35. Surah Faatir

فاطرThe Originator · 45 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 35:41

اِنَّ اللّٰهَ یُمْسِكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ اَنْ تَزُوْلَا١ۚ۬ وَ لَئِنْ زَالَتَاۤ اِنْ اَمْسَكَهُمَا مِنْ اَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا Open ayah 35:41 in the Quran reader

خدا ہی آسمانوں اور زمین کو تھامے رکھتا ہے کہ ٹل نہ جائیں اگر وہ ٹل جائیں تو خدا کے سوا کوئی ایسا نہیں جو ان کو تھام سکے بیشک وہ بردبار (اور) بخشنے والا ہے

اللہ تعالیٰ ہی آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے کہ کہیں وہ یہود و نصاری کی باتیں سن کر کہ عزیر ؑ اللہ تعالیٰ کے بیٹے اور مسیح ؑ اللہ کے بیٹے ہیں وہ اپنی اس موجودہ حالت کو چھوڑ نہ دیں ار اگر بالفرض وہ اپنی حالت موجودہ کو چھوڑ بھی دیں تو پھر اللہ کے سوا اور کوئی ان کو تھام بھی نہیں سکتا وہ یہود و نصاری کی باتوں پر تحمل والا ہے جو ان میں سے توبہ کرے تو اس کے حق میں غفور ہے۔
Ayah 35:42

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ جَآءَهُمْ نَذِیْرٌ لَّیَكُوْنُنَّ اَهْدٰى مِنْ اِحْدَى الْاُمَمِ١ۚ فَلَمَّا جَآءَهُمْ نَذِیْرٌ مَّا زَادَهُمْ اِلَّا نُفُوْرَاۙ Open ayah 35:42 in the Quran reader

اور یہ خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر ان کے پاس کوئی ہدایت کرنے والا آئے تو یہ ہر ایک امت سے بڑھ کر ہدایت پر ہوں مگر جب ان کے پاس ہدایت کرنے والا آیا تو اس سے ان کو نفرت ہی بڑھی

اور ان کفار مکہ نے رسول اکرم کی بعثت سے پہلے بڑی زور دار قسم کھائی تھی کہ اگر ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا پیغمبر آیا تو ہم یہود و نصاری سے زائد ہدایت قبول کرنے والے اور دین کی طرف سبقت کرنے والے ہوں گے۔ چناچہ جب ان کے پاس رسول اکرم قرآن حکیم لے کر آئے تو یہ رسول اکرم اور قرآن حکیم پر ایمان لانے سے منہ پھیر کر دور ہی بھاگتے رہے۔ شان نزول : وَاَقْسَمُوْا باللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ (الخ) اور ابن ابی حاتم نے ابن ابی ہلال سے روایت کیا ہے کہ قریش کہا کرتے تھے کہ اگر اللہ تعالیٰ ہم میں نبی بھیج دے تو کوئی قوم ہم سے زیادہ اپنے خالق کی پیروی کرنے والی اور ہم سے زیادہ اپنے نبی کی بات پر لبیک کہنے والی اور ہم سے زائد اس کی کتاب پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہونے والی نہ ہوگی۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان ہی باتوں کے بیان میں یہ آیات نازل فرمائی ہیں کہ : وان کانوا لیقولون لو ان عندنا ذکرا من الاولین اور ولو انا انزل علینا الکتاب لکنا اھدی منھم اور وَاَقْسَمُوْا باللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ لَىِٕنْ جَاۗءَهُمْ نَذِيْرٌ (الخ) اور یہود و نصاری پر اس چیز کے ذریعے سے غلبہ حاصل کرتے تھے کہ ہم ایک نبی کی پیشین گوئی پاتے ہیں جو ضرور مبعوث ہوگا۔
Ayah 35:43

اِ۟سْتِكْبَارًا فِی الْاَرْضِ وَ مَكْرَ السَّیِّئِ١ؕ وَ لَا یَحِیْقُ الْمَكْرُ السَّیِّئُ اِلَّا بِاَهْلِهٖ١ؕ فَهَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا سُنَّتَ الْاَوَّلِیْنَ١ۚ فَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا١ۚ۬ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰهِ تَحْوِیْلًا Open ayah 35:43 in the Quran reader

یعنی (انہوں نے) ملک میں غرور کرنا اور بری چال چلنا (اختیار) کیا اور بری چال کا وبال اس کے چلنے والے ہی پر پڑتا ہے یہ اگلے لوگوں کی روش کے سوا کسی چیز کے منتظر نہیں سو تم خدا کی عادت میں ہرگز تبدل نہ پاؤ گے اور خدا کے طریقے میں کبھی تغیر نہ دیکھو گے

بلکہ رسول اکرم کو نقصان پہنچانے کے لیے ان کی بری تدبیروں کو ترقی ہوتی رہی کیونکہ میری تدبیروں اور برے کاموں کا اصلی وبال ان تدبیروں والوں ہی پر پڑتا ہے سو اگر آپ کی قوم آپ کو جھٹلائے تو یہ اسی عذاب کے منتظر ہیں جو رسولوں کی تکذیب کرنے پر اگلے لوگوں پر نازل ہوتا رہا اور آپ عذاب الہی کو کبھی بدلتا ہوا نہ پائیں گے اور اسی طرح آپ عذاب الہی کو کبھی دوسروں کی طرف منتقل ہوتا ہوا نہ پائیں گے۔
Ayah 35:44

اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعْجِزَهٗ مِنْ شَیْءٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَلِیْمًا قَدِیْرًا Open ayah 35:44 in the Quran reader

کیا انہوں نے زمین میں سیر نہیں کی ؟ تاکہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیا ہوا حالانکہ وہ ان سے قوت میں بہت زیادہ تھے اور خدا ایسا نہیں کہ آسمانوں اور زمین میں کوئی چیز اس کو عاجز کرسکے وہ علم والا (اور) قدرت والا ہے

کیا ان کفار مکہ نے سفر نہیں کیا کہ یہ دیکھتے بھالتے کہ جو منکر ان سے پہلے ہوئے ہیں ان کا رسولوں کو جھٹلانے پر کیا انجام ہوا حالانکہ وہ جسمانی اور مالی قوت میں ان سے زیادہ تھے اور اللہ ایسا نہیں ہے کہ مخلوق میں سے کوئی اس کو ہرا دے اور وہ تمام مخلوق سے واقف اور ان پر قدرت والا ہے۔
Ayah 35:45

وَ لَوْ یُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوْا مَا تَرَكَ عَلٰى ظَهْرِهَا مِنْ دَآبَّةٍ وَّ لٰكِنْ یُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِعِبَادِهٖ بَصِیْرًا۠ Open ayah 35:45 in the Quran reader

اور اگر خدا لوگوں کو ان کے اعمال کے سبب پکڑنے لگتا تو روئے زمین پر ایک چلنے پھرنے والے کو نہ چھوڑتا لیکن وہ انکو ایک وقت مقررہ تک مہلت دیے جاتا ہے سو جب ان کا وقت آجائے گا تو (ان کے اعمال کا بدلہ دے گا) خدا تو اپنے بندوں کو دیکھ رہا ہے

اور اگر اللہ تعالیٰ جن و انس پر ان کے اعمال کے سبب فورا پکڑ فرمانے لگتا تو روئے زمین پر جن و انس میں سے خاص طور پر ایک متنفس کو بھی نہ چھوڑتا لیکن وہ ان کو وقت مقررہ تک مہلت دے رہا ہے۔ سو جب ان کی ہلاکت کا وقت آئے گا تو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آپ دیکھ لے گا کہ کس کو ہلاک کرے اور کسے بچائے۔