Ayahs 33:21–27آیت نمبر 21 تا 27
ترجمہ : یقیناً تمہارے لئے (حیاتِ ) رسول اللہ میں اقتداء کے لئے قتال میں اور قتال میں ثابت قدم رہنے میں عمدہ نمونہ موجود ہے اسوۃ کے ہمزہ پر کسرہ اور ضمہ کے ساتھ (یعنی) ہر اس شخص کے لئے جو اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت سے ڈرتا ہے اور اللہ کا بکثرت ذکر کرتا ہے بخلاف اس شخص کے جو اس صفت پر نہیں ہے لِمَنْ ، لَکُمْ سے بدل ہے اور ایمان والوں نے جب کفار کے لشکروں کو دیکھا تو بےساختہ کہہ اٹھے یہی ہے وہ آزمائش اور نصرت کہ جس کا وعدہ اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے کیا تھا، اللہ اور اس کا رسول وعدہ میں سچا ہے اور اس چیز نے اللہ کے وعدے کی تصدیق اور اس کے حکم کے امتثال میں اضافہ کردیا ان مومنین میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ جنہوں نے نبی کے ساتھ ثابت قدم رہنے کا جو عہد کیا تھا سچ کر دکھایا پھر بعض ان میں وہ ہیں جو اپنی نذر پوری کرچکے انتقال کرگئے، یا اللہ کے راستہ میں شہید کردیئے گئے اور ان میں سے بعض موقع کے منتظر ہیں، اور انہوں نے عہد میں کوئی تبدیلی نہیں کی اور ان کا حال منافقین کے حال کے برخلاف ہے (یہ واقعہ اس لئے ہوا) تاکہ اللہ تعالیٰ سچے مسلمانوں کو ان کے سچ کا صلہ دے اور منافقین کو اگر چاہے سزا دے اس طریقہ پر کہ ان کو نفاق ہی پر موت دے، اور اگر چاہے تو ان کی توبہ قبول کرے بلاشبہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں پر بڑا مہربان ہے، اور اللہ تعالیٰ نے کافروں یعنی احزاب کو غصہ میں بھرا ہوا نامراد واپس لوٹا دیا یعنی وہ مومنین پر فتح کی مراد کو حاصل نہ کرسکے، اور اللہ تعالیٰ قتال میں مومنین کی طرف سے آندھی اور ملائکہ کے ذریعہ خود ہی کافی ہوگیا اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہے اس کے موجود کرنے پر بڑی قوت والا ہے اور اپنے امر پر غالب ہے اور جن اہل کتاب یعنی نبی قریظہ نے ان کی مدد کی تھی ان کو بھی ان کے قلعوں سے نکال دیا صیاصی صِیْصِیَۃٌ کی جمع، اس عمارت کو کہتے ہیں جس کے ذریعہ حفاظت کی جاتی ہے (قلعہ) اور ان کے قلوب میں رغب خوف بھر دیا ان، میں سے ایک فریق کو تم قتل کررہے تھے اور وہ مقاتلین (جنگباز) تھے، اور ان میں سے ایک فریق (یعنی) بچوں کو قید کررہے تھے اور اس نے تم کو ان کی زمین کا اور ان کے گھر بار اور ان کے اموال کا وارث بنادیا اور اس زمین کا بھی کہ جہاں ابھی تک تمہارے قدم نہیں پہنچے (وارث بنادیا) اور وہ ارض خیبر ہے جو قریظہ کے بعد قبضہ میں لی گئی اور اللہ ہر شئ پر قادر ہے۔
تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد
قولہ : اُسْوَۃٌ نمونہ عمل، اسم بمعنی مصدر ہے اَلإئتِسَاءُ اقتداء کرنا شارح (رح) تعالیٰ نے اقتداء کے اضافہ سے اشارہ کردیا کہ اُسْوَۃٌ اسم مصدر کے معنی میں ہے جیسے قدْوَۃٌ بمعنی اقتداء ائتَسٰی فلانٌ بِفُلانٍ ای اقتدیٰ بہٖ.
قولہ : فِی القِیَالِ والثباتِ یہ دونوں قیدیں اتفاقی ہیں اس کا مفہوم مخالف مراد نہیں ہے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ آپ کی زندگی بہتر نمونۂ عمل ہے ہرحال میں خواہ حالت جنگ ہو یا حالت امن یا حالت قتال میں ثابت قدمی کا معاملہ ہو یا شجاعت پا مرادی کا۔
قولہ : فی مواطنِہٖ ای مواطن قتال کسی عارف نے کیا خوب کہا ہے۔ ؎
وَخَصَّکَ بالھُدیٰ فی کُلِّ اَمْرٍ فَلَسْتَ تَشَاءُ الاَّ مَا یَشَاءُ
قولہ : بَدَلٌ مِنْ لَکمْ یعنی لِمَنْ ، لَکُمْ سے اعادۂ جار کے ساتھ بدل البعض ہے۔
قولہ : مَا وَعَدَنَا اللہُ اللہ کے وعدہ سے اللہ تعالیٰ کا قول اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الجنَّۃَ (الآیۃ) مراد ہے، اور قول رسول سے آپ ﷺ کا قول اَنَّ الا حزَابَ سَائرُ ونَ بعدَ تِسْعِ لیالٍ اوعَشروقولہ ﷺ سَیَشُدُّ الاَ مْرُ بِاِجمَاعِ الْاَ حزَبِ عَلَیْکُمْ وَ الْعَاقِبَۃُ لَکُمْ عَلَیْھِمْ مراد ہے۔
قولہ : صَدَقَ اللہُ ای ظَھَرَ صِدْقُہٗ ۔ قولہ : صَدَقَ اللہ ورسُوْلُہٗ اسم کی جگہ اسم ظاہر لائے ہیں۔
سوال : اوپر اللہ اور رسول کا ذکر صراحۃً ہوچکا ہے، لہٰذا یہاں ضمیر لانا یعنی صَدَقَا کہنا کافی تھا، اسم ظاہر لانے کی کیا وجہ ہے ؟
جواب : (1) اللہ کے نام کی تکریم و تعظیم کے لئے اللہ کے نام کو مستقلاً ذکر کیا۔
جواب : (2) یہ ہے کہ ضمیر لانے میں اللہ اور رسول کا نام ایک لفظ میں جمع ہوجاتا، اس لئے کہ دونون کے لئے تثنیہ کا صیغہ صَدَقَا لایا جو موہم الی الشرک ہے، نیز آپ ﷺ نے دونوں اسموں کو لفظ واحد میں جمع کرنے سے منع فرمایا ہے اور ایک خطیب کی جسنے مَنْ یُطِعِ اللہ ورسُوْلَہٗ فَقَدْ رَشَدَ وَمَن یَعْصِھِمَا فَقَدْ غَوَیٰ کہا تھا، مذمت فرماتے ہوئے فرمایا بئسَ خطیبُ القوم اَنْتَ قل ومَنْ یعصِ اللہ ورسُوْلَہ .
قولہ : نَحْبَہٗ ، نَحْبٌ نذر، منت، یہ موت سے کنایہ ہے، اس لئے کہ ہر جاندار کے لئے نذر کی طرح موت بھی لازم ہوتی ہے۔
قولہ : صِیْصِیَۃٌ ما یُتَحصَّنُ بہٖ یعنی جس کے ذریعہ حفاظت کی جائے خواہ قلعہ ہو یا اور کوئی شئ مثلاً سینگ، مرغ کا خار، وغیرہ۔
تفسیر وتشریح
لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فی رسول اللہِ اُسوۃٌ حسَنَۃٌ سے واَنزَلَ الَّذِیْنَ ظَاھَرو ھم من اھل الکتاب تک واقعۂ احزاب کا تتمہ ہے، ان آیات میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان مومنین مخلصین اور منافقین پر عتاب فرمایا ہے جو غزوۂ احزاب میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ شریک نہیں ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے مسلمانو ! اور منافقو ! تم سب کے لئے رسول اللہ ﷺ کی ذات میں بہترین نمونہ ہے پس تم جہاد میں اور صبر و ثبات میں اسی کی پیروی کرو، ہمارا یہ پیغمبر جہاد میں بھوکا رہا حتی کہ اپنے پیٹ پر پتھر باندھے ان کا چہرۂ انور زخمی ہوگیا، ان کے دندان مبارک شہید ہوئے اور خندق اپنے ہاتھوں سے کھودی اور تقریباً ایک ماہ دشمن کے سامنے سینہ سپر رہا، یہ آیت جنگ احزاب کے ضمن میں نازل ہوئی ہے، جس میں جنگ کے موقع پر بطور خاص رسول اللہ ﷺ کے اسوۂ حسنہ کو سامنے رکھنے اور اس کی اقتداء کرنے کا حکم دیا گیا ہے، مگر یہ حکم عام ہے، یعنی آپ ﷺ کے تمام اقوال و افعال میں مسلمانوں کے لئے آپ ﷺ کی اقتداء ضروری ہے، چاہے اس کا تعلق عبادات سے ہو یا معاشرت سے، معیشت سے، یا سیاست سے زندگی کے ہر شبعہ میں آپ کی ہدایات واجب الاتباع ہیں۔
لمن۔۔ اللہَ سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اسوۂرسول کو وہی شخص اپنائے گا جو آخرت میں اللہ کی ملاقات پر یقین رکھتا ہو اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرتا ہو، آج مسلمان بالعموم ان دونوں وصفوں سے محروم ہیں اس لئے اسوۂ رسول کی بھی ان کے دلوں میں کوئی اہمیت نہیں ہے۔ منافقین نے تو دشمن کی کثرت تعداد اور حالات کی سنگینی کو دیکھ کر کہا تھا اللہ اور رسول کے دعوے فریب تھے، ان کے برعکس اہل ایمان نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول نے جو وعدہ کیا ہے کہ ابتلاء و امتحان سے گذرنے کے بعد تمہیں فتح و نصرت سے ہمکنار کیا جائے گا وہ سچا ہے، مطلب یہ ہے کہ حالات کی شدت اور ہولناکی نے ان کے ایمان کو متزلزل نہیں کیا، بلکہ ان کے ایمان میں جدبہ اطاعت وانقیاد اور تسلیم و رضاء میں اضافہ کردیا، اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ مختلف احوال کے اعتبار سے ایمان اور اس کی قوت میں کمی بیشی ہوتی ہے جیسا کہ اہل سنت والجماعت کا مسلک ہے۔
شان نزول : من۔۔۔ صدقوا یہ آیت صحابہ کرام کی ایک جماعت کے بارے میں نازل ہوئی جن میں بعض وہ حضرات بھی شامل تھے کہ جو کسی وجہ سے غزوۂ بدر میں شریک نہیں ہوسکتے تھے مگر انہوں نے یہ عہد کیا تھا کہ اگر آئندہ کبھی آپ ﷺ کی معیت میں جہاد میں شریک ہونے کا موقع ملے گا تو ہم جہاد میں بھرپور حصہ لیں گے اور راہ خدا میں اپنی جان عزیز بھی قربان کردیں گے جیسے نضر بن انس ؓ وغیرہ، بالآخر لڑتے ہوئے جنگ احد میں شہید ہوئے، ان کے جسم پر تیر و تلوار وغیرہ کے اسی سے بھی زیادہ زخم تھے، ان کی شہادت کے بعد ان کی ہمشیرہ نے انہیں ان کی انگلی کے پوروں سے پہچانا (مسند احمد 4، ص 193) نَحْبٌ کے معنی نذر، عہد، موت کے ہیں، مطلب یہ ہے کہ ان صادقین میں سے کچھ نے اپنا عہد اور نذر پوری کرتے ہوئے جام شہادت نوش کرلیا۔ اور بعض وہ ہیں جو ابھی تک عروس شہادت سے ہمکنار نہیں ہوئے ہیں تاہم شہادت کے شوق میں شریک جہاد ہوتے ہیں، اور شہادت کی سعادت کے آرزو مند ہیں، انہوں نے اپنی نذر یا عہد میں تبدیلی نہیں کی۔
رد۔۔ کفروا یعنی کفار کا لشکر ذلت و ناکامی سے پیچ وتاب کھاتا ہوا اور غصہ سے دانت پیستا ہوا خائب و خاسر میدان چھوڑ کر بھاگ گیا، نہ فتح نصیب ہوئی اور نہ مال ہاتھ لگا، البتہ عمرو بن عبدودّ جیسا نامور سوار جسے لوگ ہزار سواروں کے برابر سمجھتے تھے حضرت علی کرم اللہ وجہہٗ کے ہاتھ سے مارا گیا، مشرکین نے درخواست کی کہ دس ہزار درہم کے بدلے اس کی لاش ہمیں دیدی جائے، آپ نے فرمایا تم لیجاؤ، ہم مردوں کا ثمن نہیں کھاتے (فوائدعثمانی) غزوۂ احزاب میں دو بدو مقابلہ کی نوبت نہیں آئی اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ہوا کا طوفان اور فرشتوں کا لشکر بھیج کر وہ اثر پید کیا کہ کفار سراسیمہ اور مرغوب ہو کر بھاگ گئے، اس وقت آپ نے فرمایا الآن نغروھم ولا یغزونا نحن نسیر الیھم الخ . (خازن، جمل)
غزوۂ بنی قریظہ : وأنزل۔۔۔ الکتاب غزوۂ بنوقریظہ چونکہ غزوۂ احزاب کا تتمہ بلکہ اسی کا ایک حصہ ہے اس لئے غزوۂ احزاب کے بعد غزوۂ بنی قریظہ کا ذکر فرمایا چونکہ ان دونوں غزوات میں زندگی کے مختلف شعبوں سے متعلق بہت سی ہدایات اور رسول اللہ ﷺ کے معجزات و بینات اور بہت سی عبرتیں اور نصیحتیں ہیں اس لئے ان دونوں غزوات کو تفصیل سے لکھا گیا ہے، اور خود قرآن کریم میں تفصیل کے ساتھ دو رکوع میں ذکر کیا گیا ہے۔ غزوۂ بنی قریظہ ذیقعدہ 5 ھ یوم شنبہ کو پیش آیا، رسول اللہ ﷺ غزوۂ خندق سے صبح کی نماز کے بعد واپس ہوئے آپ ﷺ نے مسلمانوں نے ہتھیار کھول دیئے، جب ظہر کا وقت آیا تو جبرئیل امین ایک خچر پر سوار عمامہ باندھے ہوئے تشریف لائے۔
فائدہ : ابن سعد کی روایت میں ہے کہ جبرئیل امین موضع جنائز (وہ جگہ جو آپ نے نماز جنازہ کے لئے مسجد سے علیحدہ بنوائی تھی) کے قریب آکر کھڑے ہوگئے، (طبعات ص 53، ج 2) معلوم ہوا کہ جنازہ کی نماز مسجد میں نہ پڑھنی چاہیے، ورنہ نماز جنازہ کے لئے مسجد سے علیحدہ جگہ بنانے کی کیا حاجت تھی ؟ جبرئیل امین نے آپ ﷺ سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا، کیا آپ ﷺ نے ہتھیار اتار دیئے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں، جبرئیل (علیہ السلام) نے فرمایا فرشتوں نے تو ابھی نہیں کھولے، اور نہ وہ ہنوز واپس ہوئے، اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے آپ کو بنو قریظہ کی طرف جانے کا حکم فرمایا ہے، اور میں خود بھی بنی قریظہ کی طرف جارہا ہوں ان کو جا کر متزلزل کرتا ہوں۔ (البدایۃ والنھایہ ج 4، ص 116)
حضرت انس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور بنی قریظہ کے درمیان پہلے معاہدہ تھا جب قریش پورے جزیرۃ العرب کا متحدہ محاذ بنا کر مدینہ منورہ پر حملہ آور ہوئے تو بنو قریظہ آپ ﷺ سے معاہدہ توڑ کر قریش کے ساتھ مل گئے (اس کی کچھ تفصیل سابق میں گذر چکی ہے) جب احزاب کو اللہ تعالیٰ نے شکست دی تو بنی قریظہ قلعہ بند ہوگئے، حضرت جبرئیل فرشتوں کی ایک کثیر جماعت کے ساتھ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ فوراً بنی قریظہ کی طرف روانہ ہوجائیں، آپ نے فرمایا میرے اصحاب ابھی تھکے ہوئے ہیں، جبرئیل (علیہ السلام) نے فرمایا کہ آپ اس کا خیال نہ کریں اور روانہ ہوجائیں چناچہ نبی کریم ﷺ نے حکم دیا کہ کوئی شخص سوائے بنی قریظہ کے کہیں نماز عصر نہ پڑھے، راستہ میں جب نماز عصر کا وقت آیا تو اختلاف ہوا تو بعض حضرات نے کہا ہم تو بنی قریظہ پہنچ کر ہی عصر کی نماز پڑھیں گے بعض نے کہا ہم نماز پڑھ لیتے ہیں، چناچہ کچھ لوگوں نے راستہ ہی میں نماز عصر ادا کرلی، اور بعض حضرات نے بنی قریظہ پہنچ کر عصر کی نماز قضاء کی، قضاء نماز پڑھنے والوں نے کہا چونکہ آپ ﷺ نے بنی قریظہ پہنچ کر ہی نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے اس لئے ہم تو بنی قریظہ پہنچ کر ہی نماز پڑھیں گے، اور راستے میں نماز پڑھنے والوں نے یہ دلیل دی کہ رسول اللہ ﷺ کا یہ مقصد نہ تھا کہ نماز قضاء کردی جائے بلکہ مقصود تعجیل تھا، جب رسول اللہ ﷺ کے سامنے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ نے کسی پر اظہار ناراضگی نہیں فرمایا (بخاری شریف) اس لئے کہ نیت ہر ایک کی خیر تھی۔
فائدہ : حافظ ابن قیم فرماتے ہیں جس نے حدیث کے ظاہر الفاظ پر عمل کیا اس کو بھی اجر ملا اور جس نے اجہتاد و استنباط کیا اس کو بھی اجر ملا، لیکن جن لوگوں نے ظاہر الفاظ پر نظر کرکے بنی قریظہ پہنچنے سے پہلے نماز عصر ادا نہ کی حتی کہ وقت عصر نکل گیا تو ان لوگوں کو فقط ایک فضیلت حاصل ہوئی یعنی حکم نبوی کی تعمیل کا اجر ملا، اور جن لوگوں نے اجتہاد واستنباط سے کام لیا اور منشاء بنوی کو
سمجھا ان لوگوں کو دہرا اجر۔ (فتح الباری ملخصاص 316، ج 7)
بعد ازاں آپ ﷺ نے حضرت علی کو رأیۃ اسلام دے کر روانہ فرمایا جب علی وہاں پہنچے تو یہود نے آنحضرت ﷺ کو کھلم کھلا گالیاں دیں، اس کے بعد آپ ﷺ روانہ ہوئے اور پہنچ کر نبی قریظہ کا محاصرہ کیا، پچیس روز تک ان کو محاصرہ میں رکھا، اس اثناء میں ان کے سردار کعب بن اسد نے ان کو جمع کرکے یہ کہا کہ میں تین باتیں تم پر پیش کرتا ہوں ان میں سے جس ایک کو چاہو اختیار کرلو تاکہ تم اس مصیبت سے بجات ملے۔
اولؔ یہ کہ ہم اس شخص (یعنی محمد ﷺ پر ایمان لے آئیں اور اس کے متبع اور پیروبن جائیں۔
فَوَاللہ لَقَدْ تَبَیَّنَ لکم اَنَّہٗ نبیٌ مُرسلٌ واَنہٗ الّذی تجدونہٗ فی کتابکم فتامنون علیٰ دمائکم واموالکم ابناء کم ونساء کم .
کیونکہ خدا کی قسم تم پر یہ بات بالکل واضح ہوچکی ہے، کہ وہ بلاشبہ اللہ کے نبی اور رسول ہیں اور تحقیق یہ وہی نبی ہیں جن کو تم تورات میں لکھا پاتے ہو اگر ایمان لے آؤ گے تو تمہاری جان اور مال اور عورتیں سب محفوظ ہوجائیں گی۔
نبی قریظہ نے کہا ہمیں یہ منظور نہیں، دوسری بات یہ کہ بچوں اور عورتوں کو قتل کرکے بےفکر ہوجاؤ اور شمشیر بکف ہو کر پوری ہمت اور پامردی کے ساتھ محمد ﷺ کا مقابلہ کرو اگر باکام رہے تو عورتوں اور بچوں کا کوئی غم نہ ہوگا اور اگر کامیاب ہوگئے تو عورتیں بہت ہیں ان سے بچے بھی پیدا ہوجائیں گے، بنو قریظہ نے جواب دیا کہ بلاوجہ عورتوں اور بچوں کو قتل کرکے زندگی کا کیا لطف ہے ؟ کعب نے کہا اچھا اگر یہ منظور نہیں تو تیسری بات یہ ہے کہ آج ہفتہ کی شب ہے عجب نہیں کہ محمد اور ان کے ساتھی غافل اور بیخبر ہوں، اور ہماری طرف سے اس وجہ سے مطمئن ہوں کہ ہفتہ ہمارے نزدیک محترم ہے ہم اس دن میں حملہ نہیں کرسکتے، مسلمانوں کی اس غفلت اور بیخبر ی سے یہ فائدہ اٹھاؤ کہ اچانک ان پر شب خون مارو، بنو قریظہ نے کہا اے کعب تجھ کو معلوم ہے کہ ہمارے اسلاف اسی دن کی بےحرمتی کی وجہ سے بندر اور سؤر بنائے گئے، پھر تو ہم کو اسی کام کا حکم دیتا ہے، الغرض بنو قریظہ نے کعب کی ایک بات بھی نہ مانی، اور سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے ہتھیار ڈال دیں اور آپ ان کے بارے میں جو فیصلہ فرمائیں اس پر راضی ہوجائیں، قبیلہ اوس نے جن کا بنو قریظہ سے قدیم زمانہ میں معاہدہ رہا تھا آپ ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ آپ ان کے ساتھ بھی وہی معاملہ کریں جو بنی نضیر کے ساتھ کیا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا وہ تمہارے سردار سعد بن معاذ ہیں ان کا فیصلہ میں ان کے سپرد کرتا ہوں اس پر سب لوگ راضی ہوگئے۔ حضرت سعدبن معاذ چونکہ واقعہ خندق میں ایک تیر لگنے کی وجہ سے شدید زخمی ہوگئے تھے، آپ ﷺ نے حضرت سعد بن معاذ کا خیمہ مسجد نبوی کے صحن میں لگوادیا تھا تاکہ تیمار داری میں سہولت رہے، جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ بنو قریظہ کا فیصلہ حضرت سعد ہی پر چھوڑدیا تھا، حضرت سعد نے یہ فیصلہ دیا کہ ان میں جو جنگ کرنے والے جوان ہیں وہ قتل کردیئے جائیں اور عورتوں بچوں نیز بوڑھوں کے ساتھ جنگی قیدیوں کا معاملہ کیا جائے جو اسلام میں معروف ہے، چناچہ یہی فیصلہ نافذ کردیا گیا، اس فیصلے کے فوراً بعد ہی حضرت سعد کے زخم بہہ پڑا اسی میں ان کا انتقال ہوگیا، اللہ تعالیٰ نے ان کی دونوں دعائیں قبول فرمائیں، ایک یہ کہ آئندہ قریش کا رسول اللہ ﷺ پر کوئی حملہ نہ
ہوگا، دوسرے یہ کہ بنو قریظہ کو ان کی غداری کی سزا مل جائے۔
Ayahs 33:28–34آیت نمبر 28 تا 34
ترجمہ : اے نبی آپ اپنی ازواج سے کہہ دیجئے اگر تم دنیوی زندگی (کا عیش) اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ میں تم کو کچھ یعنی متعۂ طلاق دیدوں اور اگر تمام اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کو چاہتی ہو یعنی جنت کو تو یقین جانو کہ تم میں نیک کام کرنے والیوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے ارادۂ آخرت پر زبردست اجر یعنی جنت تیار کررکھی ہے، چناچہ ان سب نے آخرت کو دنیا پر ترجیح دی، اے نبی کی بیبیو ! جو بھی تم میں سے کھلی ہوئی بیہودگی کا ارتکاب کرے گی مُبَیِّنَۃً میں ی کے فتحہ اور اس کے کسرہ کے ساتھ یعنی ظاہر کی ہوئی یا کھلی ہوئی تو اس کو دوہرا عذاب دیا جائے گا اور ایک قراءت میں یُضَعَّف تشدید کے ساتھ ہے، اور ایک قراءت میں نون مع التشدید اور العذاب کے نصب کے ساتھ (یعنی) غیر ازواج کے عذاب کا دوگنا، یعنی دو مثل اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ بہت آسان ہے اور تم میں سے جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے گی اور عمل صالح کرے گی تو ہم اس کو دوہرا اجر دیں گے، یعنی دوسری عورتوں کی بہ نسبت دوہرا اجر اور ایک قراءت میں نعمل اور نؤتِھا میں یا تحتانیہ کے ساتھ ہے، اور ہم نے اس کے لئے جنت میں مزید برآں بہترین روزی تیار کردکھی ہے، اے نبی کی بیبیو ! تم عام عورتوں کی طرح (معمولی) نہیں ہو اگر تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرو تو بلا شبہ تم بڑے درجوں والی ہو، تو مردوں سے گفتگو میں نرم لہجہ مت اختیار کرو، کہ جس کے قلب میں مرض نفاق ہو وہ طمع کرنے لگے، اور تم نرمی اور نزاکت کے بغیر قاعدے کے مطابق کلام کرو اور تم اپنے گھروں میں قرار سے رہو قَرِنَ میں کسرہ اور فتحہ دونوں کے ساتھ ہے، یہ قرار سے مشتق ہے، اس کی اصل اِقْردْنَ راء کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ قَررْتَ فتحۂ راء اور کسرۂ راء سے مشتق ہے، راء کی حرکت قاف کی طرف منتقل ہوگئی اور مع ہمزہ وصل کے حذف ہوگئی اور قدیم زمانہ جاہلیت کے دستور کے مطابق تم اپنی زینت کا اظہار مت کرو، یعنی زمانۂ ماقبل اسلام میں عورتوں کے مردوں کے لئے اظہار محاسن کے مانند، اور زمانہ اسلام کے بعد کا اظہار، آیت وَلَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَھُنَّ اِلَّا مَا ظَھَرَ بِنْھَا میں مذکور ہے اور نماز کی پابندی رکھو اور زکوٰۃ ادا کرتی رہو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتی رہو اے اہل بیت یعنی نبی کی بیبیو ! اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہے کہ تم سے گناہ کی آلودگی دور کرے اور تم کو خوب پاک صاف رکھے اور تم ان آیات اور حکمت سنت کو یاد رکھو جن کا تمہارے گھروں میں تذکرہ رہتا ہے یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء پر لطف کرنے والا اور اپنی مخلوق سے باخبر ہے۔
تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد
قولہ : یٰاَ یُّھَا النبیُ قل لَاِزْوَجِکَ ازواج نبی ﷺ اور دیگر مسلمان عورتوں کے اسلامی موقف کو بیان کرنے کے لئے یہ کلام مستانف ہے۔
قولہ : فتَعَالَیْنَ تم آؤ تَعَالِیٌ سے امر جمع مؤنث حاضر مبنی برسکون ہے نون نسوۃ فاعل ہے، یہ کلمہ اپنے کثرت استعمال کی وجہ سے
اَقْبِلْ (سنو) کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے۔
قولہ : اُمَتِّعْکُنّ واُسَرِّ حْکُنَّ عام قراءت میں یہ دونوں صیغے جزم کے ساتھ ہیں، مجزوم ہونے کی دو وجہ ہوسکتی ہیں، اول یہ کہ جواب شرط ہونے کی وجہ سے مجزوم ہو اور کنتُنَّ شرط ہو اور جواب شرط اور جواب شرط کے دومیان جملہ معترضہ ہو، دوسری وجہ یہ ہے کہ فَتَعَالَیْنَ جواب شرط اور اُمَتِّعکُنَّ جواب امر ہو۔
قولہ : مِنْ کُنَّ مِن بیانیہ ہے اس لئے کہ تمام ازواج محسنات ہیں، دوسری ترکیب اول سے بہتر ہے۔ (اعراب القرآن للدرویش)
قولہ : اِنِ اتَّقَیْنَّ اِنْ حرف شرط اِتَّقَیْنَّ شرط محلاً مجزوم، جواب شرط محذوف جیسا کہ شارح (رح) تعالیٰ نے فَاِنَّکُنَّ اعظم سے اشارہ کردیا اور بعض مفسرین نے فَلَا تَخْضِعْنَ بالقول کو جواب شرط قرار دیا ہے، ای اِنِ اتَّقَیْنَّ فلا تَکَلَّمْنَ کلاماً لَیّنًا خاضِعًا الرجالِ ککلامِ المربِیَاتِ
قولہ : وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ (درفارسیہ) ای آرام بگیر یددر خانہائے خویش یعنی اپنے گھروں میں سکون سے رہو وَقَرْنَ میں واؤ عاطفہ ہے جمع امر حاضر معروف یہ اصل میں قرار سے اِقْرَرْنَ تھا (سمع) یا اصل میں اِقَرِرْنَ تھا راء کے کسرہ اور فتحہ کے ساتھ قَرَرْتَ سے راء کی حرکت کو نقل کرکے قاف کو دیدی اور راء مع ہمزہ حذف ہوگئی، (صرف) تم ٹھہری رہو، بیضاوی اور زمخشری نیز نیشا پوری نے لکھا ہے یہ قَارَیَقَارُ بروزن خَافَ یَخَافُ سے ہے، یعنی تم جمے رہو اور بعض حضرات نے واؤ کو اصل دیکر وَقَرَیقِرُ سے مشتق قرار دیا ہے یعنی سکون اور قرار سے رہو۔ (لغات القرآن) تَبَرَّجْنَ اصل میں تَتَبَرَّجْنَ تھا، ناز وانداز سے چلنا اور اپنی زینت و محاسن کو اجنبیوں کے لئے ظاہر کرنا۔
تفسیر وتشریح
ربطِ آیات : سورة احزاب کے مقاصد میں سے اہم مقصد رسول اللہ ﷺ کی ایذاء سے اور ہر ایسی چیز سے بچنے کی تاکید ہے جس سے آپ کو تکلیف پہنچے، نیز اس سورت میں آپ کی اطاعت اور رضاء جوئی کے مؤکد احکام ہیں، غزوۂ احزاب میں کفار و منافقین کی طرف سے آپ کو ایذائیں پہنچیں۔ مذکورۃ الصدر آیات میں خاص ازواج مطہرات کو تعلیم ہے کہ وہ خصوصاً اس کا اہتمام کریں کہ آپ ﷺ کو ان کے کسی قول و فعل سے ایذاء نہ پہنچے اور یہ جبھی ہوسکتا ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی مکمل اطاعت میں لگ جائیں اس سلسلہ کے چند احکام ازواج مطہرات ؓ کو خطاب کرکے بتلائے گئے ہیں۔
شان نزول : شروع آیات میں جو ازواج مطہرات کو طلاق لینے کا اختیار دینا مذکورہ ہے اس کے ایک یا چند واقعات ہیں جو ازواج مطہرات کی طرف سے پیش آئے، جو رسول اللہ ﷺ کی منشاء کے خلاف تھے جن میں بلا قصد و اختیار رسول اللہ کو تکلیف پہنچی، ان واقعات میں سے ایک واقعہ وہ ہے جو صحیح مسلم وغیرہ میں حضرت جابر ؓ کی روایت سے مفصل آیا ہے، اس میں مذکور ہے کہ ازواج مطہرات نے جمع ہو کر رسول اللہ ﷺ سے اس کا مطالبہ کیا کہ ان کا نان ونفقہ پڑھا دیا جائے، جس کی تفصیل حسب ذیل ہے۔
فتوحات کے نتیجے میں جب مسلمانوں کی حالت پہلے سے کچھ بہتر ہوگئی تو انصار و میاجرین کی عورتوں کو دیکھ کر ازواج مطہرات نے بھی نان و نفقہ میں اضافے کا مطالبہ کردیا نبی کریم ﷺ چونکہ نہایت سادگی پسند تھے اس لئے ازواج مطہرات کے اس مطالبہ پر نہایت کبیدہ خاطر ہوئے اور یہی واقعہ تخییر طلاق کا سبب بنا جس کی وجہ سے آپ نے ازواج مطہرات سے علیحدگی اختیار کرلی جو ایک ماہ تک جاری رہی، اور آپ نے بالا خانہ پر تنہائی اختیار فرمالی، مدینہ میں غم کا ماحول چھا گیا، ہر شخص حیران تھا، لوگ آپ کے دولت کدہ کے دروازہ پر جمع تھے مگر کسی کو اندر آنے کی اجازت نہیں مل رہی تھی، حضرت ابوبکر ؓ تشریف لائے اور اجازت طلب کی تو آپ کو اجازت مل گئی، آپ اندر تشریف لے گئے پھر حضرت عمر ؓ تشریف لائے اور اجازت چاہی عمر ؓ کو بھی اجازت مل گئی آپ بھی اندر تشریف لے گئے دیکھا کہ آنحضرت ﷺ گم سم بیٹھے ہوئے ہیں اور آپ کے اطراف آپ کی ازواج بیٹھی ہوئی ہیں، حضرت عمر فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا واللہ میں ایک ایسی بات کہوں گا کس کی وجہ سے آپ ﷺ کو ہنسی آجائے گی، چناچہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ اگر بنت خارجہ یعنی میری بیوی مجھ سے نفقہ طلب کرتی تو میں اس کی گردن دبا دیتا، یہ بات سن کر آپ ﷺ کو ہنسی آگئی، آپ نے فرمایا یہ جو میرے پاس بیٹھی ہوئی ہیں مجھ سے نفقہ طلب کررہی ہیں، چناچہ حضرت ابوبکر اٹھے اور حضرت عائشہ ؓ کی گردن دبا دی، اور حضرت عمر نے حضرت حفضہ کی گردن دبادی اور دونوں نے یہ کہا کہ کیا تم آپ سے ایسی چیز کا مطالبہ کرتی ہو جو آپ کے پاس نہیں ہے ؟ اس کے بعد آپ ایک ماہ تک ازواج سے الگ رہے اس کے بعد مذکورہ آیت نازل ہوئی، بعض روایات میں حضرت زینب کے گھر میں شہد پینے کے واقعہ کو تخییر طلاق کا سبب بتایا گیا ہے اگر یہ دونوں واقعے قریبی زمانہ میں پیش آئے ہوں تو یہ بھی بعید نہیں کہ دونوں ہی تخییر طلاق کا سبب ہوں، لیکن آیت تخییر کے الفاظ سے زیادہ تائید اس کی ہوتی ہے کہ ازواج مطہرات کی طرف سے کوئی مالی مطالبہ اس کا سبب بنا ہے، اس لئے کہ اس آیت میں فرمایا ہے اِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ الحَیٰوۃَ الدُّنْیَا وزِیْنَتَھَا بالا آخر اللہ تعالیٰ نے اِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللہ (الآیۃ) نازل فرمائی، اس کے بعد آپ نے سب سے پہلے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کو یہ آیت سنا کر اختیار دیا، مگر ساتھ ہی یہ بھی فرمادیا کہ فیصلہ کرنے میں جلدی نہ کریں بلکہ اپنے والدین سے مشورہ کے بعد کوئی قدم اٹھائیں، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا، یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میں آپ کے بارے میں مشورہ کروں ؟ بلکہ میں اللہ اور اس کے رسول کو پسند کرتی ہوں اور یہی بات دیگر ازواج مطہرات نے بھی کہی، اور کسی نے بھی رسول اللہ ﷺ کو چھوڑ کر دنیا کے عیش و آرام کو ترجیح نہیں دی (صحیح بخاری، تفسیر سورة احزاب) اس وقت آپ ﷺ کے حبالۂ عقد میں نو بیویاں تھیں، پانچ قریش میں سے تھیں، حضرت عائشہ، ام حبیبہ، حفصہ، سودہ، اور ام سلمہ ؓ اور چاران کے علاوہ تھیں یعنی حضرت صفیہ، میمونہ، زینت، اور جویریہ ؓ
مسئلہ : اختیار طلاق کی دو صورتیں ہوتی ہیں، ایک یہ کہ طلاق کا اختیار عورت کے سپرد کردیا جائے اگر وہ چاہے تو خود اپنے نفس کو طلاق دیکر آزاد ہوجائے، دوسرے یہ کہ طلاق شوہر ہی کے ہاتھ میں رہے کہ اگر عورت چاہے تو وہ طلاق دیدے، آیت مذکورہ میں بعض حضرات نے پہلی صورت کو اختیار کیا ہے اور بعض نے دوسری کو، آیت کے الفاظ میں دونوں کا احتمال ہے، اور بعض حضرات نے نفس تخییر ہی کو طاق قرار دیا ہے، یہ صحیح نہیں ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ جب زوجین کی طبیعتوں میں مناسبت نہ ہو تو
مستحب یہ ہے کہ بیوی کو اختیار دیدیا جائے، اگر رہنا چاہے تو رہے ورنہ متعۂطلاق دیکر عزت کے ساتھ رخصت کردیا جائے۔
یانساء۔۔۔ منینۃ قرآن مجید میں الفاحِشۃَ (معروف باللام) کو زنا کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے، لیکن فاحشۃٌ (نکرہ) برائی کے لئے استعمال ہوا ہے، جیسے کہ یہاں ہے، یہاں اس کے معنی بداخلاقی اور نامناسب طرز عمل کے ہیں، اس لئے کہ نبی ﷺ کے ساتھ بداخلاقی اور نامناسب رویہ آپ ایذا پہنچاتا ہے، جس کا ارتکاب کفر ہے، اس کے علاوہ ازواج مطہرات خود بھی مقام کی حامل تھیں اور بلند مرتبت لوگوں کی معمولی غلطیاں بھی بڑی سمجھی جاتی ہیں اس لئے ازواج مطہرات کو دوگنے عذاب کی وعید سنائی گئی ہے، اگلی آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ جس طرح گناہ کا وبال دوگنا ہوگا، اسی طرح نیکیوں کا اجر بھی دوہرا ہوگا۔
یٰنساء۔۔۔ النساء یعنی تمہاری حیثیت اور مرتبہ عام عورتوں کا سا نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں رسول اللہ ﷺ کی زوجیت کا جو شرف عطا فرمایا ہے اس کی وجہ سے تمہیں ایک امتیازی مقام حاصل ہے، اور رسول اللہ ﷺ کی طرح تمہیں بھی امت کے لئے ایک نمونہ بنتا ہے چناچہ انہیں ان کے مقام اور مرتبہ سے آگاہ کرکے انہیں کچھ ہدایات دی جارہی ہیں، مخاطب اگرچہ ازواج مطہرات ہیں لیکن انداز بیان سے صاف واضح ہے کہ مقصد پوری امت مسلمہ کی عورتیں ہیں، اس لئے یہ ہدایات تمام مسلمان عورتوں کے لئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جس طرح عورت کے وجود کے اندر مرد کے لئے جنسی کشش رکھی ہے (جس کی حفاظت کے لئے بھی خصوصی ہدایات دی گئی تاکہ عورت کے لئے فتنے کا باعث نہ ہو) اسی طرح اللہ تعالیٰ نے عورتوں کی آواز میں بھی فطری طور پر دلکشی، نرمی اور نزاکت و دیعت فرمائی ہے، جو مرد کو اپنی طرف کھنچتی ہے، لہٰذا اس آواز کے لئے بھی یہ ہدایت دی گئی کہ اجنبی مردوں سے گفتگو کرتے وقت قصداً ایسا لب و لہجہ اختیار کرو کہ نرمی اور لطافت کی جگہ قدرے سختی اور روکھا پن ہوتا کہ کوئی بدباطن لہجے کی نرمی سے تمہاری طرف مائل نہ ہو اور اس کے دل میں کوئی برا خیال پیدا نہ ہو اور وقُلْنَ قولاً معروفاَ سے اس بات کی طرف اشارہ کردیا کہ یہ روکھا پن، صرف لب و لہجہ کی حد تک ہی ہو، زبان سے کوئی ایسا لفظ نہ نکالنا جو معروف قاعدے اور اخلاق کے منافی ہو، اس آیت سے اتنا تو ثابت ہوا کہ عورت کی آواز ستر میں داخل نہیں مگر اس پر بھی احتیاطی پابندی یہاں بھی لگا دی گئی کہ اجنبی مرد سے نزاکت اور نرمی سے گفتگو کرنے کے بجائے قدرے روکھا پن کریں چناچہ ام المومنین اس آیت کے نزول کے بعد غیر مرد سے کلام کرتے وقت منہ پر ہاتھ رکھ لیتیں تاکہ آواز بدل جائے، آگے ان اتَّقَیْتُنَّ کہہ کر اشارہ کردیا کہ یہ ہدایت اور دیگر ہدایات جو آگے آرہی ہیں متقی عورتوں کے لئے ہیں کیونکہ انہیں میں یہ فکر ہوتی ہے کہ ان کی آخرت بربادنہ ہوجائے جن کے دل خوف الہٰی سے عاری ہیں انہیں ان ہدایات سے کیا سروکار ؟ وہ کب ان ہدایات کی پرواہ کرتی ہیں ؟
وَقَرْنَ فِی بُیُوْتِکُنَّ یعنی اپنے گھروں میں ٹک کررہو، اور بغیر ضروری حاجت کے گھر سے باہر نہ نکلو، اس میں وضاحت کردی
گئی کہ عورت کا دائرۂ عمل امور سیاست اور جہاں بانی نہیں، نیز معاشی جھمیلے بھی ان کے دائرۂ عمل سے خارج ہیں، بلکہ گھروں میں
چہاردیواری کے اندر رہ کر امور خانہ داری انجام دینا عورتوں کا دائرۂعمل ہے۔
ولا۔۔۔ الاولیٰ اس آیت میں گھر سے باہر نکلنے کے آداب بتلائے گئے ہیں کہ اگر باہر جانے کی ضرورت پیش آئے تو بناؤ
سنگھار کرکے یا ایسے انداز سے جس سے تمہارا سنگھار ظاہر ہو، مت نکلو، جیسے بےپردہ ہوکر، جس سے تمہارا سر، چہرہ، بازو اور چھاتی وغیرہ لوگوں کو دعوت نظارہ دے، بلکہ بغیر خوشبو لگائے سادہ لباس میں ملبوس اور باپردہ باہر نکلو، تبرُّج بےپردگی اور زیب وزینت کے اظہار کو کہتے ہیں، قرآن نے واضح کردیا کہ یہ تبرج جاہلیت ہے جو اسلام سے پہلے تھی اور آئندہ بھی جب کبھی اسے اختیار کیا جائے گا یہ جاہلیت ہی ہوگی، اسلام سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے، چاہے اس کا نام کتنا ہی خوش نما، دل فریب رکھ لیا جائے۔
وَاَقِمْنَ الصَّلوٰۃ (الآیۃ) پچھلی ہدایات برائی سے اجتناب سے متعلق تھیں، یہ ہدایات نیکی اختیار کرنے سے متعلق ہیں۔
اہل بیت سے کون مراد ہیں ؟ اہل بیت کی تعیین میں کچھ اختلاف ہے، بعض مفسرین نے اہل بیت کا مصداق ازواج مطہرات کو قرار دیا ہے، جیسا کہ یہاں قرآن کریم کے سیاق وسباق سے واضح ہے، قرآن نے یہاں ازواج مطہرات ہی کو اہل بیت کہا ہے، قرآن میں دوسرے مقامات پر بھی بیوی کو اہل بیت کہا گیا ہے، مثلاً سورة ہود آیت 73 میں۔ اس لئے ازواج کا اہل بیت سے ہونا نص قرآنی سے ثابت ہے، بعض حضرات بعض روایات کی رو سے اہل بیت کا مصداق صرف حضرت علی، حضرت فاطمہ اور حضرت حسن و حسین ؓ کو مانتے ہیں اور ازواج مطہرات کو اس سے خارج سمجھتے ہیں، جبکہ اول الذکر ان حضرات کو اہل بیت سے خارج سمجھتے ہیں، تاہم اعتدال کی راہ اور نقطہ متوسطہ یہ ہے کہ دونوں ہی اہل بیت میں شامل ہیں، ازواج مطہرات تو اس نص قرآنی کی وجہ سے اور داماد واولاد ان روایات کی رو سے جو صحیح سند سے ثابت ہیں، جن میں نبی ﷺ نے ان کو چادر میں لے کر فرمایا کہ اے اللہ یہ میرے اہل بیت ہیں، جس کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ بھی میرے اہل بیت سے ہیں، یا یہ دعاء ہے کہ یا اللہ ان کو بھی ازواج مطہرات کی طرح میرے اہل بیت میں شامل فرمادے، اس طرح تمام دلائل میں تطبیق ہوجاتی ہے۔
واذ۔۔۔ بیوتکن یعنی تمہارے گھروں میں کو کچھ پڑھا جاتا ہے اس پر عمل کرو، یہاں حکمت سے مراد احادیث ہیں، بعض علماء نے اس آیت سے یہ مسئلہ اخذ کیا ہے کہ قرآن کی تلاوت کی طرح، ثواب کی نیت سے حدیث کی بھی تلاوت کی جاسکتی ہے۔ (واللہ اعلم بالصواب)
Ayahs 33:35–40آیت نمبر 35 تا 40
ترجمہ : یقیناً مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور مومن مرد اور مومن اور فرمانبردار مرد اور فرمانبرادر عورتیں اور ایمان میں مخلص مرد اور مخلص عورتیں صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں اور خشوع کرنے والے مرد اور خشوع کرنے اولی عورتیں اور خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں اور روزہ رکھنے والے مرد اور زندہ رکھنے والی عورتیں اور حرام سے اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں اور بکثرت ذکر کرنے والے اور ذکر کرنے والیاں ان سب کے لئے اللہ تعالیٰ نے معاصی سے مغفرت اور اطاعت پر اجر عظیم تیار کر رکھا ہے، اور (دیکھو) کسی مومن مرد اور مومن عورت کو اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے کے بعد اپنے معاملہ میں اللہ اور اس کے رسول کی خلاف ورزی کرنے کا اختیار باقی نہیں رہتا، یکونُ میں ی اور ت دونوں ہیں یہ آیت عبداللہ بن حجش اور ان کی ہمشیرہ زینب (بنت حجش) کے بارے میں نازل ہوئی ہے، آنحضرت ﷺ نے زینب کو زید بن حارثہ کے لئے نکاح کا پیغام دیا تھا، جب دونوں بھائی بہن کو اس کی (حقیقت حال) معلوم ہوئی تو پیغام کو ناپسند کیا اس لئے کہ ان دونوں نے اولاً یہ سمجھا تھا کہ آنحضرت ﷺ نے خود اپنے لئے زینب کے نکاح کا پیغام دیا ہے، بعد ازاں آیت مذکورہ کے نازل ہونے کی وجہ سے یہ دونوں راضی ہوگئے (یادرکھو) اللہ اور اس کے رسول کی جو بھی نافرمانی کرے گا وہ صریح گمراہی میں پڑے گا، چناچہ انہوں نے زینب ؓ کا نکاح حضرت زید سے کردیا، پھر کچھ مدت کے بعد آپ کی نظر زینب پر پڑی، تو آپ کے دل میں زینب کی محبت جاگزیں ہوگئی اور زید کے دل میں زینب کی نفرت (پیدا ہوگئی) پھر زید نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ میں زینب کو طلاق دینا چاہتا ہوں، آپ نے فرمایا اپنی بیوی کو (نکاح میں) رہنے دے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا جب آپ اس شخص سے کہہ رہے تھے جس پر اللہ نے اسلام کے ذریعہ انعام فرمایا اور آزاد کرکے آپ نے بھی اس پر احسان فرمایا وہ زید بن حارثہ ہیں، یہ زمانہ جاہلیت کے قیدیوں میں سے تھے، جن کو رسول اللہ ﷺ نے بعثت سے پہلے خریدا تھا، اور آزاد کرکے متبّٰنی بنالیا تھا، اپنی بیوی (زینب) کو اپنی زوجیت میں رہنے دے اور اس کی طلاق کے معاملہ میں خدا سے ڈر، اور آپ اپنے دل میں (وہ بات) چھپائے ہوئے تھے جس کو اللہ ظاہر کرنے والا تھا، اور وہ زینب کی محبت تھی اور یہ کہ اگر زید اس کو طلاق دیدیں تو میں اس سے نکاح کرلوں، اور آپ لوگوں کی اس بات سے ڈرتے تھے کہ لوگ کہیں گے کہ محمد نے اپنے بیٹے کی بیوی سے نکاح کرلیا، اور ڈرنا تو آپ کے لئے ہر چیز میں خدا ہی سے سزاوار ہے اور وہ آپ کا اس سے نکاح کرے گا، اور آپ کو لوگوں کی بات کا کچھ اندیشہ نہ کرنا چایئے، بعد ازاں زید نے زینب کو طلاق دیدی اور اس کی عدت بھی گذر گئی، اور اللہ نے فرمایا پس جب زید نے اس سے اپنی حاجت پوری کرلی اور ہم نے آپ کا اس سے نکاح کردیا تو آپ زینب کے پاس بلا اجازت تشریف لے گئے اور مسلمانوں کو (ولیمہ) میں گوشت اور روٹی پیٹ بھر کر کھلائی تاکہ مومنین کے لئے ان متبناؤں سے نکاح کے بارے میں تنگی نہ ہو جب ان سے اپنی حاجت پوری کرلیں اور اللہ کا امر فیصل کردہ حکم تو ہونے ہی والا تھا جو چیز اللہ نے نبی کے لئے فرض یعنی حلال کردی اس (کے کرنے) میں نبی پر کوئی حرج نہیں انبیاء سابقین کے حق میں بھی اللہ تعالیٰ نے ایسا ہی طریقہ رکھا تھا یہ کہ ان کے لئے اس میں کوئی حرج نہیں ہے ان کے لئے نکاح میں سہولت پیدا کرنے کے لئے سنَّۃً پر نزع خافض کی وجہ سے نصب دیا گیا ہے اللہ کا حکم یعنی اس کا فعل مقرر کیا ہوا ہوتا ہے الَّذینَ سابق اَلَّذِیْنَ کی صفت ہے، یہ سب ایسے تھے کہ جو اللہ تعالیٰ کے احکام پہنچایا کرتے تھے اور اللہ ہی سے ڈرتے تھے یہی وجہ ہے کہ وہ ان کاموں میں کہ جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے حلال کردیئے لوگوں کی باتوں (طعنوں) کی پرواہ نہیں کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے اعمال کی محافظت اور محاسبت کے اعتبار سے کافی ہے (لوگو) محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں لہٰذا زید کے باپ یعنی اس کے والد (بھی) نہیں اس لئے ان کے لئے زید کی بیوی زینب سے نکاح حرام نہیں لیکن آپ اللہ کے رسول ہیں اور تمام نبیوں کے سلسلے کے ختم کرنے والے ہیں لہٰذا آپ کا کوئی بیٹا بالغ نہیں کہ آپ کے بعد نبی ہو اور ایک قراءت میں تا کے فتحہ کے ساتھ ہے یعنی مہر، مطلب یہ کہ آپ ﷺ کے ذریعہ انبیاء کا سلسلہ سر بمہر کردیا اور اللہ تعالیٰ ہر شئ سے بخوبی واقف ہے اور ان ہی میں سے یہ بات بھی ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں، اور جب سیدنا عیسیٰ
(علیہ السلام) نزول فرمائیں گے، تو آپ کی شریعت کے مطابق فیصلہ فرمائیں گے۔
تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد
سوال : المؤمنین والمؤمنات کا عطف المسلمین والمسلمات پر کیا گیا ہے حالانکہ شرعاً دونوں ایک ہی ہیں اور عطف کے لئے مغایرت ضروری ہے۔
جواب : مفہوم کے اعتبار سے دونوں مختلف ہیں، اس لئے کہ اسلام بما جاء بہ النبی ﷺ کی تصدیق قلبی کے ساتھ شہادتین کے تلفظ کا نام ہے، اور ایمان اذعان قلبی کا نام ہے، نطق باللسان کی شرط کیساتھ، اور عطف کیلئے ادنیٰ مغایرت کافی ہے۔
قولہ : والحافظات کے مفعول ماقبل کی دلالت کی وجہ سے حذف کردیا گیا ہے، تقدیر عبارت یہ ہے والحافظَاتِ فَرُوْجَھُنَّ ۔
قولہ : اِذَاقضَی اللہ ورسولُہ اللہ کا نام تعظیماً اور اس بات کی طرف اشارہ کرنے کے لئے ذکر کیا گیا ہے کہ رسول کا فیصلہ اللہ ہی کا فیصلہ ہے اس لئے کہ رسول اپنی طرف سے کوئی فیصلہ نہیں کرتے۔
قولہ : لمؤمنٍ ، کانَ کی خبر مقدم ہے اور ولا مؤمنۃٍ اس پر معطوف ہے اذَا ظرفیہ متضمن بمعنی شرط ہے، جواب شرط محذوف ہے جس پر نفی مقدم دلالت کررہی ہے اذا ظرفیۃ محضہ کے لئے بھی ہوسکتا ہے اس صورت میں استقر محذوف کا معمول ہوگا جس سے کان کی خبر متعلق ہے، تقدیر عبارت یہ ہوگی ومَا کان مستقرًّا لمؤمنٍ ولا مُؤْمنۃٍ وقت قضاء اللہ کون خیرۃ لہٗ فی امرہ۔ (جمل)
قولہ : الاخیتار، سے کرکے اشارہ کردیا کہ الخیرۃُ مصدر غیر قیاسی ہے۔
قولہ : خلافَ امر اللہ یہ الخیرۃ کا مفعول کی وجہ ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔
قولہ : مِن امرھم یہ الخیرۃَ سے حال ہے۔ قولہ : مِن محبتھا یہ ما ابداہُ کا بیان ہے۔
قولہ : سُنَّۃَ اللہ مصدر کی وجہ سے بھی منصوب ہوسکتا ہے۔ قولہ : قدرًا مقدورً ، مقدورًا، قدرًا کی تاکید ہے، جیسے ظِلاًّ ظَلیلاً ولیلٌ اَلْیَلُ.
قولہ : ولکن رسول اللہ جمہور کی قراءت لکِنْ تخفیف کے ساتھ ہے اور رَسُوْلَ کا نصب کان محذوف کی خبر ہونے کی وجہ سے ہے۔
تفسیر وتشریح
شان نزول : اِنَّ الْمُسْلِمینَ وَالْمُسْلِماتِ. (الآیۃ) حضرت ام سلمہ ؓ اور دیگر بعض صحابیات نے کہا کہ کیا بات ہے کہ اللہ ہر جگہ مردوں ہی سے خطاب فرماتا ہے، عورتوں سے نہیں اس پر ان المسلمین والمسلماتِ (الآیۃ) نازل ہوئی (مسند احمد 6/301، ترمذی شریف 3211) اس میں عورتوں کی دل داری کا اہتمام ہے ورنہ تمام احکام میں مردوں کے ساتھ عورتیں بھی شامل ہیں، سوائے ان مخصوص احکام کے جو صرف عورتوں کے لئے ہیں اس آیت اور دیگر آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ عبادت اور اطاعت الہٰی اور اخروی درجات و فضائل میں مردوں اور عورتوں کے درمیان کوئی تفریق نہیں ہے، دونوں کے لئے یکساں طور پر میدان کھلا ہوا ہے، جنس کی بنیاد پر اسمیں کمی بیشی نہیں کی جائیگی، علاوہ ازیں مسلمان اور مومن کا الگ الگ ذکر کرنے سے واضح ہے کہ ان دونوں میں فرق ہے، ایمان کا درجہ اسلام سے بڑھکر ہے جیسا کہ قرآن و حدیث کے دیکر دلائل بھی اس پر دلالت کرتے ہیں
شان نزول : وما۔۔۔ مؤمنۃٍ (الآیۃ) یہ آیت حضرت زینب ؓ کے نکاح کے بارے میں نازل ہوئی تھی، حضرت زید بن حارثہ ؓ اگرچہ اصلاً عرب تھے، لیکن غارت گروں نے انہیں بچپن میں زبردستی پکڑ کر بطور غلام بیچ دیا تھا، حضرت خدیجہ ؓ سے آپ ﷺ کے نکاح سے پہلے حضرت خدیجہ کے بھتیجے حکیم بن حزام نے حضرت خدیجہ کے لئے زید حارثہ کو خریدا تھا، اور آپ ﷺ سے نکاح کے بعد حضرت خدیجہ نے آپ کو ہبہ کردیا تھا، آپ ﷺ نے زید بن حارثہ پر یہ احسان کیا کہ ان کو آزاد کردیا اور آزاد کرنے کے بعد ان کو یہ شرف بخشا کہ عرب کے عام رواج کے مطابق ان کو اپنا متبّٰنی بنا لیا اور ان کی پرورش و تربیت فرمائی، لوگ ان کو زید بن محمد کے نام سے پکارتے تھے، قرآن کریم نے اس کو جاہلیت کی رسم قرار دے کر ممانعت کردی، اور حکم فرمادیا کہ اس کے اصل باپ کی طرف نسبت کرکے پکارا جائے، اُدْعُوْ ھم لآبائھم اس حکم کے نازل ہونے کے بعد صحابہ نے ان کو زید بن محمد کے بجائے زید بن ضارثہ کہنا شروع کردیا، زید بن حارثہ جب جوان ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے نکاح کے لئے اپنی پھوپھی زاد بہن زینب بنت حجش کا انتخاب فرما کر پیغام نکاح دیا، حضرت زید کے دامن پر چونکہ غلامی کا دھبہ لگا ہوا تھا اسلئے کہ آزاد کردہ غلام تھے، حضرت زینب اور انکے بھائی عبداللہ بن حجش نے اس رشتہ سے انکار کردیا، کہ ہم باعتبار خاندان اور نسب کے ان سے افضل ہیں، اس واقعہ پر مذکورہ آیت نازل ہوئی۔ اس آیت کو جب حضرت زینب ؓ اور انکے بھائی نے سنا تو نکاح پر راضی ہوگئے، چناچہ نکاح کردیا گیا، مہر رسول اللہ ﷺ نے اپنے پاس سے ادا کیا جو دس دینار سرخ (تقریباً چار تولہ سونا ہوتا ہے) اور ساٹھ درہم (جس کی تقریباً اٹھارہ تولہ چاندی ہوتی ہے) اور ایک بار برداری کا جانور اور مکمل ایک زنانہ جوڑا، اور پچاس مد آٹا (یعنی تقریباً پچیس سیر) اور دس مد (یعنی پانچ سیر) کھجور تھا۔ (ابن کثیر، معارف القرآن)
طلاق کی نوبت : نکاح تو ہوگیا مگر چونکہ دونوں کے مزاج میں فرق تھا، بیوی کے مزاج میں خاندانی نسب و شرف رچا ہوا تھا، جبکہ زید ؓ کے دامن پر غلامی کا داغ تھا، ان کی آپس میں ان بن رہتی تھی، جس کا تذکرہ حضرت زید نبی ﷺ سے بھی کرتے رہتے تھے، اور طلاق کا عندیہ بھی ظاہر کرتے رہتے تھے، آنحضرت ﷺ کو وحی کے ذریعہ بتلا دیا گیا تھا کہ زید ؓ زینب ؓ کو طلاق دیدیں گے اس کے بعد زینب ؓ آپ کے نکاح میں آئیں گی تاکہ جاہلیت کی اس رسم تبنیت پر ایک کاری ضرب لگا کر واضح کردیا جائے کہ متبّٰنی احکام مصالح کی وجہ سے روکتے اور نباہ کی تلقین فرماتے، حضرت زید پر اللہ کا یہ انعام تھا کہ انہیں قبول اسلام کی توفیق دی، اور نبی ﷺ کا احسان یہ تھا کہ آپ نے ان کی دینی تربیت فرمائی اور ان کو آزاد کرکے اپنا بیٹا قرار دیا، اور اپنی پھوپھی زاد بہن زینب بنت حجش سے نکاح کرادیا، دل میں چھپانے والی بات یہی تھی جو آپ کو حضرت زینب ؓ سے نکاح کی بابت بذریعہ وحی بتائی گئی تھی، آپ اس بات سے ڈرتے تھے کہ لوگ کہیں گے اپنی بہو سے نکاح کرلیا، حالانکہ جب اللہ کو آپ کے ذریعہ سے اس رسم جاہلیت کا خاتمہ کرانا تھا تو پھر لوگوں سے ڈرنے کی ضرورت نہیں تھی، آپ ﷺ کا یہ خوف اگرچہ فطری و طبعی تھا اس کے باوجود آپ ﷺ کو تنبیہ فرمائی گئی، ظاہر کرنے سے مراد ہے کہ یہ نکاح ہو کر رہے گا جس سے یہ بات سب کے علم میں آجائے گی۔ آخر کار پیشین گوئی کے مطابق حضرت زید ؓ نے طلاق دیدی اور عدت سے فارغ ہونے کے بعد آپ ﷺ کا نکاح حضرت زینب ؓ سے معروف طریقہ کے برخلاف صرف اللہ کے حکم سے قرار پا گیا۔
لکی۔۔۔ ھم یہ حضرت زینب سے نبی ﷺ کے نکاح کی علت ہے کہ آئندہ کوئی مسلمان اس بارے میں تنگی محسوس نہ کرے اور حسب ضرورت اپنے متبنیٰ کی مطلقہ بیوی سے نکاح کیا جاسکے، اور چونکہ یہ پورا واقعہ اولاً حضرت زید ؓ کا نکاح اور پھر طلاق بعد ازاں آپ ﷺ کا حضرت زینب سے نکاح تقدیر خداوندی میں تھا، جو بہر صورت ہو کر رہنا تھا، آئندہ آیت میں اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے، چونکہ یہ نکاح آپ کے لئے حلال تھا اس میں کوئی گناہ اور تنگی والی بات نہیں ہے، اور انبیاء سابقین بھی ایسے کاموں کے کرنے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے جو اللہ کی طرف سے ان پر فرض قرار دیئے جاتے تھے چاہے قومی اور عوامی رسم و رواج کے خلاف ہی کیوں نہ ہوں۔
ما۔۔۔ لکم (لوگو) تمہارے مردوں میں سے محمد ﷺ کسی کے باپ نہیں، البتہ آپ اللہ کے رسول ہیں (جو امت کا روحانی باپ ہوتا ہے) اور تمام نبیوں کے سلسلہ کو ختم کرنے والے ہیں، اور جب محمد ﷺ مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں تو زید بن حارثہ کے بھی باپ نہیں ہیں، جس پر آپ کو موردطعن بنایا جاسکے کہ انہوں نے اپنی بہو سے نکاح کیوں کرلیا ؟ بلکہ ایک زید ؓ ہی کیا وہ تو کسی بھی مرد کے باپ نہیں ہیں، کیونکہ زید تو حارثہ کے بیٹے تھے آپ ﷺ نے تو انہیں متبنیٰ بنایا تھا، اور جاہلی دستور کے مطابق انہیں زید بن محمد کہا جاتا تھا، حقیقۃً وہ آپ ﷺ کے صلبی بیٹے نہیں تھے، اسی لئے ادعوھم لِآ بائھم کے نزول کے بعد انہیں زید بن حارثہ ہی کہا جاتا تھا، علاوہ ازیں حضرت خدیجہ ؓ سے آپکے تین صاحبزادے قاسم، طاہر، طیب ہوئے اور ایک بچہ ابراہیم ماریہ قبطیہ ؓ کے بطن سے پیدا ہوا، لیکن یہ سب کے سب بچپن ہی میں فوت ہوگئے، ان میں سے کوئی بھی رجولیت کی عمر کو نہ پہنچا، بنابریں آپ ﷺ کی صلبی اولاد میں بھی کوئی مرد نہیں بنا کہ جسکے آپ باپ ہوں، خاتَم مہر کو کہتے ہیں اور مہر آخری عمل کو کہا جاتا ہے یعنی آپ پر نبوت و رسالت کا خاتمہ کردیا گیا، آپ ﷺ کے بعد بھی نبوت کا دعویٰ کرے گا، وہ نبی نہیں کذاب ودجال ہوگا، احادیث میں اس مضمون کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے، اور اس پر پوری امت کا اجماع اور اتفاق ہے اور قیامت کے قریب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نزول ہوگا، جو صحیح اور متواتر روایات سے ثابت ہے تو وہ نبی کی حیثیت سے نہیں آئیگے، بلکہ نبی ﷺ کے امتی بنکر آئیں گے، اسلئے ان کا نزول عقیدۂ ختم نبوت کے منافی نہیں ہے