Ayahs 15:26–44آیت نمبر 26 تا 44
ترجمہ : بیشک ہم نے انسان (یعنی) آدم کو کالی سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کیا یعنی ایسی خشک مٹی جب اس کو نجایا جائے تو اس کی آواز سنی جائے اور اس سے پہلے (یعنی) تخلیق آدم سے پہلے ہم نے جنات (یعنی) ابو الجن کو کہ وہ ابلیس ہے شعلے سے کہ جس میں دھواں نہ ہو اور وہ مسامات (یعنی بدن کے مسامات) میں نفوذ کر جائے پیدا کیا اور اس وقت کا تذکرہ کرو کہ جب تیرے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں انسان کو کالی سڑی ہوئی کھنکھناے والی مٹی سے پیدا کرنے والا ہوں تو جب میں اس کو مکمل کر چکوں اور اس میں اپنی روح ڈال چکوں اور وہ زندہ ہوجائے اور روح کی نسبت اللہ کی طرف آدم کیلئے کرامت کے طور پر ہے، تو تم سب اس کیلئے سجدہ میں گرپڑنا، یعنی جھک کر تعظیم کرنا، چناچہ تمام فرشتوں نے مجموعی طور سجدہ کیا مگر ابلیس نے اور وہ ابو الجن تھا جو فرشتوں کے درمیان رہتا تھا، سجدہ کرنے والوں میں شامل ہونے سے (صاف) انکار کردیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے ابلیس تجھے کیا ہوا کہ تو سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا من زائدہ ہے وہ بولا کہ میں ایسا کرنے والا نہیں (یعنی) میرے لئے ہرگز مناسب نہیں کہ میں ایسے انسان کو سجدہ کروں کہ جس کو تو نے کالی سڑی ہوئی کھنکھناتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا (اللہ نے) فرمایا جنت سے نکل جا اور کہا گیا ہے کہ آسمانوں سے نکل جا، بلاشبہ تو مردود ہے اور تجھ پر میری پھٹکار ہے روز جزاء تک، کہنے لگا مجھے اس دن تک ڈھیل دیدے کہ لوگوں کو زندہ کرکے اٹھایا جائے (اللہ نے) فرمایا اچھا تو تجھے وقت مقرر تک مہلت ہے یعنی نفخۂ اولی تک، (شیطان نے) کہا اے میرے رب چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا ہے یعنی تیرے مجھ کو گمراہ کرنے کی وجہ سے، اور باء قسمیہ ہے اور اس کا جواب لازیننہ ہے، مجھے بھی قسم ہے کہ میں بھی زمین میں ان کیلئے معاصی کو مزین کروں گا، اور ان سب کو بہکاؤں گا بھی سوائے تیرے ان بندوں کے کہ جو مومنین ہیں ارشاد ہوا یہی مجھ تک پہنچنے کی سیدھی راہ ہے، میرے مخلص بندوں یعنی مومن بندوں پر تیرا قابو نہ چلے گا، سوائے ان گمراہ کافر لوگوں کے جو تیری پیروی کریں یقیناً ان سب کے وعدہ کی جگہ جہنم ہے یعنی اس شخص کی جو تیرے ساتھ تیری پیروی کرے، جس کے ساتھ طبقے ہیں ہر طبقے کیلئے ان میں سے ایک حصہ مخصوص کردیا گیا ہے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : آدم، الانسان کی تفسیر، آدم، سے کرکے اشارہ کردیا کہ الانسان میں الف لام عہد کا ہے۔
قولہ : حماء، کیچڑ، گارا، سیاہ مٹی۔ قولہ : تنفذ فی المسام، اس میں سموم کی وجہ تسمیہ کی طرف اشارہ ہے۔
قولہ : فقعوا، وقع یقع، سے امر جمع مذکر حاضر ہے، تم سب گر جاؤ۔ فاء، جواب شرط ہونے کی وجہ سے داخل ہے۔
قولہ : تاکید ان اول تاکید نے اطلاق الجمع علی البعض کے احتمال کو ختم کردیا جیسا کہ ” اذقالت الملائکۃ یا مریم “ میں جمع کا اطلاق بعض پر ہوا ہے مگر ابھی احتمال انفراد باقی ہے اس کو اجمعون کہہ کر ختم کردیا، اب آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا ہے گویا کہ حکم موجودین کو ہوا جن مکیں ابلیس بھی داخل ہے۔
قولہ : باغوائک اس میں اشارہ ہے کہ بما اغویتنی میں ما مصدریہ ہے نہ کہ موصولہ کہ عائد کی ضرورت ہو اور باء قسمیہ ہے، یعنی قسم ہے تیرے مجھے گمراہ کرنے کی۔
قولہ : ازینن، یہ تزیین (تفعیل) سے مضارع واحد متکلم بانون تاکید ثقیلہ ہے میں زینت دوں گا، آراستہ کروں گا۔
قولہ : المعاصی اس میں اشارہ ہے کہ ازینن متعدی ہے، اور اس کا مفعول معاصی محذوف ہے۔
قولہ : مخلصین، ای اخلصتہ لعبادتک۔ قولہ : ھذا ای تخلص المؤمنین من اغوائک۔
قولہ : صراط علی، ای حق علی۔
قولہ : وھو، اس میں اشارہ ہے کہ ھو کا مرجع ان عبادی الخ ہے، اور ان عبادی، صراط مستقیم کا بیان ہے۔
قولہ : اطباق یہ طبق کی جمع ہے یعنی وہ درجات جن میں حسب اتباع مراتب شیطان جہنمیوں کو داخل کیا جائیگا، اور جہنم کے حسب ترتیب سات درجے ہیں، (1) جھنم (2) لظی (3) الحطمہ (4) السعیر (5) السقر (6) الجحیم (7) الھاویہ۔
تفسیر و تشریح
انسان کی اصل آدم (علیہ السلام) ہے نہ کہ بندریا کوئی حیوان : ولقد خلقنا۔۔۔۔ مسنون، یہاں قرآن اس بات کی صراحت کرتا ہے کہ انسان کا پہلا فرد آدم (علیہ السلام) ہے اور آدم کی اصل مٹی ہے، ایسا نہیں کہ انسان بندر یا کسی اور حیوان سے ترقی کے منازل طے کرتا ہوا انسان بنا ہو جیسا کہ ڈرارون کا نظریہ ارتقاء ہے اور بعض ڈارون زدہ ذہنیت کے لوگ قرآن کی صراحت کے باوجود اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ اپنا جدامجد بندریا کسی اور جانور کو ثابت کریں، حقیقت یہ ہے کہ انسان کی تخلیق براہ راست ارضی مادہ سے ہوئی ہے جس کی کیفیت اللہ تعالیٰ نے صلصال من حماء مسنون کے الفاظ سے بیان فرمائی ہے حماء مسنون کے الفاظ سے بیان فرمائی ہے حماء عربی زبان میں ایسی سیاہ کیچڑ کو کہتے ہیں کہ جس کے اندر بو پیدا ہوگئی ہو، یا بالفاظ دیگر خمیر اٹھ آیا ہو ” مسنون “ کے دو معنی ہیں، ایک معنی ہیں، متغیر، منتن اور املس یعنی ایسی سڑی ہوئی مٹی کہ جس میں سڑنے کی وجہ سے چکناہٹ پیدا ہوگئی ہو، اس کا مصدر سَنٌّ ہے، (ن) متغیر، سڑا ہوا، علامہ سیوطی نے یہی معنی مراد لئے ہیں، دوسرے معنی ہیں مصور، یعنی سانچے میں ڈھلی ہوئی جس کو کوئی خاص شکل دیدی گئی ہو، ” صلصال “ اس سوکھے گارے کو کہتے ہیں کہ جو خشک ہوجانے کے بعد بجنے لگے، ان الفاظ سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ خمیر اٹھی ہوئی مٹی کا ایک پتلا بنایا گیا تھا جو بننے کے بعد خشک ہوا اس کے بعد اس میں روح پھونکی گئی۔
روح کی حقیقت کیا ہے ؟ روح کوئی جسم لطیف ہے یا جوہر مجرد ؟ اس میں علماء اور حکماء کا اختلاف قدیم زمانہ سے چلا آتا ہے، ہمارے محققین علماء نے روح کو جسم لطیف تسلیم کیا ہے۔ الروح جسم لطیف۔ (قرطبی) ۔ الروح جسم لطیف یحیا بہ الانسان۔ (معالم)
واجمع اھل السنۃ علی انھا جسم لطیف یخالف الاجسام بالماھیۃ والصفۃ متصرف فی البدن حال فیہ حلول الزیت فی الزیتون او النار فی الفحم، یعبر عنہ بانا وانت والی ذلک ذھب امام الحرمین۔ (روح)
ترجمہ : جمہور اہل السنت کا مسلک یہ ہے کہ روح ایک جسم لطیف ہے ماہیت اور صفت میں اجسام کے عکس ہے بدن میں متصرف ہے، روح جسم میں اس طرح حلول کئے ہوئے ہے جس طرح زیتون کا تیل زیتون میں اور آگ کوئلہ میں، اس کو میں اور تو، سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ لیکن بعض کی تحقیق جن میں امام غزالی بھی شامل ہیں یہ ہے کہ روح ایک جوہر مجرد ہے جو نہ جسم میں داخل ہے نہ خارج، نہ اس سے متصل نہ اس سے منفصل۔
مولانا عبد الماجد دریا بادی اپنی تفسیر ماجدی میں لکھتے ہیں کہ ” احقر کے نزدیک روح کی ماہیت و حقیقت کے باب میں زیادہ کھود کرید کچھ مناسب نہیں، مسلمان کیلئے صرف اس قدر عقیدہ کافی ہے کہ روح موہبت الٰہی میں سے کوئی خاص چیز ہے جسے اللہ تعالیٰ براہ راست انسان کو منتقل کردیتا ہے اور اس سے انسان، انسان بن جاتا ہے اور جوں ہی وہ اپنے اس عطیہ کو واپس لے لیتا ہے انسان مردہ بےجان ہوجاتا ہے، “ (اسی حقیقت کی جانب اللہ تعالیٰ نے ” قل الروح من امر ربی “ سے اشارہ فرمایا ہے) ۔
انسان کی پیدائش میں اگرچہ عنصر غالب مٹی ہے اور اسی لئے قرآن عزیز میں انسان کی پیدائش کو مٹی کی طرف منسوب کیا گیا ہے لیکن انسان درحقیقت دس چیزوں کو جامع ہے جن سے پانچ عالم خلق کی ہیں اور پانچ عالم امر کی۔ عالم خلق کی چیزوں میں چار تو عناصر اربع آگ، پانی، مٹی، ہوا ہیں اور پانچواں ان چاروں سے پیدا ہونے والا بخار لطیف جس کو روح سفلی یا نفس کہا جاتا ہے اور عالم امر کی پانچ چیزیں یہ ہیں قلب، روح، سر، خفی، اسی جامعیت کی وجہ سے انسان خلافت الٰہیہ کا مستحق بنا اور نور معرفت اور نار عشق و محبت کا متحمل ہوا، جس کا نتیجہ بےکیف محبت الٰہیہ کا حصول ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے ” المرء مع من احب “۔
اور انسان تجلیات الٰہیہ کی قابلیت اور محبت الٰہیہ کا جو درجہ اس کو حاصل ہے اسی وجہ سے حکمت الٰہیہ کا تقاضا یہ ہوا کہ اس کو مسجود ملائکہ بنایا جائے ارشاد ہوا ” فقعوا لہ ساجدین “۔ (معارف)
آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کے حکم میں ابلیس شامل تھا یا نہیں ؟ سورة اعراف میں ابلیس کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا، ” مامنعک ان لا تسجد اذ امرتک اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سجدہ کا حکم فرشتوں کے ساتھ ابلیس کو بھی دیا گیا تھا، مذکورہ آیات جن سے بظاہر اس حکم کا فرشتوں کیلئے مخصوص ہونا معلوم ہوتا ہے اس کا مفہوم یہ ہوسکتا ہے کہ اصالۃ حکم فرشتوں کو دیا گیا مگر ابلیس بھی چونکہ فرشتوں میں موجود تھا اسلئے تبعا وہ بھی اس حکم میں شامل تھا، اس لئے کہ جب فرشتوں کو جو کہ اللہ کے نزریک بزرگ ترین مخلوق اور ابلیس سے بہرحال افضل ہیں حکم دیا گیا تو دوسری مخلوق جو کمتر ہے اس کا حکم میں تبعا داخل ہونا ظاہر تھا، اسی لئے ابلیس نے جواب میں یہ نہیں کہا کہ مجھے سجدہ کا حکم دیا ہی نہیں گیا تو عدم تعمیل کا جرم مجھ پر عائد ہی نہیں ہوتا۔
قال فاخرج۔۔۔۔۔ الخ اللہ تعالیٰ نے جب ابلیس کا جواب سنا تو فرمایا ” اچھا تو یہاں سے نکل جا کیونکہ تو مردود ہے “ اور اب تجھ پر روز جزاء تک لعنت ہے، یعنی قیامت تک تو ملعون رہے گا اور اس کے بعد جب روز جزاء قائم ہوگا تو تجھے تیری نافرمانیوں کی سزا دی جائیگی۔
قال رب بما۔۔۔۔ (الآیۃ) یعنی جس طرح تو نے اس حقیر اور کم تر مخلوق کو سجدہ کرنے کا حکم دے کر مجھے مجبور کردیا کہ تیرا حکم نہ مانوں، اسی طرح اب میں ان انسانوں کیلئے دنیا کو ایسا دلفریب بنا دوں گا کہ یہ سب اس سے دھوکا کھا کر تیرے نافرمان بن جائیں گے۔ اغوا اور اضلال کا یہ انتساب ذات باری تعالیٰ کی جانب جس حد تک بھی صحیح ہے صرف تکوینی حیثیت سے یا علت العلت کے معنی میں ہے، بما میں باء سببیہ ہے ای بسبب اغوائک ایای۔
ھذا صراط علی مستقیم، اس فقرہ کے دو معنی ہیں ایک تو یہ کہ ” راستہ ہے جو مجھ تک سیدھا پہنچاتا ہے “ اور راستہ سے مراد اخلاص کا راستہ ہے، دوسرے معنی یہ ہیں ھذا طریق حق علی أن اراعیہ ” یعنی یہ بات درست ہے میں بھی اس کا پابند رہوں گا “۔
ان عبادی لیس لک علیھم سلطان (الآیۃ) شیطان کا منتہائے قوت بس یہ ہے کہ شیطان دم دلاسا خوب دیتا ہے انسان کو فوری لذتوں کی چاٹ خوب چٹاتا ہے بس اس سے زیادہ اس کو کوئی اختیار نہیں، انسان گناہ کرنے پر مجبور مضطر نہیں، جب توفیق الٰہی ساتھ چھوڑ دیتی ہے تب خود انسان شیطان کے دام فریب میں پھنس جاتا ہے امام رازی (رح) تعالیٰ نے فرمایا کہ شیطان نے جو اوپر دعویٰ کردیا کہ میں لوگوں کو گمراہ کروں گا اور خوب سبز باغ دکھاؤں گا، تو اس سے یہ گمان پیدا ہوسکتا تھا کہ شاید شیطان کو کچھ نہ کچھ قوت و اقتدار حاصل ہے اس آیت میں اسی غلط فہمی کی تردید ہے، اور اعلان ہے کہ شیطان کی راہ پر چلنے لگے تو اسے اختیار ہے، غرض اس آیت سے حق تعالیٰ نے خود شیطان کی بھی غلط فہمی دور کردی۔ (کبیر، ملخصا)
لھا سبعۃ ابواب (الآیۃ) دوزخ کے دروازوں یا طبقات کی یہ تعداد ممکن ہے کہ استحقاق عذاب کے اظہار کیلئے ہو لان صلھا سبع فرق (بیضاوی) ای سبعۃ اطباق۔ (ابن جریر، عن عکرمۃ) ۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ محض تعداد مراد ہو، اور اس سے مراد دوزخ میں داخل ہونے والوں کی کثرت تعداد کا اظہار ہو۔ (روح)
Ayahs 15:45–60آیت نمبر 45 تا 60
ترجمہ : (شرک و کفر سے) بچنے والے (متقی) باغوں اور چشموں میں ہوں گے جو باغوں میں جاری ہوں گے، ان سے کہا جائیگا ہر گھبراہٹ سے سلامتی اور امن کے ساتھ اس میں داخل ہوجاؤ، (یعنی) حال یہ کہ تم ہر خطرہ سے سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ، یا سلام کے ساتھ، یعنی سلام کرو اور داخل ہوجاؤ، ان کے دلوں میں جو تھوڑی بہت کھوٹ کپٹ ہوگئی ہم اس کو نکالدیں گے وہ آپس میں بھائی بھائی بن کر مسہریوں پر آمنے سامنے بیٹھیں گے (اخوانا) ھم ضمیر سے ھال ہے (متقابلین) بھی اخوانا سے حال ہے یعنی کوئی کسی کی گدی (پشت) کو نہ دیکھے گا، اسلئے کہ ان کے تخت دائرہ کی شکل میں ہوں گے، نہ وہاں انھیں کسی مشقت سے پالا پڑے گا اور نہ وہ وہاں سے کبھی نکالے جائیں گے اے محمد میرے بندوں کو بتادو کہ میں مومنوں کیلئے درگذر کرنے والا اور ان پر بہت مہربان ہوں (اور ساتھ ہی یہ بھی بتادو کہ) نافرمانوں کیلئے میرے عذاب بڑے دردناک ہیں، اور انہیں ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کا قصہ بھی سنا دو اور وہ (مہمان) بارہ یا دس یا تین فرشتے تھے ان میں جبرائیل (علیہ السلام) بھی تھے جب وہ ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئے اور ان کو سلام کیا یعنی انہوں نے لفظ سلاما کہا، جب ان کے سامنے ابراہیم (علیہ السلام) نے کھانا پیش کیا اور انہوں نے نہ کھایا تو ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا، ہمیں تو تم سے ڈر لگتا ہے انہوں نے کہا ڈرو نہیں ہم تیرے رب کے فرستادے ہیں ایک ذی علم فرزند کی آپ کو خوشخبری دیتے ہیں یعنی زیادہ علم والے فرزند کی، وہ فرزند اسحاق ہیں جیسا کہ سورة ہود میں ذکر کیا گیا، (ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کیا تم بڑھا پالاحق ہونے کی حالت میں مجھے لڑکے کی خوش خبری دے رہے ہو ؟ ! (علی ان الخ) حال ہے یعنی حال یہ ہے کہ مجھے بڑھاپا لاحق ہوگیا ہے یہ خوش خبری تم کس بنا پردے رہو ہو ؟ استفہام تعجبی ہے، فرشتوں نے جواب دیا ہم آپ بالکل سچی خوش خبری سنادی ہے ہیں، لہذا آپ مایوس ہونے والوں میں نہ ہوں ، (ابراہیم (علیہ السلام) نے) فرمایا اپنے رب کی رحمت سے تو صرف گمراہ کافر لوگ ہی ناامید ہوتے ہیں (یقنط) نون کے کسرہ اور اس کے فتحہ کے ساتھ ہے، ابراہیم (علیہ السلام) نے دریافت کیا اے (خدائی) فرستادو آپ کس مہم پر تشریف لائے ہو وہ بولے ہم ایک مجرم کافر قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں یعنی قوم لوط کی جانب ان کو ہلاک کرنے کیلئے، صرف لوط (علیہ السلام) کے گھر والے مستثنیٰ ہیں، ہم ان سب کو ان کے ایمان کی وجہ سے بچا لیں گے سوائے اس کی بیوی کے جس کے لئے (اللہ فرماتا ہے) کہ ہم نے مقدر کردیا ہے کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں شامل رہے گی یعنی اپنے کفر کی وجہ سے عذاب میں پھنسنے والوں میں رہے گی۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : سالمین، سلام کی تفسیر سالمین سے کرنے کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے۔
سوال : یہ ہے کہ سلام مصدر ہے اس کا حمل ھا، ضمیر پر درست نہیں ہے اسلئے کہ ضمیر سے مراد جنت ہے جو ذات ہے اور مصدر کا حمل ذات پر درست نہیں ہوتا۔
جواب : یہ ہے کہ مصدر بتاویل مشتق سالمین ہو کر حال ہے لہٰذا حمل درست ہے۔
قولہ : مع سلام اس میں اشارہ ہے کہ بسلام میں باء بمعنی مع ہے نہ کہ سببیہ۔ قولہ : ای سلموا ای سلم علیکم الملائکۃ۔
قولہ : ادخلوا۔ سوال : ادخلوا مقدر ماننے کی کیا ضرورت پیش آئی ؟
جواب : اس مٰن اشارہ ہے آمنین ادخلوا کی ضمیر سے حال ثانیہ ہے نہ کہ بسلام سے اسلئے کہ عمل میں اصل فعل ہے نہ کہ مصدر۔
قولہ : حال من، ھم، یعنی اخوانا، ھم سے حال ہے نہ کہ صفت سے۔
سوال : حال مضاف سے ہوا کرتا ہے نہ کہ مضاف الیہ سے اور یہاں اخوانا، ھم ضمیر سے حال واقع ہے جو کہ مضاف الیہ ہے۔
جواب : مضاف الیہ جب مضاف کا جز ہو تو حال واقع ہونا درست ہوتا ہے یہاں چونکہ مجاف الیہ مضاف کا بعض ہے لہٰذا حال واقع ہونا درست ہے اور ادخلوا کی ضمیر سے ھال واقع ہونا بھی درست ہے اور متقابلین، اخوانا سے بھی حال واقع ہوسکتا ہے جبکہ اخوانا متصافین یا متحابین کے معنی میں ہو اور اخوانا کی صفت بھی واقع ہوسکتا ہے۔
قولہ : کما ذکر فی الھود ای فبشرنھا باسحٰق۔ قولہ : بکسر النون ای من باب ضرب، وبفتح النون ای من باب فتح۔
تفسیر و تشریح
ان المتقین۔۔۔ (الآیۃ) قرآن کریم کا ایک خاص اسلوب بیان ہے کہ وہ متقابلین کو بیان کرتا ہے تاکہ دونوں کا فرق خوب واضح ہوجائے یہاں وہی اسلوب اختیار کیا ہے پچھلی آیتوں میں جہنم اور اہل جہنم کا ذکر تھا اب اسکے بعد جنت اور اہل جنت کا تذکرہ ہے تاکہ جنت کی رغبت اور دوزخ سے نفرت پیدا ہو، اور متقین سے مراد وہ لوگ ہیں جو کفر و شرک سے بچتے رہے اور بعض کے نزدیک وہ اہل ایمان مراد ہیں جو ہر قسم کے معاصی سے بچتے رہے غرضیکہ اسمیں وہ سب لوگ داخل ہیں جو شیطان کی پیروی سے بچے رہے ہوں اور انہوں نے اللہ سے ڈرتے ہوئے عبدیت کی زندگی گزاری ہو۔ متقی اور پرہیزگار لوگ ہر حزن و ملال سے بیخوف اور ہر مصیبت و آفت سے مامون اور ہر تعب و مشقت سے محفوظ سلامتی کیساتھ آپس میں مبارک بادی دیتے ہوئے اور سلامتی کی
دعائیں دیتے اور لیتے ہوئے اور خود ذات خداوندی کی طرف سے دائمی سلامتی کا اعلان سنتے ہوئے جنت میں داخل ہوں گے۔
ونزعنا ما فی۔۔۔۔۔ متقابلین، یعنی جن لوگوں کے درمیان آپس کی غلط فہمیوں کی بنا پر دنیا میں اگر کچھ رنجشیں اور کدورتیں رہی ہوں گی تو جنت میں داخل ہوتے وقت وہ دور کردی جائیں گی اور ان کے دل آپس میں ایک دوسرے کیلئے بالکل صاف شفاف کر دئیے جائیں گے۔ اسی آیت کو پڑھ کر حضرت علی نے فرمایا تھا، کہ مجھے امید ہے کہ اللہ میرے اور طلحہ اور زبیر کے درمیان بھی صفائی کرا دے گا۔
جب عبد اللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ اہل جنت جب جنت میں داخل ہوں گے تو سب سے پہلے ان کے سامنے پانی کے دو چشمے پیش کئے جائیں گے پہلے چشمے سے جب وہ پانی پئیں گے تو ان سب کے دلوں سے باہمی رنجش و کدورت جو کبھی دنیا میں پیش آئی تھی اور طبعی طور پر اس کا اثر آخرت تک موجود رہا وہ سب دھل جائے گا اور سب کے دلوں میں باہمی محبت و الفت پیدا ہوجائیگی کیونکہ باہمی رنجش بھی ایک تکلیف اور عذاب ہے اور جنت ہر تکلیف سے پاک رہے۔
کینہ کے ہوتے ہوئے جنت میں داخل نہ ہونے کا مطلب : حدیث میں وارد ہے کہ جس شخص کے دل میں ذرہ برابر بھی کسی مسلمان کی طرف سے کینہ ہوگا وہ جنت میں نہ جائیگا، اس سے مراد وہ کینہ ہے جو دنیوی غرض سے اور اپنے قصد و اختیار سے ہو اور اس کی وجہ سے یہ شخص اس کے درپے رہے کہ جب موقع ملے اپنے دشمن کو تکلیف اور نقصان پہنچائے، طبعی انقباض جو خاصۂ بشری اور غیر اختیاری ہے وہ اس میں داخل نہیں، اسی طرح جو کسی شرعی بنیاد پر مبنی ہو، وہ بھی اس کینہ اور بغض میں داخل نہیں۔
قال انا منکم وجلون الخ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ان فرشتوں سے ڈر اس لئے محسوس ہوا کہ انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تیار کیا ہوا کھانا نہیں کھایا، اور عرب میں یہ بات مشہور تھی کہ اگر آنے والا مہمان میزبان کے یہاں کھانا نہ کھائے تو سمجھا جاتا تھا کہ آنے والے مہمان کی نیت اچھی نہیں ہے، اس کا تکلیف پہنچانے کا ارادہ ہے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو کوئی غیب کا علم تو تھا نہیں کہ وہ سمجھ جاتے کہ انسانی شکل میں آنے والے فرشتے ہیں اور ان کیلئے کھانا تیار نہ کرائے اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ انبیاء کو غیب کا علم نہیں ہوتا۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بڑھاپے کی عمر میں اولاد ہونے پر جو تعجب اور حیرت تھی وہ صرف اپنے بڑھاپے اور ضعف کی وجہ سے تھی نہ یہ کہ وہ خدا کی رحمت سے ناامید یا خدانخواستہ ان کو خدا کی قدرت میں شک تھا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرشتوں کی گفتگو سے اندازہ لگایا کہ یہ صرف اولاد کی بشارت دینے ہی نہیں آئے بلکہ ان کی آمد کا اصل مقصد کچھ اور ہے چناچہ ان سے پوچھا، فما خطبکم ایھا المرسلون ؟