21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 21:81

وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ عَاصِفَةً تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖۤ اِلَى الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا١ؕ وَ كُنَّا بِكُلِّ شَیْءٍ عٰلِمِیْنَ Open ayah 21:81 in the Quran reader

اور ہم نے تیز ہوا سلیمان کے تابع (فرمان) کردی تھی جو ان کے حکم سے اس ملک میں چلتی تھی جس میں ہم نے برکت دی تھی (یعنی شام) اور ہم ہر چیز سے خبردار ہیں

(81) اور ہم نے سلیمان ؑ کے لیے تیز ہوا کو تابع بنادیا تھا اور وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے، یا یہ کہ سلیمان ؑ کے حکم سے اصطخر سے اس سرزمین کی طرف چلتی، جس میں ہم نے پھلوں وغیرہ کی برکت رکھی ہے یعنی شام، اردن، فلسطین کی طرف اور ہم ہر چیز کو جانتے ہیں، اس لیے ہم نے سلیمان ؑ کے لیے ان چیزوں کو مسخر کیا۔
Ayah 21:82

وَ مِنَ الشَّیٰطِیْنِ مَنْ یَّغُوْصُوْنَ لَهٗ وَ یَعْمَلُوْنَ عَمَلًا دُوْنَ ذٰلِكَ١ۚ وَ كُنَّا لَهُمْ حٰفِظِیْنَۙ Open ayah 21:82 in the Quran reader

اور دیووں (کی جماعت کو بھی ان کے تابع کردیا تھا کہ ان) میں سے بعض ان کے لئے غوطہ مارتے تھے اور اس کے سوا اور کام بھی کرتے تھے اور ہم ان کے نگہبان تھے

(82) اور شیاطین یعنی جنات میں سے بھی ہم نے ایسوں کو مسخر کردیا تھا جو سلیمان ؑ کے لیے دریاؤں میں غوطہ لگایا کرتے تھے تاکہ جواہرات اور موتی سمندروں میں سے نکال کر ان کے پاس لائیں اور وہ اس غوطہ زنی کے علاوہ سلیمان ؑ کے لیے تعمیرات کے بھی کام کیا کرتے تھے اور ان جنات کے سنبھالنے والے ہم تھے تاکہ ان میں سے کوئی کسی پر زیادتی نہ کرے۔
Ayah 21:83

وَ اَیُّوْبَ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ Open ayah 21:83 in the Quran reader

اور ایوب (کو یاد کرو) جب انہوں نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ مجھے ایذا ہو رہی ہے اور تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے ولا ہے

(83) اور ایوب ؑ کے قصہ کا ذکر کیجیے جب کہ انہوں نے شدید مرض میں مبتلا ہونے کے بعد اپنے رب کو پکارا کہ مجھے بہت سخت جسمانی تکلیف پہنچ رہی ہے آپ مہربانی فرمائیں اور اس تکلیف سے مجھے نجات دیں۔
Ayah 21:84

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ فَكَشَفْنَا مَا بِهٖ مِنْ ضُرٍّ وَّ اٰتَیْنٰهُ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَ ذِكْرٰى لِلْعٰبِدِیْنَ Open ayah 21:84 in the Quran reader

تو ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور جو ان کو تکلیف تھی وہ دور کردی اور ان کو بال بچے عطا فرمائے اور اپنی مہربانی سے ان کے ساتھ اتنے ہی اور (بخشے) اور عبادت کرنے والوں کے لئے یہ نصیحت ہے

(84) سو ہم نے ان کی دعا قبول کی اور ان کو جو تکلیف تھی اس کو دور کردیا اور جنت میں ہم نے ان کا کنبہ جو دنیا میں ہلاک ہوگیا تھا عطا کیا اور جتنا ہلاک ہوگیا تھا اس کے برابر اس دنیا میں بھی عطا کیا یہ سب اپنی خاص رحمت کے سبب سے اور مومنین کے لیے یادگار کے سبب سے۔
Ayahs 21:85–86

وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِدْرِیْسَ وَ ذَا الْكِفْلِ١ؕ كُلٌّ مِّنَ الصّٰبِرِیْنَۚۖ Open ayah 21:85 in the Quran reader

اور اسماعیل اور ادریس اور ذوالکفل کو (بھی یاد کرو) یہ سب صبر کرنے والے تھے

وَ اَدْخَلْنٰهُمْ فِیْ رَحْمَتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 21:86 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو اپنی رحمت میں داخل کیا، بلاشبہ وہ نیکوکار تھے۔

(85۔ 86) اور اسماعیل ؑ اور ادرس ؑ اور ذوالکفل ؑ کا بھی تذکرہ کیجیے یہ سب احکام الہیہ تشریعیہ، وتکوینیہ پر ثابت قدم رہنے والے لوگوں میں سے تھے، ہم ان کو آخرت میں اپنی جنت میں داخل کریں گے اور ذوالکفل ؑ کے علاوہ یہ سب نبی تھے اور ذوالکفل ؑ نبی نہیں تھے بلکہ ایک صالح نیکوکار شخص تھے۔
Ayah 21:87

وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ١ۖۗ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ Open ayah 21:87 in the Quran reader

اور ذو النون کو (یاد کرو) جب وہ (اپنی قوم سے ناراض ہو کر) غصے کی حالت میں چل دیئے اور خیال کیا کہ ہم ان پر قابو نہیں پاسکیں گے، آخر اندھیرے میں (خدا کو) پکارنے لگے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے (اور) بیشک میں قصوروار ہوں

(87) اور مچھلی والے پیغمبر یعنی حضرت یونس ؑ کا بھی ذکر کیجیے جب کہ وہ اپنے بادشاہ سے ناراض ہو کر چل دیے اور انہوں نے یہ سمجھا کر ہم اس دن کے چلے جانے پر کوئی پکڑ نہیں کریں گے (اللہ کے حکم سے ان کو مچھلی نگل گئی) پس انہوں نے اندھیروں میں پکارا، ایک اندھیرا دریا کا، دوسرا مچھلی کے پیٹ کا، تیسرا مچھلی کی آنتوں کا، غرض کہ ان تاریکیوں میں دعا کی کہ آپ کے سوا کوئی معبود نہیں آپ پاک ہیں، میں آپ کے حضور توبہ کرتا ہوں، بیشک میں قصور وار ہوں کہ بغیر آپ کے حکم کے ناراض ہوا۔
Ayah 21:88

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ١ۙ وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 21:88 in the Quran reader

تو ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور ان کو غم سے نجات بخشی اور ایمان والوں کو ہم اسی طرح نجات دیا کرتے ہیں

(88) ہم نے ان کی دعا کو قبول کرلیا اور ان کو تاریکیوں سے نجات دی اور اسی طرح ہم اور ایمان والوں کو بھی غم و پریشانی سے دعا کے وقت نجات دیا کرتے ہیں۔
Ayah 21:89

وَ زَكَرِیَّاۤ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ رَبِّ لَا تَذَرْنِیْ فَرْدًا وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْوٰرِثِیْنَۚۖ Open ayah 21:89 in the Quran reader

اور زکریا کو (یاد کرو) جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ پروردگار مجھے اکیلا نہ چھوڑو اور تو سب سے بہتر وارث ہے

(89) اور اے محمد ﷺ آپ زکریا ؑ کے قصہ کا ذکر کیجیے جب کہ انہوں نے دعا کی کہ اے میرے پروردگار مجھے لاوارث تنہا بغیر کسی مددگار کے نہ رکھیے، یوں تو سب مددگاروں سے بہتر آپ ہی ہیں۔
Ayah 21:90

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ١٘ وَ وَهَبْنَا لَهٗ یَحْیٰى وَ اَصْلَحْنَا لَهٗ زَوْجَهٗ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ یَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَّ رَهَبًا١ؕ وَ كَانُوْا لَنَا خٰشِعِیْنَ Open ayah 21:90 in the Quran reader

تو ہم نے ان کی پکار سن لی اور ان کو یحییٰ بخشا اور ان کی بیوی کو اولاد کے قابل بنادیا یہ لوگ لپک لپک کر نیکیاں کرتے اور ہمیں امید اور خوف سے پکارتے اور ہمارے آگے عاجزی کیا کرتے تھے

(90) سو ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور ان کو نیک بخت فرزند یحییٰ ؑ عطا کیا اور ان کی بیوی کو اولاد کے قابل کردیا۔ یہ انبیاء کرام ؑ یا یہ کہ حضرت زکریا ؑ اور یحییٰ ؑ نیک کاموں کی طرف سبقت کرتے تھے اور اس طرح ہمیں پکارتے تھے یا یہ کہ جنت کی امید اور دوزخ کے خوف کے ساتھ ہماری عبادت کیا کرتے تھے اور ہمارے سامنے تواضع اور اطاعت کے ساتھ رہتے تھے۔
Ayah 21:91

وَ الَّتِیْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِیْهَا مِنْ رُّوْحِنَا وَ جَعَلْنٰهَا وَ ابْنَهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:91 in the Quran reader

اور ان (مریم) کو (بھی یاد کرو) جنہوں نے اپنی عفت کو محفوظ رکھا تو ہم نے ان میں اپنی روح پھونک دی اور ان کو ان کے بیٹے کو اہل عالم کے لئے نشانی بنادیا

(91) اور حضرت مریم ؑ کا بھی ذکر کیجیے، جنہوں نے اپنی عزت کو بچایا پھر ان کے گریبان میں ہمارے حکم سے جبریل ؑ نے ہماری روح پھونک دی اور ہم نے ان کو اور ان کے فرزند کو دنیا جہاں والوں کے لیے خاص کر بنی اسرائیل کے لیے اپنی قدرت کی نشانی بنا دی۔
Ayah 21:92

اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً١ۖ٘ وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 21:92 in the Quran reader

یہ تمہاری جماعت ایک ہی جماعت ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں تو میری ہی عبادت کیا کرو

(92) کہ بغیر باپ کے لڑا پیدا ہوا اور مردوں میں سے بغیر کسی کے ہاتھ لگائے اور قریب آئے حضرت مریم ؑ کے ولادت باسعادت ہوئی اے لوگو یہ ہے تمہارا پسندیدہ طریقہ اور وہ ایک ہی طریقہ ہے اور حاصل یہ کہ میں تمہارا رب حقیقی وحدہ لاشریک ہوں، میری ہی اطاعت کیا کرو،
Ayah 21:93

وَ تَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ١ؕ كُلٌّ اِلَیْنَا رٰجِعُوْنَ۠ Open ayah 21:93 in the Quran reader

اور یہ لوگ اپنے معاملے میں باہم متفرق ہوگئے (مگر) سب ہماری طرف رجوع کرنے والے ہیں

(93) اگر لوگوں نے اس حقیقت کے باوجود اپنے درمیان اپنے دین میں اختلاف پیدا کرلیا ہے اور یہودیوں نے علیحدہ دین اور عیسائیوں نے علیحدہ اور مجوس نے اپنا علیحدہ طریقہ اختیار کرلیا ہے تو باقی ہر ایک گروہ ہمارے پاس آنے والا ہے۔
Ayah 21:94

فَمَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا كُفْرَانَ لِسَعْیِهٖ١ۚ وَ اِنَّا لَهٗ كٰتِبُوْنَ Open ayah 21:94 in the Quran reader

جو نیک کام کرے گا اور مومن بھی ہوگا تو اس کی کوشش رائیگاں نہ جائے گی اور ہم اس کے لئے (ثواب اعمال) لکھ رہے ہیں

(94) سو جو شخص اللہ تعالیٰ کی اطاعت وفرمانبرداری کرتا ہوگا اور وہ اپنے ایمان میں سچا بھی ہوگا تو اس کے اعمال صالحہ کا ثواب ضائع نہیں جائے گا بلکہ اسے اس کے اعمال پر ثواب دیا جائے گا اور ہم اس کو بدلہ اور ثواب دینے والے ہیں اور یہ کہ ہم ان کے اعمال لکھ لیتے ہیں اور ان کی حفاظت کرنے والے ہیں۔
Ayah 21:95

وَ حَرٰمٌ عَلٰى قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَاۤ اَنَّهُمْ لَا یَرْجِعُوْنَ Open ayah 21:95 in the Quran reader

اور جس بستی (والوں) کو ہم نے ہلاک کردیا محال ہے کہ (وہ دنیا کی طرف رجوع کریں) وہ رجوع نہیں کریں گے

(95) اور مکہ والوں کے لیے جیسا کہ ابوجہل اور اس کے ساتھی ہیں جن کو ہم نے کفر کے ساتھ ذلیل کیا ہے ان کے لیے توفیق اور ہدایت ناممکن ہے کہ وہ اپنے کفر کو چھوڑ کر ایمان اختیار کریں یا یہ مطلب ہے کہ مکہ والوں میں سے جن لوگوں کو ہم نے بدر کے دن تہ تیغ کرکے ہلاک کردیا ہے، ان کے لیے دنیا میں لوٹ کر آنا ناممکن ہے۔
Ayah 21:96

حَتّٰۤى اِذَا فُتِحَتْ یَاْجُوْجُ وَ مَاْجُوْجُ وَ هُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ Open ayah 21:96 in the Quran reader

یہاں تک کہ یاجوج اور ماجوج کھول دیئے جائیں اور وہ ہر بلندی سے دوڑ رہے ہوں

(96) یہاں تک کہ جب یاجوج ماجوج کھول دیے جائیں گے اور قیامت قائم ہوگی، تو اس وقت یہ لوگ اپنی قبروں سے نکلیں گے اور وہ یاجوج ماجوج غایت کثرت کی وجہ سے ہر ایک ٹیلا اور بلندی سے نکلتے معلوم ہوں گے اور ان کے سد ذوالقرنین (ذوالقرنین بادشاہ کی بنائی ہوئی دیوار) سے نکلنے کے وقت قیامت بالکل قریب آجائے گی۔
Ayah 21:97

وَ اقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ فَاِذَا هِیَ شَاخِصَةٌ اَبْصَارُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ یٰوَیْلَنَا قَدْ كُنَّا فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا بَلْ كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:97 in the Quran reader

اور (قیامت کا) سچا وعدہ قریب آجائے تو ناگاہ کافروں کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں (اور وہ کہنے لگیں کہ) ہائے شامت ہم اس (حال) سے غفلت میں رہے بلکہ ہم (اپنے حق میں) ظالم تھے

(97) بس پھر یہ قصہ ہوگا، کہ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کے انکار کرنے والوں کی ایک دم سے آنکھیں ذلیل و خوار ہو کر پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔ اور یوں کہتے نظر آئیں گے ہائے ہماری کم بختی ہم اس دن سے غفلت میں تھے بلکہ حقیقتا ہم رسول اکرم ﷺ اور قرآن کے منکر تھے۔
Ayah 21:98

اِنَّكُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ Open ayah 21:98 in the Quran reader

(کافر اس روز) تم اور جن کی تم خدا کے سوا عبادت کرتے ہو دوزخ کا ایندھن ہونگے (اور) تم (سب) اس میں داخل ہو کر رہوگے

(98) بیشک اے مکہ والو تم اور تمہارے یہ بت سب دوزخ کا ایندھن ہیں اور تم سب اور یہ تمہارے بت دوزخ میں داخل ہوں گے۔ شان نزول : (آیت) ”انکم وما تعبدون“۔ (الخ) امام حاکم ؒ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ جس وقت یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی تو ابن زبعری نے کہا کہ چاند سورج، ستارے، فرشتے، اور حضرت عزیر ؑ ان کی پرستش ہوتی ہے، یہ سب ہمارے معبودوں کے ساتھ دوزخ میں جائیں گے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی، (آیت) ”ان الذین سبقت“۔ (الخ) یعنی جن حضرات کے لیے جنت مقدر ہوچکی، وہ دوزخ سے اس قدر دور رہیں گے کہ اس کی آہٹ بھی نہ سنیں گے اور دوسری یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ”ولما ضرب مریم مثلا“۔ تا ”۔ خصمون“۔ (الخ)
Ayah 21:99

لَوْ كَانَ هٰۤؤُلَآءِ اٰلِهَةً مَّا وَرَدُوْهَا١ؕ وَ كُلٌّ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 21:99 in the Quran reader

اگر یہ لوگ (درحقیقت) معبود ہوتے تو اس میں داخل نہ ہوتے اور سب اس میں ہمیشہ (جلتے) رہیں گے

(99) اگر یہ بت واقعی تمہارے معبود ہوتے تو اس جہنم میں کیوں داخل ہوتے یہ سب عابد و معبود اس دوزخ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے داخل ہوں گے۔
Ayah 21:100

لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّ هُمْ فِیْهَا لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 21:100 in the Quran reader

وہاں ان کو چلانا ہوگا اور اس میں (کچھ) نہ سن سکیں گے

(100) اور ان کا دوزخ میں شور و غل اور گدھے جیسی آوازیں ہوں گی (معاذ اللہ) اور وہ دوزخی رحمت وشفاعت دوزخ سے نکلنے اور نرمی کی کوئی بات بھی نہ سنیں گے اور نہ وہاں دیکھیں گے۔
Ayahs 21:101–102

اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰۤى١ۙ اُولٰٓئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَۙ Open ayah 21:101 in the Quran reader

جن لوگوں کے لئے ہماری طرف سے پہلے بھلائی مقرر ہوچکی ہے وہ اس سے دور رکھے جائیں گے

لَا یَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَهَا١ۚ وَ هُمْ فِیْ مَا اشْتَهَتْ اَنْفُسُهُمْ خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 21:102 in the Quran reader

(یہاں تک کہ) اس کی آواز بھی تو نہیں سنیں گے، اور جو کچھ ان کا جی چاہے گا اس میں (یعنی ہر طرح کے عیش اور لطف میں) ہمیشہ رہیں گے

(101۔ 102) اور جن حضرات کے لیے ہماری طرف سے جنت مقدور ہوچکی ہے جیسا کہ حضرت عیسیٰ و عزیر ؑ وہ دوزخ سے نجات میں رہیں گے اور اس سے اس قدر دور رکھے جائیں گے کہ اس کی آہٹ بھی نہ سنیں گے اور وہ لوگ اپنی پسند کی چیزوں سمیت جنت میں ہمیشہ رہیں گے ،
Ayah 21:103

لَا یَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ وَ تَتَلَقّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ١ؕ هٰذَا یَوْمُكُمُ الَّذِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 21:103 in the Quran reader

ان کو (اس دن کا) بڑا بھاری خوف غمگین نہیں کرے گا، اور فرشتے ان کو لینے آئیں گے (اور کہیں گے) یہی وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا

(103) اور جب دوزخ بھری جائے گی اور موت کو مینڈھے کی شکل میں جنت اور دوزخ کے درمیان ذبح کیا جائے گا یہ بھی ان کو غم میں نہ ڈالے گی اور جنت کے دروازے پر ان حضرات کا فرشتے بشارت و خوشخبری دینے کے ساتھ استقبال کریں گے اور کہیں گے یہ ہے وہ تمہارا دن جس کا دنیا میں تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ (آیت) ”۔ انکم وما تعبدون“۔ سے لے کر یہاں تک یہ آیت عبداللہ بن زبعری کے بارے میں نازل ہوئی اس نے جو رسول اکرم ﷺ سے بتوں کے بارے میں جھگڑا کیا تھا۔
Ayah 21:104

یَوْمَ نَطْوِی السَّمَآءَ كَطَیِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ١ؕ كَمَا بَدَاْنَاۤ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُهٗ١ؕ وَعْدًا عَلَیْنَا١ؕ اِنَّا كُنَّا فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:104 in the Quran reader

جس دن ہم آسمان کو اس طرح لپیٹ لیں جیسے خطوں کا طومار لپیٹ لیتے ہیں، جس طرح ہم نے (کائنات کو) پہلے پیدا کیا تھا اسی طرح دوبارہ پیدا کردیں گے (یہ) وعدہ (جس کا پورا کرنا لازم) ہے، ہم ایسا ضرور کرنے والے ہیں

(104) اور قیامت کا دن بھی یاد کرنے کے قابل ہے کہ جس دن ہم آسمانوں کو اپنے دائیں ہاتھ پر اس طرح لپیٹ لیں گے جس طرح لکھے ہوئے مضمون کا کاغذ لپیٹ لیا جاتا ہے اور جس طرح پہلی بار ان کو ہم نے نطفہ سے پیدا کیا تھا، اسی طرح پھر دوبارہ قبروں سے پیدا کردیں گے یہ ہمارے ذمہ وعدہ ہے ہم ضرور مرنے کے بعد پھر دوبارہ زندہ کریں گے۔
Ayah 21:105

وَ لَقَدْ كَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرِ مِنْۢ بَعْدِ الذِّكْرِ اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُهَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوْنَ Open ayah 21:105 in the Quran reader

اور ہم نے نصیحت (کی کتاب یعنی تورات) کے بعد زبور میں لکھ دیا تھا کہ میرے نیکو کار بندے ملک کے وارث ہوں گے

(105) اور ہم داؤد ؑ کی زبور میں توریت کے بعد لکھ چکے ہیں یا یہ مطلب ہے کہ ہم تمام آسمانی کتابوں میں لوح محفوظ میں لکھنے کے بعد لکھ چکے ہیں کہ سرزمین جنت کے مالک میرے مؤحد بندے ہوں گے یا یہ کہ ارض مقدسہ کے وارث بنی اسرائیل کے نیکوکار یا اخیر زمانہ کے نیکوکار ہوں گے اور وہاں اتریں گے۔
Ayah 21:106

اِنَّ فِیْ هٰذَا لَبَلٰغًا لِّقَوْمٍ عٰبِدِیْنَؕ Open ayah 21:106 in the Quran reader

عبادت کرنے والے لوگوں کے لئے اس میں (خدا کے حکموں کی) تبلیغ ہے

(106) بیشک اس قرآن حکیم میں مؤحدین کے لیے کافی مضمون ہے یا یہ کہ اوامرو نواہی کے ذریعے سے نصیحت ہے۔
Ayahs 21:107–108

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:107 in the Quran reader

اور (اے محمد !) ہم نے تم کو تمام جہاں کے لئے رحمت (بناکر) بھیجا ہے

قُلْ اِنَّمَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 21:108 in the Quran reader

کہہ دو کہ مجھ پر (خدا کی طرف سے) یہ وحی آئی ہے کہ تم سب کا معبود خدائے واحد ہے، تو تم کو چاہئے کہ فرمانبردار ہوجاؤ

(107۔ 108) اور اے محمد ﷺ ہم نے آپ کو اور کسی بات کے لیے رسول بنا کر نہیں بھیجا مگر جن وانس میں سے جو آپ پر ایمان لائے، اس پر عذاب سے رحمت ونعمت کے لیے بھیجا ہے۔ بس آپ فرما دیجیے کہ میرے پاس تو اس قرآن حکیم کے ذریعے سے یہ وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود حقیقی ایک ہی معبود وحدہ لاشریک ہے، اب بھی مکہ والو تم تم سچے دل سے توحید اور عبادت کا اقرار کرتے ہو یا نہیں۔
Ayah 21:109

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ اٰذَنْتُكُمْ عَلٰى سَوَآءٍ١ؕ وَ اِنْ اَدْرِیْۤ اَقَرِیْبٌ اَمْ بَعِیْدٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ Open ayah 21:109 in the Quran reader

پس اگر یہ لوگ منہ پھیریں تو کہہ دو کہ میں نے تم سب کو یکساں (احکام الہی) سے آگاہ کردیا ہے اور مجھ کو معلوم نہیں کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے (عن) قریب (آنیوالی) ہے یا (اس کا وقت) دور ہے

(109) پھر بھی اگر یہ لوگ ایمان اور اخلاص سے سرکشی کریں تو آپ ان سے فرما دیجیے کہ میں تمہیں واضح اطلاع کرچکا ہوں جس میں کچھ بھی پوشیدہ نہیں کہ میری مدد کی جائے گی اور تمہیں انکار پر سزا ملے گی ،
Ayah 21:110

اِنَّهٗ یَعْلَمُ الْجَهْرَ مِنَ الْقَوْلِ وَ یَعْلَمُ مَا تَكْتُمُوْنَ Open ayah 21:110 in the Quran reader

جو بات پکار کر کی جائے وہ اسے بھی جانتا ہے اور جو تم پوشیدہ کرتے ہو اس سے بھی واقف ہے

(110) باقی میں نہیں جانتا کہ وہ عذاب قریب ہے یا دور اللہ تعالیٰ کو تمہاری پکار اور کی ہوئی بات کی بھی خبر ہے اور جو بات تم دل میں رکھتے ہو یا جو کام چھپ کر کرتے ہو اس کی بھی خبر ہے۔
Ayah 21:111

وَ اِنْ اَدْرِیْ لَعَلَّهٗ فِتْنَةٌ لَّكُمْ وَ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 21:111 in the Quran reader

اور میں نہیں جانتا شاید وہ تمہارے لئے آزمائش ہو اور ایک مدت تک (تم اس سے) فائدہ (اٹھاتے رہو)

(111) اور تم پر کب عذاب نازل ہوگا، اس کی بھی اسی کو خبر ہے باقی پورے یقین سے میں نہیں جانتا شاید تاخیر عذاب تمہارے لیے امتحان ہو اور نزول عذاب کے وقت تک فائدہ پہنچانا ہو۔
Ayah 21:112

قٰلَ رَبِّ احْكُمْ بِالْحَقِّ١ؕ وَ رَبُّنَا الرَّحْمٰنُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ۠ Open ayah 21:112 in the Quran reader

(پیغمبر نے کہا) کہ اے میرے پروردگار ! حق کے ساتھ فیصلہ کردے اور ہمارا پروردگار بڑا مہربان ہے، اسی سے ان باتوں میں جو تم بیان کرتے ہو مدد مانگی جاتی ہے۔

(112) آپ فرما دیجیے کہ میرے اور مکہ والوں کے درمیان حق اور عدل کے موافق فیصلہ فرما دیجیے اور ہمارا رب بڑا مہربان ہے جس سے ہم ان جھوٹی باتوں کے مقابلہ میں مدد چاہتے ہیں جو تم بنایا کرتے ہو۔