Ayahs 80:33–42ترکیب ¦ فاذا حرف الشرط جاءت فعل الصاخۃ فاعلہ والجملۃ شرطیۃ والجواب محذوف یدل علیہ الکلام الاتی وھو لکل امری منہم الخ الصاخۃ الصیحۃ وسمیت بھا لشدۃ صو تھا کانھا تصخ الاذان ای تصمھا فلا تسمع واصل الکلمۃ من الصخ وھو الطعن والصک بقال صخ راسہ بحجرای شدخہ والغراب یصخ بمنقارہ فی وبرالبعیر ای یطعن وھی النفخۃ الاخیرۃ والفاء للدلالۃ علی ترتیب مابعدھا علی ما قبلھا یوم منصوب بمقدر ای اعنی ویکون تفسیراً للصاخۃ اوبدل من اذا جاءت لکل امری منہم خبر شان یغنیہ مبتدء یومئذ ظرف لہ والجملۃ مستانفۃ مسوقۃ لبیان سبب الفرار۔ وجوہ مبتداء والنکرۃ لوقوعھا فی مقام التفصیل والتوزیع صلحت للابتداء یومئذ متعلق بہ مسفرۃ خبر اول ضاحکۃ خبرثانی مستبشرۃ خبر ثالث ووجوہ یومئذ مبتداء علیھا غبرۃ خبر ترھقھا قترۃ خبرثان رھق بالتحریک برنشستن گرد بچیزے و فرو پوشیدن (عع ک 12) قولہ تعالیٰ ولا یرھق وجوھہم قترولاذلہ وفی الحدیث اذا صلی احدکم ای الشی فلیرھقہ ای فلیفشہ ولا یعبدمنہ وہ خود را بر حرام و تباہی داشتن یقال فیہ رھق و ستم کردن قولہ تعالیٰ فلا یخاف بخسا ولا رھقا ای ظلما۔ وسفاھت وطغیاں قولہ تعالیٰ فزادوھم رھقا ای سفھا وطغیا ناونزدیک آمدن و در یافتن چیزے را صراح
قتر۔ قترۃ بفتحتیں گرد قترجمع۔ تقتیر۔ اقتارکذلک وبوے بریاں برانگیختن وبخور کردن زن و درویش شدن مرد۔
غبرغبار بالضم غبرۃ بفتحتین گرد۔ غبرہ بالضم تیرگی صراح قال زید بن اسلم القترۃ ما ارتفعت الی السماء والغبرۃ ما انحطت الی الارض۔ وقال ابن عباس ؓ القترۃ سواد الوجہ اولئک مبتداء ھم الکفرۃ الخ خبر کفرۃ جمع کافرو الفجرۃ جمع فاجر والفاجر المائل عن الحق
تفسیر ¦ اور یہ کب ہوگا فاذا جاءت الصاخۃ جس دن کہ صاخہ آوے یعنی قیامت جس کے نفخ صور سے شور برپا ہوگا۔ فائدہ : قیامت کو اس کے اوصاف ہیبت ناک کی وجہ سے ہر ایک وصف سے یاد کیا گیا ہے۔ کبھی اس کو طامۃ کبریٰ کبھی واقعہ کبھی الحاقۃ کبھی القارعہ کبھی الصاخۃ۔ وہ کیسا دن ہوگا اور کب اس کا ظہور ہوگا۔ یوم یفر المرء من اخیہ جس دن کہ آدمی اپنے بھائی سے بھاگے گا یعنی اس کی مصیبت میں شریک ہونا پسند نہ کرے گا۔ اپنی ہی خلاصی کی پڑی ہوگی۔ وامہ اور اپنی مادر مہربان سے بھی آنکھیں چرا لے گا۔ نااہل تو دنیا میں بھی ماں سے منہ پھیر لیتے ہیں ٗ بیوی اور اولاد پر فدا ہوتے ہیں۔ وابیہ اور اس کے بعد باپ کی طرف توجہ ہوتی ہے۔ سو اس روز باپ سے بھی الگ ہوجائے گا۔ اس کی شفقت پرورش کا کچھ خیال بھی نہ آوے گا۔ وصاحبتہ اور بیوی کی بھی کچھ پروا نہ کرے گا۔ آج جس کو مال و عزت اور گھر کی تمام برکات کا خزانچی جانتا ہے ٗ حرام و حلال جو ملتا ہے۔ اسی کے آگے لا کر دھرتا ہے اور اس کی غیرت کے لیے جان دینے کو تیار ہوجاتا ہے اور جو اس کی بڑی مونس ‘ درد و غم کی شریک اور بڑی دلربا اور معشوق ہوتی ہے اس روز اس سے بھی منہ پھیر لے گا۔ وبنیہ اور پیاری اولاد اور محبوب لڑکوں سے بھی آنکھیں پھیر لے گا جن کے لیے آج دنیا میں خدا کو بھولا ہوا ہے اور رات دن انہیں کے لیے مال و زر جمع کرنے میں کوشش کرتا ہے۔
ان آیات میں غالباً ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ترقی ہے۔ کس لیے کہ سب سے اول انسان کو اولاد اور ان میں سے نرینہ اولاد پیاری ہوتی ہے۔ اس کے بعد بیوی پھر اس کے بعد باپ کہ جوانی میں بوڑھے باپ کا ترکہ ملنے کی امید ہوتی ہے۔ اس کے بعد ماں اس کے بعد بھائی سو ادنیٰ سے لے کر اعلیٰ تک جو کچھ اس کے لخت جگر اور محبوب دلی ہیں اور جن کی محبت و ہمدردی ایک فطری بات ہے۔ خاص لوگوں کے سوائے جس کو دیکھو انہیں کی محبت میں سرگرداں ہے اور انہیں کے خیال کی بھاری بیڑیوں میں جکڑا ہوا ہے۔ اس روز ایسی آپا دھاپی ہوگی کہ ان سے بھی کنارہ کرے گا اور کسی کے بدلے آپ سزا پانا ہرگز قبول نہ کرے گا بلکہ اپنے حسنات میں سے حصہ دینا بھی گوارا نہ کرے گا۔ جب ان سے یہ حال ہوگا تو اور رشتہ داروں دوستوں ہم وطنوں کی تو کیا پروا ہوگی۔
یہی مضمون اور کئی ایک جگہ بھی قرآن مجید میں آیا ہے۔ ولایسئل حمیم حمیما یبصرونہم۔ ولا یغنی مولیٰ عن مولی شئیا وغیرہا من الآیات اور کیوں ایک دوسرے کی پروا نہ کرے گا۔ لکل امری منہم یومئذ شان یغینہ کہ ہر ایک شخص ان مذکورہ لوگوں میں سے اپنی ایک ایسی حالت میں ہوگا کہ وہ حالت اس کو دوسروں سے بےپروا کرے گی۔ اپنی پڑی ہوگی دوسرے کی خبر نہ ہوگی اور مصیبت میں ایسا ہوا کرتا ہے۔
فائدہ۔ یہ حالت کب ہوگی ؟ قیامت میں اس وقت کہ قہر و جبروتِ الٰہی کا ظہور ہوگا اور دروازہ شفاعت کا نہ کھلا ہوگا۔ ہر ایک نبی نفسی نفسی کرے گا۔ سب اولین و آخرین حضرت آدم (علیہ السلام) کے پاس آکر عرض کریں گے کہ آج آپ جو سب کے باپ ہیں شفاعت کیجئے۔ وہ کہیں گے نوح کے پاس جائو۔ اسی طرح وہ کہیں گے ابراہیم کے پاس جائو۔ وہ کہیں گے موسیٰ کے پاس جائو۔ وہ کہیں گے عیسیٰ کے پاس جائو۔ وہ کہیں گے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے پاس جائو۔ آج اس کے قابل وہی ہیں۔ پھر سب آنحضرت ﷺ کے پاس آئیں گے۔ آپ شفاعت کریں گے۔ آپ کی شفاعت قبول ہوگی۔ پھر اور انبیاء و اولیاء و صلحاء شفاعت کریں گے اور حساب شروع ہوگا۔ تب وجوہ یومئذ مسفرۃ اس دن بہت سے منہ روشن ہوں گے۔ خصوصاً جبکہ ان کو نعیم جنت اور عطا کا ملنا معلوم ہوگا۔ یہ نیک لوگ ہوں گے۔ بزرگوں نے فرمایا ہے وہ ہوں گے جو رات کو اندھیرے میں نماز پڑھا کرتے تھے یا جن کے چہروں پر اللہ کی راہ میں غبار پڑی تھی یا جن کے چہروں پر سعادت کے حاصل کرنے اور اعمال کی مشقت ‘ بھوک پیاس کی شدت اور خوفِ الٰہی سے تیرگی پیدا ہوئی تھی۔ یہ آثار وضو سے ضاحکۃ مستبشرۃ ہنستے ہوں گے بشاش ہوں گے۔ حساب سے فارغ ہو کر جنت میں جاتے وقت جو دنیا میں خوفِ الٰہی سے روتے اور غفلت و اعمالِ بد پر غمگین ہوں گے۔ وہ اس روز ہنستے اور بشاش ہوں گے۔ یہ اہل سعادت کا حال ہوگا اس کے بعد اہل شقاوت کا حال بیان فرماتا ہے۔ وجوہ یومئذ علیہا غبرۃ کہ بہت مونہوں پر اس روز غبار پڑی ہوگی جو نعیم دنیا میں چپڑے چکنے چہرے رکھتے تھے اور خدا سے غافل تھے۔ ترھقہا قترہ اور جہنم اور اعمالِ بد کی سزائیں سامنے دیکھ کر چہروں پر سیاہی چڑھ جاوے گی یا پھٹکار کی سیاہی۔ یہ کون ہیں اولئک ھم الکفرۃ الفجرہ یہ کافر بدکار ہیں۔ کفر اور اس کے ساتھ بدکاری اور بھی غضب ہے۔ سبحان اللہ انسان کی ابتداء اور حالت حیات و ممات و دور آخرت کی کیفیت کن مختصر الفاظ میں کس دل کش انداز سے بیان فرمائی ہے۔ یہ کمال اعجاز ہے۔