Ayahs 77:41–47ترجمہ : بیشک پرہیز گار لوگ سایوں یعنی گھنے درختوں میں ہوں گے اس لئے کہ (وہاں) سورج نہیں ہوگا، کہ اس کی گرمی سے سایہ حاصل کیا جائے اور بہتے ہوئے پانی کے چشموں میں ہوں گے، یعنی ابلتے ہوئے پانی کے، اور دل پسند میووں میں ہوں گے اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جنت میں کھانے پینے کی چیزیں حسب خواہش ہوں گی بخلاف دنیا کے کہ یہاں وہی میوے (پھل) ملتے ہیں جو اغلباً لوگوں کو دستیاب ہوتے ہیں اور ان سے کہا جائے گا (اے جنتیو ! ) تم خوشگواری کے ساتھ اپنے طاعت اعمال کے صلہ میں کھائو پیو، ھنیئا حال ہے ای متھنئین، بیشک ہم ایسی جزاء جیسی کہ تمام پرہیزگاروں کو دی ہے ہر نیکوکار کو دیں گے، اس دن جھٹلانے والوں کے لئے بڑی خرابی ہے (اے جھٹلانے والو ! ) یہ کافروں کو خطاب ہے تم دنیا میں تھوڑے دن یعنی موت تک کھالو اور مزے اڑا لو اس میں تہدید (دھمکی) ہے بلاشبہ تم مجرم ہو، اس دن جھٹلانے والوں کے لئے بڑی خرابی ہے، اب اس قرآن کے بعد تم کس بات پر ایمان لائو گے ؟ یعنی اس کتاب (قرآن) کی تکذیب کے بعد ان کے لئے ممکن نہیں کہ دیگر آسمانی کتابوں پر ایمان لائیں، اس قرآن کے ایسے اعجاز پر مشتمل ہونے کی وجہ سے کہ دیگر کتابیں اس اعجاز پر مشتمل نہیں ہیں۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : من تکاثف الاشجار یہ اضافت صفت الی الموصوف کے قبیل سے ہے، ای الاشجار المتکاثفۃ۔
قولہ : کما جزینا المتقین، نجزی المحسنین۔
سوال : یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے متقین اور محسنین میں مغایرت نہیں ہے بلکہ دونوں ایک ہیں، لہٰذا یہ فرمانا کہ ہم نے جیسی جزاء متقین کردی ہے محسنین کو بھی دیں گے یہ تشبیہ الشئی بنفسہ ہے ؟ جو کہ درست نہیں ہے۔
جواب : متقین سے مراد کاملین فی الطاعۃ ہیں، اور محسنین سے وہ لوگ مراد ہیں جو نفس ایمان کے حامل ہیں چناچہ مغایرت پائی گئی، فلا شکال۔
تفسیر و تشریح
ان المتقین فی ظلال الخ، سورة دہر میں کفار کے احوال اختصار کے ساتھ اور مومنین کے احوال تفصیل کے ساتھ بیان فرمائے اور یہاں اس کا عکس ہے تاکہ دونوں سورتوں میں تعاول و تساوی ثابت ہوجائے۔
کلوا و تمتعوقلیلا انکم مجرمون، چند دن یعنی موت تک کھا پی لو اور مزے اڑا لو، آخر کار تم کو سخت عذاب میں جانا ہے اس لئے کہ تم مجرم ہو۔
Ayahs 77:48–49واذا قیل لھم ارکعوا لا یرکعون، کہا گیا ہے کہ یہ آیت بنی ثقیف … میں نازل ہوئی، جب کہ ان سے کہا گیا کہ نماز پڑھو، تو انہوں نے کہا ہم جھک نہیں سکتے جھکنا ہمارے لئے مشکل ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا ” لا خیر فی دین لیس فیہ رکوع و لا سجود “ اور کہا گیا ہے کہ یہ ان سے آخرت میں کہا جائے گا، مگر وہ رکوع و سجدہ پر قادر نہ ہوں گے۔ (فتح القدیر، شوکانی)
اکثر مفسرین کے نزدیک یہاں ” رکوع “ کے لغوی معنی یعنی جھکنا اور اطاعت کرنا مراد ہیں، مطلب یہ ہے کہ جب ان سے دنیا میں احکام الٰہیہ کی اطاعت کے لئے کہا جاتا تھا تو یہ اطاعت نہ کرتے تھے، اور بعض حضرات نے رکوع کے اصطلاحی معنی بھی مراد لئے ہیں اور مطلب آیت کا یہ ہے کہ جب ان کو نماز کے لئے بلایا جاتا تھا تو وہ نماز نہیں پڑھتے تھے، رکوع بول کر پوری نماز مراد لی گئی ہے۔ (معارف، روح)
Ayah 77:50فبای حدیث بعدہ یومنون، یعنی جب یہ لوگ قرآن جیسی عجیب و غریب حکمتوں سے پر، واضح دلائل اور سابقہ تمام آسمانی کتابوں کی تصدیق کرنے والی کتاب پر ایمان نہیں لاتے تو پھر کونسی کتاب پر ایمان لائیں گے ؟ حدیث شریف میں ہے کہ جب قاری اس آیت پر پہنچے تو اس کو کہنا چاہیے، آمنا باللہ یعنی ہم اللہ پر ایمان لائے مگر فرائض میں ان الفاظ کے کہنے سے احتراز کرے۔ (معارف ملخصًا)
بحمدتم اللہ