8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 8:41

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا یَوْمَ الْفُرْقَانِ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 8:41 in the Quran reader

اور جان رکھو کہ جو چیز تم (کفار سے) لوٹ کر لاؤ اس میں سے پانچواں حصہ خدا کا اور اس کے رسول ﷺ کا اور اہل قرابت کا اور یتیموں کا اور محتاجوں کا اور مسافروں کا ہے۔ اگر تم خدا پر اور اس (نصرت) پر ایمان رکھتے ہو جو (حق وباطل میں) فرق کرنے کے دن (یعنی جنگ بدر میں) جس دن دونوں فوجوں میں مٹھ بھیڑ ہوگئی اپنے بندے (محمد ﷺ پر نازل فرمائی اور خدا ہر چیز پر قادر ہے۔

(41) اے مسلمانوں کی جماعت جو اموال غنیمت تمہارے ہاتھ آئے تو اس کے کل پانچ حصے ہیں اس میں ایک حصہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے لیے اور ایک حصہ رسول اکرم ﷺ کے قرابت داروں کے لیے اور ایک حصہ یتامی بن عبدالمطلب کے علاوہ دوسرے یتیموں کا ہے اور ایک حصہ مساکین بنی عبدالمطلب کے علاوہ دوسرے مسکینوں کا ہے اور ایک حصہ کمزور محتاج مسافروں کا ہے، جتنا بھی ہو، رسول اکرم ﷺ کے دور میں مال غنیمت کے پانچویں حصے پانچ حصوں پر تقسیم کیے جاتے تھے۔ اول : رسول اکرم ﷺ کا اور وہی اللہ تعالیٰ کا حصہ ہے۔ دوم : قرابت داروں کا کیوں کہ رسول اکرم ﷺ اپنے قرابت داروں کو پرانی نصرت کی وجہ سے حصہ دیا کرتے تھے۔ سوم : یتیموں کا حصہ۔ چہارم : مسکینوں کا حصہ۔ پنجم : مسافروں کا حصہ۔ آپ ﷺ کے انتقال کے بعد آپ کا حصہ اور وہ حصہ جو آپ قرابت داروں کو دیا کرتے تھے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے فرمان پر ساقط ہوگیا، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم ﷺ سے سنا ہے، آپ فرما رہے تھے کہ ایک نبی کو اپنی زندگی میں کھانے کھلانے کا حق ہوتا ہے، جب وہ وفات فرماجائے تو وہ حق ساقط ہوجاتا ہے اور اس نبی کے بعد پھر کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہوتا، اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ ، حضرت عمر فاروق ؓ ، حضرت عثمان غنی ؓ حضرت علی مرتضی ؓ اپنے اپنے دور حکومت میں مال غنیمت کے پانچوں حصوں کو تین حصوں پر تقسیم فرمایا کرتے تھے۔ اول : یتیموں کا حصہ۔ دوم : مسکینوں کا حصہ۔ سوم : مسافروں کا حصہ۔ اگر تم لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہو اور اس چیز پر جو کہ ہم نے محمد ﷺ پر اتاری۔ یا یہ کہ یوم الفرقان کا مطلب حق اور باطل کے درمیان فرق کا دن ہے اور غزوہ بدر کا دن ہے کہ جس دن اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ کے لیے غنیمت اور مدد کا فیصلہ فرمایا۔ اور ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کے حق میں قتل اور شکست کھانے کا تصفیہ کیا جس دن دونوں جماعتیں یعنی رسول اکرم ﷺ کی جماعت اور ابوسفیان کی جماعت باہم مدمقابل آئیں۔ اور رسول اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ کی مدد فرمانے اور مال غنیمت دینے اور ابوجہل اور اس کی جماعت کو مارنے اور شکست دینے پر اللہ تعالیٰ کو پورے اختیارات ہیں۔
Ayah 8:42

اِذْ اَنْتُمْ بِالْعُدْوَةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوٰى وَ الرَّكْبُ اَسْفَلَ مِنْكُمْ١ؕ وَ لَوْ تَوَاعَدْتُّمْ لَاخْتَلَفْتُمْ فِی الْمِیْعٰدِ١ۙ وَ لٰكِنْ لِّیَقْضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا١ۙ۬ لِّیَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْۢ بَیِّنَةٍ وَّ یَحْیٰى مَنْ حَیَّ عَنْۢ بَیِّنَةٍ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَسَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 8:42 in the Quran reader

جس وقت تم (مدینے سے) قریب کے ناکے پر تھے اور کافر بعید کے ناکے پر اور قافلہ تم سے نیچے (اتر گیا) تھا اور اگر تم (جنگ کے لئے) آپس میں قرارداد کرلیتے تو وقت معین (پر جمع ہونے) میں تقدیم و تاخیر ہوجاتی۔ لیکن خدا کو منظور تھا کہ جو کام ہو کر رہنے والا تھا اسے ہی کر ڈالے۔ تاکہ جو مرے بصیرت پر (یعنی یقین جان کر) مرے اور جو جیتا رہے وہ بھی بصیرت پر (یعنی حق پہچان کر) جیتا رہے اور کچھ شک نہیں کہ خدا سنتا جانتا ہے۔

(42) اے مومنوں کی جماعت جب کہ تم مدینہ منورہ سے قریب ایک گھاٹی کے اس طرف اور ابوجہل اور اس کے ساتھی مدینہ منورہ سے دور وادی کے پیچھے تھے اور ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کا قافلہ دریا کے کنارا پر اس سے تین میل دور تھا اور اگر تم مدینہ منورہ میں لڑائی کے لیے کوئی اور بات طے کرتے تو مدینہ منورہ میں اس چیز کے بارے میں تمہارے اندر ضرور اختلاف ہوتا لیکن اللہ تعالیٰ کو رسول اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ کی مدد اور مال غنیمت کا دینا اور ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کا مارا جانا اور شکست کھانا منظور تھا، لہٰذا اس کی تکمیل کردی تاکہ جس کو اللہ تعالیٰ کفر پر ہلاک کرنا چاہے اس کو ہلاک فرما دے اس کے باوجود کہ رسول اکرم ﷺ کی نصرت کا اعلان ہوچکا ہو، اور اس اعلان کے بعد جس کو اللہ تعالیٰ ایمان پر ثابت قدم رکھنا چاہے، اسے ثابت قدم رکھ دے یا یہ کہ رسول اکرم ﷺ کی مدد کے اعلان کے بعد جس کو اللہ تعالیٰ کافر رکھنا چاہے وہ کافر رہے اور جس کو ایمان پر ثابت قدم رکھنا چاہے وہ اس چیز کے بیان کے بعد بھی ایمان پر ثابت قدم رہے، اللہ تعالیٰ تمہاری دعاؤں کو سننے والے اور ان کی قبولیت اور تمہاری مدد کو اچھی طرح جاننے والے ہیں۔
Ayah 8:43

اِذْ یُرِیْكَهُمُ اللّٰهُ فِیْ مَنَامِكَ قَلِیْلًا١ؕ وَ لَوْ اَرٰىكَهُمْ كَثِیْرًا لَّفَشِلْتُمْ وَ لَتَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ سَلَّمَ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 8:43 in the Quran reader

اس وقت خدا نے تمہیں خواب میں کافروں کو تھوڑی تعداد میں دکھایا اور اگر بہت کر کے دکھاتا تو تم لوگ جی چھوڑ دیتے اور (جو) کام (درپیش تھا اس) میں جھگڑنے لگتے۔ لیکن خدا نے (تمہیں اس سے) بچالیا۔ بیشک وہ سینوں کی باتوں تک سے واقف ہے۔

(43) اے محمد ﷺ وہ وقت بھی یاد کیجئے جب بدر سے پہلے اللہ تعالیٰ نے آپ کو خواب میں ان لوگوں کو کم دکھا یا اور اگر اللہ تعالیٰ ان کو زیادہ دکھلاتا تو تمہاری ہمتیں جواب دے دیتیں اور امر قتال میں تم میں جھگڑا ہوتا لیکن اللہ تعالیٰ نے تمہیں بچالیا وہ دلوں کی باتوں کو اچھی طرح جانتا ہے۔
Ayah 8:44

وَ اِذْ یُرِیْكُمُوْهُمْ اِذِ الْتَقَیْتُمْ فِیْۤ اَعْیُنِكُمْ قَلِیْلًا وَّ یُقَلِّلُكُمْ فِیْۤ اَعْیُنِهِمْ لِیَقْضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 8:44 in the Quran reader

اور اس وقت جب تم ایک دوسرے کے مقابل ہوئے تو کافروں کو تمہاری نظروں میں تھوڑا کر کے دکھاتا تھا اور تم کو ان کی نگاہوں میں تھوڑا کر کے دکھاتا تھا تاکہ خدا کو جو کام کرنا منظور تھا اسے کر ڈالے اور سب کاموں کا رجوع خدا ہی کی طرف ہے۔

(44) اور اس وقت کو بھی یاد کیجیے جب بدر کے تم باہم مقابل ہوئے تو تمہاری نگاہوں میں کفار کو ہم تھوڑے کرکے دکھلا رہے تھے تاکہ تمہیں ان پر جرأت ہو اور اسی طرح ان کو بھی تاکہ وہ تم پر جرأت کریں تاکہ جو بات اللہ تعالیٰ کو کرنا منظور تھی، اس کو مکمل کردے یعنی رسول اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ کو فتح وغنیمت دے اور ابوجہل اور اس کی جماعت کو شکست ہو اور وہ مارے جائیں اور آخرت میں تمام باتوں کے انجام اسی کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔
Ayah 8:45

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوْا وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 8:45 in the Quran reader

مومنو ! جب (کفار کی) کسی جماعت سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور خدا کو بہت یاد کرو تاکہ مراد حاصل کرو۔

(45) اے اصحاب رسول ﷺ بدر میں جب تم لوگوں کو کفار کی جماعت سے مقابلہ کا اتفاق ہو تو اپنے نبی کریم ﷺ کے ساتھ لڑائی میں ثابت قدم رہو۔
Ayah 8:46

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَ تَذْهَبَ رِیْحُكُمْ وَ اصْبِرُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَۚ Open ayah 8:46 in the Quran reader

اور خدا اور اس کے رسول ﷺ کے حکم پر چلو (اور آپس میں جھگڑا نہ کرو کہ (ایسا کرو گے تو) تم بزدل ہوجاؤ گے اور تمہارا اقبال جاتا رہے گا اور صبر سے کام لو۔ کہ خدا صبر کرنے والوں کی مددگار ہے۔

(46) اور دل و زبان کے ساتھ خوب تہلیل وتکبیر کرو تاکہ غصہ اور عذاب سے نجات پاؤ اور تمہاری غیبی مدد ہو، لڑائی کے معاملات میں اطاعت کرو اور لڑائی کے امور میں باہم اختلاف سے بچو کیوں کہ اس سے تمہاری طاقت کمزور پڑجاتی ہے اور لڑائی میں اپنے نبی کے ساتھ صبر کرو کیوں کہ لڑائی میں صبر کرنیوالوں کی اللہ تعالیٰ مدد کرتا ہے۔
Ayah 8:47

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ بَطَرًا وَّ رِئَآءَ النَّاسِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ Open ayah 8:47 in the Quran reader

اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو اتراتے ہوئے (یعنی حق کا مقابلہ کرنے کے لئے) اور لوگوں کو دکھانے کے لئے گھروں سے نکل آئے اور لوگوں کو خدا کی راہ سے روکتے ہیں۔ اور جو اعمال یہ کرتے ہیں خدا ان پر احاطہ کئے ہوئے ہے۔

(47) اور نافرمانی میں ان لوگوں کی طرح نہ ہونا جو مکہ مکرمہ سے اتراتے ہوئے اور لوگوں کو اپنی شان دکھلاتے ہوئے باہر نکلے اور یہ بھی مقصود تھا کہ لوگوں کو دین الہی اور اطاعت خداوندی سے روکیں اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے رسول اکرم ﷺ کے مقابلہ کے لیے نکلنے سے بخوبی آگاہ ہے۔ شان نزول : (آیت) ”ولا تکونو کالذین خرجوا“۔ (الخ) ابن جریر ؒ نے محمد بن کعب قرظی ؒ سے روایت کیا ہے کہ قریش جب مکہ مکرمہ سے بدر کی طرف بڑھے تو گانے اور دف بجانے والیاں کو ساتھ لے کر روانہ ہوئے، اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔
Ayah 8:48

وَ اِذْ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ وَ قَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ الْیَوْمَ مِنَ النَّاسِ وَ اِنِّیْ جَارٌ لَّكُمْ١ۚ فَلَمَّا تَرَآءَتِ الْفِئَتٰنِ نَكَصَ عَلٰى عَقِبَیْهِ وَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّنْكُمْ اِنِّیْۤ اَرٰى مَا لَا تَرَوْنَ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ١ؕ وَ اللّٰهُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۠ Open ayah 8:48 in the Quran reader

اور جب شیطان نے ان کے اعمال ان کو آراستہ کو دکھائے اور کہا کہ آج کے دن لوگوں میں سے کوئی تم پر غالب نہ ہوگا اور میں تمہارا رفیق ہوں (لیکن) جب دونوں فوجیں ایک دوسرے کے مقابل (صف آرا) ہوگئیں تو پسپا ہو کر چل دیا۔ اور کہنے لگا کہ مجھے تم سے کوئی واسطہ نہیں۔ میں تو ایسی چیزیں دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ سکتے۔ مجھے تو خدا سے ڈر لگتا ہے اور خدا سخت عذاب کرنیوالا ہے۔

(48) اور ابلیس نے ان کے لڑائی کے لیے نکلنے کا وانھیں خوشنما کرکے دکھلایا اور یہ وسوسہ اور خیال دل میں ڈالا کہ رسول اکرم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ تم پر غالب آنے والے نہیں اور میں تمہاری مدد کروں گا۔ پھر جب مسلمانوں کی جماعتیں اور کافروں کی جماعتیں ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوئیں اور ابلیس نے حضرت جبرائیل امین کو فرشتوں کے ساتھ دیکھا تو واپس بھاگا اور کافروں سے کہنے لگا کہ میرا تم سے اور تمہارے قتال سے کوئی تعلق نہیں، میں جبرائیل امین ؑ کو دیکھ رہا ہوں اور تم نہیں دیکھتے، شیطان کو اس بات کا خوف ہوا کہ کہیں حضرت جبرائیل ؑ اس کو پکڑ کر سب لوگوں کو اس کی صورت سے آشنا نہ کردیں کہ پھر دنیا میں اس کی کوئی اطاعت ہی نہ کرے۔
Ayah 8:49

اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ غَرَّ هٰۤؤُلَآءِ دِیْنُهُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:49 in the Quran reader

اس وقت منافق اور (کافر) جن کے دلوں میں مرض تھا کہتے تھے کہ ان لوگوں کو ان کے دین نے مغرور کر رکھا ہے اور جو شخص خدا پر بھروسہ رکھتا ہے تو خدا غالب حکمت والا ہے۔

(49) جو لوگ بدر سے واپس ہوگئے تھے اور جن کے دلوں میں شک اور کجی تھی اور تمام کافر کہتے تھے کہ محمد ﷺ اور ان کی جماعت کو ان کے دین و توحید نے بھول میں ڈال رکھا ہے۔ اور جو اللہ کی مدد پر بھروسہ رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے دشمنوں سے انتقام لینے میں بڑے طاقتور ہیں۔ اور جو آپ پر توکل کرے اس کی نصرت فرمانے میں بڑی حکمت والے ہیں جیسا کہ بدر کے دن رسول اکرم ﷺ کی مدد فرمائی۔ شان نزول : (آیت) ”اذ یقول المنافقون“۔ (الخ) طبرانی ؒ نے اوسط میں ضعیف سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ میں اپنے نبی کریم پر یہ آیت ”۔ سیھزم الجمع ویولون الدبر“۔ نازل فرمائی تو حضرت عمر فاروق اعظم ؓ نے عرض کیا یارسول ﷺ کون سی جماعت ہے اور یہ واقعہ بدر سے پہلے کا تھا، جب بدر کا دن ہوا اور قریش نے شکست کھالی تو میں نے رسول اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ ان کے آثار پر ننگی تلوار سونتے ہوئے فرما رہے ہیں۔ (آیت) ”۔ سیھزم الجمع ویولون الدبر“۔ چناچہ یہ واقعہ غزوہ بدر کا تھا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی ”۔ حتی اذا اخذنا مترفیھم بالعذاب“۔ نیز یہ آیت بھی نازل فرمائی۔ (آیت) ”الم ترالی الذین بدلوا نعمۃ اللہ کفرا“۔ رسول اکرم ﷺ نے انکی طرف ایک مٹھی کنکریوں کی پھینکی اس مٹھی نے ان کو گھیر لیا اور وہ مٹھی انکی آنکھوں اور چہروں میں گھس گئی چناچہ آدمی لڑتے وقت اپنی آنکھوں اور اپنے منہ کو صاف کرتا تھا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (آیت) ”وما رمیت اذ رمیت ولکن اللہ رمی“۔ (الخ) اور ابلیس کے بارے میں یہ آیت اتاری گئی، (آیت) ”فلما تراءت الفئتان نکص علی عقبیہ“۔ (الخ) اور غزوہ بدر کے دن عتبہ بن ربیعہ اور اس کے ساتھ کچھ اور مشرکوں نے کہا کہ ان مسلمانوں کو ان کے دین نے بھول میں ڈال رکھا ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) ”اذ یقول المنافقون“۔ (الخ) اتاری
Ayahs 8:50–51

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ یَتَوَفَّى الَّذِیْنَ كَفَرُوا١ۙ الْمَلٰٓئِكَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ١ۚ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ Open ayah 8:50 in the Quran reader

اور کاش تم اس وقت (کی کیفیت) دیکھو جب فرشتے کافروں کی جانیں نکالتے ہیں۔ ان کے من ہوں اور پیٹھوں پر (کوڑے اور ہتھوڑے وغیرہ) مارتے ہیں اور کہتے ہیں کہ (اب) عذاب آتش (کامزہ) چکھو۔

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِۙ Open ayah 8:51 in the Quran reader

یہ ان (اعمال) کی سزا ہے جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجے ہیں۔ اور یہ (جان رکھو) کہ خدا (بندوں پر) ظلم نہیں کرتا

(50۔ 51) اے محمد اگر آپ وہ منظر دیکھتے جب فرشتے بدر کے دن ان کافروں کی جانوں کو قبض کرتے جارہے تھے اور ان کے چہروں اور پشتوں پر وہ مارتے جارہے تھے اور کہتے جارہے تھے کہ یہ عذاب تمہارے اعمال شرکیہ کا نتیجہ ہے اور اللہ تعالیٰ بغیر جرم کے کسی کو سزا نہیں دیتے۔
Ayah 8:52

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:52 in the Quran reader

جیسا حال فرعونیوں اور ان سے پہلے لوگوں کا (ہوا تھا ویسا ہی انکا ہوا کہ) انہوں نے خدا کی آیتوں سے کفر کیا تو خدا نے ان کے گناہوں کی سزا میں ان کو پکڑ لیا۔ بیشک خدا زبردست (اور) سخت عذاب دینے والا ہے۔

(52) اور ان کی حالت ایسی ہے جیسی فرعون کی جماعت کی اور ان سے پہلوں کی جنہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کی تکذیب کی یا یہ کہ جیسا فرعون اور اس کی قوم اور ان سے پہلے لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی کتابوں اور اس کے رسولوں کا انکار کیا، اسی طرح مکہ کے کافروں نے بھی رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کو جھٹلایا اور ان کے جھٹلانے پر اللہ تعالیٰ نے ان کو پکڑ لیا کیوں کہ جب وہ پکڑتا ہے تو اس کی پکڑ سخت ہوتی ہے۔
Ayah 8:53

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ لَمْ یَكُ مُغَیِّرًا نِّعْمَةً اَنْعَمَهَا عَلٰى قَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 8:53 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ جو نعمت خدا کسی قوم کو دیا کرتا ہے جب تک وہ خود اپنے دلوں کی حالت نہ بدل ڈالیں خدا اسے نہیں بدلا کرتا۔ اور اس لئے کہ خدا سنتا جانتا ہے۔

(53) اور یہ سزا اس لیے تھے کہ اللہ نے کتاب اور رسول اور امن وسلامتی کی جو نعمت عطا فرمائی ہے اس کو اس وقت تک نہیں بدلتے جبکہ وہی لوگ کفران نعمت پر نہ تل جائیں اور اللہ تعالیٰ تمہاری دعاؤں کو سننے والے اور ان کی قبولیت کو جاننے والے ہیں۔
Ayah 8:54

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَ اَغْرَقْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ١ۚ وَ كُلٌّ كَانُوْا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 8:54 in the Quran reader

جیسا حال فرعونیوں اور ان سے پہلے لوگوں کا (ہوا تھا ویسا ہی ان کا ہوا) انہوں نے اپنے پروردگار کی آیتوں کی جھٹلایا تو ہم نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب ہلاک کر ڈالا اور فرعونیوں کو ڈبو دیا۔ اور وہ سب ظالم تھے۔

(54) ان کی حالت فرعون کی جماعت اور ان سے پہلے والوں کی سی ہے جیسا کہ ان لوگوں نے آسمانی کتابوں اور رسولوں کی تکذیب کی، اسی طرح یہ کفار مکہ کرتے ہیں نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے انکی اس تکذیب کی وجہ سے ہلاک کیا اور فرعون والوں کو غرق کردیا اور یہ سب کافر تھے۔
Ayah 8:55

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَۖۚ Open ayah 8:55 in the Quran reader

جانداروں میں سب سے بدتر خدا کے نزدیک وہ لوگ ہیں جو کافر ہیں سو وہ ایمان نہیں لاتے۔

(55) یعنی بنوقریظہ وغیرہ خلقت اور اخلاق کے اعتبار سے بدترین خلائق ہیں یہ قرآن کریم اور رسول اکرم ﷺ پر کبھی بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ شان نزول : (آیت) ان شر الدواب“۔ (الخ) ابوالشیخ نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت یہودیوں کی چھ جماعتوں کے متعلق نازل ہوئی ہے جن میں سے ’ ابن التابوت“۔ بھی ہیں۔
Ayah 8:56

اَلَّذِیْنَ عٰهَدْتَّ مِنْهُمْ ثُمَّ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَهُمْ فِیْ كُلِّ مَرَّةٍ وَّ هُمْ لَا یَتَّقُوْنَ Open ayah 8:56 in the Quran reader

جن لوگوں سے تم نے (صلح کا) عہد کیا ہے پھر وہ ہر بار اپنے عہد کو توڑ ڈالتے ہیں اور (خدا سے) نہیں ڈرتے۔

(56) اب انکی کیفیت کو بیان کیا گیا ہے کہ آپ بنوقریظہ سے بہت دفعہ مرتبہ وعہد لے چکے لیکن وہ ہر دفعہ بدعہدی کرتے ہیں اور اس چیز سے بالکل نہیں ڈرتے۔
Ayah 8:57

فَاِمَّا تَثْقَفَنَّهُمْ فِی الْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِهِمْ مَّنْ خَلْفَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 8:57 in the Quran reader

اگر تم انکو لڑائی میں پاؤ تو انہیں ایسی سزا دو کہ جو لوگ ان کے پس پشت ہوں وہ انکو دیکھ کر بھاگ جائیں۔ عجب نہیں کہ انکو (اس سے) عبرت ہو۔

(57) آپ ان کو قید کرکے جلاوطن کردیجیے تاکہ دوسرے لوگوں کو عبرت ہو اور اس سے نصیحت حاصل کرکے بدعہدی چھوڑ دیں ،
Ayah 8:58

وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآئِنِیْنَ۠ Open ayah 8:58 in the Quran reader

اور اگر تم کو کسی قوم سے دغا بازی کا خوف ہو تو (ان کا عہد) انہیں کی طرف پھینک دو (اور) برابر (کا جواب دو) کچھ شک نہیں کہ خدا دغابازوں کو دوست نہیں رکھتا۔

(58) اور اگر آپ کو بنی قریظہ سے بدعہدی کا اندیشہ ہو تو آپ ان کو بتا کر وہ عہد واپس کردیجیے بنو قریظہ وغیرہ جو عہد شکنی کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو بالکل پسند نہیں کرتے۔ شان نزول : (آیت) ”واما تخافن من قوم خیانۃ“۔ (الخآرضی اللہ تعالیٰ عنہ ابوالشیخ ؒ نے ابن شہاب ؓ سے روایت کیا ہے کہ جبریل امین رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں آئے اور عرض کیا کہ آپ نے ہتھیار اتار دیے اور میں تو قوم کی تلاش میں ہوں، چلیے آپ کے پروردگار نے بنوقریظہ کے بارے میں آپ کو اجازت دی ہے اور یہ حکم نازل کیا ہے یعنی اگر آپ کو کسی قسم سے بعدعہدی کا اندیشہ ہوالخ۔
Ayah 8:59

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَبَقُوْا١ؕ اِنَّهُمْ لَا یُعْجِزُوْنَ Open ayah 8:59 in the Quran reader

اور کافر یہ نہ خیال کریں کہ وہ بھاگ نکلے ہیں۔ وہ (اپنی چالوں سے ہم کو) ہرگز عاجز نہیں کرسکتے۔

(59) محمد ﷺ بنی قریظہ یہ نہ سمجھیں کہ وہ ہمارے عذاب سے بچ گئے اور ہمارے عذاب سے بالکل نہیں بچ سکتے
Ayah 8:60

وَ اَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّ مِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَ عَدُوَّكُمْ وَ اٰخَرِیْنَ مِنْ دُوْنِهِمْ١ۚ لَا تَعْلَمُوْنَهُمْ١ۚ اَللّٰهُ یَعْلَمُهُمْ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یُوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 8:60 in the Quran reader

اور جہاں تک ہو سکے (فوج کی جمعیت کے) زور سے اور گھوڑوں کے تیار رکھنے سے ان کے (مقابلے کے) لئے مستعد رہو کہ اس سے خدا کے دشمنوں اور تمہارے دشمنوں اور ان کے سوا اور لوگوں پر جن کو تم نہیں جانتے اور خدا جانتا ہے ہیبت بیٹھی رہے گی اور تم جو کچھ راہ خدا میں خرچ کرو گے اس کا ثواب تم کو پورا پورا دیا جائیگا۔ اور تمہارا ذرا نقصان نہ کیا جائیگا۔

(60) تم قبیلہ بنی قریظہ وغیرہ کے لیے ہتھیار اور پلے ہوئے گھوڑے تیار رکھو اور ان گھوڑوں سے ان کو ڈراتے رہو یہ دین اسلام کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے دشمن ہیں اور لڑائی میں تمہارے دشمن ہیں، اس قبیلہ بنی قریظہ کے علاوہ تمام عرب پر بھی یا یہ کہ تمام کفار اور جنوں پر اپنا رعب جمائے رکھو جن کی تعداد تمہیں معلوم نہیں اللہ تعالیٰ ہی ان کی تعداد جاننے والا ہے۔ اور اطاعت خداوندی میں جو کچھ بھی مال تم ہتھیاروں اور گھوڑوں پر خرچ کرو گے اس کا تمہیں کو پورا پورا ثواب دیا جائے گا، تمہارے ثواب میں کسی قسم کا کوئی کمی نہیں ہوگی ،
Ayah 8:61

وَ اِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 8:61 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہوجاؤ اور خدا پر بھروسہ رکھو۔ کچھ شک نہیں کہ وہ سب کچھ سنتا (اور) جانتا ہے۔

(61) یعنی اگر بنو قریظہ صلح کی طرف مائل ہوں اور صلح کرنا چاہیں تو آپ کو بھی صلح کرنے کی اجازت ہے اور ان لوگوں کی عہد شکنی اور وفائے عہد پر اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیے اللہ تعالیٰ ان کی باتوں کو سننے والا اور ان کی بدعہدی اور وفاء عہد کو اچھی طرح جاننے والا ہے۔
Ayah 8:62

وَ اِنْ یُّرِیْدُوْۤا اَنْ یَّخْدَعُوْكَ فَاِنَّ حَسْبَكَ اللّٰهُ١ؕ هُوَ الَّذِیْۤ اَیَّدَكَ بِنَصْرِهٖ وَ بِالْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 8:62 in the Quran reader

اور اگر یہ چاہیں کہ تم کو فریب دیں تو خدا تمہیں کفایت کرے گا۔ وہی تو ہے جس نے تم کو اپنی مدد سے اور مسلمانوں (کی جمعیت) سے تقویت بخشی۔

(62) اور اگر بنو قریظہ صلح کے ذریعے سے آپ کو دھوکا دینا چاہیں تو اللہ تعالیٰ آپ کی مدد کے لیے کافی ہے اسی نے اپنی غیبی امداد سے غزوہ بدر کے دن اور قبیلہ اوس اور خزرج سے آپ کو طاقت دی۔
Ayah 8:63

وَ اَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ١ؕ لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مَّاۤ اَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:63 in the Quran reader

اور ان کے دلوں میں الفت پیدا کردی۔ اگر تم دنیا بھر کی دولت خرچ کرتے تب بھی ان کے دلوں میں الفت پیدا نہ کرسکتے۔ مگر خدا ہی نے ان میں الفت ڈال دی۔ بیشک وہ زبردست (اور) حکمت والا ہے۔

(63) اور ان سب کے دلوں اور زبانوں کو اسلام پر جمع کردیا اگر آپ دنیا بھر کی دولت بھی خرچ کردیتے پھر بھی ان کے دلوں اور ان کی زبانوں میں اتفاق نہ پیدا کرسکتے مگر اللہ تعالیٰ ہی نے بذریعہ ایمان ان کے دلوں کے اندر اتفاق پیدا کردیا وہ اپنی ملوکیت اور بادشاہت میں بہت زبردست اور اپنے حکم اور فیصلہ میں بڑی حکمت والے ہیں۔
Ayah 8:64

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ وَ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 8:64 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ! خدا تم کو اور مومنوں کو جو تمہارے پیرو ہیں کافی ہے۔

(64) اللہ تعالیٰ ہی آپ کے لیے کافی ہے اور اوس و خزرج ظاہرا آپ کے لیے کافی ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”یایھا النبی حسبک اللہ“۔ (الخ) بزار ؒ نے ضعیف سند کے ساتھ بذریعہ عکرمہ ؒ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب حضرت فاروق اعظم ؓ مشرف بااسلام ہوئے تو مشرکین کہنے لگے کہ آج کے دن ہم سے آدمی قوم تقسیم ہوگئی، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، اس روایت کے اور بھی شواہد ہیں۔ اور طبرانی ؒ وغیرہ نے سعید بن جبیر ؒ کے ذریعہ سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب 39 مرد وعورتوں نے رسول اکرم ﷺ کے دست مبارک پر اسلام قبول کرلیا۔ اس کے بعد حضرت عمر فاروق اعظم ؓ مشرف بااسلام ہوئے تو چالیس کی تعداد پوری ہوگئی، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری، یعنی اے نبی آپ کے لیے اللہ کافی ہے اور جن مومنین نے آپ کا اتباع کیا ہے وہ کافی ہیں۔ اور ابن ابی حاتم ؒ نے صحیح سند کے ساتھ سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب رسول اکرم ﷺ پر (36) چھتیس آدمی اور چھ عورتیں ایمان لے آئیں اس کے بعد حضرت عمر فاروق اعظم ؓ مشرف بااسلام ہوئے تو یہ آیت اتری۔ اور ابوالشیخ ؒ نے سعید بن مسیب ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب حضرت عمر فاروق اعظم ؓ مشرف بااسلام ہوئے تو ان کے اسلام کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔
Ayah 8:65

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلَى الْقِتَالِ١ؕ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ یَغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 8:65 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ! مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دو اگر تم میں بیس آدمی ثابت قدم رہنے والے ہوں گے تو دو سو کافروں پر غالب رہیں گے۔ اور اگر سو (ایسے) ہوں گے تو ہزار پر غالب رہیں گے اس لئے کہ کافر ایسے لوگ ہیں کہ کچھ بھی سمجھ نہیں رکھتے۔

(65) عزوہ بدر کے دن مومنین کو ترغیب دیجیے اور لڑائی پر ابھارئیے کہ اگر بیس آدمی بھی لڑائی میں ثابت قدم رہے تو دو سو کفار پر غلبہ حاصل کریں گے کیوں کہ وہ حکم الہی اور توحید خداوندی کو نہیں سمجھتے۔ شان نزول : (آیت) ”ان یکن منکم عشرون صبرون“۔ (الخ) اسحاق بن راہویہ ؒ نے اپنی مسند میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ حکم دیا کہ ایک آدمی دس سے قتال کرے تو ان پر یہ چیز ناخوشگوار گزری تو اللہ تعالیٰ نے یہ تخفیف فرما دی کہ ایک آدمی دو سے قتال کرے چناچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یعنی اگر بیس آدمی ثابت قدم رہنے والے ہوں گے۔
Ayah 8:66

اَلْئٰنَ خَفَّفَ اللّٰهُ عَنْكُمْ وَ عَلِمَ اَنَّ فِیْكُمْ ضَعْفًا١ؕ فَاِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ صَابِرَةٌ یَّغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ اَلْفٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفَیْنِ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 8:66 in the Quran reader

اب خدا نے تم پر سے بوجھ ہلکا کردیا اور معلوم کرلیا کہ (ابھی) تم میں کسی قدر کمزوری ہے۔ پس اگر تم میں ایک سو ثابت قدم رہنے والے ہوں گے تو دو سو پر غالب رہیں گے، اور اگر ایک ہزار ہوں گے تو خدا کے حکم سے دو ہزار پر غالب رہیں گے۔ اور خدا ثابت قدم رہنے والوں کا مددگار ہے۔

(66) غزوہ بدر کے بعد اللہ تعالیٰ نے تم پر تخفیف کردی، اب تم اپنے سے دوگنے عدد پر غالب آسکتے ہو، اور جو لڑائی میں ثابت قدم رہیں اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرنے والا ہے۔
Ayah 8:67

مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗۤ اَسْرٰى حَتّٰى یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا١ۖۗ وَ اللّٰهُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَةَ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:67 in the Quran reader

پیغمبر کو شایان نہیں کہ اس کے قبضے میں قیدی رہیں جب تک (کافروں کو قتل کر کے) زمین میں کثرت سے خون (نہ) بہا دے۔ تم لوگ دنیا کے مال کے طالب ہو۔ اور خدا آخرت (کی بھلائی) چاہتا ہے۔ اور خدا غالب حکمت والا ہے۔

(67) نبی کے لیے یہ مناسب نہیں کہ ان کے کافر قیدی باقی رہیں یہاں تک کہ ان کی خونزیزی نہ کرلی جائے، غزوہ بدر کے قیدیوں سے فدیہ لے کردنیاوی متاع چاہتے ہو، اللہ تعالیٰ اپنے دشمنوں سے انتقام لینے میں غالب اور اپنے دوستوں کی مدد کرنے میں بڑی حکمت والے ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”ماکان لنبی ان یکون لہ اسری“۔ (الخ) امام احمد ؒ نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ غزوہ بدر کے قیدیوں کے متعلق رسول اکرم ﷺ نے اپنی جماعت سے مشورہ کیا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان پر اختیار دیا ہے تو حضرت عمر فاروق ؓ نے کھڑے ہو کر کہا یا رسول اللہ ﷺ ان کافروں کو قتل کردیا جائے، آپ نے ان کی رائے سے اعراض کیا اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے کھڑے ہو کر کہا کہ ان کو معاف کردیں اور ان سے فدیہ لے لیں، چناچہ حضور اکرم ﷺ نے ان کو معاف کردیا اور ان سے فدیہ قول کرلیا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ”لولا کتاب من اللہ سبق“۔ (الخ) نیز امام احمد ؒ ترمذی ؒ اور حاکم ؒ نے عبداللہ ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ بدر کے قیدیوں کو لایا گیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ان قیدیوں کے بارے میں کیا کہتے ہیں اس روایت میں اتنی زیادتی ہے کہ حضرت عمر ؓ کی رائے کے مطابق قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوئی ،
Ayah 8:68

لَوْ لَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِیْمَاۤ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 8:68 in the Quran reader

اگر خدا کا حکم پہلے نہ ہوچکا ہوتا تو جو (فدیہ) تم نے لیا ہے اس کے بدلے تم پر بڑا عذاب نازل ہوتا۔

(68) اگر رسول اکرم ﷺ کی امت کے لیے مال غنیمت کے حلال ہونے کے متعلق یا اہل بدر کی سعادت کے متعلق اللہ کا حکم نہ صادر ہوچکا ہوتا تو اس فدیہ سے تمہیں بڑی سزا ہوتی۔ شان نزول : (آیت) ”لولا کتاب من اللہ سبق“۔ (الخ) ترمذی ؒ نے ابوہریرہ ؓ سے رسول اکرم ﷺ کا فرمان روایت کیا ہے کہ غنیمتیں حلال نہیں تھیں اور تم سے پہلے کسی بھی جماعت کے لیے یہ حلال نہیں تھی، آسمان سے آگ آتی تھی، اور وہ انہیں کھاجاتی تھی، غزوہ بدر کے دن تم لوگ اس کے حلال ہونے کے پہلے ہی اس میں گھس پڑے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی کہ (آیت) ”لولا کتاب من اللہ سبق“۔ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کا ایک نوشتہ مقدر نہ ہوچکا ہوتا (الخ)
Ayah 8:69

فَكُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلًا طَیِّبًا١ۖ٘ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 8:69 in the Quran reader

تو جو مال غنیمت تم کو ملا ہے سے کھاؤ (کہ وہ تمہارے لئے) حلال (طیب) ہے اور خدا سے ڈرتے رہو بیشک خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

(69) بس اب غزوہ بدر کے دن جو غنیمت حاصل ہوئی ہے اس کا کھاؤ اور خیانت کرنے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو، غزوہ بدر کے دن فدیہ کی جو رائے تم نے دی ہے، اللہ تعالیٰ اس کو معاف فرمانے والے ہیں۔
Ayah 8:70

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّمَنْ فِیْۤ اَیْدِیْكُمْ مِّنَ الْاَسْرٰۤى١ۙ اِنْ یَّعْلَمِ اللّٰهُ فِیْ قُلُوْبِكُمْ خَیْرًا یُّؤْتِكُمْ خَیْرًا مِّمَّاۤ اُخِذَ مِنْكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 8:70 in the Quran reader

اے پیغمبر ﷺ جو قیدی تمہارے ہاتھ میں (گرفتار) ہیں ان کے کہہ دو کہ اگر خدا تمہارے دلوں میں نیکی معلوم کرے گا تو جو (مال) تم سے چھن گیا ہے اس سے بہتر تمہیں عنایت فرمائے گا اور تمہارے گناہ بھی معاف کر دیگا۔ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

(70) یعنی حضرت عباس ؓ وغیرہ سے فرما دیجیے کہ اگر تمہارے قلوب میں ایمان معلوم ہوا تو تم سے جو فدیہ لیا گیا ہے اس سے بہتر تمہیں دے دے گا اور اللہ تعالیٰ زمانہ جاہلیت کے تمہارے گناہوں کو معاف فرما دے گا کیوں کہ جو ایمان لائے تو اس کو معاف فرمانے والا ہے۔ شان نزول : (آیت) ”یایھا النبی قل لمن فی ایدیکم“۔ (الخ) طبرانی ؒ نے اوسط میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ حضرت عباس ؓ نے فرمایا اللہ کی قسم میرے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ جس وقت کہ رسول اکرم ﷺ کو میرے اسلام کی اطلاع ہوئی اور میں نے رسول اکرم ﷺ سے درخواست کی تھی کہ بیس اوقیہ چاندی جو میرے پاس تھی وہ آپ نے لے لی تو آپ نے اس کے بدلہ میں مجھے بیس غلام دیے، جن میں سے ہر ایک غلام میرے مال سے تجارت کررہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ دوسرا وعدہ مغفرت کا مجھے انتظار ہے۔
Ayah 8:71

وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:71 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ تم سے دغا کرنا چاہیں گے تو یہ پہلے ہی خدا سے دغا کرچکے ہیں تو اس نے ان کو (تمہارے) قبضہ میں کردیا۔ اور خدا دانا حکمت والا ہے۔

(71) اے محمد ﷺ اگر یہ ایمان کا اظہار کرکے خیانت کرنا چاہیں تو اس سے پہلے بھی انہوں نے ایمان نہ لاکر اور گناہوں کا ارتکاب کرکے اللہ تعالیٰ کے ساتھ خیانت کی ہے پھر اللہ تعالیٰ نے غزوہ بدر کے دن آپ کو ان پر غلبہ عطا فرمادیا ان لوگوں کے دلوں میں جو کچھ خیانت وغیرہ ہے اللہ تعالیٰ اس سے اچھی طرح واقف ہیں اور جو ان کے متعلق فیصلہ فرمایا ہے اس کی حکمت کو جاننے والے ہیں۔
Ayah 8:72

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓئِكَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یُهَاجِرُوْا مَا لَكُمْ مِّنْ وَّلَایَتِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ حَتّٰى یُهَاجِرُوْا١ۚ وَ اِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ فَعَلَیْكُمُ النَّصْرُ اِلَّا عَلٰى قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 8:72 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کر گئے اور خدا کی راہ میں اپنے مال اور جان سے لڑے وہ اور جنہوں نے (ہجرت کرنے والوں کو) جگہ دی اور ان کی مدد کی وہ آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔ اور جو لوگ ایمان تو لے آئے لیکن ہجرت نہیں کی تو جب تک وہ ہجرت نہ کریں تم کو ان کی رفاقت سے کچھ سروکار نہیں۔ اور اگر وہ تم سے دین (کے معاملات) میں مدد طلب کریں تو تم کو مدد کرنی لازم ہے۔ مگر ان لوگوں کے مقابلے میں کہ تم میں اور ان میں (صلح کا) عہد ہو (مدد نہیں کرنی چاہئے) اور خدا تمہارے (سب) کاموں کو دیکھ رہا ہے۔

(72) یعنی جو لوگ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لائے اور مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی اور رسول اکرم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کو مدینہ منورہ میں جگہ دی اور بدر کے دن ان کی مدد کی، یہ دونوں قسم کے لوگ ایک دوسرے کے وارث ہوں گے اور جو لوگ ایمان تو لائے مگر مکہ مکرمہ سے انہوں نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت نہیں کی تو تمہارا ان کے ساتھ اور ان کا تمہارے ساتھ میراث کا کوئی تعلق نہیں ہوگا، جب تک کہ وہ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت نہ کرلیں، البتہ اگر وہ لوگ تم سے دین کے بارے میں اپنے دشمن کے خلاف مدد لینا چاہیں تو تم پر ان کے دشمن کے خلاف ان کی مدد کرنا لازم ہے، مگر اس قوم کے مقابلہ میں تم پر مدد کرنا لازم نہیں کہ تم، میں اور ان میں باہم صلح کا معاہد ہو مگر صورت میں تم ہی کو ان کے درمیان صلح کرا دینی چاہیے۔
Ayah 8:73

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ اِلَّا تَفْعَلُوْهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِی الْاَرْضِ وَ فَسَادٌ كَبِیْرٌؕ Open ayah 8:73 in the Quran reader

اور جو لوگ کافر ہیں (وہ بھی) ایک دوسرے کے رفیق ہیں تو (مومنو) اگر تم یہ (کام) نہ کرو گے تو ملک میں فتنہ برپا ہوجائے گا اور بڑا فساد مچے گا۔

(73) اور کافر ایک دوسرے کے وراث ہیں، رشتہ داروں میں اگر اس طریقہ کے ساتھ میراث نہیں تقسیم کرو گے تو دنیا میں شرک و ارتداد قتل و خونریزی اور نافرمانی پھیلتی رہے گی۔ شان نزول : (آیت) ”والذین کفروا بعضھم (الخ) ابن جریر ؒ اور ابوالشیخ نے سدی ؒ اور ابومالک ؒ کے ذریعہ سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے کہا کہ ہم اپنے مشرک رشتہ داروں کے وارث ہوسکتے ہیں ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 8:74

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 8:74 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کر گئے اور خدا کی راہ میں لڑائیاں کرتے رہے۔ اور جنہوں نے (ہجرت کرنے والوں کو) جگہ دی اور ان کی مدد کی یہی لوگ سچے مسلمان ہیں۔ ان کے لئے (خدا کے ہاں) بخشش اور عزت کی روزی ہے۔

(74) اور جو حضرات پہلے پہلے رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لائے اور ہجرت کے زمانہ میں مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی اور شروع ہی سے اطاعت خداوندی میں جہاد کیا اور جن حضرات نے رسول اکرم ﷺ اور ان مہاجرین کو مدینہ منورہ میں اپنے ہاں ٹھہرایا اور بدر کے دن ان کی مدد کی یہ لوگ تو صدق اور یقین کے اعتبار سے ایمان کا پورا حق ادا کرنے والے ہیں، دنیا میں ان کے گناہوں کی معافی اور جنت میں ان کے لیے بہت ہی بہترین بدلہ ہے ،
Ayah 8:75

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا مَعَكُمْ فَاُولٰٓئِكَ مِنْكُمْ١ؕ وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 8:75 in the Quran reader

اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کر گئے اور تمہارے ساتھ ہو کر جہاد کرتے رہے۔ وہ بھی تم ہی میں سے ہیں۔ اور رشتہ دار خدا کے حکم کے رو سے ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ خدا ہر چیز سے واقف ہے۔

(75) اور جو لوگ مہاجرین اولین کے بعد ایمان لائے اور ہجرت بھی کی اور تمہارے ساتھ دشمن سے جہاد بھی کرتے رہے تو یہ لوگ ظاہر و باطن کے اعتبار سے ستم میں سے ہی شمار ہوں گے۔ اور جو لوگ ایک دوسرے کے رشتہ دار ہیں تو وہ حسب ترتیب ایک دوسرے کی میراث کے زیادہ حق دار ہیں، اس آیت سے پہلی آیت منسوخ ہوگئی اور اللہ تعالیٰ میراثوں کی تقسیم اور تمہاری درستگی وغیرہ کی باتوں اور مشرکین کی عہد شکنی سے اچھی طرح واقف ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”واولوا الارحام بعضھم“۔ (الخ) ابن جریر ؒ نے ابن زبیر ؓ سے روایت کیا ہے کہ آدمی کسی کے ساتھ یہ معاہدہ کرلیتا تھا کہ میرا وارث ہوگا اور میں تیرا وارث ہوں گا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اور ابن سعد ؒ نے ہشام بن عروہ ؒ کے ذریعہ سے عروہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت زبیر بن عوام ؓ اور کعب بن مالک ؓ کے درمیان مواخات کرادی، حضرت زبیر ؓ فرماتے ہیں کہ میں کعب بن مالک ؓ کو دیکھا کہ احد کے دن ان کو زخم لگا تو میں نے اپنے دل میں کہا کہ اگر یہ انتقال کرجائیں تو یہ دنیا سے چلے جائیں گے اور ان کے گھر والے ان کے وارثوں کیلے ہوجائیں گے اس پر یہ آیت نازل ہوئی چناچہ اس حکم کے بعد میراث رشتہ داروں کے لیے ہوگئی اور یہ مواخات کی میراث کا سلسلہ ختم ہوگیا۔