29. Surah Al-Ankaboot

العنكبوتThe Spider · 69 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 29:41

مَثَلُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ كَمَثَلِ الْعَنْكَبُوْتِ١ۚۖ اِتَّخَذَتْ بَیْتًا١ؕ وَ اِنَّ اَوْهَنَ الْبُیُوْتِ لَبَیْتُ الْعَنْكَبُوْتِ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:41 in the Quran reader

جن لوگوں نے خدا کے سوا (اوروں کو) کارساز بنا رکھا ہے ان کی مثال مکڑی کی سی ہے کہ وہ بھی ایک (طرح کا) گھر بناتی ہے اور کچھ شک نہیں کہ تمام گھروں سے کمزور مکڑی کا گھر ہے کاش یہ (اس بات کو) جانتے

(41) جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے علاوہ بتوں وغیرہ میں سے اور کار ساز تجویز کر رکھے ہیں ان لوگوں کی مثال مکڑی کی سی ہے جس نے ایک گھر بنایا اور کچھ شک نہیں کہ سب گھروں میں زیادہ کمزور اور پھس پھسا مکڑی کا گھر ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ نہ اس گھر میں گرمی کا بچاؤ ہوسکتا ہے اور نہ اس سے سردی کی حفاظت ہوسکتی ہے اسی طرح یہ جھوٹے معبود اپنے پجاریوں کو نہ دنیا ہی میں کچھ فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ آخرت میں ان کے کام آسکتے ہیں کاش وہ حقیقت جانتے لیکن نہ وہ حقیقت کو جانتے ہیں اور نہ اس کی تصدیق ہی کرتے ہیں۔
Ayah 29:42

اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 29:42 in the Quran reader

یہ جس چیز کو خدا کے سوا پکارتے ہیں (خواہ) وہ کچھ ہی ہو خدا اسے جانتا ہے اور وہ غالب اور حکمت والا ہے

(42) اللہ تعالیٰ ان تمام جھوٹے معبودوں کو جانتا ہے جن کی یہ اللہ کے علاوہ پرستش کر رہے ہیں کہ یہ معبود دنیا و آخرت میں ان کے کچھ کام نہیں آسکتے اور وہ غیر اللہ کی پرستش کرنے والوں کو سزا دینے میں غالب اور حکمت والا ہے کہ اس بات کا حکم دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کسی کی پرستش نہ کی جائے۔
Ayah 29:43

وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ١ۚ وَ مَا یَعْقِلُهَاۤ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ Open ayah 29:43 in the Quran reader

ہم یہ مثالیں لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے بیان کرتے ہیں اور اسے تو اہل دانش ہی سمجھتے ہیں

(43) اور ہم ان مثالوں کو لوگوں کے سمجھانے کے لیے بیان کرتے ہیں لیکن قرآنی مثالوں کو علم والے اور توحید والے ہی سمجھتے ہیں۔
Ayah 29:44

خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 29:44 in the Quran reader

خدا نے آسمانوں اور زمین کو حکمت کے ساتھ پیدا کیا ہے کچھ شک نہیں کہ ایمان والوں کے لئے اس میں نشانی ہے

(44) اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو مناسب طریقے پر بنایا اور ان مضامین میں اہل ایمان کے لیے بڑی دلیل ہے۔
Ayah 29:45

اُتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لَذِكْرُ اللّٰهِ اَكْبَرُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ Open ayah 29:45 in the Quran reader

(اے محمد ! ﷺ یہ) کتاب جو تمہاری طرف وحی کی گئی ہے اس کو پڑھا کرو اور نماز کے پابند رہو کچھ شک نہیں کہ نماز بےحیائی اور بری باتوں سے روکتی ہے اور خدا کا ذکر بڑا (اچھا کام) ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اسے جانتا ہے

اے محمد ﷺ آپ ان لوگوں کو قرآن کریم پڑھ کر سنایا کریں اور پانچوں نمازوں کی پابندی رکھیے کیونکہ نماز گناہ اور برے کاموں سے روک ٹوک کرتی رہتی ہے یعنی کم از کم جب تک آدمی نماز پڑھتا ہے تو نماز ایسی چیزوں سے روکے رکھتی ہے جن کا شریعت اور سنت میں کہیں تذکرہ نہیں اور تم جو نماز کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے ہو اس کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کا مغفرت فرمانا اور ثواب عطا کرنا بہت بڑی چیز ہے اور جو کچھ تم نیکیاں اور برائیاں کرتے ہو اللہ تعالیٰ سب سے واقف ہے۔
Ayah 29:46

وَ لَا تُجَادِلُوْۤا اَهْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ۖۗ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ وَ قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِالَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ وَ اِلٰهُنَا وَ اِلٰهُكُمْ وَاحِدٌ وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 29:46 in the Quran reader

اور اہل کتاب سے جھگڑا نہ کرو مگر ایسے طریقے سے کہ نہایت اچھا ہو ہاں جو ان میں سے بےانصافی کریں (ان کے ساتھ اسی طرح کا مجادلہ کرو) اور کہہ دو کہ جو (کتاب) ہم پر اتری اور جو (کتابیں) تم پر اتریں ہم سب پر ایمان رکھتے ہیں اور ہمارا اور تمہارا معبود ایک ہی ہے اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں

اور تم یہود و نصاری کے ساتھ بحث مت کرو مگر قرآن حکیم کے ذریعے سے۔ ہاں ! جو ان میں زیادتی کریں جیسا کہ وفد بنی نجران۔ اور یوں کہو کہ ہم قرآن حکیم پر بھی اور توریت اور انجیل پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور ہمارا اور تمہارا اللہ ایک، وحدی لاشریک (یعنی ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں) ہے اور ہم تو اسی کی اطاعت اور اسی کی توحید کا اقرار کرتے ہیں۔
Ayah 29:47

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ۚ وَ مِنْ هٰۤؤُلَآءِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِهٖ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 29:47 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے تمہاری طرف کتاب اتاری ہے تو جن لوگوں کو ہم نے کتابیں دی تھیں وہ اس پر ایمان لے آتے ہیں اور بعض ان (مشرک) لوگوں میں سے بھی اس پر ایمان لے آتے ہیں اور ہماری آیتوں سے وہی انکار کرتے ہیں جو کافر (ازلی) ہیں

اسی طرح ہم نے آپ پر کتاب نازل فرمائی تاکہ اس میں جو اوامرو نواہی اور واقعات ہیں وہ آپ ان کے سامنے پڑھ کر سنائیں۔ سو جن لوگوں کو ہم نے کتاب توریت کا علم دیا ہے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن سلام وغیرہ وہ آپ پر اور قرآن کریم پر ایمان لے آئے ہیں اور ان مشرکین مکہ میں سے بھی کچھ لوگ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لے آئے ہیں اور ہماری آیات میں سے سوائے کافروں یعنی کعب و ابوجہل وغیرہ کے اور کوئی انکار نہیں کرتا۔
Ayahs 29:48–49

وَ مَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ وَّ لَا تَخُطُّهٗ بِیَمِیْنِكَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 29:48 in the Quran reader

اور تم اس سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتے تھے اور نہ اسے اپنے ہاتھ سے لکھ ہی سکتے تھے ایسا ہوتا تو اہل باطل ضرور شک کرتے

بَلْ هُوَ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ فِیْ صُدُوْرِ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 29:49 in the Quran reader

بلکہ یہ روشن آیتیں ہیں جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے ان کے سینوں میں (محفوظ) ہیں ہماری آیتوں سے وہی لوگ انکار کرتے ہیں جو بےانصاف ہیں

اور آپ قرآن کریم سے پہلے نہ کوئی کتاب پڑھے ہوئے تھے اور نہ اپنے ہاتھ سے کسی کتاب کو لکھ سکتے تھے اور اگر ایسی حالت ہوتی تو یہ یہود و نصاری اور مشرکین ضرور شکل کرتے اور کہتے کہ ہماری کتابوں میں تو نبی امی کی بشارت ہے بلکہ آپ کی نعت و صفت کے بارے میں خود بہت سی واضح دلیلیں ہیں ان لوگوں کے دلوں میں جن کو علم توریت دیا گیا ہے یا یہ قرآن کریم ہی آپ کی نبوت کے لیے خود بہت سی واضح دلیلوں والا اور حلال و حرام اور اوامرو نواہی کو واضح طور پر بیان کرنے والا ان لوگوں کے سینوں میں محفوظ ہے جن کو قرآن کریم کا علم دیا گیا ہے۔ اور ہماری آیات یعنی رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم سے یہ یہود و نصاری اور مشرکین ہی انکار کیے جاتے ہیں۔
Ayah 29:50

وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیٰتٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 29:50 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں کہ اس پر اس کے پروردگار کی طرف سے نشانیاں کیوں نازل نہیں ہوئیں کہہ دو کہ نشانیاں تو خدا ہی کے پاس ہیں اور میں تو کھلم کھلا ہدایت کرنے والا ہوں

اور یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ پر ان کے پروردگار کی طرف سے ایسی نشانیاں کیوں نازل نہیں ہوئیں جیسا موسیٰ و عیسیٰ (علیہما السلام) پر نازل کی گئی تھیں۔
Ayah 29:51

اَوَ لَمْ یَكْفِهِمْ اَنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ یُتْلٰى عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَرَحْمَةً وَّ ذِكْرٰى لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 29:51 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کے لئے یہ کافی نہیں کہ ہم نے تم پر کتاب نازل کی جو ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہے کچھ شک نہیں کہ مومن لوگوں کے لئے اس میں رحمت اور نصیحت ہے

محمد ﷺ آپ ان سے فرما دیجیے کہ وہ نشانیاں تو اللہ تعالیٰ کے قبضۃ قدرت میں ہیں۔ اسی کی طرف سے آئیں گی تو ایک ایسی زبان میں جس کو تم بھی سمجھتے ہو ڈرانے والا رسول ہوں۔ اے محمد ﷺ کیا ان مکہ والوں کے لیے آپ کی نبوت پر دلالت کے لیے یہ بات کافی نہیں ہوئی کہ ہم نے آپ پر کتاب نازل فرمائی جس میں سے اوامرو نواہی اور گزشتہ قوموں کے واقعات ان کے سامنے پڑھ کر سنائے جاتے ہیں بیشک اس قرآن حکیم میں اہل ایمان کے لیے عذاب سے بڑی رحمت اور نصیحت ہے۔ شان نزول : اَوَلَمْ يَكْفِهِمْ اَنَّآ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ (الخ) ابن جریر اور ابن ابی حاتم اور دارمی نے اپنی مسند میں عمرو بن دینار کے طریقے سے یحییٰ بن جعدہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ مسلمانوں میں سے کچھ لوگ آئے ان کے پاس کچھ لکھی ہوئی باتیں تھیں جو انہوں نے یہودیوں سے سن کر لکھ رکھی تھیں اس پر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ایک قوم کی گمراہی کے لیے بس یہی کافی ہے کہ ان کے پاس جو ان کا نبی لے کر آیا ہے وہ اس سے اپنے غیروں کی طرف جن کے پاس ان کا غیر لے کر آیا ہے منہ موڑیں اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی کیا ان لوگوں کو یہ بات کافی نہیں ہوئی کہ ہم نے آپ پر یہ کتاب نازل فرمائی۔
Ayah 29:52

قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ شَهِیْدًا١ۚ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْبَاطِلِ وَ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ١ۙ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 29:52 in the Quran reader

کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان خدا ہی گواہ کافی ہے جو چیز آسمانوں میں اور زمین میں ہے وہ سب کو جانتا ہے اور جن لوگوں نے باطل کو مانا اور خدا سے انکار کیا وہی نقصان اٹھانے والے ہیں

اے محمد ﷺ آپ ان سے فرما دیجیے کہ میری رسالت کا بس اللہ تعالیٰ گواہ ہے اس کو تمام مخلوق کی خبر ہے اور جو لوگ یعنی ابو جہل وغیرہ شیطانی باتوں پر یقین رکھتے ہیں وہ لوگ بڑے ہی خسارے والے ہیں۔
Ayah 29:53

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ١ؕ وَ لَوْ لَاۤ اَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَآءَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ وَ لَیَاْتِیَنَّهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 29:53 in the Quran reader

اور یہ لوگ تم سے عذاب کے لئے جلدی کر رہے ہیں اگر ایک وقت مقرر نہ (ہو چکا) ہوتا تو ان پر عذاب آ بھی گیا ہوتا اور وہ (کسی وقت میں) ان پر ضرور ناگہاں آ کر رہے گا اور ان کو معلوم بھی نہ ہوگا

اور یہ کفار آپ سے وقوع عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں اور اگر اس کی میعاد مقرر نہ ہوتی تو وقت سے پہلے ہی ان پر عذاب آچکا ہوتا اور وہ عذاب ان پر اچانک آئے گا کہ ان کو اس کے آنے کی خبر بھی نہ ہوگی۔
Ayah 29:54

یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ١ؕ وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 29:54 in the Quran reader

یہ تم سے عذاب کے لئے جلدی کر رہے ہیں اور دوزخ تو کافروں کو گھیر لینے والی ہے

اور یہ دنیا میں نزول عذاب کا تقاضا کرتے ہیں اور اس میں کچھ نہیں کہ جہنم ان سب کو گھیر لے گی۔
Ayah 29:55

یَوْمَ یَغْشٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ وَ یَقُوْلُ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:55 in the Quran reader

جس دن عذاب ان کو ان کے اوپر اور نیچے سے ڈھانک لے گا اور (خدا) فرمائے گا کہ جو کام تم کیا کرتے تھے (اب) ان کا مزہ چکھو

اور جس دن جہنم کا عذاب ان کو اوپر سے اور ان کے نیچے سے جبکہ یہ دوزخ میں ڈالے جائیں گے گھیر لے گا اور اس وقت ان سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جو کچھ تم کفریہ اعمال و اقوال کر رہے تھے اس کا مزہ چکھو۔
Ayah 29:56

یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ اَرْضِیْ وَاسِعَةٌ فَاِیَّایَ فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 29:56 in the Quran reader

اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو میری زمین فراخ ہے تو میری ہی عبادت کرو

اے میرے ایماندار بندو یعنی حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی، حضرت علی مرتضی اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سرزمین مدینہ امن والی ہے وہاں چلے جاؤ اور خالص میری ہی عبادت کرو۔
Ayah 29:57

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١۫ ثُمَّ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 29:57 in the Quran reader

ہر متنفس موت کا مزہ چکھنے والا ہے پھر تم ہماری ہی طرف لوٹ کر آؤ گے

ہر شخص کو لازما موت کا مزہ چکھنا ہے اور پھر مرنے کے بعد تم سب کو ہمارے پاس آنا ہے جہاں تمہیں تمہارے اعمال کا صلہ دیا جائے گا
Ayah 29:58

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ غُرَفًا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَۗۖ Open ayah 29:58 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کو ہم بہشت کے اونچے اونچے محلوں میں جگہ دیں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ہمیشہ ان میں رہیں گے (نیک) عمل کرنے والوں کا (یہ) خوب بدلا ہے

جو حضرات رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے تو ہم ان کو جنت کے بالاخانوں میں جگہ دیں گے جن کے محلات اور درختوں کے نیچے سے دودھ، شہد، شراب اور پانی کی نہریں بہتی ہوں گی وہ اس جنت میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے نیک کام کرنے والوں کا کیا ہی اچھا اجر ہے۔
Ayah 29:59

الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ Open ayah 29:59 in the Quran reader

جو صبر کرتے اور اپنے پروردگار پر بھروسا رکھتے ہیں

جنہوں نے احکام الہی کی بجا آوری کی اور سختیوں پر صبر اور اپنے رب توکل کیا کرتے تھے اس کے علاوہ اور کسی پر بھروسا نہیں رکھتے ہیں۔
Ayah 29:60

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ دَآبَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا١ۗۖ اَللّٰهُ یَرْزُقُهَا وَ اِیَّاكُمْ١ۖ٘ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 29:60 in the Quran reader

اور بہت سے جانور ہیں جو اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے خدا ہی ان کو رزق دیتا ہے اور تم کو بھی اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے

چناچہ جب ان کو اللہ تعالیٰ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا تو فطری طور پر یہ وسوسہ ہوا کہ وہاں انہیں کون ٹھہرائے گا اور کھانے پینے کو کون دے گا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جان لو بہت سے جانور ایسے ہیں جو کل کے لیے اپنی غذا اٹھا کر نہیں رکھتے اور یہ کہ چیونٹی تو ایک سال کے لیے غذا جمع کر کے رکھتی ہے۔ اللہ ہی ان کو جو اٹھا کر رکھتے ہیں اور جو نہیں رکھتے روزی پہنچاتا ہے اور اے جماعت مومنین تمہیں بھی پہنچاتا ہے وہی تمہاری ان باتوں کا سننے والا اور تمہاری روزیوں کا جاننے والا ہے کہ کس مقام پر سے تمہیں روزی پہنچائے گا۔ شان نزول : وَكَاَيِّنْ مِّنْ دَاۗبَّةٍ (الخ) عبد بن حمید، ابن ابی حکم بیہقی اور ابن عساکر نے سند ضعیف کے ساتھ حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ کے ساتھ چلا یہاں تک کہ آپ مدینہ منورہ کے باغوں میں سے کسی باغ میں داخل ہوئے تو آپ کھجور کے درختوں پر سے کھجور توڑ کر کھا رہے تھے آپ نے فرمایا ابن عمر ؓ تم کیوں نہیں کھاتے ؟ میں نے عرض کیا کہ مجھے خواہش نہیں آپ نے فرمایا لیکن میری تو طبیعت چاہ رہی ہے اور یہ چوتھا دن ہے جس دن سے میں نے کھانا نہیں چکھا اور نہ اس کی طلب کی اور اگر میں چاہتا تو اپنے پروردگار سے دعا کرتا وہ مجھے قیصر و کسری کی بادشاہت کے برابر عطا کردیتا تو ابن عمر ؓ تمہاری اس وقت کیا حالت ہوگی جبکہ تمہارا ایسی قوم سے سابقہ پڑے گا جو سال بھر کا رزق جمع کر رکھیں گے اور یقین کمزور ہوجائے گا حضرت ابن عمر فرماتے ہیں تو اللہ کی قسم کہ ہم اس جگہ سے نہیں ہٹے تھے اور نہ ہٹنے کا ارادہ کیا تھا اتنے میں یہ آیت مبارکہ نازل ہوگئی کہ بہت سے جانور ایسے ہیں جو اپنی غذا بچا کر نہیں رکھتے اللہ ہی ان کو روزی پہنچاتا ہے اس پر رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو دنیا کے خزانے جمع کرنے اور خواہشات کے پیچھے چلنے کا حکم نہیں دیا جان لو کہ میں نہ دینار جمع کرتا ہوں اور نہ درہم اور نہ کل کے لیے رزق چھپا کر رکھتا ہوں۔
Ayah 29:61

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ۚ فَاَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 29:61 in the Quran reader

اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ؟ اور سورج اور چاند کو کس نے (تمہارے) زیر فرمان کیا ؟ تو کہہ دیں گے خدا نے، تو پھر یہ کہاں الٹے جا رہے ہیں ؟

اگر آپ ان کفار مکہ سے دریافت کریں کہ بھلا وہ کون ہے جس نے آسمان و زمین پیدا کیے اور جس نے سورج اور چاند کو کام میں لگا رکھا ہے تو کفار مکہ جواب میں یہی کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے پیدا کیا ہے اور اسی نے ان کو کام میں لگا رکھا ہے پھر کیوں اللہ تعالیٰ کی تکذیب کرتے ہیں۔
Ayah 29:62

اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ لَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 29:62 in the Quran reader

خدا ہی اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے روزی فراخ کردیتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے بیشک خدا ہر چیز سے واقف ہے

اللہ تعالیٰ اپنے بنوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے روزی فراخ کردیتا ہے جو اس کی جانب سے ایک امتحان ہوتا ہے اور جس پر چاہتا ہے بطور ڈھیل کے تنگ کردیتا ہے، وہ فراخی و تنگی ہر ایک چیز سے واقف ہے۔
Ayah 29:63

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ نَّزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ مَوْتِهَا لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 29:63 in the Quran reader

اور اگر ان سے پوچھو کہ آسمان سے پانی کس نے نازل فرمایا پھر اس سے زمین کو اس کے مرنے کے بعد (کس نے) زندہ کیا ؟ تو کہہ دیں گے کہ خدا نے کہہ دو کہ خدا کا شکر ہے لیکن ان میں اکثر نہیں سمجھتے

اور اگر آپ ان کفار مکہ سے دریافت کریں کہ وہ کون ہے کہ جس نے آسمان سے پانی برسایا پھر اس نے پانی سے زمین کو بعد اس کے کہ وہ خشک اور بنجر پڑی ہوتی تھی تروتازہ کردیا تو کفار مکہ جواب میں یہی کہیں گے کہ ایسا کرنے والا بھی اللہ ہے۔ آپ کہیے الحمدللہ علی ذلک مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ نہ اس چیز کو سمجھتے ہیں اور نہ اس کی تصدیق کرتے ہیں۔
Ayah 29:64

وَ مَا هٰذِهِ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَهْوٌ وَّ لَعِبٌ١ؕ وَ اِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ لَهِیَ الْحَیَوَانُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:64 in the Quran reader

اور یہ دنیا کی زندگی تو صرف کھیل اور تماشا ہے اور (ہمیشہ کی) زندگی (کا مقام) تو آخرت کا گھر ہے کاش یہ لوگ سمجھتے

اور اس دنیا کی زندگی میں جو کچھ خوش حالیاں اور زینتیں ہیں یہ سوائے وقتی اور فانی لہو ولعب کے اور کچھ بھی نہیں اور اصلی زندگی وہ جنت ہی کی ہے جہاں فنا نہیں۔ کاش یہ لوگ اس کو مانتے مگر ان کو نہ اس کا علم ہے اور نہ اس کا اقرار کرتے ہیں۔
Ayah 29:65

فَاِذَا رَكِبُوْا فِی الْفُلْكِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ اِذَا هُمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 29:65 in the Quran reader

پھر جب یہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو خدا کو پکارتے (اور) خالص اسی کی عبادت کرتے ہیں لیکن جب وہ ان کو نجات دے کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو جھٹ سے شرک کرنے لگ جاتے ہیں

جب کفار مکہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو خالص اعتقاد کر کے نجات کی اللہ تعالیٰ ہی سے دعا کرنے لگتے ہیں پھر جب ان کو سمندر سے نجات دے کر اللہ تعالیٰ خشی کی طرف لے آتے ہیں تو فورا بتوں کو اس کے ساتھ شریک کرنے لگتے ہیں۔
Ayah 29:66

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ۙۚ وَ لِیَتَمَتَّعُوْا١ٙ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:66 in the Quran reader

تاکہ جو ہم نے ان کو بخشا ہے اس کی ناشکری کریں اور فائدہ اٹھائیں (سو خیر) عنقریب ان کو معلوم ہوجائے گا

جس کا حاصل یہ ہے کہ ہم نے جع نعمت ان کو دی ہے اس کی قدر نہیں کرتے ہیں اور یہ لوگ اپنے کفر و شرک میں چند دن اور لطف اٹھا لیں پھر قریب ہی نزول عذاب پر ان کو سب خبر ہوجائے گی کہ ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا۔
Ayah 29:67

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّ یُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ١ؕ اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَةِ اللّٰهِ یَكْفُرُوْنَ Open ayah 29:67 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے حرم کو مقام امن بنایا ہے اور لوگ اس کے گرد و نواح سے اچک لئے جاتے ہیں کیا یہ لوگ باطل پر اعتقاد رکھتے ہیں اور خدا کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں

کیا مکہ والوں کی اس پر نظر نہیں کہ ہم نے ان کے شہر کو دشمنوں کے خوف سے امن والا بنایا اور ان کے گرد و پیش کے مقامات کے لوگوں کو مار دھاڑ کر ان کے گھروں سے نکال دیا جاتا ہے بجائے ان کے کہ حدود حرم میں دشمن بھی ان پر داخل نہیں ہوتا۔ پھر کیا ٹھکانا کہ یہ لوگ شیطان اور جھوٹے معبودوں کی تصدیق کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی جو اس نے حرم میں ان کو دی ہیں ناشکری کرتے ہیں کہ سرے سے وحدانیت خداوندی ہی کا انکار کرتے ہیں۔ شان نزول : اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا (الخ) جبیر نے بواسطہ ضحاک حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ کفار نے عرض کیا اے رسول اللہ ﷺ ہمیں آپ کے دین میں داخل ہونے سے یہی امر مانع ہے کہ ہماری کمی کی وجہ سے لوگ ہمیں اچک لیں گے کیونکہ عرب کی کثرت ہے تو جب ان کو یہ معلوم ہوگا کہ ہم نے آپ کے دین کو اختیار کرلیا تو ہمیں اچک لیں گے سو ایسی صورت میں ہم سب کا لقمہ بن جائیں گے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یعنی کیا ان لوگوں کی اس بات پر نظر نہیں کہ ہم نے ان کے شہر مکہ کو امن والا حرم بنایا۔
Ayah 29:68

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهٗ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 29:68 in the Quran reader

اور اس سے ظالم کون جو خدا پر جھوٹ بہتان باندھے یا جب حق بات اس کے پاس آئے تو اس کی تکذیب کرے کیا کافروں کا ٹھکانہ جہنم میں نہیں ہے ؟

اور اس شخص سے زائد کون ناانصاف اور بدتمیز ہوگا جو بےدلیل ہی اللہ کی تکذیب کرے کہ اس کے اولاد ہے اور وہ شریک رکھتا ہے اور جب سچی بات اس کے پاس پہنچے تو وہ اس کو جھٹلائے۔ کیا ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کا جہنم میں ٹھکانا نہ ہوگا اور جو ہماری اطاعت و فرمانبرداری میں کوشش کرتے ہیں تو ہم اپنے قرب وثواب کے رستے ان کو ضرور دکھائیں گے۔
Ayah 29:69

وَ الَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ۠ Open ayah 29:69 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہمارے لئے کوشش کی ہم ان کو ضرور اپنے راستے دکھا دیں گے اور خدا تو نیکوکاروں کے ساتھ ہے

یعنی جو اپنے علم کے مطابق نیکیاں کرتا ہے تو ہم اس کو ان چیزوں کی بھی توفیق عطا فرمائیں گے کہ جو اس کے علم میں نہیں یا یہ کہ ہم خوشی و حلاوت طبع اس کو نصیب فرمائیں گے یا یہ کہ ہم اپنی اطاعت کی اس کو مزید توفیق عطا فرمائیں گے اور اللہ تعالیٰ نیکو کاروں کی قول و فعل توفیق و عصمت کے ذریعے مدد فرمانے والا ہے۔