41. Surah Fussilat

فصلتExplained in detail · 54 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayahs 41:41–42

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِالذِّكْرِ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۚ وَ اِنَّهٗ لَكِتٰبٌ عَزِیْزٌۙ Open ayah 41:41 in the Quran reader

جن لوگوں نے نصیحت کو نہ مانا جب وہ انکے پاس آئی اور یہ تو ایک عالی مرتبہ کتاب ہے

لَّا یَاْتِیْهِ الْبَاطِلُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ لَا مِنْ خَلْفِهٖ١ؕ تَنْزِیْلٌ مِّنْ حَكِیْمٍ حَمِیْدٍ Open ayah 41:42 in the Quran reader

اس پر جھوٹ کا دخل نہ آگے سے ہوسکتا ہے اور نہ پیچھے سے (اور) دانا (اور) خوبیوں والے (خدا) کی اتاری ہوئی ہے

(41۔ 42) ابو جہل اور اس کے ساتھی جو قرآن حکیم کا جبکہ رسول اکرم اسے ان کے پاس لے کر آئے انکار کرتے ہیں ان لوگوں کے لیے آخرت میں دوزخ کا عذاب ہے اور یہ قرآن حکیم تو بڑی باوقعت کتاب ہے۔ جو شخص دوزخ میں ڈالا جائے یعنی ابو جہل اور اس کے ساتھی وہ اچھا ہے یا وہ ذات جو قیامت کے دن عذاب سے امن وامان کے ساتھ آئے گی یعنی رسول اکرم اور آپ کے صحابہ کرام بطور وعید کے اللہ تعالیٰ ان سے فرما رہا ہے کہ مکہ والو جو چاہو سو کرلو تمہارے اعمال کا تمہیں پورا پورا بدلہ ملے گا۔ جو کہ ان تمام کتابوں کی جو اس سے پہلے نازل ہوئی ہیں یعنی توریت و انجیل اور زبور کی مخالفت کرنے والی نہیں اور نہ اپنے بعد والی کسی کتاب کے مخالف ہے یا یہ کہ قرآن کریم سے پہلے توریت انجیل زبور اور تمام آسمانی کتب نے اس کی تکذیب نہیں کی اور نہ اس کے بعد کوئی ایسی کتاب آسکتی ہے جو اس کی تکذیب کرے۔ یا یہ کہ جبریل امین کی طرح ابلیس مردود رسول اکرم کے پاس ان کے آنے کے وقت نہیں آیا کہ قرآن میں یہ کچھ اضافہ کردیتا اور نہ جبریل کے جانے کے بعد ہی آیا کہ قرآن کریم میں کچھ کمی کردیتا یا یہ کہ قرآن کریم کا ایک حصہ دوسرے حصے کے مخالف و معارض نہیں بلکہ موافق ہے یہ اس ذات کی طرف سے نازل کیا گیا ہے جو اپنے حکم اور فیصلہ میں حکمت والا اور محمود الذات والصفات ہے۔
Ayah 41:43

مَا یُقَالُ لَكَ اِلَّا مَا قَدْ قِیْلَ لِلرُّسُلِ مِنْ قَبْلِكَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ وَّ ذُوْ عِقَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 41:43 in the Quran reader

تم سے وہی باتیں کہی جاتی ہیں جو تم سے پہلے اور پیغمبروں سے کہی گئی تھیں بیشک تمہارا پروردگار بخش دینے والا بھی ہے اور عذاب الیم دینے والا بھی ہے

اے محمد آپ کو اسی طرح برا بھلا کہا جاتا ہے اور جھٹلایا جاتا ہے جیسا کہ آپ سے پہلے رسولوں کو کہا گیا اور ان کی تکذیب کی گئی۔ یا یہ کہ آپ کو اسی تبلیغ رسالت کا حکم دیا جاتا ہے جو آپ سے پہلے رسولوں کو دیا گیا اور آپ کا رب ایسے شخص کی بڑی مغفرت فرمانے والا ہے جو کفر سے توبہ کرے اور اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور کفر پر مرنے والے کو دردناک سزا دینے والا ہے۔
Ayah 41:44

وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ قُرْاٰنًا اَعْجَمِیًّا لَّقَالُوْا لَوْ لَا فُصِّلَتْ اٰیٰتُهٗ١ؕ ءَؔاَعْجَمِیٌّ وَّ عَرَبِیٌّ١ؕ قُلْ هُوَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّ شِفَآءٌ١ؕ وَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرٌ وَّ هُوَ عَلَیْهِمْ عَمًى١ؕ اُولٰٓئِكَ یُنَادَوْنَ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ۠ Open ayah 41:44 in the Quran reader

اور اگر ہم اس قرآن کو غیر زبان عرب میں (نازل) کرتے تو یہ لوگ کہتے کہ اسکی آیتیں (ہماری زبان میں) کیوں کھول کر بیان نہیں کی گئیں کیا (خوب کہ قرآن تو عجمی) اور (مخاطب) عربی کہہ دو کہ جو ایمان لاتے ہیں ان کے لئے (یہ) ہدایت اور شفا ہے اور جو ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں گرانی (یعنی بہراپن) ہے اور یہ ان کے حق میں (موجب) نابینائی ہے گرانی کے سبب ان کو (گویا) دور جگہ سے آواز دی جاتی ہے

اور اگر اس قرآن کریم کو عربی کے علاوہ عجمی زبان میں آپ پر نازل کردیتے تو یہ کفار مکہ یوں کہتے کہ اس کی آیات صاف صاف کیوں نہیں بیان کی گئیں اور اسے عربی میں کیوں نازل نہیں کیا گیا اور یوں کہتے کہ عجیب بات ہے کہ کتاب عجمی اور رسول عربی ہے۔ آپ ان سے فرما دیجیے کہ یہ قرآن حکیم حضرت ابوبکر صدیق اور ان کے ساتھیوں کے لیے رہنما اور دلوں میں جو شکوک اور مرض پیدا ہوجائے اس کے لیے بیان اور شفا ہے۔ اور ابو جہل وغیرہ جو آپ پر ایمان نہیں لاتے ان کے کان بہرے ہیں اور یہ قرآن ان کے خلاف حجت ہے اور یہ مکہ والے گویا کہ توحید کی طرف آسمان سے بلائے جارہے ہیں۔ شان نزول : لَوْلَا فُصِّلَتْ اٰيٰتُهٗ (الخ) اور ابن جریر نے سعید بن جبیر سے روایت نقل کی ہے قریش کہنے لگے کیوں نہ یہ قرآن کریم عربی اور عجمی دونوں زبانوں میں نازل کیا گیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی یعنی یہ کفار یوں کہتے ہیں کہ کیوں نہ اس کی آیات صاف صاف بیان کی گئیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے بعد بکل لسان کا لفظ بھی بیان فرمایا اور ابن جریر کہتے ہیں کہ اعجمی میں قرات بغیر ہمزہ استفہام کے ہے۔
Ayah 41:45

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِیْهِ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 41:45 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تو اس میں اختلاف کیا گیا اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک بات پہلے نہ ٹھہر چکی ہوتی تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا اور یہ اس (قرآن) سے شک میں الجھ رہے ہیں

اور ہم نے موسیٰ کو بھی توریت دی تھی تو اس کتاب موسیٰ میں بھی لوگوں نے اختلاف کیا بعض نے تصدیق کی اور بعض نے اس کو جھٹلایا اور اگر اس امت سے تاخیر عذاب کا فیصلہ نہ ہوچکا تھا۔ تو ان مشرکین اور یہود و نصاری کی ہلاکت کا فیصلہ ہوچکا ہوتا یعنی ان پر بھی جھٹلانے کی وجہ سے عذاب نازل ہوجاتا جیسا کہ ان سے پہلے لوگوں پر تکذیب کے وقت عذاب نازل کیا گیا اور یہ یہود و نصاری اور مشرکین اس قرآن کریم یا یہ کہ کتاب موسیٰ کے بارے میں صاف شک میں پڑے ہوئے ہیں۔
Ayah 41:46

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ Open ayah 41:46 in the Quran reader

جو نیک کام کرے گا تو اپنے لئے اور جو برے کرے گا تو ان کا ضرر اسی کو ہوگا اور تمہارا پروردگار بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں

جو شخص خلوص کے ساتھ نیک اعمال کرتا ہے اس کا ثواب اسی کو ملے گا اور جو شرک کرے گا اس کی سزا اسی کو بھگتنی پڑے گی اور آپ کا رب تو بغیر کسی جرم کے بندوں کی گرفت فرمانے والا نہیں۔
Ayah 41:47

اِلَیْهِ یُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَةِ١ؕ وَ مَا تَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٰتٍ مِّنْ اَكْمَامِهَا وَ مَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِهٖ١ؕ وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ اَیْنَ شُرَكَآءِیْ١ۙ قَالُوْۤا اٰذَنّٰكَ١ۙ مَا مِنَّا مِنْ شَهِیْدٍۚ Open ayah 41:47 in the Quran reader

قیامت کے علم کا حوالہ اسی کی طرف دیا جاتا ہے (یعنی قیامت کا علم اسی کو ہے) اور نہ تو پھل گابھوں سے نکلتے ہیں اور نہ کوئی مادہ حاملہ ہوتی ہے اور نہ جنتی ہے مگر اس کے علم سے اور جس دن وہ ان کو پکارے گا (اور کہے گا) کہ میرے شریک کہاں ہیں تو وہ کہیں گے کہ ہم تجھ سے عرض کرتے ہیں کہ ہم میں سے کسی کو (ان کی) خبر ہی نہیں

قیامت کے علم کا حوالہ اللہ ہی کی طرف کیا جاتا ہے اللہ کے علاوہ کسی کو معلوم نہیں کہ قیامت کب ہوگی۔ اور ایسے ہی کوئی پھل اپنے خول میں سے نہیں نکلتا اور نہ کسی حاملہ عورت کو حمل رہتا ہے اور نہ وہ بچہ جنتی ہے مگر یہ سب اس کی اجازت سے ہوتا ہے اس کے علاوہ اور کسی کو ان باتوں کا علم نہیں۔ اور دوزخ میں جب اللہ تعالیٰ مشرکین سے فرمائے گا کہ وہ میرے شریک اب کہاں ہیں جن کی تم میرے علاوہ عبادت کرتے تھے اور میرے شریک ان کو سمجھتے تھے تو وہ کہیں گے کہ ہم اس سے پہلے آپ سے عرض کرچکے ہیں کہ ہم نے آپ کے علاوہ اور کسی کی عبادت نہیں کی۔
Ayah 41:48

وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَدْعُوْنَ مِنْ قَبْلُ وَ ظَنُّوْا مَا لَهُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 41:48 in the Quran reader

اور جن کو پہلے وہ (خدا کے سوا) پکارا کرتے تھے (سب) ان سے غائب ہوجائیں گے اور وہ یقین کرلیں گے کہ ان کے لئے مخلصی نہیں

اور جن کی یہ لوگ دنیا میں پوجا کیا کرتے تھے وہ سب غائب ہوجائیں گے اور یہ لوگ سمجھ لیں گے کہ دوزخ کے علاوہ اب ان کے لیے کوئی ٹھکانا نہیں۔
Ayah 41:49

لَا یَسْئَمُ الْاِنْسَانُ مِنْ دُعَآءِ الْخَیْرِ١٘ وَ اِنْ مَّسَّهُ الشَّرُّ فَیَئُوْسٌ قَنُوْطٌ Open ayah 41:49 in the Quran reader

انسان بھلائی کی دعائیں کرتا کرتا تو تھکتا نہیں اور اگر تکلیف پہنچ جاتی ہے تو ناامید ہوجاتا ہے اور آس توڑ بیٹھتا ہے

کافر کا مال و اولاد اور صحت کی خواہش سے کبھی دل نہیں بھرتا اور نہ وہ تھکتا ہے اور اگر اس کو کوئی تکلیف یا فاقہ پہنچتا ہے تو رحمت خداوندی سے خوفزہ اور ناامید ہوجاتا ہے۔
Ayah 41:50

وَ لَئِنْ اَذَقْنٰهُ رَحْمَةً مِّنَّا مِنْۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَیَقُوْلَنَّ هٰذَا لِیْ١ۙ وَ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآئِمَةً١ۙ وَّ لَئِنْ رُّجِعْتُ اِلٰى رَبِّیْۤ اِنَّ لِیْ عِنْدَهٗ لَلْحُسْنٰى١ۚ فَلَنُنَبِّئَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِمَا عَمِلُوْا١٘ وَ لَنُذِیْقَنَّهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 41:50 in the Quran reader

اور اگر تکلیف پہنچنے کے بعد ہم اس کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو کہتا ہے یہ تو میرا حق تھا اور میں نہیں خیال کرتا کہ قیامت برپا ہو اور اگر قیامت سچ بھی ہو تو میں اپنے پروردگار کی طرف لوٹایا بھی جاؤں تو میرے لئے اس کے ہاں بھی خوشحالی ہے پس کافر جو عمل کیا کرتے ہیں وہ ہم ان کو ضرور جتائیں گے اور ان کو سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے

اور اگر ہم اس کو کسی تکلیف کے بعد اپنی طرف سے مال و اولاد کی نعمت کا مزہ چکھائیں تو یہ کہتا ہے کہ یہ تو میرے لیے علم خداوندی میں مقرر ہی تھا۔ اور قیامت کے آنے کا خیال نہیں کرتا اور بعث کا انکار کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اگر بقول محمد مجھے اپنے رب کی طرف پہنچایا بھی گیا تو میرے لیے آخرت میں بھی جنت ہے، عتبہ بن ربیعہ اور اس کے ساتھی یہ بکواس کرتے ہیں تو ہم ان منکروں کو ان کے کفر کی حالت کے یہ سب کردار بتا دیں گے اور ان کو دوزخ میں سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔
Ayah 41:51

وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِهٖ١ۚ وَ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ فَذُوْ دُعَآءٍ عَرِیْضٍ Open ayah 41:51 in the Quran reader

اور جب ہم انسان پر کرم کرتے ہیں تو منہ موڑ لیتا ہے اور پہلو پھیر کر چل دیتا ہے اور جب اس کو تکلیف پہنچتی ہے تو لمبی لمبی دعائیں کرنے لگتا ہے

اور جس وقت ہم کافر کو مال و دولت دیتے ہیں تو اس کے شکر سے منہ پھیرتا ہے اور ایمان سے دور بھاگ جاتا ہے اور جب فاقہ کی مصیبت میں گرفتار کردیتے ہیں تو خاص طور پر یہ عتبہ مال و اولاد کی زیادتی کی خوب لمبی لمبی دعائیں مانگنے لگتا ہے۔
Ayah 41:52

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ ثُمَّ كَفَرْتُمْ بِهٖ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ هُوَ فِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 41:52 in the Quran reader

کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر یہ (قرآن) خدا کی طرف سے ہو تو پھر تم اس سے انکار کرو تو اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہے جو (حق) کی پرلے درجے کی مخالفت میں ہو

آپ ان سے فرمایئے کہ بھلا یہ تو بتلاؤ کہ اگر یہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا اور پھر تم اس کے اللہ کی جانب سے ہونے کا انکار کرو تو تمہارا پروردگار تمہیں کیا سزا دے گا تو ایسے شخص سے زیادہ کون گمراہ ہوگا جو حق و ہدایت سے بہت دور کی مخالفت میں پڑا ہوا ہے یا یہ کہ رسول اکرم کے ساتھ بہت ہی دشمنی کرتا ہے یعنی ابو جہل۔
Ayah 41:53

سَنُرِیْهِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ١ؕ اَوَ لَمْ یَكْفِ بِرَبِّكَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 41:53 in the Quran reader

ہم عنقریب ان کو اطراف (عالم) میں بھی اور خود ان کی ذات میں بھی نشانیاں دکھائیں گے یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ (قرآن) حق ہے کیا تم کو یہ کافی نہیں کہ تمہارا پروردگار ہر چیز سے خبردار ہے ؟

اے محمد ہم مکہ والوں کو اپنی قدرت اور وحدانیت کی نشانیاں ان کے اردگرد میں بھی دکھائیں گے جیسا کہ عاد وثمود اور ان کے بعد والے لوگوں کی ویران بستیاں پڑی ہوئی اور ان کو بھی امراض و تکالیف اور مصیبتوں میں گرفتار کر کے خود ان کی ذات میں بھی دکھائیں گے۔
Ayah 41:54

اَلَاۤ اِنَّهُمْ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْ لِّقَآءِ رَبِّهِمْ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍ مُّحِیْطٌ۠ Open ayah 41:54 in the Quran reader

دیکھو یہ اپنے پروردگار کے روبرو حاضر ہونے سے شک میں ہیں سن رکھو کہ وہ ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے

(53۔ 54) یہاں تک کہ ان پر یہ ظاہر ہوجائے گا کہ نبی اکرم جو ان سے فرماتے ہیں وہ سچ ہے۔ آپ کے پروردگار نے ان لوگوں کے سامنے جو گزشتہ قوموں کے واقعات بیان کیے ہیں بغیر ان کو دکھائے ہوئے کیا یہ بات ان کے لیے کافی نہیں کہ وہ ان کے اعمال سے باخبر ہے مگر مکہ والے بعث بعد الموت کے بارے میں شک و شبہ میں پڑے ہوئے ہیں۔ یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال اور ان کی سزا سے خوب واقف ہے۔