37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 37:22–50

اُحْشُرُوا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا وَ اَزْوَاجَهُمْ وَ مَا كَانُوْا یَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 37:22 in the Quran reader

جو لوگ ظلم کرتے تھے ان کو اور ان کے ہم جنسوں کو اور جن کو وہ پوجا کرتے تھے (سب کو) جمع کرلو

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَاهْدُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطِ الْجَحِیْمِ Open ayah 37:23 in the Quran reader

(یعنی جن کو) خدا کے سوا (پوجا کرتے تھے) پھر ان کو جہنم کے راستے پر چلا دو

وَ قِفُوْهُمْ اِنَّهُمْ مَّسْئُوْلُوْنَۙ Open ayah 37:24 in the Quran reader

اور ان کو ٹھہرائے رکھو کہ ان سے (کچھ) پوچھنا ہے

مَا لَكُمْ لَا تَنَاصَرُوْنَ Open ayah 37:25 in the Quran reader

تم کو کیا ہوا کہ ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے

بَلْ هُمُ الْیَوْمَ مُسْتَسْلِمُوْنَ Open ayah 37:26 in the Quran reader

بلکہ آج تو وہ فرماں بردار ہیں

وَ اَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 37:27 in the Quran reader

اور ایک دوسرے کی طرف رخ کر کے سوال (وجواب) کریں گے

قَالُوْۤا اِنَّكُمْ كُنْتُمْ تَاْتُوْنَنَا عَنِ الْیَمِیْنِ Open ayah 37:28 in the Quran reader

کیا تمہارے پاس دائیں (اور بائیں) سے آتے تھے ؟

قَالُوْا بَلْ لَّمْ تَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 37:29 in the Quran reader

وہ کہیں گے بلکہ تم ہی ایمان لانے والے نہ تھے

وَ مَا كَانَ لَنَا عَلَیْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ١ۚ بَلْ كُنْتُمْ قَوْمًا طٰغِیْنَ Open ayah 37:30 in the Quran reader

اور ہمارا تم پر کچھ زور نہ تھا بلکہ تم سرکش لوگ تھے

فَحَقَّ عَلَیْنَا قَوْلُ رَبِّنَاۤ١ۖۗ اِنَّا لَذَآئِقُوْنَ Open ayah 37:31 in the Quran reader

سو ہمارے بارے میں ہمارے پروردگار کی بات پوری ہوگئی اب ہم مزے چکھیں گے

فَاَغْوَیْنٰكُمْ اِنَّا كُنَّا غٰوِیْنَ Open ayah 37:32 in the Quran reader

ہم نے تم کو بھی گمراہ کیا (اور) ہم خود بھی گمراہ تھے

فَاِنَّهُمْ یَوْمَئِذٍ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ Open ayah 37:33 in the Quran reader

پس وہ اس روز عذاب میں ایک دوسرے کے شریک ہوں گے

اِنَّا كَذٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 37:34 in the Quran reader

ہم گنہگاروں کے ساتھ ایسا ہی کیا کرتے ہیں

اِنَّهُمْ كَانُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ١ۙ یَسْتَكْبِرُوْنَۙ Open ayah 37:35 in the Quran reader

ان کا یہ حال تھا کہ جب ان سے کہا جاتا تھا کہ خدا کے کوئی معبود نہیں تو غرور کرتے تھے

وَ یَقُوْلُوْنَ اَئِنَّا لَتَارِكُوْۤا اٰلِهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُوْنٍؕ Open ayah 37:36 in the Quran reader

اور کہتے تھے کہ بھلا ہم ایک دیوانے شاعر کے کہنے سے کہیں اپنے معبودوں کو چھوڑ دینے والے ہیں ؟

بَلْ جَآءَ بِالْحَقِّ وَ صَدَّقَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 37:37 in the Quran reader

(نہیں) بلکہ وہ حق لے کر آئے ہیں اور (پہلے) پیغمبروں کو سچا کہتے ہیں

اِنَّكُمْ لَذَآئِقُوا الْعَذَابِ الْاَلِیْمِۚ Open ayah 37:38 in the Quran reader

بیشک تم تکلیف دینے والے عذاب کا مزہ چکھنے والے ہو

وَ مَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۙ Open ayah 37:39 in the Quran reader

اور تم کو بدلہ ویسا ہی ملے گا جیسے تم کام کرتے تھے

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:40 in the Quran reader

مگر جو خدا کے بندگان خاص ہیں

اُولٰٓئِكَ لَهُمْ رِزْقٌ مَّعْلُوْمٌۙ Open ayah 37:41 in the Quran reader

یہ لوگ ہیں جن کے لئے روزی مقرر ہے

فَوَاكِهُ١ۚ وَ هُمْ مُّكْرَمُوْنَۙ Open ayah 37:42 in the Quran reader

(یعنی) میوے اور ان کا اعزاز کیا جائے گا

فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِۙ Open ayah 37:43 in the Quran reader

نعمت کے باغوں میں

عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ Open ayah 37:44 in the Quran reader

ایک دوسرے کے سامنے تختوں پر (بیٹھے ہوں گے)

یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِكَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍۭۙ Open ayah 37:45 in the Quran reader

شراب لطیف کے جام کا ان میں دور چل رہا ہوگا

بَیْضَآءَ لَذَّةٍ لِّلشّٰرِبِیْنَۚۖ Open ayah 37:46 in the Quran reader

جو رنگ کی سفید اور پینے والوں کے لئے (سراسر) لذت ہوگی

لَا فِیْهَا غَوْلٌ وَّ لَا هُمْ عَنْهَا یُنْزَفُوْنَ Open ayah 37:47 in the Quran reader

نہ اس سے دردسر ہو اور نہ وہ اس سے متوالے ہوں گے

وَ عِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ عِیْنٌۙ Open ayah 37:48 in the Quran reader

اور ان کے پاس عورتیں ہوں گی جو نگاہیں نیچی رکھتی ہوں گی اور آنکھیں بڑی بڑی

كَاَنَّهُنَّ بَیْضٌ مَّكْنُوْنٌ Open ayah 37:49 in the Quran reader

گویا وہ محفوظ انڈے ہیں

فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 37:50 in the Quran reader

پھر وہ ایک دوسرے کی طرف رخ کرکے سوال (وجواب) کریں گے

آیت نمبر 22 تا 50 ترجمہ : اور فرشتوں سے کہا جائے گا ان لوگوں کو جنہوں نے شرک کرکے اپنے اوپر ظلم کیا اور ان کے شیطانی رفیقوں کو اور ان کے معبودوں کو جن کی وہ خدا کے علاوہ بندگی کیا کرتے تھے کہ وہ بت ہیں جمع کرلو اور ان کو جہنم کا راستہ دکھلا دو اور گھسیٹ کرلے جاؤ اور ان کی صراط کے پاس ٹھہراؤ ان سے ان کے تمام اقوال و افعال کے بارے میں سوال کرنا ہے اور ان سے توبیخاً کہا جائے گا تم کو کیا ہوا کہ ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے ؟ جیسا کہ دنیا میں تمہارا طریقہ تھا، اور ان (کی حالت کے بارے میں) کہا جائے گا بلکہ وہ آج سرنگوں ذلیل ہوں گے اور وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر ایک دوسرے کو ملامت اور الزام تراشی کریں گے ان میں سے تابعین مبتوعین سے کہیں گے تم ہمارے پاس حلفیہ طریقہ سے آتے تھے ہم تمہاری اس قسم کی وجہ سے کہ تم حق پر ہو تمہارا یقین کرلیتے تھے، اور تمہاری اتباع کرلیتے تھے، مطلب یہ ہے کہ تم ہی نے ہم کو گمراہ کیا تھا، متبوعین ان سے کہیں گے نہیں بلکہ (حقیقت) یہ ہے کہ تم خود ہی مومن نہیں تھے، ہماری طرف سے گمراہ کرنا اس وقت صادق آتا کہ تم مومن ہوتے پھر ایمان سے پھرجاتے اور ہمارا تم پر کوئی زور اور قدرت تو تھی نہیں کہ ہم تم کو اپنی اتباع پر مجبور کرتے بلکہ تم خود ہی ہمارے مانند گمراہ لوگ تھے تو ہم سب پر ہمارے رب کے عذاب کی وعید (یعنی) لاملأن جھنم من الجنۃ والناس اجمعین ثابت ہوگئی، (اب) ہم سب کو اس وعید کے مطابق عذاب کا مزا چکھنا ہے اور قول رب (یعنی وعید مذکور) سے ان کا قول فاغوینا کُم ثابت ہوگیا، یعنی ہمارا تم کو (قضاء و قدر) کی وجہ سے گمراہ کرنا ثابت ہوگیا (لہٰذا ہمارے تم کو گمراہ کرنے کی وجہ سے ہم پر تم کو غصہ نہ ہونا چاہیے) فاغویناکم یہ معلول ہے ان کے قول انَا کُنَّا غاوینَ کا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ وہ سب تابعین اور متبوعین قیامت کے دن عذاب میں شریک ہوں گے، ان کے گمراہی میں مشترک ہونے کی وجہ سے ہم جیسا کہ ان کے ساتھ کر رہے ہیں ان کے علاوہ ہر مجرم کے ساتھ ایسا ہی کیا کرتے ہیں، یعنی تابع اور متبوع کو عذاب دیتے ہیں وہ یعنی مابعد کے قرینہ سے یہی لوگ (مراد ہیں) جب ان سے کہا جاتا ہے کہ لا الٰہ الا اللہ کہو تو یہ لوگ تکبر کرتے تھے، اور کہتے تھے کہ بھلا ہم ایک شاعر مجنون کے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں ؟ یعنی محمد ﷺ کے کہنے سے، بات ایسی نہیں، بلکہ سچ تو یہ ہے کہ وہ حق لے کر آیا ہے اور حق لانے والا رسولوں کی تصدیق کرتا ہے اور حق لا الٰہ الا اللہ ہے یقیناً تم دردناک عذاب کا مزا چکھنے والے ہو، اس میں (غیبت سے خطاب کی طرف) التفات ہے تمہیں اسی کا بدلہ ملے گا جو تم کیا کرتے تھے، مگر اللہ کے مخلص بندے یعنی مومنین یہ مستثنیٰ منقطع ہے، ان کئ جزاء اللہ تعالیٰ کے قول اولئک لھم رزقٌ معلومٌ (الآیۃ) میں ذکر کی گئی ہے یہی ہیں وہ لوگ جن کا رزق جو کہ میوے ہیں جنت میں وقت مقررہ پر (پابندی سے) صبح و شام ملے گا فواکہٌ، رزقٌ سے بدل ہے، یا عطف بیان ہے فواکہٌ ان پھلوں اور میووں کو کہا جاتا ہے جو تلذذ کے طور پر کھائے جاتے ہیں نہ کہ بقاء صحت کے لئے، اس لئے کہ جنتی بقائے صحت سے مستغنی ہوں گے، اس لئے کہ ان کے اجسام کی تخلیق ابدالآباد کے لئے ہوگی، اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے نعمتوں والی جنت میں ان کا اکرام کیا جائے گا حال یہ ہے کہ تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے کوئی کسی کی گدی (پشت) کو نہ دیکھے گا اور ان میں سے ہر ایک پر بہتی ہوئی صاف شراب کے جام کا در چلایا جائے گا، کأس اس جام کو کہتے ہیں جس میں شراب ہو (ورنہ تو قدح کہلاتا ہے) معین وہ شراب جو سطح زمین پر پانی کے مانند جاری ہو وہ دودھ سے بھی زیادہ سفید ہوگی پینے والوں کے لئے نہایت لذیذ ہوگی بخلاف دنیا کی شراب کے کہ وہ پینے میں بدمزہ ہوتی ہے نہ اس میں دردسر ہوگا کہ ان کی عقلوں میں فتور ڈال دے اور نہ اس کی وجہ سے بدحواس ہوں گے (ینزفُون) میں ز کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ یہ نزف الشارف انزفَ سے ماخوذ ہے، یعنی بدمست نہ ہوں گے بخلاف دنیوی شراب کے کہ (اس سے بدمستی ہوتی ہے) اور ان کے پاس نیچی نگاہوں والی (شرمیلی) یعنی وہ اپنی نظروں کو اپنے شوہروں تک محدود رکھنے والی ہوں گی، دوسروں کی طرف نظرنہ اٹھائیں گی اس لئے کہ ان کے شوہر ان کی نظر میں (سب سے زیادہ) حسین ہوں گے، بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں والی ہوں گی گویا کہ وہ رنگ میں شتر مرغ کے انڈے ہیں، جو اس کے پروں میں مستور ہیں، ان تک غبار کی رسائی نہیں ہونی اور ان کا رنگ سفید زردی آمیز ہوگا، جو کہ عورتوں کا حسین ترین رنگ سمجھا جاتا ہے جنتی ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر دنیا کی سرگزشت کے بارے میں باتیں کریں گے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : اُحشُرُوا تم جمع کرو حشرٌ سے جمع مذکر حاضر ہے (ن، ض) ۔ قولہ : انفسھم بالشرکِ ، انفسھُمْ محذوف مان کر اشارہ کردیا کہ ظَلَمُوا کا مفعول محذوف ہے اور بالشرکِ میں با سببیہ ہے یعنی انہوں نے شرک کے سبب سے اپنے اوپر ظلم کیا۔ قولہ : قِفُوھُمْ امر جمع مذکر حاضر معروف (ن، ض) وقفًا وقوفًا لازم و متعدی دونوں طرف مستعمل ہے کھڑا کرنا، کھڑا ہونا، یہاں متعدی ہے ان کو روکو۔ قولہ : تاتوننا عن الیمین، عن الیمین تاتونَنَا کی ضمیر سے حال ہے ای تأتوننا اقویاء یمین کے ایک معنی ہیں دایاں ہاتھ، مقصد اظہار قوت ہے، اس لئے کہ دائیں ہاتھ میں قوت زیادہ ہوتی ہے، دوسرے معنی ہیں قسم چونکہ متعاقدین بیع کو تام اور پختہ کرنے کیلئے اپنے دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کرتے تھے، جس طرح قسم سے بات پختہ ہوجاتی ہے، اسی طرح عرب کے عرف میں ہاتھ پر ہاتھ مارنے سے بیع تام اور پختہ ہوجاتی تھی، فقہی اصطلاح میں اس کو ” صفقہ “ کہتے ہیں، اس کے معنی تالی بجانا اس معنی کے اعتبار سے تقدیر عبارت یہ ہوگی تاتوننا حالفین۔ قولہ : یتساءلون کی تفسیر یتلاومون ویتخاصمُونَ سے کرکے اشارہ کردیا کہ یہاں تساؤل سے مراد، خیر خیریت معلوم کرنا نہیں ہے بلکہ لعنت ملامت اور الزام تراشی مراد ہے مشرکین کے بارے میں دوسری جگہ کہا گیا ہے کلما دخلت اُمَّۃٌ لعنت اختھا بخلاف جنت میں مومنین کے تساؤل کے کہ وہ شکر اور تحدیث نعمت کے طور پر ہوگا۔ قولہ : قالوا بل لم تکونوا مؤمنین الآیۃ رؤساء مشرکین نے کمزور طبقہ کے مشرکین کے الزاموں کے پانچ جواب دئیے ہیں، ان میں سے یہ پہلا ہے اور آخری فاغویناکُمْ انا کنا غاوینَ ہے، مطلب یہ ہے کہ تم کبھی بھی مومن نہیں تھے، لہٰذا تمہارے گمراہ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ہم پر گمراہ کرنے کا الزام تو اس وقت صادق آسکتا تھا کہ پہلے تم ایمان لائے ہوتے ہو ہمارے گمراہ کرنے کی وجہ سے ایمان ترک کرکے کفر کو اختیار کیا ہوتا۔ قولہ : انکم، فیہ التفاتٌ یعنی غیبت سے خطاب کی طرف التفات ہے، کانوا اذا قیل لھم میں غائب کا صیغہ استعمال ہوا ہے، اور زیادتی تقبیح کے لئے غیبت سے خطاب کی جانب التفات کیا ہے۔ قولہ : وما تجزونَ الاَّ ما کنتم تعملونَ واؤ عاطفہ ہے، ما نافیہ ہے تجزونَ مبنی للمفعول ہے، اس کے اندر ضمیر نائب فاعل ہے اِلاَّ حرف استثناء ہے اور ما مفعول بہ ثانی ہے اور اس سے پہلے مضاف محذوف ہے، ای ما تجزون الا جزاء ما کنتم تعمَلُونَ ۔ قولہ : الاَّ عبادَ اللہِ المُخْلصینَ الاَّ حرف استثناء بمعنی لکن ہے اس لئے کہ یہ استثناء منقطع ہے، عبَاد اللہ تجزونَ کی ضمیر سے مستثنیٰ ہے۔ قولہ : اولئک لھُمْ رزقٌ معلومٌ کلام مستانف ہے۔ قولہ : بکأسٍ ، کاسٌ پیالہ جبکہ اس میں شراب ہو اور خالی ہو تو اس کو قدحٌ کہے ئ ہیں، اس کی جمع اکواسٌ و کؤوسٌ آتی ہے۔ قولہ : بیضاء یہ کاسٌ کی صفت بھی ہوسکتی ہے اور خمر کی بھی اس لئے کہ یہ دونوں ہی مؤنث سماعی ہیں۔ قولہ : لذَۃٌ یا تو صفت مشبہ کا صیغہ ہے جیسا کہ صعب سھلٌ تو اس صورت میں مشتق ہوگا اور اس کی صفت بنانا ظاہر ہے اور یہ مصدر ہے تو صفت مبالغۃً ہوگی، یا پھر مضاف محذوف ہوگا، ای ذات لَذَّۃٍ ۔ قولہ : غولٌ اسم فعل ہے اور مصدر بھی مستعمل ہے، نشہ، دردسر، مستی، بگاڑ، فساد، اچانک ہلاک کردینا (ن) یعنی جنت کی شراب میں نہ بدمستی ہوگی اور نہ فساد عقل، اور نہ دردسر بخلاف دنیا کی شراب کے۔ قولہ : ینزفُونَ نزفٌ سے مضارع مجہول جمع مذکر غائب (ض) ان کی عقل میں فتور نہ آئے گا۔ قولہ : عینٌ یہ عیناء کی جمع ہے، بڑی آنکھوں والیاں۔ قولہ : بیضٌ مکنونٌ، بیضٌ بیضۃٌ کی جمع ہے لہٰذا جمع کے اعتبار سے مکنونۃٌ ہونا چاہیے۔ جواب : جس جمع کے واحد اور جمع میں ” ۃ “ سے فرق ہوتا ہے اس میں تذکیر و تانیث مساوی ہوتی ہے۔ تفسیر و تشریح احشروا الذین ظلموا انفسھم یہ اللہ تعالیٰ کا ملائکہ کو خطاب ہے، یا بعض ملائکہ کا بعض کو خطاب ہے ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے تقول الملائکۃُ للزبانیۃِ احشروا الخ یعنی ان ظالموں کو اور ان کے ہم مشربوں کو جنہوں نے شرک کے ظلم عظیم کا ارتکاب کیا ہے جمع کرلو، یہاں ہم مشربوں کے لئے ازواج کا لفظ استعمال ہوا ہے، اس کے لفظی معنی جوڑے کے ہیں، اور یہ لفظ بیوی اور شوہر کے معنی میں بھی بکثرت استعمال ہوتا ہے، اس لئے مفسرین نے اس کے معنی مشرکہ بیوی کے کئے ہیں، لیکن اکثر مفسرین کے نزدیک یہاں ازواج سے شرک و کفر اور تکذیب رسل میں ہم خیال و ہم مشرب لوگ مراد ہیں، اس کی تائید حضرت عمر ؓ کے ایک ارشاد سے بھی ہوتی ہے، اس آیت کی تفسیر میں حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ یہاں ازواج سے ان کے جیسے (ہم خیال) لوگ مراد ہیں، اخرج عبد الرزاق وابن ابی شیبۃ وغیرھما من طریق نعمان بن بشیر عن عمر بن الخطاب ؓ انہ قال ازواجُھُم امثالھم الذین ھم مثلھم چناچہ سود خور سود خوروں کے ساتھ اور زانی زانیوں کے ساتھ اور شرابی شرابیوں کے ساتھ جمع کئے جائیں گے۔ (روح المعانی) وما کانوا یعبدونَ یعنی مشرکوں کے ساتھ ان ضمی معبودوں کو بھی جمع کیا جائے گا، تاکہ ان کو حسرت اور شرمندگی زیادہ ہو، اور مشرکوں کو اپنے معبودوں کی بےبسی کا اچھی طرح نظارہ کرایا جائے، کہا گیا ہے کہ ” ما “ چونکہ عام ہے ہر معبود کو شامل ہے حتی کہ ملائکہ و مسیح و عزیر (علیہم السلام) کو بھی، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان میں سے بعض کو اپنے قول انَّ الذینَ سبقت لھُمْ منا الحسنیٰ کے ذریعہ خاص کرلیا ہے، اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ ” ما “ سے اصنام واوثان کی طرف اشارہ ہے، اس لئے کہ لفظ ما غیر ذوی العقول کے لئے استعمال ہوتا ہے، اور یہاں سلسلہ کلام بھی ان مشرکین کے بارے میں ہے جو بت پرستی کرتے تھے۔ (روح المعانی) اس کے بعد فرشتوں کو حکم ہوگا کہ فاھدُوھُم الیٰ صراط الجحیم یعنی ان کو جہنم کی راہ دکھاؤ۔ یہ حکم یا تو اماکن مختلفہ سے میدان حشر میں جمع کرنے کے لئے ہوگا اور بعض نے فرمایا کہ یہ حکم میدان حشر سے جہنم کی طرف لیجانے کے لئے ہوگا۔ (روح المعانی) جب فرشتے ان کو لے چلیں گے اور پل صراط کے قریب پہنچیں گے تو حکم ہوگا وقفوھُم انھم مسئولون ان کو روکو ان سے سوال ہوگا، چناچہ اس مقام پر ان کے عقائد و اعمال کے بارے میں سوالات کئے جائیں گے جن کا ذکر قرآن و حدیث میں بہت سے مقامات پر آیا ہے۔ واقبل بعضھم علیٰ بعضٍ یتساءلون میدان حشر میں جمع ہونے کے بعد جب کافروں کے بڑے بڑے سردار جنہوں نے چھوٹے لوگوں کو دنیا میں بہکایا تھا ملاقات کریں گے تو آپس میں ایک دوسرے پر لعنت ملامت اور الزام تراشی کریں گے آئندہ آیتوں میں ان کے آپس بحث و تکرار کا کچھ نقشہ کھینچ کر فریقین کا انجام بد بیان کیا گیا ہے۔ انکم کنتم تاتوننا عن الیمین ” یمین “ کے متعدد معانی آتے ہیں ایک معنی قوت و طاقت کے بھی ہیں اس معنی کے اعتبار سے تفسیر یہ ہوگی کہ ہم پر تمہاری آمد بڑے زور کی ہوا کرتی تھی، یعنی تم ہم پر خوب دباؤ ڈال کر ہمیں گمراہ کیا کرتے تھے، اس کے علاوہ یمینٌ کے ایک معنی قسم کے بھی ہیں، اس صورت میں آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ تم قسمیں کھا کھا کر ہمیں یقین دلایا کرتے تھے، اور یہ باور کرانے کی کوشش کیا کرتے تھے کہ ہم حق پر ہیں، ہمیں تمہاری قسموں کی وجہ سے تمہاری باتوں پر یقین آجایا کرتا تھا جس کی وجہ سے ہم گمراہ ہوگئے، آج جس کی سزا بھگت رہے ہیں، الفاظ قرآنی کے اعتبار سے یہ دونوں ہی تفسیریں بےتکلف ہیں، ان دونوں میں بھی پہلی بےغبار اور صاف ہے۔ (روح المعانی) علامہ محلی نے دوسری تفسیر کو اختیار کیا ہے۔ قالوا ای المتبوعون لھم یہ کلام مستانف ہے، گویا کہ یہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے، سوال یہ ہے کہ جب قوم کے کمزور اور کم حیثیت طبقہ کے لوگوں نے رؤساء قوم کو مورد الزام اور قصور وار ٹھہرایا تو رؤساء قوم نے اس کا کیا جواب دیا ؟ مذکورہ کلام سے رؤساء و سرداروں کا جواب نقل فرمایا ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ تمہارا ہم کو قصوروار ٹھہرانا غلط ہے، اس لئے کہ ہمارا تم پر کوئی زور نہیں تھا، ہماری کیا مجال تھی کہ ہم تم کو کفر و شرک پر مجبور کرتے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تم خود گمراہ اور سرکش تھے، قرآن کریم نے ضعفاء اور رؤساء کی بحث و تکرار اور اس کے نمونے مختلف مقامات پر ذکر فرمائے ہیں، ان کی ایک دوسرے پر الزام تراشی اور لعنت ملامت میدان حشر میں بھی ہوگی، اور جہنم میں داخل ہونے کے بعد بھی، ملاحظہ ہو سورة المومن 47، 48، سورة سبا 31، 32، سورة احزاب 67، 68، سورة اعراف 38، 39 ۔ فحق علینا قول ربنا اب تو ہم (سب) پر ہمارے رب کی یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ ہم (عذاب) کا مزا چکھنے والے ہیں فاغویناکم انا کُنَّا غاوینَ یعنی رؤساء قوم نے پہلے جس بات کا انکار کیا تھا بلکہ ضعفاء کے الزام کو رد کرتے ہوئے خود ان کو ہی مورد الزام قرار دیا تھا، اب اسی بات کا اعتراف و اقرار کرتے ہوئے کہتے ہیں، واقعی ہم ہی نے تم کو گمراہ کیا تھا، حقیقت یہ ہے کہ ہم خود بھی گمراہ تھے ہم نے چاہا کہ تم بھی ہم جیسے ہوجاؤ، اور تم نے بآسانی ہماری راہ اپنالی، روز محشر شیطان بھی یہی کہے گا وما کان لیَ علیکم من سلطانٍ اِلاَّ ان دَعَوتُکُم فاستجبتُم لی فلا تلومونی ولوموا انفسکم۔ (ابراہیم) فانھم یومئذٍ فی العذاب مشترکون قیامت کے روز یہ دونوں فریق عذاب میں شریک ہوں گے، اس لئے کہ ان کا جرم بھی مشترک ہے شرک، معصیت، اور شروفساد ان کا وطیرہ تھا، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص کسی دوسرے کو ناجائز کام کی دعوت دے اور گناہ پر آمادہ کرنے کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے تو اسے دعوت گناہ کا عذاب تو بیشک ہوگا لیکن جس شخص نے اس دعوت کو اپنے اختیار سے قبول کرلیا، وہ بھی اپنے عمل کے گناہ سے بری نہیں ہوسکتا، اور آخرت میں یہ کہہ کر چھٹکارا نہیں پاسکتا کہ مجھے تو فلاں شخص نے گمراہ کیا تھا، ہاں اگر اس نے گناہ کا ارتکاب اپنے اختیار سے نہ کیا ہو بلکہ جبر واکراہ کی حالت میں اپنی جان بچانے کے لئے کرلیا ہو تو انشاء اللہ اس کی معافی کی امید ہے۔ (معارف) انھم کانوا اذا قیل لھم لا الہ الا اللہ یستکبرون، یعنی دنیا میں جب ان سے کہا جاتا تھا کہ جس طرح مسلمانوں نے یہ کلمہ پڑھ کر شرک و معصیت سے توبہ کرلی ہے تم بھی یہ کلمہ پڑھ لو تاکہ دنیا میں بھی مسلمانوں کے قہر و غضب سے محفوظ رہو اور آخرت میں عذاب الٰہی سے تمہیں دوچار ہونا پڑے، تو وہ تکبر و انکار کرتے ہوئے کہتے أئنا لتارکوا الھَتِنَا لشاعر مجنون کیا ہم ایک دیوانے اور شاعر کے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں، حالانکہ آپ دیوانے نہیں فرزانے تھے، اور قرآن کوئی شاعری نہیں بلکہ حقیقت ہے، اور اس دعوت کو اپنانے میں ہلاکت نہیں نجات اور ہمیشہ ہمیش کی کامیابی ہے۔ اولئک لھم رزق معلومٌ اس کا لفظی ترجمہ یہ ہے، ” انہی لوگوں کے لئے ایسا رزق ہے جس کا حال معلوم ہے “ مفسرین نے اس کے مختلف مطلب بیان کئے ہیں، بعض حضرات نے فرمایا کہ رزق معلوم سے اس کے متعین اوقات مراد ہیں یعنی وہ صبح و شام پابندی کے ساتھ عطا کئے جائیں گے، بعض حضرات نے کہا ہے کہ رزق معلوم سے مراد یقینی اور دائمی ہے یعنی وہ رزق دنیا کی طرح نہ ہوگا کہ کوئی شخص یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ کل مجھے کتنا اور کیا رزق ملے گا، بخلاف جنت کے رزق کے کہ وہ یقینی بھی ہوگا اور دائمی بھی (قرطبی، معارف) قتادہ نے کہا ہے کہ وہ رزق جنت ہے، اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ رزق معلوم وہ ہے جو بعد میں مذکور ہے یعنی فواکہُ وھم مکرمون میں فواکہ رزق سے بدل یا عطف بیان ہے یا مبتداء محذوف کی خبر ہے ای ھُو فواکہُ ، وھُم مکرمون حال کی وجہ سے محل میں نصب کے ہے فی جناتٍ نعیمٍ ، مکرمون کے متعلق ہے یا ھُمْ مبتداء کی خبر ثانی ہے، علیٰ شرُرٍ خبر ثالث بھی ہوسکتی ہے اور حال کا بھی احتمال ہے متقابلین مکرمون کی ضمیر سے حال ہے یعنی جنتیوں کو ہر قسم کے میوے عزت و اکرام کے ساتھ ملیں گے، کانَّھُنَّ بیضٌ مکنُونٌ جنتی حوروں کا رنگ شتر مرغ کے انڈوں کے مانند ہوگا جن کو شتر مرغ اپنے پروں میں چھپائے ہوئے ہو، جس کی وجہ سے گردوغبار سے محفوظ ہوں گے جنتی جنت میں بیٹھے ہوئے آپس میں ذکر و تذکرے کے طور پر دنیا کے واقعات اور اپنی اپنی سرگزشت یاد کریں گے اور ایک دوسرے کو سنائیں گے۔