37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayahs 37:156–157

اَمْ لَكُمْ سُلْطٰنٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 37:156 in the Quran reader

یا تمہارے پاس کوئی صریح دلیل ہے ؟

فَاْتُوْا بِكِتٰبِكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 37:157 in the Quran reader

اگر تم سچے ہو تو اپنی کتاب پیش کرو

(156۔ 157) کیا جو تم کہتے ہو اسے سوچتے نہیں کیا تمہارے پاس اے مکہ والو اس کے بارے میں کوئی کتاب ہے جس میں اس پر واضح دلیل ہو کہ نعوذ باللہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہوت تو وہ کتاب پیش کرو۔
Ayah 37:158

وَ جَعَلُوْا بَیْنَهٗ وَ بَیْنَ الْجِنَّةِ نَسَبًا١ؕ وَ لَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّةُ اِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَۙ Open ayah 37:158 in the Quran reader

اور انہوں نے خدا میں اور جنوں میں رشتہ مقرر کیا حالانکہ جنات جانتے ہیں کہ وہ (خدا کے سامنے) حاضر کئے جائیں گے

اور بنو ملیح والوں نے تو اللہ تعالیٰ اور جنات میں رشتہ داری قرار دی ہے اور کہتے ہیں کہ جس کا ظہور فرشتے ہیں جو اللہ کی بیٹیاں ہیں اور کہا گیا ہے کہ یہ آیت زنادقہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو ابلیس ملعون کو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں کہ اللہ خالق خیر ہے اور ابلیس خالق شر ہے۔ شان نزول : وَجَعَلُوْا بَيْنَهٗ وَبَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَـبًا (الخ) جبیر نے بواسطہ ضحاج حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ آیت کریمہ قریش کے تین قبیلوں سلی، جہینہ اور خزاعہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور امام بیہقی نے شعب الایمان میں مجاہد سے روایت کیا ہے کہ قریش کے امراء و رؤسا کہنے لگے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ حضرت ابوبکر نے فرمایا تو ان کی مائیں کون ہیں تو وہ بولے سادات جنات کی بیٹیاں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ وَلَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّةُ اِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَ اور ابی بن حاتم نے یزید بن ابی مالک سے روایت کیا ہے کہ لوگ الگ الگ کھڑے ہو کر نماز پڑھا کرتے تھے تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ وانا لنحن الصافون۔ اس کے بعد ان کو صف بنانے کا حکم ہوا۔
Ayah 37:159

سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یَصِفُوْنَۙ Open ayah 37:159 in the Quran reader

اور یہ جو کچھ بیان کرتے ہیں خدا اس سے پاک ہے

اور فرشتے اس بات کو جانتے ہیں کہ یہ کفار مکہ عذاب دوزخ میں گرفتار ہوں گے اللہ تعالیٰ ان باتوں سے پاک ہے جو یہ جھوٹی باتیں بیان کرتے ہیں۔
Ayah 37:160

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:160 in the Quran reader

مگر خدا کے بندگان خالص (مبتلائے عذاب نہیں ہوں گے)

مگر جو اللہ تعالیٰ کے موحد و عبادت گزار بندے ہیں وہ ایسی باتیں نہیں کرتے یا یہ کہ جو لوگ کفر و شرک اور برائیوں سے پاک ہیں وہ عذاب میں جکڑے جائیں گے۔
Ayahs 37:161–163

فَاِنَّكُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 37:161 in the Quran reader

تو تم اور جن کو تم پوجتے ہو

مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ بِفٰتِنِیْنَۙ Open ayah 37:162 in the Quran reader

خدا کے خلاف بہکا نہیں سکتے

اِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِیْمِ Open ayah 37:163 in the Quran reader

مگر اس کو جو جہنم میں جانے والا ہے

(161۔ 163) سو اے اہل مکہ تم بھی اور تمہارے سارے معبود بھی کسی کو عبادت الہی سے نہیں پھیر سکتے مگر وہی ابلیس جو تمہارے ساتھ دوزخ میں بھی جائے گا یا یہ کہ مگر اسی کو جو علم الہی میں جہنم رسیدہ ہونے والا ہے۔
Ayahs 37:164–166

وَ مَا مِنَّاۤ اِلَّا لَهٗ مَقَامٌ مَّعْلُوْمٌۙ Open ayah 37:164 in the Quran reader

اور (فرشتے) کہتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کا ایک مقام مقرر ہے

وَّ اِنَّا لَنَحْنُ الصَّآفُّوْنَۚ Open ayah 37:165 in the Quran reader

اور ہم صف باندھے رہتے ہیں

وَ اِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُوْنَ Open ayah 37:166 in the Quran reader

اور (خدائے پاک ذات) کا ذکر کرتے رہتے ہیں

(164۔ 166) آگے جبریل امین کا قول روایت کرتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کا آسمان میں ایک درجہ مقرر ہے اور ہم نماز میں صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں اور ہم اللہ کی پاکی بیان کرنے میں بھی لگے رہتے ہیں۔
Ayahs 37:167–169

وَ اِنْ كَانُوْا لَیَقُوْلُوْنَۙ Open ayah 37:167 in the Quran reader

اور یہ لوگ کہا کرتے تھے

لَوْ اَنَّ عِنْدَنَا ذِكْرًا مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 37:168 in the Quran reader

کہ اگر ہمارے پاس اگلوں کی کوئی نصیحت (کی کتاب) ہوتی

لَكُنَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:169 in the Quran reader

تو ہم خدا کے خالص بندے ہوتے

(167۔ 169) اور یہ کفار مکہ رسول اکرم کی بعثت سے پہلے کہا کرتے تھے کہ اگر ہمارے پاس بھی پہلے لوگوں کی طرح رسول آتا تو ہم اللہ تعالیٰ کے موحد بندے ہوتے۔
Ayah 37:170

فَكَفَرُوْا بِهٖ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 37:170 in the Quran reader

لیکن (اب) اس سے کفر کرتے ہیں سو عنقریب ان کو (اسکا نتیجہ) معلوم ہوجائے گا

چناچہ جب رسول اکرم ان کے پاس تشریف لائے اور قرآن حکیم نازل ہوا تو یہ لوگ انکار کرنے لگے سو عنقریب ان کو انجام معلوم ہوجائے گا کہ مرنے کے وقت اور قبر میں اور قیامت کے دن ان کے ساتھ کیا ہوگا۔
Ayahs 37:171–175

وَ لَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 37:171 in the Quran reader

اور اپنے پیغام پہنچانے والے بندوں سے ہمارا وعدہ ہوچکا ہے

اِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنْصُوْرُوْنَ۪ Open ayah 37:172 in the Quran reader

کہ وہی (مظفر و) منصور ہیں

وَ اِنَّ جُنْدَنَا لَهُمُ الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 37:173 in the Quran reader

اور ہمارا لشکر غالب رہے گا

فَتَوَلَّ عَنْهُمْ حَتّٰى حِیْنٍۙ Open ayah 37:174 in the Quran reader

تو ایک وقت تک ان سے اعراض کئے رہو

وَّ اَبْصِرْهُمْ فَسَوْفَ یُبْصِرُوْنَ Open ayah 37:175 in the Quran reader

اور انہیں دیکھتے رہو یہ بھی عنقریب (کفر کا انجام) دیکھ لیں گے

(171۔ 175) اور ہمارے خاص بندوں یعنی رسولوں کے لیے ہمارا کامیابی و مدد کا یہ قول پہلے ہی سے مقرر ہوچکا ہے۔ کہ وہی غالب کیے جائیں گے اور قیامت کے دن ہمارا ہی لشکر یعنی انبیاء کرام اور اہل ایمان غالب رہیں گے۔ آپ بدر تک جو ان کفار مکہ کی ہلاکت کا موقع ہے اعراض کیجیے اور عذاب الہی کو دیکھتے رہیے سو بہت جلد ان کو بھی معلوم ہوجائے گا کہ ان کے ساتھ کیا برتاؤ کیا جاتا ہے۔
Ayahs 37:176–179

اَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 37:176 in the Quran reader

کیا یہ ہمارے عذاب کے لئے جلدی کر رہے ہیں ؟

فَاِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِهِمْ فَسَآءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِیْنَ Open ayah 37:177 in the Quran reader

مگر جب وہ ان کے میدان میں آ اترے گا تو جن کو ڈر سنا دیا گیا تھا ان کے لئے برا دن ہوگا

وَ تَوَلَّ عَنْهُمْ حَتّٰى حِیْنٍۙ Open ayah 37:178 in the Quran reader

اور ایک وقت تک ان سے منہ پھیرے رہو

وَّ اَبْصِرْ فَسَوْفَ یُبْصِرُوْنَ Open ayah 37:179 in the Quran reader

اور دیکھتے رہو یہ بھی عنقریب (نتیجہ) دیکھ لیں گے

(176۔ 179) کیا یہ ہمارے عذاب کا وقت آنے سے پہلے ہی اس کا تقاضا کر رہے ہیں سو وہ عذاب جب ان کے قریب ہی آپہنچے گا تو وہ دن ان لوگوں کا جن کو انبیاء کرام نے ڈرایا تھا اور پھر وہ ایمان نہیں لائے تھے بہت ہی برا ہوگا۔ آپ ان کی ہلاکت کے وقت تک صبر کیجیے اور ذرا ان کو دیکھتے رہیے بہت جلد یہ خود بھی دیکھ لیں گے۔ شان نزول : اَفَبِعَذَابِنَا يَسْتَعْــجِلُوْنَ (الخ) اور ابن منذر نے ابن جریح سے اسی طرح روایت نقل کی ہے اور جبیر نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ کفار بولے محمد جس عذاب سے آپ ہمیں ڈراتے ہیں وہ ہمیں دکھائیں اور اس کو جلدی لے آئیں اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔ یہ روایت شرط شیخین پر صحیح ہے۔
Ayahs 37:180–181

سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا یَصِفُوْنَۚ Open ayah 37:180 in the Quran reader

یہ جو کچھ بیان کرتے ہیں تمہارا پروردگار جو صاحب عزت ہے اس سے (پاک ہے)

وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَۚ Open ayah 37:181 in the Quran reader

اور پیغمبروں پر سلام

(180۔ 181) آپ کا رب جو بڑی عظمت وقدرت والا ہے وہ ان شرکیہ باتوں سے پاک ہے جو یہ کہہ رہے ہیں اور ہماری طرف سے انبیاء کرام پر سلم ہو کہ انہوں نے تبلیغ رسالت کی۔
Ayah 37:182

وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 37:182 in the Quran reader

اور سب طرح کی تعریف خدائے رب العالمین کو (سزا وار) ہے

اور تمام تعریفیں اور وحدانیت اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہیں جس نے انبیاء کرام کو نجات دی اور ان کی نافرمان قوموں کو ہلاک کیا اور جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔