Ayahs 79:34–41ترکیب ¦ فاذا اشرط الطامۃ قال المبردھی عند العرب الداھیۃ طمم طمم درانپا شتن (ععاض 2) یقال فوق کل ذی طامۃ طامۃ و بریدن والطامۃ قیامت صراح قال المبردھی من قولھم طم افرس طمیما اذا استفرغ جھدہ فی الجری وطم الماء اذا ملاء النھر کا وقال اللیث الطم طم البئیریا بالتراب وھوا لکبس ویقال للشیء الذی یکبر حتی یعلوطم والطامۃ الحاوثۃ تطم علی ماسواھا کبیر۔ والعامل فی اذا جوا بھا وھو معنی قولہ یوم یتذکر قال الواحدی جواب اذا محذوف والتقدیر اذا جاءت الطامۃ الکبرٰی دخل اھل النار النار واھل الجنۃ الجنۃ وقیل جو ابھا قولہ فان الجھیمھی الماویٰ وکانہ جزاء مرکب علی شرطین یوم یتذکر الظرف بدل من اذا وقیل من الطامۃ الکبریٰ ۔ وبرزت معطوف علی جاءت قراء الجمہور یری بالتحیۃ و قرأت عائشتہ وعکرمۃ ومالک بن دینار وزید بن علی بالفوقیۃ ای لمن تراہ الجحیم فاما شرطیۃ من موصولۃ طغی اصل تھا واثر معطوف علی طغیٰ آثرا ختار فان الجھیم الجملۃ جواب الشرطھی الماویٰ لہ اوالالف واللام عوض عن المضاف الیہ وقس علیہ امامن خاف مقام ربہ قیامۃ بین یدیہ وقال الجلال جواب اذا فاما من طغٰی الخ۔
تفسیر … مسئلہ توحید کا اثبات ¦ آسمان و زمین کی بناوٹ میں اپنی حکمت بالغہ وقدرت کاملہ کا ثبوت دے کر بظاہر تو یہ بات ثابت کی تھی کہ ہم انسان کے باردگر زندہ کرنے پر قادر ہیں اور ضمناً یہ بھی بتایا تھا کہ دراصل ہم ہی مربی و رزق رسان ہیں۔ ہم ہی نے تمہارے لیے یہ گھر بنایا جس کی چھت آسمان اور فرش زمین ہے اور جس میں تمہاری معیشت کے کل سامان ہیں۔ پھر ہم ہی قابل پرستش ہیں۔ ہمارے ساتھ عبادت و استعانت میں دوسرے کو شریک کرنا کمال ناشکری ہے اور ہماری عبادات و اطاعت شکر گزاری اور حق شناسی ہے۔ اس میں مسئلہ توحید کا بھی کامل ثبوت کردیا گیا۔ اب یہ بات ظاہر کرتا ہے کہ یہ دنیا کا گھر اور اس کی نعمتیں ہمیشہ کے لیے نہیں۔ آخر ایک روز یہ گھر بگڑنا ہے اور تمہیں ایک دوسرے گھر میں جا کر سدا رہنا ہے جہاں انسان کو اس کی کوشش اور عمل کا نتیجہ نیک یا بد بھگتنا پڑے گا اور اس دار امتحان میں جو کچھ کیا تھا اس کا بدلہ پانا ہوگا اور اس گھر میں بسانے سے یہی مقصود بھی تھا نہ کہ یہیں رکھنا اور یہ کب ہوگا فاذا جاءت الطامۃ الکبرٰی جبکہ بڑا حادثہ یعنی قیامت آوے۔ طامہ بڑا حادثہ جو اور سب حادثوں پر غالب ہو اور کبرٰی میں اور بھی تاکید ہے۔ یہ موت کے حادثے اور دنیا کے جمیع حوادث انقلابات سلطنت ‘ دریائی طغیانی ‘ پہاڑوں کی آتش فشانی ‘ قوموں کے زیر و زبر ہونے ٗ نئے مکانوں کے بننے ‘ پہلوں کے گرنے ‘ انسان کے بڑھاپے اور دولت مند و فقیر ہونے سب سے بڑھ کر ہے۔ کس لیے کہ اس حادثہ میں یہ تمام عالم ہی زیر و زبر ہوجائے گا۔ یہ گھر فنا ہوجاوے گا۔ ان آیات میں پھر اس مسئلہ معاد کی تصویر کھینچی جاتی ہے اور یہی خیال انسان کو نیکی پر ابھارتا اور بدکاریوں سے روکتا ہے۔
قیامت میں آسمانوں کا پھٹنا ‘ زمین کا فنا ہونا ‘ پہاڑوں کا اڑتے پھرنا ‘ جو نفح صور اول سے متعلق ہے۔ توطیہ و تمہید ہے اور اصل مقصد انسان کا باردگر زندہ ہو کر اپنے اعمال و ایمان کا بدلہ پانا ہے اس لیے طامہ کبرٰی کے بعد جو قیامت ہے اس اصلی مقصد کو بیان فرماتا ہے فقال یوم یتذکر الانسان ماسعٰی یعنی جس دن کہ آدمی یاد کرے گا کہ اس نے دنیا میں کیا کیا تھا ٗ اس کو وہ قوٰی اور حواس عطا ہوں گے کہ جو کچھ آج دنیا میں کرکے بھول گیا ہے ٗ اس روز وہ سب یاد آجاوے گا اور اعمال کا نیک و بدنتیجہ اپنی مناسب اشکال میں اس کو آنکھوں سے دکھائے گا۔ وبرزت الجیم اور مظہر قہر الٰہی جس کو جہنم یا حجیم کہتے ہیں ٗ ظاہر ہوجاوے گی۔ لمن یریٰ ہر ایک دیکھنے والے کے لیے آج جو یہ تفرقہ ہے کہ اس کو اہل بصیرت حضرات انبیاء و اولیاء دیکھتے ہیں اوروں کو دکھائی نہیں دیتی اور اسی لیے شتر بےمہار ہو کر لوگ لذات و شہوات میں گرے پڑتے ہیں اور اس کی کچھ بھی پروا نہیں کرتے اور محسوس نہ ہونے کے سبب انکار کرتے ہیں ٗ اس روز یہ نہ ہوگا۔ ہر ایک کھلم کھلا دیکھے گا۔ لمن یریٰ کے لفظ نے تعمیم کردی۔ پھر اس فرمانِ الٰہی کے ظاہر ہونے سے یہ نہ ہوگا کہ تمام بنی آدم کو اس میں جھونک دیا جاوے گا بلکہ فامامن طغٰی جس نے سرکشی کی دنیا میں کہ حد مقرر سے آگے پائوں دھرا ٗ یہ لفظ جمیع گناہوں کو شامل ہے۔ معاملات سے لے کر عبادت تک حکم الٰہی سے سرتابی ‘ تجاوز ‘ طغیان ہے۔ یہ قوت نظریہ کے فساد کی طرف بھی اشارہ ہے کس لیے کہ جس نے اللہ کو پہچان لیا وہ اپنے نفس کو حقیر جانے گا اور ہر دم خداوند قہار و جبار کو انتقام پر قادر سمجھے گا۔ پھر اس سے طغیان یعنی سرکشی سے کوئی گناہ سرزد نہ ہوگا۔ رہا مقتضائے بشری جس کے بعد توبہ و ندامت ہو وہ طغیان نہیں۔ واثر الحیواۃ الدنیا اور طغیان ہی پر بس نہیں بلکہ زندگی دنیا پر بھی ریجھ گیا ہو۔ یہ قوت عملیہ کے فساد کی طرف اشارہ ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ دنیا کی محبت تمام گناہوں کی جڑ ہے۔ اس میں کوئی بھی شبہ نہیں کہ جب انسان دنیا کی زندگی پر فریفتہ ہوجاتا ہے اور دوسرے جہاں میں جانے کا اس کو یقین نہیں ہوتا تو وہ رات دن اسباب عیش و آرام کے جمع کرنے میں مصروف رہتا ہے ٗ خواہ حرام سے خواہ حلال سے کسی طرح سے ہو مال و زر زمین و جائیداد پیدا کرنے کے خیال میں ایسا غرق ہوتا ہے کہ پھر اس کے مقاصد کے حاصل کرنے میں کیسا ہی گناہ اور حق تلفی ہو پروا نہیں کرتا۔ نہ جھوٹ بولنے اور دغا بازی کرنے سے حذر کرتا ہے نہ ظلم کرنے سے ڈرتا ہے۔ اپنا شیوہ منافقانہ بنانا دنیاداری کے اصول میں سے جانتا ہے۔ پھر اس کو نماز و روزہ یا اور کسی نیکی کی فرصت و مہلت کہاں ؟ رات دن اسی میں رہتا ہے خواب بھی اسی کے دیکھتا ہے۔ آخر اسی حالت میں دنیا سے جاتا ہے۔ فان الحجیمھی الماویٰ تو لامحالہ دوزخ ہی اس کا مقام اور ٹھکانا ہوتا ہے۔ مرتے ہی وہ عالم برزخ میں اس بلا میں مبتلا ہوجاتا ہے کس لیے کہ یہ وہی تو اس کا طغیان و حب الدنیا ہے جو جہنم کی شکل میں ظاہر ہوگئی اور حشر میں اور بھی ظہور ہوگا۔ واما من خاف مقام ربہ اور جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا جو شخص اس خیال کو دل میں جگہ دے گا ٗ وہ ہر قسم کی بدکاری اور گناہ سے دور رہے گا اور یہ صفت وصف طغیان کی ضد ہے جس میں یہ صفت ہوگی وہ نہ ہوگی اور اسی خیال پر بس نہیں بلکہ ونھی النفس عن الہویٰ وہ نفس کو خواہش نفسانی سے بھی روکتا ہے۔ جس طرح وہ دونوں صفتیں جمیع قبائح اور الواث کو شامل تھیں۔ اسی طرح یہ دونوں صفات جمیع اطاعات و حسنات و تطہیر باطن و ظاہر و مکارم اخلاق کو شامل ہیں اور ان نیک صفتوں میں سے اول دوسری کے لیے علت ہے کس لیے کہ نفس کی بدکاریوں سے لگام ‘ روکنا جب ہی ہوسکتا ہے کہ جب یہ تصور کرلے گا کہ مجھے ایک روز خدائے جلیل و جبار کے سامنے کھڑا ہونا اور حساب دینا ہے۔ خاف مقام ربہ میں قوت نظریہ کی تکمیل کی طرف ونھی النفس میں قوت عملیہ کی تکمیل کی طرف اشارہ ہے۔ ایسے پاک لوگوں کا فان الجنتہھی الماویٰ بہشت انجام ہے۔ وہی ان کا مقام ہے۔ وہ عالم قدس میں بادشاہت کیا کریں گے۔ سبحان اللہ دو آیتوں میں دار آخرت کا حال اور نیکی و بدی کا انجام اور اصول سعادت و شقاوت کس خوبی سے بیان فرما دیے۔ ان آیات میں تعمیم ہے۔ کوئی کیوں نہ ہو جو ایسا ہوگا یہ انجام ہوگا۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ پہلے دونوں جملوں میں عامر بن عمیر ؓ کی طرف اشارہ ہے جو بدکار دنیا پرست تھا اور اخیر کے جملوں میں اس کے بھائی مصعب بن عمیر کی طرف اشارہ ہے جو تارک الدنیا تہجد گزار تھا۔ احد میں شہید ہوا جس کے لیے پورا کفن بھی نہ تھا۔ سر ڈھانکتے تھے تو پائوں کھل جاتے تھے اور جو پائوں ڈھانکتے تھے تو سر کھل جاتا تھا۔
Ayahs 79:42–46ترکیب ¦ ایان ظرف زمانی مبنی علی الفتح مبتداء مرسہا خبرہ ای منتھی قیامھا قال ابو عبیدۃ مرسی السفینۃ مستقرباء الجملۃ بیان السوال۔ فیم اصلہ فیما ای فی ای شیء خبرو المبتداء انت من ذکراھا بیان لای شیء والمعنی لست فی شیء من ذکر وقت القیامۃ انما یعلمھا اللہ تعالیٰ خاصۃ والاستفھام انکاری وردلسوال المشرکین عنھا الی ربک متعلق بثابت خبر منتھاھا مبتداء ای منتھی علمھا لا یعلم تعین وقتھا الاہو والجملۃ تاکید الجملۃ الاولی فی ردسوالھم وکذا انما انت منذر مضاف الی من وھذا قراۃ الجمہور وقریٔ بالتنوین قال الفراء کلاھما صواب کقولہ بالغ امرہ وموھن کید الکافرین وقال صاحب الکشاف الاصل ھو النتوین والا ضافۃ تخفیف وکلا ھما یصلح للحال والاستقبال کانھم کان اسمھاھم لم یلبثوا خبرھا یوم یرونھا ظرف لقولہ لم یلبثوا ای یظنون انھم لم یلبثوا فی الدنیا الاعشیۃ اوضحھا ای عشیۃ یوم اوبکرتہ وصح اضافۃ الضحیٰ الی العشیۃ لما بینھما من الملا بستہ اذھما طرفا النھار والا ضافۃ عندالعرب تصح باد نیٰ مناسبۃ یقولون اتیتک الغداۃ او عشی تھا واتیک العشیۃ اوغدا تھا۔ والعشیۃ من الزوال الی الغروب الضحیٰ ھوا البکرۃ الی الزوال۔
تفسیر ¦ کفار عرب نے جب قیامت میں دوزخ کا ظاہر لایا جانا اور بدوں کا سزا اور نیکوں کا جزا پانا سنا اور نیکی و بدی کا اصول بھی معلوم کیا تو بجائے اس کے کہ اصول حسنات پر عمل کرتے اور بدی کے رستے سے رکتے خود قیامت سے ہی سوال کرنے لگے۔ ایان مرسہا کہ اس کا کونسا وقت ہو ؟ یہ کمال نادانی ہے۔ کس لیے کہ اگر طبیب حاذق کسی کو کہے کہ تمہارا مرض مہلک ہے ٗ علاج کرو ورنہ مرجاؤ گے تو احمق بیمار یہ پوچھے گا کہ اگر سچے ہو تو بتاؤ کہ کب مروں گا۔ حالانکہ اس کو اپنا مرض معلوم کرلینے کے بعد علاج کی طرف متوجہ ہونا چاہیے تھا نہ کہ حکیم سے لایعنی سوال کرنا اور تمسخر سے پیش آنا۔ اس لیے آنحضرت ﷺ کو فرماتا ہے۔ فیم انت من ذکرھا۔ تجھے کیا پڑی جو اس کا وقت ذکر کرے۔ اول تو یوں کہ ان کو کچھ فائدہ نہیں ٗ کس لیے کہ وقوع سے پہلے وقت کی خبر کو کب سچا جانیں گے اور وقوع کے بعد کوئی تدبیر ہاتھ میں نہیں۔ دوم الیٰ ربک منتہھا اس کا علم اور وقت کی تعیین تیرے رب ہی کو معلوم ہے کیونکہ وہ ایسا حادثہ ہے جو تمام عالم کے ارکان کو درہم برہم کر دے گا اور اس کا سبب اس عالم کے سوا اور ہی کوئی ہے۔ پھر کسی علم اور قرائن سے کسی کو کیونکر معلوم ہو سکے اور حق سبحانہ اس کی خبر اس لیے نہیں دیتا کہ کارخانہ عالم درہم برہم ہوجاوے گا۔ بدوں کو نیکی سے باز رہنے کے لیے ایک یہ بھی حیلہ ملے گا کہ اجی دل کھول کر شہوت پرستی کرو کیا ابھی قیامت آئے جاتی ہے ؟ وہ تو بہت دور ہے۔
انما انت منذر آپ کا کام اے نبی ! خبردار کردینا اور لوگوں کو خواب غفلت سے بیدار کردینا ہے۔ مگر آپ کے انداز سے نفع اسی کو پہنچے گا جو من یخشھا قیامت سے ڈرتا ہے اور جانتا ہے کہ مجھے ایک روز سامنے جا کر حساب دینا ہے وہی اپنے امراض کے لیے علاج کے لیے روحانی حکیموں سے چارہ جوئی کرے گا اور وہ کیوں اتنی جلدی کر رہے ہیں کانھم یوم یرونھا لم یلبثوا الاعشیۃ اوضحھا جس روز وہ قیامت کو دیکھیں گے تو اس جہاں کی یہ زندگانی ایسی کم معلوم ہوگی کہ یوں سمجھیں گے کہ وہاں آدھے دن رہے تھے۔ صبح یا شام۔ بدحواسی سے پورے طور پر یہ بھی معلوم نہ رہے گا کہ کب تک رہے تھے۔ اول دن یا پچھلے دن۔ دنیا کی عافیت کا خیال آوے گا تو صبح سے دوپہر تک رہنا خیال کریں گے کس لیے کہ یہ فرحت کا وقت ہوتا ہے اور جو تکالیف کا خیال آوے گا تو اخیردن کا رہنا ڈھلتی پھرتی چھائوں سا بیان کریں گے۔
سورة عبس مکی ہے اس میں بیالیس آیات ایک رکوع ہے