Ayahs 37:139–182آیت نمبر 139 تا 182
ترجمہ : بلاشبہ یونس (علیہ السلام بھی) پیغمبروں میں سے ہیں (اس وقت کو یاد کرو) جب (یونس علیہ السلام) بھاگ کر بھری ہوئی کشتی کے پاس پہنچے جبکہ وہ اپنی قوم ناراض ہوئے، جب ان پر وہ عذاب نازل نہ ہوا جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا تو کشتی پر سوار ہوگئے کشتی دریا کے بیچوں بیچ جاکر ٹھہرگئی، تو ملاحوں نے کہا کشتی میں کوئی ایسا شخص ہے جو آقا سے بھاگا ہوا ہے، جس کو قرعہ ظاہر کر دے گا، چناچہ کشتی والوں نے قرعہ اندازی کی تو یہ قرعہ کے ذریعہ مغلوب ہوگئے، چناچہ ان کو دریا میں ڈال دیا، تو ان کو مچھلی نے نگل لیا، حال یہ کہ وہ قابل ملامت کام کرنے والے تھے، یعنی اپنے رب کی اجازت کے بغیر دریا کی جانب جانے اور کشتی میں سوار ہونے کا ایسا کام کیا کہ جو قابل ملامت تھا اگر وہ مچھلی کے پیٹ میں بکثرت اپنے قول لاَ اِلٰہَ الاَّ انتَ سبحانَکَ انی کنٹ من الظالمینَ کے ذریعہ ذکر کرنے والے نہ ہوتے تو مچھلی کے پیٹ میں قیامت تک رہتے (یعنی) مچھلی کا پیٹ قیامت تک ان کیلئے قبر بن جاتا تو ہم نے اس کو مچھلی کے پیٹ سے زمین یعنی ساحل پر اسی دن یا تین دن یا سات دن یا بیس دن یا چالیس دن بعد ڈالدیا اور وہ مضمحل تھے جیسا کہ بےبال ویر کا چوزا ہوتا ہے اور ہم نے ان پر (سایہ کیلئے) ایک بیلدار درخت بھی اگادیا تھا، اور وہ کدو کا درخت تھا جو ان پر سایہ فگن تھا، وہ بیل ان کے معجزے کے طور پر عام بیلوں کے برخلاف تنے دار تھی اور ان کے پاس صبح و شام ایک پہاڑی بکری آتی تھی (یونس علیہ السلام) اس کا دودھ پیتے تھے تاآنکہ آپ قوی ہوگئے، اور ہم نے ان کو اس (واقعہ) کے بعد پہلے کے مانند علاقہ موصل میں نینوا کے لوگوں کی طرف رسول بنا کر ایک لاکھ بلکہ بیس ہزار یا تیس ہزار سے زیادہ کی طرف بھیجا پھر وہ لوگ اس عذاب کو دیکھ کر جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا ایمان لے آئے تھے، تو ہم نے ان کو ان کے ان اسباب راحت سے جو ان کو حاصل تھے نفع حاصل کرنے کیلئے ایک مدت یعنی مدت عمر ختم ہونے تک زندہ رکھا آپ ان کفار مکہ سے توبیخاً دریافت کیجئے کیا آپ نے رب کیلئے بیٹیاں ہیں ؟ (یہ بات) ان کے اس قول کی بناء پر (لازم آتی) ہے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں اور (خود) ان کیلئے بیٹے ہیں ؟ یعنی ان کے لئے بیٹے خاص کر دئیے گئے ہیں، یا جب ہم نے فرشتوں کو مؤنث پیدا کیا تھا تو یہ ہماری تخلیق کا مشاہدہ کر رہے تھے ؟ جس کی وجہ سے یہ ایسی بات کرتے ہیں خوب سن لو یہ بہتان تراشی کر رہے ہیں کہ اللہ کی اولاد ہے یہ بات ان کے اس قول سے کہ ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں (لازم آرہی ہے) اور بلاشبہ اسمیں جھوٹے ہیں کیا اللہ نے بیٹیوں کو بیٹوں کے مقابلہ میں پسند کیا ہے ؟ (اصطفیٰ ) ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ استفہام کیلئے اس ہمزۂ استفہام کی وجہ سے ہمزۂ وصل سے استغناء ہوگیا جس کی وجہ سے (ہمزۂ استفہام) کو حذف کردیا گیا، اور (اصطفیٰ ) بمعنی اختیار ہے تم کو کیا ہوگیا ؟ کہ تم یہ کس قدر فاسد حکم لگاتے ہو پھر کیا تم اس بات کو نہیں سمجھتے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ اولاد سے پاک ہے (تذکَّرون) میں تاء کو ذال میں ادغام کرکے کیا تمہارے پاس (اس بات پر) کوئی واضح دلیل ہے کہ اللہ کے اولاد ہے ؟ (تو جاؤ) اپنی کتاب تورات لے آؤ اور اس میں مجھے یہ بات دکھاؤ (کہ اللہ کیلئے ولد ہے) اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو اور مشرکین نے اللہ تعالیٰ اور جنات یعنی ملائکہ کے درمیان یہ کہہ کر رشتہ داری ثابت کی کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں، فرشتوں کو جنات اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ بھی (جنوں کے مانند) نظروں سے پوشیدہ رہتے ہیں، حالانکہ جنات کا خود یہ عقیدہ ہے کہ وہ یعنی جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں وہ نار جہنم میں حاضر کئے جائیں گے (اور) اس میں عذاب دئیے جائیں گے، اللہ تعالیٰ ان تمام (صفات نقص) سے پاک ہے، جو یہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کی اولاد ہے، مگر اللہ کے مخلص بندے یعنی مومنین، المؤمنین مستثنیٰ منقطع ہے یعنی مومنین اس کی ان ناقص صفات سے پاکی بیان کرتے ہیں جن کو یہ اس کیلئے ثابت کرتے ہیں یقین مانو کہ تم سب مع ان بتوں کے جن کی تم بندگی کرتے ہو خدا سے کسی کو برگشتہ نہیں کرسکتے اور علیہ، اللہ کا قول فاتنین سے متعلق (مقدم) ہے، بجز اس کے جو علم الٰہی میں واصل بجہنم ہونے والے ہیں، حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے آپ ﷺ سے فرمایا : ہم فرشتوں کی جماعت میں سے ہر ایک کا آسمانوں میں مقام متعین ہے اسی جگہ اللہ تعالیٰ کی بندگی کرتا ہے اس سے تجاوز نہیں کرتا اور ہم تو قدم سے قدم ملا کر نماز میں صف بستہ کھڑے ہیں اور ہم تو (اس کی) ان صفات سے پاکی بیان کرتے ہیں جو اس کی شایان شان نہیں ہیں اور یہ لوگ یعنی کافر کہا کرتے تھے اگر ہمارے پاس (بھی) امم سابقہ کی کتابوں میں کوئی کتاب ہوتی تو ہم بھی عبادت میں اللہ کے مخلص بندوں میں سے ہوتے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا پھر وہ اس کتاب (یعنی) قرآن کا جو آسمانی کتابوں میں اشرف ہے، ان کے پاس آئی انکار کر بیٹھے ان کو عنقریب اپنے کفر کا انجام معلوم ہوجائے گا اور البتہ ہمارا رسولوں سے مدد کا وعدہ بہت پہلے صادر ہوچکا ہے اور وہ وعدہ یہ ہے کہ میں اور میرے رسول ضرور غالب رہیں گے، یا وہ نصرت کا وعدہ اللہ تعالیٰ کا قول انَّھُمْ المنصُورُوْنَ (الآیۃ) ہے، کہ یقیناً ان ہی کی مدد کی جائے گی اور یقیناً ہمارا لشکر یعنی مومنین کفار پر حجت اور نصرت سے دنیا میں غالب رہیں گے، اور اگر ان میں سے بعض دنیا میں منصور نہ ہوئے تو آخرت میں (ضرور) ہوں گے آپ کفار مکہ سے کچھ وقت تک کہ جس میں آپ کو جہاد کی اجازت دی جائے تو کہ ہٹا لیجئے اور ان کو دیکھتے رہئے کہ ان پر عذاب کب نازل ہوتا ہے ؟ وہ بھی اپنے کفر کے انجام کو عنقریب دیکھ لیں گے تو انہوں نے استہزاء کہا یہ عذاب کب نازل ہوگا ؟ اللہ تعالیٰ نے ان کو دھمکانے کے طور پر فرمایا کیا یہ ہمارے عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں ؟ (سنو) جب عذاب ان کے صحن میں (یعنی ان پر) نازل ہوگا، فراء نے کہا ہے کہ عرب، قوم کے بجائے، ساحَۃ کے ذکر پر کفایت کرتے ہیں (یعنی ساحۃ بول کر قوم مراد لیتے ہیں) تو اس وقت ان لوگوں کی جن کو ڈرایا جا چکا تھا بری صبح ہوگی اس میں اسم ضمیر کی جگہ اسم ظاہر لایا گیا ہے، آپ کچھ وقت ان کا خیال چھوڑ دیجئے، اور دیکھتے رہئے یہ بھی عنقریب دیکھ لیں گے، کافروں کی تہدید اور آپ کی تسلی کیلئے اس جملہ کو مکرر لایا گیا ہے، آپ کا رب جو بہت بڑی عزت غلبہ والا ہے ان باتوں سے جو یہ کہتے ہیں مثلاً یہ کہ اسکی اولاد ہے پاک ہے اللہ کی توحید اور احکام کے پہنچانے والے رسولوں پر سلام ہو، رسولوں کی نصرت اور کافروں کی ہلاکت پر تمام تعریفوں کا مستحق اللہ رب العالمین ہے
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : انَّ یُوْنُس لمن المرسلین یونس ابن متّٰی تاء کی تشدید کے ساتھ بتثلیث النون، متّٰی یونس (علیہ السلام) کے والد کا نام ہے اور کہا گیا ہے کہ ان کی والدہ کا نام ہے، اور کشف الاسرار میں ہے کہ ان کے والد کا نام متّٰی ہے اور ان کی والدہ کا نام تنجیس ہے، حضرت یونس (علیہ السلام) حضرت ہود (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں، ” ذوالنون “ اور ” صاحب الحوت “ بھی آپ کا ہی لقب ہے۔
قولہ : اذ ابق ماضی واحد مذکر غائب اپنے مولا سے بھاگا (س ض ن) اِلاِ باق غلام کا آقا سے بھاگنا، حضرت یونس (علیہ السلام) چونکہ اللہ تعالیٰ جو کہ مولائے حقیقی ہے کہ اجازت کے بغیر قوم کو چھوڑ کر چلے ائے تھے، اس لئے ان کو مجازاً آبق کہا گیا ہے اِذْ اَبَقَ اُذکر فعل محذوف کا ظرف ہے۔
قولہ : حین غاضَبَ قومہٗ ای غضب قومہٗ ، غَاضَبَ اپنے معنی میں نہیں ہے اسلئے کہ مفاعلۃ کی خاصیت طرفین سے فعل کا تقاضا کرتی ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ غاضب اپنے باب پر ہو، اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ حضرت یونس (علیہ السلام) اور ان کی قوم دونوں آپس میں ایک دوسرے پر غصہ ہوئے۔ قولہ : ساھَمَ ، مُساھَمَۃً سے قرعہ اندازی کی۔
قولہ : المدحَضِیْنَ ، ادحَاضٌ (افعال) سے اسم مفعول، مغلوب ہونے والا، قرعہ اندازی میں ہارنے والا۔ (لغات القرآن)
قولہ : مُلِیْمٗ یہ التقمہٗ کی ضمیر مفعولی سے حال ہے۔ قولہ : مُلیمٌ اسم فاعل واحد مذکر غائب مصدر الامَۃٌ (افعال) مستحق ملامت، ایسا کام کرنے والا جس پر ملامت کی جائے، او ھو ملیم نفسہ۔
قولہ : کثیراً اس کا تعلق کان سے ہے (جمل) اور لا الٰہَ الاَّ انتَ الآیۃ یہ قول کا مقولہ ہے اور کثرت کے معنی باب تفعیل سے مستفاد ہیں۔ قولہ : بالعراء ای فی العراء، العراء المکانُ الخالی عَنِ النِبَاء والنبات والاشجارِ (چٹیل میدان) ۔
قولہ : کالفرخ الممعط بضم المیم الاولیٰ وتشدید الثانیۃ پر اکھڑا ہوا چوزہ، ممَّعَطْ اصل میں مُنْمَعَط تھا (انفعال) نون کو میم میں مدغم کردیا معط وامتعط ای سَقَطَ شعرہٗ من الداء ونحوہٖ ۔ (جمل)
قولہ : وَعِلَۃً پہاڑی بکری (ج) وعلات۔ قولہ : التوراۃ صحیح بات یہ ہے کہ یہاں تورات کہنے کی ضرورت نہیں ہے، اس لئے کہ مخاطب مشرکین ہیں اور وہ اہل کتاب نہیں ہیں۔
قولہ : ان کنتم صادقین، یہ جملہ شرطیہ ہے ماقبل کی دلالت کی وجہ سے جواب شرط محذوف ہے ای قالُوْا۔
قولہ : لَقَدْ علمت الجنَّۃُ انَّھُم لمحضرون واؤ حالیہ ہے، قد حرف تحقیق لام جواب قسم کا ہے اِنَّھُمْ لمحضرونَ انَّ اپنے اسم و خبر سے مل کر علمت کے دو مفعولوں کے قائم مقام ہے انَّ کی خبر پر لام داخل ہونے کی وجہ سے اِنَّ کے ہمزہ کو کسری دیدیا گیا ہے، ورنہ تو أنَّ ہونا چاہیے۔ قولہ : الا عباد اللہ المخلصین، محضرون سے مستثنیٰ منقطع ہے یعنی نیک بندے گرفتار شدگان میں نہیں ہیں، مستثنیٰ منہ، یا تو جَعَلُوْا کا فاعل ہے یا تصفُونَ کا فاعل ہے یا محضرون کی ضمیر ہے الاَّ عبَادَ اللہ المخلصینَ مستثنیٰ متصل بھی ہوسکتا ہے، جبکہ مُحّضَرُونَ سے مستثنیٰ ہو ای اِنَّھُم یحضرون النار الاَّ من اخلص اس صورت میں جملہ تسبیح جملہ معترضہ ہوگا۔ (فتح القدیر شوکانی)
قولہ : بفاتنین اسم فاعل جمع مذکر با زائدہ ہے مصدر فتنۃٌ ہے اس کا مفعول احدًا محذوف ہے جیسا کہ مفسر علام نے اشارہ کردیا ہے تم کسی کو (خدا) سے برگشتہ نہیں کرسکتے، گمراہ نہیں کرسکتے۔
قولہ : صالِ اسم فاعل داخل ہونے والا پہنچنے والا، اصل میں صَالِیٌ تھا، آخر سے یا حذف ہوگئی۔
قولہ : العِبَادَۃَ لہٗ مفسر علام نے مخلصین کے مفعول العبادۃ کو ظاہر کردیا ہے، مگر مفعول کی تقدیر اس صورت میں درست ہوگی کہ جب مخلصین کا لام کے کسرہ کے ساتھ پڑھیں جیسا کہ مدنی اور کوفی کے علاوہ کی قراءت ہے۔
قولہ : وفیہِ اقامۃُ الظاھر مقام المضمر زیادتی تقبیح کیلئے ضمیر کے بجائے اسم طاہر لائے ہیں، اصل میں فَس۔ اءَ صَبَاحھُم تھا، اور صباح سے مراد یوم یا وقت ہے۔
تفسیر و تشریح
وان یونس لمن المرسلین، یہ اس سورت کا آخری قصہ ہے، یہ واقعہ پہلے بی متعدد مقامات پر گزر چکا ہے، تفصیل کی چنداں ضرورت نہیں، خلاصہ یہ ہے کہ بعض مفسرین نے اس پر بحث کی ہے کہ حضرت یونس (علیہ السلام) مچھلی کے واقعہ سے پہلے ہی نبی بنا دئیے گئے تھے یا بعد میں نبی بنائے گئے، لیکن قرآن کریم کے ظاہری اسلوب سے معلوم ہوتا ہے کہ مچھلی کے واقعہ سے پہلے ہی آپ کو نبی بنادیا گیا تھا، اور بیشتر روایات سے بھی یہی راجح معلوم ہوتا ہے، اَبَقَ اِبَاقٌ سے مشتق ہے، اس کے معنی ہیں غلام کا اپنے آقا سے بھاگ جانا، یہاں یہ لفظ حضرت یونس (علیہ السلام) کیلئے صرف اس لئے استعمال ہوا ہے کہ آپ اپنے پروردگار کی طرف سے بذریعہ وحی اجازت سے پہلے روانہ ہوگئے تھے، انبیاء (علیہم السلام) چونکہ مقرب بندے ہوتے ہیں، ان کی معمولی سی لغزش بھی گرفت کا سبب بن جاتی ہی، مقولہ مشہور ہے، حسناتُ الابرارِ سیّئاتُ المقربینَ شیخ سعدی (رح) تعالیٰ نے فرمایا ہے : ؎
مقرباں را بیش بود حیرانی
حضرت یونس (علیہ السلام) عراق کے علاوہ نینویٰ (موضودہ موصل) میں نبی بنا کر بھیجے گئے تھے، یہ آشور یوں کا پایہ تخت تھا، انہوں نے ایک لاکھ اسرائیلیوں کو قیدی بنا رکھا تھا، چناچہ ان کی ہدایت و رہنمائی کیلئے یونس (علیہم السلام) کو بھیجا گیا، لیکن یہ قوم آپ پر ایمان نہیں لائی، بالآخر آپ نے اپنی قوم کو ڈرایا کہ عنقریب تم عذاب الٰہی کی گرفت میں آجاؤ گے، جب عذاب میں تاخیر ہوئی تو اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر ہی اپنے طور پر نکل گئے، اور سمندر پر جاکر ایک کشتی میں سوار ہوگئے، کشتی بیچ منجدھار میں خلاف عادت بلا سبب ظاہری کے رک گئی اور ڈگمگانے لگی، ملاحوں نے کہا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ ایسی صورت اسی وقت پیش آتی ہے جب کشتی میں اپنے آقا سے مفرور کوئی غلام ہوتا ہے، لہٰذا اگر کشتی میں کوئی ایسا شخص ہے تو بتادے تاکہ کشتی میں سوار دیگر لوگوں کی جان بچ جائے ورنہ تو تمام کشتی والے غرق ہوجائیں گے، ازخود جب کوئی تیار نہ ہوا تو قرعہ اندازی کی گئی اور تین بار کی گئی ہر بار حضرت یونس (علیہ السلام) ہی کے نام قرعہ نکلا آخر کار مجبور ہو کر ان کو دریا میں ڈال دیا گیا، مگر قرآنی الفاظ اور سیاق وسباق سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ کشتی میں گنجائش سے زیادہ وزن ہوجانے کی وجہ سے کشتی کا توازن بگڑ گیا تھا، جس کی وجہ سے کشتی کے ڈوبنے کا خطرہ پیدا ہوگیا، وزن کم کرنے کیلئے کسی کو بھی دریا میں ڈالنے کی تجویز سامنے آئی تو قرین قیاس یہ بات تھی کہ جو شخص بعد میں آیا ہے اسی کو کم کردیا جائے ابق الی الفلک المشحون سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یونس (علیہ السلام) ہی بعد میں آئے تھے، لہٰذا مناسب یہی معلوم ہوا ہوگا کہ یونس (علیہ السلام) ہی کو دریا میں ڈال دیا جائے مگر چونکہ حضرت یونس (علیہ السلام) شکل و صورت سے بھلے اور نیک معلوم ہوتے تھے اس لئے ہمت نہیں ہو رہی تھی اور ممکن ہے کہ کچھ ان کو جانتے بھی ہوں چناچہ عبد اللہ بن مسعود کی روایت سے معلوم ہوتا ہے، فرماتے ہیں انَّہٗ اتی قومًا فی سفینۃ فحملوہ وعرفوہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کشتی میں گنجائش نہ ہونے کے باوجود پاس لحاظ کی خاطر حضرت یونس (علیہ السلام) کو کشتی میں سوار کرلیا، چناچہ جب یونس (علیہ السلام) کشتی پر سوار ہوگئے تو جب منجدھار میں پہنچی تو موجوں میں گھر کر کھڑی ہوگئی اور ڈگمگانے لگی، حضرت یونس (علیہ السلام) نے دریافت کیا کہ کشتی اس طرح کیوں ہو رہی ہے تو ملاحوں نے جواب دیا کہ نہ معلوم ایسا کیوں ہو رہا ہے، تب حضرت یونس (علیہ السلام) نے فرمایا مجھے معلوم ہے یہ کشتی اس طرح کیوں کر رہی ہے، وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ کشتی میں اپنے مالک سے بھاگا ہوا غلام ہے، جس کی نحوست سے یہ صورت حال پیدا ہوئی ہے، اور واللہ جب تک اس کو دریا میں نہ ڈالو گے کسی طرح چلے گی نہیں، اہل کشتی نے کہا اے نبی اللہ آپ کو تو ہم دریا میں نہیں ڈال سکتے، تب آپ نے فرمایا قرعہ اندازی کرلو جسکے نام قرعہ نکلے اسکو ڈالدو، چناچہ قرعہ ڈالا گیا، حضرت یونس (علیہ السلام) کے نام کلا احتیاطاً تین مرتبہ قرعہ ڈالا گیا ہر بار یونس (علیہ السلام) ہی کے نام نکلا، لہٰذا حضرت یونس (علیہ السلام) نے خود اپنے کو دریا میں ڈال دیا، (روح المعانی ملخصاً ) ادھر واقعہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک مچھلی کو حکم دیا کہ وہ یونس (علیہ السلام) کو اپنے پیٹ میں بحفاظت رکھ لے، وہ اسکی خوراک نہیں ہیں، آپ مچھلی کے پیٹ میں کتنے دن رہے، اس میں مفسرین کے اقوال مختلف ہیں : سدی، کلبی، مقاتل بن سلیمان نے کہا ہے کہ چالیس روز رہے، ضحاک نے کہا ہے بیس روز رہے، اور عطاء نے کہا ہے سات روز رہے، اور مقاتل بن حیان نے کہا ہے تین دن رہے۔
فنبَذْناہُ بالعراءِ وھُوَ سَقِیْم ” عراء “ بےآب وگیاہ چٹیل میدان کو کہتے ہیں، ہم نے ان کو چٹیل میدان میں مضمحل حالت میں ڈال دیا، بعض حضرات کو یہ شبہ ہوا کہ اس آیت میں اور دوسری آیت لَوْ لآ ان تدارکَہٗ نعمۃٌ من ربہ لنبذ بالعراء وھو مذمومٌ یہ آیت چٹیل میدان میں نہ ڈالنے پر اور پہلی آیت ڈالنے پر دلالت کرتی ہے، نحاس وغیرہ نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں اس بات کی خبر دی ہے کہ حضرت یونس (علیہ السلام) کو میدان میں ڈال دیا، حال یہ ہے کہ وہ مذموم نہیں تھے، اور دوسری آیت میں یہ کہا گیا ہے کہ اگر اللہ کی رحمت نہ ہوتی تو حالت مذمومہ میں ڈالے جاتے لہٰذا اب کوئی تعارض نہیں ہے۔ (فتح القدیر شوکانی)
قرعہ اندازی کا حکم : قرعہ اندازی کوئی حجت شرعیہ نہیں ہے، قرعہ اندازی کے ذریعہ نہ کسی کا حق ثابت کیا جاسکتا ہے اور نہ کسی کو حق سے محروم کیا جاسکتا ہے، مثلاً یہ کہ قرعہ اندازی کسی کو چور ثابت کیا جائے، یا مثلاً دو فریقوں کے درمیان ملکیت کا جھگڑا ہو تو اس کا فیصلہ بھی ہو اور وہ جس طریقہ کو اپنے اختیار سے متعین کرنا چاہے تو کرسکے، ایسی صورت میں اگر قرعہ اندازی کے ذریعہ کسی ایک صورت کو ترجیح دینا چاہیے تو اس کو اختیار ہے مثلاً اگر کسی کی ایک سے زائد بیویاں ہوں اس کو شرعی اختیار حاصل ہے کہ وہ جس بیوی کو چاہے سفر میں ساتھ لیجائے، البتہ اگر قرعہ اندازی سے متعین کرے تو بہتر و افضل ہے تاکہ شکایت کا موقع نہ ہو، آپ ﷺ کی بھی یہی عادت مبارکہ تھی۔
حضرت یونس (علیہ السلام) کے واقعہ میں بھی قرعہ اندازی سے کسی کو مجرم ثابت کرنا مقصود نہیں تھا، بلکہ پوری کشتی کو بچانے کے لئے کسی کو بھی دریا میں ڈالا جاسکتا تھا، قرعہ کے ذریعہ اس کی تعیین کی گئی۔ (معارف)
فلولا انَّہٗ کانَ من المسبِّحیْنَ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مصائب و آلام کو دفع کعنے میں تسبیح و استغفار کو خاص اہمیت حاصل ہے، سورة انبیاء میں یہ گزر چکا ہے کہ جب حضرت یونس (علیہ السلام) مچھلی کے پیٹ میں تھے تو یہ کلمہ خاص طور پر پڑھتے تھے، لآ اِلٰہَ الاَّ انتَ سُبْحَانَکَ اِنِّیْ کُنْتُ من الظَّالمینَ اللہ تعالیٰ نے اسی کلمہ کی برکت سے انہیں آزمائش سے نجات دی۔
ابو داؤد میں حضرت سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : حضرت یونس (علیہ السلام) نے جو دعاء مچھلی کے پیٹ میں کی تھی یعنی لا الٰہَ الاَّ انتَ سُبْحَانَکَ اِنّیْ کُنْتُ من الظَّالِمِینَ اسے جو مسلمان بھی کسی مقصد کے لئے پڑھے گا اس کی دعاء قبول ہوگی۔ (قرطبی)
فَاٰمَنُوْا فَمَتَّعنھم الیٰ حین یعنی جب وہ ایمان لے آئے تو ہم نے ان کو ایک زمانہ تک عیش و آرام دیا یعنی جب تک وہ دوبارہ کفر کے مرتکب نہ ہوگئے، اس وقت تک ہم نے ان کو خوش عیش اور خوشحال رکھا۔
فاتوا۔۔۔ صدقین، مطلب یہ ہے کہ عقل تو اس عقیدے کی صحت کو تسلیم نہیں کرتی کہ اللہ کی اولاد ہے، اور وہ بھی مؤنث (لاؤ) کوئی نقلی دلیل ہی دکھا دو یعنی کوئی کتاب جو اللہ نے اتاری ہو، اس میں اللہ کی اولاد کا اعتراف یا حوالہ ہو، قریش اور بعض قبائل عرب کا یہ عقیدہ تھا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں، ان کا خیال تھا کہ اللہ تعالیٰ نے جنات سے رشتہ ازدواج قائم کیا، جس سے لڑکیاں پیدا ہوئیں، یہی بنات اللہ فرشتے ہیں، حالانکہ ایسی بات نہیں ہے اور اس بات کو جنات بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ انہیں سزا بھگتنے
کیلئے ضرور جہنم میں جانا پڑے گا، اگر اللہ تعالیٰ اور جنوں کے درمیان رشتہ داری ہوتی تو یہ صورت حال نہ ہوتی۔
سبحن اللہ عما یصفون یہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کے بارے میں صفات نقص بیان کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ ان سے بالکل پاک اور بری ہے، اللہ کے مخلص بندے اللہ کے بارے میں ایسی باتیں نہیں کرتے، یہ مشرکین ہی کا شیوہ ہے کہ اللہ کی شان میں گستاخیاں کرتے ہیں (یا مطلب یہ ہے) کہ جہنم میں جنات اور مشرکین ہی حاضر کئے جائیں گے، اللہ کے برگزیدہ بندے نہیں، ان کیلئے تو اللہ نے جنت تیار کر رکھی ہے، اس صورت میں لمحضرون سے استثناء ہے اور تسبیح جملہ معترضہ ہے۔
لو انَّ عند نا ذکرًا من الاولین، یعنی یہ کفار نزول قرآن سے پہلے کہا کرتے تھے کہ ہمارے پاس بھی اگر کوئی آسمانی کتاب ہوتی جیسا کہ پہلے لوگوں کیلئے تورات وغیرہ نازل ہوئی تھیں یا کوئی ہادی و منذر ہمیں وعظ و نصیحت کرنے والا ہوتا تو ہم بھی اس کے خالص بندے بن جاتے، مگر جب ان کی آرزو اور تمنا کے مطابق رسول اللہ ﷺ ہادی و رہبر بن کر آئے اور قرآن بھی نازل کردیا گیا، تو ان پر ایمان لانے کی بجائے ان کا انکار کردیا۔
فاذا نزل۔۔۔۔ المنذرین فرّاء نے کہا ہے کہ عرب ” لفظ قوم “ کے بجائے سَاحۃٌ کا لفظ استعمال کرتے ہیں، چناچہ مسلمان جب خیبر پر حملہ آور ہوئے تو یہودی مسلمانوں کو دیکھ کر گھبراگئے، تو رسول اللہ ﷺ نے اللہ اکبر کہہ کر فرمایا : خَرِبت خبیرُ انَّا اِذَا نزلنَ ابسَاحَۃِ قومٍ فساءَ صباحُ المُنذَرینَ ۔ (صحیح بخاری کتاب الصلوٰۃ)