33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayahs 33:41–42

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّٰهَ ذِكْرًا كَثِیْرًاۙ Open ayah 33:41 in the Quran reader

اے اہل ایمان خدا کا بہت ذکر کیا کرو

وَّ سَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 33:42 in the Quran reader

اور صبح و شام اس کی پاکی بیان کرتے رہو

(41۔ 42) اے ایمان والو تم اللہ تعالیٰ جو دل اور زبان سے طاعت و معصیت کے وقت خوب یاد کرو اور صبح و شام نمازیں پڑھو۔
Ayah 33:43

هُوَ الَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْكُمْ وَ مَلٰٓئِكَتُهٗ لِیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ كَانَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًا Open ayah 33:43 in the Quran reader

وہی تو ہے جو تم پر رحمت بھیجتا ہے اور اسکے فرشتے بھی تاکہ تم کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جائے اور خدا مومنوں پر مہربان ہے

وہ ایسا ہے کہ تمہاری مغفرت فرما رہتا ہے اور اس کے فرشتے تمہارے لیے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں اور وہ تمہیں کفر سے ایمان کی روشنی کی طرف لے آیا ہے اور وہ مومنین پر بہت مہربان ہے۔ شان نزول : هُوَ الَّذِيْ يُصَلِّيْ عَلَيْكُمْ (الخ) عبد بن حمید نے مجاہد سے روایت کیا ہے کہ جس وقت ان اللہ و ملائکتہ یصلون علی النبی (الخ) یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت ابوبکر صدیق نے عرض کیا یا رسول اللہ، اللہ تعالیٰ نے جو بھی آپ پر خیر اور اچھائی کی بات نازل کی ہے اس میں ہمیں شریک کیا ہے (اور اس قیام پر شریک نہیں کیا) تب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔
Ayah 33:44

تَحِیَّتُهُمْ یَوْمَ یَلْقَوْنَهٗ سَلٰمٌ١ۚۖ وَ اَعَدَّ لَهُمْ اَجْرًا كَرِیْمًا Open ayah 33:44 in the Quran reader

جس روز وہ اس سے ملیں گے انکا تحفہ (خدا کی طرف سے) سلام ہوگا اور اس نے ان کے لئے بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے

اور مومنین جس روز اللہ تعالیٰ سے ملیں گے تو ان کو جو اسلام ہوگا وہ یہ ہوگا السلام علیکم اور فرشتے ان کو جنت کے دروازوں پر سلام کریں گے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے جنت میں عمدہ صلہ تیار کر رکھا ہے۔
Ayahs 33:45–46

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ Open ayah 33:45 in the Quran reader

اے پیغمبر ہم نے تم کو گواہی دینے والا اور خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے

وَّ دَاعِیًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیْرًا Open ayah 33:46 in the Quran reader

اور خدا کی طرف بلانے والا اور چراغ روشن

(45۔ 46) اے نبی اکرم ہم نے آپ کو اس شان کے ساتھ بھیجا ہے کہ آپ اپنی امت پر تبلیغ رسالت کے گواہ ہوں گے اور آپ مومنین کو جنت کی خوشخبری دینے والے ہیں اور کافروں کو دوزخ سے ڈرانے والے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی اطاعت کی طرف اس کے حکم سے بلانے والے ہیں اور آپ ایک روشن چراغ کے مانند ہیں کہ آپ کی ہر حالت پیروی کے قابل ہے۔
Ayah 33:47

وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ بِاَنَّ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَضْلًا كَبِیْرًا Open ayah 33:47 in the Quran reader

اور مومنوں کو خوشخبری سنا دو کہ ان کے لئے خدا کی طرف سے بڑا فضل ہے

جس وقت سورة فتح کی شروع کی یہ آیات نازل ہوئیں کہ ہم نے آپ کو واضح فتح دی تاکہ اللہ تعالیٰ آپ کے اگلے اور پچھلے گناہ معاف کردے اس پر صحابہ کرام کہنے لگے یا رسول اللہ آپ کے لیے یہ مقام مبارک ہو باقی اللہ تعالیٰ کے یہاں ہمارے لیے کیا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے حسب ذیل آیتیں نازل کیں کہ اے نبی کریم آپ مومنین کو بشارت دے دیجیے کہ ان کے لیے جنت میں اجر عظیم ہے۔ شان نزول : وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِيْنَ بِاَنَّ لَهُمْ (الخ) ابن جریر نے عکرمہ اور حسن بصری سے روایت کیا ہے کہ جس وقت حضور کے بارے میں یہ آیت مبارکہ لیغفر اللہ لک ما تقدم من ذنبک وما تاخر۔ نازل ہوئی اس پر مسلمانوں میں سے کچھ حضرات نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ کے لیے خوشی کا مقام ہے ہمیں معلوم ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو کیا فضیلت و مرتبہ عطا فرمائے گا۔ باقی ہمارے ساتھ کیا کیا جائے گا اس پر اللہ تعالیٰ نے لیدخل المومنین والمومنات جنات (الخ) یہ آیت سورة احزاب میں نازل فرمائی۔ اور امام بیہقی نے دلائل نبوت میں ربیع بن انس سے کہ جس وقت یہ آیت وما ادری ما یفعل بی ولا بکم نازل ہوئی تو اس کے بعد ہی یہ آیت نازل ہوئی لیغفر اللہ لک ما تقدم من ذنبک وما تاخر اس پر صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ہمیں معلوم ہوگیا کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جائے گا باقی ہمارے ساتھ کیا ہوگا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ مومنین کو بشارت دے دیجیے کہ ان پر اللہ کی طرف سے بڑا فضل ہونے والا ہے فضل کبیر سے مراد جنت ہے۔
Ayah 33:48

وَ لَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ دَعْ اَذٰىهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 33:48 in the Quran reader

اور کافروں اور منافقوں کا کہا نہ ماننا اور نہ ان کے تکلیف دینے پر نظر کرنا اور خدا پر بھروسہ رکھنا اور خدا ہی کارساز کافی ہے

اب اللہ تعالیٰ پھر سورت کے ابتدائی مضمون کو دہراتا ہے کہ مکہ کے کافروں اور مدینہ منورہ کے منافقین کا کہنا نہ مانیے اور ان کو قتل نہ کیجیے اور اللہ پر بھروسا رکھیے۔ اس نے جو آپ کی مدد فرمانے یا یہ کہ حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے وہ اس میں کافی کارساز ہے۔
Ayah 33:49

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَیْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّوْنَهَا١ۚ فَمَتِّعُوْهُنَّ وَ سَرِّحُوْهُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا Open ayah 33:49 in the Quran reader

مومنو ! جب تم مومن عورتوں سے نکاح کر کے ان کو ہاتھ لگانے (یعنی ان کے پاس جانے) سے پہلے طلاق دے دو تو تم کو کچھ اختیار نہیں کہ ان سے عدت پوری کراؤ ان کو کچھ فائدہ (یعنی خرچ) دے کر اچھی طرح سے رخصت کردو

اے ایمان والو جب تم مسلمان عورتوں سے شادی کرو اور ان کا کوئی مہر مقرر کرو اور پھر صحبت سے پہلے ان کو طلاق دے دو تو ان پر حیض یا مہینوں کے ذریعے سے کوئی عدت واجب نہیں۔ اور ان کو متعہ طلاق یعنی تین کپڑے اوڑھنی قمیص اور چادر دے دو اور بغیر کسی اذیت دینے کے سنت کے مطابق ان کو طلاق دے کر رخصت کردو۔
Ayah 33:50

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَحْلَلْنَا لَكَ اَزْوَاجَكَ الّٰتِیْۤ اٰتَیْتَ اُجُوْرَهُنَّ وَ مَا مَلَكَتْ یَمِیْنُكَ مِمَّاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلَیْكَ وَ بَنٰتِ عَمِّكَ وَ بَنٰتِ عَمّٰتِكَ وَ بَنٰتِ خَالِكَ وَ بَنٰتِ خٰلٰتِكَ الّٰتِیْ هَاجَرْنَ مَعَكَ١٘ وَ امْرَاَةً مُّؤْمِنَةً اِنْ وَّهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِیِّ اِنْ اَرَادَ النَّبِیُّ اَنْ یَّسْتَنْكِحَهَا١ۗ خَالِصَةً لَّكَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَیْهِمْ فِیْۤ اَزْوَاجِهِمْ وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ لِكَیْلَا یَكُوْنَ عَلَیْكَ حَرَجٌ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:50 in the Quran reader

اے پیغمبر ﷺ ہم نے تمہارے لئے تمہاری بیویاں جن کو تم نے انکے مہر دے دیئے ہیں حلال کردی ہیں اور تمہاری لونڈیاں جو خدا نے تم کو (کفار سے) بطور مال غنیمت دلوائی ہیں اور تمہارے چچا کی بیٹیاں اور تمہاری پھوپھیوں کی بیٹیاں اور تمہارے ماموؤں کی بیٹیاں اور تمہارے خالاؤں کی بیٹیاں جو تمہارے ساتھ وطن چھوڑ کر آئی ہیں (سب حلال ہیں) اور کوئی مومن عورت اپنے تئیں پیغمبر کو بخش دے (یعنی مہر لینے کے بغیر نکاح میں آنا چاہے) بشرطیکہ پیغمبر بھی ان سے نکاح کرنا چاہیں (وہ بھی حلال ہیں لیکن) یہ اجازت (اے محمد ﷺ خاص تم کو ہی ہے سب مسلمانوں کو نہیں ہم نے ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں جو (مہر واجب الادا) مقرر کردیا ہے ہم کو معلوم ہے (یہ) اس لئے (کیا گیا ہے) کہ تم پر کسی طرح کی تنگی نہ رہے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

اے نبی اکرم ہم نے آپ نے کے لیے آپ کی یہ ازواج مطہرات جن کو آپ ان کا مہر دے چکے ہیں حلال کردی ہیں اور وہ عورتیں بھی حلال کی ہیں جو تمہاری ملکیت ہیں جو کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو غنیمت میں دلوا دی ہیں جیسا کہ حضڑت ماریہ قبطیہ اور آپ کی چچا کی بیٹیوں سے بھی آپ کے لیے شادی کرنا حلال ہے باوجود تعداد میں زیادہ ہونے کے کیونکہ یہ آپ کی خصوصیت ہے اور اسی طرح پھوپھی زاد بہنیں یعنی بنی عبدالمطلب اور آپ کی ماموں زاد اور خالہ زاد بہنیں یعنی بنی عبد مناف بن زہرہ جنہوں نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کی ہو۔ اور مسلمان عورت کو بھی خاص آپ کے لیے حلال کیا ہے جو بغیر مہر کے خود کو پیغمبر خدا کے حوالے کر بشرطیکہ پیغمبر بغیر مہر کے اس کو نکاح میں لانا چاہیں۔ یہ احکام آپ کے لیے مخصوص کیے گئے ہیں نہ کہ اور مومنوں کے لیے ہمیں وہ احکام معلوم ہیں جو ہم نے عام مومنوں پر ان کی بیویوں کے بارے میں مقرر کیے ہیں کہ چار عورتوں تک نکاح اور مہر کے ساتھ رکھ سکتے ہیں اور باندیوں کو بغیر کسی تعداد کے رکھ سکتے ہیں اور یہ اختصاص آپ کی ذات کے ساتھ اس لیے کیا تاکہ جن عورتوں کو اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے حلال کردیا ہے آپ کو ان سے شادی کرنے میں کوئی تنگی نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے کہ ان باتوں کی اجازت فرمائی۔ شان نزول : يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اِنَّآ اَحْلَلْنَا لَكَ (الخ) امام ترمذی نے تحسین اور امام حاکم نے صحت کے ساتھ سدی عن ابی صالح کے طریق سے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے وہ حضرت ام ہانی سے روایت کرتے ہیں فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اکرم نے نکاح کا پیغام دیا تو میں نے معذرت کی اللہ تعالیٰ نے میری معذرت قبول کرلی اور یہ آیت نازل فرمائی۔ يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اِنَّآ اَحْلَلْنَا لَكَ (الخ) اور اس میں یہ قید لگائی کہ جن عورتوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی ہو اور میں نے ہجرت نہیں کی تھی اس لیے میں آپ کے لیے حلال ہی نہ تھی۔ اور ابن ابی حاتم نے اسماعیل بن ابی خالد عن صالح کے طریق سے حضرت ام ہانی سے روایت کیا فرماتی ہیں کہ یہ آیت مبارکہ وَبَنٰتِ عَمِّكَ وَبَنٰتِ عَمّٰتِكَ (الخ) میرے بارے میں نازل ہوئی ہے کیونکہ نبی اکرم ﷺ مجھ سے شادی کرنا چاہتے تھے تو آپ کو اس سے روک دیا گیا اس لیے کہ میں نے ابھی تک ہجرت نہیں کی تھی۔ شان نزول : وَامْرَاَةً مُّؤْمِنَةً (الخ) ابن سعد نے عکرمہ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت ام شریک دوسیہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اور ابن سعد نے منیر بن عبداللہ سے روایت کیا ہے کہ ام شریک دوسیہ نے اپنے آپ کو رسول اکرم کے سامنے پیش کیا اور یہ خوبصورت تھیں آپ نے قبول کرلیا اس پر حضرت عائشہ بولیں ایسی عورت کے لیے کوئی بھلائی نہیں جو خود اپنے آپ کو کسی کے سامنے پیش کرے۔ حضرت ام شریک فرماتی ہیں کہ میں وہی عورت ہوں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو مومنہ کا لقب دیا۔ چناچہ ارشاد فرمایا یعنی اس مومن عورت کو بھی جو بلا عوض اپنے آپ کو پیغمبر کو دے دے چناچہ جب یہ آیت نازل ہوئی حضرت نے عائشہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آپ کی مرضی کے پورا کرنے میں سبقت کرتے ہیں۔
Ayah 33:51

تُرْجِیْ مَنْ تَشَآءُ مِنْهُنَّ وَ تُئْوِیْۤ اِلَیْكَ مَنْ تَشَآءُ١ؕ وَ مَنِ ابْتَغَیْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكَ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ تَقَرَّ اَعْیُنُهُنَّ وَ لَا یَحْزَنَّ وَ یَرْضَیْنَ بِمَاۤ اٰتَیْتَهُنَّ كُلُّهُنَّ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَلِیْمًا Open ayah 33:51 in the Quran reader

(اور تم کو بھی یہ اختیار ہے کہ) جس بیوی کو چاہو علیحدہ رکھو اور جسے چاہو اپنے پاس رکھو اور جس کو تم نے علیحدہ کردیا ہو اگر اس کو پھر اپنے پاس طلب کرلو تو تم پر کچھ گناہ نہیں یہ (اجازت) اس لئے ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ غمناک نہ ہوں اور جو کچھ تم ان کو دو اسے لے کر سب خوش رہیں اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے خدا اسے جانتا ہے اور خدا جاننے والا اور بردبار ہے

ان مذکورہ بالا رشتہ داروں میں سے آپ جس کو چاہیں خود سے دور رکھیں اور اس سے شادی نہ کریں اور جس کو چاہیں اپنے نزدیک رکھیں اور اس سے شادی کرلیں۔ اور جن کو دور رکھا تھا پھر ان کو طلب کریں اور ان سے شادی کریں تب بھی آپ پر کوئی گناہ نہیں یا یہ حکم ازواج مطہرات کی باری مقرر کرنے کے بارے میں ہے کہ آپ پر ان کی باری کی کوئی رعایت واجب نہیں چاہے جس کو باری دیں اور چاہے جس کو باری نہ دیں اور جن کو باری وغیرہ نہیں دی تھی پھر ان کو طلب کریں تو اس میں بھی آپ پر کچھ گناہ نہیں۔ رخصت و اجازت میں زیادہ توقع ہے کہ ان ازواج مطہرات کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں گی۔ جبکہ اس اجازت کا اللہ کی طرف سے ہونا ان کو معلوم ہوجائے گا اور وہ طلاق کے ڈر سے غمگین نہ ہوں گی اور جو کچھ آپ باری میں ان کا حصہ مقرر کردیں گے اس پر سب راضی رہیں گی۔ اور اللہ تعالیٰ کو تمہاری خوشی اور ناراضگی سب معلوم ہے۔ اور وہ تمہاری مصلحتوں اور ان کی مصلحتوں سے واقف ہے اور بردبار بھی ہے کہ معاف کردیتا ہے۔ شان نزول : تُرْجِيْ مَنْ تَشَاۗءُ (الخ) امام بخاری و مسلم نے حضرت عائشہ سے روایت کیا ہے وہ فرمایا کرتی تھیں کہ عورت خود کو بلا عوض پیش کرنے سے نہیں شرماتی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یعنی ان میں سے جس کو آپ چاہیں اپنے سے دور رکھیں، اس پر حضرت عائشہ کہنے لگیں کہ میں آپ کے پروردگار کو دیکھتی ہوں وہ آپ کی خواہش پوری کرنے میں سبقت کرتا ہے۔ اور ابن سعد نے ابو زرین سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم نے اپنی ازواج مطہرات کو طلاق دینے کا ارادہ فرمایا جب ازواج مطہرات نے یہ چیز محسوس کی تو ہر ایک نے آپ کو اپنی ذات کے بارے میں اختیار دے دیا۔ آپ جس کو چاہیں جس پر ترجیں دیں تب انا احللنا لک ازواج سے ترجی من تشاء منھن تک یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 33:52

لَا یَحِلُّ لَكَ النِّسَآءُ مِنْۢ بَعْدُ وَ لَاۤ اَنْ تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ اَزْوَاجٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ اِلَّا مَا مَلَكَتْ یَمِیْنُكَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ رَّقِیْبًا۠ Open ayah 33:52 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ ان کے سوا اور عورتیں تم کو جائز نہیں اور نہ یہ کہ ان بیویوں کو چھوڑ کر اور بیویاں کرو خواہ ان کا حسن تم کو (کیسا ہی) اچھا لگے مگر وہ جو تمہارے ہاتھ کا مال ہے (یعنی لونڈیوں کے بارے میں تم کو اختیار ہے) اور خدا ہر چیز پر نگاہ رکھتا ہے

ان کے علاوہ اور عورتیں جن میں یہ قید نہ ہو آپ کے لیے حلال نہیں یا یہ کہ جو نو ازواج مطہرات اس وقت آپ کے نکاح میں موجود ہیں ان کے علاوہ اور عورتیں آپ کے لیے حلال نہیں اور اس وقت یہ ازواج مطہرات آپ کے نکاح میں موجود تھیں، حضرت عائشہ بنت ابوبکر صدیق، حضرت حفصہ بن عمر بن الخطاب، حضرت زینبت بنت جحش، حضرت ام سلمہ بنت ابی مایہ مخزومی، حضرت ام حبیبہ بنت ابی سفیان، حضرت صفیہ بنت حی ابن اخطب، حضرت میمونہ بنت حارث، حضرت سودہ بنت زمعہ، حضرت جویریہ بنت الحارث المصطلیقہ اور نہ یہ درست ہے کہ آپ ان موجودہ بیویوں کی جگہ دوسری بیویاں کرلیں کہ ان میں سے کسی کو طلاق دے دیں اور اس کی جگہ مذکورہ رشتہ داروں میں سے اور کسی کے ساتھ شادی کرلیں اگرچہ آپ کو ان دوسریوں کا حسن اچھا معلوم ہو البتہ جو آپ کی ملکیت ہو جیسے حضرت ماریہ قبطیہ اور اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کا پورا نگران ہے۔ شان نزول : لَا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاۗءُ مِنْۢ بَعْدُ (الخ) ابن سعد نے عکرمہ سے روایت کیا ہے کہ جب رسول اکرم نے ازواج مطہرات کو اختیار دیا تو سب نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کو پسند کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ ان کے علاوہ اور عورتیں آپ کے لیے حلال نہیں۔
Ayah 33:53

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْذَنَ لَكُمْ اِلٰى طَعَامٍ غَیْرَ نٰظِرِیْنَ اِنٰىهُ١ۙ وَ لٰكِنْ اِذَا دُعِیْتُمْ فَادْخُلُوْا فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَ لَا مُسْتَاْنِسِیْنَ لِحَدِیْثٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیٖ مِنْكُمْ١٘ وَ اللّٰهُ لَا یَسْتَحْیٖ مِنَ الْحَقِّ١ؕ وَ اِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْئَلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ١ؕ ذٰلِكُمْ اَطْهَرُ لِقُلُوْبِكُمْ وَ قُلُوْبِهِنَّ١ؕ وَ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَنْ تَنْكِحُوْۤا اَزْوَاجَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖۤ اَبَدًا١ؕ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمًا Open ayah 33:53 in the Quran reader

مومنو ! پیغمبر کے گھروں میں نہ جایا کرو مگر اس صورت میں کہ تم کو کھانے کے لئے اجازت دی جائے اور اس کے پکنے کا انتظار بھی نہ کرنا پڑے لیکن جب تمہاری دعوت کی جائے تو جاؤ اور جب کھانا کھا چکو تو چل دو اور باتوں میں جی لگا کر نہ بیٹھ رہو یہ بات پیغمبر کو ایذا دیتی ہے اور وہ تم سے شرم کرتے تھے (اور کہتے نہیں تھے) لیکن خدا سچی بات کے کہنے سے شرم نہیں کرتا اور جب پیغمبر کی بیویوں سے کوئی سامان مانگو تو پردے کے باہر سے مانگو یہ تمہارے اور انکے (دونوں کے دلوں کے لئے بہت پاکیزگی کی بات ہے) اور تم کو یہ شایان نہیں کہ پیغمبر خدا کو تکلیف دو اور نہ یہ کہ انکی بیویوں سے کبھی ان کے بعد نکاح کرو بیشک یہ خدا کے نزدیک بڑا گناہ (کا کام) ہے

کچھ حضرات صبح و شام رسول اکرم کے گھروں میں جایا کرتے تھے اور کھانے کے انتظار میں بیٹھ کر ازواج مطہرات کے ساتھ گفتگو کرتے رہتے اس سے رسول اکرم کو رنجش ہوئی مگر آپ شرمائے کہ انہیں باہر جانے کا حکم دیں یا بغیر اجازت اندر آنے سے منع کردیں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سے منع فرما دیا۔ کہ اے ایمان والو نبی کے گھروں میں بغیر اجازت مت جایا کرو اور یہ کہ جس وقت تمہیں کھانے کے لیے بلایا جائے مگر پھر بھی ایسے وقت جاؤ کہ اس کھانے کے پکنے کے منتظر نہ ہو اور جب بلایا جائے تو چلے جایا کرو اور جس وقت کھالو تو فورا اٹھ کر چلے آیا کرو اور باتوں میں جی لگا کر مت بیٹھے رہا کرو۔ یہ بغیر اجازت جانا بیٹھے رہنا اور پھر ازواج مطہرات کے ساتھ باتیں کرنا ان چیزوں سے نبی اکرم کو ناگواری ہوتی ہے سو وہ تمہارا لحاظ کرتے ہیں اور زبان سے اٹھ کر چلے جانے کو نہیں فرماتے اور اللہ تعالیٰ تمہیں اٹھ کر چلے آنے اور بلا اجازت جانے کی ممانعت کرنے میں کوئی لحاظ نہیں کرتے۔ اور جب تمہیں ازواج مطہرات سے کوئی ضروری مسئلہ پوچھنا ہو تو پردہ کے باہر سے کھڑے ہو کر پوچھو۔ یہ چیز آئندہ بھی سب کے دلوں کے پاک رہنے کا عمدہ ذریعہ ہے۔ اور تمہارے لیے یہ جائز نہیں کہ اس قسم کے طرز عمل سے رسول اکرم کو تکلیف پہنچاؤ اور نہ یہ جائز ہے کہ آپ کے بعد آپ کی ازواج مطہرات سے کبھی نکاح کرو۔ یہ اللہ کے نزدیک بڑی سخت نافرمانی کی بات ہے جس پر زبردست گناہ ہے۔ یہ آیت طلحہ بن عبید اللہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے (نزول حرمت سے قبل) انہوں نے حضور کے بعد حضرت عائشہ سے شادی کرنے کا ارادہ فرمایا تھا اللہ تعالیٰ نے اس کی حرمت نازل فرمائی۔ شان نزول : يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا (الخ) بخاری و مسلم نے حضرت انس سے روایت کیا ہے کہ جب رسول اکرم نے حضرت زینب بنت جحش سے شادی کی تو لوگوں کو کھانے کے لیے بلایا۔ چناچہ سب کھانے سے فارغ ہو کر بیٹھ کر باتیں کرنے لگے آپ اٹھنے کے لیے کچھ بےقرار ہوئے مگر پھر بھی وہ لوگ نہیں اٹھے مجبورا حضور خود کھڑے ہوگئے جب آپ اٹھ کھڑے ہوئے تو اور لوگ بھی اٹھ گئے مگر پھر بھی تین آدمی بیٹھے رہے۔ پھر کچھ دیر بعد وہ بھی چلے گئے۔ چناچہ میں نے آکر آپ کو اطلاع دی کہ سب چلے گئے۔ چناچہ آپ آئے اور اندر تشریف لے گئے میں بھی اندر جانے لگا تو آپ نے میرے اور اپنے درمیان پردہ ڈال دیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی۔ اور امام ترمذی نے تحسین کے ساتھ حضڑت انس سے روایت کی ہے فرماتے ہیں کہ میں رسول اکرم کے ساتھ تھا آپ اپنی ان زوجہ مطہرہ کے دروازے پر آئے جن سے شادی کی تھی وہاں آپ نے لوگوں کو بیٹھے ہوئے پایا آپ واپس تشریف لے گئے کچھ دیر بعد آپ لوٹ کر تشریف لائے تو وہ لوگ جا چکے تھے آپ نے میرے اور اپنے درمیان پردہ ڈال دیا میں نے اس چیز کا ابو طلحہ سے ذکر کیا تو کہنے لگے ممکن ہے کچھ ایسا ہی ہوجائے جیسا تم کہتے تھے کہ ان عورتوں کے بارے میں کچھ حکم نازل ہوجائے چناچہ پردہ کا حکم نازل ہوگیا۔ اور امام طبرانی نے سند صحیح کے ساتھ حضرت عائشہ سے روایت کیا ہے فرماتی ہیں کہ میں رسول اکرم کے ساتھ ایک برتن میں کھایا کرتی تھی ایک مرتبہ حضرت عمر کا گزر ہوا آپ نے ان کو بلا لیا انہوں نے کھانا شروع کیا، کھانے کے دوران ان کی انگلی میری انگلی سے لگ گئی تو وہ کہنے لگے افسوس کاش تمہارے بارے میں میری بات پر عمل ہوتا تو کوئی آنکھ تمہیں نہ دیکھتی چناچہ فورا پردہ کا حکم نازل ہوگیا۔ اور ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ ایک شخص رسول اکرم کے پاس آیا اور دیر تک بیٹھا رہا۔ رسول اکرم تین مرتبہ اٹھ کر چلے تاکہ وہ بھی چل دے مگر اس نے ایسا نہ کیا اتنے میں حضرت عمر تشریف لائے اور رسول اکرم کے چہرہ انور پر ناگواری کے اثرات دیکھ کر اس شخص سے بولے کہ شاید تجھ کو رسول اکرم نے آنے کی اجازت دے دی ہے اس پر حضور بولے کہ میں تین مرتبہ اسی غرض سے کھڑا ہوا کہ ممکن ہے یہ بھی چل پڑے مگر اس نے پھر بھی ایسا نہیں کیا اس پر حضرت عمر نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ پردہ لٹکا دیجیے کیونکہ آپ کی ازواج مطہرات دیگر تمام عورتوں کی طرح نہیں کیونکہ وہ زیادہ پاکیزہ دلوں والیاں ہیں۔ چناچہ پردہ کا حکم نازل ہوگیا۔ حافظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں کہ دونوں واقعوں میں اس طرح مطابقت ممکن ہے کہ یہ واقعہ حضرت زینب کے شادی کے واقعہ سے پہلے واقع ہوا ہے اور قریب ہونے کی وجہ سے اس پر پردہ کے حکم کے نازل کا اطلاق کردیا گیا۔ اور پھر شان نزول کے متعدد ہونے میں بھی کوئی امر مانع نہیں اور ابن سعد نے محمد بن کعب سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اکرم جب حجرہ مبارک میں جانے کے ارادہ سے کھڑے ہوتے تو سب آپ کے ساتھ ہو لیتے اور وہاں جاکر بیٹھ جاتے اور رسول اکرم کے چہرہ مبارک سے ناگواری کے اثرات نہ پہچان سکتے اور آپ حاضرین سے شرما کر کھانا تک تناول نہ فرماتے۔ چناچہ اس چیز کے بارے میں اللہ کی جانب سے ان پر غصہ کیا گیا کہ اے ایمان والو نبی کے گھروں میں مت جایا کرو۔ شان نزول : وَمَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُــؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰهِ (الخ) ابن ابی حاتم نے ابن زید سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم کو یہ بات پہنچی کہ فلاں شخص کہہ رہا ہے کہ رسول اکرم کے وصال کے بعد میں آپ کی فلاں بیوی سے شادی کرلوں گا اس پر یہ حکم نازل ہوا کہ تمہیں جائز نہیں کہ رسول اکرم کو تکلیف پہنچاؤ۔ نیز ابن عباس سے روایت کیا گیا ہے کہ یہ آیت اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس نے رسول اکرم کے بعد ازواج مطہرات میں سے کسی زوجہ مطہرہ کے ساتھ شادی کرنے کا ارادہ کیا تھا سفیان راوی بیان کرتے ہیں کہ وہ حضرت عائشہ صدیقہ تھیں اور سدی سے روایت کیا گیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ بات پہنچتی ہے کہ طلحہ بن عبید اللہ نے کہا کیا محمد ہم سے ہماری چچا زاد لڑکیوں کا پردہ کراتے اور ہماری عورتوں سے شادی کرتے ہیں اگر آپ کے ساتھ کوئی واقعہ پیش آیا تو ہم آپ کے بعد آپ کی ازواج مطہرات سے شادی کرلیں گے اس پر یہ آیت مبارکہ نازل کی گئی۔ ابن سعد نے ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت کریمہ طلحہ بن عبیداللہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیونکہ اس نے کہا تھا کہ جب رسول اکرم رحلت فرما جائیں گے تو میں حضرت عائشہ سے شادی کرلوں گا۔ اور جبیر ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص بعض ازواج مطہرات کے پاس آیا اور وہ ان کا چچا زاد بھائی تھا اور ان سے گفتگو کی رسول اکرم نے اس سے فرمایا کہ آج کے بعد اس جگہ پر مت کھڑے ہونا اس نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ میرے چچا کی لڑکی ہے اللہ کی قسم میں نے ان سے کوئی نازیبا بات نہیں کی اور نہ انہوں نے مجھ سے کی۔ حضور نے ارشاد فرمایا یہ تو میں نے سمجھ لیا باقی اللہ تعالیٰ سے زیادہ کوئی غیرت مند نہیں اور اس کے بعد مجھ سے زیادہ کوئی غیرت والا نہیں۔ چناچہ وہ شخص چلا گیا اور کہنے لگا کہ میرے چچا کی لڑکی سے مجھے بات کرنے سے منع کرتے ہیں میں آپ کے بعد ان سے شادی کرلوں گا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ پھر اس شخص نے اس کلمہ کی توبہ میں ایک غلام آزاد کیا اور دس مجاہد فی سبیل اللہ اونٹ دیے اور پیدل حج کیا اور جبیر نے بواسطہ ضحاک حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت کریمہ عبدا اللہ بن ابی منافق اور اس کے کچھ ساتھ دینے والوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ جنہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ پر تہمت لگائی تھی جس پر رسول اکرم نے خطبہ دیا کہ کون شخص ہے جو میری ایسے شخص سے معذرت کرتا ہے جو مجھے تکلیف پہنچاتا ہے اور اپنے گھر پر بھی ایسے لوگوں کو جمع کرتا ہے جو مجھے تکلیف پہنچاتے ہیں۔ امام بخاری نے حضرت عائشہ سے روایت کیا ہے فرماتی ہیں کہ پردہ کا حکم نازل ہونے کے بعد حضرت سودہ اپنی حاجت کے لیے نکلیں یہ فربہ جسم کی تھیں جو ان کو دیکھنا چاہتا تھا اس سے چھپ نہیں سکتی تھیں۔ حضرت عمر نے ان کو دیکھ لیا تو کہنے لگے اے سودہ اللہ کی قسم تم لوگوں سے چھپ نہیں سکتیں تو تم گھر سے کیوں نکلتی ہو یہ سنتے ہی حضرت سودہ فورا واپس ہوگئی اور رسول اکرم میرے حجرہ میں تھے شام کا کھانا تناول فرما رہے تھے اور آپ کے ہاتھ میں ہڈی تھی اتنے میں حضرت سودہ آئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ میں اپنی کسی حاجت کے لیے باہر نکلی تھی تو حضرت عمر نے مجھے ایسا ایسا کہا۔ حضرت عائشہ فرماتے ہیں اسی حالت میں آپ پر وحی آنا شروع ہوگئی اور ہڈی آپ کے ہاتھ میں تھی آپ نے اسے نیچے نہیں رکھا پھر وحی منقطع ہوئی تب آپ نے فرمایا کہ تمہیں اپنی ضروریات سے باہر نکلنے کی اجازت دے دی گئی۔ اور ابن سعد نے طبقات میں ابی بن مالک سے روایت کیا ہے کہ ازواج مطہرات رات کے وقت اپنی حاجت کے لیے باہر نکلا کرتی تھیں تو منافقین میں سے کچھ لوگ ان کے سامنے آجاتے جس سے ان کو تکلیف ہوا کرتی اس کی انہوں نے شکایت کی تو منافقین سے اس چیز کے بارے میں کہا گیا تو وہ کہنے لگے کہ ہم تو باندیوں کے ساتھ ایسا کرتے ہیں اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔ یعنی اے پیغمبر اپنی بیویوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے الخ پھر ابن سعد نے حسن اور محمد بن کعب قرظی سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔
Ayah 33:54

اِنْ تُبْدُوْا شَیْئًا اَوْ تُخْفُوْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا Open ayah 33:54 in the Quran reader

اگر تم کسی چیز کو ظاہر کرو یا اس کو مخفی رکھو تو (یاد رکھو) کہ خدا ہر چیز سے باخبر ہے

اگر تم اس کے متعلق کوئی چیز زبان سے ظاہر کرو گے یا اس کے ارادہ کو دل ہی میں رکھو گے تو اللہ تعالیٰ کو ان دونوں باتوں کی خبر ہوگی اور وہ اس پر تمہاری گرفت فرمائے گا۔
Ayahs 33:55–56

لَا جُنَاحَ عَلَیْهِنَّ فِیْۤ اٰبَآئِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآئِهِنَّ وَ لَاۤ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اَخَوٰتِهِنَّ وَ لَا نِسَآئِهِنَّ وَ لَا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ١ۚ وَ اتَّقِیْنَ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدًا Open ayah 33:55 in the Quran reader

عورتوں پر اپنے باپوں سے (پردہ نہ کرنے میں) کچھ گناہ نہیں اور نہ اپنے بیٹوں سے اور نہ اپنے بھائیوں سے اور نہ اپنے بھتیجوں سے اور نہ اپنے بھانجوں سے اور نہ اپنی (قسم کی) عورتوں سے اور نہ لونڈیوں سے اور (اے عورتو !) خدا سے ڈرتی رہو بیشک خدا ہر چیز سے واقف ہے

اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓئِكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا Open ayah 33:56 in the Quran reader

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں مومنو ! تم بھی پیغمبر پر درود اور سلام بھیجا کرو

ازواج مطہرات پر اور عام مسلمانوں کی عورتوں پر اپنے باپوں کے سامنے آنے کے بارے میں اور بالمشافہ ان سے بات چیت کرنے میں کوئی گناہ نہیں اور اسی طرح کوئی گناہ نہیں ہے، اپنے بیٹوں اور بھائیوں اور اپنے بھتیجوں اور بھانچوں اور اپنی عورتوں اور اپنی باندیوں کے سامنے آنے میں اور ان سے گفتگو کرنے میں۔ باقی ان تمام احکام کے پورے کرنے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتی رہو وہ تمہارے تمام کاموں سے باخبر ہے۔
Ayah 33:57

اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 33:57 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا اور اسکے پیغمبر کو رنج پہنچاتے ہیں ان پر خدا دنیا اور آخرت میں لعنت کرتا ہے اور ان کے لئے اس نے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے

جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر جھوٹ باندھتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو دنیا میں قتل و جلا وطنی اور آخرت میں دوزخ کے ساتھ عذاب دیتا ہے جس میں یہ ذلیل کیے جائیں گے یہ آیت کریمہ یہود و نصاری کے بارے میں نازل ہوئی۔
Ayah 33:58

وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 33:58 in the Quran reader

اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسے کام (کی تہمت سے) جو انہوں نے نہ کیا ہو ایذا دیں تو انہوں نے بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اپنے سر پر رکھا

اور جو لوگ مومن مردوں یعنی حضرت صفوان کو اور مومنہ عورتوں یعنی حضرت عائشہ پر سوائے اس کے کہ انہوں نے کچھ ایسا کام کیا ہوا افترا پردازی کرتے ہیں تو وہ لوگ بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اٹھائے۔ مدینہ منورہ میں کچھ لوگ بد فعلی کیا کرتے تھے کہ جس سے مومن مردوں اور مومنہ عورتوں کو تکلیف پہنچتی تھی اللہ تعالیٰ نے ان کو اس کام سے روکا وہ رک گئے۔
Ayah 33:59

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِهِنَّ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:59 in the Quran reader

اے پیغمبر ﷺ اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ (باہر نکلا کریں تو) اپنے (مونہوں) پر چادر لٹکا کر (گھونگھٹ نکال) لیا کریں یہ امر ان کے لئے موجب شناخت (وامتیاز) ہوگا تو کوئی انکو ایذا نہ دے گا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

اے نبی کریم اپنی ازواج مطہرات اور اپنی صاحبزادیوں اور دوسرے مسلمانوں کی عورتوں سے بھی فرما دیجیے کہ اپنے چہرے اور سینوں پر سر سے چادریں نیچی کرلیا کریں اس پردہ کے حکم پر عمل کرنے آزاد عورتوں کو ممتاز طریقہ پر جلدی پہچان ہوجایا کرے گی تو ان کو تکلیف نہیں دی جایا کرے گی اور اللہ تعالیٰ پچھلی باتوں کا بخشنے والا اور موجودہ حالت پر مہربان ہے۔
Ayah 33:60

لَئِنْ لَّمْ یَنْتَهِ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْمُرْجِفُوْنَ فِی الْمَدِیْنَةِ لَنُغْرِیَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا یُجَاوِرُوْنَكَ فِیْهَاۤ اِلَّا قَلِیْلًا٤ۖۛۚ Open ayah 33:60 in the Quran reader

اگر منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے اور جو مدینے (کے شہر) میں بری بری خبریں اڑایا کرتے ہیں (اپنے کردار) سے باز نہ آئیں گے تو ہم تم کو انکے پیچھے لگا دینگے پھر وہاں تمہارے پڑوس میں نہ رہ سکیں گے مگر تھوڑے دن

اگر یہ منافقین جیسا کہ ابی بن سلول اور اس کے ساتھی جن کے دلوں میں مکر و خیانت ہے اور اسی طرح وہ لوگ جن کے دلوں میں شہوت پرستی کی خرابی ہے اور وہ لوگ جو مسلمانوں کے عیبوں کی مدینہ منورہ میں غلط افواہیں پھیلانے کی تلاش میں رہتے ہیں۔ اگر یہ سب لوگ اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو ہم آپ کو ضرور ان پر مسلط کردیں گے اور یہ لوگ مدینہ میں آپ کے پاس بہت ہی کم رہنے پائیں گے۔
Ayahs 33:61–62

مَّلْعُوْنِیْنَ١ۛۚ اَیْنَمَا ثُقِفُوْۤا اُخِذُوْا وَ قُتِّلُوْا تَقْتِیْلًا Open ayah 33:61 in the Quran reader

(وہ بھی) پھٹکارے ہوئے جہاں پائے گئے پکڑے گئے اور جان سے مار ڈالے گئے

سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا Open ayah 33:62 in the Quran reader

جو لوگ پہلے گزر چکے ہیں ان کے بارے میں بھی خدا کی یہی عادت رہی ہے اور تم خدا کی عادت میں تغیر و تبدل نہ پاؤ گے

(61۔ 62) اور ہر طرف سے مارے پٹے رہیں گے جہاں بھی ملیں گے پکڑ دھکڑ اور مار دھاڑ کی جائے گی اسی طرح دنیا میں عذاب الہی ان لوگوں پر نازل ہوتا چلا آرہا ہے جو ان منافقین سے پہلے گزرے ہیں۔ کہ جب انہوں نے انبیائے کرام اور مومنین سے مقابلہ کیا اللہ تعالیٰ نے ان کے قتل کرنے کا حکم دے دیا اور آپ عذاب الہی کے دستور میں کوئی رد و بدل نہ پائیں گے۔ چناچہ ان منافقین کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی تو وہ اپنی باتوں سے رک گئے۔
Ayah 33:63

یَسْئَلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُوْنُ قَرِیْبًا Open ayah 33:63 in the Quran reader

لوگ تم سے قیامت کی نسبت دریافت کرتے ہیں (کہ کب آئے گی) کہہ دو کہ اس کا علم خدا ہی کو ہے اور تمہیں کیا معلوم ہے شاید قیامت قریب ہی آگئی ہو

یہ لوگ آپ سے قیام قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہیں آپ فرما دیجیے کہ اس وقت کی خبر تو بس اللہ ہی کے پاس ہے اور آپ کو اس کی کیا خبر کیا عجب کہ قیامت جلد ہی واقع ہوجائے۔
Ayahs 33:64–65

اِنَّ اللّٰهَ لَعَنَ الْكٰفِرِیْنَ وَ اَعَدَّ لَهُمْ سَعِیْرًاۙ Open ayah 33:64 in the Quran reader

بیشک خدا نے کافروں پر لعنت کی ہے اور ان کے لئے (جہنم کی) آگ تیار کر رکھی ہے

خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ۚ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًاۚ Open ayah 33:65 in the Quran reader

اس میں ابدالآباد رہیں گے نہ کسی کو دوست پائیں گے اور نہ مددگار

(64۔ 65) اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ کو بدر کے دن بھی ہلاک کیا ہے اور ان کے لیے دہکتی آگ تیار کر رکھی ہے۔ اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے نہ وہاں ان کو موت آئے گی اور نہ اس سے نکالے جائیں گے اور نہ کوئی عذاب الہی سے بچانے والا اور اس عذاب کو روکنے والا پائیں گے۔
Ayah 33:66

یَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِ یَقُوْلُوْنَ یٰلَیْتَنَاۤ اَطَعْنَا اللّٰهَ وَ اَطَعْنَا الرَّسُوْلَا Open ayah 33:66 in the Quran reader

جس دن ان کے منہ آگ میں الٹائے جائیں کہیں گے اے کاش ہم خدا کی فرمانبرداری کرتے اور رسول (خدا) کا حکم مانتے

جس روز ان کے چہرے دوزخ میں الٹ پلٹ کیے جائیں گے تو پیشوا اور ان کے پیروکارو یوں کہتے ہوں گے کاش ہم ایمان لائے ہوتے اور رسول کی بات قبول کیے ہوتے۔
Ayah 33:67

وَ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّاۤ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَ كُبَرَآءَنَا فَاَضَلُّوْنَا السَّبِیْلَا Open ayah 33:67 in the Quran reader

اور کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہم نے اپنے سرداروں اور بڑے لوگوں کا کہا مانا تو انہوں نے ہم کو راستے سے گمراہ کردیا

اور پیرو کار یوں کہتے ہوں گے اے ہمارے پروردگار ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کا کہنا مانا تھا سو انہوں نے ہمیں دین حق سے گمراہ کردیا۔
Ayah 33:68

رَبَّنَاۤ اٰتِهِمْ ضِعْفَیْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَ الْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِیْرًا۠ Open ayah 33:68 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ان کو دگنا عذاب دے اور ان پر بڑی لعنت کر

اے ہمارے پروردگار ان سرداروں کو ہم سے دوگنی سزا دیجیے اور ان پر سخت عذاب کیجیے۔
Ayah 33:69

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اٰذَوْا مُوْسٰى فَبَرَّاَهُ اللّٰهُ مِمَّا قَالُوْا١ؕ وَ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ وَجِیْهًاؕ Open ayah 33:69 in the Quran reader

مومنو ! تم ان لوگوں جیسے نہ ہونا جنہوں نے موسیٰ کو (عیب لگا کر) رنج پہنچایا تو خدا نے ان کو بےعیب ثابت کیا اور وہ خدا کے نزدیک آبرو والے تھے

اے ایمان والو تم رسول اکرم کو تکلیف دینے میں ان لوگوں کی طرح مت ہو جنہوں نے کچھ تہمت تراش کر موسیٰ کو تکلیف دی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بری ثابت کردیا اور وہ اللہ تعالیٰ کے نزیک بڑے معزز اور قدر و منزلت والے تھے۔
Ayahs 33:70–71

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًاۙ Open ayah 33:70 in the Quran reader

مومنو ! خدا سے ڈرا کرو اور بات سیدھی کہا کرو

یُّصْلِحْ لَكُمْ اَعْمَالَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا Open ayah 33:71 in the Quran reader

وہ تمہارے سب اعمال درست کر دے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور جو شخص خدا اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بیشک بڑی مراد پائے گا

(70۔ 71) اے ایمان والو جن باتوں کا اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے ان باتوں میں اس کی اطاعت کرو اور سچائی کی بات یعنی کلمہ لا الہ الا اللہ کہو وہ اس کے بدلے میں تمہارے اعمال کو قبول کرے گا اور اسی صلہ میں تمہارے گناہ معاف کردے گا اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکام کی پیروی کرے گا وہ جنت حاصل ہونے اور دوزخ سے نجات ملنے کی وجہ سے بہت بڑی کامیابی حاصل کرے گا۔
Ayah 33:72

اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَهَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْهَا وَ حَمَلَهَا الْاِنْسَانُ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًاۙ Open ayah 33:72 in the Quran reader

ہم نے (بار) امانت کو آسمانوں اور زمینوں پر پیش کیا تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے اور انسان نے اس کو اٹھا لیا بیشک وہ ظالم اور جاہل تھا

اور ہم نے یہ امانت یعنی اطاعت و عبادت آسمان والوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے علی وجہ الاختیار والتخصیص پیش کی تھی تو انہوں نے خوف عذاب کی وجہ سے احتمال ثواب سے بھی دست برداری کی اور اس کی ذمہ داری لیتے ڈر گئے۔ اور (انسان) حضرت آدم نے بوجہ اس ثواب و عذاب کے اس ذمہ داری کو اپنے ذمہ لے لیا وہ اس کی ذمہ داری لینے میں یا یہ کہ درخت میں سے کھانے کے بارے میں ظالم اور اس کے انجام سے لا علم تھے۔
Ayah 33:73

لِّیُعَذِّبَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ وَ الْمُشْرِكٰتِ وَ یَتُوْبَ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 33:73 in the Quran reader

تاکہ خدا منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو عذاب دے اور خدا مومن مردوں اور مومن عورتوں پر مہربانی کرے اور خدا تو بخشنے والا مہربان ہے

جب مسلمانوں کے حق میں یہ خوشخبری نازل ہوئی تو منافقین کہنے لگے یا رسول اللہ ہمارے لیے پھر کیا ہے اس پر یہ نازل ہوا کہ اللہ تعالیٰ منافقین اور منافقات کو سزا دے گا اور کہا گیا ہے کہ حضرت آدم نے اس ذمہ داری کو اس لیے قبول فرمایا تاکہ اللہ تعالیٰ منافقین و منافقات اور مشرکین و مشرکات کو ترک امانت پر سزا دے کیونکہ جب حضرت آدم نے اس امانت کو قبول کیا تو وہ صلب آدم تھے اور تاکہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں مردوں اور عورتوں پر توجہ فرمائے اور اس امانت کی تعمیل حکم میں جو ان سے کو تاہیاں ہوئی ہیں ان کو معاف فرمائے اور اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کی مغفرت فرمانے والا اور ایمان داروں پر رحمت والا اور ایمان داروں پر رحمت فرمانے والا ہے۔