23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 23:93–118

قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِیَنِّیْ مَا یُوْعَدُوْنَۙ Open ayah 23:93 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ کہو کہ اے پروردگار جس عذاب کا ان (کفار) سے وعدہ ہوا ہے اگر تو میری زندگی میں ان پر نازل کر کے مجھے دیکھائے

رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِیْ فِی الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:94 in the Quran reader

تو اے پروردگار مجھے (اس سے محفوظ رکھیے اور) ان ظالموں میں شامل نہ کیجیو

وَ اِنَّا عَلٰۤى اَنْ نُّرِیَكَ مَا نَعِدُهُمْ لَقٰدِرُوْنَ Open ayah 23:95 in the Quran reader

جو وعدہ ہم ان سے کر رہے ہیں ہم تم کو دکھا کر ان پر نازل کرنے پر قادر ہیں

اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ السَّیِّئَةَ١ؕ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَ Open ayah 23:96 in the Quran reader

اور بری بات کے جواب میں ایسی بات کہو جو نہایت اچھی ہو اور یہ جو کچھ بیان کرتے ہیں ہمیں خوب معلوم ہے

وَ قُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِۙ Open ayah 23:97 in the Quran reader

اور کہو کہ اے پروردگار ! میں شیطانوں کے وسوسوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں

وَ اَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ Open ayah 23:98 in the Quran reader

اور اے پروردگار ! اس سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آموجود ہوں

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِۙ Open ayah 23:99 in the Quran reader

(یہ لوگ اسی طرح غفلت میں رہیں گے) یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آجائے گی تو کہے گا اے پروردگار ! مجھے پھر (دنیا میں) واپس بھیج دے

لَعَلِّیْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا فِیْمَا تَرَكْتُ كَلَّا١ؕ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآئِلُهَا١ؕ وَ مِنْ وَّرَآئِهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 23:100 in the Quran reader

تاکہ میں اس میں جسے چھوڑ آیا ہوں نیک کام کیا کروں ہرگز نہیں یہ ایک ایسی بات ہے کہ وہ اسے زبان سے کہہ رہا ہوگا اور (اسکے ساتھ) عمل نہیں ہوگا اور ان کے پیچھے برزخ ہے (جہاں وہ) اس دن تک کہ (دوبارہ) اٹھائے جائیں گے (رہیں گے )

فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَلَاۤ اَنْسَابَ بَیْنَهُمْ یَوْمَئِذٍ وَّ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 23:101 in the Quran reader

پھر جب صور پھونکا جائے گا تو نہ تو ان میں قرابتیں رہیں گی اور نہ وہ ایک دوسرے کو پوچھیں گے

فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 23:102 in the Quran reader

تو جن کے (عملوں کے) بوجھ بھاری ہوں گے وہ فلاح پانے والے ہیں

وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فِیْ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 23:103 in the Quran reader

اور جن کے بوجھ ہلکے ہوں گے وہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے تیئیں خسارے میں ڈالا ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے

تَلْفَحُ وُجُوْهَهُمُ النَّارُ وَ هُمْ فِیْهَا كٰلِحُوْنَ Open ayah 23:104 in the Quran reader

آگ ان کے مونہوں کو جھلس دے گی اور وہ اس میں تیوری چڑھائے ہوں گے

اَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 23:105 in the Quran reader

کیا تم کو میری آیتیں پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں ؟ (نہیں) تم ان کو سنتے تھے (اور) جھٹلاتے تھے

قَالُوْا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیْنَا شِقْوَتُنَا وَ كُنَّا قَوْمًا ضَآلِّیْنَ Open ayah 23:106 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ! ہم پر ہماری کم بختی غالب ہوگئی اور راستے سے بھٹک گئے

رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْهَا فَاِنْ عُدْنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوْنَ Open ayah 23:107 in the Quran reader

اے پروردگار ! ہم کو اس میں سے نکال دے اگر ہم پھر (ایسے کام) کریں تو ظالم ہوں گے

قَالَ اخْسَئُوْا فِیْهَا وَ لَا تُكَلِّمُوْنِ Open ayah 23:108 in the Quran reader

(خدا) فرمائے گا کہ اسی میں ذلت کے ساتھ پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو

اِنَّهٗ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْ عِبَادِیْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ Open ayah 23:109 in the Quran reader

میرے بندوں میں ایک گروہ تھا جو دعا کیا کرتا تھا کہ اے ہمارے پروردگار ! ہم ایمان لائے تو تو ہم کو بخشدے اور ہم پر رحم کر اور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے

فَاتَّخَذْتُمُوْهُمْ سِخْرِیًّا حَتّٰۤى اَنْسَوْكُمْ ذِكْرِیْ وَ كُنْتُمْ مِّنْهُمْ تَضْحَكُوْنَ Open ayah 23:110 in the Quran reader

تو تم ان سے تمسخر کرتے رہے یہاں تک کہ ان کے پیچھے میری یاد بھی بھول گئے اور تم (ہمیشہ) ان سے ہنسی کیا کرتے تھے

اِنِّیْ جَزَیْتُهُمُ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوْۤا١ۙ اَنَّهُمْ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 23:111 in the Quran reader

آج میں نے ان کو ان کے صبر کا بدلہ دیا کہ وہ کامیاب ہوگئے

قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِی الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِیْنَ Open ayah 23:112 in the Quran reader

(خدا) پوچھے گا کہ تم زمین میں کتنے برس رہے ؟

قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ فَسْئَلِ الْعَآدِّیْنَ Open ayah 23:113 in the Quran reader

وہ کہیں گے ہم ایک یا ایک روز سے بھی کم رہے تھے شمار کرنے والوں سے پوچھ لیجئے

قٰلَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا لَّوْ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:114 in the Quran reader

(خدا) فرمائے گا کہ (وہاں) تم (بہت ہی) کم رہے کاش تم جانتے ہوتے

اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 23:115 in the Quran reader

کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ہم نے تم کو بےفائدہ پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹ کر نہیں آؤ گے

فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِیْمِ Open ayah 23:116 in the Quran reader

تو خدا جو سچا بادشاہ ہے (اس کی) شان اس سے اونچی ہے اسکے سوا کوئی معبود نہیں وہی عرش بزرگ کا مالک ہے

وَ مَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۙ لَا بُرْهَانَ لَهٗ بِهٖ١ۙ فَاِنَّمَا حِسَابُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 23:117 in the Quran reader

اور جو شخص خدا کے ساتھ اور معبود کو پکارتا ہے جس کی اس کے پاس کچھ سند نہیں تو اس کا حساب خدا ہی کے ہاں ہوگا کچھ شک نہیں کہ کافر رستگاری نہیں پائیں گے

وَ قُلْ رَّبِّ اغْفِرْ وَ ارْحَمْ وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَ۠ Open ayah 23:118 in the Quran reader

کہ میرے پروردگار مجھے بخش دے اور (مجھ پر) رحم کر اور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے

آیت نمبر 93 تا 118 ترجمہ : آپ دعاء کیجئے کہ اے میرے پروردگار اِمّا اصل میں اِنْ مَا تھا اِنْ شرطیہ کے نون کو ما زائدہ میں ادغام کردیا جس عذاب کا ان کافروں سے وعدہ کیا جا رہا ہے اگر آپ مجھ کو دکھا دیں تو اے میرے پروردگار مجھے ان ظالم لوگوں میں شامل نہ کیجئے کہ میں ان کے ساتھ ہلاک کردیا جاؤں اور وہ وعدہ (غزوہ) بدر میں قتل کے ذریعہ صادق آیا اور ہم اس بات پر قادر ہیں کہ جو وعدہ ان سے کر رہے ہیں آپ کو دکھلا دیں آپ ان کو بدی یعنی آپ کو ایذا رسانی کا دفعیہ ایسے طریقہ سے کردیا کیجئے کہ جو بہت ہی اچھا ہو یعنی ان سے عفو و درگذر کی خصلت کے ذریعہ اور یہ (عفو و درگذر) کا حکم جہاد کی اجازت سے پہلے کا ہے ہم خوب جانتے ہیں جو کچھ یہ کہا کرتے ہیں یعنی تکذیب کرتے ہیں اور باتیں بناتے ہیں ہم ان کو اس کی سزا دیں گے اور آپ یوں دعا کیا کیجئے کہ اے میرے رب میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں ان شیطانی خیالات سے کہ جن کے ذریعہ وہ وسوسہ ڈالتے ہیں اور اے میرے رب میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں اس سے کہ شیاطین میرے پاس آئیں یعنی میرے کاموں میں دخل دیں اس لئے کہ وہ بدی ہی کے ساتھ آتے ہیں یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آنے لگتی ہے، حَتّٰی ابتدائیہ ہے اور وہ دوزخ کا اپنا ٹھکانا اور جنت کا اپنا ٹھکانا اگر ایمان لاتا دیکھ لیتا ہے تو (اس وقت) کہتا ہے اے میرے رب آپ مجھے واپس بھیج دیجئے اِرْجِعُوْنِ جمع کا صیغہ تعظیم کے لئے تاکہ جس (دنیا) کو میں چھوڑ آیا ہوں اس میں جا کر نیک عمل کروں یعنی لا الٰہ الا اللہ کی شہادت دوں تاکہ میری یہ شہادت مافات کی تلافی ہوجائے یعنی جو عمر میں نے ضائع کردی اس کا عوض ہوجائے، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے ہرگز ایسا نہیں ہوسکتا یعنی رجعت نہیں ہوسکتی، بلاشبہ یہ یعنی ربِّ ارجعون ایک کلمہ ہے جس کو یہ بولے جا رہا ہے اور اس کلمہ کے بار بار کہنے میں اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے، اور ان لوگوں کے آگے ایک آڑ ہے جو ان کو رجوع سے مانع ہے قیامت کے دن تک اور اس کے بعد رجوع نہیں ہے پھر صور میں پھونکا جائے گا یعنی سینگ (جیسی کسی شئ) میں پہلا نفخہ یا ثانیہ تو اس روز ان کے درمیان رشتے ناتے جن پر یہ لوگ فخر کرتے تھے باقی نہیں رہیں اور نہ کوئی رشتے ناتوں کے متعلق پوچھے گا بخلاف دنیا میں ان کی حالت کے، اس لئے کہ ایک امر عظیم قیامت کے بعض مواقع میں ان کو اس (پوچھ گچھ) سے غافل کر دے گا، اور قیامت کے بعض مواقع میں ان کو افاقہ ہوگا اور ایک دوسری آیت میں ہے کہ وہ آپس میں ایک دوسرے سے پوچھ گچھ کریں گے سو جس شخص کا نیکیوں کی وجہ سے پلڑا بھاری ہوگا تو ایسے لوگ کامیاب ہوں گے اور سیئات کی وجہ سے جس کا پلڑا ہلکا ہوگا سو یہ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنا نقصان کرلیا سو وہ جہنم میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے اور آگ ان کے چہروں کو جھلس دے گی یعنی جلا دے گی اور وہ وہاں بدشکل بنے ہوں گے اور ان کے اوپر کے ہونٹ اوپر کو سکڑے ہوئے ہوں گے اور ان کے نیچے کے ہونٹ دانتوں سے نیچے لٹکے ہوئے ہوں گے، ان سے ارشاد ہوگا کیا تم کو قرآن سے میری آیتیں پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں یعنی ان آیات کے ذریعہ تم کو خوف نہیں دلایا جاتا تھا پھر بھی تم ان کی تکذیب کرتے تھے وہ کہیں گے اے ہمارے رب ہماری بدنصیبی ہمارے اوپر غالب آگئی تھی اور ایک قرأت میں شقَاوَتْنَا ہے اول کے فتحہ اور الف کے ساتھ اور یہ دونوں مصدر ہیں دونوں کے ایک ہی معنی ہیں اور بیشک ہم ہدایت سے بھٹکے ہوئے تھے اے ہمارے پروردگار ہم کو جہنم سے نکال دیجئے پس اگر ہم پھر بھی مخالفت کریں تو بلاشبہ ہم قصور وار ہوں گے دنیا کی دوگنی مقدار کے بعد مالک کی زبانی ارشاد ہوگا ذلت کے ساتھ اسی میں پڑے رہو یعنی ذلت کے ساتھ جہنم میں پڑے رہو، اور مجھ سے اپنے رفع عذاب کے بارے میں کلام مت کرو چناچہ وہ لوگ مایوس ہوجائیں گے میرے بندوں میں ایک جماعت تھی جو عرض کیا کرتی تھی اور وہ مہاجرین کی جماعت تھی اے ہمارے پروردگار ہم ایمان لے آئے ہیں ہم کو بخش دیجئے اور ہم پر رحمت فرمائیے آپ سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والے ہیں لیکن تم انہیں مذاق میں اڑاتے رہے سخریا سین کے ضمہ اور اس کے کسرہ کے ساتھ بمعنی تمسخر، ان میں بلال ؓ اور صہیب ؓ اور عمار ؓ اور خباب ؓ تھے یہاں تک کہ ان لوگوں نے تم کو ہماری یاد بھلا دی سو تم نے ان کے استہزاء میں مشغول ہونے کی وجہ سے اس یاد کو ترک کردیا تو گویا کہ وہ لوگ بھلانے کا سبب ہوئے اسی وجہ سے بھلانے کی نسبت ان کی طرف کردی اور تم ان کی ہنسی ہی اڑاتے رہے، میں نے آج ان کو تمہارے استہزاء اور ایذا پر صبر کرنے کے عوض دائمی نعمتوں کا بدلہ دیدیا بلاشبہ یہی لوگ اپنے مقصد میں کامیاب ہیں اِنّھم کے کسرہ کے ساتھ (اس صورت میں) جملہ مستانفہ ہوگا اور ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ جَزَیتُھم کا مفعول ثانی ہوگا اللہ تعالیٰ مالک کی زبانی فرمائے گا اور ایک قرأت میں قُلْ ہے کہ تم دنیا میں اور اپنی قبروں میں سالوں کے حساب سے کتنی مدت رہے عَدَدَ سنین، کم کی تمیز ہے (تقدیر عبارت یہ ہے) لبثتم کم عدَدًا مِنَ السنین وہ جواب دیں گے کہ ہم ایک دن یا ایک دن سے بھی کم رہے ہوں گے وہ اس مدت قیام میں شک کریں گے اور ابتلائے عذاب کے عظیم ہونے کی وجہ سے قیام دنیا کی مدت کو کم سمجھیں گے سو شمار کرنے والوں یعنی مخلوق کے اعمال کو شمار کرنے والے فرشتوں سے معلوم کرلیجئے اللہ تعالیٰ مالک کی زبانی فرمائیں گے اور ایک قرأت میں قُلْ ہے تم تھوڑی ہی مدت رہے ہو کیا اچھا ہوتا کہ تم اپنے طول قیام کی مدت کو جان لیتے جو بہت کم تھی تمہاری جہنم میں قیام کی نسبت سے کیا تم یہ گمان کئے ہوئے تھے کہ ہم نے تم کو بیکار بغیر کسی حکمت کے پیدا کردیا اور یہ کہ تم ہمارے پاس لوٹ کر نہ آؤ گے ترجعون معروف اور مجہول دونوں ہیں، نہیں بلکہ (ہم نے تم کو اس لئے پیدا کیا) کہ تم کو امر اور نہی کا مکلف بنائیں اور تم ہماری طرف لوٹائے جاؤ اور ہم اس تکلیف پر تم کو جزاء دیں، اور ہم نے جن وانس کو صرف عبادت کرنے کے لئے پیدا کیا ہے سو اللہ تعالیٰ عبث وغیرہ سے جو اس کی شان کے لائق نہیں ہے برتر ہے، جو کہ بادشاہ حقیقی ہے اس کے سوا کوئی بھی لائق عبادت نہیں عرش عظیم کا مالک ہے یعنی کرسی کا جو کہ بہترین تخت ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور معبود کی بندگی کرے گا کہ جس کے معبود ہونے پر اس کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے آخر، اِلٰھًا کی صفت کاشفہ ہے اس کے مفہوم مخالف کا اعتبار نہیں، سو اس کا حساب یعنی اس کی جزاء اس کے رب کے یہاں ہوگا یقیناً کافروں کو فلاح نہ ہوگی یعنی سعاد تمند نہ ہوں گے اور آپ یوں دعا کیا کیجئے اے میرے رب معاف فرما اور مومنین پر رحم فرما رحمت میں مغفرت کے مقابلہ میں زیادتی ہے اور تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے یعنی رحمت کے اعتبار سے افضل ہے۔ تحقیق و ترکیب و تفسیری فوائد قولہ : تُرِیَنِّی تو مجھے دکھلائے اِراء ۃً سے مضارع واحد مذکر حاضر بانون تالکید ثقیلہ مبنی بر فتحہ متعدی بدو مفعول بواسطہ ہمزہ ی ضمیر متکلم مفعول اول ما موصولہ مفعول ثانی۔ قولہ : فَلَا تَجْعَلْنِیْ جواب شرط فی بمعنی مع لفظ رَبْ کا اعادہ تضرع اور عاجزی میں مبالغہ کرنے کیلئے کیا گیا ہے فَاَھْلَکُ بِھَلاَکِھِمْ جواب نہی ہے وَاِنَّا علیٰ اَنْ نُرِیَکَ مَا نَعِدُھُمْ لَقٰدِرُوْنَ اِنَّ حرف مشبہ بالفعل ناصب نا اس کا اسم علیٰ حرف جار نُرِیَ فعل بافاعل کَ مفعول اول مَا موصولہ نَعِدُھُمْ جملہ ہو کر صلہ موصول صلہ سے مل کر بتاویل مصدر ہو کر مفعول ثانی نُرِیَ اپنے فاعل اور دونوں مفعولوں سے مل کر مجرور ہو اعلیٰ جار کا جار مجرور سے مل کر متعلق مقدم ہوا قادِرُوْنَ کا، قادرون اپنے متعلق سے مل کر اِنَا کی خبر۔ قولہ : ای خَلَّۃ بمعنی خصلت مفسر علام نے خَلَّۃ کو مقدر مان کر اشارہ کردیا کہ اَلَّتِیْ حَلَّۃ موصوف مقدر کی صفت ہے اور السَّیّئَۃُ اِدفع کا مفعول بہ ہے، تقدیر عبارت یہ ہے اِدْفَعْ السَّیِّئَۃ بالخصلۃ التیھی احسن۔ قولہ : من الصفح والاعراض عنھم میں من بیا نیہ ہے اور الصفح الخ خصلۃ کا بیان ہے۔ قولہ : اَذَاھُمْ ایاکَ ، السَّیۃَ کی تفسیر ہے۔ قولہ : ھَمَزَات ھمزٌ کی جمع ہے شیطانی وسوسے، نفسانی خطرات۔ قولہ : حتّٰی ابتدائیہ ہے یعنی ما بعد کلام ما قبل سے جدا ہے، اس کلام کا مقصد مرنے کے بعد کافروں کا حال بیان کرنا ہے۔ قولہ : الجمع للتعظیم مفسر علام اس عبارت سے ایک سوال مقدر کا جواب دینا چاہتے ہیں، سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جو کہ مخاطب ہے واحد ہے لہٰذا رَبِّ ارْجِعِیْ سے خطاب کرنا چاہیے، جواب یہ ہے کہ تعظیماً جمع کا صیغہ لایا گیا ہے، دوسرا جواب یہ ہے کہ اِرْجعونِ میں واؤ تکرار پر دلالت کرنے کے لئے لایا گیا ہے، ای اِرجِعْنِیْ اِرْجعنی جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے قول ” الَقیا فی جھنم “ میں الف تکرار کے لئے ہے یعنی اَلْقِ اَلْقِ کی معنی میں ہے، تیسرا جواب یہ ہے کہ جمع کا صیغہ ملائکہ کے اعتبار سے ہے۔ قولہ : وَرَائِھِمْ ھم لِاَحَدھم کی طرف راجع ہے جمع کی ضمیر باعتبار معنی کے ہے اس لئے اَحَدھم معنی میں کلہم کے ہے ماقبل میں واحد کی ضمیریں باعتبار لفظ کی ہے۔ قولہ : فَلاَ انْسَابَ بینھُمْ انساب نسب کی جمع ہے بمعنی قرابت، رشتہ داری یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان کے درمیان نسب اور قرابت تو ثابت شدہ امر ہے اس کی نفی کس طرح صحیح ہے مفسر علام نے یَتَفَاخَرون کا اضافہ کرکے اس سوال کا جواب دیدیا کہ نسب کی نفی کرنا مقصود نہیں ہے بلکہ اس کی صفت جو کہ محذوف ہے اس کی نفی مقصود ہے اور وہ یتفاخرون ہے، یعنی دنیا میں جس نسب اور قرابت پر فخر کیا کرتے تھے وہ سب ختم ہوجائیں گے، اس لئے کہ میدان محشر میں ہولناکی اور دہشت کی وجہ سے تراحم اور تعاطف سب ختم ہوجائیں گے، اسی ہولناکی کی منظر کشی کرتے ہوئے دوسری آیت میں فرمایا یَفِر المرأ مِنْ أخیہِ وأمِّہٖ واَبِیہِ وصَاحِبَتِہٖ وبینہٖ ۔ قولہ : لا یتساءلون عنھا ای الانساب خلافَ حَالھم فی الدنیا ای ذٰلک خِلَافَ حالھم۔ قولہ : لِمَا یَشْغُلُھُمْ یہ ولا یتساءلون کی علت ہے یعنی یہ عدم تساؤل ان کے اپنے حالات میں مشغول ہونے کی وجہ سے ہوگا۔ قولہ : فی بعض مواضع القیامۃ الخ مفسر علام نے اس عبارت سے ایک اعتراض کا جواب دیا ہے، اعتراض یہ ہے کہ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے روز محشر میں آپس میں پوچھ گچھ نہیں ہوگی اور ایک آیت میں ہے وَاَقْبَلَ بَعضُھم عَلیٰ بَعْضٍ یَتَسَاءَلَون جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ روز محشر میں اوقات اور حالات مختلف ہوں گے، بعض حالات میں جب خوف و دہشت غالب ہوگا تو کسی کی مزاج پرسی کریں گے، مطلب یہ ہے کہ نفخہ اولیٰ کے وقت دہشت غالب ہوگی تو کوئی کسی کا پرسان حال نہ ہوگا، اور نفخہ ثانیہ کے بعد جب یک گونہ سہولت ہوجائے گی تو آپس میں ایک دوسرے کو پہچانیں گے بھی اور مزاج پرسی بھی کریں گے۔ قولہ : موازین کو یا تو عظمت کی وجہ سے جمع لایا گیا ہے یا موزون کے مختلف النوع ہونے کی وجہ سے جمع لایا گیا ہے یعنی ہر قسم کے عمل کو وزن کرنے کیلئے الگ قسم کی ترازو ہوگی جیسا کہ دنیا میں مختلف اقسام کی اقسام کو تولنے کیلئے مختلف قسم کی ترازو (مقیاس) ہوتی ہیں، بالحسنات میں باسببیہ ہے یعنی حسنات کے ثقیل اور بوجھل ہونے کی وجہ سے۔ قولہ : فَھُمْ یہ اشارہ ہے کہ فی جھنم، ھُم مبتداء محذوف کی خبر ہے زمخشری نے کہا ہے کہ فی جھنم خالدون، الذین خسِرُوْا انفُسَھُمْ سے بدل ہے۔ قولہ : تَلْفَحُ جملہ مستانفہ ہے۔ قولہ : شمَّرت شَمَّر کے معنی آستین وغیرہ چڑھانا، سکڑنا، قولہ : والسفلیٰ عن اَسْنانھم سے پہلے فعل محذوف ہے ای اِسْتَرَخَتْ السفلیٰ ۔ قولہ : قال تعالیٰ لَھُمْ بلسان مالک، مفسر علام نے اس عبارت سے ایک سوال کا جواب دیا ہے، سوال یہ ہے اللہ تعالیٰ کا قال کَمْ لَبِثتم کے ذریعہ کفار سے خطاب کرنا یہ ان سے کلام کرنے کا متقاضی ہے، حالانکہ دوسری آیت میں فرمایا ہے ولایکلمھم اللہ یہ کلام نہ کرنے کا متقاضی ہے دونوں میں تعارض معلوم ہوتا ہے، جواب یہ ہے کہ جس آیت سے کلام نہ کرنا معلوم ہوتا ہے اس کا مطلب ہے کہ براہ راست اور بلا واسطہ ان سے کلام نہ فرمائیں گے، اور جس آیت سے کفار سے کلام کرنا مفہوم ہوتا ہے وہاں بواسطہ مالک کلام کرنا مقصود ہے،۔ قولہ : لَوْ أنّکم کنتم تعلمون مقدار لُبثِکُمْ ، لَو امتناعیہ ہے اور تعلمون کا مفعول محذوف ہے مفسر علام نے مقدار لبثکم مقدر مان کر حذف مفعول کی طرف اشارہ کردیا، جواب لَوْ بھی محذوف ہے جس کی طرف مفسر علام نے کان قلیلاً کہہ کر حذف جواب کی طرف اشارہ کردیا ای کان قلیلاً فی علمکم۔ قولہ : اَفَحَسِبْتُمْ میں ہمزہ محذوف پر داخل ہے اور فا عاطفہ ہے تقدیر عبارت یہ ہے کہ أجَھِلْتُم فحسبتُّمْ استفہام تو بیخ کے لئے ہے۔ قولہ : عَبَثًا یا تو مصدر بمعنی اسم فاعل موقع حال میں واقع ہونے کی وجہ سے منصوب ہے ای عابثین یا پھر خلقنا کا مفعول لہ ہے۔ قولہ : لا لحکمۃ یہ عبث کی تفسیر ہے۔ قولہ : أنّکُمْ اِلَیْنَا لا تُرجعون کا عطف انما خَلَقْنَاکم پر ہے۔ قولہ : لابل یہ جواب استفہام کے طور پر مقدر مانا ہے۔ قولہ : ھو سریر الحسن بعض نسخوں میں یہ عبارت نہیں ہے۔ قولہ : صفۃ کاشفۃ لا مفھوم لھا مفسر علام کا مقصد اس عبارت سے ایک اعتراض کو دفع کرنا ہے، اعتراض کا خلاصہ یہ ہے کہ وَمَنْ یَدْعُ مَعَ اللہِ الٰھًا آخر لا بُرْھَانَ لَہٗ سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص اللہ کے ساتھ عبادت میں غیر اللہ کو شریک کرے تو وہ بےبرہان اور بےسند ہے، اس سے مفہوم مخالف کے طور پر معلوم ہوتا ہے کہ جو صرف غیر اللہ کی عبادت کرے تو اسکے پاس برہان اور سند ہے حالانکہ یہ بات غلط ہے۔ جواب : جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ آخر الٰھًا کی صفت کاشفہ ہے جو کہ محض وضاحت کیلئے ہوتی ہے اس کے مفہوم مخالف کا اعتبار نہیں ہوتا، البتہ صفت مخصصہ کے مفہوم مخالف کا اعتبار ہوتا ہے، صفت کاشفہ تو محض تاکید کے لئے ہوتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے قول طَائِرً یَطِیرُ بِجَنَاحَیْہِ یَطِیْرُ بجناحَیْہِ طائرً کی صفت کاشفہ ہے جو کہ محض تاکید کے لئے ہے اس لئے کہ ہر پرندہ پروں ہی سے اڑتا ہے، پھر یہ کہنا کہ وہ پرندہ جو پروں سے اڑتا ہے کیا معنی ؟ لہٰذا وَمَنْ یَدْعُوْ مَعَ اللہِ اِلٰھًا آخر لاَ بُرْھَانَ لَہٗ بِہٖ سے مفہوم مخالف کے طور پر یہ استدلال کرنا کہ اگر کوئی شخص غیر اللہ کی بندگی اشتراکاً کرے تو وہ بےسند اور بےبرہان ہو اور اگر ! فراداً غیر اللہ کی بندگی کرے تو وہ باسند اور بابرہان ہو صحیح نہیں ہے۔ (روح البیان) فَاِنَّمَا حِسَابہ عند ربہ یہ جواب شرط ہے۔ قولہ : اِنَّہٗ لایفلحُ الکافرون جمہور کے نزدیک ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ جملہ مستانفہ ہے اور اس میں علت کے معنی ہیں۔ تفسیر و تشریح قل رب۔۔۔۔۔ الظالمین۔ ان دونوں آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم کی بہت سی آیتوں میں مشرکین و کفار پر عذاب کی وعید مذکور ہے جو عام ہے قیامت میں تو اس کا وقوع قطعی اور یقینی ہے دنیا میں بھی واقع ہونے کا احتمال ہے، پھر یہ عذاب اگر دنیا میں ان پر واقع ہو تو اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ کے بعد آئے اور یہ بھی احتمال ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں آپ ہی کے سامنے ان پر اللہ کا عذاب آجائے، اور دنیا میں جب کسی قوم پر عذاب آتا ہے تو بعض اوقات اس عذاب کا اثر صرف ظالموں ہی پر نہیں رہتا بلکہ نیک لوگ بھی اس سے دنیاوی تکلیف سے متاثر ہوجاتے ہیں گو آخرت میں ان کو کوئی عذاب نہ ہو بلکہ اس دنیا کی تکلیف پر جو ان کو پہنچتی ہے اجر بھی ملے، قرآن کریم کا ارشاد ہے اِتَّقُوْا فِتْنَۃً لاتصیبنّ الذین ظلموا منکم خاصَّۃً یعنی ایسے عذاب سے ڈرو جو اگر آگیا تو صرف ظالموں ہی تک نہیں رہے گا دوسرے لوگ بھی اس کی لپیٹ میں آئیں گے۔ ان آیات میں رسول اللہ ﷺ کو یہ دعا تلقین فرمائی گئی ہے کہ یا اللہ اگر ان لوگوں پر آپ کا عذاب میرے سامنے اور میرے دیکھتے ہوئے ہی آنا ہے تو مجھے ان ظالموں کے ساتھ نہ رکھئے، رسول اللہ ﷺ کا معصوم اور عذاب الٰہی سے محفوظ ہونا اگرچہ آپ کیلئے یقینی تھا مگر پھر بھی اس دعا کی تلقین اس لئے فرمائی گئی کہ ہرحال میں اپنے رب کو یاد رکھیں اس سے فریاد کرتے رہیں تاکہ آپ کا اجر بڑھے۔ (قرطبی بحوالہ معارف) وانا۔۔۔۔ لقدرون (الآیہ) یعنی ہم کو قدرت ہے کہ تمہاری آنکھوں کے سامنے دنیا ہی میں ان کو سزا دیں لیکن آپ کے مقام بلند اور اعلیٰ اخلاق کا مقتضی یہ ہے کہ ان کی برائی کو بھلائی سے دفع کریں جہاں تک اس طرح دفع ہوسکتی ہو اور ان کی بیہودہ بکواس سے مشتعل نہ ہوں ان کو ہم خوب جانتے ہیں، وقت پر کافی سزا دی جائے گی آپ کی چشم پوشی اور نرم برتاؤ کا یہ اثر ہوگا کہ بہت سے لوگ گرویدہ ہو کر آپ کی طرف مائل ہوں گے اور دعوت و اصلاح کا مقصود حاصل ہوگا، اس آیت میں آپ ﷺ کا مکارم اخلاق کی تعلیم دی گئی ہے جو ہر مسلمان کو باہم معاملات میں ہمیشہ پیش نظر رکھنی چاہیے، البتہ کفار و مشرکین سے ان کے مظالم کے مقابلہ میں عفو درگذر ہی کرتے رہنا، ان پر ہاتھ نہ اٹھانا یہ حکم آیات جہاد سے منسوخ ہوگیا مگر عین حالت جہاد میں بھی اس حسن خلق کے بہت سے مظاہر باقی رکھے گئے کہ عورت کو قتل نہ کیا جائے بچہ کو قتل نہ کیا جائے، جو مذہبی لوگ مسلمانوں کے مقابلہ میں جنگ میں شریک نہ ہوں ان کو قتل نہ کیا جائے، اور جس کو بھی قتل کریں اس کو مثلہ (مسخ) نہ کریں کہ ناک کان وغیرہ کاٹ لیں، اس لئے بعد کی آیت میں آنحضرت ﷺ کو شیطان اور اس کے وساوس سے پناہ مانگنے کی دعا کی تلقین کی گئی کہ عین میدان قتال میں بھی آپ کی طرف سے عدل و انصاف اور مکارم اخلاق کے خلاف کوئی کام شیطان کے غصہ دلانے سے صادر نہ ہو، شیطان کے شر اور اس کے وسوسوں سے بچنا انسان کے بس کی بات نہیں جب تک خدا کی مدد شامل حال نہ ہو اس لئے اس کا علاج صرف استعاذہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آجانا تاکہ وہ قادر مطلق شیطان کی چھیڑ خانی اور شر سے محفوظ رکھے، حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ شیطان کی چھیڑ یہ ہے کہ دین کے سوال و جواب میں بےموقع غصہ چڑھے اور لڑائی ہو پڑے، اسی پر فرمایا برے کا جواب دے اس سے بہتر اور کسی حال میں بھی شیطان کو میرے پاس نہ آنے دیجئے کہ مجھ پر وہ اپنا وار کرسکے۔ مجرب عمل : حضرت خالد بن ولید ؓ کو رات کو نیند نہ آتی تھی رسول اللہ ﷺ نے ان کو یہ کلمات دعا تلقین فرمائے کہ یہ پڑھ لیا کریں چناچہ حضرت خالد ؓ نے پڑھنا شروع کیا تو یہ شکایت جاتی رہی وہ دعا یہ ہے اَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ التَّامَّۃِ مِنْ غَضَبِ اللہِ وَعِقَابِہٖ وَمِنْ شرِّ عِبَادِہٖ وَمِنْ ھَمَزَاتِ الشَّیْطٰنِ وَاَنْ یَحْضُرُوْنَ (معارف) رَبِّ ارْجَعُوْنِ یعنی موت کے وقت کافر پر جب آخرت کا عذاب سامنے آنے لگتا ہے تو وہ تمنا کرتا ہے کہ کاش میں پھر دنیا میں لوٹ جاؤں اور نیک عمل کرکے اس عذاب سے نجات حاصل کروں۔ ابن جریر نے بروایت ابن جریج نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ موت کے وقت مومن جب رحمت کے فرشتے اور رحمت کا سامان سامنے دیکھتا ہے تو فرشتے اس سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا تم چاہتے ہو کہ پھر تمہیں دنیا میں واپس کردیا جائے تو وہ کہتا ہے کہ میں اس غموں اور تکلیفوں کے عالم میں جا کر کیا کروں گا مجھے تو آپ اللہ کے پاس لے جائے اور جب کافر سے پوچھتے ہیں تو وہ کہتا ہے ” ربِّ ارْجِعُوْنِ “ یعنی مجھے دنیا میں لوٹا دو ۔ کلا انھا۔۔۔ قائلھا (الآیہ) برزخ کے لفظی معنی حاجز اور فاصل کے ہیں اس لئے موت کے بعد قیامت اور حشر تک کے زمانہ کو برزخ کہا جاتا ہے کہ یہ دنیوی حیات اور اخروی حیات کے درمیان حد فاصل ہے، آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب مرنے والا کافر فرشتوں سے دوبارہ دنیا میں بھیجنے کیلئے کہتا ہے تو وہ اپنی زبان سے بار بار ” رب ارجعون “ کا کلمہ دہراتا ہے مگر اس کلمہ کا کوئی فائدہ اب اس لئے نہیں کہ اب وہ برزخ میں پہنچ چکا ہے جس کا قانون یہ ہے کہ برزخ سے لوٹ کر کوئی دنیا میں نہیں آتا اور بعث و نشر سے پہلے دوسری زندگی نہیں ملتی۔ (واللہ اعلم) فاذا۔۔۔ الصور قیامت کے روز صور دو مرتبہ پھونکا جائے گا نفخہ اولیٰ اس کا اثر یہ ہوگا کا سارا عالم زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے فنا ہوجائے گا، اور نفخہ ثانیہ سے تمام مردے زندہ ہوجائیں گے، قرآن کریم کی آیت ” ثمَّ نُفِخَ فِیہ اخریٰ فاِذَا ھُمْ قیام منظرون “ میں اس کی تصریح موجود ہے۔ محشر میں مومنین اور کفار کے حالات میں فرق : فلا انساب بینھم یعنی میدان حشر میں نسبی رشتے اور قرابتیں کام نہ آئیں گی اسی مضمون کو قرآن کریم کی ان آیات میں بیان فرمایا گیا ہے ” یومَ یَفِرُّ المرأ مِن اخیہ وأمہٖ وابیہ وصاحبتہٖ وبینہٖ “ مگر یہ حال کافروں کا ذکر کیا گیا ہے، مومنین کا یہ حال نہ ہوگا کیونکہ مومنین کا حال خود قرآن کریم نے یہ ذکر کیا ہے ” اَلْحقنا بھم ذریتھم “ یعنی مومنین و صالحین کی اولاد کو بھی اللہ تعالیٰ (بشرط ایمان) اپنے آباء صالحین کے ساتھ لگا دیں گے، بعض احادیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن سارے رشتے ناتے اور دامادی کے تعلقات ختم ہوجائیں گے (یعنی کام نہ آئیں گے) اِلا نسبی وصھری بجز میرے نسب اور صہر کے معلوم ہوا کہ آپ کے تعلقات عموم سے مستثنیٰ ہیں، اسی حدیث کو سن کر حضرت عمر ؓ نے ام کلثوم بنت علی سے نکاح کیا اور چالیس ہزار درہم مہر ادا کیا، ایک حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا قیامت کے روز جس وقت سب لوگ پیاس کی وجہ سے بیقرار ہوں گے تو مسلمان بچے جو نابالغی کی حالت میں مرگئے تھے وہ جنت کا پانی لئے ہوئے نکلیں گے لوگ ان سے پانی مانگیں گے تو وہ کہیں گے کہ ہم تو اپنے ماں باپ کو تلاش کر رہے ہیں یہ پانی ان کے لئے ہے (رواہ ابن ابی الدنیا عن عبداللہ بن عمر و عن ابی ذر ؓ ، مظہری) ۔ بقیہ آیات کی تفسیر تحقیق و ترکیب کے زیر عنوان گذر چکی ہے۔