15. Surah Al-Hijr

الحجرThe Rock · 99 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 15:61–79

فَلَمَّا جَآءَ اٰلَ لُوْطِ اِ۟لْمُرْسَلُوْنَۙ Open ayah 15:61 in the Quran reader

پھر جب فرشتے لوط کے گھر گئے

قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَ Open ayah 15:62 in the Quran reader

تو (لوط نے) کہا تم تو نا آشنا لوگ ہو۔

قَالُوْا بَلْ جِئْنٰكَ بِمَا كَانُوْا فِیْهِ یَمْتَرُوْنَ Open ayah 15:63 in the Quran reader

وہ بولے کہ (نہیں) بلکہ ہم آپ کے پاس وہ چیز لے کر آئے ہیں جس میں لوگ شک کرتے تھے۔

وَ اَتَیْنٰكَ بِالْحَقِّ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 15:64 in the Quran reader

اور ہم آپ کے پاس یقینی بات لے کر آئے ہیں اور ہم سچ کہتے ہیں۔

فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَ اتَّبِعْ اَدْبَارَهُمْ وَ لَا یَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ وَّ امْضُوْا حَیْثُ تُؤْمَرُوْنَ Open ayah 15:65 in the Quran reader

تو آپ کچھ رات رہے سے اپنے گھر والوں کو لے نکلیں اور خود ان کے پیچھے چلیں اور آپ میں سے کوئی شخص پیچھے مڑ کر نہ دیکھے اور جہاں آپ کو حکم ہو وہاں چلے جائیے۔

وَ قَضَیْنَاۤ اِلَیْهِ ذٰلِكَ الْاَمْرَ اَنَّ دَابِرَ هٰۤؤُلَآءِ مَقْطُوْعٌ مُّصْبِحِیْنَ Open ayah 15:66 in the Quran reader

اور ہم نے لوط کی طرف وحی بھیجی کہ ان لوگوں کی جڑ صبح ہوتے ہوتے کاٹ دی جائے گی۔

وَ جَآءَ اَهْلُ الْمَدِیْنَةِ یَسْتَبْشِرُوْنَ Open ayah 15:67 in the Quran reader

اور اہل شہر (لوط کے پاس) خوش خوش (دوڑے) آئے۔

قَالَ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ ضَیْفِیْ فَلَا تَفْضَحُوْنِۙ Open ayah 15:68 in the Quran reader

(لوط نے) کہا کہ یہ میرے مہمان ہیں (کہیں ان کے بارے میں) مجھے رسوا نہ کرنا۔

وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا تُخْزُوْنِ Open ayah 15:69 in the Quran reader

اور خدا سے ڈرو اور میری بےآبروئی نہ کیئجو۔

قَالُوْۤا اَوَ لَمْ نَنْهَكَ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 15:70 in the Quran reader

وہ بولے کیا ہم نے تم کو سارے جہان (کی حمایت وطرفداری) سے منع نہیں کیا ؟

قَالَ هٰۤؤُلَآءِ بَنٰتِیْۤ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَؕ Open ayah 15:71 in the Quran reader

(انہوں نے) کہا کہ اگر تمہیں کرنا ہی ہے تو یہ میری (قوم کی) لڑکیاں ہیں (ان سے شادی کرلو)

لَعَمْرُكَ اِنَّهُمْ لَفِیْ سَكْرَتِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 15:72 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ تمہاری جان کی قسم وہ اپنی مستی میں مدہوش (ہو رہے) تھے۔

فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ مُشْرِقِیْنَۙ Open ayah 15:73 in the Quran reader

سو ان کو سورج نکلتے نکلتے چنگھاڑ نے آپکڑا۔

فَجَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍؕ Open ayah 15:74 in the Quran reader

اور ہم نے اس (شہر) کو (الٹ کر) نیچے اوپر کردیا اور ان پر کھنگر کی پتھریاں برسائیں۔

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِیْنَ Open ayah 15:75 in the Quran reader

بیشک اس (قصے) میں اہل فراست کے لئے نشانی ہے۔

وَ اِنَّهَا لَبِسَبِیْلٍ مُّقِیْمٍ Open ayah 15:76 in the Quran reader

اور وہ شہر اب تک سیدھے راستے پر (موجود) ہے۔

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 15:77 in the Quran reader

بیشک اس میں ایمان لانے والوں کے لئے نشانی ہے۔

وَ اِنْ كَانَ اَصْحٰبُ الْاَیْكَةِ لَظٰلِمِیْنَۙ Open ayah 15:78 in the Quran reader

اور بن کے رہنے والے (یعنی قوم شعیب کے لوگ) بھی گنہگار تھے۔

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ١ۘ وَ اِنَّهُمَا لَبِاِمَامٍ مُّبِیْنٍؕ۠ Open ayah 15:79 in the Quran reader

تو ہم نے ان سے بھی بدلا لیا اور یہ دونوں شہر کھلے راستے پر (موجود) ہیں۔

آیت نمبر 61 تا 79 ترجمہ : پھر جب یہ فرستادے آل لوط یعنی لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو لوط (علیہ السلام) نے ان سے کہا تم لوگ اجنبی معلوم ہوتے ہو، میں تم کو نہیں پہچانتا، فرشتوں نے جواب دیا، نہیں، بلکہ ہم تمہارے پاس وہی چیز لے کر آئے ہیں جس (کے آنے) میں تمہاری قوم شک کر رہی تھی اور وہ عذاب ہے، اور ہم تمہارے پاس صریح حق لے کر آئے ہیں اور ہم اپنی بات میں بالکل سچے ہیں، اب تم رات کے کسی حصہ میں اپنے اہل کو لے کر نکل جانا، اور تم ان کے پیچھے رہنا، یعنی ان کے پیچھے (پیچھے) چلنا، اور تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے تاکہ اس عظیم ہولناک (عذاب) کو نہ دیکھے جو ان پر نازل ہو رہا ہو، اور جہاں جانے کا تمہیں حکم دیا گیا ہے اور وہ شام ہے (سیدھے) چلے جاؤ اور ہم نے انھیں اپنا یہ فیصلہ پہنچا دیا اور وہ یہ کہ صبح ہوتے ہوتے ان کی جڑیں کاٹ دی جائیں گی (مصبحین) حال ہے، یعنی صبح ہوتے ہوتے ان کی جڑیں اکھاڑ دی جائیں گی، اور شہر والے (یعنی) سدوم کے باشندے اور وہ لوط (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کی قوم کے لوگ تھے، جب ان کو یہ خبر ملی کہ لوط (علیہ السلام) کے گھر میں خوبصورت امرد (بےریش) لڑکے ہیں حالانکہ وہ فرشتے تھے (یستبشرون) حال ہے، ان کے ساتھ بدفعلی کی خواہش کرتے ہوئے خوش ہوتے ہوئے آئے، لوط (علیہ السلام) نے کہا (بھائیو) یہ میرے مہمان ہیں تم مجھے ان کے بارے میں رسوا نہ کرو اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور ان کے ساتھ بدفعلی کا ارادہ کرکے میری فضیحت نہ کرو وہ کہنے لگے کیا ہم نے تم کو دنیا بھر کی ٹھکیداری یعنی ان کی مہمان نوازی کرنے سے منع نہیں کیا لوط (علیہ السلام) نے کہا اگر تمہیں قضاء شہوت کرنی ہی ہے تو یہ میری بیٹیاں موجود ہیں ان سے نکاح کرلو، اللہ تعالیٰ نے فرمایا تیری عمر کی قسم یہ آپ ﷺ کو خطاب ہے یعنی تیری زندگی کی قسم، وہ تو اپنی بدمستی میں بھٹک رہے تھے آخر صبح ہوتے ہوتے ان کو ایک چیخ نے (یعنی) جبرائیل (علیہ السلام) کی چیخ نے پکڑ لیا یعنی سورج طلوع ہونے کے وقت بالآخر ہم نے اس شہر کو تہ وبالا کردیا اس طریقہ پر کہ ان بستیوں کو جبرائیل (علیہ السلام) نے اوپر کی طرف اٹھایا اور زمین پر پلٹ کر پھینک دیا اور ان لوگوں پر کنکریلے پتھر برسائے یعنی آگ میں پکی ہوئی مٹی کے پتھر بلاشبہ ان مذکورہ (واقعات) میں اہل بصیرت عبرت حاصل کرنے والوں کیلئے خدا تعالیٰ کی وحدانیت پر دلالت کرنے والی نشانیاں ہیں اور قوم لوط کی یہ بستیاں قریش کے شام جانے والی شاہراہ پر واقع تھیں اور (ابھی تک) ان کے نشانات مٹے نہیں تھے تو کیا یہ لوگ ان سے نصیحت حاصل نہیں کرتے بیشک اس (مذکور) میں مومنین کیلئے عبرت ہے اور ان مخففہ ہے یعنی انہ کان اور اصحاب ایکہ کہ وہ (ایکہ) مدین کے قریب کہ وہ شعیب (علیہ السلام) کی قوم تھی ایک جھاڑی تھی یہ بھی حضرت شعیب (علیہ السلام) کی تکذیب کی وجہ سے بڑے ظالم تھے جن سے ہم نے انتقام لے ہی لیا کہ ہم نے ان کو سخت گرمی کے ذریعہ ہلاک کردیا اور یہ دونوں یعنی قوم لوط کی بستیاں اور ایکہ شاہراہ پر واقع تھیں کیا یہ اہل مکہ ان سے عبرت حاصل نہیں کرتے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : ای لوطا، اس میں اشارہ ہے کہ آل لوط سے صرف لوط (علیہ السلام) مراد ہیں اسلئے کہ اللہ تعالیٰ کے قول ” ولقد جاءت رسلنا لوطا “ سے بھی یہی مفہوم ہے۔ قولہ : لا اعرفکم، تم انجان ہو اسلئے کہ نہ تو تم مقامی ہو ورنہ میں تم کو ضرور پہچانتا، اور نہ تم مسافر معلوم ہوتے ہو اسلئے کہ تمہارے اوپر سفر کی کوئی علامت نہیں ہے۔ قولہ : اوحینا، یہ اس سوال کا جواب ہے کہ قضینا کا صلہ الی نہیں آتا حالانکہ یہاں صلہ، الی استعمال ہوا ہے جواب یہ ہے کہ قضینا، اوحینا کے معنی کو متضمن ہے اور اوحینا کا صلہ الی آتا ہے۔ قولہ : ذلک الامر یہ مبہم ہے، اس کی تفصیل، أن دابر ھٰؤلاء مقطوع مصبحین سے کی ہے۔ قولہ : حال یعنی ھؤلاء سے حال ہے اور بعض حضرات نے مقطوع کی ضمیر سے حال قرار دیا ہے اور مقطوع معنی میں مقطوعین کے ہوگا۔ قولہ : مردا یہ امرد کی جمع ہے، بےریش نوجوان کو کہتے ہیں۔ قولہ : حال یعنی یستبشرون، اہل المدینہ سے حال ہے نہ کہ صفت اسلئے کہ جملہ نکرہ ہونے کی وجہ سے معرفہ کی صفت واقع نہیں ہوسکتا۔ قولہ : عن اضافتھم، ای ضیافتھم، میزبانی کرنا۔ قولہ : یترددون ای یتحیرون فکیف یسمعون نصیحتک۔ قولہ : وقت شروق الشمس عذاب کی ابتداء طلوع فجر کے وقت ہوئی اور تکمیل حضرت جبرائیل کی چیخ کے ذریعہ طلوع شمس کے وقت ہوئی لہٰذا کوئی مضافات نہیں ہے۔ قولہ : تندرس، اندراس، خراب شدن، مٹنا۔ قولہ : طریق، اس میں اشارہ ہے کہ امام سے یہاں معروف معنی مراد نہیں ہیں ای ما یؤتم بہ بلکہ یہاں راستہ مراد ہے اسلئے کہ راستہ کی بھی مسافر اقتداء کرتا ہے راستہ جدھر جاتا ہے مسافر بھی اسی طرف جاتا ہے۔ قولہ : متوسمین، متوسم اسم فاعل کی جمع ہے (تفعل) تو سم مصدر ہے، اہل فراست، گہرائی سے دیکھنے والے وسم مادہ ہے، علامت۔ تفسیر و تشریح فلما جاء۔۔۔۔ ، یہاں بات بہت مختصر بیان ہوئی ہے سورة ہود میں اس واقعہ کو مفصل بیان کیا گیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ان فرستادوں کی آمد سے حضرت لوط (علیہ السلام) بہت گھبرائے اور ان کو دیکھتے ہی اپنے دل میں کہنے لگے آج بڑا سخت دن آیا ہے، اس کی وجہ یہ تھی کہ فرشتے نہایت ہی خوبصورت لڑکوں کی شکل میں حضرت لوط (علیہ السلام) کے یہاں آئے تھے اور حضرت لوط (علیہ السلام) اپنی قوم کی بدکرداری سے واقف تھے، مہمانوں کو واپس بھی نہیں کیا جاسکتا تھا اور انھیں بدمعاشوں سے بچانا بھی مشکل تھا۔ وجاء اھل۔۔۔۔ ، ادھر تو لوط (علیہ السلام) کے گھر میں قوم کی ہلاکت کا فیصلہ ہو رہا تھا، ادھر قوم لوط کو پتہ چلا کہ لوط (علیہ السلام) کے گھر چند خوش شکل نوجوان مہمان آئے ہیں تو وہ اپنی امرد پرستی کی وجہ سے بہت خوش ہوئے اور حضرت لوط (علیہ السلام) کے گھر پر چڑھ آئے اور ان نوجوان کو سپرد کرنے کا مطالبہ کیا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے انھیں سمجھانے کی کوشش کی اور اپنی رسوائی اور بےعزتی کے حوالہ سے بہت کچھ کہا مگر ان کی سمجھ میں کچھ نہ آیا اسلئے کہ وہ اپنی بدمستی اور شہوت پرستی کے جوش میں شراب کے نشے کی مانند دھت تھے۔ وانھا لبسبیل مقیم، سبیل مقیم سے شاہ راہ مراد ہے یعنی قوم لوط کی بستیاں مدینہ سے شام جاتے ہوئے راستہ میں پڑتی تھیں ہر آنے جانے والا ان بستیوں سے گذرتا تھا، کہتے ہیں کہ یہ پانچ بستیاں تھیں ان کا مرکزی مقام سدوم تھا۔ وان اصحاب الایکۃ لظٰلمین، ایکہ گھنے درخت کو کہتے ہیں چونکہ یہ لوگ زراعت پیشہ تھے اور جانور بھی بکثرت رکھتے تھے اسلئے یہ لوگ اس آب وگیاہ والے مقام پر رہتے تھے، کہا گیا ہے کہ اس سے مراد قوم شعیب ہے ان کا زمانہ لوط (علیہ السلام) کے بعد ہے ان کا علاقہ حجاز اور شام کے درمیان قوم لوط کی بستیوں کے قریب ہی تھا۔
Ayahs 15:80–99

وَ لَقَدْ كَذَّبَ اَصْحٰبُ الْحِجْرِ الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 15:80 in the Quran reader

اور (وادی) حجر کے رہنے والوں نے بھی پیغمبروں کی تکذیب کی۔

وَ اٰتَیْنٰهُمْ اٰیٰتِنَا فَكَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَۙ Open ayah 15:81 in the Quran reader

ہم نے ان کو اپنی نشانیاں دیں اور وہ ان سے منہ پھیر تے رہے۔

وَ كَانُوْا یَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا اٰمِنِیْنَ Open ayah 15:82 in the Quran reader

اور وہ پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بناتے تھے (کہ) امن (واطمیان) سے رہیں گے

فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ مُصْبِحِیْنَۙ Open ayah 15:83 in the Quran reader

تو چیخ نے ان کو صبح ہوتے ہوتے آپکڑا۔

فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَؕ Open ayah 15:84 in the Quran reader

اور جو کام وہ کرتے تھے وہ ان کے کچھ بھی کام نہ آئے۔

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِیَةٌ فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِیْلَ Open ayah 15:85 in the Quran reader

اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو (مخلوقات) ان میں ہیں اس کو تدبیر کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ اور قیامت تو ضرور آ کر رہے گی تو تم (ان لوگوں سے) اچھی طرح سے درگزر کرو۔

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْخَلّٰقُ الْعَلِیْمُ Open ayah 15:86 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ تمہارا پروردگار ہی (سب کچھ) پیدا کرنے والا (اور) جاننے والا ہے۔

وَ لَقَدْ اٰتَیْنٰكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ وَ الْقُرْاٰنَ الْعَظِیْمَ Open ayah 15:87 in the Quran reader

اور ہم نے تم کو سات (آیتیں) جو (نماز میں) دوہرا کر پڑھی جاتی ہیں (یعنی سورة الحمد) اور عظمت والا قرآن عطا فرمایا ہے۔

لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 15:88 in the Quran reader

اور ہم نے کفار کی کئی جماعتوں کو جو (فوائد دنیاوی سے) متمتع کیا ہے تم ان کی طرف (رغبت سے) آنکھ اٹھا کر نہ دیکھنا اور نہ ان کے حال پر تاسف کرنا اور مومنوں سے خاطر اور تواضع سے پیش آنا۔

وَ قُلْ اِنِّیْۤ اَنَا النَّذِیْرُ الْمُبِیْنُۚ Open ayah 15:89 in the Quran reader

اور کہہ دو کہ میں تو علانیہ ڈر سنانے والا ہوں۔

كَمَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَى الْمُقْتَسِمِیْنَۙ Open ayah 15:90 in the Quran reader

(اور ہم ان کفار پر اسی طرح عذاب نازل کریں گے) جس طرح ان لوگوں پر نازل کیا جنہوں نے تقسیم کردیا۔

الَّذِیْنَ جَعَلُوا الْقُرْاٰنَ عِضِیْنَ Open ayah 15:91 in the Quran reader

یعنی قرآن کو (کچھ ماننے اور کچھ نہ ماننے سے) ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔

فَوَرَبِّكَ لَنَسْئَلَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 15:92 in the Quran reader

تمہارے پروردگار کی قسم ہم ان سے ضرور پرسش کریں گے۔

عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 15:93 in the Quran reader

ان کاموں کی جو وہ کرتے رہے۔

فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 15:94 in the Quran reader

پس جو حکم تم کو (خدا کی طرف سے) ملا ہے وہ (لوگوں کو) سنا دو اور مشرکوں کا (ذرا) خیال نہ کرو۔

اِنَّا كَفَیْنٰكَ الْمُسْتَهْزِءِیْنَۙ Open ayah 15:95 in the Quran reader

ہم تمہیں ان لوگوں (کے شر) سے بچانے کے لئے جو تم سے اسہزا کرتے ہیں کافی ہیں۔

الَّذِیْنَ یَجْعَلُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۚ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 15:96 in the Quran reader

جو خدا کے ساتھ اور معبود قرار دیتے ہیں سو عنقریب ان کو (ان باتوں کا انجام) معلوم ہوجائے گا۔

وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّكَ یَضِیْقُ صَدْرُكَ بِمَا یَقُوْلُوْنَۙ Open ayah 15:97 in the Quran reader

اور ہم جانتے ہیں کہ ان باتوں سے تمہارا دل تنگ ہوتا ہے۔

فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ كُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَۙ Open ayah 15:98 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی تسبیح کہتے اور (اس کی) خوبیاں بیان کرتے رہو سجدہ کرنے والوں میں داخل رہو۔

وَ اعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى یَاْتِیَكَ الْیَقِیْنُ۠ Open ayah 15:99 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کی عبادت کئے جاؤ یہاں تک کہ تمہاری موت (کا وقت) آجائے۔

آیت نمبر 80 تا 99 ترجمہ : اور حجر والوں نے حجر، مدینہ اور شام کے درمیان ایک وادی ہے اور وہ ثمود تھے صالح (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کی تکذیب کرکے (سب) رسولوں کی تکذیب کی، اسلئے کہ صالح (علیہ السلام) کی تکذیب باقی رسولوں کی بھی تکذیب ہے اسلئے کہ توحید کے لانے میں سب مشترک ہیں اور ہم نے ان کو ناقہ کی شکل میں اپنی نشانیاں بھی دیں مگر وہ اس سے اعراض ہی کرتے رہے یعنی انہوں نے ان نشانیوں میں غور و فکر نہیں کیا، اور لوگ بےخوف ہو کر پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے تھے آخر انھیں بھی صبح ہوتے ایک زور دار آواز نے آپکڑا پس ان کی کسی تدبیر و عمل نے ان کو عذاب دفع کرنے میں کوئی فائدہ نہیں دیا یعنی ان کے قلعوں نے اور مال جمع کرنے نے ان کو کوئی فائدہ نہیں دیا اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے حق کے ساتھ (یعنی بامقصد) پیدا کیا ہے اور قیامت ضرور بالضرور آنے والی ہے ہر شخص کو اس کے عمل کی جزاء دی جائے گی اے محمد تم اپنی قوم سے حسن و خوبی کے ساتھ درگذر کرو، یعنی ان سے آپ صرف نظر کرلیں اس طور پر کہ اس میں جزع فزع نہ ہو اور یہ حکم آیت سیف سے منسوخ ہے، یقیناً تیرا رب ہر شئ کا پیدا کرنے والا (اور) ہر شئ کا جاننے والا ہے اور یقیناً ہم نے آپ کو سات آیتیں دے رکھی ہیں (یعنی) سبع مثانی آپ ﷺ نے فرمایا وہ سورة فاتحہ ہے (رواہ الشیخان) اسلئے کہ اس کو ہر رکعت میں دہرایا جاتا ہے، اور قرآن عظیم بھی عطا کیا ہے اور آپ ہرگز اپنی نظریں ان چیزوں کی طرف نہ اٹھائیں جو ہم نے ان میں سے مختلف قسم کے لوگوں کو دے رکھی ہیں اور اگر وہ ایمان نہ لائیں تو آپ ان پر غم نہ کریں اور مومنوں کیلئے اپنے بازو جھکائے رہیں (یعنی) ان کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کریں، اور کہہ دیجئے کہ میں تو اللہ کے عذاب سے کھلا ڈرانے والا ہوں یہ کہ تمہارے اوپر عذاب نازل ہوجائے جیسا کہ ہم نے ان تقسیم کرنے والے یہود و نصاریٰ پر نازل کیا جنہوں نے قرآن کو یعنی ان کتابوں کو جو ان پر نازل کی گئی تھیں ٹکڑے ٹکڑے کردیا اس طور پر کہ بعض (حصہ) پر ایمان لائے اور بعض کا انکار کردیا اور کہا گیا ہے کہ مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے مکہ کے راستوں کو (آنیوالے) لوگوں کو اسلام سے روکنے کیلئے تقسیم کرلیا تھا اور بعض نے قرآن کے بارے میں سحر کہا اور بعض نے کہانت کہا اور بعض نے شعر کہا، قسم ہے تیرے رب کی ہم ان سب سے ان کے اعمال کے بارے میں ضرور باز پرس کریں گے اور یہ سوال توبیخ کیلئے ہوگا، پس اے محمد اس حکم کو جو آپ کو دیا جا رہا ہے کھول کر سنا دیجئے اور نافذ کر دیجئے اور مشرکین سے صرف نظر کرلیجئے یہ حکم جہاد کا حکم نازل ہونے سے پہلے کا ہے آپ سے جو لوگ استہزاء کرتے ہیں ہم ان کے لئے آپ کی طرف سے کافی ہیں اس طریقہ پر کہ ہم ان سب کو کسی آفت کے ذریعہ ہلاک کردیں گے، اور وہ ولید بن مغیرہ اور عاص بن وائل اور عدی بن قیس، اور اسود بن المطلب اور اسود بن عبد یغوث ہیں، جو لوگ اللہ کے ساتھ دوسرے معبود مقرر کرتے ہیں انھیں عنقریب اس کا انجام معلوم ہوجائے گا کہا گیا ہے کہ صفت ہے اور کہا گیا ہے کہ مبتداء متضمن بمعنی شرط ہے اور اسی وجہ سے اس کی خبر پر فاداخل ہے اور وہ (خبر فسوف تعلمون ہے) اور ہمیں خوب معلوم ہے کہ ان کی باتوں سے آپ کا دل تنگ ہوتا ہے اور وہ باتیں استہزاء اور تکذیب ہیں، آپ اپنے رب کی تسبیح وتحمید بیان کرتے رہیں یعنی سبحان اللہ وبحمدہ کہتے ہیں اور سجدہ کرنے (نماز پڑھنے) والوں میں شامل رہیں اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہیں یہاں تک کہ آپ کا یقینی (موت کا) وقت آجائے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : فی الناقۃ، مفسر علام نے فی الناقۃ کہہ کر اس سوال کا جواب دیا ہے کہ آیتنا جمع ہے اور اس کی تفسیر الناقۃ مفرد سے کی ہے جو کہ درست نہیں، جواب کا حاصل یہ ہے کہ ناقۃ کئی آیات کو مشتمل تھی اونٹنی کا پہاڑ سے نکلنا، آکر فوراً بچہ دینا، اور اپنی باری میں تم پانی پی جانا اور زیادہ مقدار میں دودھ دینا، لہٰذا آیتنا کی تفسیر ناقۃ سے درست ہے۔ قولہ : اصنافا، ازواجا کی تفسیر اصنافا سے کرکے اشارہ کردیا کہ ازواجا کے معروف معنی مراد نہیں ہیں بلکہ اصناف و اقسام مراد ہیں مثلاً کافر یہود، نصاری، مجوس، بت پرست وغیرہ۔ قولہ : کتبھم قرآن کی تفسیر کتبھم سے کرکے اشارہ کردیا کہ قرآن سے یہاں معروف قرآن مراد نہیں ہے۔ قولہ : اجزاء، یہ عضین کے لغوی معنی کو بیان کرنے کیلئے اضافہ کیا ہے عضین، عضۃ کی جمع ہے اس کی اصل عُضْوَۃ بروزن فُعلۃ تھی یہ عضی الشاۃ سے ماخوذ ہے یعنی ٹکڑے ٹکڑے کرنا۔ قولہ : صفۃ یعنی الذین، مستھزئین کی صفت ہے لہٰذا فصل بالاجنبی نہیں ہے۔ تفسیر و تشریح ولقد کذب اصحٰب الحجر المرسلین، حجر قوم ثمود کا مرکزی شہر تھا اس کے کھنڈر مدینہ کے شمال مغرب میں موجودہ شہر العلاء سے چند میل کے فاصلہ پر واقع ہیں مدینہ سے تبوک جاتے ہوئے یہ شہر شاہ راہ عام پر پڑتا ہے، قافلوں کی آمد و رفت اسی وادی سے ہوتی ہے 9 ھ میں تبوک جاتے ہوئے جب رسول اللہ ﷺ اس بستی سے گذرے تو آپ نے سر پر کپڑا لپیٹ لیا اور اپنی سواری کو تیز کرلیا اور صحابہ سے فرمایا کہ روتے ہوئے اور اللہ کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اس بستی سے گذرو (ابن کثیر، بخاری و مسلم) آٹھویں صدی ہجری میں ابن بطوطہ حج کو جاتے ہوئے یہاں سے گذرا تھا، وہ لکھتا ہے کہ یہاں سرخ رنگ کے پہاڑوں میں قوم ثمود کی عمارتیں موجود ہیں جو انہوں نے چٹانوں کو تراش کر ان کے اندر بنائی تھیں، ان کے نقش نگار اس وقت تک ایسے تازہ ہیں جیسے آج ہی بنائے گئے ہوں۔ ولقد آتینک۔۔۔ العظیم، سبع مثانی سے کیا مراد ہے ؟ اس میں مفسرین کا اختلاف ہے راجح قول یہ ہے کہ اس سے مراد سورة فاتحہ ہے جو ہر نماز میں بار بار پڑھی جاتی ہے۔ (مثانی کے معنی بار بار دہرانے کے ہیں) ۔ لاتمدن عینیک (الآیۃ) یعنی ہم نے سورة فاتحہ اور قرآن جیسی عظیم نعمتیں آپ کو عطا کی ہیں اس لئے دنیا اور اس کی زینت اور دنیا داروں اور سرمایہ داروں کی طرف آپ طلب و حسرت کی نظر نہ اٹھائیں یہ سب عارضی اور فانی چیزیں ہیں، اور آپ اپنی تکذیب پر غم نہ کریں اسلئے کہ ہر نبی کے ساتھ ایس اہی معاملہ ہوا ہے، اور مومنین کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کریں۔ کما انزلنا علی المقتسمین، بعض مفسرین کے نزدیک انزلنا کا مفعول العذاب محذوف ہے معنی یہ ہیں کہ میں تمہیں واضح طور پر عذاب سے ڈرنے والا ہوں مثل اس عذاب کے جو مقتسمین پر نازل ہوا، مقتسمین سے کیا مراد ہے ؟ بعض کا کہنا یہ ہے کہ اس سے وہ مراد ہیں جنہوں نے کتاب الٰہی کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے، بعض نے کہا کہ اس سے قریشی قوم مراد ہے، جنہوں نے اللہ کی کتاب کو تقسیم کردیا، بعض کہتے ہیں مقتسمین سے اہل کتاب اور قرآن سے تورات اور انجیل مراد ہے۔ بعض نے کہا کہ صالح (علیہ السلام) کی قوم کے وہ افراد مراد ہیں جنہوں نے قسم کھائی تھی کہ ہم رات کو صالح (علیہ السلام) اور ان کے گھر والوں کو قتل کردیں گے اور بعض نے کہا ہے جن میں علامہ سیوطی بھی شامل ہیں کہ مکہ کے وہ لوگ مراد ہیں جنہوں نے مکہ کی طرف آنے والے راستے تقسیم کر لئے تھے اور ہر شخص اپنے متعین راستہ پر حج کے موسم میں جاکر بیٹھ جاتا تھا کہ آنے والوں کو محمد ﷺ سے ملنے سے روکے۔ تم بحمدللہ