جاننا چاہئے کہ اسباب شرعیہ کا بھی وہی حکم ہے کہ جو اسباب عادیہ کا حکم ہے صرف فرق اتنا ہے کہ اسباب عادیہ کا اسباب ہونا عادۃ سے معلوم ہوا اور اسباب شرعیہ کا سبب ہونا شریعت سے معلوم ہوا۔ پس جس طرح اسباب عادیہ سے استعانت اور استمداد جائز ہے اسی طرح اسباب شرعیہ مثل دعا اور رقیہ صبر اور نماز وغیرہ سے بھی استعانت جائز ہے اس لیے کہ ان امور کا اسباب ہونا شریعت سے معلوم ہوا۔ اور امور غیر عادیہ میں اگرچہ غیر کو مظہر عون الٰہی سمجھے اور اصل اعتماد بھی اللہ ہی پر ہو مگر چونکہ امور غیر عادیہ کا تسبب نہ عادۃ ً ثابت ہے نہ من جانب اللہ اور بالفرض اگر ثابت بھی ہو تو قطعی اور دائمی نہیں اس لئے امور غیر عادیہ میں استعانت بغیر اللہ کفر اور شرک تو نہ ہوگی۔ مگر بدعت وضلالت ضرور ہوگی حضرت شاہ عبدالعزیز قدس اللہ سرہ فرماتے ہیں۔ درینجا باید فہمید کہ استعانت از غیر بوج ہے کہ اعتماد برآن غیر باشد واو را مظہر عون الٰہی نداند حرام است و اگر التفات محض بجانب حق است واو را یکے از مظاہر عون دانستہ ونظر بکار خانہ اسباب و حکمت او تعالیٰ در آں نمودہ بغیر استعانت ظاہر نماید دور از عرفان نخواہد بود و در شرع نیز جائز ورد است وانبیاء وا ولیاء ایں نوع استعانت بغیر کردہ اند و درحقیقت ایں نوع استعانت بغیر نیست بلکہ استعانت بحضرت حق است لا غیر۔ (فتح العزیز صفحہ 8) ترجمہ : اس جگہ جاننا چاہئے کہ غیر اللہ سے استعانت اس وقت حرام ہے کہ جب اعتماد اور بھروسہ اس غیر پر ہو اور اس غیر کو امداد الٰہی کا مظہر نہ سمجھے۔ اور اگر التفات اور نظر صرف خدا پر ہو۔ اور اس غیر کو اعانت الٰہیہ کا محض مظہر جان کر کارخانۂ اسباب پر نظر کرتے ہوئے اس غیر سے ظاہری طور پر مدد چاہے تو خلاف عرفان نہیں اور شریعت میں بھی جائز ہے اور حضرات انبیاء اور اولیاء نے بھی غیر اللہ سے اس قسم کی استعانت کی ہے اور چونکہ نظر صرف حق تعالیٰ پر ہے اس لیے یہ استعانت بالغیر نہیں بلکہ درحقیقت اللہ تعالیٰ ہی سے استعانت ہے۔ اور دوسرے مقام پر فرماتے ہیں استعانت یا بچیزے است کہ تو ہم استقلال آنچیز در وہم وفہم ہیچ کس از مشرکین و موحدین نمے گزرد۔ مثل استعانت بحبوب وغلات در دفع گرسنگی واستعانت بآب در دفع تشنگی واستعانت برائے راحت بسایۂ درخ تو مانند آں و در دفع مرض بادویہ وعقاقیر ودر تعیین وجہ معاش بامیر وابداشاہ کہ درحقیقت معاوضہ خدمت بمال است وموجب تذلل نیست یا باطباء ومعالجان کہ بسبب تجربہ و اطلاع زائد ازانہا طلب مشورہ است واستقلالے متوہم نمی شود پس ایں قسم استعانت بلا کراہت جائز است زیرا کہ درحقیقت استعانت نیست و اگر استعانت است استعانت بخدا ست ویا بچیز یست کہ تو ہم استقلال در مدارک مشرکین جا گرفتہ مث استعانت بارواح ورحانیات فلکیہ یا عنصریہ یا ارواح سائرہ مثل بہوانی وشیخ سدو زین خاں وایں نوع استعانت عین شرک است ومنافی ملت حنفی (فتح العزیز ص 37) ترجمہ : استعانت اور استمداد یا تو ایسی چیز ہے کہ موحدین اور مشرکین کو بھی اس کے مستقل ہونے کا شبہ نہیں ہوتا جیسے بھوک دفع کرنے کے لیے غلہ اور اناج سے مدد حاصل کرنا اور پیاس دفع کرنے کے لیے پانی اور شربتوں سے مدد حاصل کرنا اور راحت آرام حاصل کرنے کے لیے درخت کے سایہ سے مدد حاصل کرنا اور بیماری دفع کرنے کے لیے دواؤں اور بوٹیوں سے مدد حاصل کرنا۔ معاشی امور میں امری اور بادشاہ سے مدد چاہنا کہ جو درحقیقت معاوضہ خدمت سے موجب تذلل نہیں۔ یا اطباء اور معالجین سے ان کے تجربہ اور زیادتی واقفیت کی بناء پر مشورہ لینا ان صورتوں میں استقلال کا وہم بھی نہیں ہوتا پس اس قسم کی استعانت بلا کراہت جائز ہے۔ اس لیے کہ یہ استعانت حقیقۃً نہیں محض ظاہری استعانت ہے حقیقۃً استعانت خدا تعالیٰ سے ہے۔ یا ایسی چیز کے ساتھ استعانت ہے کہ جس کا مستقل بالتاثیر ہونا مشرکین کے ذہنوں میں جگہ لیے ہوئے ہے جیسے ارواح سے یا روحانیات فلکیہ اور عنصریہ سے استعانت کرنا یا ارواح سائرہ یعنی چلنے پھرنے والی ارواح سے مدد طلب کرنا جیسے بہوانی اور شیخ سدو اور زین خاں اس قسم کی استعانت عین شرک ہے اور ملت حنفیہ اسلامیہ کے بالکل منافی اور مباین ہے۔
Ayah 1:6

اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَۙ Open ayah 1:6 in the Quran reader

ہم کو سیدھے راستے چلا

اھدنا الصراط المستقیم ہم کو راہ راست دکھا اور اس پر چلا اور منزل مقصود تک پہنچا 1 ۔ ہدایت کے معنی لطف اور مہربانی کے ساتھ رہنمائی کرنے کے ہیں اسی وجہ سے یہ لفظ حقیقۃً ہمیشہ غیر ہی کے موقعہ پر مستعمل ہوتا ہے۔ اور فاھدوھم الی صراط الجحیم۔ میں بطور تہکم اور بطریق استہزاء آیا ہے۔ 2 ۔ ہدایت کا استعمال تین طرح سے ہوتا ہے اگر ہدایت سے کسی شیئ کی نشان دہی اور رہنمائی مراد ہو تو لفظ الی کے ساتھ متعدی ہوگا۔ اور اگر ہدایت سے منزل مقصود تک پہنچنا مراد ہو تو لام کے ذریعے سے متعدی ہوگا۔ اور اگر راستہ کا قطع کرانا اور منزل مقصود تک پہنچانا مراد ہو تو بلا واسطہ متعدی ہوگا جیسا کہ اس آیت میں بلا واسطہ متعدی ہے۔ اس لیے ہم نے اس کے ترجمہ میں دکھانا اور چلانا اور پہنچانا تینوں چیزوں کا ذکر کیا۔ 3 ۔ حافظ ابن قیم فرماتے ہیں کہ صراط اصل میں اس راستہ کو کہتے ہیں۔ جس میں پانچ باتیں پائی جائیں۔ 1 ۔ مستقیم یعنی سیدھا ہو۔ 2 ۔ اور موصل الی المقصود ہو یعنی مقصد تک پہنچانا مراد ہو تو بلا واسطہ متعدی ہوگا جیسا کہ اس آیت میں بلا واسطہ متعدی ہے۔ اس لیے ہم نے اس کے ترجمہ میں دکھانا اور چلانا اور پہنچانا تینوں چیزوں کا ذکر کیا۔ 3 ۔ اور سب سے زیادہ قریب اور نزدیک ہو۔ 4 ۔ اور سیع اور کشادہ ہو۔ 5 ۔ اور مقصد تک پہنچنے کے لیے سب سے قریبی راستہ یہی ہے اس لیے کہ اقلیدس کا قاعدہ ہے کہ جب دو نقطوں میں مختلف اور متعدد خطوط ملائے جائیں تو تمام خطوط میں سب سے قریب اور سب سے چھوٹا خط ہی خط مستقیم ہوگا اور سیدھا ہی راستہ منزل مقصود تک پہونچاتا ہے نیز خط مستقیم متغیر نہیں ہوتا اور غیر مستقیم متغیر ہوجاتا ہے اور اسی ایک راستہ کا تمام عالم کے مرور اور عبور کے لیے کافی ہونا اس کے وسیع ہونے کی دلیل ہے اور خدا تک پہنچنے کے لیے یہی ایک راستہ ہے اس کے سوا اور کوئی راستہ نہیں کما قال تعالی۔ وان ھذا صراطی مستقیما فاتبعوہ ولا تتبعوا السبل فتفرق بکم عن سبیلہ۔ اور یہ میرا سیدھا راستہ ہے لہذا تم اسی راستہ پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو مبادا تم کو خدا کے سیدھے راستہ سے نہ ہٹا دیں۔ مطلب یہ ہوا کہ اے پروردگار میں عاجز اور ناتواں ہوں مجھ کو قریب اور سیدھے راستہ سے اپنے تک پہنچا دے ٹیڑھے راستہ پر پڑجانے سے خطرہ ہے کہ منزل مقصود تک نہ پہنچوں اور دور کے راستہ میں مشقت ہے۔ 4 ۔ عبداللہ بن مسعود اور عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ صراط مستقیم سے دین اسلام مراد ہے اور بعض احادیث صحیحہ سے بھی ایسا ہی معلوم ہوتا ہے۔ جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ صراط مستقیم سے اسلام مراد ہے جو مابین السماء والارض سے بدرجہا زائد وسیع ہے۔ محمد بن الحنفیہ فرماتے ہیں کہ صراط مستقیم سے اللہ کا دین مراد ہے جس کے سوا اور کوئی دین مقبول نہیں (ابن کثیر ) 5 ۔ اس آیت میں صراط کو اہل انعام کی طرف مضاف فرمایا اس لیے کہ سیدھے راستہ پر چلنے والے یہی لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے اپنا خاص انعام فرمایا اور متعدد آیات میں صراط کو اللہ کی طرف مضاف فرمایا کما قال تعالیٰ وانک لتھدی الی صراط مستقیم۔ صراط اللہ۔ وان ھذا صراطی۔ اس لیے کہ وہ صراط مستقیم اللہ ہی کا قائم کیا ہوا ہے۔ سنا ہے کہ قادیان کے دہقان یوں کہتے ہیں کہ نبی کے راستہ پر چلنے سے آدمی نبی بن جاتا ہے۔ اللہ اکبر اگر یہی قاعدہ ہے تو پھر خدا کے راستہ پر چلنے سے خدا بن جانا چاہئے اور تفسیر ابن کثیر جلد 1 ص 49 میں ابن عباس سے منقول ہے کہ الذین انعمت علیھم سے ملائکہ اور انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور صالحین سب مراد ہیں لہذا قادیانیوں کے نزدیک فرشتوں کے راستہ پر چلنے سے فرشتہ بن جانا چاہئے۔ 6 ۔ استقامت کے معنی توسط اور اعتدال کے ہیں جو ٹھیک افراط اور تفریط کے درمیان میں ہے حق تعالیٰ کی محبت اور اطات پر قدم کا ٹھیک افراط اور تفریط کے درمیان میں ہے حق تعالیٰ کی محبت اور اطاعت پر قدم کا ٹھیک جم جانا کہ اب ڈگمگانے کا احتمال نہ رہے اس کا نام استقامت ہے اور استقامت کا مقام نہایت بلند ہے اسی وجہ سے حضرات عارفین استقامت کو کرامت سے فوق اور برتر سمجھتے ہیں۔ 7 ۔ ہدایت اور استقامت کے مراتب نہایت مختلف اور متفاوت ہیں۔ ہدایت اور استقامت کا کوئی مرتبہ ایسا نہیں کہ اس کے بعد اس سے بڑھ کر کوئی اعلی اور افضل مرتبہ نہ ہو۔ اور صراط مستقیم اگرچہ ایک ہے لیکن وسیع ہونے کی وجہ سے اور سالک کے سریع اور ربطی ہونے کی وجہ سے اس میں بھی قرب اور بعد کا تفاوت ہوسکتا ہے اس لیے طلب ہدایت کا ہر شخص مامور ہے۔ طالب کو اگر ہدایت و استقامت کے بعض مراتب حاصل بھی ہوں تب بھی وہ ہدایت کے اعلیٰ مراتب سے مستغنی نہیں ہوسکتا۔ اے برادر بےنہایت در گہیست ہر چہ بروئے میرسی بروئے بایست علاوہ ازیں ہدایت پر قائم اور ثابت رہنے کے لیے ہر لمحہ اور ہر لحظہ اس کی اعانت اور توفیق کی حاجت ہے جیسا کہ یا ایہا الذین امنوا امنوا۔ اے ایمان والو ایمان لاؤ۔ اس آیت میں طرح اھدنا الصراط المستقیم۔ میں مزید ہدایت کی طلب اور ثابت قدمی اور استقامت کی دعا تعلیم کرنا مقصود ہے۔
Ayah 1:7

صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ١ۙ۬ۦ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْنَ۠ Open ayah 1:7 in the Quran reader

ان لوگوں کے راستے جن پر تو اپنا فضل و کرم کرتا رہا نہ ان کے جن پر غصے ہوتا رہا، اور نہ گمراہوں کے

صراط الذین انعمت علیھم غیر المغضوب علیھم ولا الضالین یعنی ان لوگوں کے راستہ پر چلا جن پر تو نے اپنا ایسا خاص انعام فرمایا کہ اسی خاص انعام اور خاص فضل کی بناء پر وہ نہ تیرے مغضوب اور معتوب ہیں بلکہ تیرے مقرب اور محبوب ہیں۔ تیری رضا اور خوشنودی کا تمغہ اور پروانہ حاصل کیے ہوئے ہیں اور نہ وہ گمراہ ہیں۔ صحیح راستہ ان کو معلوم ہے منزل مقصود سامنے ہے بصد ذوق وشوق خط مستقیم کی طرف دوڑے چلے جارہے ہیں۔ یمین ویسار کی طرف التفات بھی نہیں کرتے۔ مطلب یہ ہے کہ اے پروردگار عالم ہم نابکاروں کو انعام اور اہل انعام کی راہ پر چلا اور دار انعام میں پہنچا اور غضب اور ضلال کی راہ سے محفوظ اور دور رکھ اور اپنی توفیق اور اعانت کو ہمارا ہادی اور معین اور دستگیر بنا اور انبیاء و صدیقین و شہداء وصالحین کو رفیق طریق بنا تاکہ ان کی معیت اور رفاقیت میں افتاں وخیزاں تیری بارگاہ میں پہنچ سکیں۔ پس قول اللہ تعالی۔ الذین انعمت علیھم الرحمن الرحیم۔ کے ساتھ مناسبت رکھتا ہے اور قولہ غیر المغضوب علیھم ولاالضالین۔ مالک یوم الدین کے ساتھ مناسبت رکھتا ہے۔ ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ الذین انعمت علیھم سے ملائکہ اور انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور صالحین مراد ہیں۔ جن کو حق تعالیٰ نے اپنی اطاعت اور عبادت کی نعمت سے سرفارز فرمایا (ابن کثیر) اور انعام کی خاص نوع اور کسی خاص قسم کو نہ ذکر کرنے میں اس طرف اشارہ ہے کہ اے اللہ ہم پر ہر قسم کا انعام فرما اور وہ تمام الطاف وکرم اور وہ تمام آلاء ونعم جو تو نے اپنے تمام انعام والے بندوں پر متفرقاً نازل فرمائے وہ ہم پر مجتمعاً نازل فرما۔ آمین (1 ۔ غیر المغضوب علیھم چونکہ الذین انعمت کی صفت ہے اس لیے ہم نے ترجمہ میں اس کا لحاظ رکھا ہے کہ ترجمہ ہی سے اس کی سفۃ موضحہ ہونا معلوم ہوجائے اور بعض نے اس طرح ترجمہ کیا ہے نہ رستہ ان لوگوں کا جن پر آپ کا غضب کیا گی اور نہ ان لوگوں کا جو رستہ سے گم ہوئے۔ انتہی یہ ترجمہ بتقدیر المضاف ہے۔ کما قال ابو حیان وقدر بعضھم فی غیر المعضوب محذوفا قال التقدیر غیر صراط المغضوب علیھم واطلق ھذ التقدیر فلم یقیدہ بحر غیر ولا نصبہ وھذا لا یتاتی الا بنصب غیر فیکون صفۃ لقلوہ الصراط وھو ضعیف الخ کذا فی البحر المحیط جلد 1 ص 30) نیز لفظ صراط کو الذین انعمت علیھم۔ کی طرف مضاف کرنے میں سالکین راہ حق اور راہروان منزل آخرت کے لیے ایک عظیم الشان تسلیہ ہے کہ وہ سفر اور راستہ کی تنہائی سے ہرگز نہ ڈریں نبیین اور صدیقین اور شہداء اور صالحین ان کے رفیق سفر ہیں۔ وحسن اولئک رفیقا۔ نیز مقام سوال میں منعم کے انعامات و احسانات کا تذکرہ۔ اجابت اور قبول میں خاص اثر رکھتا ہے اسی طرح سوال ہدایت کے وقت حق جل وعلا کے انعام عام کا ذکر کرنے کے معنی یہ ہیں کہ اے رب العالمین اور اے ارحم الراحمین تو نے اپنی رحمت واسعہ سے بہت بندوں پر ہدایت کا انعام فرمایا ہم کو بھی اس نعمت عظمیٰ سے سرفراز اور اس پر استقامت نصیب فرما۔ اور ہم گنہگاروں کو بھی اپنے لطف عمیم سے اہل انعام کے زمرہ میں داخل فرما۔ آمین۔ مغضوب علیھم سے وہ فریق مراد ہے جو دیدہ و دانستہ راہ راست کو چھوڑ دے اور علم سحیح کے باوجود ہوائے نفس کی پیروی میں غلط راستہ اختیار کرے۔ اس نوع کے کامل ترین افراد یہود بےبہبود ہیں کہ باوجود تورات کے عالم ہونے کے کتمان حق اور استکبار اور اتباع ہوا جیسے امراض میں مبتلا رہے۔ انبیاء کرام علیہم الصلوہ والسلام سے ہمیشہ معاندانہ رویہ رکھا، جان بوجھ کر قتل ِ انبیاء اللہ کے مرتکب ہوئے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان پر اب تک ذلت ومسکنت کی مہر لگا دی گئی۔ غضب اور لعنت کا طوق ان کی گردنوں میں ڈال دیا گیا۔ من لعنہ اللہ وغضب علیہ۔ اور ضالین سے وہ گروہ مراد ہے جو سواء السبیل سے بھٹک کر غلط راستہ پر جا پڑا۔ اس نوع کے کامل ترین افراد نصاری ہیں۔ کما قال تعالی۔ واضلوا کثیر را وضلوا عن سواء السبیل : بہتوں کو گمراہ کیا اور خود سیدھے راستے سے بھٹک گئے۔ یہود اور نصاریٰ کے کامل ترین افراد ہونے کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے مغضوب علیہم کی تفسیر یہود سے اور ضالین کی تفسیر نصاری سے فرمائی۔ اس کا یہ مقصد ہرگز نہیں کہ مغضوب علیہم اور ضالین کے مصداق صرف یہود اور نصاریٰ ہیں، بلکہ مقصد یہ ہے کہ ان دو قسموں کے تحت میں ہر قسم کے گمراہ اور کافر اور فاسق وفاجر عاصی اور مبتدع علی اختلاف المراتب داخل ہیں مگر یہود مغضوب علیہم کے کامل ترین فرد اور نصاری ضالین کے اولین مصداق ہیں۔ سلف صالحین یہ فرمایا کرتے تھے کہ اس امت کے علماء میں سے جو بگڑا وہ یہود کے مشابہ ہوا اس لیے کہ وہ اپنی اغراض کی وجہ سے کلمات الٰہیہ کی تحریف اور کتمان ماانزل اللہ اور تلبیس الحق بالباطل اور اہل علم وفضل کے حسد میں گرفتار ہوا کہ یہود کے اخلاق ہیں اس امت کے عباد اور زہاد سے جو بگڑا وہ نصاریٰ کے مشابہ ہوا۔ اس لیے کہ اس نے اپنی عبادت میں بجائے شریعت غراء اور سنت بیضاء کے ہوائے نفس کا اتباع کیا اور نصاریٰ کی طرح تعظیم مشائخ میں اس درجہ کا غلو کیا کہ اعتقاداً نہ سہی عملاً تو ضرور ان کو رب اور ان کی قبور کو مساجد بنا لیا۔ بعض مرتبہ چونکہ نعمت ہی علم وعمل کے فساد کا باعث ہوتی ہے اکثر عیش اور تننعم ہی میں پڑ کر انسان خدا کو بھول جاتا ہے، احکام الٰہی کو پس پشت ڈال دیتا ہے اس لیے الذین انعمت علیھم کے بعد غیر المغضوب علیھم والا الضالین۔ کا اضافہ مناسب ہوا کہ اے رب العالمین انی نعمتوں پر حمد وشکر کی توفیق عطا فرما خدانخواستہ ایسا نہ ہو کہ تیرے انعام کے بعد غرور اور تکبر میں مبتلا ہو کر سیدھے راستہ سے بہک جائیں اور تیری لعنت وغضب کے مستحق بنیں۔ اپنی نعمت کو اطاعت کا ذریعہ بنا معصومیت کا سبب نہ بنا۔ آیت موصوفہ میں صرف انعام کو اپنی جانب منسوب فرمایا۔ غضب اور ضلال کو اپنی جانب منسوب نہیں فرمایا۔ اس میں ایک لطیف اشارہ ہے وہ یہ کہ انعام محض اس کا فضل ہے بلا کسی استحقاق کے بندوں پر مبذول فرماتا ہے۔ مگر غضب ابتداء ً نازل نہیں فرماتا۔ بلکہ ان کی نافرمانی اور دیدہ و دانستہ عدول حکمی کے بعد اور علی ہذا گمراہ جب ہوتے کہ جب صراط مستقیم کو چھوڑ کر غلط راہ اختیار کرلیتے ہیں۔ نیز ادب الٰہی کا اقتضاء یہ ہے کہ افعال احسان و رحمت کا ذکر ہو تو صراحۃً اللہ جل جلالہ کی طرف اس کی اسناد ہونی چاہئے اور جب افعال جزاء اور عقوبت کا ذکر ہو تو پھر فاعل کا حذف اور فعل کا مبنی للمفعول لانا مناسب ہے مثلا ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا۔ الذی خلقنی فھو یہدین والذی ھو یطعمنی ویسقین واذا مرضت فھو یشفین جس نے مجھ کو پیدا کیا وہی مجھ کو راہ دکھاتا ہے اور وہی مجھ کو کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی مجھ کو شفا دیتا ہے۔ خلق اور ہدایت اور اطعام اور اسقاء اور شفاء ان تمام افعال کو حق تعالیٰ کی طرف منسوب فرمایا۔ مگر مرض کو شیئ مکروہ ہونے کی وجہ سے ادباً اپنی جانب منسوب کیا اور یہ کہا۔ واذا مرضت فھو یشفین۔ جب میں بیمار ہوجاتا ہوں تو وہی مجھ کو شفاء دیتا ہے اور یہ نہیں کہا : واذا امرضنی فھو یشفینی : کہ جب وہ مجھ کو بیماری میں مبتلا کرتا ہے تو وہی مجھ کو شفاء دیتا ہے۔ اور مومنین جن نے کہا وانا لا ندری اشر ارید بمن فی الارض : اور ہم نہیں جانتے کہ زمین والوں کے ساتھ برائی کا ارادہ کیا گیا یا ان کے رب نے ان کے ساتھ خیر اور بھلائی کا ارادہ کیا ہے۔ میں ارادۂ شر کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب نہیں کیا اور صیغۂ مجہول کے ساتھ اس کو ذکر کیا۔ یعنی شر ارید کہا اور ام اراد بھم ربھم رشدا۔ میں ارادۂ رشد کو رب العزت کی جانب منسوب کیا۔ اور علی ہذا خضر (علیہ السلام) نے فاردت ان اعیبھا (میں نے ارادہ کیا اس کشتی کو عیب دار بنا دوں) عیب اور ارادۂ عیب دونوں کو اپنی جانب منسوب کیا اور۔ فاراد ربک ان یبلغا اشدھما ویستخرجا کنزھما رحمۃ من ربک۔ : تریرے رب نے ارادہ کیا وہ دونوں اپنی جوانی کو پہنچیں۔ اور خدا کی مہربانی سے اپنا خزانہ نکالیں۔ اس آیت میں ارادۂ رحمت کو رب العالمین کی جانب منسوب کیا اور وما فعلتہ عن امری (میں نے اپنی رائے سے نہیں کیا) کہہ کر اس کو اور مؤکد کردیا۔ اور اسی طرح : احل لکم لیلۃ الصیام الرفث الی نسائکم اور احل لکم ماوراء ذالکم۔ روزہ کی راتوں میں اپنی عورتوں سے مخالطت تمہارے لیے حلال کردی گئی۔ ان محرمات کے سوا اور عورتیں تمہارے لیے حلال کردی گئیں۔ میں اس خاص احلال کو چونکہ اللہ جل جلالہ کی طرف منسوب کرنا خلاف ادب تھا اس لیے دونوں جگہ احل کو مبنی للمفعول ذکر کیا گیا۔ اور احل اللہ البیع وحرم الربوا میں یہ مانع نہ تھا۔ اس لیے اس احلال اور تحریم کی اسناد صراحۃً اللہ کی طرف کی گئی۔ نیز منعم حقیقی صرف وہی تبارک وتعالیٰ ہے کما قال تعالیٰ ۔ ومابکم من نعمۃ فمن اللہ۔ اس لیے انعام کو اللہ کی طرف منسوب کیا گیا۔ اور غضب خدا کے ساتھ مخصوص نہیں۔ ملائکہ اور انبیاء اور عباد صالحین کی طرف سے بھی خدا کے نافرمان اور سرکش بندوں پر ہوسکتا ہے۔ نیز مغضوب علیھم کے فاعل کا حذف اہل غضب کی تحقیر اور تذلیل کی طرف مشیر ہے اور انعام کے فاعل کی تصریح اہل انعام کے تشریف و تکریم کی طرف مشیر ہے۔ مثلاً کسی شخص کی نسبت یہ کہنا ھذا الذی اکرمہ السلطان وخلع علیہ (بادشاہ نے اس شخص کا اکرام کیا اور اس کو خلعت عطاء کیا) یہ نسبت ھذا الذی اکرم وخلع علیہ (اس شخص کا اکرام کیا گیا اور اس کو خلعت دیا گیا) کے بدرجہا بلیغ ہے اور ذکر فاعل کی وجہ سے یہ پہلا کلام جس قدر ممدوح کی مدح وثناء اور تشریف و تکریم پر دلالت کرتا ہے دوسرا کلام اس دلالت میں اس کے پاسنگ بھی نہیں۔ نیز حذف فاعل کچھ اعراض اور ترک التفات پر دلالت کرتا ہے جو اہل غضب کے مناسب ہے اہل انعام کے مناسب نہیں اس لیے انعام کا فاعل ذکر کیا گیا اور غضب کا فاعل حذف کیا گیا اور چونکہ انعام کی ضد غضب ہے۔ ضلال انعام کا مقابل نہیں بلکہ رشد اور ہدایت کا مقابل ہے اس لیے اہل انعام یعنی الذین انعمت علیھم کے بعد متصلاً ہی اہل غضب یعنی غیر المغضوب علیھم کا ذکر فرمایا اور اہل ضلال کو بعد میں ذکر کیا کیونکہ ایک ضد کے بعد دوسری کا ذکر کلام میں ایک خاص شان اور خاص تناسب پیدا کردیتا ہے۔ اور اہل غضب کی تقدیم کی ایک یہ بھی وجہ ہے کہ یہود بہ نسبت نصاری کے اسلام سے زیادہ دور ہیں اس لیے کہ نصاریٰ نے صرف ایک نبی یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کی اور یہود نے دو پیغمبروں کی یعنی مسیح بن مریم اور محمد مصطفیٰ ﷺ کی تکذیب کی حق تعالیٰ شانہ نے غیر المغضوب علیہم کو لفظ غیر کے ساتھ ذکر فرمای اور حرف لا کے ساتھ یعنی لا المغضوب علیھم نہیں فرمایا۔ اس لیے کہ حرف لا فقط ماقبل کی نفی کے لیے آتا ہے اس صورت میں کلام کے یہ معنی ہوئے کہ اے اللہ ہم کو اہل انعام کا راستہ بتلا نہ اہل غضب کا اور لفظ غیر ماقبل کی نفی اور مغایرت دونوں پر دلالت کرتا ہے۔ فرق اتنا ہے کہ مغایرت پر صراحۃ اور نفی ماقبل پر ضمناً ۔ اس صورت میں یہ معنی ہونگے کہ اے اللہ ہم کو اہل انعام کا راستہ بتلا جن کا راستہ اہل غضب اور اہل ضلال کے راستہ سے بالکل مغایر اور مباین ہے خود اہل انعام اور ان کا راستہ غضب اور ضلال کے راستہ سے بالکل مغایر اور مباین ہے جو خود اہل انعام اور ان کا راستہ غضب اور ضلال کے شائبہ سے بالکلیہ پاک ہے۔ اہل فہم غور کریں کہ یہ معنی بہ نسبت پہلے معنی کے کس قدر لطیف ہیں اور کیا یہ لطافت بجائے لفظ غیر کے حرف لا، لانے سے حاصل ہوسکتی ہے۔ کلا۔ ہرگز نہیں۔ نیز لفظ غیر کے لانے میں ایک یہ ببھی اشارہ ہے کہ یہود اور نصاری کا یہ زعم کہ ہم ہی اہل انعام ہیں جیسا کہ وہ کہتے تھے۔ نحن ابنؤا اللہ واحباء ہ۔ غلط ہے بلکہ اہل انعام ان کے سوا اور غیر ہیں۔ کما قال تعالیٰ ۔ الیوم اکملت لکم دینکم واتمت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دینا۔ آج میں تمہارے لیے دین کو کامل کردیا اور اپنی نعمت تم پر پوری کردی اور تمہارے لیے اسلام کو دین پسند کیا۔ اور ولا الضالین میں حرف عاطف یعنی واؤ کے ہوتے ہوئے حرف لا کا اس لیے اضافہ فرمایا تاکہ اہل انعام کے راستہ کا اہل غضب اور اہل ضلال کے راستہ سے فردا فردا اور علیحدہ علیحدہ مغائر ہونا معلوم ہوجائے ولا الضالین سے اگر حرف لا کو حذف کر کے غیر المغضوب علیھم والا الضالین۔ کہا جائے تو مجموعۂ فریقین کے راستہ سے اہل انعام کے راستہ کا مغایر ہونا مفہوم ہوگا۔ اہل انعام کے راستہ کا ہر واحد کی مغایرت کو مستلزم نہیں۔ ہا ہر واحد کی مغایرت مجموع من حیث المجموع کی مغایرت کو بالاولویت مستلزم ہے۔ فافھم ذلک واستفہم۔ اسرار مجموعہۂ سورت 1 ۔ اس سورت میں دس چیزیں مذکور ہیں۔ پانچ چیزیں خدا تعالیٰ کے متعلق ہیں اور پانچ بندوں کے متعلق ہیں۔ خدا تعالیٰ کے متعلق جو چیزیں ہیں وہ یہ ہیں۔ الوہیت، ربوبیت، رحمانیت، رحیمیت، مالکیت بندہ کے متعلق جو چیزیں ہیں وہ یہ ہیں۔ عبادت، استعانت، طلب، ہدایت، طلب، استقامت، طلب نعمت۔ بندہ کی پانچ صفتیں اسی ترتیب سے خدا تعالیٰ کی پانچ صفتوں سے متعلق ہیں اور معنی کلام یہ ہیں کہ اے خدا تعالیٰ ہم خاص تیری عبادت اس لیے کرتے ہیں کہ تو ہمارا اللہ یعنی معبود ہے اور خاص تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں اس لیے کہ تو ہی تمام جہانوں کا مربی اور پرورش کرنے والا ہے اور تجھ ہی سے ہدایت کی درخواست کرتے ہیں۔ اس لیے کہ تو رحمن ہے تیری رحمت اور مہربانی عام ہے اور تجھ ہی سے استقامات کی التجا کرتے ہیں اس لیے کہ تو رحمن ہے تیری رحمت اور مہربانی عام ہے اور تجھ ہی سے استقامت کی التجا کرتے ہیں اس لیے کہ تو رحیم ہے۔ تیری خاص رحمت خاص اہل ایمان اور اہل ہدایت ہی پر مبذول ہے اور تجھ ہی سے انعام کے امیدوار ہیں۔ اس لیے کہ تو ہی جزاء اور سزا کا مالک ہے ایسی کامل نعمت ہم کو عطاء فرما کہ جو غضب اور ضلال کے شائبہ سے بالکل پاک ہو (تفسیر کبیرص 151 ج 1) 2 ۔ نیز جب مقام مناجات میں کھڑا ہوا اور خدا کی صفات کمال بیان کرتا ہوا مالک یوم الدین تک پہنچا تو بےاختیار سیرالی اللہ کا شوق دامنگیر ہوا۔ ارادہ سفر کا مصمم کیا تو سفر کے لیے عبادت کا توشہ لیا۔ اور استعانت اور امداد خداوندی کی سواری پر سوار ہوا۔ زاد اور راحلہ کے مکمل ہوجانے کے بعد راستہ معلوم کیا جب سیدھا راستہ معلوم ہوگیا تو رفقاء طریق کی فکر ہوئی کہ ان کی رفاقت اور معصیت سے راستہ سہولت سے قطع ہوا اور راہزنوں یعنی اہل غضب اور اہل ضلال کا کوئی خدشہ اور دغدغہ باقی نہ رہے (تفسیر عزیزی ص 48) 3 ۔ جن علوم کی حضرات انبیاء (علیہ الصلوۃ والسلام) نے دعوت دی۔ وہ تین علم ہیں، علم ِ شریعت، علم ِ طریقت۔ علم حقیقت اور پھر علم شریعت کی دو قسمیں ہیں۔ اول علم عقائد۔ دوم علم احکام۔ سوم الحمد للہ رب العلمین۔ الرحمن الرحیم مالک یوم الدین میں الہیات یعنی خدا تعالیٰ کی ذات وصفات کا بیان ہے۔ اور اھدنا الصراط المستقیم الخ۔ میں ہدایت اور ضلالت سعادت اور شقاوت کا بیان ہے اور چونکہ الذین انعمت علیھم سے انبیاء وصدیقین، شہداء اور صالحین مراد ہیں اس لیے اس آیت میں مباحث نبوت و امامت کی طرف اشارہ ہے اور ایاک نعبد میں علم احکام کی طرف اشارہ ہے علم طریقت جس میں نفس اور قلب کے امراض اور معالجات سے بحث کی جاتی ہے۔ اس کے تین مرتبے ہیں۔ پہلا مرتبہ توحید فی العبادۃ ہے کہ سوائے خدا تعالیٰ کے کسی کی عبادت نہ کرے دوسرا مرتبہ توحید فی الاستعانت ہے یعنی سوائے خدا کے کسی سے مدد نہ مانگے۔ تیسرا مرتبہ استقامت ہے۔ یہ سلوک کا اعلی مرتبہ ہے کہ طریق عبودیت اور جادۂ اخلاص و محبت پر قدم ایسا ٹھیک جم جائے کہ ذرہ برابر ادھر ادھر ہٹنے نہ پائے ان مراحل اور مقامات کے طے ہوجانے کے بعد درجہ ہے مکاشفات اور تجلیات کا کہ قلب پر سحائب الہام کی بارش ہونے لگے اور علوم اور معارف اسرار اور لطائف منکشف ہونے لگیں۔ یہ علم حقیقت ہے اللہ تعالیٰ جس پر چاہے اپنا انعام فرمائے۔ صرط الذین انعمت علیہم میں اسی علم کی طرف اشارہ ہے۔ فائدہ : اس سورت کے ختم پر امین کہنا مسنون ہے اور لفظ آمین اسم فعل ہے یعنی یہ کلمہ در اصل تو اسم ہے مگر معنی میں فعل کے ہے یعنی افعل (ایسا ہی کر) کے معنی میں ہے جیسے روید اور حیھل اور ھلم۔ اسماء افعال ہیں اور مطلب یہ ہے کہ اے اللہ جو ہم نے تجھ سے مانگا ہے وہی کر دے یعنی اہل انعام کے راستہ پر چلا اور اہل غضب اور اہل ضلال سے ہم کو الگ رکھ اور لفظ آمین بالاتفاق سورة فاتحہ کا جزء نہیں بلکہ جس طرح عام دعاؤں کے بعد آمین کہنا سنت ہے اسی طرح الحمد کے بعد بھی آمین کہنا باتفاق سنت ہے۔ اختلاف صرف اس میں ہے کہ آمین اہستہ کہنا بہتر ہے یا آواز سے جمہور صحابہ وتابعین کا یہی مذہب ہے کہ آہستہ کہنا بہتر ہے اور یہی امام ابوحنیفہ اور امام مالک اور سفیان ثوری کا قول ہے کیونکہ آمین دعا ہے اور دعا کے آہستہ مانگنے کا حکم قرآن کریم میں صراحۃً موجود ہے۔ ادعوا ربکم تضرعا وخفیۃ انہ لا یحب المتعدین۔۔ اور صحیح حدیثوں میں قولوا آمین یعنی آمین کہنے کا حکم آرہا ہے جس سے جبر ثابت نہیں ہوتا ورنہ قولوا التحیات للہ الخ اور قولوا ربنا لک الحمد (متفق علیہ) میں بھی جہر کا قائل ہونا پڑے گا حالانکہ امت کا کوئی عالم اس کا قائل نہیں دلائل کی تفصیل شرح بخاری اور شروح ہدایہ میں دیکھیں۔ صلوۃ مسلمین اور صلوۃ نصاری کا تقابل کلامِ الٰہی کے دقائق و اسرار کا تو کون احاطہ کرسکتا ہے۔ بڑے سے بڑے فہیم اور ذکی اور صاحب فہم ثاقب کی بھی وہاں تک رسائی نہیں۔ یہ مختصر سورت یعنی سورة فاتحہ جس کے معارف ولطائف کا ایک نمونہ ہدایہ ناظرین کیا گیا ہے اس کے وہ اسرار ومعارف جو اللہ رب العزت کے علم میں ہیں وہ تو درکنار، علماء اسلام اور حضرات مفسرین نے جو اس مختصر سورت کے حقائق ومعارف بیان فرمائے ہیں۔ ہم انہیں کے استیعاب اور استقصاء سے عاجز اور درماندہ ہیں۔ جس کی تصدیق علماء اسلام کے تفاسیر سے بخوبی ہوسکتی ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، سوہ فاتحہ جیسی سورت نہ توریت میں اتاری گئی اور نہ زبور میں اور نہ انجیل میں (اخرجہ الترمذی وصححہ) اسی وجہ سے ہر نماز میں اس سورت کا پڑھنا لازم قرار دیا گیا۔ اس وقت ہم انجیل کی وہ عبادت ہدیہ ناظرین کرتے ہیں جس کو نصاریٰ اپنی نمازوں میں پڑھتے ہیں۔ تاکہ دونوں کے موازنہ اور مقابلہ سے اہل اسلام کے ایمان اور ایقان میں اضافہ ہو اور نصاری کے لیے اگر وہ خدا سے ڈریں اور غور وفکر سے کام لیں تو ان کے لیے موجب ہدایت ہو۔ انجیل متی بات ششم آیت نہم میں ہے کہ اس طرح نماز پڑھا کرو۔ " ابونا الذی فی السموات لیتقدس اسمک لتات ملکوتک لتکن مشیتک کما فی السماء علی الرض خبزنا کفافنا اعطنا الیوم واغفرلنا خطایانا کما نغفر نحن لمن اخطا الینا۔ ولا تدخلنا فی التجابر لکن نجنا من الشریر امین " (ترجمہ) " اے ہمارے باپ تو جو آسمان پر ہے۔ تیرا نام پاک ہو۔ تیری بادشاہ آنی چاہئے تیری مشیت جیسے آسمان پر پوری ہوتی ہے ایسے زمین پر بھی ہماری روز کی روٹی آج ہمی دے اور ہماری خطاؤ کو معاف کر جیسا کہ ہم اپنے خطاکاروں کی خطائیں معاف کرتے ہیں اور ہم کو آزمائش میں نہ لا بلکہ برے لوگوں سے بچا آمین۔ یعنی قبول فرما۔ ارباب فہم وبصیرت اگر سورة فاتحہ کے بعد اس عبارت پر ایک نظر ڈالیں تو ان کو بخوبی منکشف ہوجائیگا کہ اس عبارت کو سورة فاتحہ کیساتھ وہ نسبت بھی نہیں جو ثری (خاک) کو ثریا سے ہے۔ صیغۂ امر سے تقدیس اسم اور اتیان ملکوت کو طلب کرنا محض لا طائل اور تحصیل حاصل ہے وہ ہمیشہ سے قدوس اور سلام اور ملیک مقتدر اور عزیز و حکیم ہے اس ملک الملکوت اور قدوس و حکیم کی شان میں یہ لفظ کہنا چاہئے کہ تیرا نام پاک ہو اور تیری بادشاہت آئے سراسر خلاف ادب ہے۔ اور علی ہذا یہ کہنا (لتکن مشیتک کما فی السماء علی الارض) چاہئے کہ تیری مشیت جیسے آسمان میں ہے ویسے ہی زمین میں بھی ہو۔ یہ بھی سراسر خلاف ادب ہے کیا اس کی مشیت سبع سموات اور سبع ارضین میں جاری اور ساری نہیں ؟ اور کیا کوئی ذرہ اس کی قدرت اور مشیت سے مستثنی ہے ؟ حاشا وکلا۔ بلی انہ علی کل شیئ قدیر۔ وما تشاءون الا ان یشاء اللہ ولا حول ولا قوۃ الا باللہ۔ اور علی ہذا آج کی روٹی کے سوال کو ہدایت اور صراط مستقیم کے سوال (جو دنیا اور آخرت کی صلاح اور فلاح اور سعادت دارین) علی وجہ الاتم شامل ہے۔ اس سے کیا نسبت ؟ اور پھر اس غفور رحیم اور لیس کمثلہ شیئ سے یہ سوال کرنا کہ ایسی مغفرت عطاء فرما جیسا کہ ہم اپنے گنہگاروں اور خطاکاروں کی مغفرت کرتے ہیں۔ کھلی سفاہت اور صریح گستاخی ہے اس کی کامل وعظیم اور وسیع وعمیم مغفرت کو اپنی ناقص اور محدود اور برائے نام مغفرت کے ساتھ تشبیہ دینا اور در پردہ اپنے خطاکاروں کو خدا کے خطاکاروں کے ساتھ مماثل بتلانا اور ضمناً اپنی نافرمانی کو خدا کی نافرمانی کے ہم پلہ قرار دینا کیا یہ کھلی ہوئی گستاخی نہیں ؟ اس رب العالمین اور اس حنان ومنان کے تمام آلاء ونعم میں سے صرف آج کی روتی کا سوال کرنا رب غفور اور ارحم الراحمین سے اپنی ناقص اور محدود مغفرت کے مماثل مغفرت طلب کرنا۔ نصاری کے فہم و فراست کو خوب واضح کرتا ہے۔ اخیر میں لفظ آمین مذکور ہے۔ جو اہل اسلام سے سرقہ ہے سوائے اہل اسلام کے دنیا میں کوئی بھی آمین کو نہیں جانتا۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔