19. Surah Maryam

مريمMary · 98 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 19:41

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِبْرٰهِیْمَ١ؕ۬ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّا Open ayah 19:41 in the Quran reader

اور کتاب میں ابراہیم کو یاد کرو بیشک وہ نہایت سچے پیغمبر تھے

(41) حضرت ابراہیم ؑ کا قصہ بیان کیجیے وہ اپنے ایمان کے ساتھ بڑے راست بازی اور اللہ تعالیٰ کے پیغمبر تھے۔
Ayah 19:42

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا یَسْمَعُ وَ لَا یُبْصِرُ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْكَ شَیْئًا Open ayah 19:42 in the Quran reader

جب انہوں نے اپنے باپ سے کہا کہ ابا آپ ایسی چیزوں کو کیوں پوجتے ہیں جو نہ سنیں اور نہ دیکھیں اور نہ آپ کے کچھ کام آسکیں ؟

(42) جب کہ انہوں نے اپنے باپ آزر سے کہا کہ اے میرے باپ تم اللہ تعالیٰ کے علاوہ ایسی چیزوں کی کیوں عبادت کرتے ہو جو نہ تمہاری پکار کو سنتے ہیں اور نہ تمہاری عبادت کو دیکھتے ہیں اور نہ عذاب الہی کے مقابلہ میں تمہاری کچھ مدد کرسکتے ہیں۔
Ayah 19:43

یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ قَدْ جَآءَنِیْ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ یَاْتِكَ فَاتَّبِعْنِیْۤ اَهْدِكَ صِرَاطًا سَوِیًّا Open ayah 19:43 in the Quran reader

ابا مجھے ایسا علم ملا ہے جو آپ کو نہیں ملا تو میرے ساتھ ہوجائیے میں آپ کو سیدھی راہ پر چلادوں گا

(43) میرے باپ میرے پاس اللہ کی طرف سے ایسا علم آیا ہے جو تمہارے پاس نہیں آیا وہ یہ کہ جو شخص غیر اللہ کے سوا کسی کی عبادت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے دوزخ کا عذاب دے گا۔ سو اللہ کے دین میں میری پیروی کرو میں تمہیں ایک سیدھا دین اسلام کا راستہ بتاؤں گا۔
Ayah 19:44

یٰۤاَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّیْطٰنَ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ عَصِیًّا Open ayah 19:44 in the Quran reader

ابا شیطان کی پرستش نہ کیجیے بیشک شیطان خدا کا نافرمان ہے

(44) میرے باپ بتوں کی عبادت کرنے میں شیطان کی بات ہرگز مت مانو، شیطان اللہ کی نافرمانی کرنے والا ہے۔
Ayah 19:45

یٰۤاَبَتِ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یَّمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ فَتَكُوْنَ لِلشَّیْطٰنِ وَلِیًّا Open ayah 19:45 in the Quran reader

ابا مجھے ڈر لگتا ہے کہ آپ کو خدا کا عذاب آپکڑے تو آپ شیطان کے ساتھی ہوجائیں

(45) میرے باپ اگر آپ ایمان نہ لائے تو مجھے ڈر ہے کہ تم پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی عذاب نہ نازل ہو پھر تم دوزخ میں شیطان کے ساتھی ہوجاؤ۔
Ayah 19:46

قَالَ اَرَاغِبٌ اَنْتَ عَنْ اٰلِهَتِیْ یٰۤاِبْرٰهِیْمُ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ لَاَرْجُمَنَّكَ وَ اهْجُرْنِیْ مَلِیًّا Open ayah 19:46 in the Quran reader

اس نے کہا ابراہیم کیا تو میرے معبودوں سے برگشتہ ہے ؟ اگر تو باز نہ آئے گا تو میں تجھے سنگسار کردوں گا اور تو ہمیشہ کے لئے مجھ سے دور ہوجا

(46) ان کے باپ آزر نے جواب دیا حضرت ابراہیم ؑ کیا تم میرے معبودوں کی عبادت سے منکر ہوگئے ہو اگر تم اپنی ان باتوں سے باز نہ آئے تو میں تمہیں قید کر دوں گا یا یہ کہ مار ڈالوں گا اور جب تک میں زندہ ہوں تم مجھ سے علیحدہ رہو یا یہ کہ مجھ سے اس قسم کی گفتگومت کرو یا یہ کہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مجھ سے کنارا کش ہوجاؤ۔
Ayah 19:47

قَالَ سَلٰمٌ عَلَیْكَ١ۚ سَاَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِیْ حَفِیًّا Open ayah 19:47 in the Quran reader

(ابراہیم نے) سلام علیک کہا (اور کہا کہ) میں آپ کے لئے اپنے پروردگار سے بخشش مانگوں گا۔ بیشک وہ مجھ پر نہایت مہربان ہے

(47) حضرت ابراہیم ؑ نے فرمایا سلامتی ہو آپ اب میں تمہارے لیے اپنے رب سے دعا کروں گا وہ میری باتوں سے کو خوب جانتا ہے، اگر اس کی مرضی ہوگی تو میری دعا قبول فرما لے گا۔
Ayah 19:48

وَ اَعْتَزِلُكُمْ وَ مَا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ اَدْعُوْا رَبِّیْ١ۖ٘ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوْنَ بِدُعَآءِ رَبِّیْ شَقِیًّا Open ayah 19:48 in the Quran reader

اور میں آپ لوگوں سے اور جن کو آپ خدا کے سوا پکارا کرتے ہیں ان سے کنارہ کرتا ہوں اور اپنے پروردگار ہی کو پکاروں گا امید ہے کہ میں اپنے پروردگار کو پکار کر محروم نہیں رہوں گا

(48) اور میں تم لوگوں سے اور جن بتوں کی تم عبادت کرتے ہو سب سے علیحدگی اختیار کرتا ہوں اور بس میں اپنے رب کی عبادت کروں گا کیوں کہ مجھے امید اور یقین ہے کہ میں اپنے رب کی عبادت کرکے محروم نہیں رہوں گا۔
Ayah 19:49

فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۙ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ وَ كُلًّا جَعَلْنَا نَبِیًّا Open ayah 19:49 in the Quran reader

اور جب ابراہیم ان لوگوں سے اور جن کی وہ خدا کے سوا پرستش کرتے تھے ان سے الگ ہوگئے تو ہم نے ان کو اسحاق اور (اسحاق) کو یعقوب بخشے اور سب کو پیغمبر بنایا

(49) چناچہ جب حضرت ابراہیم ؑ ان لوگوں اور ان بتوں سے علیحدہ ہوگئے تو ہم نے ان کو حضرت (اسحاق ؑ بیٹا اور (حضرت یعقوب ؑ پوتا عطا کیا۔
Ayah 19:50

وَ وَهَبْنَا لَهُمْ مِّنْ رَّحْمَتِنَا وَ جَعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِیًّا۠ Open ayah 19:50 in the Quran reader

اور ان کو اپنی رحمت سے (بہت سی چیزیں) عنایت کیں اور ان کا ذکر جمیل بلند کیا

(50) اور ہم نے حضرت ابراہیم ؑ ، حضرت اسحاق ؑ اور حضرت یعقوب (علیہم السلام) ان میں سے ہر ایک کو نبوت واسلام کے ساتھ سرفرازی عطا فرمائی اور ان میں سے ہر ایک کو ہم نے اپنی خاص نعمت و رحمت سے نیک اولاد اور رزق حلال عطا کیا اور ہم نے ان کو یہ سرفرازی عطا فرمائی کہ ہر ایک ان کا تعظیم اور تعریف کے ساتھ ذکر کرتا ہے۔
Ayah 19:51

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مُوْسٰۤى١٘ اِنَّهٗ كَانَ مُخْلَصًا وَّ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّا Open ayah 19:51 in the Quran reader

اور کتاب میں موسیٰ کا بھی ذکر کرو بیشک وہ (ہمارے) برگزیدہ اور پیغمبر مرسل تھے

(51) حضرت موسیٰ ؑ کا بھی ذکر کیجیے، وہ کفر وشرک اور تمام بری باتوں سے پاک اور عبادت و توحید کے لیے اللہ تعالیٰ کے خاص کیے ہوئے بندے تھے، اور ان کو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی طرف نبی اور رسول بنا کر بھیجا تھا۔
Ayah 19:52

وَ نَادَیْنٰهُ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ الْاَیْمَنِ وَ قَرَّبْنٰهُ نَجِیًّا Open ayah 19:52 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو طور کی داہنی جانب پکارا اور باتیں کرنے کے لئے نزدیک بلایا

(52) اور ہم نے حضرت موسیٰ ؑ کو کوہ طور کے دائیں جانب سے آواز دی اور ہم نے ان کو مصاحب خاص بنایا یہاں تک کہ قلم کی آواز انہوں نے سنی۔
Ayah 19:53

وَ وَهَبْنَا لَهٗ مِنْ رَّحْمَتِنَاۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ نَبِیًّا Open ayah 19:53 in the Quran reader

اور اپنی مہربانی سے انکو ان کا بھائی ہارون پیغمبر عطا کیا

(53) اور ہم نے ان کو راز کی باتیں کرنے کے لیے مصاحب خاص بنایا اور ہم نے اپنی نعمت سے ان کو اور ان کے بھائی ہارون کو نبی بنا کر ان کا وزیر اور مددگار بنایا۔
Ayah 19:54

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِسْمٰعِیْلَ١٘ اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّاۚ Open ayah 19:54 in the Quran reader

اور کتاب میں اسمعیل کا بھی ذکر کرو وہ وعدہ کے سچے اور (ہمارے) بھیجے ہوئے نبی تھے

(54) اور حضرت اسمعیل ؑ کا بھی ذکر کیجیے، یقینا وہ وعدے کے بڑے سچے تھے اور اپنی قوم کی طرف بھیجے گئے رسول بھی تھے اور احکام خداوندی سنانے والے بھی تھے۔
Ayah 19:55

وَ كَانَ یَاْمُرُ اَهْلَهٗ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ١۪ وَ كَانَ عِنْدَ رَبِّهٖ مَرْضِیًّا Open ayah 19:55 in the Quran reader

اور اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم کرتے تھے اور اپنے پروردگار کے ہاں پسندیدہ (وبرگزیدہ) تھے

(55) اور وہ اپنی قوم کو نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ وصدقات دینے کا بھی حکم دیا کرتے تھے اور وہ اپنے پروردگار کے نزدیک پسندیدہ تھے۔
Ayahs 19:56–57

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِدْرِیْسَ١٘ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّاۗۙ Open ayah 19:56 in the Quran reader

اور کتاب میں ادریس کا بھی ذکر کرو وہ بھی نہایت سچے نبی تھے

وَّ رَفَعْنٰهُ مَكَانًا عَلِیًّا Open ayah 19:57 in the Quran reader

اور ہم نے انکو اونچی جگہ اٹھا لیا تھا

(56۔ 57) اور قرآن کریم میں حضرت ادریس ؑ کا بھی ذکر کیجیے بیشک وہ اپنے ایمان میں بڑے سچے نبی تھے اور ہم نے ان کو جنت میں بلند مرتبہ تک پہنچایا۔
Ayah 19:58

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ مِنْ ذُرِّیَّةِ اٰدَمَ١ۗ وَ مِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ١٘ وَّ مِنْ ذُرِّیَّةِ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْرَآءِیْلَ١٘ وَ مِمَّنْ هَدَیْنَا وَ اجْتَبَیْنَا١ؕ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ بُكِیًّا۩ Open ayah 19:58 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جن پر خدا نے پیغمبروں میں سے فضل کیا (یعنی) اولاد آدم میں سے اور ان لوگوں میں سے جن کو ہم نے نوح کے ساتھ (کشتی میں) سوار کیا اور ابراہیم اور یعقوب کی اولاد میں سے اور ان لوگوں میں سے جن کو ہم نے ہدایت دی اور برگزیدہ کیا جب ان کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی تھیں تو سجدے میں گرپڑتے اور روتے رہتے تھے

(57) اور جن حضرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یعنی حضرت ابراہیم ؑ ، حضرت اسمعیل ؑ ، حضرت اسحاق ؑ ، حضرت یعقوب ؑ ، حضرت موسیٰ ؑ ، حضرت ہارون ؑ ، حضرت عیسیٰ ؑ ، حضرت زکریا ؑ حضرت یحییٰ ؑ ، حضرت ادریس ؑ ، اسی طرح دیگر تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے نبوت و رسالت اور اسلام کے ساتھ خاص انعام فرمایا ہے یہ سب حضرت آدم ؑ کی نسل میں سے تھے اور کچھ ان میں سے ان لوگوں کی نسل میں سے تھے جن کو ہم نے نوح ؑ کے ساتھ ان کی اولاد میں سے کشتی میں سوار کیا تھا اور بعض ان میں سے حضرت ابراہیم ؑ کی اولاد یعنی حضرت اسماعیل ؑ و حضرت اسحاق ؑ کی اولاد میں سے تھے اور بعض ان میں سے حضرت یعقوب ؑ کی نسل یعنی حضرت یوسف ؑ اور ان کے بھائیوں کی اولاد میں سے تھے اور ان لوگوں میں سے جن کو ہم نے ایمان کے ساتھ سرفرازی عطا فرمائی اور اسلام اور رسول اکرم ﷺ کی پیروی کی توفیق کی بناء پر منتخب کیا وغیرہ جیسا کہ حضرت عبدالسلام وغیرہ جب ان حضرات کے سامنے اللہ تعالیٰ کی آیات جن میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا بھی ذکر ہوتا ہے تو سجدہ کرتے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے خوف سے روتے ہوئے گر جاتے ہیں۔
Ayah 19:59

فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّاۙ Open ayah 19:59 in the Quran reader

پھر ان کے بعد چند ناخلف ان کے جانشنیں ہوئے جنہوں نے نماز کو (چھوڑ دیا گو یا اسے) کھو دیا اور خواہشات نفسانی کے پیچھے لگ گئے سو عنقریب ان کو گمراہی (کی سزا) ملے گی

(59) پھر ان انبیاء کرام اور صالحین کے بعد ایسے ناخلف پیدا ہوئے جنہوں نے نماز کو چھوڑ دیا اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا اور دنیا میں نفسانی لذتوں اور خواہشات کی پیروی کی اور سگی بہنوں سے شادی کرنا شروع کردی، یہ نالائق یہود ہیں سو یہ لوگ عنقریب غیتی وادی جہنم میں گریں گے۔
Ayah 19:60

اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاُولٰٓئِكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ شَیْئًاۙ Open ayah 19:60 in the Quran reader

ہاں جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور عمل نیک کئے تو ایسے لوگ بہشت میں داخل ہوں گے اور ان کا ذرا نقصان نہ کیا جائے گا

(60) البتہ ان یہودیوں میں سے جس نے توبہ کرلی اور رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لے آیا اور نیک کام کرنے لگا تو ایسے لوگ جنت میں جائیں گے کہ انکی نیکیوں میں کسی قسم کی کمی نہیں کی جائے گی اور نہ ان کی برائیوں میں اضافہ کیا جائے گا۔
Ayahs 19:61–62

جَنّٰتِ عَدْنِ اِ۟لَّتِیْ وَعَدَ الرَّحْمٰنُ عِبَادَهٗ بِالْغَیْبِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ وَعْدُهٗ مَاْتِیًّا Open ayah 19:61 in the Quran reader

(یعنی) بہشت جاودانی (میں) جس کا خدا نے اپنے بندوں سے وعدہ کیا ہے (اور جو کوئی آنکھوں سے) پوشیدہ (ہے) بیشک اس کا وعدہ (نیکوکاروں کے سامنے) آنے والا ہے

لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا اِلَّا سَلٰمًا١ؕ وَ لَهُمْ رِزْقُهُمْ فِیْهَا بُكْرَةً وَّ عَشِیًّا Open ayah 19:62 in the Quran reader

وہ اس میں سلام کے سوا کوئی بیہودہ کلام نہ سنیں گے اور ان کے لئے صبح وشام کھانا تیار ہوگا

(61۔ 62) اب اللہ تعالیٰ جس جنت میں یہ لوگ جائیں گے اس کے اوصاف بیان فرما رہا ہے یعنی ان ہمیشہ رہنے والے باغوں میں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے غائبانہ وعدہ فرمایا ہے اور اس کا وعدہ ضرور پورا ہوگا اور یہ لوگ جنت میں فضول جھوٹی قسمیں نہ سننے پائیں گے سوائے اکرام و اعزاز کے طور پر ایک دوسرے کو سلام کرنے کے اور ان کو جنت میں دنیا کے انداز سے صبح وشام کھانا ملا کرے گا۔
Ayah 19:63

تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْ نُوْرِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِیًّا Open ayah 19:63 in the Quran reader

یہی وہ جنت ہے جس کا ہم اپنے بندوں میں سے ایسے شخص کو وارث بنائیں گے جو پرہیزگار ہوگا

(63) اور یہ جنت ایسا مقام ہے کہ ہم اپنے بندوں میں سے ایسے لوگوں کو اس میں داخل کریں گے جو کفر وشرک سے بچنے والے ہوں گے اور اپنے پروردگار کی اطاعت کرنے والے ہوں گے۔
Ayah 19:64

وَ مَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ١ۚ لَهٗ مَا بَیْنَ اَیْدِیْنَا وَ مَا خَلْفَنَا وَ مَا بَیْنَ ذٰلِكَ١ۚ وَ مَا كَانَ رَبُّكَ نَسِیًّاۚ Open ayah 19:64 in the Quran reader

اور فرشتوں نے پیغمبر کو جواب دیا کہ ہم تمہارے پروردگار کے حکم کے سوا اتر نہیں سکتے جو کچھ ہمارے آگے اور جو پیچھے ہے اور جو ان کے درمیان ہے سب اسی کا ہے اور تمہارا پروردگار بھولنے والا نہیں ہے

(64) اور اے محمد ﷺ ہم آسمان سے وقتا فوقتا سوائے آپ کے رب کے حکم کے نہیں آسکتے، قریش نے جب آپ سے روح، ذوالقرنین اور اصحاب کہف کے بارے میں دریافت کیا تھا اور وحی اللہ تعالیٰ نے کچھ دنوں کے لیے روک لی تھی تو جب جبریل امین وحی لے کر آئے تب آپ نے ان سے تاخیر کی وجہ دریافت کی اس وقت انہوں نے یہ جواب دیا امور آخرت اور امور دنیا اور دونوں کے درمیان جو کچھ ہوگا وہ سب چیزیں اسی کی ملکیت میں داخل ہیں اور جب سے آپ کے رب نے وحی کا سلسلہ شروع کیا ہے، آپ کا پروردگار آپ کو بھولنے والا نہیں۔ شان نزول : (آیت) ”وما نتنزل الا بامر ربک“۔ (الخ) امام بخاری ؒ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے حضرت جبریل امین سے درخواست کی کہ آپ ہماری ملاقات کے لیے جلدی جلدی کیوں نہیں آتے ذرا جلدی جلدی آیا کریں اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ ہم سوائے آپ کے رب کے حکم کے وقتا فوقتا نہیں آسکتے، اور ابن ابی حاتم ؒ نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ جبریل امین ؑ چالیس دن تک تشریف نہیں لائے بقیہ روایت حسب سابق ہے اور ابن مردویہرحمۃ اللہ علیہ نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے جبریل امین سے دریافت کیا کہ کون ساقطعہ اللہ تعالیٰ کو زیادہ عزیز ہے اور کون سا اس کی نظر میں زیادہ مرغوب ہے جبرئیل امین ؑ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے دریافت کیے بغیر میں کچھ نہیں جانتا چناچہ جبریل دوبارہ تشریف لائے مگر دیر سے آئے اس پر حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم نے آنے میں دیر کی جس کی وجہ سے مجھے یہ خیال ہوا کہ مجھ سے کچھ ناراضگی ہے اس پر جبریل امین ؑ نے فرمایا ہم سوائے آپ کے رب کے حکم کے وقتا فوقتا نہیں آسکتے۔ اور ابن اسحاق ؒ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ قریش نے جب رسول اکرم ﷺ سے اصحاب کہف کے بارے میں پوچھا تو پندرہ راتوں تک اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں کوئی وحی نہیں بھیجی، جب جبریل امین ؑ آئے تو آپ نے ان سے فرمایا دیر سے آئے، اس پر انہوں نے یہ فرمایا۔
Ayah 19:65

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا فَاعْبُدْهُ وَ اصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهٖ١ؕ هَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِیًّا۠ Open ayah 19:65 in the Quran reader

یعنی آسمان اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے سب پروردگار کا ہے تو اسی کی عبادت کرو اور اسی کی عبادت پر ثابت قدم رہو بھلا تم کوئی اسکا ہم نام جانتے ہو ؟

(65) اور وہ آسمانوں اور زمین کا اور ان کے در میان جو مخلوقات اور عجائبات ہیں سب کا خالق ہے سوا سی کی عبادت کیا کرو اور اسی کی عبادت پر قائم رہو۔ بھلا آپ کسی کو اللہ تعالیٰ کے مانند اور اس کا ہم صفت پاتے ہیں۔
Ayahs 19:66–67

وَ یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ ءَاِذَا مَا مِتُّ لَسَوْفَ اُخْرَجُ حَیًّا Open ayah 19:66 in the Quran reader

اور (کافر) انسان کہتا ہے کہ جب میں مرجاؤں گا تو کیا زندہ کر کے نکالا جاؤں گا

اَوَ لَا یَذْكُرُ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ یَكُ شَیْئًا Open ayah 19:67 in the Quran reader

کیا (ایسا) انسان یاد نہیں کرتا کہ ہم نے اس کو پہلے بھی تو پیدا کیا تھا اور وہ کچھ بھی چیز نہ تھا ؟

(66۔ 67) ابی بن خلف حجمی منکر بعث یوں کہتا ہے کہ کیا مرنے کے بعد جب کہ میں کچھ بھی نہیں رہوں گا پھر زندہ کرکے قبر سے نکالا جاؤں گا۔ کیا ابی بن خلف اس چیز سے نصیحت حاصل نہیں کرتا کہ اس سے پہلے ہم اس کو بدبودار نطفہ سے پیدا کرچکے ہیں تو پھر دوبارہ اس کو زندہ کرنے پر تو ہم اس ادنی طریقے پر قادر ہیں۔
Ayah 19:68

فَوَرَبِّكَ لَنَحْشُرَنَّهُمْ وَ الشَّیٰطِیْنَ ثُمَّ لَنُحْضِرَنَّهُمْ حَوْلَ جَهَنَّمَ جِثِیًّاۚ Open ayah 19:68 in the Quran reader

تمہارے پروردگار کی قسم ہم ان کو جمع کریں گے اور شیطانوں کو بھی پھر ان سب کو جہنم کے گرد حاضر کریں گے (اور وہ) گھنٹوں پر گرے ہوئے (ہوں گے)

(68) سو قسم ہے آپ کے پروردگار کی ہم قیامت کے دن ابی اور اس کے ساتھیوں کو جمع کریں گے اور شیطان کو بھی پھر ان سب کو دوزخ کے گرد اس حالت میں اکٹھا کریں گے کہ گھٹنوں کے بل گرے ہوں گے۔
Ayah 19:69

ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ كُلِّ شِیْعَةٍ اَیُّهُمْ اَشَدُّ عَلَى الرَّحْمٰنِ عِتِیًّاۚ Open ayah 19:69 in the Quran reader

پھر ہر جماعت میں سے ہم ایسے لوگوں کو کھینچ نکالیں گے جو خدا سے سخت سرکشی کرتے تھے

(69) پھر ان گناہ گاروں کی ہر ایک جماعت میں سے ان لوگوں کو جدا کرلیں گے جو ان میں سب سے زیادہ قرآن کریم کی نافرمانی اور اس پر دلیری کیا کرتے تھے۔
Ayah 19:70

ثُمَّ لَنَحْنُ اَعْلَمُ بِالَّذِیْنَ هُمْ اَوْلٰى بِهَا صِلِیًّا Open ayah 19:70 in the Quran reader

اور ہم ان لوگوں سے خوب واقف ہیں جو اس میں داخل ہونے کے زیادہ لائق ہیں۔

(70) اور ہم ان کو خوب جانتے ہیں جو دوزخ میں جانے کے زیادہ مستحق ہیں۔
Ayah 19:71

وَ اِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا١ۚ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِیًّاۚ Open ayah 19:71 in the Quran reader

اور تم میں سے کوئی (شخص) نہیں مگر اسے اس پر گزرنا ہوگا۔ یہ تمہارے پروردگار پر لازم اور مقرر ہے۔

(71) اور انبیاء کرام ومرسلین کے علاوہ تم میں سے کوئی بھی نہیں جس کا دوزخ پر سے گزر نہ ہو (خواہ داخل ہوں یا اس کو یاد کریں) یہ فیصلہ لازم تاکید کیا ہوا ہے جو ضرور ہو کر رہے گا۔
Ayah 19:72

ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ نَذَرُ الظّٰلِمِیْنَ فِیْهَا جِثِیًّا Open ayah 19:72 in the Quran reader

پھر ہم پرہیزگاروں کو نجات دیں گے اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل پڑا ہوا چھوڑ دیں گے

(72) پھر ہم ان لوگوں کو جو کفر وشرک اور برائیوں سے بچنے والے تھے نجات دے دیں گے اور تمام مشرکین کو ہمیشہ کے لیے دوزخ میں رہنے دیں گے۔
Ayah 19:73

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا١ۙ اَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ خَیْرٌ مَّقَامًا وَّ اَحْسَنُ نَدِیًّا Open ayah 19:73 in the Quran reader

اور جب ان لوگوں کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو جو کافر ہیں وہ مومنوں سے کہتے ہیں کہ دونوں فریق میں سے مکان کس کے اچھے اور مجلسیں کس کی بہتر ہیں ؟

(73) اور جب نضر اور اس کے ساتھیوں کے سامنے ہمارے اوامرو نواہی کے بیان میں واضح آیات پڑھی جاتی ہیں تو یہ کافر ان لوگوں سے جو کہ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان رکھنے والے ہیں یعنی حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور ان کے ساتھیوں سے کہتے ہیں کہ ہم میں اور تم میں مکان کس کا زیادہ اچھا ہے اور محفل کس کی اچھی ہے۔
Ayah 19:74

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَحْسَنُ اَثَاثًا وَّ رِءْیًا Open ayah 19:74 in the Quran reader

اور ہم نے ان سے پہلے بہت سی امتیں ہلاک کردیں وہ لوگ (ان سے) ٹھاٹھ اور نمود میں کہیں اچھے تھے

(74) اور ہم نے ان قریش سے پہلے ایسی بہت سی جماعتیں ہلاک کی ہیں جو مال و اولاد اور مجالس ومحافل میں ان سے کہیں زیادہ اچھے تھے۔
Ayah 19:75

قُلْ مَنْ كَانَ فِی الضَّلٰلَةِ فَلْیَمْدُدْ لَهُ الرَّحْمٰنُ مَدًّا١ۚ۬ حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ اِمَّا الْعَذَابَ وَ اِمَّا السَّاعَةَ١ؕ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضْعَفُ جُنْدًا Open ayah 19:75 in the Quran reader

کہہ دو کہ جو شخص گمراہی میں پڑا ہوا ہے خدا اس کو آہستہ آہستہ مہلت دیے جاتا ہے یہاں تک کہ جب اس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے خواہ عذاب اور خواہ قیامت تو (اس وقت) جان لیں گے کہ مکان کس کا برا ہے اور لشکر کس کا کمزور ہے

(75) اے محمد ﷺ آپ ان سے فرما دیجئے کہ جو کفر وشرک میں مبتلا ہیں، تو اللہ تعالیٰ ان کے مال واولاد میں اضافہ کرتا رہتا ہے آپ ان کی حالت کو کہ جب یہ اس عذاب کو دیکھ لیں گے کہ جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے خواہ غزوہ بدر میں تلواروں کو یا قیامت کے دن دوزخ کے عذاب کو، تو ان کو معلوم ہوجائے گا کہ آخرت میں برا اور دنیا میں تنگ مکان کس کا ہے اور کمزور و مددگار کس کے ہیں۔
Ayah 19:76

وَ یَزِیْدُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اهْتَدَوْا هُدًى١ؕ وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ مَّرَدًّا Open ayah 19:76 in the Quran reader

اور جو لوگ ہدایت یاب ہیں خدا ان کو زیادہ ہدایت دیتا ہے اور نیکیاں جو باقی رہنے والی ہیں وہ تمہارے پروردگار کے صلے کے لحاظ سے خوب اور انجام کے اعتبار سے بہتر ہیں

(76) اور اہل ایمان کو اللہ تعالیٰ دنیا میں شریعت کے ساتھ ہدایت بڑھاتا رہتا ہے یا یہ کہ جو حضرات ناسخ کے ذریعے سے ہدایت پر ہیں تو منسوخ کے ساتھ ان کو ہدایت عطا فرماتا ہے۔ اور پانچوں نمازیں جن پر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ثواب عطا فرمائے گا وہ ثواب کے اعتبار سے بھی بہتر ہیں اور آخرت میں انجام کے اعتبار سے بھی افضل ہیں۔
Ayah 19:77

اَفَرَءَیْتَ الَّذِیْ كَفَرَ بِاٰیٰتِنَا وَ قَالَ لَاُوْتَیَنَّ مَالًا وَّ وَلَدًاؕ Open ayah 19:77 in the Quran reader

بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں سے کفر کیا اور کہنے لگا کہ (اگر میں ازسر نو زندہ ہوا بھی تو یہی) مال اور اولاد مجھے وہاں ملے گا ؟

(77) اور کیا آپ نے عاص بن وائل کی حالت کو بھی دیکھا جو رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کا انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ محمد ﷺ آخرت کے بارے میں جو بیان کرتے ہیں اگر وہ ٹھیک ہے تو مجھے وہاں بھی مال واولاد ملے گا۔ شان نزول : (آیت) ”۔ افرء یت الذی کفر بایتنا“۔ (الخ) امام بخاری ؒ ومسلم ؒ نے حضرت خباب بن ارت سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ میں عاص بن وائل سہمی کے پاس اپنے قرض کی واپسی کے لیے آیا تو عاص کہنے لگا کہ جب تک تو محمد ﷺ کے ساتھ کفر نہ کرے گا تیرے قرض نہ ادا کروں گا، حضرت خباب نے فرمایا کہ اگر تو مر کر پھر زندہ ہوجائے گا تب بھی کفر نہ کروں گا اس پر عاص نے کہا کہ میں مروں گا پھر زندہ ہوں گا، حضرت خباب ؓ نے فرمایا ہاں عاص کہنے لگا تو میرے پاس جب ہی آنا میرے پاس اس وقت بھی مال واولاد سب کچھ ہوگا، تیرا قرض ادا کروں گا اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی یعنی کیا بھلا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا جو ہماری آیات کے ساتھ کفر کرتا ہے۔
Ayah 19:78

اَطَّلَعَ الْغَیْبَ اَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًاۙ Open ayah 19:78 in the Quran reader

کیا اس نے غیب کی خبر پا لی ہے ؟ یا خدا کے یہاں (سے) عہد لے لیا ہے ؟

(78) اللہ تعالیٰ اس کی تردید فرما رہا ہے کہ کیا اس نے لوح محفوظ کو دیکھ لیا ہے کہ اس کو مال واولاد ملے گا، یا اس نے کلمہ لا الہ الا اللہ“۔ کا یقین کر کے اللہ تعالیٰ سے اس چیز کا وعدہ لے لیا ہے۔
Ayah 19:79

كَلَّا١ؕ سَنَكْتُبُ مَا یَقُوْلُ وَ نَمُدُّ لَهٗ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّاۙ Open ayah 19:79 in the Quran reader

ہرگز نہیں یہ جو کچھ کہتا ہے ہم اس کو لکھے جاتے اور اس کے لیے آہستہ آہستہ عذاب بڑھاتے جاتے ہیں

(79) ہرگز ایسا نہیں ہوسکتا جو یہ بکتا ہے، ہم اس کا یہ جھوٹ بھی لکھے لیتے ہیں اور اس کے لیے عذاب بڑھاتے چلے جائیں گے۔
Ayah 19:80

وَّ نَرِثُهٗ مَا یَقُوْلُ وَ یَاْتِیْنَا فَرْدًا Open ayah 19:80 in the Quran reader

اور جو چیزیں یہ بتاتا ہے ان کے ہم وارث ہوں گے اور یہ اکیلا ہمارے سامنے آئے گا

(80) اور جنت میں جن چیزوں کو یہ اپنے لیے کہہ رہا ہے اس کے ہم مالک رہ جائیں گے اور وہ ہم مومنین کو دیں گے اور یہ قیامت کے دن ہمارے پاس مال واولاد اور دیگر چیزوں سے تنہا ہو کر آئے گا، حضرت خباب بن ارت ؓ کا عاص بن وائل پر کچھ قرض تھا جس کے تقاضا پر اس نے ایسا کہا تھا اس کے متعلق یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی ہے۔