74. Surah Al-Muddaththir

المدثرThe Cloaked One · 56 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayahs 74:40–48

فِیْ جَنّٰتٍ١ۛؕ۫ یَتَسَآءَلُوْنَۙ Open ayah 74:40 in the Quran reader

(کہ) وہ باغ ہائے بہشت میں (ہونگے اور) پوچھتے ہوں گے

عَنِ الْمُجْرِمِیْنَۙ Open ayah 74:41 in the Quran reader

(یعنی آگ میں جلنے والے) گنہگاروں سے

مَا سَلَكَكُمْ فِیْ سَقَرَ Open ayah 74:42 in the Quran reader

کہ تم دوزخ میں کیوں پڑے ؟

قَالُوْا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَۙ Open ayah 74:43 in the Quran reader

وہ جواب دیں گے کہ ہم نماز نہیں پڑھتے تھے

وَ لَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِیْنَۙ Open ayah 74:44 in the Quran reader

اور نہ فقیروں کو کھانا کھلاتے تھے

وَ كُنَّا نَخُوْضُ مَعَ الْخَآئِضِیْنَۙ Open ayah 74:45 in the Quran reader

اور اہل باطل کے ساتھ مل کر (حق سے) انکار کرتے تھے۔

وَ كُنَّا نُكَذِّبُ بِیَوْمِ الدِّیْنِۙ Open ayah 74:46 in the Quran reader

اور روز جزا کو جھٹلاتے تھے

حَتّٰۤى اَتٰىنَا الْیَقِیْنُؕ Open ayah 74:47 in the Quran reader

یہاں تک کہ ہمیں موت آگئی

فَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِیْنَؕ Open ayah 74:48 in the Quran reader

تو (اس حال میں) سفارش کرنے والوں کی سفارش ان کے حق میں کچھ فائدہ نہ دیگی

(40۔ 48) دوزخیوں کا حال پوچھتے ہوں گے کہ تمہیں دوزخ میں کس بات نے داخل کیا۔ دوزخی جواب میں کہتے ہوں گے کہ ہم نہ تو مسلمانوں کی طرح پانچوں نمازیں پڑھا کرتے تھے اور نہ ہم مساکین کو صدقہ دینے کی ترغیب دیا کرتے تھے یا یہ کہ ہم زکوٰۃ اور صدقہ کچھ بھی نہیں دیا کرتے تھے۔ اور جھوٹوں کے ساتھ رہا کرتے تھے اور قیامت کے ہونے کا انکار کیا کرتے تھے یہاں تک کہ ہمیں موت آئے گی تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں سے فرمائے گا کہ تمہیں انبیاء کرام ملائکہ اور مسلمانوں کی سفارش نفع نہ دے گی۔
Ayahs 74:49–52

فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِیْنَۙ Open ayah 74:49 in the Quran reader

انکو کیا ہوا ہے کہ نصیحت سے روگرداں ہو رہے ہیں

كَاَنَّهُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنْفِرَةٌۙ Open ayah 74:50 in the Quran reader

گویا گدھے ہیں کہ بدک جاتے ہیں

فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَةٍؕ Open ayah 74:51 in the Quran reader

(یعنی) شیر سے ڈر کر بھاگ جاتے ہیں

بَلْ یُرِیْدُ كُلُّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ اَنْ یُّؤْتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةًۙ Open ayah 74:52 in the Quran reader

اصل یہ ہے کہ ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس کھلی ہوئی کتاب آئے

(49۔ 52) سو ان مکہ والوں کو کیا ہوا کہ یہ قرآن کریم کو جھٹلاتے ہیں کہ گویا وہ وحشی گدھے ہیں کہ شیر سے یا آدمیوں کی جماعت سے بھاگے جارہے ہیں، بلکہ ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اسے کھلے ہوئے نوشتے دیے جائیں، چناچہ ان لوگوں نے اس کی درخواست کی تھی کہ خاص ہمارے نام نوشے آئیں جس میں ہمارا نام اور توبہ لکھی ہو کہ ہم آپ پر ایمان لے آئیں۔ شان نزول : بَلْ يُرِيْدُ كُلُّ امْرِۍ مِّنْهُمْ (الخ) ابن منذر نے سدی سے روایت کیا ہے کہ کفار نے کہا کہ اگر محمد سچے ہیں تو صبح کو ہر ایک شخص کے سر کے نیچے سے لکھا ہوا نکلے جس میں اس کے لیے دوزخ سے برات لکھی ہوئی ہو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayahs 74:53–55

كَلَّا١ؕ بَلْ لَّا یَخَافُوْنَ الْاٰخِرَةَؕ Open ayah 74:53 in the Quran reader

ایسا ہرگز نہیں ہوگا حقیقت یہ ہے کہ انکو آخرت کا خوف ہی نہیں

كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذْكِرَةٌۚ Open ayah 74:54 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ یہ نصیحت ہے

فَمَنْ شَآءَ ذَكَرَهٗؕ Open ayah 74:55 in the Quran reader

تو جو چاہے اسے یاد رکھے

(53۔ 55) یہ ہرگز نہیں ہوسکتا بلکہ یہ لوگ آخرت کے عذاب سے ڈرتے نہیں یہ قرآن کریم اللہ کی طرف سے نصیحت ہے سو جس کے نصیب میں اس سے نصیحت حاصل کرنا ہوگا وہ اس سے نصیحت حاصل کرلے گا۔
Ayah 74:56

وَ مَا یَذْكُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ هُوَ اَهْلُ التَّقْوٰى وَ اَهْلُ الْمَغْفِرَةِ۠ Open ayah 74:56 in the Quran reader

اور یاد بھی تب ہی رکھیں گے جب خدا چاہے وہی ڈرنے کے لائق اور بخشش کا مالک ہے

اور بغیر مشیت خداوندی کے یہ لوگ نصیحت نہیں قبول کریں گے، وہی ہے جس سے ڈر کر اس کی فرمانبرداری کی جائے اور وہی ہے جو گناہ معاف کرتا ہے یعنی جو شخص اس سے ڈرے گا اور توبہ کرے گا تو وہی ہے اس کے جو قیامت میں گناہ معاف کرے گا۔