33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 33:53–58

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْذَنَ لَكُمْ اِلٰى طَعَامٍ غَیْرَ نٰظِرِیْنَ اِنٰىهُ١ۙ وَ لٰكِنْ اِذَا دُعِیْتُمْ فَادْخُلُوْا فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَ لَا مُسْتَاْنِسِیْنَ لِحَدِیْثٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیٖ مِنْكُمْ١٘ وَ اللّٰهُ لَا یَسْتَحْیٖ مِنَ الْحَقِّ١ؕ وَ اِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْئَلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ١ؕ ذٰلِكُمْ اَطْهَرُ لِقُلُوْبِكُمْ وَ قُلُوْبِهِنَّ١ؕ وَ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَنْ تَنْكِحُوْۤا اَزْوَاجَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖۤ اَبَدًا١ؕ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمًا Open ayah 33:53 in the Quran reader

مومنو ! پیغمبر کے گھروں میں نہ جایا کرو مگر اس صورت میں کہ تم کو کھانے کے لئے اجازت دی جائے اور اس کے پکنے کا انتظار بھی نہ کرنا پڑے لیکن جب تمہاری دعوت کی جائے تو جاؤ اور جب کھانا کھا چکو تو چل دو اور باتوں میں جی لگا کر نہ بیٹھ رہو یہ بات پیغمبر کو ایذا دیتی ہے اور وہ تم سے شرم کرتے تھے (اور کہتے نہیں تھے) لیکن خدا سچی بات کے کہنے سے شرم نہیں کرتا اور جب پیغمبر کی بیویوں سے کوئی سامان مانگو تو پردے کے باہر سے مانگو یہ تمہارے اور انکے (دونوں کے دلوں کے لئے بہت پاکیزگی کی بات ہے) اور تم کو یہ شایان نہیں کہ پیغمبر خدا کو تکلیف دو اور نہ یہ کہ انکی بیویوں سے کبھی ان کے بعد نکاح کرو بیشک یہ خدا کے نزدیک بڑا گناہ (کا کام) ہے

اِنْ تُبْدُوْا شَیْئًا اَوْ تُخْفُوْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا Open ayah 33:54 in the Quran reader

اگر تم کسی چیز کو ظاہر کرو یا اس کو مخفی رکھو تو (یاد رکھو) کہ خدا ہر چیز سے باخبر ہے

لَا جُنَاحَ عَلَیْهِنَّ فِیْۤ اٰبَآئِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآئِهِنَّ وَ لَاۤ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اَخَوٰتِهِنَّ وَ لَا نِسَآئِهِنَّ وَ لَا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ١ۚ وَ اتَّقِیْنَ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدًا Open ayah 33:55 in the Quran reader

عورتوں پر اپنے باپوں سے (پردہ نہ کرنے میں) کچھ گناہ نہیں اور نہ اپنے بیٹوں سے اور نہ اپنے بھائیوں سے اور نہ اپنے بھتیجوں سے اور نہ اپنے بھانجوں سے اور نہ اپنی (قسم کی) عورتوں سے اور نہ لونڈیوں سے اور (اے عورتو ! ) خدا سے ڈرتی رہو بیشک خدا ہر چیز سے واقف ہے

اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓئِكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا Open ayah 33:56 in the Quran reader

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں مومنو ! تم بھی پیغمبر پر درود اور سلام بھیجا کرو

اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 33:57 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا اور اسکے پیغمبر کو رنج پہنچاتے ہیں ان پر خدا دنیا اور آخرت میں لعنت کرتا ہے اور ان کے لئے اس نے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے

وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 33:58 in the Quran reader

اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسے کام (کی تہمت سے) جو انہوں نے نہ کیا ہو ایذا دیں تو انہوں نے بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اپنے سر پر رکھا

آیت نمبر 53 تا 58 ترجمہ : اے ایمان والو ! نبی کے گھروں میں (بلابلائے) مت جایا کرو مگر یہ کہ تم کو کھانے کے لئے دعوت کے طور پر آنے کی اجازت دیدی جائے تو اس طرح داخل ہوسکتے ہو کہ کھانے کی تیاری کے منتظر نہ رہو، اِنیٰ ، اَنیٰ یَانِی کا مصدر ہے، لیکن جب تم کو بلایا جائے تب جاتا کرو پھر جب کھانے سے فارغ ہوجاؤ تو اٹھ کر چلے جایا کرو اور آپس میں باتوں میں دلچسپی لیکر بیٹھے نہ رہا کرو بلاشبہ اس بیٹھے رہنے سے نبی کو ناگواری ہوتی ہے سو وہ تم کو چلے جانے کے لئے کہنے کے بارے میں تمہارا لحاظ کرتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ بیان حق میں کسی کا لحاظ نہیں کرتا یعنی حق بیان کرنے کو ترک نہیں کرتا، اور ایک قراءت میں یَسْتَحِیْ ایک یاء کے ساتھ بھی ہے، جب تم ان سے یعنی نبی کی بیویوں سے کوئی چیز طلب کرو تو پردے کے باہر سے طلب کرو یہ تمہارے اور ان کے دلوں کی مشتبہ خیالات سے پاکیزگی ہے اوت تمہارے لئے یہ بات مناسب نہیں کہ کسی طرح بھی اللہ کے رسول کو تکلیف پہنچاؤ اور نہ تمہارے لئے یہ حلال ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کبھی بھی آپ کی ازواج کے بارے میں، اللہ تعالیٰ ہر شئ سے بخوبی واقف ہے وہ اس پر تم کو ضرور بدلہ دے گا، اور ازواج مطہرات پر اپنے باپوں کے بارے میں کوئی گناہ نہیں اور نہ اپنے بیٹوں کے بارے میں اور نہ اپنے بھائیوں کے بارے میں اور نہ اپنے بھتیجوں کے بارے میں، اور نہ بھانجوں کے اور نہ اپنی عورتوں یعنی مومنات کے بارے میں اور نہ اپنے مملوکوں کے بارے میں خواہ وہ باندی ہوں یا غلام کوئی حرج نہیں یہ کہ ان کو دیکھیں اور بغیر حجاب کے ان سے باتیں کریں، اور جس بات کا تم کو حکم دیا گیا ہے اس میں اللہ سے ڈرتی رہو، بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا نگراں ہے، اس سے کوئی شئ مخفی نہیں بلاشبہ اللہ اور اس کے فرشتے نبی محمد ﷺ پر رحمت بھجتے ہیں اے ایمان والو ! تم بھی آپ ﷺ پر درودبھیجو اور خوب سلام بھیجا کرو یعنی اللّٰھُمَّ صلِّ علیٰ محمدٍ وَسَلِّمْ کہا کرو بلا شبہ وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دیتے ہیں، اور وہ کفار ہیں اللہ کے لئے ایسی صفات ثابت کرتے ہیں جن سے وہ پاک ہے یعنی اولاد سے اور شرک سے اور اس کے رسول کی تکذیب کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی ہے ان کو رحمت سے دور کردیا ہے اور ان کے لئے اہانت آمیز عذاب تیار کررکھا ہے، اور وہ آگ ہے، جو مومنین اور مومنات کو بلا وجہ تکلیف پہنچاتے ہیں یعنی ان کے بغیر کچھ کئے طعنہ زنی کرتے ہیں تو وہ بہتان یعنی جھوٹ اور صریح گناہ کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔ تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد قولہ : اِلَّا اَنْ یُّؤْذَنَ لَکُمْ یہ عموم احوال سے استثناء ہے ای لا تَدْخلو ھا فی حال من الا حوال الّا حال کو نکم ماذونالکم . قولہ : الیٰ طعام کا تعلق، یُؤْذَنُ کے معنی کو متضمن ہونے کی وجہ سے یُؤْذَنُ سے ہے، شارح (رح) تعالیٰ نے بالدعاء کا اضافہ یہ بتانے کے لئے کیا ہے کہ یُؤْذن یُدْعون کے معنی کو متضمن ہے ورنہ یُؤْذَنُ کا صلہ الیٰ نہیں آتا اکثر مفسرین کا کہنا ہے کہ یہ آیت ولیمۂ زینب حجش ؓ کے بارے میں نازل ہوئی، واقعہ کی تفصیل تفسیر کے زیر عنوان ملاحظہ فرمائیں۔ قولہ : اِناہُ . اَنیٰ یانِی کا مصدر ہے بروزن رَمٰی یَرْمِیْ پکنا، تیار ہونا اَنِیٰ بالفتح والکسریہ انایانِی (ض) کا مصدر ہے، معنی پکنے اور وقت آنے کے ہیں، اِنیٰ مصدر قیاسی اَنیٰ ہے لیکن یہ سنا نہیں گیا۔ (اعراب القرآن، للدرویش) قولہ : فَانتشِروا اِذَا طَعِمْتُمْ کا جواب ہے۔ قولہ : وَلاَ مُسْتَاْنِسِیٌنَ کا عطف غیر ناظرینَ پر ہے اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ حال مقدر پر عطف ہے ای لا تَدْخُلوھا ھا جِمِیْنَ وَلَا مُسْتَانِسِیْنَ زمخشری نے کہا ہے کہ مستانسین، ناظرین پر معطوف ہونے کی وجہ سے مجرور ہے۔ قولہ : لا یستحْی کی تفسیر لا یترک سے کرکے اشارہ کردیا کہ یستحی بمعنی لا یترک ہے جو کہ لازم معنی ہیں اس لئے کہ حیا کی نسبت اللہ کی طرف درست نہیں ہے۔ قولہ : ذَالِکُمْ اَطْھَرُ ، ذلِکُمْ لا مرجع بغیر اجازت کے داخل نہ ہونا، اور باتوں میں دلچسپی لیکر جم کر نہ بیٹھ رہنا، اور پردے کے باہر سے سامان طلب کرنا ہے، یعنی مذکورہ باتیں تہمت اور شیطانی وساوس کے دفع کرنے کے لئے بہت مفید و مؤثر ہیں۔ قولہ : مَا کان لَکُمْ ای ما صَحَْ لکم اَنْ تُؤ ذُوا، اَنْ تؤذوا کان کا اسم ہے اور لَکُمْ اس کی خبر اور وَاَنْ تَنْکِحُوْا کا عطف کان کے اسم پر ہے۔ قولہ : اَنْ یَرَوْھُنَّ وَیُکَلِّمُوْھُنَّ کے اضافہ کا مقصد اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ فِی آبائھِنَّ ولا اَبْنَائِھِنَّ (الخ) حذف مضاف کے ساتھ ہیں، یعنی ان لوگوں کو دیکھنے اور ان سے کلام کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہے۔ قولہ : وَاتَّقِیْنَ اللہ اس کا عطف محذوف پر ہے اَی اِمْتَثِلْنَ مَا اُمِرْتُنَّ بہ وَاتَّقِیْنَ اللہ۔ قولہ : صلوٰۃ اس کے متعدد معنی ہیں، رحمت، دعاء، تعظیم وثناء ان کو بیک وقت مراد لینا عموم مشترک کہلاتا ہے بعض حضرات کے یہاں یہ جائز نہیں ہے اس لئے یہ کہا جائے گا کہ لفظ صلوۃ کے اس جگہ ایک ہی معنی مراد ہیں یعنی آپ کی تعظیم اور مدح وثناء پھر جب یہ معنی اللہ کیطرف منسوب ہوں تو رحمت مراد ہوگی اور فرشتوں کی طرف منسوب ہوں تو دعاء و استغفار مراد ہوگی اور اگر عام مومنین کی طرف منسوب ہوں تو دعاء اور مدح و تعظیم کا مجموعہ مراد ہوگا، لفظ سلام مصدر ہے بمعنی سلامت جیسے ملام بمعنی ملامت مستعمل ہوتا ہے اور مراد اس سے یہ ہے کہ نقائص و عیوب اور آفات سے سلامتی آپ کے ساتھ رہے، عربی زبان کے قاعدے سے یہاں حرف علی کا موقع نہیں چونکہ سلام ثناء کے معنی کو متضمن ہے اس لئے حرف علیٰ کے ساتھ علیک یا علیکم کہا جاتا ہے۔ تفسیر وتشریح شان نزول : یٰایھا۔۔۔ النبی (الآیۃ) اس آیت کا سبب نزول یہ ہے کہ نبی ﷺ کی دعوت پر حضرت زینب ؓ بنت حجش کے ولیمے میں صحابہ کرام ؓ تشریف لائے جن میں سے بعض کھانے کے بعد بھی بیٹھے ہوئے باتیں کرتے رہے جس سے آپ ﷺ کو تکلیف ہوئی، تاہم حیا واخلاق کی وجہ سے آپ ﷺ نے انہیں جانے کے لئے نہیں فرمایا، حضرت انس ؓ کی صحیح بخاری کی روایت میں واقعہ کی تفصیل اس طرح ہے، حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ چونکہ میں اس واقعہ کے وقت خود موجود تھا اس لئے آیت حجاب کی حقیقت سے میں زیادہ واقف ہوں، جب حضرت زینب ؓ نکاح کے بعد حرم نبوی میں داخل ہوئیں تو آپ نے ولیمے کی دعوت کی، کھانے کے بعد کچھ لوگ وہیں جم کر باتیں کرنے لگے، ترمذی کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ بھی وہیں تشریف رکھتے تھے، اور حضرت زینب ؓ بھی اسی جگہ موجود تھیں جو حیاء کی وجہ سے دیوار کی طرف اپنا رخ پھیرے ہوئے بیٹھی تھیں، یہ نزول حجاب سے پہلے کی بات ہے جبکہ زنانہ مکانوں میں مردوں کے داخل ہونے پر پابندی نہیں تھی بلکہ دعوت وغیرہ کا انتظام زنا نخانہ میں ہی ہوتا تھا، ان لوگوں کے اس طرح دیر تک بیٹھنے کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کو تکلیف ہوئی آپ ان لوگوں کو اٹھنے کا اشارہ دینے کے طور پر باہرنکلے اور حضرت عائشہ ؓ کے گھر تشریف لے گئے یہ خیال کرکے کہ اب شاید لوگ چلے گئے ہوں گے واپس تشریف لائے تو دیکھا کہ وہ حضرات بیٹھے ہوئے ہیں آپ کو اس کا بہت احساس ہوا، تھوڑی دیر گھر میں قیام کے بعد پھر باہر تشریف لے گئے، کچھ دیر کے بعد جب آپ ﷺ واپس تشریف لائے تو وہ حضرات بدستور ڈٹے تھے، جب ان حضرات کو احساس ہوا تو اٹھ کر چلے گئے، اس واقعہ کے کچھ ہی دیر بعد مذکورہ آیت نازل ہوئی تو آپ نے پڑھ کر سنائی، چناچہ اس آیت میں دعوت کے آداب بتلائے گئے ہیں، ایک تو یہ کہ اس وقت جاؤ جب کھانا تیار ہوچکا ہو، پہلے جا کر دھرنا مار کر نہ بیٹھ جاؤ، دوسرے یہ کہ کھانے سے فارغ ہونے کے بعد اپنے اپنے گھروں کو چلے جایا کرو۔ آیت حجاب : اذا۔۔۔ متاعًا (الآیۃ) حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ آیت حجاب حضرت عمر ؓ کی خواہش کے مطابق نازل ہوئی، ایک حضرت عمر ؓ نے آپ ﷺ سے عرض کیا، یارسول اللہ آپ کے پاس اچھے برے ہر قسم کے آدمی آتے ہیں، کاش آپ امہات المومنین کو پردے کا حکم فرمادیں تو کیا اچھا ہو، جس پر اللہ تعالیٰ نے آیت مذکورہ نازل فرمائی۔ ما۔۔۔ قلوبھن یہ پردے کی حکمت اور علت ہے اس سے مراد اور عورت دونوں کے دل ریب وشک سے اور ایک دوسرے کے ساتھ فتنے میں مبتلا ہونے سے محفوظ رہیں گے۔ ما۔۔۔ ابدًا اور تمہارے لئے یہ حلال نہیں کہ آپ کے بعد کسی وقت بھی آپ کی بیویوں سے نکاح کرو (یادرکھو) اللہ کے نزدیک یہ بڑا (گناہ) ہے یہ حکم ان ازواج کے بارے میں ہے جو آپ کی وفات کے بات آپ کے حبالۂ عقد میں تھیں، البتہ وہ عورتیں جن کو آپ ﷺ نے ہمبستری کے بعد طلاق دیکر الگ کردیا ہو، وہ اس کے عموم میں دخل ہیں یا نہیں ؟ اس میں دورائے ہیں بعض ان کو بھی شامل سمجھتے ہیں اور بعض نہیں، لیکن آپ کی کوئی ایسی بیوی تھی ہی نہیں، اس لئے یہ محض ایک فرضی شکل ہے، ایک تیسری قسم ان عورتوں کی ہے جن سے آپ ﷺ نے نکاح کیا ہو لیکن ہم بستری سے قبل ہی ان کو آپ نے طلاق دے دی ان سے دوسرے لوگوں کا نکاح درست ہونے میں کوئی نزاع معلوم نہیں۔ (تفسیر ابن کثیر) ولا۔۔۔ ابدا میں ظاہر اور ازواج کے عموم سے معلوم ہوتا ہے کہ غیر مدخولہ سے بھی نکاح صحیح نہیں ہے کہ مستعیذہ (پناہ چاہنے والی بنت جون) اور وہ بیوی کہ آپ نے اس کے پہلو میں سفید داغ دیکھا تو ہم بستری سے قبل ہی فرمایا اِلْحَقِیْ بِاَھْلِکِ امام الحرمین اور رافعی نے صغیر میں اس بات کو صحیح قرار دیا ہے کہ حرمت صرف مدخول بہا کی ہے، اس لئے کہ روایت کیا گیا ہے کہ اشعث بن کندی نے مستعیذہ (پناہ چاہنے والی بنت جون) سے حضرت عمر ؓ کے زمانہ میں نکاح کیا تھا تو حضرت عمر ؓ نے ان کو رجم کرنے کا ارادہ کیا تو اشعت بن قیس نے بتایا کہ وہ آپ ﷺ کی مدخول بہا نہیں ہے، تو حضرت عمر ؓ نے بلا کسی نکیر کے رجم کا ارادہ ملتوی کردیا۔ (روح المعانی) لا۔۔۔ آبائھن (الآیۃ) جب عورتوں کیلئے پردے کا حکم نازل ہوا تو پھر گھر میں موجود اقارب یا ہر وقت آنے جانیوالے رشتہ داروں کی بابت سوال ہوا کہ ان سے پردہ کیا جائے یا نہیں ؟ چناچہ اس آیت میں ان اقارب کا ذکر کردیا گیا جن سے پردے کی ضرورت نہیں، اس کی تفصیل سورة نور کی آیت 31 میں گذر چکی ہے ملاحظہ کرلیا جائے۔ واتقین۔۔۔ شھیدا اس مقام پر عورتوں کو تقویٰ کا حکم دے کر واضح کردیا کہ اگر تمہارے دلوں میں تقویٰ ہوگا تو پردے کا جو اصل مقصد قلب و نظر کی طہارت اور عصمت کی حفاظت ہے یقیناً وہ تم کو حاصل ہوگا، ورنہ حجاب کی ظاہری پابندیاں تمہیں گناہ میں ملوث ہونے سے نہیں بچاسکتیں۔ انسداد فواحش کا اسلامی نظام : فواحش، بدکاری، زنا اور اس کے مقدمات دنیا کی ان مہلک برائیوں میں سے جن کے مہلک اثرات صرف اشخاص وافراد ہی کو نہیں بلکہ قبائل اور خاندانوں کو اور بعض اوقات بڑے بڑے ملکوں کو تباہ کردیتے ہیں۔ دنیا کے اس موجودہ دور میں مغربی اقوام نے اپنی مذہبی حدود اور قدیم قومی روایات سب کو توڑ کر زنا کو اپنی ذات میں کوئی جرم نہیں رکھا، اور تمدن و معاشرت کو ایسے سانچے میں ڈھال دیا ہے جن میں ہر قدم پر جنسی انارکی اور فواحش کو دعوت عام ہے، مگر ان کے ثمرات اور نتائج کو وہ بھی جرائم سے خارج نہ کرسکے، عصمت فروشی، زنا بالجبر، منظر عام پر فحش حرکات کو تعزیری جرم قرار دینا پڑا۔ جس کی مثال اس کے سوا کچھ نہیں کہ کوئی شخص آگ لگانے کے لئے سوختہ کا ذخیرہ جمع کرے، پھر اس پر تیل چھڑکے، پھر اس میں آگ لگا دے اور جب آگ کے شعلے بھڑکنے لگیں تو ان شعلوں پر پابندی اور روکنے کی کوشش کرے۔ اس کے بر خلاف اسلام نے جن چیزوں کو جرم اور انسانیت کے لئے مضر سمجھ کو قابل سزا جرم قرار دیا ہے انکے مقدمات اور مبادیات پر پابندیاں عائد کی ہیں اور ان کو ممنوع قرار دیا ہے، مثلاً اصل مقصد زنا اور بدکاری سے بچانا تھا، تو زنا کی پیش بندی کے طور پر نظریں نیچی رکھنے کے قانون سے ابتداء کی، عورتوں اور مردوں کے نے محابا اختلاط کو روکا، اور عورتوں کو چہار دیواری میں رہنے کی تاکید کی، اور اگر ضرورت کے وقت نکلنا پڑے تو پردے اور حجاب کے ساتھ سڑک کے ایک کنارے چلنے کی ہدایت کی خوشبو لگا کر یا بجنے والا زیور پہن کر نکلنے کی ممانعت کردی، اس کے باوجود اگر کوئی شخص ان تمام حدود وقیود اور پابندیوں کے حصار کو پھاند کر باہر نکل جائے تو اس پر ایسی عبرتناک اور عبرت آموز سزا جاری کی کہ ایک مرتبہ کسی بدکردار پر جاری کردی جائے تو پوری قوم کو مکمل سبق مل جائے۔ اہل مغرب اور ان کے مقلدین نے اپنی فحاشی اور عیاشی کے جواز میں عورتوں کے پردے کو عورتوں کی صحت اور اقتصادی اور معاشی حیثیت سے معاشرہ کے لئے مضر ثابت کرنے اور بےپردہ رہنے کے فوائد پر بحثیں اور سیمینار کئے ہیں، اس کا جواب بہت سے علماء عصر نے بڑی تفصیل کے ساتھ لکھا ہے، اس کے متعلق یہاں اتنا سمجھ لینا کافی ہے کہ فائدہ اور نفع سے تو کوئی جرم اور گناہ بھی خالی نہیں، چوری، ڈاکہ، دھوکہ، فریب ایک اعتبار سے بڑا نفع بخش کاروبار ہے، مگر جب اس کے ثمرات و نتائج میں پیدا ہونے والی مضرتیں سامنے آتی ہیں تو کوئی شخص ان کو نفع بخش کاروبار کہنے کی جرأت نہیں کرتا بےپردگی میں اگر کچھ معاشی فوائد ہوں بھی مگر جب پورے ملک اور قوم کو ہزاروں فتنہ و فساد میں مبتلا کردے تو پھر اس کو نافع کہنا کسی دانشمند کا کام نہیں ہوسکتا۔ روس کے سابق صدر میخائیل گوربہ چوف اپنی کتاب پروسٹاٹیکا میں رقمطراز ہیں : ” ہماری مغربی سوسائٹی میں عورت کو باہر نکال دیا گیا، اور اس کو باہر نکالنے کے نتیجے میں نے شک ہم نے کچھ معاشی فوائد بھی حاصل کئے اور پیداوار میں کچھ اضافہ بھی ہوا، اس لئے کہ عورتیں بھی کام کررہی ہیں، اور مرد بھی کام کررہے ہیں، لیکن پیداوار میں اضافہ کے باوجود اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ ہمارا خانہ داری یعنی فیملی سسٹم تباہ ہوگیا اور فیملی سسٹم تباہ ہونے کے نتیجے میں ہمیں جو نقصان اٹھانا پڑا ہے، وہ نقصان ان فوائد کے مقابلہ میں کہیں زیادہ ہے جو پیداوار کے اضافہ کے نتیجے میں ہمیں حاصل ہوا ہے، لہٰذا میں اپنے ملک میں پروسٹاٹیکا کے نام سے ایک تحریک شروع کررہا ہوں، اس سے میرا بنیادی مقصد یہ ہے کہ وہ عورت جو گھر سے باہر نکل چکی ہے اس کو گھر میں واپس کیسے لایا جائے، اور اس کے طریقے سوچے جائیں، ورنہ جس طرح ہمارا فیملی سسٹم تباہ ہوا ہے اسی طرح ہماری قوم بھی تباہ ہوجائے گی۔ (ترمیم واختصار کے ساتھ، اصلاحی خطبات، از مولانا تقی صاحب عثمانی) ۔ انسداد جرائم کے لئے انسداد ذرائع کا زرّین اصول : سابقہ شریعتوں میں اسباب و ذرائع کو مطلقاً حرام نہیں قرار دیا گیا تھا جب تک کہ ان کے ذریعہ کوئی جرم واقع نہ ہوجائے، شریعت محمدیہ ﷺ چونکہ قیامت تک رہنے والی شریعت ہے اس لئے جرائم و معاصی کو حرام قرار دینے کے ساتھ ساتھ ان کے اسباب و ذرائع کو بھی حرام قرار دیدیا گیا جو عادت غالبہ کے طور پر ان جرائم تک پہنچانے والے ہیں، مثلاً شراب نوشی کو حرام قرار دیا گیا تو شراب کے بنانے، بیچنے، خریدنے، اور کسی کو دینے اور اس کی تیاری میں کسی بھی قسم کی براہ راست مدد کو بھی حرام قرار دیدیا گیا، اسی طرح سود کو حرام قرار دینا تھا تو سود سے ملتے جلتے معاملات کو بھی ناجائز قرار دیدیا گیا، شرک اور بت پت پرستی کو قرآن نے ظلم عظیم اور ناقابل معافی جرم قرار دیا، تو اس کے اسباب و ذرائع پر بھی سخت پابندی لگادی، آفتاب کے طلوع، غروب اور وسط میں ہونے کے اوقات میں چونکہ مشرکین آفتاب کی پرستش کرتے تھے، اگر اب اوقات میں نماز پڑھی جاتی تو آفتاب پرستوں کے ساتھ ایک طرح کی مشابہت ہوجاتی، پھر یہ مشابہت شرک میں مبتلا ہونے کا سبب بن سکتی تھی، اس لئے شریعت نے ان اوقات میں نماز اور سجدہ کو بھی حرام و ناجائز کردیا، اسی طرح بتوں کے مجسمے اور تصویریں چونکہ بت پرستی کا قریبی ذریعہ تھیں اس لئے بت تراشی اور تصویر سازی کو حرام قرار دے دیا۔ تنبیہ : شریعت اسلام نے جن کاموں کو گناہ کا سبب قریب درجۂ اول قرار دے کر حرام کردیا، اس کے حکم حرمت کے بعد وہ سب کیلئے مطلقاً حرام ہے خواہ ابتلاء گناہ کا سبب بنے یا نہ بنے، اب وہ خود ایک شرعی حکم ہے جس کی مخالفت حرام ہے۔ (معارف) ان۔۔۔ النبی (الآیۃ) اس آیت میں نبی ﷺ کے مرتبہ اور منزلت کا بیان ہے جو ملاء اعلیٰ (آسمانوں) میں آپ ﷺ کو حاصل ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں میں آپ ﷺ کی ثناء و تعریف کرتا ہے، اور آپ پر رحمتیں بھیجتا ہے، اور فرشتے بھی آپ کی بلندئ درجات کی دعاء کرتے ہیں، اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے عالم سفلیٰ (اہل زمین) کو حکم دیا کہ وہ بھی آپ پر صلوٰۃ وسلام بھیجیں تاکہ آپ ﷺ کی تعریف میں علوی دونوں عالم متحد ہوجائیں، حدیث شریف میں آتا ہے کہ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ سلام کا طریقہ تو ہم جانتے ہیں، ہم درودکس طرح پڑھیں ؟ اس پر آپ نے وہ درود ابراہیمی بیان فرمایا جو نماز میں پڑھا جاتا ہے۔ (صحیح بخاری تفسیر سورة احزاب) ان۔۔۔ ورسولہ اللہ کو ایذاء دینے کا مطلب ان افعال کا ارتکاب کرنا ہے جنہیں وہ ناپسند فرماتا ہے، ورنہ اللہ کو ایذاء پہنچانے پر کون قادر ہے ؟ جیسے مشرکین، یہود اور نصاریٰ وغیرہ اللہ کے لئے اولاد ثابت کرتے ہیں، یا جس طرح حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، ابن آدم مجھے ایذا دیتا ہے، زمانہ کو گالی دیتا ہے، حالانکہ میں ہی زمانہ ہوں اس کے رات اور دن کی گردش میرے ہی حکم سے ہوتی ہے۔ (صحیح بخاری تفسیر سورة جاثیہ) اللہ کے رسول کو ایذاء پہنچانے کا مطلب آپ کی تکذیب کرنا اور آپ ﷺ کو شاعر، ساحر، مجنون وغیرہ کہنا ہے، اس کے علاوہ بعض احادیث میں صحابہ کرام ؓ کو ایذا پہچانا آپ ﷺ کو ایذا پہچانے اور ان کی تنقیص و اہانت کو بھی آپ ﷺ نے ایذاء قرار دیا ہے، اور لغت کا مطلب اللہ کی رحمت سے دوری اور محرومی ہے۔ والذین۔۔۔ والمؤمنات (الآیۃ) یعنی ان کو بدنام کرنے کے لئے ان پر بہتان باندھنا ان کی تنقیص و توہین کرنا، جیسے روافض صحابہ کرام ؓ پر سب وشتم کرتے ہیں اور ان کی طرف ایسی باتیں منسوب کرتے ہیں جن کا ارتکاب انہوں نے نہیں کیا، امام ابن کثیر (رح) تعالیٰ فرماتے ہیں رافضی منکوس القلب ہیں، ممدوح اشخاص کی مذمت کرتے ہیں اور مذموم لوگوں کی مدح کرتے ہیں۔
Ayahs 33:59–68

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِهِنَّ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:59 in the Quran reader

اے پیغمبر ﷺ اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ (باہر نکلا کریں تو) اپنے (مونہوں) پر چادر لٹکا کر (گھونگھٹ نکال) لیا کریں یہ امر ان کے لئے موجب شناخت (وامتیاز) ہوگا تو کوئی انکو ایذا نہ دے گا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

لَئِنْ لَّمْ یَنْتَهِ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْمُرْجِفُوْنَ فِی الْمَدِیْنَةِ لَنُغْرِیَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا یُجَاوِرُوْنَكَ فِیْهَاۤ اِلَّا قَلِیْلًا٤ۖۛۚ Open ayah 33:60 in the Quran reader

اگر منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے اور جو مدینے (کے شہر) میں بری بری خبریں اڑایا کرتے ہیں (اپنے کردار) سے باز نہ آئیں گے تو ہم تم کو انکے پیچھے لگا دینگے پھر وہاں تمہارے پڑوس میں نہ رہ سکیں گے مگر تھوڑے دن

مَّلْعُوْنِیْنَ١ۛۚ اَیْنَمَا ثُقِفُوْۤا اُخِذُوْا وَ قُتِّلُوْا تَقْتِیْلًا Open ayah 33:61 in the Quran reader

(وہ بھی) پھٹکارے ہوئے جہاں پائے گئے پکڑے گئے اور جان سے مار ڈالے گئے

سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا Open ayah 33:62 in the Quran reader

جو لوگ پہلے گزر چکے ہیں ان کے بارے میں بھی خدا کی یہی عادت رہی ہے اور تم خدا کی عادت میں تغیر و تبدل نہ پاؤ گے

یَسْئَلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُوْنُ قَرِیْبًا Open ayah 33:63 in the Quran reader

لوگ تم سے قیامت کی نسبت دریافت کرتے ہیں (کہ کب آئے گی) کہہ دو کہ اس کا علم خدا ہی کو ہے اور تمہیں کیا معلوم ہے شاید قیامت قریب ہی آگئی ہو

اِنَّ اللّٰهَ لَعَنَ الْكٰفِرِیْنَ وَ اَعَدَّ لَهُمْ سَعِیْرًاۙ Open ayah 33:64 in the Quran reader

بیشک خدا نے کافروں پر لعنت کی ہے اور ان کے لئے (جہنم کی) آگ تیار کر رکھی ہے

خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ۚ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًاۚ Open ayah 33:65 in the Quran reader

اس میں ابدالآباد رہیں گے نہ کسی کو دوست پائیں گے اور نہ مددگار

یَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِ یَقُوْلُوْنَ یٰلَیْتَنَاۤ اَطَعْنَا اللّٰهَ وَ اَطَعْنَا الرَّسُوْلَا Open ayah 33:66 in the Quran reader

جس دن ان کے منہ آگ میں الٹائے جائیں کہیں گے اے کاش ہم خدا کی فرمانبرداری کرتے اور رسول (خدا) کا حکم مانتے

وَ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّاۤ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَ كُبَرَآءَنَا فَاَضَلُّوْنَا السَّبِیْلَا Open ayah 33:67 in the Quran reader

اور کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہم نے اپنے سرداروں اور بڑے لوگوں کا کہا مانا تو انہوں نے ہم کو راستے سے گمراہ کردیا

رَبَّنَاۤ اٰتِهِمْ ضِعْفَیْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَ الْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِیْرًا۠ Open ayah 33:68 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ان کو دگنا عذاب دے اور ان پر بڑی لعنت کر

آیت نمبر 59 تا 68 ترجمہ : اے نبی اپنی بیویوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور (دیگر) مسلمان عورتوں سے کہہ دیجئے کہ (سر سے) نیچے کرلیا کریں اپنے اوپر تھوڑی سی چادریں (یعنی گونگھٹ کرلیا کریں) جَلَابِیْبْ ، جِلْبَابٌ کی جمع ہے، مِلْحَفَۃٌ اس چادر کو کہتے ہیں جس کو عورت اوڑھتی ہے، یعنی جب اپنی حاجت کے لئے نکلا کریں تو چادر کے کچھ حصے کو اپنے چہروں پر لٹکالیا کریں، سوائے ایک آنکھ کے، یہ اس طریقہ سے جلدی پہچان لی جاتا کریں گی کہ یہ آزاد عورتیں ہیں، تو ان کو چھیڑ چھاڑ کیا کرتے تھے، بےپردگی کے بارے میں ان سے جو کچھ اب تک (کوتاہی) ہوچکی ہے اللہ تعالیٰ اس کو معاف فرمانے والے ہیں جبکہ وہ ستر کو اختیار کرلیں، قسم ہے لئن میں لام قسمیہ ہے، اگر یہ منافقین اپنے نفاق سے اور وہ تمہارے کے دلوں میں زنا کا مرض اور وہ لوگ جو مدینہ یعنی مومنین میں یہ کہہ کر افواہیں پھیلاتے ہیں کہ تم پر دشمن چڑھ آیا اور تمہارا لشکر قتل کردیا گیا یا شکست کھا گیا، باز نہ آئے، تو ہم آپ ان پر ضرور مسلط کردیں گے اس کے بعد وہ آپ کے پڑوس مدینہ میں سکونت اختیار نہ کرسکیں گے مگر بہت مختصر مدت پھر وہ نکالدیئے جائیں گے حال یہ ہے کہ وہ تیری طرف سے دھتکارے ہوئے ہوں گے، (یعنی) رحمت سے دور کئے ہوئے ہوں گے، جہاں کہیں ملیں گے پکڑے جائیں گے اور مار دھاڑ کی جائے گی یعنی یہ حکم ان کے بارے میں امر خداوندی کی رو سے ہے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں میں بھی جو سابق میں گذر چکے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے امم ماضیہ میں بھی مومنین میں افواہیں پھیلانے والے منافقوں کے لئے یہی طریقہ رکھا تھام اور آپ اللہ کے دستور میں کسی قسم کی تبدیلی نہ پائیں گے لوگ یعنی اہل مکہ آپ سے قیامت کے بارے میں معلوم کرتے ہیں کہ کب آئے گی ؟ تو آپ کہہ دیجئے کہ اس کا (صحیح) علم تو اللہ ہی کو ہے اور آپ کو کیا معلوم ؟ یعنی آپ اس کے بارے میں نہیں جانتے، عجب نہیں کہ قیامت قریب ہی واقع ہوجائے بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے کافروں سے دور کررکھا ہے اور ان کے لئے شدید بھڑکتی ہوئی آگ تیار کررکھی ہے جس میں وہ داخل ہوں گے اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے یعنی ان کے لئے خلود مقدر ہوچکا ہے نہ کوئی یار پائیں گے کہ ان کی آگ سے حفاظت کرسکے اور نہ مدگار کہ ان سے اس آگ کو دفع کرسکے جس دن ان کے چہرے آگ میں الٹ پلٹ کئے جائیں گے (تو حسرت سے) کہیں گے کاش ہم اللہ اور رسول کی اطاعت کرتے یا تنبیہ کے لئے ہے اور ان میں سے متبعین کہیں گے اے ہمارے پروردگار ہم نے اپنے سرداروں کی اور ایک قراءت میں ساداتنا جمع کے ساتھ ہے اور اپنے بڑوں کی اطاعت کی سو انہوں نے ہم کو راہ ہدایت سے ہٹا دیا اے ہمارے پروردگار ان کو دوہرا عذاب دے یعنی ہمارے عذاب کا دگنا، اور ان پر تعداد میں کثرت سے لغت فرما اور ایک قراءت میں بائے موحدہ کے ساتھ ہے یعنی (کبیرا ہے) بڑی لعنت۔ تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد قولہ : یُذْنِینَ اِدْناء سے مضارع جمع مؤنث غائب، وہ نیچا کرلیا کریں، مادہ دنُوٌّ ہے یُدْنِیْنَ میں یہ بھی احتمال ہے کہ قول کا مقولہ ہو اور خبر بمعنی امر ہو اور یہ بھی احتمال ہے کہ جواب امر ہو، جیسا کہ قُل لعبادی الذین آمنو ایقیموا الصلوٰۃ . قولہ : لاَ یُؤْذَیْنَ اِیذاءٌ سے مضارع جمع مؤنث غائب منفی مجہول، ان عورتوں کو ایذاء نہ دی جائے۔ قولہ : اَلْمُرْ جِفُوْنَ یہ اِرْجَافٌ سے اسم فاعل ہے رَجْفَۃٌ سے مشتق ہے اس کے معنی حرکت دینے کے ہیں اخبار کا ذبہ اور افواہوں کو بھی رجفَۃٌ کہنے لگے ہیں، اس لئے کہ افواہوں سے بھی افراتفری اور ہیجان برپا ہوجاتا ہے۔ قولہ : ملْعُونینَ فعل مقدر کے فاعل سے حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے ای یُخْرَجُوْنَ ملعونین، شارح (رح) تعالیٰ نے یّخرجون محذوف مان کر اسی کی طرف اشارہ کیا ہے۔ قولہ : ومَا یُدْرِیْکَ مامبتداء اور یُدْرِیْکَ جملہ ہو کر خبر، استفہام انکاری ہے، شارح نے انت لا تعلمھا سے اسی کی طرف اشارہ کیا ہے۔ قولہ : یقولونَ یا لَیْتَنَا جملہ مستانفہ سوال مقدر کا جواب ہے کو کہ کلام سابق سے پیدا ہوتا ہے، سابق میں جب جہنمیوں کی حالت زار کا ذکر کیا گیا تو سوال پیدا ہوا کہ وہ کیا کریں گے ؟ تو بتایا گیا مافات پر حسرت کے طور پر کہیں گے یَالَیْتَنَا اور وُجُوْھُھُمْ کی ضمیر یا نفس وجوہ سے حال بھی ہوسکتا ہے۔ تفسیر وتشریح اس آیت میں نبی ﷺ کی بیویوں بیٹیوں اور عام مومن عورتوں کو گھر سے باہر نکلتے وقت پردے کا حکم دیا گیا ہے، جس سے واضح ہے کہ پردے کا حکم علماء کا ایجاد کردہ نہیں ہے، جیسا کہ آج کل کے بعض جدید تعلیم یافتہ، باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں، یا اس کو قرار واقعی اہمیت نہیں دیتے، بلکہ یہ اللہ کا حکم ہے کہ جو قرآن کریم کی نص سے ثابت ہے، اس سے اعراض، انکار، اور بےپردگی پر اصرار کفر تک پہنچا سکتا ہے، نیز اس سے یہ بات بھی معلوم ہوگئی کہ آپ ﷺ کی ضرورت ایک صاحبزادی نہیں تھی، جیسا کہ رافضیوں کا عقیدہ ہے بلکہ آپ کی ایک سے زائد بیٹیاں تھیں جیسا کہ قرآنی نص سے واضح ہے اور یہ چارتھیں جیسا کہ تاریخ و سیر اور احادیث کی کتابوں سے ثابت ہے۔ سابقہ آیات میں مسلمانوں کو ان چیزوں کی تنبیہ کی گئی تھی جن سے رسول اللہ ﷺ کو اذیت اور تکلیف پہنچی تھی، مگر کچھ مسلمان نا واقفیت یا بےتوجہی کی وجہ سے بلا قصد ایذاء میں مبتلا ہوجاتے تھے، مثلاً آپ کے گھر پر بغیر دعوت کے پہنچ جانا، یا دعوت کے وقت سے بہت پہلے آکر بیٹھ جانا، یا کھانے کے بعد آپ کے گھر میں باہمی گفتگو میں مشغول ہو کر دیر تک بیٹھے رہنا، جن پر آیت یٰایُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَتَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ (الآیۃ) نازل ہوئی، یہ ایذاء اور تکلیف تو وہ تھی جو بلا قصدوارادہ آپ کو پہنچ جاتی تھی، اس پر صرف تنبیہ کردینا ہی کافی سمجھا گیا، مذکورۃ الصدر دو آیتوں میں اس تکلیف و ایذا کا ذکر ہے جو مخالفین اسلام اور منافقین کی طرف سے قصداً آپ کو پہنچائی جاتی تھی، اس بالقصد وبالا رادہ ایذاء پر اللہ تعالیٰ نے لعنت اور عذاب کی وعید سنائی ہے۔ اللہ کو ایذاء پہچانے سے مراد ایسے اعمال و اقوال کا ارتکاب ہے جو شرعاً ممنوع و حرام ہیں، اگرچہ اللہ تعالیٰ کی ذات پاک اور ہر تاثر وانفعال سے منزہ ہے، کسی کی مجال نہیں کہ اس کو کوئی تکلیف پہنچا سکے، مگر ایسے افعال واقوال کا ارتکاب کہ جن سے عادۃ ایذاء ہوتی ہے، ان کو ایذاء اللہ سے تعبیر کردیا گیا ہے یا حوادث و مصائب کے وقت زمانہ کو برا زمانہ کہنا کہ درحقیقت فاعل حقیقی تو حق تعالیٰ ہی ہیں، یہ لوگ تو زمانہ کو فاعل سمجھ کر گالیاں دیتے تھے مگر درحقیقت وہ فاعل حقیقی تک پہنچی تھیں۔ اور دیگر بعض ائمہ تفسیر نے فرمایا کہ دراصل مقصد رسول اللہ ﷺ کی ایذاء سے روکنا اور اس پر وعید کرنا ہے مگر آیت میں ایذاء رسول کو ایذاء حق کے عنوان سے تعبیر کردیا گیا، کیونکہ آپ کو ایذاء پہنچانا درحقیقت اللہ تعالیٰ ہی کو ایذاء پہنچانا ہے، اور قرآن کے سیاق وسباق سے بھی اسی دوسرے قول کی ترجیح معلوم ہوتی ہے، کیونکہ پہلے بھی ایذاء رسول کا بیان تھا اور اگے بھی اسی کا بیان آرہا ہے اور رسول اللہ ﷺ کی ایذاء کا اللہ تعالیٰ کے لئے ایذاء ہونا حضرت عبدالرحمٰن بن مغفل مزنی ؓ کی روایت سے ثابت ہے۔ قَالَ رسُولُ اللہ ﷺ اللہ اللہ فِی اَصْحَابِی لَا تَتَّخِذُوْھُمْ غَرَضًا مِنْ بعدِیْ آذی اللہ وَمَنْ آذی اللہ یُوشِکُ اَنْ یَّاخُذَ.(ترمذی شریف) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرو ان کو میرے بعد اپنے اعتراضات و تنقیدات کا نشانہ نہ بناؤ کیونکہ ان سے جس نے محبت کی میری محبت کی وجہ سے کی، اور جس نے بغض رکھا میرے بغض کی وجہ سے رکھا، اور جس نے ان کو ایذاء پہنچائی اس نے مجھے ایذاء پہنچائی اور جس نے مجھے ایذاء دی اس نے اللہ کو ایذاء دی اور جس نے اللہ کو ایذاء دی تو قریب ہے کہ اللہ اس سے گرفت کرے گا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کی ایذاء سے اللہ کو ایذاء ہوتی ہے، اسی طرح یہ بھی معلوم ہوا کہ صحابہ کرام میں سے کسی کو ایذاء پہنچانا یا ان کی شان میں گستاخی کرنا رسول اللہ ﷺ کی ایذاء ہے۔ شان نزول : اس آیت کے شان نزول کے متعلق متعدد روایات ہیں، بعض میں ہے کہ یہ آیت حضرت صدیقہ کو تہمت لگانے کے بارے میں نازل ہوئی۔ اور بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت صفیہ سے آپ ﷺ کے نکاح کے وقت بعض منافقین نے طعن کیا تھا اس کے متعلق نازل ہوئی مگر صحیح بات یہ ہے کہ یہ آیت ہر ایسے معاملہ کے متعلق نازل ہوئی ہے جس سے رسول اللہ ﷺ کو اذیت پہنچے۔ مسئلہ : جو شخص رسول اللہ ﷺ کو کسی طرح کی ایذاء پہنچائے، آپ کی ذات باصفات میں کوئی عیب نکالے خواہ صراحتاً ہو یا کنایۃً وہ کافر ہوگیا، اور اس آیت کی رو سے اس پر لعنت دنیا میں بھی ہوگی اور آخرت میں بھی۔ (کذاقال القاضی ثناء اللہ فی التفسیر المظھری) دوسری آیت میں عام مومنین کو ایذاء پہنچانے کے حرام اور بہتان عظیم ہونے کو بیان کیا ہے جبکہ وہ اس کے شرعاً مستحق نہ ہوں، کسی مسلمان کو بغیر وجہ شرعی تکلیف پہنچانا حرام ہے۔
Ayahs 33:69–73

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اٰذَوْا مُوْسٰى فَبَرَّاَهُ اللّٰهُ مِمَّا قَالُوْا١ؕ وَ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ وَجِیْهًاؕ Open ayah 33:69 in the Quran reader

مومنو ! تم ان لوگوں جیسے نہ ہونا جنہوں نے موسیٰ کو (عیب لگا کر) رنج پہنچایا تو خدا نے ان کو بےعیب ثابت کیا اور وہ خدا کے نزدیک آبرو والے تھے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًاۙ Open ayah 33:70 in the Quran reader

مومنو ! خدا سے ڈرا کرو اور بات سیدھی کہا کرو

یُّصْلِحْ لَكُمْ اَعْمَالَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا Open ayah 33:71 in the Quran reader

وہ تمہارے سب اعمال درست کر دے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور جو شخص خدا اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بیشک بڑی مراد پائے گا

اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَهَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْهَا وَ حَمَلَهَا الْاِنْسَانُ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًاۙ Open ayah 33:72 in the Quran reader

ہم نے (بار) امانت کو آسمانوں اور زمینوں پر پیش کیا تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے اور انسان نے اس کو اٹھا لیا بیشک وہ ظالم اور جاہل تھا

لِّیُعَذِّبَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ وَ الْمُشْرِكٰتِ وَ یَتُوْبَ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 33:73 in the Quran reader

تاکہ خدا منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو عذاب دے اور خدا مومن مردوں اور مومن عورتوں پر مہربانی کرے اور خدا تو بخشنے والا مہربان ہے

آیت نمبر 69 تا 73 ترجمہ : اے ایمان والو ! تم اپنے نبی کے ساتھ ان لوگوں جیسے نہ بن جاؤ جنہوں نے موسیٰ کو مثلاً یہ کہہ کر ایذاء دی کہ موسیٰ کو ہمارے ساتھ (برہنہ) غسل کرنے سے سوائے اس کے کچھ مانع نہیں کہ وہ عظیم الخصیتین ہے پس جو بات انہوں نے کہی تھی اللہ نے اس ان کو بری فرمادیا، اس طریقہ سے کہ (ایک روز) غسل کے ارادہ (موسیٰ نے) اپنے کپڑے اتار کر ایک پتھر پر رکھ دیئے، تو پتھر ان کے کپڑے لیکر فرار ہوگیا، اور بنی اسرائیل کے سرداروں کے درمیان جاکر رکا، تو موسیٰ (علیہ السلام) نے پتھر کو وہاں جا کر پکڑا اور اس سے اپنے کپڑے لئے چناچہ ان لوگوں نے موسیٰ کو دیکھ لیا کہ ان کو عظیم الخصیتین ہونے کا مرض نہیں ہے اور اُدْرَۃ خصیتین میں ہوا بھر جانے کو کہتے ہیں اور موسیٰ اللہ کے نزدیک بڑے باعزت تھے یعنی صاحب مرتبہ تھے، اور ان باتوں میں سے جن کے ذریعہ ہمارے نبی ﷺ کو اذیت پہنچائی گئی یہ ہے کہ آپ ﷺ نے (ایک مرتبہ مال غنیمت) کی تقسیم فرمائی تو ایک شخص نے کہا یہ ایسی تقسیم ہے کہ اس سے اللہ کی خوشنودی مقصد نہیں ہے، تو نبی ﷺ کو اس تکلیف پہنچی اور فرمایا اللہ موسیٰ علیہ الصلاۃ السلام پر رحم کرے کہ اس سے بھی زیادہ تکلیف پہنچائے گئے پھر بھی صبر کیا، اس کو بخاری نے روایت کیا ہے اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور سیدھی صحیح بات کہا کرو اللہ تعالیٰ (اس کے صلہ میں) تمہارے اعمال کی اصلاح فرمائے گا اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا تو وہ بڑی کامیابی کو پہنچے گا، یعنی غایت مقصود کو حاصل کرے گا، ہم نے یہ امانت یعنی نماز وغیرہ کہ جس کے کرنے میں ثواب اور ترک میں عذاب ہے آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر پیش کی اس طریقہ پر کہ ہم نے اس میں سمجھ اور گویائی پیدا فرمائی تو انہوں نے اس کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکاری کردیا، اور اس سے ڈر گئے اور انسان یعنی آدم نے اس امانت کو اس پر پیش کئے جانے کے بعد قبول کرلیا بلاشبہ انسان بار امانت کو اٹھانے کی وجہ سے اپنے اوپر بہت ظلم کرنے والا اور بار امانت اٹھانے کے انجام سے بیخبر ہے اور یہ (عرض امانت) اس لئے ہوا کہ منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو جو کہ امانت کو ضائع کرنے والے ہیں سزا دے لیعذِّبَ اللہ کا لام عَرَضْنَا سے متعلق ہے، جس پر آدم (علیہ السلام) کا (بار امانت) اٹھانا مرتب ہے اور اللہ تعالیٰ (حق) امانت ادا کرنے والے مومن ومومنات کی توبہ قبول فرمائے گا، اور اللہ تعالیٰ غفور ورحیم ہے۔ تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد قولہ : لااُدْرَۃَ بِہٖ . اُدْرَۃ ایک مرض ہے جس میں مادۂ غلیظ یا ریح غلیظ خصیتین میں اتر آتا ہے جس کی وجہ سے خصیتین کا حجم بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے، ایسے شخص کو آدِرْ کہتے ہیں، بروزن آدِمْ ۔ قولہ : مِمَّا قَالُوْا مامصدریہ اگر ہے تو تقدیر عبارت ہوگی فَبَرَّأہُ اللہ من قولھم اور اگر موصولہ ہو تو تقدیر عبارت ہوگی فَبَرَّأہُ اللہ ای مِنَ الَّذِیْ قالُوْا۔ قولہ : بہٖ ای بالثوبِ. قولہ : مَمَّا اس میں من، مع کے معنی میں ہے ای مَعَ مَا فِی فِعْلِھَا . قولہ : منَ الثواب یہ ما کا بیان ہے۔ قولہ : اَبَیْن یہ اِبِاءٌ جمع مؤنث غائب کا صیغہ ہے۔ سوال : اَبَیْنَ ، یَحْمِلْنَ اور أشفَقْنَ یہ تینوں جمع مؤنث کے صیغے اور انکا مرجع سمٰوات، ارض، اور جبال ہے ان میں سمٰوات اور ارض مؤنث ہیں اور جبال مذکر ہے اس سے معلوم ہوتا ہے مؤنث کو غلبہ دیکر مؤنث کی ضمیریں لائی گئیں ہیں جبکہ غلبہ مذکر کو دیا جاتا ہے جواب : چونکہ سمٰوات اور جبال جمع تکسیر غیر عاقل ہیں لہٰذا ان کے لئے مونث کی ضمیر لانا جائز ہے۔ قولہ : وَحَمَلَھَا الإنسان اس کا معطوف علیہ محذوف ہے تقدیر عبارت یہ ہے کہ فَعَرَضْنَا ھَا فَحَمَلَھَا الاِنْسَانُ شارح (رح) تعالیٰ نے اپنے قول بَعدَ عرضِھَا علیہ سے اسی تقدیر کی طرف اشارہ کیا ہے۔ قولہ : ظَلُوْمًا لِنفسہٖ ای اِتْعَابُہٗ اِیَّاھَا یعنی اپنے نفس کو مشقت میں ڈالنا، شارح (رح) تعالیٰ نے اپنے قول بمَا حَملَہٗ سے اسی معنی کی طرف اشارہ کیا ہے اور یہ ظلم ممدوح ہے، اور جن حضرات نے اس کے بیان کرنے میں توقف کیا ہے وہ ظلم سے حقیقی ظلم سمجھے ہیں اور یہ حد شروع سے تجاوز ہے۔ قولہ : بہٖ ای بعاقبتہٖ (انجام) ۔ قولہ : لِیُعَذِّبَ اللہُ المنافقِیْنَ لام عاقبت کا ہے ای حَمَلَھا الإنسانُ لِیُعذِّبَ اللہُ بعضَ أفرادِ الذین لَمْ یُرَاعُوْھَا . تفسیر وتشریح یٰایھا۔۔۔ موسیٰ اس آیت کی تفسیر حدیث میں اس طرح آئی ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نہایت ہی باحیا اور شرمیلے تھے، چناچہ انہوں نے کبھی اپنا جسم لوگوں کے سامنے ننگا نہیں کیا، بنی اسرائیل کہنے لگے شاید موسیٰ (علیہ السلام) کے جسم میں برص کے داغ یا کوئی آفت مثلاً نفخ الخصیتین کا مرض ہے جس کی وجہ سے ہر وقت لباس میں بدن کا ڈھکا چھپا رکھتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی اس طرح عیوب سے براءت کا اظہار فرمادیں، ایک مرتبہ موسیٰ (علیہ السلام) نے خلوت میں غسل کرنے کے لئے کپڑے اتار کر ایک پتھر پر رکھ دیئے جب غسل سے فارغ ہو کر اپنے کپڑے لینا چاہے تو یہ پتھر (بحکم خداوندی حرکت میں آگیا) اور کپڑے لے کو بھاگنے لگا، موسیٰ (علیہ السلام) اپنا عصا اٹھا کر پتھر کے پیچھے یہ کہتے ہوئے دوڑے، ثَوْبِیْ یا حجرْ ثَوْبِی یا حَجَرْ مگر پتھر چلتا ہی رہا، یہاں تک کہ یہ پتھر ایسی جگہ جاکر ٹھہرا جہاں بنی اسرائیل کا ایک مجمع تھا، بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) کی ان عیوب سے براءت ظاہر فرمادی، جن کا گمان بنی اسرائیل کرتے تھے، پتھر وہاں پہنچ کر ٹھہر گیا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے کپڑے اٹھا کر پہن لئے پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے پتھر کو عصا سے مارنا شروع کیا، اس پتھر میں موسیٰ ٰ (علیہ السلام) کی ضرب سے کئی نشان پڑگئے۔ (صحیح بخاری کتاب الانساء، ملخصًا) یہ واقعہ بیان فرماکر آپ نے فرمایا، قرآن کی اس آیت کا یہی مطلب ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی جس ایذاء کا ذکر ہے اس کی تفسیر اس قصہ میں خود رسول اللہ ﷺ سے منقول ہے، موسیٰ (علیہ السلام) کی مذکورہ اذیت کے قصہ کے علاوہ اور بھی اذیت کے بعض قصے مذکور ہیں، بعض رواباب سے معلوم ہوتا ہے کہ قارون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے وعظ و نصیحت سے تنگ آکر ایک فاحشہ عورت کو کچھ رشوت دے کر اس بات پر آمادہ کرلیا تھا کہ موسیٰ جب مجمع عام میں وعظ فرمائیں تو موسیٰ (علیہ السلام) پر اپنے ساتھ ملوث ہونے کا الزام لگا دے، تاکہ ان کی خوب رسوائی اور بدنامی ہوجائے اور آئندہ کبھی وعظ و نصیحت کی جرأت نہ کرسکیں، چناچہ فاحشہ عورت نے منصوبے کے مطابق مجمع عام میں موسیٰ (علیہ السلام) پر یہ الزام لگا دیا جس سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بہت تکلیف پہنچی، آیت میں یہی اذیت مراد ہے۔ ایک تیسری روایت میں اذیت سے وہ اذیت مراد ہے جو بنی اسرائیل نے یہ کہہ کر لگائی کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو قتل کردیا، اس کی صورت یہ ہوئی، ایک روز حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) ایک پیاڑ پر تشریف لے گئے، وہاں بتقدیر الہٰی حضرت ہارون (علیہ السلام) کو موت آگئی، تو بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ پر یہ الزام لگا دیا کہ ہارون کو تم نے قتل کردیا اس لئے کہ وہ ہم سے آپ سے زیادہ محبت کرنے والے اور مہربان تھے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس سے بہت اذیت پہنچی۔ (روح المعانی ملخصًا) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے حوالے سے اہل ایمان کو سمجھایا جارہا ہے کہ تم ہمارے پیغمبر آخر الزمان حضرت محمد ﷺ کو بنی اسرائیل کی طرح ایذاء مت پہنچاؤ، اور آپ ﷺ کی بابت ایسی بات مت کرو جسے سن کر آپ قلق اور اضطراب محسوس کریں، جیسا کہ مال غنیمت کی تقسیم کے موقع پر ایک شخص نے کہا کہ اس میں عدل و انصاف سے کام نہیں لیا گیا، جب آپ ﷺ تک یہ الفاظ پہنچے تو غضبناک ہوئے حتی کہ آپ ﷺ کا چہرۂ انور سرخ ہوگیا اور آپ نے فرمایا موسیٰ (علیہ السلام) پر اللہ کی رحمت ہو، انہیں اس سے کہیں زیادہ ایذاء پہنچائی گئی لیکن انہوں نے صبر کیا۔ (بخاری شریف کتاب لانبیاء) سدید۔۔ السھم سے ماخوذ ہے یعنی جس طرح تیر کو سیدھا کیا جاتا ہے تاکہ ٹھیک نشانہ پر لگے، اسی طرح تمہاری زبان سے نکلی ہوئی بات اور تمہارا کر ادا راستی پر مبنی ہو، حق و صداقت سے بال برابر انحراف نہ ہو، اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تمہارے اعمال کی اصلاح ہوگی اور مزید مرضیات کی توفیق سے نوازے جاؤ گے، اور اگر کچھ کمی کوتاہی رہ جائے تو اللہ تعالیٰ اسے معاف فرمادیں گے۔ جب اللہ تعالیٰ اہل طاعت کا اجر وثواب اور اہل معصیت کا عذاب و عقاب بیان فرماچکے تو اب احکام شرعیہ اور ان کی صعوبت کا تذکرہ فرما رہے ہیں، امانت سے وہ احکام شرعیہ اور فرائض وواجبات مراد ہیں، جن کی ادئیگی پر ثواب اور ان سے اعراض و انکار پر عذاب ہوگا، جب یہ تکالیف شرعیہ آسمان و زمین اور پہاڑوں پر پیش کی گئیں، تو وہ ان کے اٹھانے سے ڈر گئے لیکن انسان پر یہ چیزیں پیش کی گئیں تو اطاعت الہٰی (امانت) کے اجروثواب اور اس کی فضیلت کو دیکھ کر اس بار گراں کے اٹھانے پر آمادہ ہوگیا، احکام شرعیہ کو امانت سے تعبیر کرکے اشارہ کردیا کہ ان کی ادائیگی انسانوں پر اسی طرح واجب ہے جس طرح امانت کی ادائیگی ضروری ہوتی ہے۔ یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ آسمان و زمین، پہاڑ وغیرہ جو غیر ذی روح اور بظاہر بےعلم و بےشعور ہیں ان کے سامنے پیش کرنے اور ان کے جواب دینے کی کیا صورت ہوسکتی ہے، بعض حضرات نے تو اس کو مجاز اور تمثیل قرار دیا ہے، جیسے قرآن کریم نے ایک موقع پر بطور تمثیل فرمایا لَوْ اَنْزَلْنَا ھٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلیٰ جَبَلٍ لَّرَأَیْتَہٗ خَاشِعاً مُّتَصَدِّ عًا مِّنْ خَشْیَۃِ اللہ یعنی ہم اگر یہ قرآن پہاڑوں پر نازل کرتے تو تم دیکھتے کہ وہ اس کے بوجھ سے جھک جاتا اور اللہ کے خوف سے ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا، اس میں بطور یہ مثال سی گئی ہے، یہ نہیں کہ حقیقۃً پہاڑ پر اتارا ہو، ان حضرات نے آیت اِنَّا عَرَضْنَا کو بھی اسی طرح تمثیل ومجاز قرار دیدیا۔ مگر جمہور علماء کے نزدیک یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ جس آیت سے تمثیل پر استدلال کیا گیا ہے وہاں تو قرآن کریم نے حرف لَوْ سے بیان کرکے اس کا قضیہ ہونا خودواضح کردیا ہے، اور آیت اِنَّا عَرَضْنَا میں ایک واقعہ کا اثبات ہے، جس کو مجاز و تمثیل پر حمل کرنا بغیر کسی دلیل کے جائز نہیں، اور اگر دلیل میں یہ کہا جائے کہ یہ چیزیں بےحس اور بےشعور ہیں، ان سے سوال و جواب نہیں ہوسکتا تو یہ قرآن کی دوسری تصریحات سے مردود ہے، کیونکہ قرآن کریم کا واضح ارشاد ہے وَاِنْ مِّنْ شَیْئٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ یعنی کوئی شئ ایسی نہیں کہ خدا کی حمد و تسبیح نہ کرتی ہو، اس آیت سے ثابت ہوا کہ ادراک و شعور تمام مخلوقات میں ہے یہاں تک کہ جمادات میں بھی موجود ہے، اور اس ادراک و شعور کی وجہ سے ان کو مخاطب بھی بنایا جاسکتا ہے، اور وہ جواب بھی دے سکتے ہیں۔ عرض امانت اختیاری تھا جبری نہیں : رہا یہ سوال کہ جب حق تعالیٰ نے آسمان زمین وغیرہ پر اس امانت کو خود پیش فرمایا تو ان کو انکار کی مجال کیسے ہوئی ؟ جواب : جواب یہ ہے کہ عرض امانت کے بعد ان کو اختیار دیدیا گیا تھا کہ قبول کریں یا نہ کریں، ابن کثیر نے متعدد سندوں کے ساتھ عرض امانت کی یہ تفصیل نقل کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اول آسمان پر پھر زمین پر پھر پہاڑوں پر امانت کو اختیاری صورت میں پیش کیا کہ ہماری امانت (یعنی طاعت احکام) کا بوجھ اٹھالو اس معاوضہ کے ساتھ جو اس کے لئے مقرر ہے، ہر ایک نے سوال کیا کہ معاوضہ کیا ہے ؟ تو بتلایا گیا حق امانت (یعنی اطاعت احکام) تم نے پوری طرح ادا کیا تو تمہیں جزاء وثواب اور اللہ کے نزدیک اعزاز خاص ملے گا، اور اگر تم نے تعمیل احکام نہ کی یا اس میں کوتاہی کی تو عذاب و سزا ملے گی، ان سب بڑے بڑے اجسام نے سن کر جواب دیا کہ اے ہمارے پروردگار ہم اب بھی آپ کے تابع فرمان چل رہے ہیں، لیکن جب ہمیں اختیار دیدیا گیا تو ہم اس بار کو اٹھانے سے اپنے کو عاجز پاتے ہیں، ہم نہ ثواب چاہتے ہیں اور نہ عذاب کے متحمل ہیں۔ اور تفسیر قرطبی میں حکیم ترمذی کے حوالہ سے حضرت ابن عباس ؓ کی یہ روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آسمان و زمین وغیرہ پر عرض امانت اور ان کے جواب کے بعد حق تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو خطاب فرمایا اور فرمایا کہ ہم نے اپنی امانت آسمان و زمین کے سامنے پیش کی تو وہ اس بار اٹھانے سے عاجز ہوگئے، تو کیا تم اس بار امانت کو مع اس چیز کے جو اس کے ساتھ ہے اٹھاؤگے، آدم (علیہ السلام) نے عرض کیا، اے پروردگار وہ چیز جو اس کے ساتھ ہے کیا ہے ؟ جواب ملا اگر حمل امانت میں پورے اترے (یعنی اطاعت مکمل کی) تو آپ کو جزا ملے گی جو اللہ کے قرب اور رضا اور جنت کی دائمی تعمتوں کی صورت میں ہوگی، اور امانت کو ضائع کیا تو سزا ملے گی، آدم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے قرب و رضا میں ترقی ہونے کی شوق میں اس کو اٹھالیا، یہاں تک بار امانت اٹھانے پر اتنا وقت بھی گذرا تھا، جتنا ظہر سے عصر تک ہوتا ہے کہ اس میں شیطان نے ان کو مشہور لغزش میں مبتلا کردیا، اور جنت سے نکالے گئے۔ عرض امانت کا واقعہ کب پیش آیا ؟ ظاہر یہ ہے کہ عرض امانت کا واقعہ میثاق ازل یعنی عہد الست سے پہلے کا ہے، کیونکہ عہد الست بربکم اسی بار امانت کی پہلی کڑی اور اپنے منصب کا حلف اٹھانے کے قائم مقام ہے۔ انہٗ ۔۔ جھولاً ظلوم سے مراد اپنے نفس پر ظلم کرنے والا (یعنی خود کو مشقت میں ڈالنے والا) اور جہول سے مراد ہے انجام سے ناواقف اور بیخبر ، اس جملہ سے بظاہر یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ مطلقاً انسان کی مذمت میں آیا ہے، کہ اس نادان نے اپنی جان پر ظلم کیا کہ اتنا بڑا بار اٹھالیا جو اس کی طاقت سے باہر تھا، مگر قرآنی تصریحات کے مطابق واقعہ ایسا نہیں ہے، کیونکہ انسان سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہوں گے یا پوری نوع انسانی ؟ ان میں آدم (علیہ السلام) تو نبی معصوم ہیں انہوں نے جو بار اٹھایا تھا اس کا حق بھی یقینی طور پر ادا کردیا، اسی کے نتیجے میں ان کو خلیفہ اللہ بنا کر زمین پر بھیجا گیا، ان کو فرشتوں کا مسجود بنایا گیا، اور آخرت میں ان کا مقام فرشتوں سے بھی بلند وبالا، ارفع واعلیٰ ہے۔ اور اگر نوع انسانی ہی مراد ہو تو اس پوری نوع میں لاکھوں تو انبیاء علیہم اسلام ہیں اور کروڑوں وہ صالحین اور اولیاء اللہ ہیں جن پر فرشتے بھی رشک کرتے ہیں، جنہوں نے اپنے عمل سے ثابت کردیا کہ وہ اس امانت الہٰیہ کے اہل اور مستحق تھے، انہیں حق امانت کو ادا کرنے والوں کی بناء پر قرآن حکیم نے نوع انسانی کو اشرف المخلوقات ٹھہرایا وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِی آدَمَ اس سے ثابت ہوا کہ نہ آدم (علیہ السلام) قابل مذمت ہیں نہ پوری نوع انسانی، اسی لئے حضرات مفسرین نے فرمایا کہ یہ جملہ مذمت کے لئے نہیں بلکہ اکثر افراد نوع انسانی کے اعتبار سے بیان واقعہ کے طور پر ارشاد ہوا ہے، مطلب یہ ہے کہ نوع انسانی کی اکثریت ظلوم و جہول ثابت ہوئی جس نے اس امانت کا حق ادا نہ کیا، اور خسارہ میں پڑے چونکہ اکثریت کا یہ حال تھا اس لئے اس کو نوع انسانی کی طرف منسوب کردیا گیا۔ (قرطبی) خلاصہ یہ کہ آیت میں ظلوم و جہول خاص ان افراد انسانی کو کہا گیا ہے جو احکام شرعیہ کی اطاعت میں پورے نہ اترے، اور امانت کا حق ادا نہ کیا یعنی امت کے کفار و مشرکین وفساق ومنافقین، یہ تفسیر حضرت ابن عباس ؓ اور ابن جبیر وغیرہ سے منقول ہے۔ (قرطبی) اور بعض حضرات نے کہا کہ ظلوم و جہول بھولے بھالے کے معنی میں بطور محبانہ خطاب کے ہے، کہ اس نے اللہ جل شانہ کی محبت اور اس کے مقام قرب کی جستجو میں انجام کو نہیں سوچا اس طرح یہ لفظ پوری نوح انسانی کے لئے بھی ہوسکتا ہے تفسیر مظہری میں حضرت مجدد الف ثانی اور دوسرے صوفیاء کرام سے اسی طرح کا مضمون منقول ہے۔ (معارف) تم بحمداللہ