38. Surah Saad

صThe letter Saad · 88 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayahs 38:79–83

قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 38:79 in the Quran reader

کہنے لگا کہ میرے پروردگار مجھے اس روز تک کہ لوگ اٹھائے جائیں مہلت دے

قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَۙ Open ayah 38:80 in the Quran reader

کہا مہلت دی جاتی ہے

اِلٰى یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ Open ayah 38:81 in the Quran reader

اس روز تک جس کا وقت مقرر ہے

قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَاُغْوِیَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 38:82 in the Quran reader

کہنے لگا کہ مجھے تیری عزت کی قسم میں ان سب کو بہکاتا رہوں گا

اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 38:83 in the Quran reader

سوا ان کے جو تیرے خالص بندے ہیں

(79۔ 83) اس کے بعد اس خبیث نے چاہا کہ موت کا مزہ نہ چکھے اس لیے بےشرمی کے ساتھ عرض کیا کہ پروردگار قیامت کے دن تک مجھ کو مہلت دیجیے۔ ارشاد خداوندی ہوا جا تجھ کو پہلا صور پھونکنے تک مہلت دی گئی۔ کہنے لگا آپ کی عزت و جلال کی قسم میں ان سب کو آپ کے طریقہ اور اطاعت سے گمراہ کروں گا بجز آپ کے ان بندوں کے جو مجھ سے معصوم ہیں۔
Ayahs 38:84–86

قَالَ فَالْحَقُّ١٘ وَ الْحَقَّ اَقُوْلُۚ Open ayah 38:84 in the Quran reader

کہا (سچ) ہے اور میں بھی سچ کہتا ہوں

لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَ مِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 38:85 in the Quran reader

کہ میں تجھ سے اور جو ان میں سے تیری پیروی کریں گے سب سے جہنم کو بھر دوں گا

قُلْ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِیْنَ Open ayah 38:86 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ کہہ دو کہ میں تم سے اس کا صلہ نہیں مانگتا اور نہ میں بناوٹ کرنے والوں میں ہوں

(84۔ 86) ارشاد خداوندی ہوا کہ میں حق ہوں اور سچ ہی کہا کرتا ہوں کہ میں تجھ سے اور تیری اولاد سے اور جو تیری پیروی کرے سب سے دوزخ کو بھروں گا۔ محمد آپ ان مکہ والوں سے فرما دیجیے کہ میں تبلیغ توحید و قرآن پر تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا اور نہ میں اس کا اپنی طرف سے اختراع کرنے والا ہوں۔
Ayahs 38:87–88

اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 38:87 in the Quran reader

یہ قرآن تو اہل عالم کے لئے نصیحت ہے

وَ لَتَعْلَمُنَّ نَبَاَهٗ بَعْدَ حِیْنٍ۠ Open ayah 38:88 in the Quran reader

اور تم کو اس کا حال ایک وقت کے بعد معلوم ہوجائے گا

(87۔ 88) یہ قرآن کریم تو جن و انس کے لیے صرف ایک نصیحت ہے۔ اور ایمان یا موت کے بعد قرآن کریم میں جو کچھ وعدہ وعید ہے اس کا تمہیں حال معلوم ہوجائے گا چناچہ مومنین نے ایمان لانے کے بعد اور کفار نے مرنے کے بعد اچھی طرح جان لیا کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ قرآن حکیم میں فرمایا حق اور سچ ہے۔