Ayahs 44:30–42آیت نمبر 30 تا 42
ترجمہ : اور بیشک ہم نے (ہی) بنی اسرائیل کو رسواکن سزا سے نجات دی یعنی لڑکوں کے قتل اور عورتوں کو خادمہ بنانے سے، جو فرعون کی طرف سے (ہو رہی) تھی، کہا گیا ہے کہ مِنْ فرعونَ ، عذاب سے تقدیر مضاف کے ساتھ بدل ہے ای من عذاب فرعون اور کہا گیا ہے کہ عزاب سے حال ہے فی الواقع وہ سرکش حد سے تجاوز کرنے والوں میں سے تھا اور ہم نے بنی اسرائیل کو ہمارے ان کے حالات سے واقف ہونے کی وجہ سے ان کے زمانہ کے عقلاء پر فوقیت دی اور ہم نے ان کو ایسی نشانیاں دیں جن میں صریح انعام تھا یعنی کھلی نعمتیں تھیں، مثلاً دریا کو چیرنا اور من و سلوٰی وغیرہ یہ لوگ یعنی کفار مکہ تو یہی کہتے ہیں، نہیں ہے ایسی موت کہ اس کے بعد حیات ہو مگر ہماری پہلی موت یونی نطفہ ہونے کی حالت کی اور ہم دوسری موت کے بعد زندہ کرکے اٹھائے نہیں جائیں گے ہمارے باپ دادوں کو زندہ کرکے لے آؤ، اگر تم (اس بات میں) سچے ہو کہ ہم مرنے کے بعد اٹھائے جائیں گے یعنی زندہ کئے جائیں گے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا یہ لوگ بہتر ہیں یا تبع کی قوم کے لوگ ؟ وہ نبی ہیں یا کوئی مرد صالح اور وہ امتیں جو ان سے بھی پہلے تھیں ہم نے ان کو ان کے کفر کی وجہ سے ہلاک کردیا، مطلب یہ کہ یہ لوگ ان سے زیادہ طاقتور نہیں، ان کو ہلاک کردیا یقیناً وہ گنہگار تھے اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو ان کے درمیان جو کچھ ہے کھیل کے طور پر پیدا نہیں کیا اس کو پیدا کرکے (لاعبین) حال ہے ہم نے ان دونوں (یعنی زمین و آسمان) کو اور جو ان کے درمیان ہے حق ہی کے ساتھ پیدا کیا ہے حال یہ کہ ان کی تخلیق میں باحکمت ہیں، تاکہ اس تخلیق سے ہماری قدرت اور وحدانیت وغیرہ پر استدلال کیا جائے لیکن کفار مکہ میں سے اکثر نہیں جانتے یقیناً فیصلہ کا دن یعنی یوم قیامت، اس دن میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کر دے گا ان سب کے دائمی عذاب کا طے شدہ وقت ہے، اس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ کام نہ آئے گا، رشتہ داری کے اعتبار سے یا دوستی کے اعتبار سے یعنی اس سے کچھ بھی عذاب دفع نہ کرے گا، اور نہ ان کی مدد کی جائے گی کہ ان کو عذاب سے بچا لیا جائے، یومَ ، یوم الفصل سے بدل ہے مگر جس پر اللہ کی مہربانی ہوجائے اور وہ مومن ہوں گے اس لئے کہ مومن اللہ پاک کی اجازت سے آپس میں ایک دوسرے کی سفارش کریں گے وہ زبردست ہے کفار سے اپنا بدلہ لینے میں اور رحم کرنے والا ہے مومنین پر۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : ولقد نجَّینَا بنی اسرائیل (الآیۃ) یہ کلام مستانف ہے، اس سے آپ ﷺ کی تسلی مقصود ہے، لَقَدْ میں لام قسم محذوف کے جواب پر داخل ہے۔
قولہ : مِن فرعون اعادۂ جار کے ساتھ مِنَ الْعَذَابِ سے بدل ہے اور کائناً یا صادرًا یا واقعًا کے متعلق ہو کر عذاب سے حال بھی ہوسکتا ہے ای صَادرًا من فرعونَ ۔ قولہ : کان کا اسم ھُوَ مستتر ہے اور عالیاً اس کی خبر اور المسرفین، کانَ کی دوسری خبر ہے۔
قولہ : ای عالمی زمانھم ای العُقَلاء اس عبارت کا اضافہ دراصل ایک شبہ کا دفع ہے جو اخترناھم علی علمٍ علی العٰلمین سے پیدا ہوتا ہے
شبہ : اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کو تمام جہان کے عقلاء پر فوقیت و فضیلت حاصل ہے، حالانکہ نص صریح
کُنْتُمْ خیر اُمَّۃٍ سے معلوم ہوتا ہے کہ امت محمدیہ تمام امتوں سے افضل ہے۔
دفع : بنی اسرائیل کو ان ہی کے زمانہ کے عقلاء پر فضیلت حاصل تھی، نہ کہ تاقیامت دنیا جہان کے عقلاء پر، مفسر علام علی العلمین کی تفسیر العقلاء سے کرنے کے بجائے الثقلَین سے فرماتے تو زیادہ مناسب ہوتا اس لئے کہ عقلاء میں جن، انس اور ملائکہ سب شامل ہیں، حالانکہ بنی اسرائیل ملائکہ سے افضل نہیں ہے۔
قولہ : من الآیات یہ المبین کا بیان مقدم ہے فواصل کی رعایت کی وجہ سے مقدم کردیا گیا ہے۔
قولہ : نعمۃ ظاھرۃ یہ بلاءٌ کی تفسیر ہے بلاءٌ کے اصل معنی امتحان و آزمائش کے ہیں اور آزمائش چونکہ نعمت و رحمت وسعت و عسرت تنگی و خوشحالی دونوں صورتوں میں ہوتی ہے، اسی سے مفسر علام نے یہاں بلاءٌ کا ترجمہ نعمت سے کیا ہے۔ (صاوی)
قولہ : المَنَّ اسم ہے، ایک قسم کا شبنمی گوند ہے، وادی تیہ میں بھٹکنے والے اسرائیلیوں کے کھانے کیلئے اللہ تعالیٰ روزانہ درختوں کے پتوں پر جما دیتا تھا۔ قولہ : سَلْویٰ سلویٰ ایک چھوٹا پرندہ ہے، جس کو بٹیر کہتے ہیں، قاموس میں اس کا واحد سلواۃٌ مرقوم ہے، صحاح میں اخفش سے منقول ہے کہ اس کا واحد نہیں سنا گیا، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کا واحد اور جمع ایک ہی ہے۔ (لغات القرآن)
قولہ : ھؤلائ یہ اسم اشارہ قریب کیلئے ہے کافروں کی تحقیر و تذلیل کے لئے اسم اشارہ قریب کا استعمال فرمایا۔
قولہ : قوم تُبَّعٍ یہ تبغ حمیری ہے، ابو کریب اسکی کنیت اور اسکا نام اسعد ہے، انصار بنی حیرۃ اسی کی طرف منسوب ہیں، حیرۃ کوفہ کے قریب ایک شہر ہے، مزید تفصیل تفسیر و تشریح کے زیر عنوان ملاحظہ فرمائیں۔ قولہ : والذین من قبلھم اس کا عطف قوم تُبَّع پر ہے۔
تفسیر و تشریح
ولقد۔۔۔۔ العلمین اس سے بنی اسرائیل کے زمانہ کا جہان مراد ہے علی الاطلاق کل جہان یا تا قیامت کے لوگ مراد نہیں، کیونکہ قرآن مجید میں امت محمدیہ کو کُنْتُم خیر اُمَّۃ کے لقب سے نوازا گیا ہے، مطلب یہ کہ بنی اسرائیل کی فضیلت ان کے زمانہ کے لوگوں پر تھی اور فضیلت و فوقیت ہم نے اپنے علم کی رو سے دی تھی، علم کی رو سے کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے ہر کام میں حکمت ہوتی ہے، لہٰذا ان کو فوقیت دینے میں بھی ہماری حکمت تھی، جزوی یا وقتی فضیلت سے کلی اور دائمی فضیلت ثابت نہیں ہوتی اور یہ بھی ممکن ہے کہ بنی اسرائیل کو کسی جزوی خوبی کی وجہ سے تمام اہل عالم پر فضیلت حاصل ہو مثلاً یہ بات متفق علیہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کی اکثریت بنی اسرائیل سے تعلق رکھتی ہے۔
علیٰ علم کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ اگرچہ بنی اسرائیل کی بعض کمزوریوں کا بھی ہم کو علم حاصل تھا مگر اس کے باوجود ہم نے بنی اسرائیل کو وقتی اور جزئی فضیلت دیدی۔ (فوائد عثمانی)
واتینٰھُم من الاٰیٰتِ ما فیہ بلاءٌ مبینٌ آیات سے مراد معجزات بھی ہوسکتے اور احسانات و انعامات بھی، دونوں صورتوں میں آزمائش کا پہلو موجود ہے، اللہ تعالیٰ یہ ظاہر کرنا چاہتے تھے کہ یہ لوگ کس طرح عمل کرتے ہیں ؟ اور ان انعامات کا کس طرح شکریہ ادا کرتے ہیں جو ان پر اللہ تعالیٰ نے فرمائے تھے ؟ مثلاً ان کے دشمن فرعون کو غرق کرکے ان کو نجات دینا، ان کے لئے دریا کو پھاڑ
کر راستہ بنانا، بادلوں کا سایہ فگن ہونا، اور من وسلویٰ کا نازل ہونا وغیرہ وغیرہ۔
انَّ ھؤلاء لیقولون، ھؤلاء اسے اشارہ کفار مکہ کی طرف ہے اسلئے کہ سلسلہ کلام ان ہی سے متعلق ہے، درمیان میں فرعون کا قصہ ان کی تنبیہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے کہ فرعون بھی اسی طرح کفر پر اصرار کرتا رہا، دیکھ تو اس کا کیا حشر ہوا، اگر یہ بھی اپنے کفر پر مصر رہے تو ان کا انجام بھی فرعون اور اس کے ماننے والوں سے مختلف نہ ہوگا۔
فاتوا۔۔۔۔ صادقین یعنی دنیا کی زندگی ہی بس آخری زندگی ہے اس کے بعد دوبارہ زندہ ہونا اور حساب کتاب دینا ممکن نہیں ہے، اور اگر یہ بات صحیح ہے تو اولاً ہمارے باپ دادوں کو زندہ کرکے دکھا دو اگر تم سچے ہوتا کہ ہمیں اخروی زندگی کا یقین آجائے، اور اگر بالفرض ہم تسلیم کرلیں کہ مرنے کے بعد زندگی ہے تو وہ نطفہ کے بعد دنیوی حیات ہے، گویا کہ نطفہ مردہ اور اس سے انسان کا پیدا ہونا یہ مرنے کے بعد زندہ ہونا ہے، قرآن کریم نے ان کے اس سوال کا جواب ظاہر ہونے کی وجہ سے نہیں دیا وہ یہ کہ دنیا و آخرت کے اصول اور ضابطے الگ الگ ہیں اگر کسی مردے کو زندہ کرکے دنیا میں نہیں لایا گیا تو اس سے یہ کہاں ثابت ہوگیا کہ آخرت میں بھی دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا ؟
اھم خیر ام قوم تبع، یعنی یہ کفار مکہ کیا تُبَّعْ اور ان سے پہلی قوموں مثلاً عاد وثمود وغیرہ سے بھی زیادہ طاقتور اور بہتر ہیں جب ہم نے انہیں ان کے گناہوں کی پاداش میں ہلاک کردیا تو یہ کیا حیثیت رکھتے ہیں ؟ تُبَّع سے مراد قوم سبا ہے، سبا میں ایک قبیلہ حِمیَر تھا، یہ اپنے بادشاہوں کو تبع کہتے تھے جیسے روم کے بادشاہوں کو قیصر اور فارس کے بادشاہوں کو کسریٰ اور مصر کے حکمرانوں کو فرعون اور حبشہ کے فرمانرواؤں کو نجاشی کہا جاتا تھا، اہل تاریخ کا اتفاق ہے کہ تبابعہ میں سے بعض کو بڑا عروج حاصل ہوا اور وہ ملکوں کو فتح کرتے ہوئے سمر وند تک پہنچے۔
قوم تبع کا واقعہ : قرآن کریم میں قوم تبع کا ذکر دو جگہ آیا ہے، ایک یہاں اور دوسرے سورة قٓ میں اور دونوں جگہ صرف نام ہی مذکور ہے، اس لئے مفسرین نے تبع کے بارے میں مفصل بحثیں کی ہیں، واقعہ یہ ہے کہ تبع کسی فرد معین کا نام نہیں بلکہ یہ یمن کے ان حمیری بادشاہوں کا لقب رہا ہے جنہوں نے ایک عرصہ دراز تک یمن کے مغربی حصہ کو دافر السلطنت قرار دیکر عرب، شام، عراق اور افریقہ کے بعض حصوں پر حکومت کی، یہاں ان تبابعہ میں سے کونسا تُبَّعْ مراد ہے ؟
قرآنی تبع : قرآنی تُبَّعْ ، تبع اوسط ہے جس کا نام اسعد، ابوکریب یا ابو کرب کنیت ہے، یہ بادشاہ آپ ﷺ کی بعثت سے نو سو سال اور ایک روایت کے اعتبار سے کم از کم سات سو سال پہلے گزرا ہے، یہ اور اس کی قوم آتش پرست تھی، ایک مرتبہ سفر کے دوران اس کا مدینہ منورہ سے گزرہوا، یہاں اس کا بیٹا مارا گیا، تبع نے مدینہ کو تباہ و برباد کرنے کا ارادہ کیا، اوس و خزرج سے جو یہاں کے قدیم باشندے تھے مقابلہ ہوا، اہل مدینہ کا عجیب و غریب طریقہ تھا کہ دن میں تبع کے ساتھ لڑتے اور رات کو ان کی دعوت کرتے، تبع کو یہ امر نہایت عجیب معلوم ہوا، مدینہ میں یہودی بھی آباد تھے، بنی قریظہ کے دو بڑے عالم جن میں ایک کا نام کعب اور دوسرے کا نام اسعد تھا، یہ دونوں بادشاہ کے پاس گئے اور عرض کیا اے بادشاہ مدینہ کی طرف نظر بد نہ کرو، ورنہ عذاب آجائے گا، تجھ کو معلوم نہیں کہ یہ شہر نبی آخر الزمان محمد ﷺ کی ہجرت گاہ ہے، جن کا مولد مکہ ہے اور وہ قریش کی قوم سے ہوں گے، اے تبع اس وقت جہاں تو ہے اس سے قتال عظیم ہوگا، تبع نے معلوم کیا کہ جب وہ پیغمبر ہے تو اس سے قتال کون کرے گا، ان دونوں عالموں نے جواب دیا کہ ان کی قوم ان سے لڑے گی، تبع یہ سن کر لڑائی سے باز آگیا، پھر ان دونوں عالموں نے اس کو دین یہود کی تبلیغ کی جس کے نتیجے میں اس نے یہودیت قبول کرلی، اور ان دونوں عالموں کو اپنے ہمراہ لیکر یمن چلا، جب مکہ معظمہ پہنچا تو قبیلہ ہذیل کے بعض لوگوں نے ازراہِ شفقت بادشاہ سے کہا کہ ہم تجھے وہ گھر بتائیں کہ جس میں خزانہ ہے اور وہ گھر خانہ کعبہ ہے، مقصد ان کو یہ تھا کہ تبع اس گستاخی سے ہلاک ہوجائے مگر ان دونوں عالموں نے اس کو اس حرکت سے باز رکھا، اور عرض کیا یہ خانہ خدا ہے، خبردار اس کی طرف نظر بد ہرگز نہ کرنا، تبع نے اس حرکت سے توبہ کی اور ہذیلیوں کو قتل کرا دیا، اور مکہ میں حاضر ہو کر شعب صالح میں قیام کیا اور خانہ خدا کو لباس پہنایا، سب سے پہلے تبع ہی نے خانہ کعبہ پر غلاف ڈالنا شروع کیا، تبع نے مکہ میں چھ روز قیام کیا اور چھ ہزار بد نے قربان کئے، جب تبع یمن پہنچا تو قوم نے بغاوت کردی اور کہا تو نے دین بدل ڈالا ہے، آخر فیصلہ یہ ہوا کہ زیر کوہ جو ایک آگ ہے وہاں دونوں فریق چلیں اور آگ حسب معمول ظالم کو جلا دے، قوم اپنے بتوں کو لیکر گئی، اور تبع کعب واسعد کو ساتھ لے گیا ان کے گلوں میں مصاحف لٹکے ہوئے تھے، یہ آگ کے اوپر سے بآسانی گزر کر مقام معین پر پہنچ گئے، اس کے بعد آگ نکلی اور بت پرستوں کو جلا کر خاکستر کردیا، اس کے بعد آگ جدھر سے آئی تھی واپس چلی گئی، اس کے بعد قوم تبع کے کچھ بچے ہوئے لوگوں نے یہودیت قبول کرلی۔ (خلاصۃ التفاسیر، تائب لکھنوی)
حضرت عائشہ نے فرمایا تبع کو برا نہ کہو وہ مرد صالح تھا، آپ ﷺ نے تبع کے بارے میں فرمایا کہ وہ اسلام لایا تھا اور یہ بھی فرمایا کہ میں نہیں جانتا کہ تبع نبی تھا یا نہیں، تبع نے دار ابی ایوب آپ ﷺ کے لئے بنوایا تھا، اور وصیت نامہ لکھا تھا کہ نبی آخر الزمان جب تشریف لائیں تو یہ گھر اور میرا پیام نیاز پیش خدمت کیا جائے، چناچہ وہ خط حضرت ابو ایوب انصاری ؓ نے آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا۔ (خلاصۃ التفاسیر) اس خط میں یہ اشعار بھی تھے :
شھدتُ علی احمد أنَّہٗ رسول من اللہ باری النسم
فلو مد عمری الی عمرہ لکنت وزیراً لہٗ وابن عم
خط کا مضمون ابن اسحٰق کی روایت کے مطابق یہ تھا : امَّا بعد ! فانی آمنت بک وبکتابک الذی أنزل علَیْک، وانا علی دینک وسنتکَ وآمنتُ بربک ورب کل شئ وآمنتُ بکل ما جاء من ربک من شرائع الاسلام فِان ادرکتُکَ فبھا ونعمت وان لم ادرککَ فاشفع لی ولا تنسنی یوم القیامۃ فانی من ربک من امتک الاولین وتابعتک قبل مجیئک وأنا علی ملتک وملت ابیک ابراھیم (علیہ السلام) ثم ختم الکتاب ونقش علیہ، للہ الامر من قبل ومن بعد وکتب عنوانہ الی محمد بن عبد اللہ نبی اللہ ورسولہ خاتم النبیین و رسول رب العالمین ﷺ من تُبَّع اول۔ (لغات القرآن للدرویش)
ما خلقنھما الا بالحق (الآیۃ) ہم نے زمین و آسمان کو کسی حکمت ہی سے بنایا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے، مطلب یہ ہے کہ
اگر سوچنے سمجھنے والی عقل ہو تو آسمان اور زمین اور ان کے درمیان جو مخلوقات پیدا کی گئی ہیں، وہ سب بہت سے حقائق پر دلالت کرتی ہیں، مثلا ایک تو قدرت خداوندی پر دوسرے آخرت کے امکان پر کیونکہ جس ذات نے ان عظیم اجسام کو وجود بخشا وہ یقیناً اس بات پر بھی قادر ہے کہ انہیں ایک مرتبہ فنا کرکے دوبارہ پیدا کر دے، تیسرے جزاء و سزا کی ضرورت پر کیونکہ اگر آخرت کی جزاء و سزا نہ ہو تو یہ سارا کارخانۂ وجود بیکار ہوجاتا ہے، اس کی تخلیق کی حکمت ہی یہی ہے کہ اس کو دار الامتحان بنایا جائے اور اس کے بعد آخرت میں جزاء و سزا دی جائے ورنہ نیک و بد دونوں کا انجام ایک ہونا لازم آتا ہے جو اللہ کی شان حکمت سے بعید ہے، چوتھےؔ یہ کہ یہ کائنات سوچنے سمجھنے والوں کو اطاعت خداوندی پر آمادہ کرنے والی ہے، اس لئے کہ پوری کائنات اس کا بہت بڑا انعام ہے اور بندے پر واجب ہے، کہ اس کی نعمت کا شکر، اس کے خالق کی اطاعت کرے۔ (معارف)
Ayahs 44:43–59آیت نمبر 43 تا 59
ترجمہ : بیشک زقوم (تھوہڑ) کا درخت جو کڑوا اور خبیث ترین ہے تہامہ میں پیدا ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو دوزخ میں پیدا فرمائے گا، مجرموں کا کھانا ہے یعنی ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کا جو بڑا گنہگار ہیں، اور وہ سیاہ تیل (تارکول) کی تلچھٹ کے مانند ہے (کالمھل) ثانی خبر ہے، وہ تیز گرم پانی کے مانند پیٹ میں کھولتا رہتا ہے (تغلی) تاء فوقانیہ کے ساتھ تیسری خبر ہے اور یاء تحتانیہ کے ساتھ المھل سے حال ہے جہنم پر مقرر فرشتوں کو حکم دیا جائے گا کہ مجرم کو پکڑ لو پھر گھسیٹتے ہوئے بیچ جہنم تک پہنچا دو (فاعتلوہ) کسرۂ اور ضمہ تاء کے ساتھ یعنی اس کو سختی اور شدت کے ساتھ کھینچو، پھر اس کے سر پر سخت گرم پانی کا عذاب بہاؤ یعنی گرم پانی کہ جس سے عذاب جدا نہ ہوگا، یہ (تعبیر) زیادہ بلیغ ہے اس (تعبیر) سے جو یُصَبُّ من فوقِ رُءُوسِھِم الحمیم میں اختیار کی گئی ہے، (اس سے کہا جائے گا) عذاب (کا مزا) چکھ تو تو اپنے گمان میں بڑی عزت اور اکرام والا تھا اپنے اس قول کی وجہ سے کہ مکہ کے دونوں پہاڑوں کے درمیان مجھ سے زیادہ با عزت اور باوقار کوئی نہیں ہے، ان سے کہا جائے گا، یہ عذاب جو تم دیکھ رہے ہو وہی ہے جس کے بارے میں تم شک کیا کرتے تھے بیشک (اللہ سے) ڈرنے والے امن چین کی مجلس میں ہوں گے جس میں وہ خوف سے محفوظ رہیں گے باغوں اور چشموں میں باریک اور دبیز ریشم کے لباس پہنے ہوئے آمنے سامنے بیٹھے ہوئے ہوں گے (متقابلین) حال ہے، ان کی مسہریوں کے گولائی میں ہونے کی وجہ سے کوئی کسی کی گدی (پشت) نہیں دیکھے گا، بات اسی طرح ہے کذٰلک سے پہلے الامرُ مقدر مانا جائے گا اور ہم گوری چٹی بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں والی حوروں سے ان کا نکاح کردیں گے، یا ان کا جوڑا لگا دیں گے، جنتی جنت میں خدام سے جنت کے قسم قسم کے پھلوں کی فرمائش کریں گے اور ان کے ختم ہونے اور ان کی مضرت اور ہر قسم کے اندیشوں سے مامون ہوں گے (آمنین) یدعون کی ضمیر سے حال ہے، وہاں وہ موت (کا مزہ) نہیں چکھیں گے سوائے اس پہلی موت کے جس کو وہ دنیا میں حیات کے بعد چکھ چکے، بعض لوگوں نے کہا ہے کہ الاَّ بعدُ کے معنی میں ہے انہیں اللہ نے دوزخ کے عذاب سے محض تیرے رب کے فضل سے بچا دیا (فضلاً ) مصدر ہے تفضلا کے معنی میں تفضل مقدر کی وجہ سے منصوب ہے، یہی ہے بڑی کامیابی ہم نے اس قرآن کو تیری زبان میں آسان کردیا تاکہ عرب آپ سے (سن کر) سمجھیں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں اور ایمان لے آئیں، لیکن وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں، اب تو ان کی ہلاکت کا منتظر رہ وہ بھی تیری ہلاکت کے منتظر ہیں، یہ حکم ان کے ساتھ جہاد کا حکم نازل ہونے سے پہلے کا ہے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : شجرت الزقُّوم، شجرت یہاں تاء مجرورہ کے ساتھ ہے قرآن میں بقیہ جگہ تاء مدوّرہ کے ساتھ ہے حالت وقف میں، ہ اور تاء دونوں پڑھا گیا ہے۔ قولہ : زقُّومٌ ایک جنگلی نبات ہے، چمیلی کے مانند اس پر پھول آتا ہے، یہ جہنمیوں کی غذا ہے، اردو میں تھوہڑ اور ہندی میں ناگ پھن کہتے ہیں، اس کا مزہ کڑوا کسیلا بدمزہ ہوتا ہے۔
مجرب نسخہ : زقوم ایک ایسے درخت کو بھی کہتے ہیں جس کا پھل کھجور کے مانند ہوتا ہے، اس کا تیل ریاح باردہ کے تحلیل میں عظیم النفع ہے امراض بلغمیہ میں عجیب التاثیر ہے، اوجاع مفاصل، عرق النساء نقرس اور کو ل ہے میں احتباس ریاح کو تحلیل کرنے میں سریع الاثر اور کثیر النفع ہے، (مقدار خوراک) بقدر سات درہم روزانہ تین روز تک استعمال کیا جاتا ہے، اس دوا سے اپاہج اور معذورین بھی بمشیئت خداوندی صحت یاب ہوجاتے ہیں، کہا گیا ہے کہ ہلیلہ کابلی اس درخت کی جڑ ہے۔ (صاوی، جمل)
قولہ : تھا مۃ مکہ معظمہ ملک حجاز کا جنوبی علاقہ ہے، نسبت کے لئے تہامہ کہتے ہیں جمع تھا میون وتھامون آتی ہے۔ (مصباح)
قولہ : کالمھل پگھلی ہوئی دھات دردیٌ تلچھت، تیل وغیرہ کی گاد، زیت الاسود، تارکول۔
قولہ : طعام الأثیم انَّ کی خبر اول ہے اور کالمھل خبر ثانی، اور تغلی تاء کے ساتھ خبر ثالث ہے اور یاء کے ساتھ المھل سے حال ہے
قولہ : صبُّوا فوقَ راسہٖ من عذاب الحمیم میں زیادہ مبالغہ ہے بہ نسبت یُصبُّ من فوق رُءُوسھم الحمیم کے پہلی آیت میں عذاب کو سر پر بہانے کا حکم ہے گویا کہ پانی اتنا گرم ہے کہ وہ خود عذاب ہوگیا لہٰذا اب حرارت اس سے جدا نہیں ہوگی اس لئے کہ حرارت اب صفت نہیں رہی، بلکہ خود موصوف ہوگئی، اس میں مبالغہ زیادہ ہے بہ نسبت یہ کہنے کے کہ ان پر گرم پانی بہاؤ، یہاں پانی موصوف اور گرم اس کی صفت ہے، اور صفت موصوف سے جدا ہوسکتا ہے۔
قولہ : او قرَّناھم یہ اس شبہ کا جواب ہے کہ زوَّجنا متعدی بنفسہٖ ہے حالانکہ یہاں اس کا صلہ بحورٍ عینٍ کی باء ہے، جواب یہ ہے کہ زَوَّجْنَا بمعنی قَرَّنَّا ہے، لہٰذا اس کا صلہ باء لانا درست ہے۔
تفسیر و تشریح
ان آیات میں آخرت کے کچھ احوال بیان کئے گئے ہیں اور قرآن نے اپنے دستور اور عادت کے مطابق یہاں بھی دوزخ اور جنت دونوں پہی کے احوال بیان فرمائے ہیں، انّ شجرۃ الزقوم الخ اس آیت سے یہ مترشح ہوتا ہے کہ کفار کو زقوم دوزخ میں داخل ہونے سے پہلے کھلایا جائے گا کیونکہ یہاں زقوم کھلانے کے بعد یہ حکم مذکور ہے کہ اسے کھینچ کر دوزخ کے بیچوں بیچ لے جاؤ۔
ان المتقین۔۔۔ امینٍ ان آیات میں جنت کی سرمدی نعمتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور نعمت کی تقریباً تمام اقسام کو جمع کردیا گیا ہے، اس لئے کہ عموماً انسانی ضرورت کی بنیادی چیز یہی ہوتی ہیں، عمدہ رہائش گاہ، عمدہ لباس، بہترین شریک حیات، بہتر ماکولات، پھر ان نعمتوں کے باقی رہنے کی ضمانت اور رنج و تکلیف سے کلی طور پر مامون رہنے کا یقین، یہاں ان چھ کی چھ باتوں کو اہل جنت کیلئے ثابت کردیا گیا ہے، جیسا کہ ان چھ آیتوں میں غور کرنے سے صاف ظاہر ہے۔
ذُق اِنَّکَ ۔۔ الکریم یعنی دنیا میں بزعم خویش بڑا معزز اور ذی وقار بنا پھرتا تھا، اور اہل ایمان کو حقارت کی نظر سے دیکھتا تھا۔
وزوجناھم۔۔۔ حورٌ، حورَاءُ کی جمع ہے یہ حورٌ سے مشتق ہے، جس کے معنی ہیں کہ آنکھ کی سفیدی نہایت سفید ہو اور سیاہی نہایت سیاہ ہو، حوراء اسلئے کہا جاتا ہے کہ نظریں اس کے حسن و جمال کو دیکھ کر حیرت زدہ رہ جائیں گی، عینٌ عیناء کی جمع ہے، کشادہ چشم، جیسے ہرن کی آنکھیں ہوتی ہیں۔
تم بحمد اللہ