Ayahs 69:38–43ۧفَلَآ اُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُوْنَ وَمَا لَا تُبْصِرُوْنَ یعنی قسم ہے ان تمام چیزوں کی جن کو تم دیکھتے ہو یا دیکھ سکتے ہو اور جن کو تم نہ دیکھتے ہو نہ دیکھ سکتے ہو اس میں تمام مخلوقات آگئیں۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ نہ دیکھنے کی چیزوں سے مراد حق تعالیٰ کی ذات وصفات ہیں۔ بعض نے فرمایا کہ دیکھنے کی چیزوں سے مراد دنیا کی چیزیں ہیں اور نہ دیکھنے کی چیزوں سے مراد آخرت کی اشیاء (مظہری) واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم
Ayahs 69:44–51(آیت) وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا الخ، تقول کے معنی بات گھڑنے کے ہی اور وہ تین قلب سے نکلنے والی وہ رگ ہے۔ جس سے روح جسم انسانی میں پھیلتی ہے اس کے قطع کردینے سے موت فوراً واقع ہوجاتی ہے۔
سابقہ آیات میں کفار مکہ کے اس بےہودہ خیال کا رد کیا گیا تھا، کوئی آپ کو شاعر اور آپ کے کلام کو شعر کہتا تھا، کوئی آپ کو کاہن اور کلام کو کہانت کہتا تھا۔ کاہن وہ شخص ہوتا ہے جو کچھ شیاطین سے خبریں پا کر کچھ نجوم کے اثرات سے معلوم کرنے کے آنے والے واقعات میں اٹکل بچو باتیں کیا کرتا تھا۔ غرض آپ کو اشعر یا کاہن کہنے والوں کے الزام کا حاصل یہ تھا کہ آپ جو کلام سناتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے نہیں، آنحضرت ﷺ نے خود اپنے خیالات سے یا کاہنوں کی طرح شیاطین سے کچھ کلمات جمع کر لئے ہیں ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ مذکورہ آیات میں حق تعالیٰ نے ان کے اس خیال باطل کو ایک دوسری صورت سے بڑی شدت کے ساتھ اس طرح رد کیا ہے کہ دیوانو، اگر یہ رسول معاذ اللہ ہماری طرف جھوٹی باتیں منسوب کرتے اور ہم پر افتراء پردازی کرتے تو کیا ہم یوں ہی دیکھتے رہتے اور ان کو ڈھیل دیدیتے کہ خلق خدا کو گمراہ کریں۔ یہ بات کوئی عقل والا باور نہیں کرسکتا اس لئے اس آیت میں بطور فرض محال کے ارشاد فرمایا کہ اگر یہ رسول کوئی قول بھی اپنی طرف سے گھڑ کر ہماری طرف منسوب کرتے تو ہم ان کا داہنا ہاتھ پکڑ کر ان کی رگ جان کاٹ ڈالتے اور پھر ہماری سزا سے ان کو کوئی بھی نہ بچ اسکتا۔ یہاں یہ شدت کے الفاظ ان جاہلوں کو سنانے کے لئے قرض محال کے طور پر استعمال فرمائے ہیں۔ داہنا ہاتھ پکڑنے کی تخصیص غالباً اس لئے ہے کہ جب کسی مجرم کو قتل کیا جاتا ہے تو قتل کرنے والا اس کے بالمقابل کھڑا ہوتا ہے قتل کرنے والے کے بائیں ہاتھ کے مقابل مقتول کا داہعنا ہاتھ ہوتا ہے اس کو یہ قتل کرنے والا اپنے بائیں ہاتھ میں پکڑ کر داہنے ہاتھ سے اس پر حملہ کرتا ہے۔
تنبیہ۔ اس آیت میں ایک خاص واقعہ کے متعلق یہ فرمایا ہے کہ اگر خدانخواستہ معاذ اللہ رسول اللہ ﷺ اپنی طرف سے کوئی بات گھڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کردیتے تو آپ کے ساتھ یہ معاملہ کیا جاتا، اس میں کوئی عام ضابطہ بیان نہیں کیا گیا کہ جو شخص بھی نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرے ہمیشہ اس کو ہلاک ہی کردیا جائے گا یہی وجہ ہے کہ دنیا میں بہت سے لوگوں نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا ان پر کوئی سا عذاب نہیں آیا۔
Ayah 69:52فَسَبِّحْ باسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيْمِ ، اس سے پہلی آیتوں میں یہ بتلایا گیا تھا کہ رسول اللہ ﷺ اپنی طرف سے کچھ نہیں فرماتے جو کچھ ہے وہ اللہ کا کلام ہے اور وہ تقویٰ اختیار کرنے الوں کے لئے تذکرہ اور نصیحت ہے مگر ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ان سبق طعی اور یقینی امور کو جانتے ہوئے تم میں بہت سے آدمی اس کی تکذیب بھی کرتے رہیں گے جس کا نتیجہ آخرت میں ان کی حسرت ویاس اور عذاب دائمی ہوگا اور آخر میں فرمایا وانہ لحق الیقین یعنی یہ بات بالکل حق اور یقینی ہے اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔ سب کے آخر میں رسول اللہ ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا فسبح باسم ربک العظیم جس میں اشارہ ہے کہ آپ ان معاذ کفار کی باتوں پر دھیان نہ دیں اور ان سے مغموم نہ ہوں بلکہ اپنے رب عظیم کی تسبیح و تقدیس کو اپنا مشغلہ بنالیں کہ یہی ان سب غموں سے نجات کا ذریعہ ہے اور یہ ایسا ہے جیسا دوسری جگہ قرآن کریم میں فرمایا ہے (آیت) ولقد نعلم انک یضیق صدرک بما یقولون فسبح بحمد ربک وکن من السجدین۔ یعنی ہم جانتے ہیں کہ آپ ان کفار کی بیہودہ گفتگو سے دل تنگ ہوتے ہیں اس کا علاج یہ ہے کہ آپ اپنے رب کی حمد میں مشغول ہوجائیں اور سجدہ گزاروں میں شامل ہوجائیں ان کی باتوں کی طرف التفاق نہ کریں۔
ابو داؤد میں حضرت عقبہ ابن عامر جہنی کی روایت ہے کہ جب یہ آیت فَسَبِّحْ باسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيْمِ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس کو اپنے رکوع میں رکھو اور جب آیت سبح اسم ربک الاعلی نازل ہوئی تو فرمایا کہ اس کو اپنے سجدہ میں رکھو۔ اسی لئے باجماع امت رکوع اور سجدے میں یہ دونوں تسبیحات پڑھی جاتی ہیں۔ جمہور کے نزدیک ان کا پڑھنا اور تین مرتبہ تکرار کرنا سنت ہے۔ بعض حضرات نے واجب بھی کہا ہے۔
تمت سورة الحاقہ بحمد اللہ تعالیٰ