39. Surah Az-Zumar

الزمرThe Groups · 75 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 39:41

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ لِلنَّاسِ بِالْحَقِّ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ۠ Open ayah 39:41 in the Quran reader

ہم نے تم پر کتاب لوگوں (کی ہدایت) کے لئے سچائی کے ساتھ نازل کی ہے تو جو شخص ہدایت پاتا ہے تو اپنے (بھلے) کے لئے اور جو گمراہ ہوتا ہے اپنا ہی نقصان کرتا ہے اور (اے پیغمبر ﷺ تم ان کے ذمہ دار نہیں ہو

ہم نے آپ پر یہ قرآن حکیم بذریعہ جبریل نازل کیا ہے جو لوگوں کے سامنے حق و باطل کو واضح کرنے والا ہے سو جو شخص قرآن حکیم کے ذریعے سیدھے راستے پر آئے گا اور اس پر ایمان لائے گا تو اسی کو ثواب ملے گا۔ اور جو شخص قرآن حکیم کا انکار کرے گا تو اس کا وبال اسی پر پڑے گا اور آپ ان کفار پر مسلط نہیں کیے گئے کہ آپ سے ان کے بارے میں باز پرس ہونے لگے۔
Ayah 39:42

اَللّٰهُ یَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِهَا وَ الَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِهَا١ۚ فَیُمْسِكُ الَّتِیْ قَضٰى عَلَیْهَا الْمَوْتَ وَ یُرْسِلُ الْاُخْرٰۤى اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 39:42 in the Quran reader

خدا لوگوں کے مرنے کے وقت ان کی روحیں قبض کرلیتا ہے اور جو مرے نہیں انکی روحیں سوتے میں (قبض کرلیتا ہے) پھر جن پر موت کا حکم کر چکتا ہے ان کو روک رکھتا ہے اور باقی روحوں کو ایک وقت مقرر تک کے لئے چھوڑ دیتا ہے جو لوگ فکر کرتے ہیں ان کے لئے اس میں نشانیاں ہیں

اللہ ہی انسانوں کی روحوں کو قبض کرتا ہے ان کے سونے کی حالت میں جانوں کو بھی معطل کرتا ہے ان کے سونے کے وقت جن کی ابھی موت کا وقت نہیں آیا پھر جن کی موت کا وقت آجاتا ہے ان کو تو روک لیتا ہے اور جن کا سونے کی حالت میں وقت نہیں آیا ان کو ایک وقت مقررہ کے لیے رہا کردیتا ہے اس روکنے اور چھوڑنے میں سوچنے والوں کے لیے قدرت کی نشانیاں ہیں۔
Ayah 39:43

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُفَعَآءَ١ؕ قُلْ اَوَ لَوْ كَانُوْا لَا یَمْلِكُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 39:43 in the Quran reader

کیا انہوں نے خدا کے سوا اور سفارشی بنا لئے ہیں ؟ کہو کہ خواہ کسی چیز کا اختیار بھی نہ رکھتے ہوں اور نہ کچھ سمجھتے ہی ہوں

کیا ان کفار مکہ نے اللہ کے علاوہ دوسروں کو معبود قرار دے رکھا ہے جو ان کی سفارش کریں گے۔ آپ فرما دیجیے کہ اگرچہ یہ سفارش میں سے کسی چیز پر بھی قدرت نہ رکھتے ہوں اور کچھ بھی علم نہ رکھتے ہوں کہ سفارش کس طرح کریں۔
Ayah 39:44

قُلْ لِّلّٰهِ الشَّفَاعَةُ جَمِیْعًا١ؕ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 39:44 in the Quran reader

کہہ دو کہ سفارش تو سب خدا ہی کے اختیار میں ہے اسی کے لئے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے پھر تم اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے

آپ فرما دیجیے کہ آخرت میں تمام تر سفارش اللہ ہی کے قبضہ قدرت میں ہے اور بارش اور نباتات سب کے خزانوں پر اسی کی حکمرانی ہے اور آخرت میں تم سب اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے وہ تمہیں تمہارے اعمال کا بدلہ دے گا۔
Ayah 39:45

وَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحْدَهُ اشْمَاَزَّتْ قُلُوْبُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اِذَا ذُكِرَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِذَا هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ Open ayah 39:45 in the Quran reader

اور جب تنہا خدا کا ذکر کیا جاتا ہے تو جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل منقبض ہوجاتے ہیں اور جب اس کے سوا اوروں کا ذکر کیا جاتا ہے تو خوش ہوجاتے ہیں

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھو تو ان لوگوں کے دلوں میں جو آخرت کا یقین نہیں رکھتے نفرت و تنگی پیدا ہوتی ہے اور جب اس کے علاوہ لات و عزی کا تذکرہ ہوتا ہے تو اسی وقت یہ لوگ اپنے بتوں کے ذکر سے خوش ہوجاتے ہیں۔ شان نزول : وَاِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحْدَهُ (الخ) ابن المنذر نے مجاہد سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت مبارکہ رسول اکرم کی کعبہ کے پاس سورة نجم کی تلاوت کرنے اور مشرکین کے اپنے بتوں کے تذکرہ پر خوش ہونے کے وقت نازل ہوئی ہے۔
Ayah 39:46

قُلِ اللّٰهُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ عٰلِمَ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ اَنْتَ تَحْكُمُ بَیْنَ عِبَادِكَ فِیْ مَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 39:46 in the Quran reader

کہو کہ اے خدا (اے) آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے (اور) پوشیدہ اور ظاہر کے جاننے والے تو ہی اپنے بندوں میں ان باتوں کا جن میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں فیصلہ کرے گا

آپ اس طرح دعا فرمایے اے اللہ ہمارے ساتھ بھلائی فرمایئے اے آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے اے ظاہر و باطن کے جاننے والے تو ہی قیامت کے دن اپنے بندوں کے درمیان دین کی ان باتوں کا فیصلہ فرمائے گا جن میں وہ باہم اختلاف کرتے تھے۔
Ayah 39:47

وَ لَوْ اَنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ مِنْ سُوْٓءِ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ بَدَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مَا لَمْ یَكُوْنُوْا یَحْتَسِبُوْنَ Open ayah 39:47 in the Quran reader

اور اگر ظالموں کے پاس وہ سب (مال و متاع) ہو جو زمین میں ہے اور اس کے ساتھ اسی قدر اور ہو تو قیامت کے روز برے عذاب (سے) مخلصی پانے کے بدلے میں دے دیں اور ان پر خدا کی طرف سے وہ امر ظاہر ہوجائے گا جس کا انکو خیال بھی نہ تھا

اور اگر مشرکین کے پاس دنیا بھر کی تمام چیزیں ہوں اور ان چیزوں جتنی چیزیں اور بھی ہوں تو وہ لوگ قیامت کے دن سخت عذاب سے خود کو چھڑانے کے لیے اس کو فدیہ میں بلا تامل دینے لگیں اور ان کے سامنے عذاب الہی ایسا ظاہر ہوگا جس کا ان کو گمان بھی نہ تھا۔
Ayah 39:48

وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 39:48 in the Quran reader

اور ان کے اعمال کی برائیاں ان پر ظاہر ہوجائیں گی اور جس عذاب کی وہ ہنسی اڑاتے تھے وہ ان کو آگھیرے گا

اور اس وقت ان کے سامنے ان کے تمام برے اعمال ظاہر ہوجائیں گے۔ اور انبیائے کرام اور آسمانی کتب کا جو مذاق اڑایا کرتے تھے اس کی وجہ سے ان کو عذاب آگھیرے گا یا یہ مطلب ہے کہ جس عذاب کے ساتھ یہ ہنسی مذاق کیا کرتے تھے وہ ان کو آگھیرے گا۔
Ayah 39:49

فَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا١٘ ثُمَّ اِذَا خَوَّلْنٰهُ نِعْمَةً مِّنَّا١ۙ قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِیْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ١ؕ بَلْ هِیَ فِتْنَةٌ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:49 in the Quran reader

جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارنے لگتا ہے پھر جب ہم اس کو اپنی طرف سے نعمت بخشتے ہیں تو کہتا ہے ہے یہ تو مجھے (میرے) علم (ودانش) کے سبب ملی ہے نہیں بلکہ وہ آزمائش ہے مگر ان میں سے اکثر نہیں جانتے

اور جس وقت کافر کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو تکلیف کے ختم ہونے کے لیے پکارتا ہے پھر جب ہم اس کو اپنی طرف سے کوئی نعمت عطا کردیتے ہیں تو کہتا ہے کہ مجھے جو کچھ مال ملا ہے وہ میری عقلمندی اور ہنر مندی سے ملا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بھی میری ہنر مندی دیکھ کردیا ہے بلکہ وہ نعمت تو ہماری طرف سے ایک آزمائش ہے مگر سب اس کو سمجھتے ہی نہیں۔
Ayahs 39:50–51

قَدْ قَالَهَا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 39:50 in the Quran reader

جو لوگ ان سے پہلے تھے وہ بھی یہی کہا کرتے تھے تو جو کچھ وہ کیا کرتے تھے ان کے کچھ کام بھی نہ آیا

فَاَصَابَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا١ؕ وَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْ هٰۤؤُلَآءِ سَیُصِیْبُهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا١ۙ وَ مَا هُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 39:51 in the Quran reader

ان پر انکے اعمال کے وبال پڑگئے اور جو لوگ ان میں سے ظلم کرتے رہے ہیں ان پر ان کے عملوں کے وبال عنقریب پڑیں گے اور وہ (خدا کو) عاجز نہیں کرسکتے

(50۔ 51) اے محمد یہ بات آپ کی قوم سے پہلے قارون نے بھی کہی تھی تو عذاب خداوندی کے سامنے ان کی باتیں اور کارروائیاں اور غیر اللہ کی پرستش اور اموال کا جمع کرنا کچھ کام نہ آیا۔ تو ان تمام برے اعمال کی وجہ سے ان پر عذاب نازل ہو اور ان کفار مکہ میں سے جو مشرک ہیں تو ان سے پہلے لوگوں کی طرح ان کو بھی ان کی بداعمالیوں کی سزائیں ابھی ملنے والی ہیں اور یہ عذاب خداوندی سے بچ نہیں سکتے۔
Ayah 39:52

اَوَ لَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 39:52 in the Quran reader

کیا ان کو معلوم نہیں کہ خدا ہی جس کے لئے چاہتا ہے رزق کو فراخ کردیتا ہے اور تنگ کرتا ہے ؟ جو لوگ ایمان لاتے ہیں ان کے لئے اس میں (بہت سی) نشانیاں ہیں

کیا ان کفار مکہ کو معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ آزمائش کے طور پر جس کو چاہتا ہے مال وافر دیتا ہے اور ڈھیل کے طور پر جس پر چاہتا ہے تنگی کردیتا ہے اس آزمائش اور تنگی میں اہل ایمان کے لیے نشانیاں اور دلائل ہیں۔
Ayah 39:53

قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 39:53 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ میری طرف سے لوگوں سے) کہہ دو کہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہونا خدا تو سب گناہوں کو بخش دیتا ہے (اور) وہ تو بخشنے والا مہربان ہے

آپ فرما دیجیے کہ اے میرے بندو جنہوں نے کفر و شرک کر کے اپنے اوپر زیادتیاں کی ہیں کہ تم اللہ کی مغفرت سے مایوس مت ہو اللہ اس شخص کے تمام گناہوں کو جو کفر سے توبہ کرے اور اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے معاف فرمائے گا وہ توبہ کی حالت میں مرنے والے پر بڑی رحمت فرمانے والا ہے۔ شان نزول : قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ (الخ) بخاری و مسلم کی حدیث اس آیت کے بارے میں سورة فرقان میں گزر چکی ہے۔ ابن ابی حاتم نے سند صحیح کے ساتھ حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت مکہ مکرمہ کے مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اور طبرانی اور حاکم نے حضرت ابن عمر سے روایت نقل کی ہے کہ فرماتے ہیں کہ ہم کہا کرتے تھے کہ فساد پھیلانے والے کے لیے کوئی توبہ نہیں جبکہ وہ اسلام لانے اور اسلام کی معرفت حاصل ہوجانے کے بعد اس کو چھوڑ دے۔ چناچہ جب رسول اکرم مدینہ منورہ تشریف لائے تو ان ہی لوگوں کے بارے میں یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔ میرے بنو جنہوں نے خود پر زیادتیاں کی ہیں تم اللہ کی رحمت سے مایوس مت ہو اور طبرانی نے ایسی سند کے ساتھ جس میں ضعف ہے۔ حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم نے حضرت حمزہ کے قاتل کے پاس اسلام کی دعوت دینے کے لیے قاصد بھیجا تو اس نے جواب میں کہلا کر بھیجا کہ آپ مجھے کیسے دعوت دے رہے ہیں جبکہ آپ اس بات کے قائل ہیں کہ جس نے زنا کیا یا قتل کیا یا شرک کیا یلق اثاما (الخ) وہ گناہ کا بوجھ اٹھائے گا اور قیامت کے دن اس کے عذاب میں زیادتی ہوگی اور وہ دوزخ میں ہمیشہ ذلت کے ساتھ رہے گا اور میں نے تو یہ سب کام کیے ہیں تو کیا اب بھی آپ میرے لیے کچھ اجازت پاتے ہیں۔ اس پر آیت مبارکہ کا یہ حصہ نازل ہوا۔ الا من تاب وامن وعمل صالحا اس پر قاتل نے کہا کہ یہ شرط تو سخت ہے کہ جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور اعمال صالحہ کرے تو ممکن ہے کہ ان کو پورا کرنے کی میرے اندر قدرت نہ ہو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ و یغفر مادون ذلک لمن یشاء۔ یعنی اللہ تعالیٰ شرک کے علاوہ اور دوسرے گناہ جس کے چاہتا ہے معاف فرما دیتا ہے۔ اس پر وہ کہنے لگے کہ اس آیت کے بعد تو ارادہ کرتا ہوں مگر یہ مجھے معلوم نہیں کہ میری بخشش ہوگی یا نہیں تو اس کے علاوہ بھی اور کوئی آیت ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت قل یا عبادی الذین اسرفوا نازل فرمائی تب وہ کہنے لگے ہاں بیشک اس سے امید ہے چناچہ وہ مشرف بااسلام ہوئے۔
Ayah 39:54

وَ اَنِیْبُوْۤا اِلٰى رَبِّكُمْ وَ اَسْلِمُوْا لَهٗ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 39:54 in the Quran reader

اور اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آ واقع ہو اپنے پروردگار کی طرف رجوع کرو اور اسکے فرمانبردار ہوجاؤ (ورنہ) پھر تم کو مدد نہیں ملے گی

اور کفر سے توبہ کر کے تم اپنے رب کی طرف رجوع کرو اور اللہ تعالیٰ پر ایمان لاؤ اور اس کی اطاعت کرو اس سے پہلے کہ تم پر عذاب نازل ہونے لگے کیونکہ عذاب الہی تم سے نہیں روکا جائے گا۔ یہ آیت مبارکہ قاتل اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
Ayah 39:55

وَ اتَّبِعُوْۤا اَحْسَنَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً وَّ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 39:55 in the Quran reader

اور اس سے پہلے کہ تم پر ناگہاں عذاب آجائے اور تم کو خبر بھی نہ ہو اس نہایت اچھی (کتاب) کی جو تمہارے پروردگار کی طرف سے نازل ہوئی ہے پیروی کرو

تم قرآن کریم پر چلو اس کے حلال کردہ امور کو حلال اور حرام کردہ باتوں کو حرام سمجھو اور محکمات پر عمل کرو اس کے متشابہات پر ایمان لاؤ اس سے پہلے کہ تم پر اچانک عذاب آپڑے اور تمہیں اس کے آنے کی خبر بھی نہ ہو۔
Ayahs 39:56–57

اَنْ تَقُوْلَ نَفْسٌ یّٰحَسْرَتٰى عَلٰى مَا فَرَّطْتُّ فِیْ جَنْۢبِ اللّٰهِ وَ اِنْ كُنْتُ لَمِنَ السّٰخِرِیْنَۙ Open ayah 39:56 in the Quran reader

کہ (مبادا اس وقت) کوئی متنفس کہنے لگے کہ (ہائے ہائے) اس تقصیر پر افسوس ہے جو میں نے خدا کے حق میں کی اور میں تو ہنسی ہی کرتا رہا

اَوْ تَقُوْلَ لَوْ اَنَّ اللّٰهَ هَدٰىنِیْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 39:57 in the Quran reader

یا یہ کہنے لگے کہ اگر خدا مجھ کو ہدایت دیتا تو میں بھی پرہیزگاروں میں ہوتا

(56۔ 57) ایسا نہ ہو کہ تم میں پھر کوئی کہنے لگے ہائے افسوس کہ میں نے اطاعت خداوندی کو چھوڑا تھا اور میں تو کتاب اللہ اور اس کے رسول کا مذاق ہی اڑاتا رہا اور تاکہ پھر کوئی یوں نہ کہنے لگے کہ اگر اللہ تعالیٰ میرے سامنے ایمان کو بیان فرماتے تو میں بھی موحدین میں سے ہوتا۔
Ayah 39:58

اَوْ تَقُوْلَ حِیْنَ تَرَى الْعَذَابَ لَوْ اَنَّ لِیْ كَرَّةً فَاَكُوْنَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 39:58 in the Quran reader

یا جب عذاب دیکھ لے تو کہنے لگے کہ اگر مجھے پھر ایک دفعہ دنیا میں جانا ہو تو میں نیکوکاروں میں ہوجاؤں

یا کوئی عذاب دیکھ کر یوں نہ کہنے لگے کہ کاش میرا دنیا میں لوٹ جانا ہوجائے پھر میں موحدین میں سے ہوجاؤں۔
Ayah 39:59

بَلٰى قَدْ جَآءَتْكَ اٰیٰتِیْ فَكَذَّبْتَ بِهَا وَ اسْتَكْبَرْتَ وَ كُنْتَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 39:59 in the Quran reader

(خدا فرمائے گا) کیوں نہیں میری آیتیں تیرے پاس پہنچ گئی ہیں مگر تو نے ان کو جھٹلایا اور شیخی میں آگیا اور تو کافر بن گیا

اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا ہاں بیشک تمہارے پاس میری کتاب اور رسول پہنچا تھا سو تم نے ان کو جھٹلایا اور ایمان لانے سے تکبر کیا اور کافروں کے ساتھ ان ہی کے طریقہ پر قائم رہے۔
Ayah 39:60

وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تَرَى الَّذِیْنَ كَذَبُوْا عَلَى اللّٰهِ وُجُوْهُهُمْ مُّسْوَدَّةٌ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 39:60 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے خدا پر جھوٹ بولا تم قیامت کے دن دیکھو گے کہ ان کے منہ کالے ہو رہے ہوں گے کیا غرور کرنے والوں کا ٹھکانہ دوزخ نہیں ہے ؟

اور آپ قیامت کے دن ان لوگوں کے چہرے سیاہ دیکھیں گے جنہوں نے فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں اور حضرت عزیر اور عیسیٰ کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا کہا تھا کیا ان کافروں کا ٹھکانہ جہنم میں نہیں ہے۔
Ayah 39:61

وَ یُنَجِّی اللّٰهُ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا بِمَفَازَتِهِمْ١٘ لَا یَمَسُّهُمُ السُّوْٓءُ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 39:61 in the Quran reader

اور جو پرہیزگار ہیں انکی (سعادت اور) کامیابی کے سبب خدا انکو نجات دے گا نہ تو ان کو کوئی سختی پہنچے گی اور نہ وہ غمناک ہوں گے

اور جو لوگ اپنے پروردگار پر ایمان لائے تھے اور ان کی اطاعت کی تھی اللہ تعالیٰ ان کے ایمان اور نیکیوں کی وجہ سے ان کو نجات دے گا اور ان کو سختی اور عذاب نہیں پہنچے گا اور جس وقت دوسرے غمگین و پریشان ہوں گے تو وہ لوگ غمگین نہ ہوں گے۔
Ayah 39:62

اَللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ١٘ وَّ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌ Open ayah 39:62 in the Quran reader

خدا ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہی ہر چیز کا نگران ہے

اللہ ہی ہر ایک چیز کا خالق ہے اور وہ ہی ہر ایک کو روزی پہنچانے کا ذمہ دار ہے یا یہ کہ وہ ہر ایک کے اعمال کا نگہبان ہے۔
Ayah 39:63

لَهٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 39:63 in the Quran reader

اسی کے پاس آسمانوں اور زمین کی کنجیاں ہیں اور جنہوں نے خدا کی آیتوں سے کفر کیا وہی نقصان اٹھانے والے ہیں

اسی کے اختیار میں آسمان و زمین کے خزانے یعنی بارش اور ہر قسم کی پیداوار ہے اور جو لوگ رسول اکرم اور قرآن کریم کو نہیں مانتے وہ آخرت میں سزا کی وجہ سے بڑے خسارے میں رہیں گے۔
Ayah 39:64

قُلْ اَفَغَیْرَ اللّٰهِ تَاْمُرُوْٓنِّیْۤ اَعْبُدُ اَیُّهَا الْجٰهِلُوْنَ Open ayah 39:64 in the Quran reader

کہہ دو کہ اے نادانو ! تم مجھ سے یہ کہتے ہو کہ میں غیر خدا کی پرستش کرنے لگوں

جس وقت یہ مکہ والے آپ سے آبائی دین کے اختیار کرنے کو کہیں تو آپ ان سے فرما دیجیے کہ اے جاہلو کیا پھر بھی تم مجھے غیر اللہ کی عبادت کرنے کی فرمائش کرتے ہو۔ شان نزول : قُلْ اَفَغَيْرَ اللّٰهِ تَاْمُرُوْۗنِّىْٓ (الخ) امام بیہقی نے دلائل میں حسن بصری سے روایت کیا ہے کہ مشرکین نے رسول اللہ سے کہا کہ اے محمد کیا تم اپنے آباؤ اجداد کو گمراہ بتاتے ہو اس پر یہ آیت نازل ہوئی یعنی اے جاہلو کیا پھر بھی تم مجھے غیر اللہ کی عبادت کرنے کا حکم کرتے ہو۔
Ayah 39:65

وَ لَقَدْ اُوْحِیَ اِلَیْكَ وَ اِلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ لَئِنْ اَشْرَكْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 39:65 in the Quran reader

اور (اے محمد ﷺ تمہاری طرف اور ان (پیغمبروں) کی طرف جو تم سے پہلے ہوچکے ہیں یہی وحی بھیجی گئی ہے کہ اگر تم نے شرک کیا تو تمہارے عمل برباد ہوجائیں گے اور تم زیاں کاروں میں ہوجاؤ گے

کیونکہ آپ کی طرف بھی قرآن کریم میں اور جو پیغمبر آپ سے پہلے گزرے ہیں ان کی طرف بھی یہ وحی بھیجی جاچکی ہے کہ اے عام مخاطب اگر تو شرک کرے گا تو حالت شرک میں تیرا سب کیا برباد ہوجائے گ اور تو سزا کے اعتبار سے نقصان اٹھائے گا۔
Ayah 39:66

بَلِ اللّٰهَ فَاعْبُدْ وَ كُنْ مِّنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 39:66 in the Quran reader

بلکہ خدا ہی کی عبادت کرو اور شکر گزاروں میں ہو

بلکہ ہمیشہ توحید خداوندی ہی کا اقرار کرنا اور جو کچھ اللہ تعالیٰ آپ پر انعامات کتاب و نبوت اور اسلام کی دولت عطا فرماتے ہیں ان پر شکر گزار رہیے۔
Ayah 39:67

وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ١ۖۗ وَ الْاَرْضُ جَمِیْعًا قَبْضَتُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ السَّمٰوٰتُ مَطْوِیّٰتٌۢ بِیَمِیْنِهٖ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 39:67 in the Quran reader

اور انہوں نے خدا کی قدر شناسی جیسی کرنی چاہیے تھی نہیں کی اور قیامت کے دن تمام زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اور آسمان اسکے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوں گے اور وہ ان لوگوں کے شرک سے پاک اور عالیشان ہے

اور ان لوگوں نے اللہ کی کچھ عظمت نہ کی جیسے عظمت کرنی چاہیے تھی۔ چناچہ بکواس کرنے لگے کہ نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ بند ہے اور ذلیل و خوار مالک بن صیف یہودی کہنے لگا کہ معاذ اللہ اللہ تعالیٰ محتاج ہے ہم سے قرض مانگتا ہے حالانکہ ساری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہوگی اور تمام آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوں گے او اللہ تعالیٰ کے دونوں ہاتھ داہنے ہیں۔ اس کی ذات یہودیوں کی باتوں سے پاک و برتر ہے۔ شان نزول : وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ (الخ) امام ترمذی نے تصحیح کے ساتھ حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ ایک یہودی کا رسول اکرم کے پاس سے گزر ہوا وہ کہنے لگا اے ابو القاسم اس چیز کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ آسمانوں کو اپنی اس انگلی پر اور زمینوں کو اس پر اور پانی کو اس پر اور پہاڑوں کو اس پر رکھے گا تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ابن ابی حاتم نے حسن سے روایت کیا ہے کہ یہودیوں نے آسمان و زمین اور فرشتوں کی پیدائش کے بارے میں غور کرنا شروع کیا جب اس چیز سے فارغ ہوئے تو اس کا اندازہ لگانے لگے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یعنی ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی کچھ عظمت نہ کی۔ اور سعید بن جبیر سے روایت کیا ہے کہ یہودیوں نے پروردگار کی صفت کے بارے میں گفتگو شروع کی تو وہ ایسی باتیں تھیں جن کو جانتے بھی نہ تھے اور نہ دیکھی بھالی ہوئی تھیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اور ابن المنذر نے ربیع بن انس سے روایت کیا ہے کہ جس وقت یہ آیت وسع کرسیہ السموت والارض نازل ہوئی اس وقت لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ کرسی کی تو صفت یہ ہے اور عرش کی کیا ہے اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔
Ayah 39:68

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ١ؕ ثُمَّ نُفِخَ فِیْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ Open ayah 39:68 in the Quran reader

اور جب صور پھونکا جائے گا تو جو لوگ آسمان میں ہیں اور جو زمین میں ہیں سب بیہوش ہو کر گرپڑیں گے مگر وہ جس کو خدا چاہے پھر دوسری دفعہ پھونکا جائے گا تو فوراً سب کھڑے ہو کر دیکھنے لگیں گے

اور صورت میں پھونک ماری جائے گی تو آسمان و زمین والے مرجائیں گے مگر جنت و دوزخ والے اور کہا گیا ہے کہ حضرت جبریل، میکائیل، اسرافیل اور ملک الموت وہ پہلی صورت پھونکے جانے پر نہیں مریں گے بلکہ اس کے بعد مریں گے اور پھر مردوں کو زندہ کرنے کے لیے دوبارہ صورت میں پھونک ماری جائے گی اور ان دونوں صوروں کے درمیان چالیس سال کا وقفہ ہوگا اور پھر آسمان سے باریک بارش کی بوندیں گریں گے پھر اس صورت کے بعد اچانک لوگ قبروں سے کھڑے ہوجائیں گے اور چاروں طرف دیکھیں گے کہ ان سے کیا کہا جارہا ہے۔
Ayah 39:69

وَ اَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ وَ جِایْٓءَ بِالنَّبِیّٖنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 39:69 in the Quran reader

اور زمین اپنے پروردگار کے نور سے چمک اٹھے گی اور (اعمال کی) کتاب (کھول کر) رکھ دی جائے گی اور پیغمبر اور گواہ حاضر کئے جائیں گے اور ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا اور بےانصافی نہیں کی جائے گی

اور زمین اپنے پروردگار کے نور سے یا یہ کہ انصاف سے روشن ہوجائے گی اور سب کا نامہ اعمال جس میں ایمان و اخلاق کا تذکرہ ہوگا رکھ دیا جائے گا اور انبیاء کرام اور رسول حاضر کیے جائیں گے یا یہ کہ انبیاء کرام او گواہ حاضر کیے جائیں گے یعنی انبیاء کرام جو خود گواہ ہوں گے اور اپنی قوم کے خلاف گواہی دیں گے۔ اور ان کے اور انبیاء کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کیا جائے گا اور ان کی نیکیوں میں کسی قسم کی کمی اور برائیوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔
Ayah 39:70

وَ وُفِّیَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا یَفْعَلُوْنَ۠ Open ayah 39:70 in the Quran reader

اور جس شخص نے جو عمل کیا ہوگا اس کا پورا پورا بدلہ مل جائے گا اور جو کچھ یہ کرتے ہیں اسکو سب کی خبر ہے

اور ایک شخص کو خواہ نیک ہو یا بد اس کے اعمال کا خواہ نیکیاں ہوں یا برائیاں پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور وہ سب کاموں کو خوب جانتا ہے۔
Ayah 39:71

وَ سِیْقَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَتْلُوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِ رَبِّكُمْ وَ یُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ لٰكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 39:71 in the Quran reader

اور کافروں کو گروہ گروہ بنا کر جہنم کی طرف لے جائیں گے یہاں تک کہ جب وہ اسکے پاس جائیں گے تو اس کے دروازے کھول دئیے جائیں گے تو اس کے داروغہ ان سے کہیں گے کہ کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے پیغمبر نہیں آئے تھے جو تم کو تمہارے پروردگار کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے اور اس دن کے پیش آنے سے ڈراتے تھے ؟ کہیں گے کیوں نہیں لیکن کافروں کے حق میں عذاب کا حکم متحقق ہوچکا تھا

کافروں کو گروہوں کی صورت میں ترتیب وار دوزخ کی طرف ہانکا جائے گا۔ اور جب یہ دوزخ کے قریب پہنچیں گے تو اس کے دروازے کھول دیے جائیں گے جو اس سے پہلے کھلے ہوئے نہیں تھے اور ان سے وہاں کے داروغہ اور محافظ کہیں گے کہ اے گروہ کفار کیا تمہارے پاس تم ہی لوگوں میں سے پیغمبر نہیں آئے تھے جو تمہیں تمہارے پروردگار کی آیتیں پڑھ کر سنایا کرتے تھے اور تمہیں اس دن کے عذاب سے ڈرایا کرتے تھے، کافر کہیں گے بیشک ہمارے پاس رسول آئے لیکن عذاب کا وعدہ ہمارے اعمال کی وجہ سے پورا ہو کر رہا۔
Ayah 39:72

قِیْلَ ادْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 39:72 in the Quran reader

کہا جائے گا کہ دوزخ کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ ہمیشہ اس میں رہو گے تکبر کرنے والوں کا برا ٹھکانا ہے

ان سے محافظ کہیں گے کہ اب ہمیشہ دوزخ میں رہو غرض کتاب و رسول پر ایمان لانے سے تکبر کرنے والوں کا برا ٹھکانا ہے۔
Ayah 39:73

وَ سِیْقَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ اِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا وَ فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْهَا خٰلِدِیْنَ Open ayah 39:73 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کو گروہ گروہ بنا کر بہشت کی طرف لے جائیں گے یہاں تک کہ جب اس کے پاس پہنچ جائیں گے اور اس کے دروازے کھول دئیے جائیں گے تو اس کے داروغہ ان سے کہیں گے کہ تم پر سلام تم بہت اچھے رہے اب اس میں ہمیشہ کے لئے داخل ہوجاؤ

اور جن لووں نے اپنے پروردگار کی اطاعت کی تھی وہ جنت کی طرف گروہ گروہ کر کے روانہ کیے جائیں گے یہاں تک کہ اس جنت کے پاس پہنچیں گے اور اس کے دروازے پہلے ہی سے کھلے ہوئے ہوں گے اور وہاں کے محافظ جنت کے دروازوں پر ان کو سلام کریں گے اور کہیں گے کہ تم کامیابی اور نجات میں یا یہ کہ پاکیزگی اور راحت میں رہو اور اس جنت میں ہمیشہ رہنے کے لیے داخل ہوجاؤ کہ یہاں نہ موت آئے گی اور نہ یہاں سے نکالے جاؤ گے۔
Ayah 39:74

وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ صَدَقَنَا وَعْدَهٗ وَ اَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الْجَنَّةِ حَیْثُ نَشَآءُ١ۚ فَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَ Open ayah 39:74 in the Quran reader

وہ کہیں گے کہ خدا کا شکر ہے جس نے اپنے وعدے کو ہم سے سچا کردیا اور ہم کو اس زمین کا وارث بنادیا ہم بہشت میں جس مکان میں چاہیں رہیں تو (اچھے) عمل کرنے والوں کا بدلہ بھی کیسا خوب ہے

اور جب اللہ تعالیٰ کی طرف اس اکرام کو جاننے لگیں گے تو یہ داخل ہونے والے کہیں گے کہ اللہ کا شکر و احسان ہے کہ جس نے ہم سے اپنا وعدہ سچا کیا اور ہمیں سرزمین جنت کا مالک بنایا کہ ہم جہاں چاہیں اس میں قیام کریں غرض دنیا میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے والوں کا اب اچھا بدلہ ہے۔
Ayah 39:75

وَ تَرَى الْمَلٰٓئِكَةَ حَآفِّیْنَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ١ۚ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ قِیْلَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 39:75 in the Quran reader

تم فرشتوں کو دیکھو گے کہ عرش کے گرد گھیرا باندھے ہوئے ہیں (اور) اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کر رہے ہیں اور ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ ہر طرح کی تعریف خدا ہی کو سزاوار ہے جو سارے جہان کا مالک ہے

اور آپ فرشتوں کو دیکھیں گے کہ عرش کے گردا گرد حلقہ باندھے ہوں گے اور اپنے پروردگار کے حکم سے اس کی تسبیح کرتے ہوں گے۔ اور انبیاء کرام اور ان کی امتوں کے درمیان ٹھیک ٹحیک فیصلہ کردیا جائے گا اور ان سے حساب سے فراغت کے بعد کہا جائے گا کہ کہو کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو جن و انس کا پروردگار ہے اور اس پر کہ اس نے ہمارے اور تمہارے دشمنوں کے درمیان فرق فرمایا۔