11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 11:41

وَ قَالَ ارْكَبُوْا فِیْهَا بِسْمِ اللّٰهِ مَجْرٖؔىهَا وَ مُرْسٰىهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 11:41 in the Quran reader

(نوح نے) کہا کہ خدا کا نام لیکر (کہ اسی کے ہاتھ میں) اس کا چلنا اور ٹھہرنا (ہے) اس میں سوار ہوجاؤ۔ بیشک میرا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے۔

(41) حضرت نوح ؑ نے اپنے پیروکاروں سے فرمایا اس کشتی میں سوار ہوجاؤ اس کا چلنا اور اس کا ٹھہرنا سب اللہ ہی کے نام سے ہے یا یہہ کہ اللہ تعالیٰ ہی جہاں چاہے گا اس کو چلائے گا اور جس مقام پر چاہے گا اس کو روکے گا، میرے رب بہت ہی معاف فرمانے والا اور توبہ کرنے والے پر بہت ہی رحمتیں فرمانے والا ہے۔
Ayah 11:42

وَ هِیَ تَجْرِیْ بِهِمْ فِیْ مَوْجٍ كَالْجِبَالِ١۫ وَ نَادٰى نُوْحُ اِ۟بْنَهٗ وَ كَانَ فِیْ مَعْزِلٍ یّٰبُنَیَّ ارْكَبْ مَّعَنَا وَ لَا تَكُنْ مَّعَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 11:42 in the Quran reader

اور وہ انکو لیکر (طوفان کی) لہروں میں چلنے لگی (لہریں کیا تھیں) گویا پہاڑ (تھے) اس وقت نوح نے اپنے بیٹے کو کہ (کشتی سے) الگ تھا پکارا کہ بیٹا ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور کافروں میں شامل نہ ہو۔

(42) اور وہ کشتی ان کو لے کر عظیم الشان موجوں میں چلنے لگی اور حضرت نوح ؑ نے اپنے بیٹے کنعان کو پکارا وہ کشتی سے الگ کسی پہاڑ کی چوٹی پر تھا کہ اے بیٹے کلمہ ”۔ لاالہ اللہ“۔ کہہ کر ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور عقیدہ میں کافروں کے ساتھ مت ہو کہ کہیں تو بھی طوفان میں غرق ہوجائے۔
Ayah 11:43

قَالَ سَاٰوِیْۤ اِلٰى جَبَلٍ یَّعْصِمُنِیْ مِنَ الْمَآءِ١ؕ قَالَ لَا عَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ١ۚ وَ حَالَ بَیْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِیْنَ Open ayah 11:43 in the Quran reader

اس نے کہا کہ میں (ابھی) پہاڑ سے جا لگوں گا وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج خدا کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں (اور نہ کوئی بچ سکتا ہے) مگر اس پر جس پر خدا رحم کرے۔ اتنے میں دونوں کے درمیان لہر آ حائل ہوئی اور وہ ڈوب کر رہ گیا۔

(43) وہ کہنے لگا کہ میں ابھی کسی پہاڑ کی پناہ لے لوں گا جو مجھے غرق ہونے سے بچا لے گا نوح ؑ نے فرمایا آج اللہ تعالیٰ کے اس عذاب وقہر سے کوئی بچانے والا نہیں، مگر جس پر اللہ تعالیٰ رحم کرے، یعنی مومنین پر اور کنعان اور کشتی کے درمیان ایک موج حائل ہوگئی اور وہ بھی طوفان میں غرق ہوگیا۔
Ayah 11:44

وَ قِیْلَ یٰۤاَرْضُ ابْلَعِیْ مَآءَكِ وَ یٰسَمَآءُ اَقْلِعِیْ وَ غِیْضَ الْمَآءُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ وَ اسْتَوَتْ عَلَى الْجُوْدِیِّ وَ قِیْلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 11:44 in the Quran reader

اور حکم دیا گیا کہ اے زمین اپنا پانی نگل جا اور اے آسمان تھم جا۔ تو پانی خشک ہوگیا اور کام تمام کردیا گیا۔ اور کشتی کوہ جودی پر جا ٹھہری۔ اور کہہ دیا گیا کہ بےانصاف لوگوں پر لعنت۔

(44) اور جب کفار سب غرق ہوچکے تو حکم دیا گیا کہ اے زمین اپنا سارا پانی نگل لے اور اے آسمان تھم جا اور پانی گھٹ گیا اور قوم کی ہلاکت سے فراغت ہوئی جس کی قسمت میں ہلاک ہونا تھا وہ ہلاک ہوگیا اور جسے پچنا تھا وہ بچ گیا اور کشتی کوہ جودی پر آٹھہری اور یہ موصل کے قریب نصیبین میں ایک پہاڑ ہے اور کہہ دیا گیا کہ نوح ؑ کی قوم میں سے مشرکین رحمت خداوندی سے دور
Ayah 11:45

وَ نَادٰى نُوْحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابْنِیْ مِنْ اَهْلِیْ وَ اِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَ اَنْتَ اَحْكَمُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 11:45 in the Quran reader

اور نوح نے اپنے پروردگار کو پکارا اور کہا کہ پروردگار ! میرا بیٹا بھی میرے گھر والوں میں ہے (تو اسکو بھی نجات دے) تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب سے بہتر حاکم ہے۔

(45) اور حضرت نوح ؑ نے اپنے پروردگار کو پکارا اے میرے رب میرا بیٹا کنعان میرے گھر والوں میں سے ہے جن کو نجات دینے کا آپ نے وعدہ فرمایا اور آپ کا وعدہ بالکل سچا ہے اور آپ احکم الحاکمین ہیں (کیوں کہ یہ فی الحال ایمان دار نہیں، آپ ایمان کی توفیق عطا فرما سکتے ہیں) آپ نے مجھے بچانے اور میرے گھر والوں میں سے جو مومن ہوں ان کے بچانے کا آپ نے وعدہ فرمایا ہے۔
Ayah 11:46

قَالَ یٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَیْسَ مِنْ اَهْلِكَ١ۚ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ١ۖ٘ۗ فَلَا تَسْئَلْنِ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنِّیْۤ اَعِظُكَ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 11:46 in the Quran reader

خدا نے فرمایا کہ نوح وہ تیرے گھر والوں میں نہیں ہے۔ وہ تو ناشائستہ افعال ہے۔ تو جس چیز کی تم کو حقیقت معلوم نہیں اس کے بارے میں مجھ سے سوال ہی نہ کرو۔ اور میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بنو۔

(46) اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے نوح ؑ یہ تمہارے ان گھر والوں میں سے نہیں ہے جن کے بچانے کا ہم نے وعدہ فرمایا ہے یہ غیر پسندیدہ کام یعنی شرک میں مبتلا ہے اس کی نجات کے بارے میں آپ کی دعا میری مرضی کے خلاف ہے سو مجھے ایسے لوگوں کی نجات کی درخواست مت کرو جن کی آپ کو خبر نہیں کہ یہ اہل نجات سے ہیں یا نہیں۔ میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ ایسی چیزوں کی درخواست کرکے جنھیں تم نہیں جانتے کہ کہیں تو نادان نہ بن جاؤ۔
Ayah 11:47

قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِكَ اَنْ اَسْئَلَكَ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ اِلَّا تَغْفِرْ لِیْ وَ تَرْحَمْنِیْۤ اَكُنْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 11:47 in the Quran reader

نوح نے کہا پروردگار میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں کہ ایسی چیز کا تجھ سے سوال کروں جس کی مجھے حقیقت معلوم نہیں۔ اور اگر تو مجھے نہیں بخشے گا اور مجھ پر رحم نہیں کرے گا تو میں تباہ ہوجاؤں گا۔

(47) حضرت نوح ؑ نے عرض کیا کہ اے میرے پروردگار میں اس امر سے آپ کی پناہ مانگتا ہوں کہ آئندہ ایسے شخص کی نجات کی درخواست کروں جس کے متعلق مجھے اطلاع نہ ہو۔ اگر آپ میری مغفرت نہ فرمائیں گے اور مجھ پر رحم نہ فرمائیں گے تو میں بالکل تباہ ہوجاؤں گا
Ayah 11:48

قِیْلَ یٰنُوْحُ اهْبِطْ بِسَلٰمٍ مِّنَّا وَ بَرَكٰتٍ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنْ مَّعَكَ١ؕ وَ اُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ یَمَسُّهُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 11:48 in the Quran reader

حکم ہوا کہ نوح ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ (جو) تم پر اور تمہارے ساتھ کی جماعتوں پر (نازل کی گئی ہیں) اتر آؤ۔ اور کچھ اور جماعتیں ہونگی جن کو ہم (دنیا کے فوائد سے) محظوظ کریں گے پھر انکو ہماری طرف سے عذاب الیم پہنچے گا۔

(48) جب پانی بالکل اتر گیا، تب حضرت نوح ؑ سے کہا گیا کہ اے نوح اب کشتی پر سے اترو، ہماری طرف سے سلام اور برکتیں لے کر جو تم پر نازل ہوں گی اور اس اہل سعادت کے گروہ پر جو تمہارے ساتھ کشتی میں موجود ہے اور مردوں کی پشتوں میں بہت سی ایسی جماعتیں بھی ہوں گی کہ آباؤ اجداد کی پشتوں سے نکلنے کے بعد ہم انھیں چند روزہ عیش دیں گے اور ان کے کفر کی وجہ سے ہماری طرف سے ان پر سخت سزا ہوگی اور وہ بدبختوں سے ہوں گے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نوح ؑ کے پاس وحی چار سو اسی سال کی عمر میں بھیجی، اس کے بعد وہ ایک سوبیس تک اپنی قوم کو دعوت دیتے رہے اور جس وقت وہ کشتی میں سوار ہوئے تو ان کی عمر چھ سو سال کی تھی اور کشتی کی لمبائی تین سو ہاتھ اور چوڑائی پچاس ہاتھ کی تھی اور تیس ہاتھ اونچی تھی اور کشتی کی اوپر نیچے تین منزلیں تھیں پہلی منزل میں درندوں اور موذی جانوروں سوار کیا اور دوسری منزل میں جنگلی جانوروں کو سوار کیا اور سب سے اوپر والی منزل میں انسانوں کو سوار کیا جو اسی آدمی تھے جن میں چالیس مرد اور چالیس عورتیں تھیں، اور مرد و عورتوں کے درمیان حضرت آدم ؑ کا جسم تھا اور کشتی میں حضرت نوح ؑ کے تین لڑکے بھی تھے سام، حام، یا فث، انتہی۔
Ayah 11:49

تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهَاۤ اِلَیْكَ١ۚ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَاۤ اَنْتَ وَ لَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ هٰذَا١ۛؕ فَاصْبِرْ١ۛؕ اِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 11:49 in the Quran reader

یہ (حالات) من جملہ غیب کی خبروں کے ہیں جو ہم تمہاری طرف بھیجتے ہیں (اور) اس سے پہلے نہ تم ہی ان جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم (ہی ان سے واقف تھی) تو صبر کرو کہ انجام پرہیزگاروں ہی کا (بھلا) ہے۔

(49) یہ قصہ آپکو جو غیب سے خبریں دی جاتی ہیں ان میں سے ایک ہے جن کو اے محمد ﷺ آپ کے پاس جبریل امین کے ذریعے پچھلی امتوں کے واقعات کے سلسلہ میں پہنچاتے ہیں اور قرآن حکیم سے قبل ان گزشتہ قوموں کے واقعات کو نہ آپ جانتے تھے اور نہ آپکی قوم سو آپ اپنی قوم کی ایذاء رسانی اور تکذیب پر صبر کیجیے یقیناً نیک انجامی بذریعہ نصرت اور جنت ان ہی لوگوں کے لیے ہے جو کفر وشرک اور تمام فواحش سے بچنے والے ہیں۔
Ayah 11:50

وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ Open ayah 11:50 in the Quran reader

اور ہم نے عدا کی طرف ان کے بھائی ہود کو (بھیجا) انہوں نے کہا کہ میری قوم ! خدا ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تم (شرک کرکے خدا پر) محض بہتان باندھتے ہو۔

(50) اور ہم نے قوم عاد کی طرف ان کے بنی ہود ؑ کو بھیجا انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی توحید کے قائل ہوجاؤ اس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں جس پر تمہیں ایمان لانے کا حکم دیا جائے تم بتوں کی عبادت کرکے اللہ تعالیٰ کی تکذیب کرتے ہو کیوں کہ تمہیں ان کی عبادت کا حکم نہیں دیا گیا۔
Ayah 11:51

یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى الَّذِیْ فَطَرَنِیْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 11:51 in the Quran reader

میری قوم ! میں اس (وعظ ونصیحت) کا تم سے کچھ صلہ نہیں مانگتا۔ میرا صلہ تو اس کے ذمے ہے جس نے مجھے پیدا کیا۔ بھلا تم سمجھتے کیوں نہیں ؟

(51) اور میں تم سے اس دعوت توحید پر کوئی معاوضہ نہیں مانگتا میرا معاوضہ تو اس اللہ کے ذمہ ہے جس نے مجھ کو پیدا کیا پھر کیوں تم اس چیز کی تصدیق نہیں کرتے کیا تمہارے پاس دماغ نہیں۔
Ayah 11:52

وَ یٰقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًا وَّ یَزِدْكُمْ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمْ وَ لَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 11:52 in the Quran reader

اور اے قوم ! اپنے پروردگار سے بخشش مانگو پھر اس کے آگے توبہ کرو۔ وہ تم پر آسمان سے موسلادھار مینہ برسائے اور تمہاری طاقت بڑھائے گا۔ اور (دیکھو) گنہگار بن کر روگردانی نہ کرو۔

(52) اے میری قوم اپنے پروردگار کی توحید کے قائل ہوجاؤ اور اسی سے اپنے گناہوں کی معافی مانگو تو بہ اور اخلاص کے ساتھ اس کے سامنے جھک جاؤ وہ تم پر جب بھی تمہیں ضرورت پیش آئے گی ہمیشہ خوب بارشیں برسائے گا اور تمہیں بادشاہت اور اولاد کے ذریعے تمہاری قوت میں اضافہ کرے گا، اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرکے توبہ اور ایمان منہ مت پھیرو۔
Ayah 11:53

قَالُوْا یٰهُوْدُ مَا جِئْتَنَا بِبَیِّنَةٍ وَّ مَا نَحْنُ بِتَارِكِیْۤ اٰلِهَتِنَا عَنْ قَوْلِكَ وَ مَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 11:53 in the Quran reader

وہ بولے ہود تم ہمارے پاس کوئی دلیل ظاہر نہیں لائے اور ہم (صرف) تمہارے کہنے سے نہ اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے ہیں اور نہ تم پر ایمان لانے والے ہیں۔

(53) اور ان کے قوم نے کہا آپ نے اپنے دعوے پر ہمارے سامنے کوئی دلیل تو پیش نہیں کی اور ہم صرف آپ کے کہنے سے تو اپنے بتوں کی عبادت کو چھوڑنے والے نہیں اور ہم کسی طرح آپ کی رسالت کا یقین کرنے والے نہیں۔
Ayah 11:54

اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰىكَ بَعْضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوْٓءٍ١ؕ قَالَ اِنِّیْۤ اُشْهِدُ اللّٰهَ وَ اشْهَدُوْۤا اَنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 11:54 in the Quran reader

ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے کہ ہمارے کسی معبود نے تمہیں آسیب پہنچا (کر دیوانہ کر) دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں خدا کو گواہ کرتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ جن کو تم (خدا کا) شریک بناتے ہو میں ان سے بیزار ہوں۔

(54) اور آپ جن باتوں سے روکتے ہیں ہمارا تو خیال یہ ہے کہ ہمارے معبودوں نے آپ کے دماغ پر کچھ اثر ڈال دیا ہے اسی وجہ سے ان بتوں کو آپ برا کہتے ہیں۔ حضرت ہود ؑ نے فرمایا میں میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں تمہارے بتوں سے اور جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو بیزار ہوں۔
Ayah 11:55

مِنْ دُوْنِهٖ فَكِیْدُوْنِیْ جَمِیْعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 11:55 in the Quran reader

(یعنی جن کی) خدا کے سوا (عبادت کرتے ہو تو) تم سب مل کر میرے بارے میں (جو) تدبیر (کرنی چاہو) کرلو اور مجھے نہ دو۔

(55) لہذا تم اور تمہارے معبود سب مل کر میری ہلاکت کی تدابیر کرلو اور پھر مجھ کو بالکل مہلت مت دو اور میرے معاملہ میں کسی کا انتظار مت کرو۔
Ayah 11:56

اِنِّیْ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ١ؕ مَا مِنْ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِیَتِهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 11:56 in the Quran reader

میں خدا پر جو میرا اور تمہارا (سب کا) پروردگار ہے بھروسہ رکھتا ہوں (زمین پر) جو چلنے پھرنے والا ہے وہ اس کو چوٹی سے پکڑے ہوئے ہے۔ بیشک میرا پروردگار سیدھے راستے پر ہے۔

(56) میں نے اپنے تمام معاملات کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیا ہے جو میرا بھی خالق ہے اور تمہارا بھی اور میرا بھی رازق ہے اور تمہارا بھی، جتنے روئے زمین پر چلنے والے ہیں سب کی دور اس کے ہاتھ میں ہے، وہی موت، وحیات دیتا ہے یا یہ کہ تمام چیزیں اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں جو چاہتا ہے سو کرتا ہے یقیناً میرا رب صراط مستقیم پر چلنے سے ملتا ہے یا یہ کہ وہ مخلوق کو صراط مستقیم کی طرف دعوت دیتا ہے جو اس کے نزدیک پسندیدہ راستہ ہے اور وہ دین اسلام ہے۔
Ayah 11:57

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖۤ اِلَیْكُمْ١ؕ وَ یَسْتَخْلِفُ رَبِّیْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ١ۚ وَ لَا تَضُرُّوْنَهٗ شَیْئًا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ Open ayah 11:57 in the Quran reader

اگر تم رودگرانی کرو گے تو جو پیغام میرے ہاتھ تمہاری طرف بھیجا گیا ہے وہ میں نے تمہیں پہنچا دیا ہے اور میرا پروردگار تمہاری جگہ اور لوگوں کو لابسائے گا۔ اور تم خدا کا کچھ نقصان نہیں کرسکتے۔ میرا پروردگار تو ہر چیز پر نگہبان ہے۔

(57) پھر بھی اگر تم ایمان اور توبہ سے منہ پھیرتے ہو تو رسالت اور تمہاری ہلاکت کا پیغام جو مجھے دے کر بھیجا گیا تھا وہ میں تمہیں پہنچا چکا ہوں اور تمہاری جگہ میرا رب تم سے بہترین اور اطاعت گزار لوگوں کو آباد کرے گا اور اپنی ہلاکت سے اللہ تعالیٰ کا تم کچھ نقصان نہیں کررہے ہو میرا پروردگار تمہارے تمام اعمال کی نگرانی کرتا ہے اور وہ اس سے باخبر ہے۔
Ayah 11:58

وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا هُوْدًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا١ۚ وَ نَجَّیْنٰهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 11:58 in the Quran reader

اور جب ہمارا حکم (عذاب) آپہنچا تو ہم نے ہود کو اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے تھے انکو اپنی مہربانی سے بچا لیا۔ اور انھیں عذاب شدید نجات دی۔

(58) اور جب ہمارے عذاب آیا تو ہم نے اپنی مہربانی سے حضرت ہود ؑ اور ان کے ساتھ جو اہل ایمان تھے انکو بہت ہی سخت عذاب سے بچا لیا۔
Ayah 11:59

وَ تِلْكَ عَادٌ١ۙ۫ جَحَدُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ عَصَوْا رُسُلَهٗ وَ اتَّبَعُوْۤا اَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ Open ayah 11:59 in the Quran reader

یہ (وہی) عاد ہیں جنہوں نے خدا کی نشانیوں سے انکار کیا اور اس کے پیغمبروں کی نافرمانی کی اور ہر متکبر وسرکش کا کہا مانا۔

(59) اور یہ قوم عاد تھی جنہوں نے اپنے رب کی ان آیات کا انکار کیا جو حضرت ہود ؑ ان کے پاس لے کر آئے تھے اور توحید میں رسولوں کی نافرمانی کی اور تمام تر ایسے لوگوں کے کہنے پر چلتے رہے جو ظالم وضدی اور حق سے دور ہونے والے تھے۔
Ayah 11:60

وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّعَادٍ قَوْمِ هُوْدٍ۠ Open ayah 11:60 in the Quran reader

تو اس دنیا میں بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہی اور قیامت کے دن بھی (لگی رہے گی) دیکھو عاد نے اپنے پروردگار سے کفر کیا۔ (اور) سن رکھو ہود کی قوم عاد پر پھٹکار ہے۔

(60) اور اس دنیا میں بھی لعنت ان کے ساتھ رہی کہ آندھی کے ذریعے ہلاک کردیے گئے اور دوسری لعنت دوزخ ہے سن لو کہ قوم عاد نے اپنے رب کا انکار کیا اور وہ اللہ کی رحمت سے دور ہوگئی۔
Ayah 11:61

وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ هُوَ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اسْتَعْمَرَكُمْ فِیْهَا فَاسْتَغْفِرُوْهُ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ Open ayah 11:61 in the Quran reader

اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو (بھیجا) تو انہوں نے کہا کہ قوم ! خدا ہی کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ اسی نے تم کو زمین سے پید کیا اور اس میں آباد کیا۔ تو اس سے مغفرت مانگو اور اس کے آگے توبہ کرو۔ بیشک میرا پروردگار نزدیک (بھی ہے اور دعا کا) قبول کرنے والا (بھی) ہے۔

(61) اور ہم نے قوم ثمود کی جانب ان کے نبی کو بھیجا، انہوں نے فرمایا اے قوم توحید خداوندی کے قائل ہوجاؤ، اس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں جس پر ایمان لانے کے لیے تمہیں کہا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں آدم ؑ سے اور آدم ؑ کو مٹی سے پیدا کیا اور تمہیں زمین میں آباد کیا اور تمہارے لیے اس نے سکونت کی جگہ بنائی، اسی کی توحید کے قائل ہوجاؤ اور توبہ اور اخلاص کے ساتھ اسی کے سامنے جھک جاؤ، بیشک میرا رب قبولیت کے قریب ہے اور موحد کی توبہ کو قبول فرمانے والا ہے۔
Ayah 11:62

قَالُوْا یٰصٰلِحُ قَدْ كُنْتَ فِیْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هٰذَاۤ اَتَنْهٰىنَاۤ اَنْ نَّعْبُدَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا وَ اِنَّنَا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ Open ayah 11:62 in the Quran reader

انہوں نے کہا صالح اس سے پہلے ہم تم سے (کئی طرح کی) امیدیں رکھتے تھے (اب وہ منقطع ہوگئیں) کیا تم ہم کو ان چیزوں کے پوچنے سے منع کرتے ہو جن کو ہمارے بزرگ پوجتے آئے ہیں۔ اور جس بات کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو اس میں ہمیں قومی شبہہ ہے۔

(62) قوم ثمود کہنے لگی اے صالح تم تو ہمارے آباء کے دین کے علاوہ دوسرے دین کی دعوت دینے سے پیشتر ہم میں سے ہونہار اور لیاقت والے تھے کیا تم ہمیں ان بتوں کی پوجا سے روکتے ہو ہم تو تمہارے دین کے متعلق بہت مشکوک ہیں جس نے ہمیں تردد میں ڈال رکھا ہے۔
Ayah 11:63

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ مِنْهُ رَحْمَةً فَمَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ عَصَیْتُهٗ١۫ فَمَا تَزِیْدُوْنَنِیْ غَیْرَ تَخْسِیْرٍ Open ayah 11:63 in the Quran reader

صالح نے کہا قوم ! بھلا دیکھو تو اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے کھلی دلیل پر ہوں اور اس نے مجھے اپنے ہاں سے (نبوت کی) نعمت بخشی ہو تو اگر میں خدا کی نافرمانی کروں تو اسکے سامنے میری کون مدد کریگا ؟ تم تو (کفر کی باتوں سے) میرا نقصان کرتے ہو۔

(63) حضرت صالح ؑ نے فرمایا کہ میں اپنے رب کی جانب سے دلیل پر قائم ہوں اور اس نے مجھے نبوت و اسلام کی دولت سے نوازا ہے، اگر میں حکم الہی کی نافرمانی کروں تو پھر مجھے عذاب الہی سے کون بچالے گا، تم تو سراسر میرا نقصان ہی کررہے ہو کہ تم تو اپنے خسارہ میں میری بصیرت کو اور بڑھا رہے ہو۔
Ayah 11:64

وَ یٰقَوْمِ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ قَرِیْبٌ Open ayah 11:64 in the Quran reader

اور (یہ بھی کہا کہ) اے قوم ! یہ خدا کی اونٹنی تمہارے لئے ایک نشانی (یعنی معجزہ) ہے تو اس کو چھوڑ دو کہ خدا کی زمین میں (جہاں چاہے) چرے اور اسکو کسی طرح کی تکلیف نہ دینا ورنہ تمہیں جلد عذاب آپکڑے گا۔

(64) اور اے قوم یہ اونٹنی ہے اللہ کی جو تمہارے لیے دلیل بنا کر ظاہر کی گئی، اس کو حجر کی سرزمین میں چھوڑ دو تمہارے ذمہ اس کی کسی قسم کی کوئی رکھوالی نہیں اور اس کو تکلیف دینے کی نیت سے ہاتھ بھی نہ لگانا کہیں تمہیں فورا یعنی تین دن کے بعد عذاب آگھیرے۔
Ayah 11:65

فَعَقَرُوْهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوْا فِیْ دَارِكُمْ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ وَعْدٌ غَیْرُ مَكْذُوْبٍ Open ayah 11:65 in the Quran reader

مگر انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔ تو (صالح نے) کہا کہ اپنے گھروں میں تین دن (اور) فائدے اٹھالوں۔ یہ وعدہ ہے کہ جھوٹا نہ ہوگا۔

(65) انہوں نے اس اونٹنی کو مار ڈالا، قدار بن سالف اور مصدع بن زہر نے اس کو قتل کیا اور پندرہ سو مکانات میں اس کے گوشت کو تقسیم کیا، حضرت صالح ؑ نے اونٹنی کے قتل ہوجانے کے بعد فرمایا، تم اپنے شہروں میں تین دن اور رہ لو اور پھر چوتھے دن تم پر عذاب آجائے گا، قوم کہنے لگی اے صالح عاب کی علامت کیا ہے حضرت صالح ؑ نے فرمایا پہلے دن تمہارے چہرے زرد اور دوسرے دن سرخ اور تیسرے دن سیاہ ہوجائیں گے اور پھر چوتھے دن عذاب نازل ہوجائے گا اور یہ عذاب ٹلنے والا نہیں۔
Ayah 11:66

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا صٰلِحًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ مِنْ خِزْیِ یَوْمِئِذٍ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ Open ayah 11:66 in the Quran reader

جب ہمارا حکم آگیا تو ہم نے صالح کو اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے تھے ان کو اپنی مہربانی سے بچا لیا اور اس دن کی رسوائی سے (محفوظ رکھا) بیشک تمہارا پروردگار طاقتور اور زبردست ہے۔

(66) چناچہ جب ہمارا عذاب نازل ہوا تو ہم نے حضرت صالح ؑ اور اہل ایمان کو اپنے عذاب سے بچا لیا اور اس دن کے عذاب سے نجات دی اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کے بچانے میں طاقتور اور اپنے دشمنوں سے انتقام لینے میں غلبہ والا ہے۔
Ayahs 11:67–68

وَ اَخَذَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ Open ayah 11:67 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو چنگھاڑ (کی صورت میں عذاب) نے آپکڑا تو وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔

كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ؕ اَلَاۤ اِنَّ ثَمُوْدَاۡ كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّثَمُوْدَ۠ Open ayah 11:68 in the Quran reader

گویا کبھی ان میں بسے ہی نہ تھے۔ سن رکھو کہ ثمود نے اپنے پروردگار سے کفر کیا۔ اور سن رکھو ثمود پر پھٹکار ہے

(67۔ 68) اور ان مشرکین کو عذاب نے پکڑا جس سے وہ مردہ بےحس و حرکت اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے اور ایسے فنا ہوئے جیسا کہ وہ زمین پر کبھی تھے ہی نہیں، قوم صالح ؑ نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ صالح ؑ کی قوم اللہ کی رحمت سے دور ہوگئی۔
Ayah 11:69

وَ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى قَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ فَمَا لَبِثَ اَنْ جَآءَ بِعِجْلٍ حَنِیْذٍ Open ayah 11:69 in the Quran reader

اور ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس بشارت لے کر آئے تو سلام کہا۔ انہوں نے بھی (جواب میں) سلام کہا۔ ابھی کچھ وقفہ نہیں ہوا تھا کہ (ابرہیم) بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔

(69) جبریل امین ؑ اور ان کے ساتھ بارہ فرشتے حضرت ابراہیم ؑ کے پاس اور اس کے بیٹے حضرت اسحاق ؑ ، کی بشارت لے کر آئے اور آتے ہی انہوں نے حضرت ابراہیم ؑ کو سلام کیا، ابراہیم ؑ نے انکو سلام کیا اور اگر بغیر الف کے سلم پڑھا جائے تو مقصود سلامتی اور عافیت ہوئی، پھر حضرت ابراہیم ؑ فورا ایک پکا ہوا فربہ بچھڑا لائے اور ان کے سامنے کھانے کے لیے پیش کیا۔
Ayah 11:70

فَلَمَّا رَاٰۤ اَیْدِیَهُمْ لَا تَصِلُ اِلَیْهِ نَكِرَهُمْ وَ اَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةً١ؕ قَالُوْا لَا تَخَفْ اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمِ لُوْطٍؕ Open ayah 11:70 in the Quran reader

جب دیکھا کہ ان کہ ہاتھ کھانے کی طرف نہیں جاتے (یعنی وہ کھانا نہیں کھاتے) تو ان کو اجنبی سمجھ کر دل میں خوف کیا۔ (فرشتوں نے) کہا کہ خوف نہ کیجئے ہم قوم لوط کی طرف (انکے ہلاک کرنے کو) بھیجے گئے ہیں

(70) جب حضرت ابراہیم ؑ نے دیکھا کہ انکے ہاتھ اس کھانے تک نہیں بڑھتے کیوں کہ ان کو تو کھانے کی احتیاج نہیں تھی تو حضرت ابراہیم ؑ کو ان سے وحشت ہوئی اور ان سے دل میں خوف زدہ ہوئے اور سمجھے کہ کوئی مخالف نہ ہوں کیوں کہ کھانا نہیں کھا رہے ہیں، جب فرشتوں نے حضرت ابراہیم ؑ کے خوف زدہ ہونے کا احساس کیا تو کہنے لگے ابراہیم ؑ ڈرو مت ہم قوم لوط کی ہلاکت کے لیے بھیجے گئے ہیں۔
Ayah 11:71

وَ امْرَاَتُهٗ قَآئِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ١ۙ وَ مِنْ وَّرَآءِ اِسْحٰقَ یَعْقُوْبَ Open ayah 11:71 in the Quran reader

اور ابراہیم کی بیوی (جو پاس) کھڑی تھی ہنس پڑی تو ہم نے اس کو اسحاق اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوش خبری دی۔

(71) اور حضرت ابراہیم ؑ کی بیوی حضرت سارہ اوٹ سے مہمانوں کی خدمت کے لیے کھڑی ہوئی تھیں، وہ یہ منظر دیکھ کر حضرت ابراہیم ؑ مہمانوں سے خوف زدہ ہو رہے ہیں، متعجب ہوئیں۔ پھر ہم نے انکو اسحاق فرزند اور یعقوب پوتے کی خوشخبری دی۔
Ayah 11:72

قَالَتْ یٰوَیْلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَ اَنَا عَجُوْزٌ وَّ هٰذَا بَعْلِیْ شَیْخًا١ؕ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عَجِیْبٌ Open ayah 11:72 in the Quran reader

اس نے کہا اے ہے میرے بچہ ہوگا ؟ میں تو بڑھیا ہوں اور میرے میاں بھی بوڑھے ہیں۔ یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔

(72) یہ سن کر حضرت سارہ ہنسیں (اور ان کو حیض کی شکایت ہوئی) اور کہنے لگیں کہ اب میں اٹھانوے سال کی بڑھیا ہو کر بچہ کیسے پیدا کروں گی اور میاں ابراہیم ننانوے سال کے بوڑھے ہیں، واقعی یہ بھی عجیب بات ہے۔
Ayah 11:73

قَالُوْۤا اَتَعْجَبِیْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ رَحْمَتُ اللّٰهِ وَ بَرَكٰتُهٗ عَلَیْكُمْ اَهْلَ الْبَیْتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ Open ayah 11:73 in the Quran reader

انہوں نے کہا کیا تم خدا کی قدرت سے تعجب کرتی ہو ؟ اے اہل بیت تم پر خدا کی رحمت اور اس کی برکتیں ہی۔ وہ سزا وار تعریف اور بزرگوار ہے۔

(73) فرشتوں نے ان سے کہا کہ اب بھی (خاندان نبوت میں رہ کر) اللہ کی قدرت میں تعجب کرتی ہو اور خصوصا ابراہیم ؑ کے گھر والو تم پر تو اللہ تعالیٰ کی برکتیں اور رحمتیں نازل ہوتی رہتی ہیں، بیشک وہ اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں میں تعریف کے لائق اور بڑی شان والا ہے کہ تمہیں نیک لڑکے کی وجہ سے اعزاز عطا کیا۔
Ayah 11:74

فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ اِبْرٰهِیْمَ الرَّوْعُ وَ جَآءَتْهُ الْبُشْرٰى یُجَادِلُنَا فِیْ قَوْمِ لُوْطٍؕ Open ayah 11:74 in the Quran reader

جب ابراہیم سے خوف جاتا رہا اور ان کو خوش خبری بھی مل گئی تو قوم لوط کے بارے میں لگے ہم سے بحث کرنے۔

(74) پھر جب حضرات ابراہیم ؑ کا وہ خوف زائل ہوا اور انکو لڑکے کی بشارت ملی تو ادھر سے بےفکر ہو کر ہم سے قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں سفارش کرنا شروع کیا۔
Ayah 11:75

اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَحَلِیْمٌ اَوَّاهٌ مُّنِیْبٌ Open ayah 11:75 in the Quran reader

بیشک ابراہیم بڑے تحمل والے نرم دل اور رجوع کرنیوالے تھے۔

(75) واقعی براہیم ؑ بڑے حلیم الطبع رحیم المزاج اور اللہ تعالیٰ کی طرف بہت متوجہ ہونے والے تھے۔
Ayah 11:76

یٰۤاِبْرٰهِیْمُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدْ جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَ١ۚ وَ اِنَّهُمْ اٰتِیْهِمْ عَذَابٌ غَیْرُ مَرْدُوْدٍ Open ayah 11:76 in the Quran reader

اے ابراہیم ! اس بات کو جانے دو۔ تمہارے پروردگار کا حکم آپہنچا ہے۔ اور ان لوگوں پر عذاب آنے والا ہے جو کبھی نہیں ٹلنے گا۔

(76) ارشاد ہوا ابراہیم اس سفارش پر اصرار مت کرو، قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں تمہارے پروردگار کا حکم آچکا، ان پر ضرور ایسا عذاب آنے والا ہے جو کسی طرح ٹلنے والا نہیں۔
Ayah 11:77

وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالَ هٰذَا یَوْمٌ عَصِیْبٌ Open ayah 11:77 in the Quran reader

اور جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس آئے تو وہ ان (کے آنے) سے غمناک اور تنگ دل ہوئے اور کہنے لگے کہ آج کا دن بڑی مشکل کا دن ہے

(77) اور جب جبریل امین ؑ اور انکے ساتھ دوسرے فرشتے لوط ؑ کے پاس آئے تو لوط ؑ انکے آنے کی وجہ سے مغموم اور پریشان ہوئے (کیوں کہ وہ بہت حسین تھے اور لوط ؑ نے ان کو آدمی سمجھا کیونکہ ان کی قوم کی غلط حرکات تھیں اور بہت غمگین ہوئے اور اپنی قوم کے برے افعال کی وجہ سے درے اور دل میں کہنے لگے آج کا دن بہت ہی بھاری ہے۔
Ayah 11:78

وَ جَآءَهٗ قَوْمُهٗ یُهْرَعُوْنَ اِلَیْهِ١ؕ وَ مِنْ قَبْلُ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِیْ هُنَّ اَطْهَرُ لَكُمْ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا تُخْزُوْنِ فِیْ ضَیْفِیْ١ؕ اَلَیْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِیْدٌ Open ayah 11:78 in the Quran reader

اور لوط کی قوم کے لوگ ان کے پاس بےتحاشا دوڑتے ہوئے آئے۔ اور یہ لوگ پہلے ہی سے فعل شنیع کیا کرتے تھے۔ لوط نے کہا کہ اے قوم ! (جو) میری (قوم کی) لڑکیاں ہیں یہ تمہارے لئے (جائز اور) پاک ہیں تو خدا سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے (بارے) میں میری آبرو نہ کرو۔ کیا تم میں کوئی بھی شائستہ آدمی نہیں ؟

(78) اور لوط ؑ کی قوم یہ خبر سن کر (کہ نوجوان مہمان آئے ہیں) لوط ؑ کے پاس بہت تیزی کے ساتھ دوڑے ہوئے آئے اور جبریل امین ؑ کی تشریف آوری کے قبل ہی سے وہ نامعقول حرکتیں کیا کرتے تھے۔ لوط ؑ ان سے فرمانے لگے، اے میری قوم یہ میری بیٹیاں ہیں یا میری قوم کی لڑکیاں ہیں میں تم سے ان کی شادی کردیتا ہوں فعل حرام کے ارتکاب سے اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے شرمندہ مت کرو کیا تم میں کوئی بھلا مانس نہیں کہ صحیح راستہ پر تمہیں چلائے نیکیوں کا حکم دے اور برائیوں سے روکے۔
Ayah 11:79

قَالُوْا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِیْ بَنٰتِكَ مِنْ حَقٍّ١ۚ وَ اِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِیْدُ Open ayah 11:79 in the Quran reader

وہ بولے تم کو معلوم ہے کہ تمہاری (قوم کی) بیٹیوں کی ہمیں حاجت نہیں اور جو ہماری غرض ہے اسے تم (خوب) جانتے ہو۔

(79) وہ کہنے لگے اے لوط آپ کو معلوم ہے کہ ہمیں آپ کی ان بیٹیوں کی کوئی ضرورت نہیں اور آپ جانتے ہیں کہ جو ہمارا مطلب اور ارادہ ہے۔
Ayah 11:80

قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِكُمْ قُوَّةً اَوْ اٰوِیْۤ اِلٰى رُكْنٍ شَدِیْدٍ Open ayah 11:80 in the Quran reader

لوط نے کہا کہ اے کاش مجھ میں تمہارے مقابلے کی طاقت ہوتی یا میں کسی مضبوط قلعہ میں پناہ پکڑ سکتا۔

(80) حضرت لوط ؑ دل میں فرمانے لگے کیا اچھا ہوتا اگر بدن اور اولاد کی قوت کے ذریعہ میرا تم پر کچھ زور چلتا یا کسی بڑے خاندان کے ساتھ میرا تعلق ہوتا کہ وہاں میں پناہ لے کر تم سے اپنی حفاظت کرلیتا حضرت لوط ؑ کی قوم کی زیادتی پر حضرت جبریل امین ؑ اور دیگر فرشتوں نے جب حضرت لوط ؑ کو اس قدر مضطراب دیکھا۔