24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 24:35

اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ فِیْهَا مِصْبَاحٌ١ؕ اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَةٍ١ؕ اَلزُّجَاجَةُ كَاَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّیٌّ یُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبٰرَكَةٍ زَیْتُوْنَةٍ لَّا شَرْقِیَّةٍ وَّ لَا غَرْبِیَّةٍ١ۙ یَّكَادُ زَیْتُهَا یُضِیْٓءُ وَ لَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ١ؕ نُوْرٌ عَلٰى نُوْرٍ١ؕ یَهْدِی اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌۙ Open ayah 24:35 in the Quran reader

خدا آسمانوں اور زمین کا نور ہے اس کے نور کی مثال ایسی ہے کہ گویا ایک طاق ہے جس میں چراغ ہے اور چراغ ایک قندیل میں ہے اور قندیل (ایسی صاف و شفاف ہے کہ) گویا موتی کا سا چمکتا ہوا تارا ہے اس میں ایک مبارک درخت کا تیل جلایا جاتا ہے (یعنی) زیتون کہ نہ مشرق کی طرف ہے نہ مغرب کی طرف (ایسا معلوم ہوتا ہے کہ) اس کا تیل خواہ آگ اسے نہ بھی چھوئے جلنے کو تیار ہے (بڑی) روشنی پر روشنی (ہو رہی ہے) خدا اپنے نور سے جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ دکھاتا ہے اور خدا (جو مثالیں) بیان فرماتا ہے (تو) لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے اور خدا ہر چیز سے واقف ہے

(35) اللہ تعالیٰ آسمان اور زمین والوں کو ہدایت دینے والا ہے اور ہدایت منجانب اللہ دو قسم کی ہوتی ہے تعریف اور بتیان یا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں کو ستاروں کے ساتھ اور زمین کو نباتات اور پانی کے ذریعے مزین کرنے والا اور رونق دینے والا ہے یا یہ کہ اللہ تعالیٰ آسمان اور زمین والوں میں سے مسلمانوں کے دلوں کو روشن ومنور کرنے والا ہے، مسلمانوں کے اس نور یا یہ کہ مسلمان کے دل میں جو نور خداوندی ہے اس کی حالت عجیبہ ایسی ہے جیسے فرض کرو کہ ایک طاق ہے اور اس میں ایک چراغ رکھا ہے اور وہ چراغ ایک شیشہ کی قندیل میں ہے اور وہ قندیل طاق میں رکھا ہے اور وہ ایسا شفاف ہے جیسا ان پانچ ستاروں یعنی عطارد، زہری، مشتری، بہرام، زحل میں سے ایک چمکدار ستارہ ہو اور اس قندیل میں ایک نہایت سفید درخت کا تیل دیا جاتا ہو اور وہ زیتون کا درخت جو جنگل میں بلندی پر ہے نہ اسے شرقی سایہ پہنچتا ہے اور نہ غربی سایہ یا یہ کہ ایسے مکان پر ہے کہ نہ سورج کے نکلنے کے وقت اس پر دھوپ پڑتی ہے اور نہ سورج کے غروب کے وقت اور اس درخت کا تیل اس قدر صاف ہے کہ اگر اس کو آگ بھی نہ چھوئے تاہم ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خود بخود جل اٹھے گا اور اگر آگ لگ بھی گئی تو ”نور علی نور“ ہے یعنی ایک تو خود چراغ میں روشنی ہے اور پھر قندیل اس قدر نورانی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ زیتون کا تیل خود صاف اور روشن ہے چناچہ جس میں اس چیز کی صلاحیت ہوتی ہے اللہ تعالیٰ اسے اپنے اس نور معرفت کے ساتھ یا یہ کہ اپنے دین کے ساتھ سرفرازی عطا فرماتا ہے۔ یا یہ کہ اللہ تعالیٰ کے نور کی مثال وہ رسول اکرم ﷺ کی ذات بابرکت کا نور ہے جو اپنے آباء کی اصلاب میں ودیعت تھا اخیر تک اسی وصف کے ساتھ۔ رسول اکرم ﷺ کا نور حضرت ابراہیم خلیل اللہ ؑ کی ذات میں مسلم حنیف کی صورت میں ظاہر ہوا اور زیتون سے مراد وہ دین حنیف ہے کہ جو نہ شرقی ہے اور نہ غربی یعنی کہ حضرت ابراہیم ؑ نہ یہودی تھے اور نہ نصرانی اور رہا یہ کہ اس کا تیل ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خود بخود جل اٹھے گا یہی حضرت ابراہیم ؑ کے اعمال صالحہ کی حالت ہے کہ اسی وصف کے ساتھ ان کے آباء کی پشت میں منور ہونے کو ہیں اور وہ چراغ ایک نہایت سفید درخت کے تیل سے روشن کیا جاتا ہے یہ حالت عجیبہ رسول اکرم ﷺ کے نور کی ہے اور اگر اس کو آگ بھی نہ چھوئے یعنی اگر حضرت ابراہیم ؑ کو نبوت کے ساتھ سرفراز نہ کیا جاتا تب بھی ان میں یہ نور ودیعت تھا یا یہ مطلب ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم ؑ کو اپنا مقرب نہ بناتا تب ان میں اس نور کو ودیعت نہ فرماتا یا یہ مطلب ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ اپنے مسلمان بندہ کو اس نور ہدایت کے ساتھ سرفراز نہ فرماتا تو اس میں یہ نور ہی نہ ہوتا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ لوگوں کے لیے معرفت خدا ندوی کی حقیقت بیان فرماتا رہتا ہے، اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اس نعمت کے ساتھ سرفراز فرمانے میں بخوبی واقف ہے، یہ اللہ تعالیٰ نے اپنی معرفت کی ایک عجیب کیفیت بیان فرمائی اور ساتھ ساتھ اس کے منافع اور خوبیوں کا بھی تذکرہ فرمایا تاکہ انسان اس کا شکر ادا کریں۔ یعنی جیسا کہ چراغ کی روشنی سے راستہ معلوم کیا جاتا ہے اسی طرح معرفت خداوندی بھی ایک نور ہے جس کے ذریعے سے ہدایت حاصل کی جاتی ہے اور جیسا کہ قندیل ایک نور ہے کہ جس سے فائدہ حاصل کیا جاتا ہے اسی طرح معرفت بھی ہدایت حاصل کرنے کے لیے نور ہے اور جس طرح چمک دار اور روشن ستاروں سے خشکی اور تری کی تاریکیوں میں راستہ معلوم کیا جاتا ہے، بالکل اسی طرح معرفت خداوندی سے بھی کفر وشرک کی تاریکیوں میں نجات حاصل کی جاتی ہے اور جیسا کہ قندیل میں تیل صاف سفید زیتون کے درخت سے پہنچایا جاتا ہے اسی طرح بندے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے معرفت حاصل ہوتی ہے۔ اور جیسا کہ زیتون درخت نہ شرقی ہے اور نہ غربی اسی طرح مومن کا دین بھی حنفی ہے نہ یہودی ہے اور نہ نصرانی اور جیسا کہ زیتون کا تیل خود بخود جل اٹھے گا اگرچہ ابھی تک اس کو آگ بھی نہ چھوئے، اسی طرح مومنین کے ایمان کے جو احکامات ہیں خود بخود ہی تعریف کے قابل ہیں، اگرچہ اس کے ساتھ اور دیگر فضائل نہ ہوں۔ اور جیسا کہ چراغ قندیل اور طاق یہ سب نور علی نور ہے، اسی طرح معرفت خداوندی بھی نور اور قلب مومن بھی نور اور اس کا سینہ بھی نور اور داخلہ کی جگہ بھی نور اس کے نکلنے کی جگہ بھی نور اور مومن نور علی نور ہے اور جو اس چیز کے لائق ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے اس نور کے ساتھ سرفراز فرماتا ہے، غرض کہ اللہ تعالیٰ نے معرفت خداوندی کی یہ عجیب کیفیت بیان فرمائی ہے۔
Ayah 24:36

فِیْ بُیُوْتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ وَ یُذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ١ۙ یُسَبِّحُ لَهٗ فِیْهَا بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِۙ Open ayah 24:36 in the Quran reader

(وہ قندیل) ان گھروں میں (ہے) جن کے بارے میں خدا نے ارشاد فرمایا ہے کہ بلند کیے جائیں اور وہاں خدا کے نام کا ذکر کیا جائے (اور) ان میں صبح و شام اسکی تسبیح کرتے رہیں

(36) اور وہ نور معرفت کی قندیلیں ایسے گھروں یعنی مساجد میں لٹکی ہوئی ہیں کہ جن کے بنانے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور ان مساجد میں اللہ تعالیٰ کی توحید بیان کی جاتی ہے اور ان مسجدوں میں ایسے لوگ صبح وشام نمازوں میں اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتے ہیں یعنی فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں پڑھتے ہیں۔
Ayah 24:37

رِجَالٌ١ۙ لَّا تُلْهِیْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَیْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ اِقَامِ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءِ الزَّكٰوةِ١۪ۙ یَخَافُوْنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیْهِ الْقُلُوْبُ وَ الْاَبْصَارُۗۙ Open ayah 24:37 in the Quran reader

(یعنی ایسے) لوگ جن کو خدا کے ذکر اور نماز پڑھنے اور زکوٰۃ دینے سے نہ سوداگری غافل کرتی ہے نہ خریدو فروخت۔ وہ اس دن سے جب دل (خوف اور گھبراہٹ کے سبب) الٹ جائیں گے اور آنکھیں (اوپر کو چڑھ جائیں گی) ڈرتے ہیں

(37) جن کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت یا پانچویں نمازوں کے اوقات سے اور بالخصوص پانچوں کو کمال وضو، رکوع، اور سجود اور تمام آداب کے ساتھ ادائیگی سے اور اپنے اموال کی زکوٰۃ ادا کرنے سے خرید وفروخت غفلت میں نہیں ڈالتی اور وہ ایسے دن یعنی قیامت کے دن کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں جس میں بہت سے دل اور بہت سی آنکھیں الٹ جائیں گی کہ ایک حالت کے بعد دوسری حالت تبدیل ہوجائے گی ایک وقت کو پہچانیں گے اور دوسرے وقت کو نہیں پہچانیں گے۔
Ayah 24:38

لِیَجْزِیَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 24:38 in the Quran reader

تاکہ خدا ان کو ان کے عملوں کا بہت اچھا بدلہ دے اور اپنے فضل سے زیادہ بھی عطا کرے اور جس کو چاہتا ہے خدا بیشمار رزق دیتا ہے

(38) اور ان کو اللہ تعالیٰ ان کے اعمال دنیویہ کا بہت ہی اچھا بدلہ دے گا اور ان کو اپنے فضل سے اسی جزا پر اور بھی زیادہ دے گا یعنی ایک نیکی کا دس گناہ ثواب ملے گا اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہے بیشمار اور بغیر حساب کے دے دیتا ہے۔
Ayah 24:39

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍۭ بِقِیْعَةٍ یَّحْسَبُهُ الظَّمْاٰنُ مَآءً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَهٗ لَمْ یَجِدْهُ شَیْئًا وَّ وَجَدَ اللّٰهَ عِنْدَهٗ فَوَفّٰىهُ حِسَابَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِۙ Open ayah 24:39 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کیا ان کے اعمال (کی مثال ایسی ہے) جیسے میدان میں ریت کہ پیاسا اسے پانی سمجھے یہاں تک کہ جب اسکے پاس آئے تو اسے کچھ نہ پائے اور خدا ہی کو اپنے پاس دیکھے تو وہ اس کا حساب پورا پورا چکا دے اور خدا جلد حساب کرنے والا ہے

(39) اور جن لوگوں نے رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کے ساتھ کفر کیا تو ان کے اعمال کی آخرت میں یہ حالت ہوگی کہ جیسے ایک چٹیل میدان میں چمکتی ہوئی ریت کہ پیاسا آدمی اس کو دور سے پانی خیال کرتا ہے یہاں تک کہ جب دوڑتا ہوا اس کے پاس اپنے گناہوں کی سزا پائے گا یا یہ کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے عذاب کے لیے مستعد پائے گا تو اللہ تعالیٰ نے اس کو پوری پوری سزا دے دی اور اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والا ہے یا یہ کہ جس کی میعاد آجاتی ہے تو پل بھر میں اس کے حساب کا فیصلہ کردیتا ہے۔
Ayah 24:40

اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍ لُّجِّیٍّ یَّغْشٰىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌ١ؕ ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ١ؕ اِذَاۤ اَخْرَجَ یَدَهٗ لَمْ یَكَدْ یَرٰىهَا١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ۠ Open ayah 24:40 in the Quran reader

یا (ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے) جیسے دریائے عمیق میں اندھیرے جس پر لہر چلی آتی ہو اور اسکے اوپر اور لہر (آ رہی ہو) اور اس کے اوپر بادل ہو غرض اندھیرے ہی اندھیرے ہوں ایک پر ایک (چھایا ہوا) جب اپنا ہاتھ نکا لے تو کچھ دیکھ نہ سکے اور جس کو خدا روشنی نہ دے اس کو (کہیں بھی) روشنی نہیں (مل سکتی)

(40) یا یہ کہ کافر کے دل میں کفر کی تاریکی کی حالت ایسی ہے جیسے بڑے گہرے سمندر کے اندرونی اندھیرے کہ اس سمندر کو ایک بڑی موج نے ڈھانپ لیا ہو بلکہ اس لہر کے اوپر دوسری لہر ہو اور پھر اس کے اوپر بادل ہو، یہی حالت کافر کے دل کی ہے کہ اس کے دل میں جو گندگی اور تاریکی ہے وہ سمندر کی تاریکی کی طرح ہے اور اس کے دل کی حالت بڑے گہرے سمندر کی سی ہے اور اس کا سینہ اس لہر کی طرح ہے جس نے سمندر کی اصلی سطح کو ڈھانپ لیا ہو اور اس کے اعمال کی مثال اس اوپر والے بادل کی طرح ہے کہ جس سے کچھ بھی فائدہ نہیں حاصل ہوسکتا، اسی چیز کو اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں اور کانوں اور ان کے سینوں پر مہر لگا دی ہے سو یہ اوپر تلے بہت سے اندھیرے ہی اندھیرے ہیں تو ایسی تاریکیوں میں اگر کوئی اپنا ہاتھ نکال کردیکھنا چاہے تو دیکھنا تو درکنار دیکھنے کا احتمال بھی نہیں، اسی طرح کافر اپنے دل کی تاریکی کی شدت سے حق اور ہدایت کے راستہ کو نہیں دیکھ سکتا اور جس کو اللہ تعالیٰ دنیا میں نور معرفت نہ دے اس کے لیے آخرت میں بھی نور معرفت نہیں یا یہ کہ جس کو اللہ تعالیٰ دنیا میں دولت ایمان کے ساتھ سرفرازی نہ عطا فرمائے اس کے لیے آخرت میں بھی ایمان پر کچھ صلہ نہیں۔
Ayahs 24:41–42

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُسَبِّحُ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الطَّیْرُ صٰٓفّٰتٍ١ؕ كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَ تَسْبِیْحَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 24:41 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں خدا کی تسبیح کرتے ہیں اور پر پھیلائے ہوئے جانور بھی اور اور سب اپنی نماز اور تسبیح کے طریقے سے واقف ہیں اور جو کچھ وہ کرتے ہیں (سب) خدا کو معلوم ہے

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 24:42 in the Quran reader

اور آسمان اور زمین کی بادشاہی خدا ہی کے لئے ہے اور خدا ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے

(41۔ 42) اے محمد ﷺ کیا آپ کو بذریعہ قرآن کریم یہ بات معلوم نہیں ہوئی کہ سب اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتے ہیں جو آسمانوں میں فرشتے ہیں اور زمین میں جتنے مومنین ہیں بالخصوص پرند بھی اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتے ہیں جو پر پھیلائے ہوئے اڑتے پھرتے ہیں ان میں سے ہر ایک کو جو بھی اللہ تعالیٰ کے سامنے التجا کرے اور اس کی پاکی بیان کرے اپنی اپنی دعا اور تسبیح کا طریقہ معلوم ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ جو اللہ تعالیٰ سے دعا کرے اللہ تعالیٰ کو اس کی دعا اور جو اس کی پاکی بیان کرے اللہ تعالیٰ کو اس کی پاکی بیان کرنا معلوم ہے اور اللہ تعالیٰ کو ان سب کے افعال کا خواہ اچھے ہوں پورا علم ہے۔ اور آسمانوں کے خزانے یعنی بارش وغیرہ اور زمین کے خزانے یعنی نباتات وغیرہ سب اللہ ہی کے قبضہ قدرت میں ہیں اور مرنے کے بعد سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
Ayah 24:43

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُزْجِیْ سَحَابًا ثُمَّ یُؤَلِّفُ بَیْنَهٗ ثُمَّ یَجْعَلُهٗ رُكَامًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ وَ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ جِبَالٍ فِیْهَا مِنْۢ بَرَدٍ فَیُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَصْرِفُهٗ عَنْ مَّنْ یَّشَآءُ١ؕ یَكَادُ سَنَا بَرْقِهٖ یَذْهَبُ بِالْاَبْصَارِؕ Open ayah 24:43 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا ہی بادلوں کو چلاتا ہے پھر ان کو آپس میں ملا دیتا ہے اور ان کو تہ بہ تہ کردیتا ہے پھر تم دیکھتے ہو کہ بادل میں سے مینہ نکل (کر برس) رہا ہے اور آسمان میں جو (اولوں کے) پہاڑ ہیں ان سے اولے نازل کرتا ہے تو جس پر چاہتا ہے اسکو برسا دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے ہٹا دیتا ہے اور بادل میں جو بجلی ہوتی ہے اسکی چمک آنکھوں کو (خیرہ کر کے بینائی کو) اچکے لئے جاتی ہے

(43) کیا تمہیں یہ بات معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ ایک بادل کو دوسرے کی طرف چلا تا ہے اور پھر اس بادل کے مجموعہ کو ایک دوسرے سے ملا دیتا ہے پھر اس کو تہہ بہ تہہ کرتا ہے پھر تو بارش کو دیکھتا ہے کہ ان بادلوں کے بیچ میں سے نکل کر آتی ہے اور پھر اسی بادل سے یعنی اس کے بڑے بڑے حصوں سے اولے برساتا ہے اور پھر ان اولوں سے جو اس سزا کا مستحق ہوتا ہے اس پر گرا کر اس کو سزا دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے اپنے اس عذاب کو ہٹا دیتا ہے۔ اور اس بادل میں سے جو بجلی پیدا ہوتی ہے اس کی چمک کی تیزی کی یہ حالت ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا یہ بینائی چھین لے گی۔
Ayah 24:44

یُقَلِّبُ اللّٰهُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 24:44 in the Quran reader

اور خدا ہی رات اور دن کو بدلتا رہتا ہے اہل بصارت کے لئے اس میں بڑی عبرت ہے

(44) اور اللہ تعالیٰ رات اور دن کو بھی بدلتا رہتا ہے کہ رات ختم ہوئی اور دن آیا اور دن پورا کیا تو رات کو لایا ان تمام مذکورہ بالا چیزوں میں دین میں سمجھ وبصیرت رکھنے والوں یا صرف آنکھوں سے دیکھنے والوں کے لیے استدلال کا موقع ہے۔
Ayah 24:45

وَ اللّٰهُ خَلَقَ كُلَّ دَآبَّةٍ مِّنْ مَّآءٍ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى بَطْنِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى رِجْلَیْنِ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰۤى اَرْبَعٍ١ؕ یَخْلُقُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 24:45 in the Quran reader

اور خدا ہی نے ہر چلنے پھرنے والے جاندار کو پانی سے پیدا کیا تو ان میں سے بعضے ایسے ہیں کہ پیٹ کے بل چلتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو دو پاؤں پر چلتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو چار پاؤں پر چلتے ہیں خدا جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے بیشک خدا ہر چیز پر قادر ہے

(45) اور اللہ تعالیٰ ہی نے ہر ایک چلنے والے جانور کو نر اور مادہ کے پانی سے پیدا کیا تو کچھ تو وہ جانور ہیں جو اپنے پیٹ کے بل چلتے ہیں جیسا کہ مویشی وغیرہ اللہ تعالیٰ جس طرح چاہتا ہے پیدا کرتا اور وہ ہر مرتبہ پیدا کرنے پر قادر ہے۔
Ayah 24:46

لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 24:46 in the Quran reader

ہم ہی نے روشن آیتیں نازل کی ہیں اور خدا جس کو چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف ہدایت کرتا ہے

(46) ہم نے بذریعہ جبریل امین اوامرو نواہی کے واضح احکامات اور دلائل نازل فرمائے اور اللہ تعالیٰ جس کو اہل سمجھتا ہے اسے پسندیدہ دین اسلام کی طرف خاص ہدایت فرماتا ہے۔
Ayah 24:47

وَ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالرَّسُوْلِ وَ اَطَعْنَا ثُمَّ یَتَوَلّٰى فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓئِكَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:47 in the Quran reader

اور (بعض لوگ) کہتے ہیں کہ ہم خدا پر اور رسول پر ایمان لائے اور (ان کا) حکم مان لیا پھر اس کے بعد ان میں سے ایک فرقہ پھرجاتا ہے اور یہ لوگ صاحب ایمان ہی نہیں ہیں

(47) یہ آیت مبارکہ حضرت عثمان بن عفان ؓ کی قوم کے بارے میں نازل ہوئی ہے حضرت عثمان ؓ اور حضرت علی ؓ کے درمیان ایک زمین کے بارے جھگڑا چل رہا تھا اور حضرت عثمان ؓ ، حضرت علی ؓ کے ساتھ رسول اکرم ؓ کی خدمت میں فیصلہ کے لیے جارہے تھے تو ان کی قوم نے ان کو جانے سے منع کیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کی مذمت فرمائی۔ کہ قوم عثمان ؓ دعوی تو کرتی ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر سچائی کے ساتھ ایمان لے آئے اور جس چیز کا ہمیں حکم دیا گیا اسے ہم نے دل سے مانا، پھر اس ایمان و اطاعت کے دعوے کے بعد ان کا ایک گروہ حکم الہی سے سرتابی کرتا ہے اور یہ لوگ اپنے ایمان میں سچے نہیں۔
Ayah 24:48

وَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 24:48 in the Quran reader

اور جب ان کو خدا اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ (رسول خدا) ان کا قضیہ چکا دیں تو ان میں سے ایک فرقہ منہ پھیر لیتا ہے

(48) اور جب یہ لوگ اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی طرف اس غرض سے بلائے جاتے ہیں کہ رسول کتاب خداوندی اور حکم خداوندی کے مطابق ان کے درمیان فیصلہ کردیں تو ان میں سے ایک گروہ کتاب اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ سے پہلوتہی کرتا ہے۔ شان نزول : (آیت) ”۔ واذا دعوا الی اللہ ورسولہ“۔ (الخ) ابن ابی حاتم ؒ نے حضرت حسن بصری ؒ سے مرسلا روایت کیا ہے کہ جب کسی انسان کا دوسرے شخص سے جھگڑا ہوتا تھا اور وہ رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں بلایا جاتا تھا اور اگر وہ حق پر ہوتا تھا اور کلی طور پر اسے اس بات کا یقین ہوتا تھا کہ فیصلہ اس کے حق میں ہوگا (تو چلاآتا تھا) اور جس وقت یہ سمجھتا تھا کہ اس نے کسی پر ظلم کیا ہے پھر اس کو رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں بلایا جاتا تھا تو روگردانی کرتا تھا کہ فلاں کے پاس چلو اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
Ayah 24:49

وَ اِنْ یَّكُنْ لَّهُمُ الْحَقُّ یَاْتُوْۤا اِلَیْهِ مُذْعِنِیْنَؕ Open ayah 24:49 in the Quran reader

اور اگر (معاملہ) حق (ہو اور) ان کو (پہنچتا) ہو تو ان کی طرف مطیع ہو کر چلے آتے ہیں

(49) اور اتقاق سے ان کے حق میں فیصلہ ہو تو خوشی خوشی تیزی کے ساتھ رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں چلے آئیں۔
Ayah 24:50

اَفِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَمِ ارْتَابُوْۤا اَمْ یَخَافُوْنَ اَنْ یَّحِیْفَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ رَسُوْلُهٗ١ؕ بَلْ اُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ۠ Open ayah 24:50 in the Quran reader

کیا ان کے دلوں میں بیماری ہے یا (یہ) شک میں ہیں یا ان کو یہ خوف ہے کہ خدا اور اس کا رسول ان کے حق میں ظلم کریں گے ؟ (نہیں) بلکہ یہ خود ظالم ہیں

(50) آیا اس کا سبب یہ ہے کہ ان کے دلوں میں شک ونفاق کا مرض یا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے بارے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں یا ان کو یہ اندیشہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول فیصلہ میں ان پر ظلم نہ کرنے لگیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ خود اپنے نفسوں پر ظلم کرتے ہیں اور اپنے ایمان میں یہ سچے نہیں بلکہ ان کے اندر نفاق کا مرض ہے۔
Ayah 24:51

اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 24:51 in the Quran reader

مومنوں کی تو یہ بات ہے کہ جب خدا اور اس کے رسول کی طرف بلائے جائیں تاکہ وہ ان میں فیصلہ کریں تو کہیں کہ ہم نے (حکم) سن لیا اور مان لیا اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں

(51) اب اللہ تعالیٰ کامل مومنوں کا ذکر فرماتا ہے جیسا کہ حضرت عثمان ؓ نے فرمایا تھا کہ میں تمہارے ساتھ رسول اکرم ﷺ کے پاس جاؤں گا اور آپ ہمارے درمیان جو فیصلہ فرمائیں گے میں اس پر راضی ہوں تو اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریف فرمائی کہ خالص ایمان والوں کی شان اور ان کا قول تو یہ ہے کہ جس وقت ان کو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ رسول ان کے درمیان خدائی فیصلہ فرمائے تو وہ بخوشی کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے قبول کیا اور جس چیز کا ہمیں حکم دیا گیا ہے اس کو ہم نے مان لیا اور یہی حضرات یعنی حضرت عثمان ؓ اللہ تعالیٰ کے غصہ اور اس کی ناراضگی سے آخرت میں فلاح پائیں گے۔
Ayah 24:52

وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَخْشَ اللّٰهَ وَ یَتَّقْهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 24:52 in the Quran reader

اور جو شخص خدا اور اسکے رسول کی فرمانبرداری کرے گا اور اس سے ڈرے گا تو ایسے ہی لوگ مراد کو پہنچنے والے ہیں

(52) اور اگلی آیت بھی حضرت عثمان بن عفان ؓ کے بارے میں ان کی اس درخواست پر نازل ہوئی، انہوں نے عرض کیا تھا اللہ کی قسم یا رسول اللہ ﷺ اگر آپ کی رضا ہو تو میں اپنا سارا مال اللہ تعالیٰ کے راستہ میں خیرات کر دوں، چناچہ اللہ تعالیٰ ان کی تعریف میں فرما رہے ہیں کہ جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اور سابقہ چیزوں پر اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور آئندہ اس کی مخالفت سے بچے، ایسے ہی حضرات جنت حاصل کر کے بامراد اور دوزخ سے دور ہوں گے۔
Ayah 24:53

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ اَمَرْتَهُمْ لَیَخْرُجُنَّ١ؕ قُلْ لَّا تُقْسِمُوْا١ۚ طَاعَةٌ مَّعْرُوْفَةٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 24:53 in the Quran reader

اور (یہ) خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر تم ان کو حکم دو تو (سب گھروں سے) نکل کھڑے ہوں کہہ دو کہ قسمیں مت کھاؤ پسندیدہ فرمانبرداری (درکار ہے) بیشک خدا تمہارے اعمال سے خبردار ہے

(53) اور حضرت عثمان ؓ قسم کھا رہے ہیں کہ اگر آپ حکم دیں تو سارا مال اللہ کے راستے میں نکال دیں، آپ ان سے فرما دیجیے اطاعت وفرمانبرداری کرو جو تم پر فرض ہے اللہ تعالیٰ کو نیکی وبدی کی پوری خبر ہے۔
Ayah 24:54

قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْهِ مَا حُمِّلَ وَ عَلَیْكُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ١ؕ وَ اِنْ تُطِیْعُوْهُ تَهْتَدُوْا١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 24:54 in the Quran reader

کہہ دو کہ خدا کی فرمانبرداری کرو اور رسول خدا کے حکم پر چلو اگر منہ موڑو گے تو رسول پر (اس چیز کا ادا کرنا) جو ان کے ذمے ہے اور تم پر (اس چیز کا ادا کرنا) ہے جو تمہارے ذمے ہے اور اگر تم ان کے فرمان پر چلو گے تو سیدھا راستہ پالو گے اور رسول کے ذمہ تو صاف صاف (احکام خدا کا) پہنچا دینا ہے

(54) اور آپ حضرت عثمان ؓ سے فرما دیجیے کہ فرائض میں اللہ تعالیٰ کی اور سنن و احکام میں رسول اکرم ﷺ کی اطاعت کرو پھر اگر تم لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت سے روگردانی کرو گے تو سمجھ لو کہ رسول کے ذمہ تو وہی تبلیغ کا کام ہے اور تمہارے ذمہ اطاعت اور فرمانبرداری کا کام ہے۔ سو اگر تم نے احکام اللہ میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرلی تو گمراہی سے نکل کر سیدھے راستے پر جا لگو گے اور رسول کے ذمہ احکام خداوندی صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہے۔
Ayah 24:55

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١۪ وَ لَیُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِیْنَهُمُ الَّذِی ارْتَضٰى لَهُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا١ؕ یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِكُوْنَ بِیْ شَیْئًا١ؕ وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 24:55 in the Quran reader

جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان سے خدا کا وعدہ ہے کہ ان کو ملک کا حاکم بنا دے گا جیسا ان سے پہلے لوگوں کو حاکم بنایا تھا اور ان کے دین کو جسے اس نے ان کے لئے پسند کیا ہے مستحکم و پائدار کرے گا اور خوف کے بعد ان کو امن بخشے گا وہ میری عبادت کریں گے (اور) میرے ساتھ کسی اور کو شریک نہ بنائیں گے اور جو اس کے بعد کفر کرے تو ایسے لوگ بد کردار ہیں

(55) اے اصحاب محمد ﷺ تم میں جو لوگ ایمان لائیں اور نیک کام کریں ان سے اللہ تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے کہ ان کو یکے بعد دیگرے زمین پر حکومت عطا فرمائے گا جیسا کہ ان سے پہلے لوگوں کو یعنی بنی اسرائیل میں سے یوشع بن نون اور کالب بن یوقنا کو حکومت دی تھی یا یہ کہ ان کو سرزمین مکہ میں اتارے گا جیسا کہ ان سے پہلے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن کے ہلاک کرنے کے بعد اتارا اور جس دین کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے پسند فرمایا ہے اس کو غلبہ دے گا اور مکہ مکرمہ میں جو ان کو اپنے دشمن کا خوف ہے تو ان کے دشمن کے ہلاک کرنے کے بعد اس کو مبدل باامن کر دے گا بشرطیکہ مکہ مکرمہ میں میری عبادت کریں اور میرے ساتھ ان بتوں وغیرہ میں سے کسی قسم کا شرک نہ کریں اور جو شخص بعد ظہور اس غصہ اور امن کے ناشکری کرے گا تو یہ لوگ بےحکم ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”۔ وعد اللہ الذین امنوا منکم“۔ (الخ) امام حاکم ؒ نے ابی بن کعب ؓ سے روایت نقل کی ہے اور طبرانیرحمۃ اللہ علیہ نے اس کی تصحیح کی ہے کہ رسول اکرم ﷺ اور صحابہ کرام جس وقت مدینہ منورہ تشریف لائے اور انصار نے ان کو پناہ دی تو تمام عرب ان کی مخالفت پر متفق ہوگئے چناچہ رات کو بھی ہتھیار پاس رکھ کر سوتے تھے اور بغیر ہتھیار کے کہیں نہیں جاتے تھے چناچہ ان لوگوں نے کہا کہ تم دیکھ رہے ہو ہم اس طرح زندگی گزار رہے ہیں اور ایک وقت ایسا آئے گا کہ ہم ایسے اطمینان کے ساتھ رات گزاریں گے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کا خوف نہیں ہوگا، اس وقت یہ آیت نازل ہوئی یعنی تم میں جو لوگ ایمان لائیں اور نیک عمل کریں، ان سے اللہ تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے کہ ان کو زمین میں حکومت عطا فرمائے گا اور ابن ابی حاتم ؒ نے حضرت براء ؓ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ ہمارے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے اور ہم اس وقت سخت پریشانی کی حالت میں تھے۔
Ayah 24:56

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 24:56 in the Quran reader

اور نماز پڑھتے رہو اور زکوٰۃ دیتے رہو اور پیغمبر خدا کے فرمان پر چلتے رہو تاکہ تم پر رحمت کی جائے

(56) اور پانچوں نمازوں کی پابندی رکھو اور اپنے اموال کی زکوٰۃ دیا کرو اور احکامات میں رسول اکرم ﷺ کی اطاعت کیا کرو، تاکہ تم پر رحم کیا جائے اور تمہیں عذاب نہ دیا جائے۔
Ayah 24:57

لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ وَ لَبِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 24:57 in the Quran reader

اور ایسا خیال نہ کرنا کہ کافر لوگ غالب آجائیں گے (وہ جا ہی کہاں سکتے ہیں) ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے

(57) اے محمد ﷺ کفار مکہ کے متعلق یہ خیال مت کرنا کہ وہ عذاب الہی سے زمین میں بھی چھٹکارا پا جائیں گے اور آخرت میں تو ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے کہ شیاطین سمیت اس میں داخل ہوں گے۔
Ayah 24:58

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِیَسْتَاْذِنْكُمُ الَّذِیْنَ مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْكُمْ ثَلٰثَ مَرّٰتٍ١ؕ مِنْ قَبْلِ صَلٰوةِ الْفَجْرِ وَ حِیْنَ تَضَعُوْنَ ثِیَابَكُمْ مِّنَ الظَّهِیْرَةِ وَ مِنْۢ بَعْدِ صَلٰوةِ الْعِشَآءِ١ؕ۫ ثَلٰثُ عَوْرٰتٍ لَّكُمْ١ؕ لَیْسَ عَلَیْكُمْ وَ لَا عَلَیْهِمْ جُنَاحٌۢ بَعْدَهُنَّ١ؕ طَوّٰفُوْنَ عَلَیْكُمْ بَعْضُكُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:58 in the Quran reader

مومنو ! تمہارے غلام لونڈیاں اور جو بچے تم میں سے بلوغ کو نہیں پہنچے تین دفعہ (یعنی تین اوقات میں) تم سے اجازت لیا کریں (ایک تو) نماز صبح سے پہلے اور (دوسرے گرمی کی دوپہر کو) جب تم کپڑے اتار دیتے ہو اور (تیسرے) عشاء کی نماز کے بعد (یہ) تین (وقت) تمہارے پردے (کے) ہیں ان کے (آگے) پیچھے (یعنی دوسرے وقتوں میں) نہ تم پر کچھ گناہ ہے نہ ان پر کہ کام کاج کے لئے ایک دوسرے کے پاس آتے رہتے ہو اس طرح خدا اپنی آیتیں تم سے کھول کھول کر بیان فرماتا ہے اور خدا بڑا علم والا اور حکمت والا ہے

(58) اے ایمان والو تمہارے پاس آنے کے لیے تمہارے چھوٹے غلاموں کو اور تمہارے آزادوں کو جو ابھی تک حد بلوغ کو نہیں پہنچے، تین وقتوں میں اجازت لینی چاہیے ایک تو صبح صادق کے وقت نماز صبح سے پہلے اور دوپہر کو آرام کے وقت ظہر کی نماز پڑھنے تک اور تیسرے نماز عشاء کے بعد سے صبح صادق تک، یہ تین وقت تمہارے پردہ اور خلوت کے ہیں، حضرت عمر فاروق ؓ نے فرمایا تھا کہ میری خواہش ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ان تینوں خلوت کے وقتوں میں ہمارے بچوں اور خادموں کو بلااجازت آنے کی ممانعت فرما دے چناچہ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ ان اوقات کے علاوہ پھر بلااجازت آنے جانے کی اللہ تعالیٰ نے اجازت مرحمت فرما دی، چناچہ فرمایا کہ ان تین اوقات کے علاوہ نہ گھر والوں پر کوئی الزام ہے اور نہ ان نابالغ لڑکوں اور خادموں پر کیوں کہ وہ بکثرت تمہارے پاس آتے جاتے رہتے ہیں کوئی کسی کے پاس کوئی کسی کے پاس اور بہرحال بڑے غلام اور نوجوان لڑکے ان کو آنے کے لیے ہر مرتبہ اجازت لینا ضروری ہے اللہ تعالیٰ اسی طرح تم سے اوامرو نواہی کو کھول کھول کر بیان کرتا رہتا ہے جیسا کہ ان احکامات کو بیان کیا اور اللہ تعالیٰ تمہاری مصلحتوں کو جاننے والا اور حکمت والا ہے، چناچہ بڑوں کو آنے کے لیے ہر مرتبہ اجازت لینے کا حکم دیا۔
Ayah 24:59

وَ اِذَا بَلَغَ الْاَطْفَالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ فَلْیَسْتَاْذِنُوْا كَمَا اسْتَاْذَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:59 in the Quran reader

اور جب تمہارے لڑکے بالغ ہوجائیں تو ان کو بھی اسی طرح اجازت لینی چاہیے جس طرح ان سے اگلے (یعنی بڑے آدمی) اجازت حاصل کرتے رہے ہیں اس طرح خدا تم سے اپنی آیتیں کھول کھول کر سناتا ہے اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

(59) اور جس وقت تمہارے نابالغ لڑکے اور غلام حد بلوغ کو پہنچیں تو ان کو بھی ہر وقت آنے کے لیے اسی طرح اجازت لینی چاہیے جیسا کہ ان سے بڑی عمر والے ان کے بھائی اجازت لیتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ احکام بیان فرمائے اسی طرح وہ تم سے اپنے اوامرو نواہی بیان کرتا رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ تمہاری مصلحتوں کا جاننے والا اور حکمت والا ہے کہ بڑوں کو ہر وقت آنے جانے کے لیے اجازت لینے کا حکم فرمایا۔ اور بڑی بوڑھی عورتیں جن کو حیض آنا بند ہوگیا ہو اور ان کو کسی سے شادی کرنے کی کوئی امید اور خواہش نہ باقی رہی ہو تو ان کو اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ وہ اپنے زیادہ کپڑے یعنی چادر وغیرہ اتار دیں، بشرطیکہ کسی نامحرم کے سامنے مواقع زینت کا اظہار نہ کریں جیسا کہ چہرہ وغیرہ لیکن اگر نامحرم کے سامنے اس کے کھولنے سے بھی احتیاط رکھیں اور چادر سے مواقع زینت کو چھپا لیں یہ ان کے لیے اظہار سے بہتر ہے۔ اور اللہ تعالیٰ تمہاری سب باتوں کو سنتا ہے اور تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے۔
Ayah 24:60

وَ الْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ الّٰتِیْ لَا یَرْجُوْنَ نِكَاحًا فَلَیْسَ عَلَیْهِنَّ جُنَاحٌ اَنْ یَّضَعْنَ ثِیَابَهُنَّ غَیْرَ مُتَبَرِّجٰتٍۭ بِزِیْنَةٍ١ؕ وَ اَنْ یَّسْتَعْفِفْنَ خَیْرٌ لَّهُنَّ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:60 in the Quran reader

اور بڑی عمر کی عورتیں جن کو نکاح کی توقع نہیں رہی اور وہ دوپٹے اتار کر سر ننگا کرلیا کریں تو ان پر کچھ گناہ نہیں بشرطیکہ اپنی زینت کی چیزیں نہ ظاہر کریں اور اگر اس سے بھی بچیں تو یہ ان کے حق میں بہتر ہے اور خدا سنتا جانتا ہے

(60) جس وقت یہ آیت کریمہ نازل ہوئی (آیت) ”لیس علی الاعمی“۔ تو صحابہ کرام ؓ اس آیت کے نزول کے بعد ایک دوسرے کے ساتھ کھانے پینے میں تنگی محسوس کرنے لگے تھے کہ مبادا کسی کی حق تلفی ہوجائے اور اس سے ڈرنے لگے تھے بالخصوص محتاجوں کے ساتھ کھانے پینے میں اللہ تعالیٰ نے مشترک طریقہ پرکھانے پینے کی اجازت مرحمت فرما دی۔ چناچہ ارشاد فرمایا اندھے کے ساتھ بیٹھ کر کھانے والے پر کسی قسم کا کوئی گناہ نہیں اور نہ لنگڑے آدمی کے ساتھ کھانے میں کوئی حرج ہے اور بیمار کے ساتھ کھانے میں اور نہ خود تمہارے لیے اس بات میں کوئی حرج ہے کہ تم لوگ اپنی اولاد کے گھروں سے بغیر اجازت کے عدل و انصاف کے ساتھ کھانا کھالو یا اپنے باپ کے گھر سے اپنی ماؤں کے گھر سے یہ اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے کھانے یا کسی کو کھلانے میں ہر ایک طریقہ سے کوئی مضائقہ نہیں یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا ان کے گھروں سے جن کے مالوں کی چابیاں تمہارے اختیار میں ہیں یعنی غلام، لونڈیاں یا اپنے دوستوں کے گھروں سے مالک بن زید اور حارث بن عمار دونوں دوست تھے ان کے بارے میں یہ آخری جملہ نازل ہوا اور پھر اس چیز میں بھی تم پر کوئی گناہ نہیں کہ سب مل کر عدل و انصاف کے ساتھ کھاؤ یا الگ الگ کھاؤ اس آیت میں اندھے، لنگڑے اور بیمارسب شامل ہوگئے۔ پھر جب تم اپنے گھروں یا مساجد میں جانے لگا کرو اور وہاں کوئی نہ ہو تو خود کو سلام کرلیا کرو یعنی السلام علینا من ربنا کہہ لیا کرو جو تمہارے لیے دعا کے طور پر اللہ کی طرف سے مقرر ہے اور یہ ثواب ملنے کی وجہ سے برکت والی چیز اور مغفرت کے ساتھ عمدہ چیز ہے۔ جیسا کہ یہ احکام اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائے ہیں اسی طرح وہ امر و نواہی بیان فرماتا ہے تاکہ جس چیز کا تمہیں حکم دیا گیا ہے تم اس کو سمجھو۔ شان نزول : (آیت) ”۔ لیس علی الا عمی حرج“۔ (الخ)
Ayah 24:61

لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِیْضِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ اَنْ تَاْكُلُوْا مِنْۢ بُیُوْتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اٰبَآئِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اُمَّهٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اِخْوَانِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخَوٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَعْمَامِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ عَمّٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخْوَالِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ خٰلٰتِكُمْ اَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَّفَاتِحَهٗۤ اَوْ صَدِیْقِكُمْ١ؕ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْكُلُوْا جَمِیْعًا اَوْ اَشْتَاتًا١ؕ فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُیُوْتًا فَسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ تَحِیَّةً مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُبٰرَكَةً طَیِّبَةً١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 24:61 in the Quran reader

نہ تو اندھے پر کچھ گناہ ہے اور نہ لنگڑے پر اور نہ بیمار پر اور نہ خود تم پر کہ اپنے گھروں سے کھانا کھاؤ یا اپنے باپوں کے گھروں سے یا اپنی ماؤں کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا اس گھر سے جس کی کنجیاں تمہارے ہاتھ میں ہوں یا اپنے دوستوں کے گھروں سے (اور اسکا بھی) تم پر کچھ گناہ نہیں کہ سب مل کر کھانا کھاؤ یا جدا جدا اور جب گھروں میں جایا کرو تو اپنے (گھر والوں کو) سلام کیا کرو (یہ) خدا کی طرف سے مبارک (اور) پاکیزہ (تحفہ) ہے اس طرح خدا اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو

(61) عبدالرزاق ؒ نے بواسطہ معمر ابن ابی نجیح ؒ مجاہد سے روایت کیا ہے کہ ایک آدمی لنگڑے، اندھے، اور بیمار کو اپنے باپ یا بھائی یا بہن یا پھوپھی یا خالہ کے گھر لے جایا کرتا تھا تو یہ محتاج اس چیز میں تنگی محسوس کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہمیں دوسروں کے گھر لے جایا جاتا ہے تو یہ آیت کریمہ ان کے حق میں اجازت کے طور پر نازل ہوگئی کہ نہ تو اندھے آدمی کے لیے کچھ مضائقہ ہے۔ اور ابن جریر ؒ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ جس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ (آیت) ”یایھا الذین امنوا لا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل ‘۔ (الخ) نازل فرمائی، اس آیت کو سن کر صحابہ کرام ؓ ڈر گئے اور کہنے لگے کہ کھانا تو اور اموال سے افضل ہے تو لہذا ہم میں سے کسی کو کسی کے یہاں کھانا حلال نہیں ہے تو سب نے اس سے احتیاط کرنا شروع کردی، اس پر اللہ تعالیٰ نے (آیت) ”لیس علی الاعمی“۔ مفاتحۃ“۔ تک یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ نیز ضحاک سے روایت کیا ہے کہ مدینہ والے رسول اکرم ﷺ کی بعثت سے پہلے اپنے ساتھ اندھے بیمار اور لنگڑے کو کھانا نہیں کھلایا کرتے تھے کیوں کہ اندھا آدمی تو عمدہ کھانوں کو نہیں دیکھ سکتا اور بیمار تندرست کی طرح خوب سیر ہو کر کھانا نہیں کھا سکتا اور لنگڑا کھانے میں مزاحمت نہیں کرسکتا تو اللہ تعالیٰ نے انکے ساتھ کھلانے میں اجازت دے دی۔ نیز مقیم ؒ سے روایت کیا ہے کہ اندھے اور لنگڑے کے ساتھ کھانے سے ڈرتے تھے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ثعلبی نے اپنی تفسیر میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ حضرت حارث ؓ رسول اکرم ﷺ کے ساتھ جہاد پر روانہ ہوئے اور اپنے گھر والوں کی نگرانی کے لیے خالد بن زید کو چھوڑ دیا، چناچہ خالد بن زید ؓ کو ان کے گھر سے کھانا کھاتے ہوئے ایک حجاب سا ہوا اور خالد مفلس آدمی تھے تب یہ آیت نازل ہوئی۔ شان نزول : (آیت) ”۔ لیس علیکم جناح“۔ (الخ) بزار ؒ نے سند صحیح کے ساتھ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ صحابہ کرام ؓ رسول اکرم ﷺ کے ساتھ سفر میں جانے کو پسند کرتے تھے چناچہ وہ اپنے اموال کی کنجیاں اپنے محتاجوں کو دید یا کرتے تھے اور ان سے کہہ دیا کرتے تھے کہ ہم نے تمہیں اجازت دے دی ہے جو تمہاری طبیعت چاہے سو کھاؤ مگر وہ پسماندہ حضرات کہتے تھے کہ ہمارے لیے ان کی چیزوں کا کھانا حلال نہیں ہے کیوں کہ انہوں نے ہمیں خوشی سے اجازت نہیں دی اس پر اللہ تعالیٰ نے (آیت) ”لیس علیکم“۔ ”۔ او ما ملکت مفاتحہ“۔ (الخ) تک آیت نازل فرمائی، یعنی ان گھروں سے جن کی کنجیاں تمہارے اختیار میں ہیں، کھانے میں کوئی حرج نہیں۔ اور ابن جریر ؒ نے زہری سے روایت کیا ہے کہ ان سے دریافت کیا کہ کیا وجہ ہے آیت کریمہ ”۔ لیس علی الاعمی“۔ (الخ) میں اندھے لنگڑے اور بیمار کا ذکر کیا گیا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ اس چیز کے بارے میں مجھے عبداللہ بن عبداللہ نے بیان کیا کہ مسلمان جہاد کے لیے تشریف لے جاتے تو اپنے محتاجوں کو گھروں پر چھوڑ جاتے اور انھیں اپنے گھروں کی چابیاں دے جاتے اور ان سے کہہ جاتے کہ ہم نے تمہیں مکمل اختیار دید یا ہے جو ہمارے گھروں میں ہے سو کھاؤ پیو مگر وہ لوگ اس چیز میں تنگی محسوس کرتے اور کہتے کہ ان کی عدم موجودگی میں ہم ان کے گھروں میں نہیں جائیں گے تو یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ نے ان حضرات کو اجازت دینے کے لیے نازل فرمائی ہے، نیز قتادہ ؒ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت کریمہ عرب کے ایک قبیلہ کے بارے میں نازل ہوئی، اس قبیلہ کا کوئی بھی فرد تنہا کھانا نہیں کھاتا تھا اور اپنا دن کا کھانا اٹھا کر رکھ لیتا تھا جب تک کہ اس کو ساتھ کھانے کے لیے کوئی نہ ملے جب کوئی ساتھی مل جاتا تب کھاتا اور نیز عکرمہ ؓ اور ابو صالح ؓ سے روایت کیا ہے کہ انصار کے یہاں جب کوئی مہمان آجاتا تھا تو جب تک مہمان ان کے ساتھ کھانا نہ کھاتا اس وقت تک یہ بھی کھانا نہ کھاتے تھے چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس چیز کی اجازت مرحمت فرمانے کے لیے یہ آیت نازل فرمائی۔
Ayah 24:62

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اِذَا كَانُوْا مَعَهٗ عَلٰۤى اَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ یَذْهَبُوْا حَتّٰى یَسْتَاْذِنُوْهُ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ۚ فَاِذَا اسْتَاْذَنُوْكَ لِبَعْضِ شَاْنِهِمْ فَاْذَنْ لِّمَنْ شِئْتَ مِنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:62 in the Quran reader

مومن تو وہی ہیں جو خدا پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور جب کبھی ایسے کام کے لئے جو جمع ہو کر کرنے کا ہو پیغمبر خدا کے پاس جمع ہوں تو ان سے اجازت لیے بغیرچلے نہیں جاتے اے پیغمبر ﷺ جو لوگ تم سے اجازت حاصل کرتے ہیں وہی خدا پر اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں سو جب یہ لوگ تم سے کسی کام کے لئے اجازت مانگا کریں تو ان میں سے جسے چاہا کرو اجازت دیدیا کرو اور ان کے لئے خدا سے بخشش مان گا کرو کچھ شک نہیں کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے

(62) سچے ایماندار تو وہی ہیں جو ظاہر و باطن کے ساتھ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں اور جب رسول اکرم ﷺ کے ساتھ جمعہ کی نماز کے لیے ہوتے ہیں یا آپ کے ساتھ کسی جہاد پر ہوتے ہیں تو جب تک آپ سے اجازت نہ لے لیں تو جمعہ یا جہاد سے واپس نہیں جاتے، اے پیغمبر ﷺ جو لوگ آپ سے ایسے موقع پر اجازت لیتے ہیں بس وہی اللہ پر اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان رکھتے ہیں۔ حضرت عمر فاروق ؓ کو غزوہ تبوک میں ایک ضروری کام کے لیے آپ سے جانے کی اجازت طلب کریں تو ان میں سے آپ جس کو چاہیں اجازت دے دیا کریں اور اجازت دینے کے بعد بھی آپ ان کے لیے مغفرت کی دعا کیجیے بیشک اللہ تعالیٰ تائب کو بخشنے والا اور اس پر بڑا مہربان ہے۔ شان نزول : (آیت) ”۔ انما المؤمنون الذین امنوا“۔ (الخ) ابن اسحاق ؒ نے اور بیہقی ؒ نے دلائل میں عروہ اور محمد بن کعب قرضی سے روایت کیا ہے کہ احزاب کے سال جس وقت قریش مقابلہ کے لیے آئے تو انہوں نے مدینہ منورہ کے قریب مجمع الاسیال میں پڑاؤ ڈالا اور ان کا سپہ سالار ابوسفیان تھا، ادھر سے قبیلہ غطفان آیا اور اس نے احد پہاڑ کے کنارے پر پڑاؤ کیا، رسول اکرم ﷺ کو اس چیز کی اطلاع ہوئی تو آپ نے مدینہ منورہ کے باہر خندق کھودنے کا حکم دیا چناچہ آپ نے اور صحابہ کرام ؓ نے خندق کھودنی شروع کی چناچہ منافقین نے ٹال مٹول شروع کردی آتے اور معمولی ساکام کرکے بغیر آپ کی اجازت کے اس طریقہ پر کہ آپ کو معلوم نہ ہو سکے اپنے گھروں کی طرف چلے جاتے تھے اور مسلمانوں میں سے جب کسی آدمی کو بہت ضروری کام پیش آجاتا تو اپنے اس کام کا رسول اکرم ﷺ سے تذکرہ کرتا اور اپنے کام کے پورا کرنے کی آپ سے اجازت طلب کرتا، چناچہ اس کو اجازت دے دی جاتی جب وہ اپنے کام سے فارغ ہوجاتا تو پھر فورا واپس آجا تا تھا تو ایسے مومنین کی تعریف میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی ہے کہ سچے مومن تو وہی ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں۔
Ayah 24:63

لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا١ؕ قَدْ یَعْلَمُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ یَتَسَلَّلُوْنَ مِنْكُمْ لِوَاذًا١ۚ فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ یُصِیْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 24:63 in the Quran reader

مومنو ! پیغمبر کے بلانے کو ایسا خیال نہ کرنا جیسا تم آپس میں ایک دوسرے کو بلاتے ہو بیشک خدا کو وہ لوگ معلوم ہیں جو تم میں سے آنکھ بچا کر چل دیتے ہیں تو جو لوگ ان کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں ان کو ڈرنا چاہیے کہ (ایسا نہ ہو کہ) ان پر کوئی آفت پڑجائے یا تکلیف دینے والا عذاب نازل ہو

(63) اور تم لوگ رسول اکرم ﷺ کو اپ کا نام لے کر ایک دوسرے کی طرح مت پکارو بلکہ تعظیم و توقیر اور عظمت کے ساتھ آپ کو پکارو کہ یا نبی اللہ اور یا رسول اللہ کہہ کر آواز دو۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو دوسروں کی آڑ میں ہو کر تم میں سے مجلس نبوی ﷺ سے کھسک جاتے تھے، منافقین مسجد نبوی میں سے جس وقت نکلتے تو بغیر اجازت کے اس طرح سے کھسکتے تھے کہ کوئی ان کو دیکھنے نہ پائے۔ سو جو لوگ رسول اکرم ﷺ یا حکم خداوندی کی مخالفت کرتے ہیں ان کو اس چیز سے ڈرنا چاہیے کہ ان پر کوئی آٖت نہ آن پڑے یا کوئی درد ناک عذاب نازل نہ ہوجائے۔ شان نزول : (آیت) ”۔ لا تجعلوا دعآء الرسول بینکم“۔ (الخ) ابونعیم ؒ نے دلائل میں ضحاک ؒ کے واسطہ سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ صحابہ کرام ؓ آپ کو یا محمد ﷺ یا ابو القاسم کہا کرتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا کہ تم لوگ رسول اکرم ﷺ کا نام لے کر ایک دوسرے کی طرح مت پکارو، چناچہ اس کے بعد صحابہ کرام ؓ نے یا نبی اللہ ﷺ یا رسول اللہ ﷺ کہنا شروع کردیا۔
Ayah 24:64

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قَدْ یَعْلَمُ مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ١ؕ وَ یَوْمَ یُرْجَعُوْنَ اِلَیْهِ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 24:64 in the Quran reader

دیکھو جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے جس (طریق) پر تم وہ اسے جانتا ہے اور جس روز لوگ اسکی طرف لوٹائے جائیں گے تو جو عمل وہ (لوگ) کرتے رہے وہ ان کو بتادے گا اور خدا ہر چیز سے واقف ہے

(64) تمام مخلوقات اللہ ہی کی مملکت ہیں اللہ تعالیٰ اس حالت کو بھی جانتا ہے جس پر تم اب ہو یعنی ایمان و کفر تصدیق وتکذیب اخلاص ونفاق اور استقامت وتذبذب وغیرہ اور اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کو بھی جانتا ہے جس دن سب اس کے پاس لائے جائیں گے، پھر اللہ تعالیٰ ان سب کو جتا دے گا جو کچھ انہوں نے دنیا میں کیا تھا اور وہ ان کے اعمال سے بخوبی واقف ہے۔