11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 11:81

قَالُوْا یٰلُوْطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ یَّصِلُوْۤا اِلَیْكَ فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَ لَا یَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ اِلَّا امْرَاَتَكَ١ؕ اِنَّهٗ مُصِیْبُهَا مَاۤ اَصَابَهُمْ١ؕ اِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ١ؕ اَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیْبٍ Open ayah 11:81 in the Quran reader

فرشتوں نے کہا لوط ! ہم تمہارے پروردگار کے فرشتے ہیں یہ لوگ ہرگز تم تک نہیں پہنچ سکیں گے تو کچھ رات رہے سہے اپنے گھر والوں کو لیکر چل دو۔ اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے پھر کرنا دیکھے۔ مگر تمہاری بیوی کی جو آفت تم پر پڑنے والی ہے وہی اس پر پڑے گی۔ ان سے (عذاب کے) وعدے کا وقت صبح ہے۔ اور کیا صبح کچھ دور ہے ؟

(81) تو کہنے لگے اے لوط ہم آپ کے رب کے بھیجے ہوئے فرشتے ہم تو کیا آپ تک انکی رسائی نہیں ہوسکتی کہ آپ کو کچھ تکلیف پہنچائیں۔ ہم ہی ان کو ہلاک کرنے کے لیے آئے ہیں۔ تو آپ رات کے کسی حصہ میں یعنی سحر کے وقت اپنے گھر والوں کو لے کر یہاں سے کسی اور مقام پر چلے جائیے اور آپ میں سے کوئی پیچھے نہ رہے مگر ہاں آپ کی بیوی واعلہ مسلمان نہ ہونے کے باعث نہ جائے گی اس پر بھی وہ عذاب نازل ہوگا جو اوروں پر ہوگا انکی ہلاکت کا وقت صبح کا وقت ہے۔ تب لوط ؑ نے فرمایا جبریل ؑ ابھی ہوجائے، جبریل امین ؑ نے فرمایا کیا صبح کا وقت قریب نہیں کیوں کہ جبریل امین ؑ تو اس منظر کو دیکھ رہے تھے اور لوط ؑ کے سامنے ابھی تک یہ منظر نہیں آیا تھا۔
Ayah 11:82

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهَا حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍ١ۙ۬ مَّنْضُوْدٍۙ Open ayah 11:82 in the Quran reader

تو جب ہمارا حکم آیا ہم نے اس (بستی) کو (الٹ کر) نیچے اوپر کردیا اور ان پر پتھر کی تہ بہ تہ (یعنی پے در پے) کنکر یاں برسائیں۔

(82) سو جب ہمارا عذاب انکے ہلاک کرنے کے لیے آپہنچا تو ہم نے اس زمین کو الٹ کر اوپر کا تختہ نیچے اور نیچے کا تختہ اوپر کردیا، اور ان کے مسافروں اور بکھرے ہوئے لوگوں پرکھنگر کے پتھر برسانا شروع کیے جو مسلسل گر رہے تھے جن پر سیاہی، سفیدی اور سرخی کی لکیریں تھیں یا یہ کہ ہر ایک پتھر پر ہلاک ہونیوالے گا نام لکھا ہوا تھا۔ محمد ﷺ یہ پتھر ان لوگوں پر آپ کے پروردگار کی طرف سے برس رہے تھے۔
Ayah 11:83

مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا هِیَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ بِبَعِیْدٍ۠ Open ayah 11:83 in the Quran reader

جن پر تمہارے پروردگار کے ہاں سے نشان کئے ہوئے تھے اور وہ (بستی ان) ظالموں سے کچھ دور نہیں۔

(83) اور یہ پتھر ان ظالموں سے چوک نہیں سکتے بلکہ ان پر برسیں گے یا یہ کہ آپکی امت کے ظالم ان لوگوں کے افعال کی پیروی میں ان سے دور نہیں ہیں۔
Ayah 11:84

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ وَ لَا تَنْقُصُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ اِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ بِخَیْرٍ وَّ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ مُّحِیْطٍ Open ayah 11:84 in the Quran reader

اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو (بھیجا) تو انہوں نے کہا اے قوم ! خدا ہی کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ اور ناپ اور تول میں کمی نہ کیا کرو۔ میں تو تم کو آسودہ حال دیکھتا ہوں اور (اگر تم ایمان نہ لاؤ گے تو) مجھے تمہارے بارے میں ایک ایسے دن کے عذاب کا خوف ہے جو تم کو گھیر کر رہے گا۔

(84) اور ہم نے مدین والوں کی طرف انکے نبی شعیب ؑ کو بھیجا، انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی توحید بیان کرو اس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں، جس پر ایمان لانے کا میں تمہیں حکم دوں اور ناپ تول میں لوگوں کے حقوق میں کمی مت کیا کرو، میں تمہیں مال کے پھیلاؤ اور فراوانی اور بھاؤ کی تیزی کی حالت میں دیکھتا ہوں اگر تم مجھ پر ایمان نہ لائے اور ناپ تول ٹھیک طریقہ سے نہ کیا تو مجھے تم پر ایک ایسے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے جو تم پر نازل ہوگا اور پھر تم میں سے کوئی سختی اور قحط سالی وغیرہ سے نہیں بچ سکتا۔
Ayah 11:85

وَ یٰقَوْمِ اَوْفُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 11:85 in the Quran reader

اور اے قوم ! ناپ اور تول انصاف کے ساتھ پوری پوری کیا کرو۔ اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو اور زمین میں خرابی کرتے نہ پھرو۔

(85) اور اے میری قوم تم ناپ تول پورا پورا کیا کرو اور ناپ تول میں لوگوں کے حقوق مت مارا کرو اور زمین میں فساد کرتے ہوئے اور بتوں کی پوجا کرتے ہوئے اور لوگوں کی دعوت دیتے ہوئے اور ناپ تول میں کمی کرتے ہوئے توحید و عدل کی حد سے مت نکلو۔
Ayah 11:86

بَقِیَّتُ اللّٰهِ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ١ۚ۬ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِحَفِیْظٍ Open ayah 11:86 in the Quran reader

اگر تم کو (میرے کہنے کا) یقین ہو تو خدا کا دیا ہوا نفع ہی تمہارے لئے بہتر ہے اور میں تمہارا نگہبان نہیں ہوں۔

(86) ناپ تول کو پورے طریقہ پر ادا کرنے میں جو اللہ کی طرف سے ثواب مل جائے، وہ تمہارے لیے بہتر ہے یا یہ کہ ناپ تول کو پورا کرنے کے بعد جو حلال رزق تمہارے لیے بچ جائے، وہ اس مال سے بہتر ہے جو ناپ تول کی کمی میں تمہیں ملتا ہے، اگر تمہیں میری باتوں کا یقین آئے اور میں تمہارا پہرہ دینے والا تو ہوں نہیں کہ تمہاری نگرانی کروں۔
Ayah 11:87

قَالُوْا یٰشُعَیْبُ اَصَلٰوتُكَ تَاْمُرُكَ اَنْ نَّتْرُكَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِیْۤ اَمْوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُا١ؕ اِنَّكَ لَاَنْتَ الْحَلِیْمُ الرَّشِیْدُ Open ayah 11:87 in the Quran reader

انہوں نے کہا شعیب ! کیا تمہاری نماز تمہیں یہ سکھاتی ہے کہ جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے آئے ہیں ہم انکو ترک کردیں۔ یا اپنے مال میں جو تصرف کرنا چاہیں تو نہ کریں۔ تم تو بڑے نرم دل اور راست باز ہو۔

(87) ان کی قوم کہنے لگی اے شعیب ؑ کیا تمہاری نمازوں کی کثرت تمہیں اس بات کی تعلیم دے رہی ہے کہ ہم ان بتوں کی پوجا چھوڑ دیں یا ہم ناپ تول میں کمی کرنے کو چھوڑ دیں اور بطور مذاق بولے آپ واقعی ہیں بڑے عقل مند دین پر چلنے والے یعنی نعوذ باللہ بیوقوف بےراہ ہیں۔
Ayah 11:88

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ رَزَقَنِیْ مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اُخَالِفَكُمْ اِلٰى مَاۤ اَنْهٰىكُمْ عَنْهُ١ؕ اِنْ اُرِیْدُ اِلَّا الْاِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ١ؕ وَ مَا تَوْفِیْقِیْۤ اِلَّا بِاللّٰهِ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ Open ayah 11:88 in the Quran reader

انہوں نے کہا اے قوم ! دیکھو تو اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے دلیل روشن پر ہوں اور اس نے اپنے ہاں سے مجھے نیک روزی دی ہو۔ (تو میں انکے خلاف کرونگا ؟) اور میں نہیں چاہتا کہ جس امر سے میں تمہیں منع کروں خود اس کو کرنے لگوں۔ میں تو جہاں تک مجھ سے ہو سکے (تمہارے معاملات کی) اصلاح چاہتا ہوں اور (اس بارے میں) مجھے تو فیق کا ملنا خدا ہی (کے فضل) سے ہے میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔

(88) شعیب ؑ کہنے لگے یہ تو بتاؤ کہ اگر میں اپنے رب کی نازل کردہ دلیل پر قائم ہوں اور اس نے مجھے اپنی طرف سے نبوت اور اسلام کے ساتھ نوازا ہے اور پاکیزہ مال عطا کیا ہے تو پھر کیسے تبلیغ نہ کروں اور میں وہ نہیں کہ تمہارے برخلاف ان کاموں کو کروں، جن سے تمہیں منع کرتا ہوں یعنی ناپ تول میں کمی کرنا۔ میں تو جہاں تک میرے امکان میں ہے، ناپ تول میں عدل و انصاف اور اصلاح چاہتا ہوں اور مجھ کو جو کچھ توفیق ہوتی ہے صرف اللہ ہی کی مدد سے ہوتی ہے، میں نے تمام امور اسی کے سپرد کردیے ہیں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔
Ayah 11:89

وَ یٰقَوْمِ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِیْۤ اَنْ یُّصِیْبَكُمْ مِّثْلُ مَاۤ اَصَابَ قَوْمَ نُوْحٍ اَوْ قَوْمَ هُوْدٍ اَوْ قَوْمَ صٰلِحٍ١ؕ وَ مَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْكُمْ بِبَعِیْدٍ Open ayah 11:89 in the Quran reader

اور اے قوم ! میری مخالفت تم سے کوئی ایسا کام نہ کرادے کہ جیسی مصیبت نوح کی قوم یا ہود کی قوم یا صالح کی قوم پر واقع ہوئی تھی ویسی ہی مصیبت تم پر واقع ہو۔ اور لوط کی قوم (کا زمانہ تو) تم سے کچھ دور نہیں۔

(89) اور اے میری قوم میری ضد اور دشمنی تمہارے لیے اس چیز کا باعث نہ ہوجائے کہ تم نہ ایمان لاؤ اور نہ ناپ تول کو پورا کرو کہ پھر تم پر بھی قوم نوح، جیسا غرق کردینے والا عذاب یا قوم ہود جیسی آندھی کے ذریعہ ہلاکت یا قوم صالح جیسا عذاب نازل ہو اور قوم لوط کی تو خبر تم سے دور نہیں تمہیں معلوم ہے جو ان پر عذاب نازل ہوا۔
Ayah 11:90

وَ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ رَحِیْمٌ وَّدُوْدٌ Open ayah 11:90 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار سے بخش مانگو اور اسکے آگے توبہ کرو۔ بیشک میرا پروردگار رحم والا (اور) محبت والا ہے۔

(90) لہذا اپنے رب سے توحید کے ذریعے اپنے گناہوں کو معاف کراؤ اور توبہ واخلاص کے ساتھ اسی کی طرف رجوع کرو اور میرا پروردگار اپنے مومن بندوں پر بڑا ہی رحم کرنے والا اور بذریعہ مغفرت وثواب کے ان پر بڑا ہی شفقت کرنے والا ہے یا یہ کہ بڑا ہی محبت والا ہے اور طاعت کو قبول کرنے والا ہے۔
Ayah 11:91

قَالُوْا یٰشُعَیْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَقُوْلُ وَ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْنَا ضَعِیْفًا١ۚ وَ لَوْ لَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنٰكَ١٘ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْنَا بِعَزِیْزٍ Open ayah 11:91 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ شعیب ! تمہاری بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ تم ہم میں کمزور بھی ہو۔ اور اگر تمہارے بھائی نہ ہوتے تو ہم تم کہ سنگسار کردیتے۔ اور تم ہم پر (کسی طرح بھی) غالب نہیں ہو۔

(91) وہ کہنے لگے اے شعیب ! ؑ بہت سی باتیں تمہاری کہی ہوئی ہماری سمجھ میں نہیں آتیں اور ہم تو آپ کی بینائی میں کمی دیکھ رہے ہیں اور اگر آپ کی قوم کا پاس نہ ہوتا تو ہم آپ کو قتل کر ڈالتے اور ہماری نظر میں تمہاری کچھ وقعت اور عزت نہیں۔
Ayah 11:92

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَهْطِیْۤ اَعَزُّ عَلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اتَّخَذْتُمُوْهُ وَرَآءَكُمْ ظِهْرِیًّا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ Open ayah 11:92 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ قوم ! کیا میرے بھائی بندوں کا دباؤ تم پر خدا سے زیادہ ہے ؟ اور اس کو تم نے پیٹھ پیچھے ڈال رکھا ہے ؟ میرا پروردگار تو تمہارے سب اعمال پر احاطہ کئے ہوئے ہے۔

(92) حضرت شعیب ؑ نے فرمایا کیا میرا خاندان نعوذ باللہ تمہارے نزدیک اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی کتاب سے بھی زیادہ صاحب توقیر ہے یا یہ کہ کیا میرے خاندان کی سزا تمہارے نزدیک اللہ کی سزا سے زیادہ بڑی ہے۔ اور میں تمہارے پاس جو کتاب لے کر آیا ہوں اسے تم نے بھلا دیا ہے میرا پروردگار تمہارے اعمال کی سزا سے اچھی طرح واقف ہے۔
Ayah 11:93

وَ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ؕ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ مَنْ هُوَ كَاذِبٌ١ؕ وَ ارْتَقِبُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ رَقِیْبٌ Open ayah 11:93 in the Quran reader

اور برادران ملت ! تم اپنی جگہ کام کئے جاؤ میں (اپنی جگہ) کام کئے جاتا ہوں۔ تم کو عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ رسوا کرنے والا عذاب کس پر آتا ہے۔ اور جھوٹا کون ہے ؟ اور تم بھی انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔

(93) حضرت شعیب ؑ نے کہا اے میری قوم تم اپنے گھروں میں اپنے دین کے مطابق میری ہلاکت کی تدابیر کرتے رہو، میں بھی تمہاری ہلاکت کا منتظر ہوں، اب جلدی تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ وہ کون شخص ہے جس پر ایسا عذاب آنے والا ہے جو اس کو ذلیل اور ہلاک کردے گا اور کون شخص ہے جو جھوٹا تھا، تم بھی میری ہلاکت کا انتطار کرو میں بھی تمہاری ہلاکت کا منتظر ہوں۔
Ayahs 11:94–95

وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا شُعَیْبًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ اَخَذَتِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ Open ayah 11:94 in the Quran reader

اور جب ہمارا حکم آپہنچا تو ہم نے شعیب کو اور جو لوگ اس کے ساتھ ایمان لائے تھے ان کو تو اپنی رحمت سے بچا لیا اور جو ظالم تھے ان کو چنگھاڑ نے آدبوچا تو وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔

كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّمَدْیَنَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُوْدُ۠ Open ayah 11:95 in the Quran reader

گویا ان میں کبھی بسے ہی نہ تھے۔ سن رکھو کہ مدین پر (ویسی ہی) پھٹکار ہے جیسی ثمود پر پھٹکار تھی۔

(94۔ 95) چناچہ جب ہمارا عذاب آیا تو ہم نے حضرت شعیب ؑ کو اور جو ان کے ساتھ اہل ایمان تھے ان کو اپنی خصوصی رحمت سے نجات دی اور ان مشرکوں یعنی قوم شعیب کو ایک سخت آواز کے عذاب نے آگھیرا، سو وہ اپنے گھروں میں مردہ خاک بن کر رہ گئے جیسے وہ کبھی زمین پر تھے ہی نہیں، حضرت شعیب ؑ کی قوم کو رحمت خداوندی سے دوری ہوئی جیسا کہ قوم صالح کو رحمت خداوندی سے دوری ہوئی اور قوم صالح اور قوم شعیب کا عذاب دونوں پر برابر ہے، ایک سخت آواز نے ان دونوں قوموں کو آگھیرا تھا، باقی قوم صالح پر نیچے کی طرف سے عذاب آیا تھا اور قوم شعیب کو ان کے اوپر کی طرف سے عذاب آیا تھا۔
Ayahs 11:96–97

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 11:96 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں اور دلیل روشن دے کر بھیجا۔

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَاتَّبَعُوْۤا اَمْرَ فِرْعَوْنَ١ۚ وَ مَاۤ اَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِیْدٍ Open ayah 11:97 in the Quran reader

(یعنی) فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔ تو وہ فرعون ہی کے حکم پر چلے۔ اور فرعون کا حکم درست نہیں تھا۔

(96۔ 97) اور ہم نے حضرت موسیٰ ؑ کو نومعجزے اور دلیل روشن دے کر فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا تھا اور معجزات خود دلیل روشن ہیں، چناچہ فرعون کی قوم نے بھی حضرت موسیٰ ؑ کی بات کو چھوڑ کر فرعون ہی کی راہ اختیار کی اور فرعون کی رائے کچھ درست نہ تھی ،
Ayah 11:98

یَقْدُمُ قَوْمَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فَاَوْرَدَهُمُ النَّارَ١ؕ وَ بِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُوْدُ Open ayah 11:98 in the Quran reader

وہ قیامت کے دن اپنی قوم کے آ گے آگے چلے گا اور انکو دوزخ میں جا اتارے گا۔ اور جس مقام پر وہ اتارے جائیں گے وہ برا ہے۔

(98) وہ قیامت کے دن اپنی قوم کی قیادت کرتا ہوا اپنی قوم سے آگے ہوگا اور پھر ان کو دوزخ میں جا داخل کرے گا بہت ہی بری جگہ ہے یا یہ کہ فرعون اور اس کی قوم بہت ہی برے اترنے والے ہیں اور یہ دوزخ بہت ہی بری جگہ ہے جس میں یہ لوگ اتارے جائیں گے۔
Ayah 11:99

وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهٖ لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُوْدُ Open ayah 11:99 in the Quran reader

اور اس جہان میں بھی لعنت ان کے پیچھے لگا دی گئی اور قیامت کے دن بھی (پیچھے لگی رہے گی) جو انعام انکو ملا ہے برا ہے۔

(99) اور اس دنیا میں بھی یہ غرق کے ذریعے ہلاک کیے گئے اور قیامت کے دن بھی۔ دوسری لعنت دوزخ کی ان پر مسلط رہے گی اور یہ غرق اور دوزخ بہت ہی برا بدلہ ہے جو ان کو دیا گیا یا یہ کہ یہ بہت بری معیت ہے اور یہ بہت ہی بری معیت کی جگہ ہے۔
Ayah 11:100

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْقُرٰى نَقُصُّهٗ عَلَیْكَ مِنْهَا قَآئِمٌ وَّ حَصِیْدٌ Open ayah 11:100 in the Quran reader

یہ (پرانی) بستیوں کے تھوڑے سے حالات ہیں جو ہم تم سے بیان کرتے ہیں ان میں سے بعض تو باقی ہیں اور بعض کا تہس نہس ہوگیا۔

(100) یہ اوپر جو کچھ واقعات بیان کیے گئے یہ ان گزری ہوئی بستیوں کے چند واقعات تھے جن کی اطلاع بذریعہ جبریل امین ہم آپ کو کرتے ہیں بعض بستیاں تو ان میں اب بھی قائم ہیں کہ ان کے رہنے والے نیست ونابود ہوچکے اور بعض کا مع ان کے رہنے والوں کے بالکل خاتمہ ہوچکا۔
Ayah 11:101

وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَمَاۤ اَغْنَتْ عَنْهُمْ اٰلِهَتُهُمُ الَّتِیْ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ لَّمَّا جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا زَادُوْهُمْ غَیْرَ تَتْبِیْبٍ Open ayah 11:101 in the Quran reader

اور ہم نے ان لوگوں پر ظلم نہیں کیا بلکہ انہوں نے خود اپنے اوپر ظلم کیا۔ غرض جب تمہارے پروردگار کا حکم آپہنچا تو جن معبودوں کو وہ خدا کے سوا پکارا کرتے تھے وہ انکے کچھ بھی کام نہ آئے اور تباہ کرنے کے سوا ان کے حق میں اور کچھ نہ کرسکے۔

(101) اور ہم نے ان کو ہلاک کرکے ان پر ظلم نہیں کیا مگر خود انہوں نے کفر وشرک اور بتوں کی پوجا کرکے اپنے آپ پر ظلم کیا ہے، چناچہ جب ان لوگوں پر آپ کے رب کا عذاب آیا تو ان کے وہ معبود جن کی یہ اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے تھے، عذاب الہی سے کچھ حفاظت نہ کرسکے اور ان بتوں کی پرستش نے اور الٹا ان کو نقصان پہنچایا۔
Ayah 11:102

وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰى وَ هِیَ ظَالِمَةٌ١ؕ اِنَّ اَخْذَهٗۤ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ Open ayah 11:102 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار جب نافرمان بستیوں کو پکڑا کرتا ہے تو اسکی پکڑ اسی طرح کی ہوتی ہے۔ بیشک اس کی پکڑ دکھ دینے والی (اور) سخت ہے۔

(102) اور آپ کے پروردگار کا عذاب ایسا ہی سخت ہے جب وہ کسی بستی کے لوگوں پر عذاب نازل کرتا ہے جب کہ وہ کفر وشرک میں مبتلا ہوں، بیشک اس کی پکڑ بہت سخت ہے۔
Ayah 11:103

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْاٰخِرَةِ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ١ۙ لَّهُ النَّاسُ وَ ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ Open ayah 11:103 in the Quran reader

ان (قصوں) میں اس شخص کے لئے جو عذاب آخرت سے ڈرے عبرت ہے۔ یہ وہ دن ہوگا جس میں سب لوگ اکھٹے کئے جائیں گے اور یہی وہ دن ہوگا جس میں سب (خدا کے روبرو) حاضر کئے جائیں گے۔

(103) ان مذکورہ واقعات میں ایسے شخص کے لیے عبرت ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہو کہ ان نافرمانوں کی اتباع نہ کرے یہ قیامت کا دن ہے کہ اس میں تمام اگلے پچھلے لوگ جمع کیے جائیں گے اور اس روز سب آسمان و زمین والے حاظر کیے جائیں گے۔
Ayahs 11:104–105

وَ مَا نُؤَخِّرُهٗۤ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍؕ Open ayah 11:104 in the Quran reader

اور ہم اسکے لانے میں ایک وقت معین تک تاخیر کر رہے ہیں۔

یَوْمَ یَاْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ۚ فَمِنْهُمْ شَقِیٌّ وَّ سَعِیْدٌ Open ayah 11:105 in the Quran reader

جس روز وہ آجائے گا تو کوئی متنفس خدا کے حکم کے بغیر بول بھی نہیں سکے گا۔ پھر ان میں سے کچھ بدبخت ہو نگے اور کچھ نیک بخت۔

(104۔ 105) اور ہم اس دن کو ایک معلوم مدت کے لیے ملتوی کیے ہوئے ہیں جس وقت وہ دن آئے گا تو کوئی نیکوکار بھی اللہ کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش نہیں کرسکے گا۔
Ayahs 11:106–107

فَاَمَّا الَّذِیْنَ شَقُوْا فَفِی النَّارِ لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّ شَهِیْقٌۙ Open ayah 11:106 in the Quran reader

تو جو بدبخت ہوں گے وہ دوزخ میں (ڈال دیئے جائیں گے) اس میں انکو چلانا اور دھاڑنا ہوگا۔

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ Open ayah 11:107 in the Quran reader

(اور) جب تک آسمان و زمین ہیں ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔ مگر جتنا تمہارا پروردگار چاہے۔ بیشک تمہارا پروردگار جو چاہتا ہے کردیتا ہے۔

(106۔ 107) اور پھر اس دن بعض لوگ تو شقی ہوں گے کہ ان کے لیے شقاوت لکھ دی ہوگی اور بعض سعید کہ ان کے لیے سعادت لکھی ہوئی ہوگی، سو جو لوگ شقی ہیں وہ دوزخ میں ایسے حال سے ہوں گے کہ اس میں ان کی چیخ و پکار پڑے گی، نعوذ باللہ جیسا کہ گدھا پہلی مرتبہ اپنے سینے سے آواز نکال کرچیختا ہے اور آخر میں چیختا ہے اور وہ ہمیشہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے، جیسا کہ آسمان و زمین پیدایش کے وقت سے لے کر فنا تک موجود ہیں اور آپ کے پروردگار کی مشیت ان کے جہنم میں رہنے کے بارے میں ہے، یا یہ کہ اہل شقاوت ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے جیسا کہ دوزخ کا آسمان اور دوزخ کی زمین موجود ہے، یا پھر یہ کہ آپ کا پروردگار ان لوگوں میں سے اس توحید والے کو نکال لے جس کی شقاوت کسی گناہ کی وجہ سے ہو کفر کے سبب سے نہ ہو، پھر اس کو اس کے ایمان خالص کی وجہ سے جنت میں داخل کردے آپ کا رب جو کچھ چاہے اس کو پورے طور سے کرسکتا ہے۔
Ayah 11:108

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ سُعِدُوْا فَفِی الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ١ؕ عَطَآءً غَیْرَ مَجْذُوْذٍ Open ayah 11:108 in the Quran reader

اور جو نیک بخت ہوں گے ہے بہشت میں (داخل کئے جائیں گے اور) جب تک آسمان اور زمین ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ مگر جتنا تمہارا پروردگار چاہے۔ کہ خدا کی بخشش ہے جو کبھی منقطع نہیں ہوگی۔

(108) اور رہ گئے وہ لوگ جو سعید ہیں، وہ جنت میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، جیسا کہ آسمان و زمین پیدایش کے وقت سے لے کر اب تک موجود ہیں، تاہم اگر اللہ ہی کو منظور ہو کہ وہ اہل سعادت کو نکال کر اہل شقاوت میں داخل کردے کیوں کہ اس کا فرمان ہے کہ جس چیز کو وہ چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے باقی رکھتا ہے تو اسے پورا اختیار ہے کہ وہ سعادت کے زمرہ سے نکال کر شقاوت کے زمرہ میں داخل کردے۔ آیت کریمہ کا یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ وہ جنت میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے جب تک جنت کے آسمان و زمین باقی رہیں گے البتہ اگر آپ کے رب ہی کو منظور ہو کہ وہ دخول جنت سے پہلے گناہوں سے پاک کرنے کے لیے دوزخ میں داخل فرمائے پھر دوزخ سے نکال کر جنت میں داخل کردے تو اب دخول جنت کے بعد ہمیشہ جنت میں رہیں گے۔
Ayah 11:109

فَلَا تَكُ فِیْ مِرْیَةٍ مِّمَّا یَعْبُدُ هٰۤؤُلَآءِ١ؕ مَا یَعْبُدُوْنَ اِلَّا كَمَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُهُمْ مِّنْ قَبْلُ١ؕ وَ اِنَّا لَمُوَفُّوْهُمْ نَصِیْبَهُمْ غَیْرَ مَنْقُوْصٍ۠ Open ayah 11:109 in the Quran reader

تو یہ لوگ جو (غیر خدا کی) پرستش کرتے ہیں اس سے تم خلجان میں نہ پڑنا۔ یہ اسی طرح پرستش کرتے ہیں جس طرح پہلے سے ان کے باپ دادا پرستش کرتے ہیں۔ اور ہم ان کا انکا حصہ پورا پورا بلاکم وکاست دینے والے ہیں۔

(109) مگر یقیناً یہ ثواب مسلسل ہوگا اور اس میں کسی قسم کی کوئی کمی نہ ہوگی (اور اللہ تعالیٰ جنت میں بھیجنے کے بعد پھر دوبارہ وہاں سے نہ نکالے گا سو اہل مکہ جن چیزوں کی پرستش کررہے ہیں اس کے بارے میں ذرا شبہ نہ کرنا کیوں کہ یہ لوگ بھی اسی طرح عبادت کررہے ہیں جیسا کہ اس سے قبل ان کے باپ دادا کرتے تھے اور اسی وجہ سے ہلاک ہوجائیں گے اور ہم ان کی سزا ان کو پوری پوری بغیر کمی بیشی کے دیں گے۔ کہا گیا ہے کہ یہ آیت فرقہ قدریہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
Ayah 11:110

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِیْهِ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 11:110 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تو اس میں اختلاف کیا گیا۔ اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک بات پہلے نہ ہوچکی ہوتی تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا۔ اور وہ تو اس سے قوی شبہ میں (پڑے ہوئے) ہیں۔

(110) اور ہم نے حضرت موسیٰ ؑ کو توریت دی تو کتاب موسیٰ میں لوگوں نے اختلاف کیا بعض اس کتاب پر ایمان لائے اور بعض نے اس کتاب کا انکار کیا، اور اگر آپ کی امت کے بارے میں تاخیر عذاب کی بات پہلے سے مقرر نہ ہوچکی ہوتی تو ابھی تک ان کی ہلاکت ہوچکی ہوتی اور کب کا عذاب ان پر آچکا ہوتا اور یہ لوگ ابھی تک شک وشبہ میں پڑے ہوئے ہیں۔
Ayah 11:111

وَ اِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَیُوَفِّیَنَّهُمْ رَبُّكَ اَعْمَالَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ بِمَا یَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 11:111 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار ان سب کو (قیامت کے دن) انکے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیگا۔ بیشک جو عمل یہ کرتے ہیں وہ اس سے واقف ہے۔

(111) اور دونوں جماعتوں میں سے ہر ایک کو آپ کا پروردگار ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا، نیکی کا ثواب کے ساتھ اور برائی کا عذاب کے ساتھ وہ خیر وشر ثواب و عذاب سے پوری طرح واقف ہے۔
Ayah 11:112

فَاسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ وَ مَنْ تَابَ مَعَكَ وَ لَا تَطْغَوْا١ؕ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 11:112 in the Quran reader

سو (اے پیغمبر) جیسا تم کو حکم ہوتا ہے (اس پر) تم اور جو لوگ تمہارے ساتھ تائب ہوئے ہیں قائم رہو۔ وہ تمہارے (سب) اعمال کو دیکھ رہا ہے۔

(112) سو اطاعت خداوندی پر جیسا کہ آپ کو قرآن حکیم میں حکم ہوا ہے مستقیم رہیے اور وہ حضرات بھی جو کفر وشرک سے توبہ کرکے آپ کی ہمراہی میں آچکے ہیں، آپ کے ساتھ مستقیم رہیں اور کفر وشرک نہ کرو اور قرآن کریم میں جو حلال و حرام کے بارے میں احکامات ہیں ان کی نافرمانی نہ کرو، اللہ تعالیٰ خیر وشر کو خوب دیکھتا ہے۔
Ayah 11:113

وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ١ۙ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 11:113 in the Quran reader

اور جو لوگ ظالم ہیں انکی طرف مائل نہ ہونا نہیں تو تمہیں (دوزخ کی) آگ آ لپٹے گی۔ اور خدا کے سوا تمہارے اور دوست نہیں ہیں (اگر تم ظالموں کی طرف مائل ہوگئے) تو پھر تم کو (کہیں سے) مدد نہ مل سکے گی۔

(113) اور اے مسلمانو ! ان لوگوں کی طرح مت جھکو جنہوں نے کفر وشرک اور گناہ کر کے اپنے اوپر ظلم کیا ہے کہیں تمہیں دوزخ کی آگ لگ جائے، جیسا کہ ان لوگوں کو لگی ہوئی ہے اور اللہ کے علاوہ تمہارے رشتہ داروں اور ساتھیوں میں کوئی دوزخ کی آگ لگ جائے، جیسا کہ ان لوگوں کو لگی ہوئی ہے اور اللہ کے علاوہ تمہارے رشتہ داروں اور ساتھیوں میں کوئی نہیں جو تمہیں عذاب الہی سے بچا لے اور پھر تمہارے حق میں جس چیز کا ارادہ ہوچکا ہے وہ نہ ٹالا جائے۔
Ayah 11:114

وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَیِ النَّهَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ١ؕ اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِ١ؕ ذٰلِكَ ذِكْرٰى لِلذّٰكِرِیْنَۚ Open ayah 11:114 in the Quran reader

اور دن کے دونوں سروں (یعنی صبح و شام) کے اوقات میں اور رات کی چند (پہلی) ساعات میں نماز پڑھا کرو۔ کچھ شک نہیں کہ نیکیاں گناہوں کو دور کردیتی ہیں۔ یہ ان کے لئے نصیحت ہے جو نصیحت قبول کرنیوالے ہیں۔

(114) اور آپ نماز کی پابندی رکھیں دن کے دونوں کناروں میں یعنی نماز صبح اور ظہر یا یہ کہ صبح، ظہر، عصر کی اور رات کے داخل ہونے پر یعنی مغرب اور عشاء کی نماز کی، بیشک پانچوں نمازوں سے صغیرہ گناہ معاف ہوتے ہیں یا یہ کہ حسنات سے مراد یہ کلمات ہیں۔ ”سبحان اللہ، الحمد للہ، لا الہ الا اللہ اللہ اکبر“۔ اور یہ تائبین کے لیے توبہ کا طریقہ ہے یا یہ کہ توبہ کرنے والوں کے گناہوں کے لیے یہ کفارات ہیں۔ یہ آیت کریمہ ابو الیسربن عمر کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ شان نزول : (آیت) ”واقم الصلوۃ“۔ (الخ) بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ومسلم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے ایک عورت کا بوسہ لے لیا، پھر اس کے بعد آکر رسول اکرم ﷺ کو اس کی اطلاع دی، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، ”واقم الصلوۃ“۔ (الخ) یعنی نیک کام برے کاموں کو مٹا دیتے ہیں، انہوں نے عرض کیا یہ حکم خاص میرے لیے ہے آپ ﷺ نے فرمایا تمام امت کے لیے ہے اور امام ترمذی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ وغیرہ نے ابو الیسر سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ میرے پاس ایک عورت کھجوریں خریدنے کے لیے آئی، میں نے اس سے کہا اندر گھر میں اس سے اچھی ہیں، چناچہ وہ میرے ساتھ اندر گھر میں گئی اور میں نے جھک کر اس کا بوسہ لے لیا، اس کے بعد میں رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو اس بارے میں بتایا، آپ نے ارشاد فرمایا کہ مجاہد فی سبیل اللہ کی عدم موجودگی میں اس کے گھر والوں کے ساتھ ایسا معاملہ کیا ہے ؟ تاآنکہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر وحی بھیجی کہ (آیت) ”واقم الصلوۃ“۔ سے للذاکرین“۔ اور اسی کے ہم معنی ابوامامہ ؓ معاذ بن جبل ؓ ابن عباس ؓ ، بریدہ ؓ وغیرہ سے روایات مروی ہے۔
Ayah 11:115

وَ اصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 11:115 in the Quran reader

اور صبر کئے رہو کہ خدا نیکو کاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

(115) اے محمد ﷺ آپ اوامر خداوندی پر مستقیم رہیے اور ان کی تکالیف پر صبر کیجیے، اللہ تعالیٰ ایسے مومن برگزیدہ بندوں کے اجر کو ضائع نہیں فرماتا جو قول وفعل ہر ایک طریقہ سے نیک ہوں۔
Ayah 11:116

فَلَوْ لَا كَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ اُولُوْا بَقِیَّةٍ یَّنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِی الْاَرْضِ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّنْ اَنْجَیْنَا مِنْهُمْ١ۚ وَ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَاۤ اُتْرِفُوْا فِیْهِ وَ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 11:116 in the Quran reader

جو امتیں تم سے پہلے گزر چکی ہیں ان میں ایسے ہوش مند کیوں نہ ہوئے جو ملک میں خرابی کرنے سے روکتے ؟ ہاں (ایسے) تھوڑے سے (تھے) جن کو ہم نے ان میں سے مخلصی بخشی۔ اور جو ظالم تھے وہ انہی باتوں کے پیچھے لگے رہے جن میں عیش و آرام تھا اور وہ گناہوں میں ڈوبے ہوئے تھے۔

(116) اور گزشتہ قوموں میں ایسے مومن حضرات نہ ہوئے جو لوگوں کو کفر و شرک بتوں کی پوجا اور دیگر تمام گناہوں سے روکتے ماسوا ان چند مومنوں کے جن کو ہم نے ان میں سے بچا لیا اور مشرکین دنیاوی مال کے جس ناز و نعمت میں تھے اسی میں مشغول ہورہے ہیں اور یہ شرک کے عادی ہیں۔
Ayah 11:117

وَ مَا كَانَ رَبُّكَ لِیُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا مُصْلِحُوْنَ Open ayah 11:117 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو جبکہ وہاں کے باشندے نیکوکار ہوں ازراہ ظلم تباہ کردے۔

(117) اور آپ کا پروردگار ایسا نہیں کہ بستی والوں کو ان کے کفر کی وجہ سے ہلاک کرڈالے جب کہ ان میں ایسے حضرات بھی ہوں جو کہ دوسروں کو نیکیوں کا حکم دے رہے ہوں اور برائیوں سے روک رہے ہوں۔ یا مطلب یہ ہے کہ آپ کا رب ایسا نہیں کہ بستی والوں کو کفر کی وجہ سے جب کہ وہاں کے بعض لوگ اصلاح کی فکر میں ہوں اور اطاعت خداوندی پر قائم ہوں اور اس کو مضبوطی کے ساتھ پکڑے ہوئے ہوں۔
Ayah 11:118

وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لَا یَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِیْنَۙ Open ayah 11:118 in the Quran reader

اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی جماعت کردیتا لیکن وہ ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے۔

(118) اور اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی ملت یعنی ملت اسلامی پر قائم کردیتا اور آئندہ بھی ہمیشہ لوگ دین حق اور باطل میں اختلاف کرتے رہیں گے۔
Ayah 11:119

اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ١ؕ وَ لِذٰلِكَ خَلَقَهُمْ١ؕ وَ تَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 11:119 in the Quran reader

مگر جن پر تمہارا پروردگار رحم کرے۔ اور اسی لئے اس نے انکو پیدا کیا ہے۔ اور تمہارے پروردگار کا قول پورا ہوگیا کہ میں دوزخ کو جنوں اور انسانوں سب سے بھر دوں گا۔

(119) مگر جس کی آپ کا پروردگار باطل اور مختلف طریقوں سے حفاظت فرمالے، وہ مومن لوگ ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اہل رحمت کو رحمت کرنے کے لیے اور اہل اختلاف کو اختلاف کرنے کے لیے پیدا فرمایا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کے رب کی یہ بات پوری ہوگئی کہ میں جہنم کو کافر جنوں اور کافر انسانوں سے بھروں گا۔
Ayah 11:120

وَ كُلًّا نَّقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهٖ فُؤَادَكَ١ۚ وَ جَآءَكَ فِیْ هٰذِهِ الْحَقُّ وَ مَوْعِظَةٌ وَّ ذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 11:120 in the Quran reader

(اے محمد) پیغمبروں کے وہ سب حالات جو ہم تم سے بیان کرتے ہیں ان سے ہم تمہارے دل کو قائم رکھتے ہیں۔ اور ان (قصص) میں تمہارے پاس حق پہنچ گیا اور (یہ) مومنوں کے لئے نصیت اور عبرت ہے۔

(120) اور پیغمبروں کے واقعات میں سے جیسا کہ بیان کیے گئے یہ سارے قصے ہم آپ سے بیان کرتے ہیں تاکہ آپ کے دل کو مضبوطی حاصل ہو کہ جو آپ کے ساتھ آپ کی قوم کر رہی ہے، آپ کے علاوہ اور انبیاء کرام کے ساتھ بھی ان کی قوموں نے یہی معاملہ کیا اور آپ کے پاس اس صورت میں ایسی بات پہنچی ہے جو خود بھی حق ہے اور گناہوں سے بچنے کے لیے نصیحت اور مومنین کے لیے یاد دہانی ہے۔