68. Surah Al-Qalam

القلمThe Pen · 52 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 68:34–41

اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 68:34 in the Quran reader

بیشک پرہیزگاروں کے لیے ان کے رب کے پاس نعمت کے باغ ہیں۔

اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ كَالْمُجْرِمِیْنَؕ Open ayah 68:35 in the Quran reader

پھر کیا ہم فرمانبرداروں کو نافرمانوں جیسا کردیں گے ؟

مَا لَكُمْ١ٙ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَۚ Open ayah 68:36 in the Quran reader

تمہیں کیا ہوا کیسا فیصلہ کر رہے ہو ؟

اَمْ لَكُمْ كِتٰبٌ فِیْهِ تَدْرُسُوْنَۙ Open ayah 68:37 in the Quran reader

کیا تمہارے لیے کوئی نوشتہ ہے جس میں تم پڑھا کرتے ہو

اِنَّ لَكُمْ فِیْهِ لَمَا تَخَیَّرُوْنَۚ Open ayah 68:38 in the Quran reader

کہ تمہارے لیے وہی ہے جس کو تم پسند کرو

اَمْ لَكُمْ اَیْمَانٌ عَلَیْنَا بَالِغَةٌ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ۙ اِنَّ لَكُمْ لَمَا تَحْكُمُوْنَۚ Open ayah 68:39 in the Quran reader

کیا تمہارے لیے ہم نے قسم کھالی ہیں جو قیامت تک چلی جائیں گی کہ تمہیں وہی ملے گا جو تم حکم کرو گے

سَلْهُمْ اَیُّهُمْ بِذٰلِكَ زَعِیْمٌۚۛ Open ayah 68:40 in the Quran reader

(اے رسول ! ) ان سے پوچھو کہ ان میں سے اس کا کس کو یقین ہے

اَمْ لَهُمْ شُرَكَآءُ١ۛۚ فَلْیَاْتُوْا بِشُرَكَآئِهِمْ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِیْنَ Open ayah 68:41 in the Quran reader

کیا ان کے معبود ہیں پھر اپنے معبودوں کو تو لے آئیں اگر وہ سچے ہیں۔

ترکیب : جنات النعیم اسم ان للمتقین خبرھا عندربہم یجوزان یکون ظرفاللا سقراروان یکون حالامن جنات افنجعل الھمزۃ للکانکارو الفاء للعطف علیٰ مقدر تقیضیہ المقام ای الخیف فی الحکم فنجعل المسلمین کالکافرین ام منقطعۃ کتاب موصوف فیہ تدرسون الجملۃ صفۃ لکتاب ان قراء الجمہور بالکسر علی انھا معمولۃ لتدرسون ای تدرسون فی الکتاب ان لکم فیہ لماتخیرون۔ وقیل تم الکلام عندقولہ تدرسون ثم ابتداء فقال ان لکم الخ بالغۃ بالرفع نعت لایمان وبالنصب علی الحال والعامل فیھا الظرف الی یوم القیامۃ بالمقدر فی لکم ای ثابتۃ لکم الیٰ یوم القیامۃ او ببالغۃ ای ایمان تبلغ ذلک الیوم۔ تفسیر : گروہ اشقیا کا حال پہلے مجملاً بیان فرمایا تھا کہ ولعذاب الآخرۃ اکبر لوکانوا یعلمون۔ اب سعداء کے گروہ کا حال بیان فرماتا ہے۔ فقال ان للمتقین عندربہم جنات النعیم کہ پرہیزگاروں کے لیے ان کے رب کے پاس یعنی دارآخرت میں نعمت و عیش کے باغ ہیں جن میں کچھ بھی کدورت و کلفت نہیں برخلاف دنیا کے باغوں کے۔ مقاتل کہتے ہیں اس آیت کو سن کر کفار مکہ کہتے تھے جب دنیا میں خدا نے ہم کو مسلمانوں سے مال اور دولت میں بہتر کیا تو آخرت میں کیا بڑھ کر نہیں کرے گا اور بڑھ کر نہیں برابر تو ضرور ہی کرے گا۔ اس کے جواب میں فرماتا ہے یا یوں کہو اس آیت پر کفار کو یہ خیال گزرنے والا تھا چناچہ انہوں نے ایسا کہا۔ اس کے رد میں بھی یہ آیت آئی۔ افنجعل المسلمین کالمجرمین کہ کیا ہم فرمانبرداروں، پرہیزگاروں کو نافرمانوں ‘ کفاروبدکاروں جیسا کردیں گے ؟ یعنی نہیں کریں گے، دونوں برابر نہ ہوں گے اور ابھی ہم کہہ چکے ہیں کہ اشرار کے لیے جہنم ہے۔ پس مسلمانوں کے لیے ہرگز نہیں۔ اب ان کے لیے ضرور جنات النعیم ہیں جن میں کفار کو حصہ بھی نہیں، پھر بڑھ کر اور برابر ہونا کیسا ؟ مالکم کیف تحکمون تمہیں کیا ہوا کیسا فیصلہ کرتے ہو۔ کہیں نیک اور بد بھی برابر ہوتے ہیں ؟ پھر اس بات کو مؤکد کرتا ہے۔ ام لکم کتاب فیہ تدرسون ان لکم فیہ لماتخیرون کہ اس خیال کو عقل سے تو کچھ بھی مدد اور ثبوت نہیں ملتا پھر کیا کوئی دلیل نقلی تمہارے پاس ہے یعنی کوئی کتاب آسمانی ہے کہ جس میں یہ لکھا ہے کہ جو تم پسند کرو گے اور چاہو گے قیامت میں تمہیں وہی ملے گا ؟ ایسی کوئی کتاب نہیں جس میں یہ ہو پھر کس لیے کہتے ہو۔ اب ایک اور بات ہے کہ خدا نے تمہارے لیے عہد اور ذمہ داری کرلی ہو اور قسم مؤکد کھائی ہو کہ جو تم کہتے ہو وہ وہی کرے گا سو یہ بھی نہیں۔ ام لکم ایمان علینا بالغۃ الی یوم القیامۃ ان لکم لماتحکمون کہ کیا تمہارے لیے ہم پر عہد اور قسم ہیں قیامت تک یعنی مستحکم جو کبھی نہ ٹوٹے کہ ہم تمہیں وہی دیں گے جو تم کہتے ہو۔ ایسے غلط خیال اکثر مذاہب باطلہ میں لوگوں کو ہوا کرتے ہیں۔ یہود کو بھی تھا اور ہند میں برہمنوں کو بھی ہے اور جاہل مسلمانوں بزرگوں کی اولاد میں بھی سنا جاتا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم فلاں کی اولاد ہیں ہم پر آگ حرام ہے اس لیے فرماتا ہے : مسلھم ایہم بذلک زعیم۔ کہ ان سے پوچھ کہ کون اس کا دعویدار ہے۔ جب خدا کی طرف سے یہ نہیں تو کیا اپنے معبودوں کے گھمنڈ پر ایسا کہتے ہو کہ وہ ایسا کردیں گے ہم ان کو پوجتے، نذر بھینٹ چڑھاتے ہیں اس لیے فرماتا ہے ام لہم شرکاء فلیاتوا بشرکائہم ان کانوا صادقین۔ کہ کیا ان کے معبود ہیں جن کو وہ ہمارا شریک اور کار مختار جان کر پوجتے ہیں اور مدد مانگتے ہیں وہ ایسا کردیں گے اچھا ان کو لاؤ اور کہلا تو دو اگر سچے ہیں۔ یعنی یہ بھی غلط خیال ہے۔
Ayahs 68:42–47

یَوْمَ یُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّ یُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَۙ Open ayah 68:42 in the Quran reader

جس دن پردہ کھل جائے اور وہ سجدہ کے لیے بلائے جائیں تو سجدہ نہ کرسکیں گے۔

خَاشِعَةً اَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ وَ قَدْ كَانُوْا یُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ وَ هُمْ سٰلِمُوْنَ Open ayah 68:43 in the Quran reader

ان کی آنکھیں نیچی ہوں گی ذلت ان پر چڑھی ہوگی اور وہ پہلے (دنیا میں) سجدہ کے لیے بلائے جاتے تھے اور وہ بھلے چنگے تھے۔

فَذَرْنِیْ وَ مَنْ یُّكَذِّبُ بِهٰذَا الْحَدِیْثِ١ؕ سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 68:44 in the Quran reader

مجھے اور اس کو جھٹلانے والوں کو چھوڑ دو ابھی رفتہ رفتہ انہیں پکڑے لیتے ہیں ایسا کہ انہیں خبر بھی نہ ہو

وَ اُمْلِیْ لَهُمْ١ؕ اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ Open ayah 68:45 in the Quran reader

اور (اے نبی ! ) ہم ان کو ڈھیل دے رہے ہیں بیشک ہمارا ارادہ پکا ہے

اَمْ تَسْئَلُهُمْ اَجْرًا فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَۚ Open ayah 68:46 in the Quran reader

کیا آپ ان سے کچھ اجرت مانگتے ہیں کہ جس کے تاوان کا ان پر پوجھ پڑ رہا ہے 1 ؎

اَمْ عِنْدَهُمُ الْغَیْبُ فَهُمْ یَكْتُبُوْنَ Open ayah 68:47 in the Quran reader

کیا ان کے پاس غیب (کادفتر) ہے کہ وہ لکھا کرتے ہیں۔

ترکیب : یوم منصوب امابقولہ فلیاتوا واما باذکر ویدعون معطوف علی یکشف۔ فلایستطیعون جواب یوم یکشف خاشعۃ بالنصب علی انھا حال من ضمیر یدعون ابصارھم مرفوع علی انہ فاعل خاشعۃ ونسبۃ الخشوع الی الابصار بظھور اثرہ فیھا وھم سالمون الجملۃ حال من فی یدعون ومن منصوب محلا عطفا علی الضمیر المنصوب فی ذرنی۔ تفسیر : اس کے بعد قیامت کا ہولناک واقعہ بیان فرماتا ہے کہ اس روز ان کے افتراء اور خیالی ڈھکوسلوں کا یہ نتیجہ ہوگا۔ فقال یوم یکشف عن ساق ویدعون الی السجود فلایستطیعون کہ جس دن پردہ کھل جائے گا اور وہ سجدے کے لیے بلائے جائیں گے تو سجدہ نہ کرسکیں گے۔ ساق کیا ہے : ساق کے لغوی معنی پنڈلی کے ہیں پھر کیا یہ حقیقت پر محمول ہے یا کنایہ ہے ؟ اول احتمال کی طرف فرقہ مشبہ گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں اس روز دراصل خدا تعالیٰ بندوں پر تجلی کرے گا اور پوری تجلی دیکھنے کی کسی کو قدرت نہ ہوگی اس لیے صرف پنڈلی کھل جائے گی جو ادنیٰ تجلی ہوگی۔ گو وہ پنڈلی ہماری جیسی پنڈلی نہ ہو لیکن اس کی ذات کے مناسب تب سجدے کے لیے حکم ہوگا پس جو لوگ دنیا میں اس کو سجدہ نہیں کرتے تھے وہ سجدہ نہ کرسکیں گے۔ ان کی پشت تختہ کی طرف ہوجائے گی۔ یہ مضمون اکثر احادیث صحیحہ میں وارد ہے اور اہل ظاہر کا اسی طرف رجحان ہے مگر اہل حق کہتے ہیں استعارہ مراد ہے کس لیے کہ لفظ حقیقی معنی پر محمول ہو نہیں سکتا کیونکہ خدا تعالیٰ اعضاء سے پاک ہے۔ پھر اس سے کیا مراد ہے ؟ اس میں چند اقوال ہیں۔ اول یہ کہ مراد شدت و کرب ہے جو قیامت کے روز ہوگا۔ چناچہ ابن عباس ؓ سے کسی نے اس کے معنی دریافت کئے، آپ نے یہی بیان فرمائے اور فرمایا جب تم کو کسی لفظ قرآنی کے معنی معلوم نہ ہوا کریں تو شعرائے عرب کے اشعار کو دیکھا کرو۔ پھر آپ نے اس معنی کی سند میں یہ شعر پڑھا : سن لنا قومک ضرب الاعناق وقامت الحرب بنا علی ساق اور اسی طرح مجاہد نے بھی اس معنی کے ثبوت میں ابوعبیدہ اور جریر وغیرہ کے چند اشعار پڑھے۔ ابن قتیبہ کہتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان جب کسی کام پر زور کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو پائچے چڑھاتا ہے اور پنڈلی کھل جاتی ہے اس لیے شدت کے موقع پر کہا کرتے ہیں کشف عن ساقہ۔ دوم ابی سعید ‘ ضریر وغیرہ کا قول ہے وہ یہ کہ کشف ساق سے مراد پردہ اور اصل کھل جانا ہے۔ یہ ایک محاورہ ہے۔ اور ساق ہر شے میں اس کی اصل اور جڑ ہے کہ جس پر وہ کھڑی ہوتی ہے۔ جیسا کہ ساق الشجر و ساق الانسان۔ تب یہ معنی ہوئے کہ جس روز حقائق ا ؎ کہ جس کے تاوان میں وہ دیے جاتے ہیں۔ الاشیاء اور ان کے اصول ظاہر ہوجائیں گے یعنی قیامت کے دن کہ یہ پردہ کھل جائے گا جیسا کہ سورة ق میں فرمایا تھا، لقدکنت فی غفلۃ من ھذا فکشفنا عنک غطاءک فبصرک الیوم حدید۔ کہ ” تو اے انسان ! اس سے غفلت میں تھا سو ہم نے تیرا پردہ کھول دیا پس تیری آنکھیں آج تیز ہیں “۔ اس عالم میں پردہ حسی آنکھوں پر پڑا ہوا ہے اس پر شہوات و لذات ‘ حُبِّ دنیا کے اور بھی پردے پڑے ہوئے ہیں۔ حقیقت الامرمنکشف نہیں ہونے دیتے اس لیے ادیان و مذاہب میں اختلاف ہے۔ کوئی کچھ کوئی کچھ بےتک کہہ رہا ہے جس طرح کہ مکہ کے کفار واہی تباہی منصوبے بیان کرتے تھے۔ سِرّ : یہی قول بہت درست ہے اور سرّاس کا یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی ایک تو ذات ہے کہ جس کا ادراک محال ہے اور وہ مستقل محض ہے۔ دوسرے صفات کمال ہیں کہ جو جدا جدا عالم میں ظاہر نہیں ہوسکتے۔ علم بغیر قدرت کے اور قدرت بغیر علم کے اور دونوں بغیر حیات کے پائے نہیں جاتے اور صفات تابع محض ہیں ذات کے ان میں بغیر ذات کے کچھ بھی استقلال نہیں۔ سوم جہات کمال کو جن کو حقائق الٰہیہ بھی کہتے ہیں اور وہ بین بین ہیں۔ نہ صفات کی طرح محض غیرمستقل ‘ نہ ذات کی طرح محض مستقل اور ان جہات کمال کو اس عالم میں انسان کے اعضاء کے ساتھ پوری مشابہت اور ایک خاص نسبت ہے کیونکہ انسان کے اعضاء ہاتھ ‘ پائوں ‘ پنڈلی ‘ منہ وغیرہ نہ اس کے صفات کی طرح محض غیرمستقل اور نہ ذات انسان کی طرح مستقل ہیں اور انسان کے کمالات کا مظاہر بھی ہیں۔ شرع شریف میں ان حقائق کی چند چیزوں کے ساتھ تفصیل واقع ہوئی ہے اور یہ چیزیں ان حقائق کی تمثیل و تشبیہ ہیں نہ عین اور وہ یہ ہیں۔ وجہ ‘ عین ‘ ید ‘ یمین اصابع حقو یعنی کمر ‘ ساق ‘ قدم (منہ آنکھ ہاتھ داہنا ہاتھ انگلیاں کمر پنڈلی قدم) اب جس طرح ساق اور قدم اور وجہ وغیرہ کو جو حقائق الٰہیہ ہیں اور ان الفاظ میں ایک استعارہ کے طور پر بیان ہوئی ہیں خود بھی پنڈلی اور پائوں اور منہ سمجھ لینا غلطی اور تشبیہ ہے جیسا کہ مشبہ و اہل ظواہر کا مذہب ہے۔ اسی طرح ان کی تاویل و انکار کرنا جیسا کہ معتزلہ کرتے ہیں محض غلطی ہے۔ اہل سنت اس افراط وتفریط دونوں سے بری ہیں اور اہل سنت کے اس عقیدے کو بخاری و مسلم وغیرہما کی وہ حدیث بھی مخالف نہیں کہ جو ابی سعید ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ قیامت کے دن اپنی ساق کھولے گا تو تمام ایماندار مرد اور عورت سجدہ کریں گے اور جو دنیا میں ریاکاری کے لیے سجدہ کرتے تھے وہ سجدہ کرنا چاہیں گے تو ان کی پیٹھ تختے کی طرح اکڑ جائے گی سجدہ نہ کرسکیں گے۔ اور صحیح مسلم میں ان سے بھی زیادہ مشرح روایت ہے کس لیے کہ ان روایات میں بھی کشف ساق سے اسی جہت کمالیہ کا ظاہر ہونا مراد ہے جس کو استعارہ کے طور پر ساق سے تعبیر کیا گیا ہے۔ الحاصل محشر میں رب العزت کی ایک تجلی خاص ہوگی جس کو کشف ساق سے تعبیر کیا ہے۔ جس کے آگے کفارومشرکین سجدہ نہ کرسکیں گے اور اس کے سوا اس نورانی تجلی کی طرف نظر بھی نہ کرسکیں گے۔ خاشعۃً ابصارھم۔ بلکہ ان کی آنکھیں نیچی ہوں گی وترھقہم ذلۃ۔ اور ان پر ذلت و رسوائی چڑھے گی کیونکہ انہوں نے غیر اللہ کی پرستش کر کے اس کے نام پاک کی توہین و تذلیل کی تھی۔ مظاہر کو پوجا تھا اور یہ سجدہ اور جمال باکمال پر نظر کیوں نہ کرسکیں گے ؟ اس لیے کہ وقد کانوایدعون الی السجود وھم سالمون۔ دنیا میں انہوں نے اس مادہ غیبیہ کو جو انسان میں خداوند عالم نے ودیعت رکھا ہے اور وہی اس کو اس کا مشتاق دیدار اور مطیع بناتا ہے نافرمانی اور سرکشی کر کے ضائع کردیا تھا۔ اس بات کو ان الفاظ میں بیان فرماتا ہے کہ اس سے پہلے دنیا میں ان کو سجدے کے لیے اس وقت میں بلایا جاتا تھا کہ وہ سالم تھے ان کی فطرت اور اصلی مادہ میں کوئی نقصان نہیں آیا تھا پھر انہوں نے انکار و سرکشی کی اور رفتہ رفتہ اس کو برباد کردیا۔ آج اس تجلی کے میدان میں سب کو کھڑا کر کے تجلی نورانی کا دکھایا جائے گا تاکہ شقی و سعید کا پورا امتیاز ہوجائے۔ پھر وہ جو دنیا میں اس کے آگے جھکتے تھے۔ سر کے بل اسی کے آگے عاجزی کرتے ہوئے گرتے تھے دل بھی اسی کے آگے جھکے ہوئے تھے اور ان کے دلوں میں وہ اشتیاق و محبت کا شعلہ تھا جس کو ایمان سے تعبیر کیا جاتا ہے وہ فوراً اس کے آگے سجدہ میں گر پڑیں گے انہیں کہاں تاب رہے گی اور اس کے دیدار فیض آثار سے سرفرازی حاصل کریں گے۔ اس وقت مشتاقان جمالِ کبریائی کی عجیب حالت ہوگی اور بدلوگ نہ کرسکیں گے۔ وہ جنت میں یہ جہنم میں بھیج دیے جائیں گے۔ ابراہیم تیمی کہتے ہیں یہ معنی کہ وہ اذان و تکبیر کی آوازوں سے بلائے جاتے تھے پر نہ آتے تھے۔ سعید بھی جبیر ؓ کہتے ہیں حی علی الفلاح سنتے تھے اور نہ آتے تھے۔ کعب احبار کہتے ہیں یہ آیت نازل نہیں ہوئی تھی مگر ان لوگوں کے لیے جو جماعت سے پیچھے رہتے ہیں۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں وہ کفار دنیا میں بلائے جاتے تھے اور وہ امن کی حالت میں تھے پھر آج بلائے جائیں گے اور وہ خائف ہوں گے۔ ابی مسلم اصفہانی کہتے ہیں کہ آیت میں قیامت کا معاملہ مراد نہیں کیونکہ اس روز عبادت و سجدہ نہیں وہاں تو یہیں کے اعمال کا بدلہ ملے گا بلکہ مراد یہ ہے کہ انسان کے وقت اخیر کا معاملہ ہے۔ اس وقت خدا کی طرف رجوع نہیں کرسکتا اور پہلے تو لوگ اس کو نماز و عبادت کے لیے بلاتے تھے نہیں آتا تھا اب بجز حسرت کے اور کچھ نہیں یا بڑھاپے یا مرض کا واقعہ ہے کہ جوانی اور تندرستی میں جو سلامتی کا وقت تھا خدا تعالیٰ کے آگے نہیں جھکتے تھے، لوگ بلاتے تھے نہیں آتے تھے اور نشے میں چور تھے۔ اب بڑھاپا اور بیماری آئی، خود اس کی طرف جھکنے اور عبادت و نماز ادا کرنے کی قدرت نہیں رہی۔ یہ مراد بھی ممکن ہے مگر یہ کہنا کہ آخرت میں سجدہ نہیں ٹھیک نہیں کس لیے کہ وہاں سجدہ بطور تکلیف کے نہیں مگر بطور امتحان و سرزنش کے ہوگا۔ آنحضرت ﷺ کی اس بیان میں وہ سخت تکذیب کرتے تھے اور آپ کو ٹھٹھوں میں اڑاتے تھے اور دھمکاتے بھی تھے اس سے آپ کو کمال رنج ان کی بدنصیبی اور سرکشی پر ہوتا تھا اس لیے آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتا ہے۔ فقال فذرنی ومن یکذب بھذا الحدیث کو چھوڑ مجھے اور اسے جو اس بات کو جھٹلا رہا ہے یعنی آپ کچھ رنج و فکر نہ کریں میں آپ سمجھ لوں گا۔ سنستدرجہم من حیث لایعلمون۔ میں رفتہ رفتہ انہیں ابھی پکڑے لیتا ہوں اس طرح سے کہ انہیں خبر بھی نہ ہوگی۔ استدراج، جلدی نہ کرنا، اور اس کے اصلی معنی ہیں ایک حال سے دوسرے حال کی طرف نقل کرنا کہتے ہیں۔ استدرج فلاں فلانا ای استخرج ماعندہ قلیلا قلیلا اور اسی سے تدریج ہے۔ اللہ تعالیٰ کا استدراج بندہ کے لیے یہ ہے کہ نعمت پر نعمت، مراد پر مراد ملے جائے اور یہ بدکاری اور ناشکری اور کفر میں پڑا ہوا ہو یہاں تک کہ کشتی بھر جائے، جلد ڈوب جائے، عذاب الٰہی نازل ہوجائے، یکایک موت آجائے یا کوئی ایسی مصیبت آئے کہ سر بھی نہ اٹھا سکے، توبہ اور خدا تعالیٰ کی طرف رجوع ہونے کی مہلت بھی نہ ملے۔ یہ ہے کہ عیش و نشاط میں پڑا ہوا مگن ہے اور اپنی بدکاری کے عمدہ پھل سمجھ رہا ہے۔ ادھر مصیبت ہے کہ چپکے چپکے اس کے پاس آن لگی ہے اور اس کمبخت کو خبر بھی نہیں۔ آج کن شادمانیوں کے ساتھ فاحشہ عورتوں کو لیے مے نوشی کر رہا ہے، شام کو مرگئے کل اسی وقت گور کے تنگ اور اندھیرے گڑھے میں پڑے اعمال کو بھگت رہے ہیں۔ یہ ہے اللہ کا استدراج جس سے بندہ واقف نہیں ہوتا۔ اور یہ بھی استدراج ہے کہ انسان کی عمر گرانمایہ آناً فاناً کم ہوتی چلی جا رہی ہے۔ ہر صبح آفتاب کی جگمگاہٹ دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔ ہر رات اس کی بہار لیتا ہے مگر یہ خبر نہیں کہ یہ میرے سفر کے منازل ہیں جو بےاختیار طے ہو رہے ہیں۔ پھر یکبارگی منزل پر پہنچ گیا۔ اب آنکھ کھل گئی، رونے پیٹنے لگا مگر اب کیا ہوتا ہے۔ اسی لیے فرماتا ہے واملی لہم ان کیدی متین۔ کہ میں انہیں ڈھیل دے رہا ہوں، میرا داؤ بڑا مضبوط ہے کہ جس سے رستگاری ممکن نہیں اور کیونکر رستگاری ہو سکے جبکہ اس کا داؤ انسان کے جمیع قوائے ادراکیہ کو احاطہ کئے ہو اور بری بات کو بھلی سمجھا ہو۔ جیسا کہ کفار مکہ کہ تو ان کو علوم نافعہ بتا رہا ہے اور آب حیات پلا رہا ہے اور وہ ہیں کہ اس کے مقابلے میں سرکشی کرتے ہیں اور یہ بھی نہیں سوچتے کہ آپ کی اس سے کوئی غرض دنیاوی نہیں۔ ام تسئلہم اجرا فہم من مغرم مثقلون کہ کیا آپ ان سے کوئی اجر یا مزدوری مانگتے ہیں جس کے بوجھ سے وہ دبے جاتے ہیں جس لیے آپ سے استفادہ نہیں کرتے۔ ام عندھم الغیب فیہم یکتبون اور جب آپ سے استفادہ نہیں کرتے تو پھر ان کے پاس غیب ہے یعنی انہیں امور غیبیہ ‘ احکام الٰہیہ و منافع و مضراتِ آخرت کا بطور کشف والہام علم ہے کہ جس کو وہ لکھتے ہیں یا اپنے دلوں کے ورقوں پر لکھے بیٹھے ہیں۔ پھر جب یہ دونوں باتیں نہیں تو قطعاً جان لینا چاہیے کہ وہ کیدالٰہی میں گرفتار ہیں کہ ان کو کسی طرح فکروتامل کرنے کی مہلت نہیں ملتی اور کسی طرح ان کے دلوں تک نہیں پہنچ سکتا۔
Ayahs 68:48–52

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِ١ۘ اِذْ نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ Open ayah 68:48 in the Quran reader

پھر آپ اپنے رب کے حکم کا انتظار کریں اور مچھلی والے جیسے نہ ہوجائیں جب کہ اس نے اپنے رب کو پکارا اور وہ بہت ہی غمگین تھا۔

لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ مَذْمُوْمٌ Open ayah 68:49 in the Quran reader

اگر اس کے رب کی رحمت اسے نہ سنبھال لیتی تو وہ برے حال سے چٹیل میدان میں پھینکا جاتا

فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 68:50 in the Quran reader

پھر اس کو رب نے برگزیدہ کیا سو اس کو نیک بندوں میں شامل کرلیا

وَ اِنْ یَّكَادُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَیُزْلِقُوْنَكَ بِاَبْصَارِهِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ وَ یَقُوْلُوْنَ اِنَّهٗ لَمَجْنُوْنٌۘ Open ayah 68:51 in the Quran reader

اور کافر تو آپ کو گھور گھور کر ڈگمگا دینے ہی لگے تھے جبکہ انہوں نے قرآن سنا تھا اور وہ کہتے ہیں یہ تو دیوانہ ہے

وَ مَا هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 68:52 in the Quran reader

اور حالانکہ یہ قرآن تمام دنیا کے لیے صرف نصیحت ہے۔

ترکیب : اذا العامل فیھا معنی قولہ کصاحب الحوت یرید لاتکن کصاحب الحوت حال ندائہ وذلک لانہ فی ذلک الوقت کان مکظومافکانہ قیل لاتکن مکظوماً ۔ وھومکظوم الجملۃ حال من ضمیر نادٰی وعلیھا یدور النھی لاعلی النداء لانہ امرمستحسن۔ تدارک فعل ماض مذکر حمل علی معنی النعمۃ لان تانیث النعمۃ غیرحقیقی موصوف من ربہ صفۃ والمجموع فاعل تدارک والضمیر فی تدار کہ مفعولہ۔ ھذاقراۃ الجمہور وقریٔ بتشدید الدال تدار کہ وھو مضارع ادغمت التاء فی الدال والاصل تتدارک بتائین وقریٔ تدارکۃً بتاء التانیث لنبذ جواب لولا تقدیر الآیۃ لولاھذہ النعمۃ لنبذبالعرا مع وصف المذمومیۃ فلما حصلت ھذہ لنعمۃ لم یوجد النبذ بالعراء مع ھذا الوصف لانہ لمافقد ھذا الوصف فقد المجموع وانھی المخففۃ من المثقلۃ واللام فی لیزلقونک دلیل علیھا۔ قراء الجمہور بضم الیاء وقراء نافع و اہل المدینۃ بفتحھا والاول من ازلق والثانی من زلق ومعناھماواحد وھوالتنحی من موضع (لغزش) بابصارھم والباء اماللتعدیۃ واماللسبببیۃ لماسمعوا الذکر ولماظرفیۃ منصوبۃ بیزلقونک وقیلھی حرف وجوابھا محذوف ای لماسمعوا الذکر کادوایز لقونک وما ھو الخ الجملۃ مستانفۃ اوفی محل نصب علی الحال من فاعل یقولون ای والحال انہ تذکیر۔ تفسیر : کفار کے طریق کی مذمت بیان فرما کر آنحضرت ﷺ کو صبرواستقلال کی تاکید کرتا ہے اور ضمناً ایک نبی کی جلدبازی پر عتاب ہونے کا تذکرہ بھی کرتا ہے۔ فقال فاصبر لحکم ربک ولاتکن کصاحب الحوت کہ اپنے رب کے حکم کا انتظار کر کہ انجام ان کفار کا کیا ہوتا ہے۔ ان پر عذاب آنے کے لیے جلدی نہ کر جیسا کہ مچھلی والے نے کی تھی یعنی حضرت یونس (علیہ السلام) نے ان کا نام نہ لیا مچھلی والا کہہ کر یہ بتا دیا کہ اس جلدبازی کا نتیجہ مچھلی کے پیٹ میں جانا ہوا۔ پھر حضرت یونس (علیہ السلام) کا مختصراً تذکرہ کرتا ہے۔ اذنادٰی وھو مکظوم کہ اس نے اپنے رب کو مچھلی کے پیٹ میں پکارا، نہایت غم و الم کی حالت میں اور لا الٰہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین کہا (مکظوم مشتق ہے کظم سے جس کے معنی ہیں برتن کے بھر دینے کے کہتے ہیں کظم السقاء اذا ملائہ۔ جب رنج و غم سے بھر جاتا ہے تو اس کو بھی کا ظم کہتے ہیں اور مکظوم بھی اور اسی طرح غصے سے بھرے ہوئے کو بھی) ۔ فائدہ : ان کا قصہ کئی جگہ بیان ہوا چکا ہے کہ شہر نینوا کی طرف مبعوث ہوئے تھے اور لوگوں سے کہہ دیا تھا کہ فلاں روز تم پر عذاب آئے گا۔ لوگوں نے یقین کر کے رونا اور توبہ کرنا شروع کیا جس لیے وہ آتا ہوا عذاب ان سے ٹل گیا۔ حضرت یونس (علیہ السلام) کو غصہ ہوا کہ میں جھوٹا ہوا اس لیے نینوٰی شہر چھوڑ کر کہیں کو چل دیے۔ ایک کشتی پر سوار ہوئے، دریا میں ڈالے گئے، مچھلی نے لقمہ کرلیا اس لیے پیٹ میں آپ نے پھر اپنے رب کو پکارا تو مچھلی نے ایک کنارے پر جا کر اگل دیا۔ اللہ نے وہاں کدو کے پتوں سے ان پر سایہ کیا اور پھر ان کو سمجھایا کہ ہم کو اپنی مخلوق پر رحم ہے ہم ایسا جلد انہیں کیونکر ہلاک کردیتے ؟ پھر خدائے پاک میں اور ان میں مصالحت و صفائی 1 ؎ ہوئی اور شہر نینویٰ کی طرف بھیجے گئے۔ اس بات کو مجملاً بیان فرماتا ہے۔ لولا ان تدار کہ۔ کہ اگر رحمت الٰہی اس کے لیے دستگیر نہ ہوتی تو میدان میں مچھلی کے پیٹ سے برے حال میں ڈالے جاتے یا وہیں مرجاتے۔ پھر قیامت کے دن میدان میں برے حال میں لائے جاتے مگر اس کو اللہ نے برگزیدہ کرلیا یعنی نواز دیا۔ اس سے درگز کی اور پھر نینویٰ کی طرف بھیجا پھر وہ بہت صلاحیت پر آگیا، وہ تیزی جاتی رہی (ورنہ نیک تو پہلے سے تھے کس لئے) نبی تھے اور اجتباء کے معنی بھی یہی ہیں کہ ان کو نوازا۔ ان کی جلدبازی سے درگزر گیا پھر اسی نبوت کے کام پر بھیجے گئے کس لیے کہ وہ اول سے نبی تھے یہ نہیں کہ بعد میں ہوئے۔ حضرت یونس (علیہ السلام) کا حال بیان فرما کر پھر آپ کی وہ حالت بیان فرماتے ہیں کہ جو قوم کے ہاتھوں پیش آرہی تھی اور جس سے آپ کا جلدی کرنا اور یونس (علیہ السلام) کی طرح دل میں پیچ و تاب لانا ممکن تھا۔ فقال وان یکادالذین کفروا لیز لقونک بابصارھم لماسمعوا الذکر۔ کہ تحقیق نزدیک تر تھا کہ کافر تجھ کو اپنی آنکھوں سے ڈگمگا دیں، صبر و استقلال کے مقام سے کہ ان کی تیز تیز نگاہیں دیکھ کر آپ کو بھی غصہ آجائے اور مضطرب ہو کر یونس (علیہ السلام) کی طرح قبل از وقت ان کے لیے دعائے بد کریں اور نزول عذاب کے منتظر ہوجائیں اور یہ کب کرتے ہیں۔ لماسمعوا الذکر جبکہ قرآن مجید سنتے ہیں۔ یہ اس لیے کہ عین نصیحت کے وقت جو سراسر خیرخواہی کا وقت ہوتا ہے، ایسی سخت مخالفت ناصح کو جوش میں لے آتی ہے اور یہ بھی ہے کہ قرآن مجید کلام الٰہی ہے جو حضرت ﷺ کا نہایت محبوب تھا اور اپنی برائی سننے سے اس قدر غصہ نہیں آتا جس قدر کہ محبوب کی تحقیر سن کر آتا ہے۔ یہ ان کی ایک بات ہے جو آنکھوں سے متعلق ہے اس پر بس نہیں کرتے بلکہ زبان سے بھی برا بھلا کہتے ہیں۔ ویقولون انہ لمجنون۔ اور کہتے ہیں تحقیق یہ شخص یعنی محمد ﷺ دیوانہ ہے۔ حالانکہ کوئی جنون اور دیوانگی کی بات آپ میں یا آپ کے کلام میں نہیں پاتے۔ کس لیے کہ جو کلام کہ آپ لوگوں کو سناتے ہیں وما ھوا الاذکر للعالمین۔ وہ نہ صرف ایک قوم یا ایک ملک یا ایک خاندان کے لیے نافع اور سودمند ہے بلکہ تمام جہان کے لئے۔ کس لیے کہ اس عہد میں تمام جہان بت پرستی و بدکاری کی نجاست میں آلودہ تھا اور قرآن مجید میں تمام نجاستوں کو دور کرنے والی چیز ہے۔ اس کے علاوہ مکارم اخلاق و اصول حسنات و ارکان سعادت دارین کے زیور اور لباس سے مزین کرنے والی بھی ہے۔ پھر جب ایک قوم یا ایک شخص کو نصیحت وسعادت سکھانے والے کو مجنون نہیں کہا جاتا تھا تو تمام جہان کے ناصح اور مسلّم سعادت کو کیونکر دیوانہ کہہ دیا اور وہ کیونکر دیوانہ ہوسکتا ہے۔ ا ؎ معاذاللہ حضرت یونس (علیہ السلام) خدائے پاک پر کیا غصہ ہوتے اور کون اس سے لڑجھگڑ سکتا ہے مگر اس کے خاصوں میں اور اس میں محبت کے گلے اور شکایات اور رنج و غصہ بھی ہوا کرتے ہیں اس حالت کا مبدل ہونا باہمی صلاح سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس بات سے کوئی حضرت یونس (علیہ السلام) پر طعن نہ کرے اسی لیے نبی ﷺ نے فرمایا ہے مجھے یونس ( علیہ السلام) پر تفضیل نہ دو اس سے یہی غرض ہے ورنہ آپ کو جمیع انبیاء (علیہم السلام) پر خدا نے فضیلت دی ہے یہ آپ کی کسرنفسی اور دوسرے نبی کی توقیر ہے یہ نہیں کہ اپنے سے تمام اگلے انبیاء (علیہم السلام) کو چور اور راہزن کہہ دیا جیسا کہ انجیل میں ہے۔ 12 منہ اکثر مفسرین لیزلقونک بابصارھم کے یہ بھی معنی بیان کرتے ہیں کہ وہ تیزتیز اور غصہ بھری نگاہوں سے آپ کو دیکھتے تھے اور اس سے آپ کو مقام صبرواستقلال سے پھسلانا چاہتے تھے اور کلام عرب میں اس قسم کی تیز اور غصہ بھری نگاہ کو گرا دینے والی، کھا لینے والی کہتے ہیں۔ من قولھم نظر اتی نظرًا یکادیصرعنی ویکادیاکلنی کہتے ہیں۔ ایسا دیکھتا ہے جیسا کہ مجھے کھا جائے گا یا گرا دے گا۔ ایک شعر میں یہ مضمون آیا ہے۔ یتقارضون اذا التقوا فی موطن نظر ایزل موطیٔ الاقدام اور ابن عباس ؓ نے بھی ایسے محل پر ایک شعر پڑھا ہے ؎ نظروا الی باعین محمّرۃٍ نظر التیوس الی شفار الجاذرً (کبیر) مگر اہل روایت کے بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ جب کفار مکہ نے دیکھا کہ آپ کی نبوت کے ابطال میں کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی تو بنی اسد کے قبیلے میں سے جو نظربد کے حق میں مشہور تھا ایک شخص کو لائے جو اس قبیلے میں بھی ممتاز تھا اور وہ جب تین روز بھوکا رہ کر کسی چیز کو دیکھتا اور یہ کہتا تھا کہ واہ کیا خوب ہے ! تو اس میں فوراً اثر ہوجاتا تھا۔ اس کو بہت کچھ طمع دی اور اس نے تین روز کا فاقہ کیا اور جہاں آپ قرآن مجید سنا رہے تھے وہاں گیا اور آپ کو دیکھ کر اسی نیت سے کہا، واہ کیا خوب شکل اور کیا خوب آواز ہے مگر آپ پر اس کا کچھ بھی اثر نہیں ہوا اور اپنا سا منہ لے کر چلا آیا۔ ان آیات میں اسی قصے کی طرف اشارہ ہے۔ اب قابل بحث یہ بات ہے کہ آیا دراصل نظر میں کوئی ایسا اثر ہے کہ جس کو دیکھا جائے اس پر کوئی برا اثر پہنچے جس کو اصابۃ العین کہتے ہیں ؟ معتزلہ کہتے ہیں نہیں کس لیے کہ ایک جسم کا اثر دوسرے تک بغیر مماستہ کے پہنچ نہیں سکتا اور نظر میں یہ بات ہوتی نہیں۔ پھر محض تو ہم باطل ہے جس کا اثر متوہم کو محسوس ہوتا ہے اور توہمات کا اثر انسان پر محسوس ہونا بدیہی بات ہے۔ محققین قائل ہیں کہ اثر ہوتا ہے کہ علاوہ مماستہ اجسام کے نفوس میں بھی ایک خاص اثر ہے جس کو دوسرے نفوس قبول کرلیتے ہیں جس کی نظیر عمل مسمریزم ہے۔ روحانی اثر جسمانی اثر سے بڑے قوی ہوتے ہیں۔ روح طیبات کے آثار معجزات و کرامات ہیں۔ ارواح خبیثیہ کا اثر ویسا ہی خبیث ہوتا ہے۔ پھر اس اثر کی علت گفتگو ہے کوئی کہتا ہے نظر کرنے والے کی آنکھ میں اجزائے لحمیہ ہوتے ہیں جو شعاع بصری کے ساتھ نکل کر مرئی پر برا اثر کرتے ہیں مگر یہ ٹھیک نہیں۔ اب تک کوئی علت معین نہیں ہوئی ہے۔ احادیث سے بھی نظربد کا اثر ثابت ہوتا ہے۔ حضرت امام بصری (رح) فرماتے ہیں انہیں آیات وان یکاد الخ کا پڑھ کر دم کرنا بہت سریع الاثر علاج ہے۔ اور جس کی نظر بد کا اثر پہنچا ہے اس کے ہاتھ پائوں اعضاء دھلا کر پانی سے مریض نظر کو غسل دینا بھی عمدہ علاج ہے۔ کہیں نظر والے کے پائوں کی مٹی بھی لے کر آگ میں ڈالتے ہیں، کہیں سرخ مرچیں آگ میں جلاتے ہیں۔ ہندوستانی خیالات نے اس کو ازحد ترقی دی ہے۔ پھر کہیں نظر کے لیے گنڈا ڈالتے ہیں، کہیں فال کھولتے ہیں، کہیں سیاہ ٹیکے لگاتے ہیں اور کیا کیا کرتے ہیں۔ جاہل قوموں میں بقدر جہل اس کا زیادہ چرچہ ہے۔