53. Surah An-Najm

النجمThe Star · 62 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 53:33–52

اَفَرَءَیْتَ الَّذِیْ تَوَلّٰىۙ Open ayah 53:33 in the Quran reader

بھلا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا جس نے منہ پھیرلیا

وَ اَعْطٰى قَلِیْلًا وَّ اَكْدٰى Open ayah 53:34 in the Quran reader

اور تھوڑا سا دیا اور سخت دل ہوگیا

اَعِنْدَهٗ عِلْمُ الْغَیْبِ فَهُوَ یَرٰى Open ayah 53:35 in the Quran reader

کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے جو دیکھ رہا ہے

اَمْ لَمْ یُنَبَّاْ بِمَا فِیْ صُحُفِ مُوْسٰىۙ Open ayah 53:36 in the Quran reader

کیا اس کو نہ معلوم ہوا جو موسیٰ اور ابراہیم وفا دار کے

وَ اِبْرٰهِیْمَ الَّذِیْ وَفّٰۤىۙ Open ayah 53:37 in the Quran reader

صحیفوں میں تھا

اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰىۙ Open ayah 53:38 in the Quran reader

وہ یہ کہ کوئی کسی کا بوجھ نہ اٹھائے گا

وَ اَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰىۙ Open ayah 53:39 in the Quran reader

اور یہ کہ آدمی کو وہی ملتا ہے جو کرتا ہے

وَ اَنَّ سَعْیَهٗ سَوْفَ یُرٰى۪ Open ayah 53:40 in the Quran reader

اور یہ کہ آدمی کو اپنی کوشش کو جلد دیکھے گا

ثُمَّ یُجْزٰىهُ الْجَزَآءَ الْاَوْفٰىۙ Open ayah 53:41 in the Quran reader

پھر اس کو پورا (پورا) بدلہ ملے گا

وَ اَنَّ اِلٰى رَبِّكَ الْمُنْتَهٰىۙ Open ayah 53:42 in the Quran reader

اور یہ کہ آپ کے رب کے پاس جانا ہے

وَ اَنَّهٗ هُوَ اَضْحَكَ وَ اَبْكٰىۙ Open ayah 53:43 in the Quran reader

اور یہ کہ وہی ہنساتا اور رلاتا ہے

وَ اَنَّهٗ هُوَ اَمَاتَ وَ اَحْیَاۙ Open ayah 53:44 in the Quran reader

اور یہ کہ وہی مارتا اور زندہ کرتا ہے

وَ اَنَّهٗ خَلَقَ الزَّوْجَیْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰىۙ Open ayah 53:45 in the Quran reader

اور یہ کہ اس نے نر اور مادہ کا جوڑا پیدا کیا ہے

مِنْ نُّطْفَةٍ اِذَا تُمْنٰى۪ Open ayah 53:46 in the Quran reader

ایک قطرہ منی سے جب کہ ڈالا جاتا ہے

وَ اَنَّ عَلَیْهِ النَّشْاَةَ الْاُخْرٰىۙ Open ayah 53:47 in the Quran reader

اور یہ کہ لازم ہے اس پر دوبارہ زندہ کرنا

وَ اَنَّهٗ هُوَ اَغْنٰى وَ اَقْنٰىۙ Open ayah 53:48 in the Quran reader

اور یہ کہ وہی غنی کرتا اور مقدور دیتا ہے

وَ اَنَّهٗ هُوَ رَبُّ الشِّعْرٰىۙ Open ayah 53:49 in the Quran reader

اور یہ کہ وہی ستارہ شعری کا رب ہے

وَ اَنَّهٗۤ اَهْلَكَ عَادَا اِ۟لْاُوْلٰىۙ Open ayah 53:50 in the Quran reader

اور یہ کہ اسی نے عاد اولی کو ہلاک کیا

وَ ثَمُوْدَاۡ فَمَاۤ اَبْقٰىۙ Open ayah 53:51 in the Quran reader

اور ثمود کو بھی پھر باقی نہ چھوڑا

وَ قَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا هُمْ اَظْلَمَ وَ اَطْغٰىؕ Open ayah 53:52 in the Quran reader

اور ان سے پہلے قوم نوح کو بھی کیونکہ وہ بڑے ظالم اور بڑے سرکش تھے

ترکیب :۔ اعندہ : الجملۃ المفعول الثانی لرایت بمعنی اخبرت۔ ان لا تزر : ان مخفۃ وضمیر الشان، اسمھا محذوف ای انہ لا تزر والجملۃ المنفیۃ فی محل الجر علی انھا بدل مما فی صحف موسی۔ تفسیر :۔ نیکوں کا بیان کر کے ان مقابلے میں بعض بدوں کا حال بیان فرماتا ہے کہ ایسے بھی بدکار ہوتے ہیں۔ فقال : افرایت الذی تولی۔ کہ اے محمد ! تو نے ایسے لوگ بھی دیکھے کہ جو ہماری یاد سے منہ پھیرتے ہیں اور کچھ تھوڑسا سا دے کر دل کو سکیڑ لیتے ہیں کیا ان کو علم غیب ہے کہ یہ مال ان کے پاس ہمیشہ رہے گا اور ان کو کسی سے حاجت نہیں ہوگی۔ قرآن مجید میں ان طریقوں سے انسانی طبائع کے جزر و مد اور اخیر و شر میں اس کے جذبات بتلائے جاتے ہیں اس میں تعمیم ہے جس کا ایسا حال ہوا اور یہی تعمیم منصب وعظ کے لیے مناسب ہے مگر اس کی تعمیم میں کہیں کسی شخص خاص کی طرف بھی اشارہ ہوتا ہے جس کو بطور نمونہ کے پیش کیا ہے۔ اس لیے مفسرین کہتے ہیں اس الذی سے ولید بن مغیرہ کی طرف اشارہ ہوتا ہے جو اسلام لا کر خیرات کرنے لگا تھا۔ پھر کسی کے عار دلانے سے پھر گیا اور ہاتھ روک لیا۔ اب اس کو پہلے انبیاء کے صحیفوں یعنی کتابوں کے مضامین یاد دلا کر سمجھایا جاتا ہے۔ فقال : ام لم ینبا بما فی صحف موسی۔ وابراھیم کہ موسیٰ اور ابراہیم وفا دار بندے کے صحیفوں میں کیا لکھا ہوا تھا۔ معلوم نہیں ؟ صحف موسیٰ توریت یا اور ان کی بعض مفقود شدہ کتابیں۔ اسی طرح ابراہیم (علیہ السلام) پر بھی کچھ صحیفے نازل ہوئے تھے، جواب بالکل مفقود ہیں۔ ان صحیفوں کی پہلی بات :۔ الا تزر کہ کوئی کسی کا بوجھ یعنی گناہ نہیں اٹھائے گا۔ یعنی کرے کوئی بھرے کوئی۔ کسی کے گناہ میں قیامت کو دوسرا نہیں پکڑا جائے گا۔ اس کے کہنے سے کہ تو گناہ کرلے اور تیرا گناہ مجھ پر، یہ بری نہ ہوگا۔ و ان لیس الخ۔ انسان کو اپنی کمائی یعنی اعمال کا پھل ملتا ہے کرایہ کے لوگوں کے اعمال اس کو نفع نہ دیں گے یعنی گناہ سے ڈرنا چاہیے اور نیکی میں آپ کو کوشش کرنی چاہیے۔ 1؎ اس سے یہ غرض نہیں کہ ایماندار کو اس کے ایمان کی برکت اور اس کی کوشش سے اس کو آخرت میں کسی کی شفاعت سے نفع نہ ہوگا یا اس کے لیے کسی کی دعا فائدہ مند ہوگی یا مرنے کے بعد کسی کے لیے صدقات و اعمال صالحہ کی برکت سے جو اس کے لیے دعا و صلہ ہے نفع نہ ہوگا جیسا کہ معتزلہ اور دیگر لوگوں نے سمجھ لیا ہے۔ 3 ۔ و ان سعیہ الخ۔ انسان کی کوشش رائیگاں نہ جائے گی۔ اگر یہ خود اس کے رائگاں کرنے کا کام نہ کرے گا ورنہ عمل حبط بھی ہوجاتے ہیں۔ 4 ۔ اس کو اپنے اعمال کا پورا بدلہ ملے گا۔ 5 ۔ خدا کے پاس ہر ایک کو جانا ہے۔ 6 ۔ یہ کہ خوشی و غم خدا ہی کی طرف سے ہے۔ 7 ۔ مارنا جلانا بھی اسی کے ہاتھ ہے۔ 8 ۔ نر و مادہ اسی نے بنائے ہیں قطرہ منی سے۔ 9 ۔ وہی مارنے کے بعد بار دیگر حشر میں زندہ کرے گا۔ 10 ۔ وہی فراغ دستی و تنگ دستی دیتا ہے۔ 11 ۔ یہ نہ ستاروں کی تاثیر ہے نہ اور کوئی تدبیر کس لیے کہ وہ شعری 2؎ یعنی ستاروں کا بھی مالک ہے۔ 12 ۔ اور یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ دنیا میں اعمال بد کا ثمرہ نہیں ملتا کس لیے کہ اس نے قوم عاد 3؎ وثمود اور نوح کی قوم کو غارت کردیا کسی کو باقی نہ چھوڑا کیوں کہ وہ ظالم اور سرکش تھے۔ یہ بارہ باتیں ہوئیں جو اس کی سعادت کے لیے نہایت نافع ہیں۔ توحید و توکل و اعتقاد صحیح اور نیکی میں کوشش کرنے اور بدی سے بچنے کی بابت اور برے اعمال کے بد نتیجے کے پیش آنے بابت۔ انہ، انہ کو جمہور نے بالفتح پڑھا ہے سب کا عطف لفظ ما پر ہے جس سے لازم ہوگا کہ سب موسیٰ اور ابراہیم کے صحیفوں کی باتیں ہیں۔ ؎1 عیسائیوں کے عقیدہ کفار نے ان دونوں باتوں سے ان کو غافل کردیا اور انسان کو بےقید بنا دیا۔ 1؎ شعری ایک ستارہ ہے جو گرمی کے موسم میں جوزا کے بعد نکلتا ہے۔ یہ دو ہیں ایک نہایت روشن ہے اس کو عبور کہتے ہیں۔ دوسرا اس سے کم اس کو غمیصا کہتے ہیں۔ بہت لوگ ان کو پوجتے تھے من جملہ ان کے عرب میں جس نے اس کی پستش اول اختیار کی وہ آنحضرت ﷺ کے ننھیال میں سے ایک شخص ابن ابی کبشہ نامی تھا۔ اور ستارے عرض میں آسمان کو قطع کرتے ہیں مگر یہ طول میں۔ اس لیے سب کے خلاف اس نے یہ بات نکالی تھی اس لیے اوب سفیان مخالفت عرب کی وجہ سے آنحضرت صلی کو ابن ابی کبشہ کہا کرتا تھا۔
Ayahs 53:53–62

وَ الْمُؤْتَفِكَةَ اَهْوٰىۙ Open ayah 53:53 in the Quran reader

اور قوم لوط کی بستیوں کو بھی الٹ دیا

فَغَشّٰىهَا مَا غَشّٰىۚ Open ayah 53:54 in the Quran reader

پھر ان کو ڈھانک دیا تھا اس سے کہ ڈھانک دیا

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكَ تَتَمَارٰى Open ayah 53:55 in the Quran reader

پھر اے آدمی تو انے رب کی کس کس نعمت میں جھگڑے گا

هٰذَا نَذِیْرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْاُوْلٰى Open ayah 53:56 in the Quran reader

یہ نبی بھی ڈرانے والوں میں سے ایک ڈرانے والا ہے

اَزِفَتِ الْاٰزِفَةُۚ Open ayah 53:57 in the Quran reader

پس قریب آ لگی آنے والی

لَیْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ كَاشِفَةٌؕ Open ayah 53:58 in the Quran reader

(قیامت) کہ جس کو اللہ کے سوا اور کوئی ظاہر نہیں کرسکتا

اَفَمِنْ هٰذَا الْحَدِیْثِ تَعْجَبُوْنَۙ Open ayah 53:59 in the Quran reader

کیا تم اس بات سے تعجب کرتے ہو

وَ تَضْحَكُوْنَ وَ لَا تَبْكُوْنَۙ Open ayah 53:60 in the Quran reader

اور ہنستے ہو اور روتے نہیں

وَ اَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ Open ayah 53:61 in the Quran reader

اور تم کھیل رہے ہو

فَاسْجُدُوْا لِلّٰهِ وَ اعْبُدُوْا۠۩ Open ayah 53:62 in the Quran reader

پس اللہ کو سجدہ کرو اور بندگی کرو

ترکیب : الموتفکۃ منصوب 1؎ ضربۃ، فبای الحاء متعلق تتماری۔ من دون باھوی الائتکاف الانقلاب تقول افکۃ اذا قلبتہ الموتفکۃ المنقلبۃ ما غشی مفعول ثان ویحتمل ان یکون فاعلا یقال ضربہ من زائدۃ تقدیر لیس لھا غیر اللہ کاشفۃ ھی صفۃ المونث ای نفس کاشفۃ وقیل التاء للمبالغة تفسیر : فرماتا ہے کہ قوم عاد وثمود و قوم نوح پر کیا موقوف ہے ان کے بعد الٹی ہوئی بستیوں کو بھی جو قوم لوط کی بستیاں تھیں سدوم وغیرہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے عہد میں ان کو اس قوم کی بدکاری پر الٹ دیا۔ جو اے قریش ! جو شام کے سفر میں آتے جاتے تم کو ان کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔ ان بستیوں کو ڈھانک لیا اس چیز نے کہ ڈھانک لیا تھا۔ اس ڈھانکنے والی چیز کے ابہام میں ہول دلانا مقصود ہے وہ کیا چیز تھی ؟ پتھر تھے جو ان پر برسے اور ممکن ہے کہ جمیع الامم کی طرف ضمیر راجع ہو اور ڈھانکے والی چیز قہر الٰہی اور اس کا عذاب شدید تھا جو ان پر ہر طرف سے محیط ہو رہا تھا۔ پھر ان دلائل کے بعد فرماتا ہے :۔ فبای الاء ربک تتماری۔ کہ انسان تو خدا کی کس کس نعمت میں جھگڑا کرے گا اس کی ہر ایک نعمت اس کی توحید پر برہان قاطع ہے۔ کس کس کو غیر کی طرف منسوب کرے گا اور غیر کو اس میں شریک کرنا ان نعمتوں میں جھگڑا کرنا ہے۔ توحید کے بعد پھر رسالت کے مسئلہ کو سورت کے خاتمہ ذکر کرتا ہے فقال : ھذا نذیر من النذر الاولی۔ کہ جس طرح اول نذیر یعنی ڈر سنانے والے انبیاء کرام (علیہم السلام) بھیجے گئے ہیں، حضرت ہود، صالح، نوح، ابراہیم، لوط اور موسیٰ (علیہم السلام) انہی میں سے ایک یہ بھی ہیں : محمد صلی اللہ علیہم وسلم۔ یہ کوئی نئی بات نہیں جس سے تم انکار کرتے ہو۔ اس کے بعد تیسرے مسئلہ حشر کو ذکر کرتا ہے : ازفت الازفۃ کہ قیامت (جس کا نام ہے آزفہ یعنی قریب آنے والی ہے) قریب آ لگی آنے والی چیز کو گنتی ہی دور ہو، مگر آنا بہ فانا قریب قریب ہوتی جاتی ہے۔ اس پر شاید منکر یہ کہتے ہوں کہ وہ کب آئے گی ؟ اس کا جواب دیتا ہے۔ لیس لھا من دون اللہ کاشفۃ کہ اس کو اللہ کے سوا کوئی ظاہر نہیں کرسکتا کہ وہ کب ہوگی ؟ قیامت کا وقت خدا تعالیٰ نے اس مصلحت سے مخفی رکھا ہے کہ اگر اس کا وقت بتا دیا جاتا تو اس وقت کو دور دراز سمجھ کر لوگ غافل ہوجاتے اب جو ابہام ہے تو ایماندار کو ہر وقت خوف لگا رہتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس سے پہلے جو کچھ کرنا ہے کرلینا چاہیے پھر مہلت کہاں ؟ اور کی قیامت اس کی موت ہے جس میں کسی کو بھی شبہ نہیں اور اس کا بھی وقت معلوم نہیں مگر اس پر بھی غفلت ہے۔ افمن ھذا الحدیث تعجبون۔ و تضحکون و لا تبکون۔ کہ کیا تم قیامت کے دن سے تعجب کرتے ہو کہ بھلا یہ عالم جو ہزاروں برسوں سے ہے فنا ہوجائے گا ؟ اور جو دہریت و فلسفہ کی غلاظت میں آلودہ ہیں وہ تو اس پر ہنستے ہیں اور روتے نہیں حالانکہ اس مصیبت کے وقت کو سن کر رونا چاہیے۔ وانتم سمدون۔ تم بھول اور غفلت میں پڑے ہوئے ہو۔ سمود : غفلت و سہو۔ غفلت کی یہ حالت ہے کہ جہاں چند روز رہنا ہے وہاں کے لیے رات دن ان تدابیر جائز و ناجائز میں گرفتار ہے کہ دوسرے کا ہوش نہیں کہ کہیں جانا بھی ہے اور عمر ہے کہ اپنے منازل بڑی سرعت کے ساتھ طے کر رہی ادھر لذات و شہوات کا وہ نشہ چڑھا ہوا ہے کہ بےہوشی اسی طرف سے طاری ہو رہی ہے۔ اس لیے اس عالم جاودانی کا توشہ جمع کرنے کے لیے ایمانداروں کو حکم دیتا ہے اور اسی پر سورت کو تمام کرتا ہے فقال : فاسجدو للہ : کہ اللہ کو سجدہ کرو۔ عام ہے کہ صرف سجدہ کرو یا نماز پڑھو کہ اس میں سجدہ بھی ہے اور سجدہ بندے کا خدا سے پور نیاز مندی کا اظہار ہے اور سجدہ نماز ہی پر موقوف نہیں بلکہ واعبدوا اس کی ہر طرح سے عبادت کرو تسبیح و تہلیل و استغفار و ذکر و مراقبہ خیرات و صدقات سب کو شامل ہے۔ مسائل ثلاثہ کو ثابت کر کے سورت کو کس موقع پر تمام کیا ہے