43. Surah Az-Zukhruf

الزخرفOrnaments of gold · 89 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 43:41–45

فَاِمَّا نَذْهَبَنَّ بِكَ فَاِنَّا مِنْهُمْ مُّنْتَقِمُوْنَۙ Open ayah 43:41 in the Quran reader

پھر اگر ہم آپ کو لے بھی جائیں (دنیا سے) تو بھی ہم ان سے ضرور بدلہ لیں گے

اَوْ نُرِیَنَّكَ الَّذِیْ وَعَدْنٰهُمْ فَاِنَّا عَلَیْهِمْ مُّقْتَدِرُوْنَ Open ayah 43:42 in the Quran reader

اور اگر تجھے ہم وہ بھی دکھاویں کہ جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے تو ہم ان پر قادر ہیں

فَاسْتَمْسِكْ بِالَّذِیْۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ١ۚ اِنَّكَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 43:43 in the Quran reader

پھر تو اس کو مضبوط پکڑے رہ کر جو تیری طرف وحی کیا گیا تو جو ہے تو سیدھے رستہ پر ہے

وَ اِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَ لِقَوْمِكَ١ۚ وَ سَوْفَ تُسْئَلُوْنَ Open ayah 43:44 in the Quran reader

اور یہ قرآن تیرے لیے اور تیری قوم کے لیے نصیحت ہے اور آگے تم سے پوچھا جاوے گا۔

وَ سْئَلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُّسُلِنَاۤ اَجَعَلْنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ اٰلِهَةً یُّعْبَدُوْنَ۠ Open ayah 43:45 in the Quran reader

اور پوچھ دیکھ ان رسولوں سے کہ جن کو تجھ سے پہلے بھیجا تھا کہ کیا اللہ کے سوا ہم نے اور بھی معبود پرستش کے لیے بنائے تھے۔

تفسیر : اس سے پہلے فرمایا تھا کہ ایسے بہرے اندھے کو جو ضلال مبین میں گرفتار ہو تو ہدایت نہیں دے سکتا۔ ایسی حالت میں ان ازلی گمراہوں کو اور بھی جرأت ہونا اور نبی کی تکذیب و ایذا پر کمر باندھ کر اس کہنے کا موقع ملنا (کہ تجھ سے ہماری ہدایت ممکن نہیں اور ہم ایسے بدراہ ہیں تو تیرا خدا اپنے وعدہ کے موافق ہمیں کچھ سزا دیوے تاکہ تیری سچائی معلوم ہو کہ تو اس کا بھیجا ہوا ہے) قرین قیاس ہے۔ ان کی اس شوخ چشمی کا جواب دیتا ہے فامانذھبن بک فانامنہم منقمون الخ کہ اگر تجھے اے محمد ﷺ ہم دنیا سے لے جاویں کیونکہ تو اپنا کام جو تھا سو کرچکا اور یہ ایک روز ہونا ہے تو یہ نہیں کہ پھر ہم ان سے بدلہ نہ لیں یا تیری زندگی ہی میں تجھے بھی آنکھ سے وہ عذاب جس کا ان سے وعدہ ہوا ہے دکھاویں تو ہم اس پر بھی قادر ہیں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اہل مکہ کو اپنی نسبت فی ضلال مبین اور اندھا بہرا سننا سخت ناگوار گزرا اور قصد کیا کہ ان کو مار ڈالیں یا شہر سے نکال دیں اس کے ساتھ اس کے وہ وعدے بھی تمام ہوجاویں گے کہ جن سے ہم کو دھمکیاں دیا کرتا ہے۔ اس بات کا بیان کئی ایک جگہ قرآن مجید میں بھی آیا ہے از انجملہ یہ ہے 1 ؎ اویقتلوک اویخرجوک کہ تیرے مارنے یا نکال دینے کا قصد کرتے ہیں اور بدبخت لوگ جو مرتبہ ضلال مبین میں ہوتے ہیں باغوائی بئس القرین ایسا ہی کیا کرتے ہیں اپنے خیر خواہ ہوں کے ساتھ ان کی اس بات کا اس آیت میں جواب دیتا ہے کہ اگر انہوں نے ایسا ہی کیا کہ تجھے مار ڈالا یا نکال دیا فامانذھبن بک ان دونوں باتوں کو شامل ہے دنیا سے لے جانا یا مکہ سے باہر لے جانا۔ تو اس سے کیا ہوتا ہے ہم ہر حال میں قادر ہیں کہ تیرے جانے کے بعد بھی ان کو عذاب دکھا سکتے ہیں اور تیرے روبرو بھی اور ایسا ہی ہوا بھی مکہ میں جب آپ تھے ان پر سات برس کا قحط پڑا۔ سب شرارت نکل گئی اور مکہ چھوڑنے کے بعد بھی جنگ بدر وغیرہ معرکوں میں ان پر وہ مصیبتیں آئیں پس اے محمد ﷺ ! آپ ان کی دھمکی کی کچھ پروا نہ کریں فاستمسک بالذی اوحی الیک آپ اس پر خوب مضبوط رہیں جو تیری طرف توحید و مکارم اخلاق و عبادت کی بابت وحی کیا گیا ہے۔ اور وہ جو تیرے رستہ کو برا اور الٹا تجھے گمراہ کہتے ہیں کہنے دو انک علی صراط مستقیم بیشک آپ سیدھے رستہ پر ہیں۔ وانہ اور یہ قرآن لذکرلک ولقومک تیرے لیے اور تیری قوم کے لیے ایک پند سود مند ہے اور خدا کو اور دارآخرت کو یاد دلانے والی اور سمجھانے والی چیز ہے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ ذکر سے مراد شرف ہے کہ قران تیرا اور تیری قوم کا شرف اور پچھلی نسلوں کے لیے یادگار ہے۔ بیشک قرآن ہی کی وجہ سے قریش کا شرف دنیا میں مانا گیا اور یہی لوگ نبی کی خاص الخواص قوم بن کر خلافت اور جانشینی کے قابل قرار دیے گئے۔ وسوف تسئلون مگر عنقریب تم سے سوال ہوگا پوچھا جاوے گا کہ تم نے اس پر کیسا عمل کیا اس امانت کی رعایت کیسی کی ؟ مشرکین مکہ کی بہت سے گمراہیوں میں سے ایک یہ بھی تھی کہ وہ کہتے تھے بت پرستی سے منع کرنا نیا کام ہے جو محمد ﷺ نے ایجاد کیا پہلے کسی نبی نے نہیں کیا۔ یہ اس لیے کہتے تھے کہ یہود و نصاریٰ میں بھی اس وقت نئی قسم کی بت پرستی مروج تھی ان کی تسلی فرماتا ہے واسئل الخ کہ پہلے رسولوں سے یعنی ان کے علماء سے تو پوچھو کہ کیا ہم نے اپنے سوا اور معبود بھی پوجنے کے لیے مقرر کردیے ہیں ؟ ان کے علماء کبھی نہیں کہیں گے کہ خدا نے متعدد معبودوں کے پوجنے کی اجازت دی ہے گو ان کے عوام شرک میں مبتلا ہوں۔
Ayahs 43:46–56

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَقَالَ اِنِّیْ رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 43:46 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو بھی اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا تھا۔ تب موسیٰ نے کہا میں رب العالمین کا فرستادہ ہوں

فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِاٰیٰتِنَاۤ اِذَا هُمْ مِّنْهَا یَضْحَكُوْنَ Open ayah 43:47 in the Quran reader

پھر جب وہ ان کے پاس ہماری نشانیاں لے کر آئے تو وہ ان کی ہنسی اڑانے لگے

وَ مَا نُرِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ اِلَّا هِیَ اَكْبَرُ مِنْ اُخْتِهَا١٘ وَ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 43:48 in the Quran reader

اور ہم ان کو جو کوئی نشانی دکھاتے تھے تو ایک دوسرے سے بڑھ کر بھی ہوتی تھی اور ہم نے ان کو مبتلائے مصیبت بھی کیا تاکہ وہ (ہماری طرف) رجوع کریں

وَ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَ السّٰحِرُ ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ١ۚ اِنَّنَا لَمُهْتَدُوْنَ Open ayah 43:49 in the Quran reader

اور انہوں نے (عذاب آنے پر بھی یہی) کہا اے جاودگر ! اپنے رب سے ہمارے لیے اس عہد سے کہ جو تجھ سے خدا نے کرلیا ہے دعا کر البتہ ہم ہدایت پر آجاویں گے

فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِذَا هُمْ یَنْكُثُوْنَ Open ayah 43:50 in the Quran reader

پھر جب ہم نے ان کی تکلیف دور کردی تو فوراً وہ عہد شکنی کرنے لگے۔

وَ نَادٰى فِرْعَوْنُ فِیْ قَوْمِهٖ قَالَ یٰقَوْمِ اَلَیْسَ لِیْ مُلْكُ مِصْرَ وَ هٰذِهِ الْاَنْهٰرُ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِیْ١ۚ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَؕ Open ayah 43:51 in the Quran reader

اور فرعون نے اپنی قوم میں منادی کروا کے کہہ دیا کہ اے قوم ! کیا مجھے مصر کی بادشاہت نہیں اور کیا یہ نہریں میرے (محل کے) نیچے سے نہیں بہ رہی ہیں۔ پھر تم کیا نہیں دیکھتے ؟

اَمْ اَنَا خَیْرٌ مِّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ مَهِیْنٌ١ۙ۬ وَّ لَا یَكَادُ یُبِیْنُ Open ayah 43:52 in the Quran reader

کیا میں اس سے بہتر نہیں ہوں جو ذلیل ہے۔ اور صاف بات بھی نہیں کرسکتا

فَلَوْ لَاۤ اُلْقِیَ عَلَیْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَآءَ مَعَهُ الْمَلٰٓئِكَةُ مُقْتَرِنِیْنَ Open ayah 43:53 in the Quran reader

پھر کس لیے اس کے لیے سونے کے کنگن نہیں اتارے گئے یا اس کے ساتھ فرشتے اردلی میں آئے ہوتے۔

فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهٗ فَاَطَاعُوْهُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 43:54 in the Quran reader

پس اس نے (ایسی باتوں سے) اپنی قوم کو احمق بنا دیا پھر وہ اس کے کہنے میں آئے کیونکہ وہ تھے ہی بدکار قوم۔

فَلَمَّاۤ اٰسَفُوْنَا انْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَاَغْرَقْنٰهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 43:55 in the Quran reader

پھر جب انہوں نے ہم کو خفا کیا تو ہم نے بھی ان سے بدلہ لیا پھر تو ان سب کو ڈبو دیا۔

فَجَعَلْنٰهُمْ سَلَفًا وَّ مَثَلًا لِّلْاٰخِرِیْنَ۠ Open ayah 43:56 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کو گزرے ہوئوں اور پچھلوں کے لیے نمونہ بنا دیا۔

ترکیب : بما عہد بعہدہ عندک من النبوۃ اومن ان یستجیب دعوتک او ان یکشف العذاب عمن اھتدی لوبما عہد عنک فوفیت بہ وھو الایمان والطاعۃ بیضاوی۔ وھذہ الانہار جملۃ حالیۃ ویمکن ان تکون الانہار معطوفہ علی ملک مصر و تجری حالمنھا فاستخف ای حملھم علی الخفۃ وقال ابن الاعرابی المعنی فاستجھل قومہ فاطاعوہ سلفا قرء الجمہور بفتح السین واللام جمع سالف کخدم و خادم و قریٔ سلفابضم السین و اللام قال القراء ھو جمیع سلیف نحو سرروسریر۔ تفسیر : پہلے فرمایا تھا واسئل من ارسلنا کہ پہلے رسولوں کا حال دریافت کر الخ اب ان میں سے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا تذکرہ جو آپ سے بہت مناسبت رکھتا ہے اور وہ مناسبت یہ ہے کہ جس طرح کفار قریش نے حضرت ﷺ کی نبوت پر مال وجاہ نہ ہونے سے طعن کیا تھا اور کہا تھا کہ لولانزل ھذا القرآن علی رجل من القریتین عظیم اسی طرح فرعون نے باوجود معجزات دیکھنے کے بھی طعن موسیٰ کی نبوت پر کیا تھا کہ یہ ذلیل ہے اس کے پاس سونے کے کنگن نہیں جو تاجداری کی علامت تھی اور میں ایسا ہوں کہ ملک مصر کا مالک ہوں ‘ میرے حکم میں نہریں جاری ہیں۔ پس ایسی باتوں سے اس نے اپنی قوم کو بھی احمق بنا دیا۔ آخر سب غرق ہوئے اور پچھلی امتوں کے لیے ان کا قصہ یادگار اور مثال ہوگیا کہ فلاں ایسا جیسا فرعون اور یہ قوم فرعونیوں جیسا انجام ہوگا۔ عرب میں مشہور ہوگیا لکل فرعون موسیٰ یہ قریش مکہ کو سنایا جاتا ہے کہ تم بھی وہی باتیں کرتے ہو جو انہوں نے کیں۔ نہیں خبردار تمہارا بھی یہی حال ہونا ہے جو ان کا ہوا یعنی ہلاک و بربادی و خرابی۔ یہ تمام آیات کا خلاصہ ہوا۔ اب ہم الفاظ کی تفسیر کرتے ہیں۔ ومانریہم من آیۃ الاھی اکبر من اختہا کہ ایک نشانی دوسری سے بڑھ کر تھی جو ان کو ہم نے موسیٰ کی معرفت دکھائیں۔ گو وہ نشانیاں سب ہی بڑھ کر تھیں مگر محاورہ میں جب کئی چیزوں کی تعریف کرنی ہوتی ہے تو یوں بھی بولتے ہیں کہ ایک سے ایک بڑھ کر۔ اور وہ نشانیاں۔ یدِبیضا ‘ عصا وغیرہ نو تھیں جیسا کہ کئی جگہ بیان ہوا۔ واخذناھم بالعذاب ان پر مینڈکوں اور اولوں اور پانیوں میں خون پائے جانے کی بلائیں آئیں اور بھی آئیں تاکہ اپنی سرکشی سے باز آئیں۔ عذاب کے وقت میں بھی یہ شرارت تھی کہ موسیٰ ( علیہ السلام) سے یوں کہا یا ایہا الساحر اے جادوگر ! اپنے رب سے کہہ اور اس کو وہ عہد یاد دلا کہ جو تجھے اس نے کیا ہے کہ جو مانے گا میں اس سے تکلیف دور کر دوں گا۔ بماعہد عندک کے یہ معنی ہیں۔ یا عہد سے مراد نبوت ہے یا دعا قبول کرنے کا عہد۔ مامصدریہ یا موصولہ ہے اور ب سببیہ جب وہ تکلیف دور ہوئی تو پھرگئے۔ وھذہ الانہار دریائے نیل میں سے متعدد نہریں نکالی گئیں تھیں تجری من تحتی وہ میرے محل کے نیچے بہتی ہیں یا میرے حکم میں ہیں اسورۃ من ذھب یعقوب وحفص نے اسورۃ پڑھا ہے جو سوار کی جمع ہے یعنی کنگن اور اکثر نے اس اورۃ پڑھا ہے وہ بھی اسوار بمعنی سوار کی جمع ہے۔ (بیضاوی) مصریوں میں دستور تھا کہ جس کو بادشاہ یا سردار بناتے تھے تو اس کے ہاتھوں میں سونے کے کنگن اور گلے میں سونے کا طوق ڈالتے تھے یہ اس کی علامت تھی جیسا کہ ہندو راجوں میں اب تک ہے اور ان کی تقلید سے بعض سلاطین و امرائے اسلام ہند میں پہنتے ہیں۔ یعنی اس کے پاس خزانے و حکمرانی نہیں۔ نہروں اور پانی کا اس کو فخر تھا پانی ہی میں خدا نے اس کو غرق 1 ؎ کیا۔ 1 ؎ احمد و طبرانی و بیہقی و ابن ابی حاتم نے عقبہ بن عامر سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جب اللہ کسی بندے کو کوئی نعمت دے اور بندہ گناہ و نافرمانی کرتا جاوے تو یہ خدا تعالیٰ کا اس کے لیے داؤ ہے پھر آپ نے یہ آیت پڑھی فلا اسفونا انتقمنا منھم فاغرقنا ھم اجمعین۔ 12 منہ
Ayahs 43:57–67

وَ لَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْیَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ یَصِدُّوْنَ Open ayah 43:57 in the Quran reader

اور (یاد کرو) جبکہ ابن مریم (عیسیٰ ) کی مثال بیان کی گئی تو اس سے آپ کی قوم اکڑنے لگی

وَ قَالُوْۤا ءَاٰلِهَتُنَا خَیْرٌ اَمْ هُوَ١ؕ مَا ضَرَبُوْهُ لَكَ اِلَّا جَدَلًا١ؕ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ Open ayah 43:58 in the Quran reader

اور کہنے لگے کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ۔ یہ ذکر آپ سے صرف جھگڑنے کے لیے کرتے ہیں بلکہ وہ ہیں ہی جھگڑالو قوم۔

اِنْ هُوَ اِلَّا عَبْدٌ اَنْعَمْنَا عَلَیْهِ وَ جَعَلْنٰهُ مَثَلًا لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 43:59 in the Quran reader

وہ تو ہمارا ایک بندہ ہے کہ جس پر ہم نے کرم کیا اور اس کو بنی اسرائیل کے لیے نمونہ بنا دیا تھا

وَ لَوْ نَشَآءُ لَجَعَلْنَا مِنْكُمْ مَّلٰٓئِكَةً فِی الْاَرْضِ یَخْلُفُوْنَ Open ayah 43:60 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں تو تم میں سے فرشتے بنا دیں کہ زمین پر یکے بعد دیگرے رہا کریں

وَ اِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَ اتَّبِعُوْنِ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 43:61 in the Quran reader

اور البتہ عیسیٰ جو ہے تو قیامت کی ایک نشانی ہے پس تم اس میں شبہ نہ کرو اور میرا کہا مانو۔ یہ ہے سیدھا رستہ۔

وَ لَا یَصُدَّنَّكُمُ الشَّیْطٰنُ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 43:62 in the Quran reader

اور تم کو شیطان نہ روکنے پاوے کیونکہ وہ تو تمہارا صریح دشمن ہے

وَ لَمَّا جَآءَ عِیْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ قَالَ قَدْ جِئْتُكُمْ بِالْحِكْمَةِ وَ لِاُبَیِّنَ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِیْ تَخْتَلِفُوْنَ فِیْهِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِ Open ayah 43:63 in the Quran reader

اور جبکہ عیسیٰ نشانیاں لے کر آئے۔ کہنے لگے کہ میں تمہارے پاس حکمت لایا ہوں اور اس لیے بھی آیا ہوں کہ بعض وہ باتیں بیان کروں کہ جن میں تمہارا خلاف ہے پھر اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔

اِنَّ اللّٰهَ هُوَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 43:64 in the Quran reader

بیشک اللہ جو ہے تو وہ میرا اور تمہارا رب ہے پھر تم اس کی عبادت کرو۔ یہی سیدھا رستہ ہے۔

فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَیْنِهِمْ١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْ عَذَابِ یَوْمٍ اَلِیْمٍ Open ayah 43:65 in the Quran reader

پھر لوگ باہم مختلف ہوگئے پھر ظالموں کو خرابی ہے سخت دن کی سزا سے۔

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 43:66 in the Quran reader

کیا وہ قیامت ہی کے منتظر ہیں کہ ان پر یکایک آجائے اور ان کو خبر بھی نہ ہو

اَلْاَخِلَّآءُ یَوْمَئِذٍۭ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَؕ۠ Open ayah 43:67 in the Quran reader

اس دن دوست بھی آپس میں دشمن ہوجائیں گے مگر پرہیز گار لوگ۔

تفسیر : جبکہ یہ فرمایا کہ پہلے انبیاء سے دریافت کرو اور اس کے بعد حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا حال بیان فرمایا تو بعض نے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کا ذکر بطور معارضہ کیا کہ دیکھو عیسائی اس کی عبادت کرتے ہیں اور اس کو خدا اور خدا کا بیٹا جانتے ہیں پھر آپ کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ پہلے انبیاء سب توحید کے مروج تھے۔ عیسائیوں کا طریقہ عیسیٰ پرستی انہیں کا قائم کیا ہوا ہے۔ پھر جب عیسیٰ ( علیہ السلام) خدا ہیں تو ہمارے معبود ملائکہ وغیرہ ان سے کم نہیں بلکہ بہتر ہیں۔ اس کے جواب میں خدا تعالیٰ ان مشرکین کی یہ بیجاحجت نقل کر کے جواب دیتا ہے جیسا کہ ان کے اوراقوال باطلہ کا جواب دیتا چلا آتا ہے فقال ولما ضرب ابن مریم مثلاً یعنی جبکہ ابن مریم عیسیٰ کی مثال بیان کی گئی۔ قرآن مجید میں مثال بیان کرنے والے کا نام نہیں۔ مگر جمہور مفسرین کہتے ہیں وہ عبداللہ بن زبعریٰ تھا جو بعد میں مشرف باسلام ہوا۔ اذاقومک منہ یصدون اس مثال کے بیان کرنے سے تیری قوم خوشی میں آکر غل مچاتی ہے۔ اور کہتے ہیں ہمارے معبود ملائکہ وغیرہ بہتر ہیں یا وہ یعنی عیسیٰ ؟ یعنی اس سے ہمارے معبود بہتر ہیں پھر جب اس کی پرستش جائز ہے تو ہمارے معبودوں کی پرستش کیوں نہ جائز ہوئی ؟ یہاں تک تو ان کی گفتگو تھی اب اس کا جواب دیتا ہے ماضربوہ لک الاجدلا۔ کہ یہ مثال ان کی محض ناحق شناسی سے ہے اور بیجا ہے یہ لوگ ناحق جھگڑا کرنے والے ہیں۔ غلط حجت جو محض سخن پروری کی وجہ سے ہو جدل باطل ہے۔ یہ تمہید تھی اب کا اصل حال بیان فرماتا ہے ان ھوالاعبدانعمنا علیہ الخ کہ عیسیٰ نہ خدا تھا نہ خدا کا بیٹا وہ ہمارا بندہ تھا صرف یہ بات تھی کہ اس پر ہم نے انعام کیا تھا فضلیت دی تھی منجملہ ان کے ایک یہ بات تھی کہ اس کو بغیر باپ کے پیدا کردیا تھا جس سے اس کو جاہل خدا اور اس کا بیٹا سمجھنے لگے وہ ملائکہ سے تو اس بات میں بڑھ کر نہ تھا جن کی ماں ہے نہ باپ ‘ کھانے پینے سے بھی پاک ہیں اگر ہم چاہیں تو تمہاری جگہ ان کو دنیا میں بھیج دیں کہ یہاں آکر خلافت کریں۔ بس بات یہ تھی کہ عیسیٰ کو بغیر باپ کے پیدا کرنے میں ہم نے اس کو بنی اسرائیل کے لیے اپنی قدرت کی نشانی بنایا تھا تاکہ وہ اس بات سے اس پر ایمان لاویں اور نیز وہ قیامت کی نشانی ہے کہ قریب قیامت کے دنیا پر اترے گا۔ جیسا کہ احادیث صحیحہ میں آیا ہے تم اس میں یعنی قیامت کے قائم ہونے میں شک نہ کرو میرا کہا مانو یہ سیدھا رستہ ہے۔ اور شیطان کے بہکانے میں نہ آئو وہ تمہارا دشمن ہے یہ حقیقت ہے عیسیٰ کی۔
Ayahs 43:68–78

یٰعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَۚ Open ayah 43:68 in the Quran reader

) کہا جاوے گا) اے میرے بندو ! آج کے دن نہ تم کو کوئی خوف ہے اور نہ تم رنج کروگے۔

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَۚ Open ayah 43:69 in the Quran reader

ہمارے بندے وہ ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے اور فرمانبردار رہے۔

اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ اَنْتُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ تُحْبَرُوْنَ Open ayah 43:70 in the Quran reader

(حکم ہوگا) تم اور تمہاری بیویاں خوشیاں کرتے ہوئے جنت میں داخل ہوجائو

یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِصِحَافٍ مِّنْ ذَهَبٍ وَّ اَكْوَابٍ١ۚ وَ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْهِ الْاَنْفُسُ وَ تَلَذُّ الْاَعْیُنُ١ۚ وَ اَنْتُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 43:71 in the Quran reader

ان پر سونے کی رکابیوں اور آبخوروں کا دور چلے گا اور وہاں جس چیز کو دل چاہے گا اور جس سے آنکھیں خوش ہوں گی موجود ہوگی وہاں ہمیشہ رہا کرو گے

وَ تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْۤ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 43:72 in the Quran reader

اور تم کو اس جنت کا ان کاموں کے بدلے میں وارث کیا گیا جو تم کیا کرتے تھے

لَكُمْ فِیْهَا فَاكِهَةٌ كَثِیْرَةٌ مِّنْهَا تَاْكُلُوْنَ Open ayah 43:73 in the Quran reader

تمہارے لیے وہاں بہت سے میوے ہیں کہ جن میں سے تم کھایا کرو گے

اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ عَذَابِ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَۚۖ Open ayah 43:74 in the Quran reader

البتہ گناہگار عذاب جہنم میں سدا رہا کریں گے

لَا یُفَتَّرُ عَنْهُمْ وَ هُمْ فِیْهِ مُبْلِسُوْنَۚ Open ayah 43:75 in the Quran reader

وہ عذاب ان سے دور نہ ہوگا اور وہ اس میں ناامید رہیں گے

وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْا هُمُ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 43:76 in the Quran reader

اور ہمارا ان پر ظلم نہ ہوگا بلکہ وہی خود ظلم کیا کرتے تھے۔

وَ نَادَوْا یٰمٰلِكُ لِیَقْضِ عَلَیْنَا رَبُّكَ١ؕ قَالَ اِنَّكُمْ مّٰكِثُوْنَ Open ayah 43:77 in the Quran reader

اور پکاریں گے اے مالک ! کہیں تیرا رب ہم کو موت دے چکے۔ وہ کہے گا تم کو (اسی حال میں) رہنا ہے

لَقَدْ جِئْنٰكُمْ بِالْحَقِّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَكُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ Open ayah 43:78 in the Quran reader

ہم تمہارے پاس حق بات لائے لیکن تم میں سے اکثر حق بات سے نفرت کرتے ہیں۔

تفسیر : اس کے بعد خود عیٰسی ( علیہ السلام) کے اقوال نقل کرتا ہے کہ اس نے بھی اپنے آپ کو خدا اور خدا کا بیٹا نہیں کہا بلکہ ولما جاء عیٰسی بالبنیات الخ کہ جب وہ نشانیاں یعنی معجزات لے کر آئے تو لوگوں سے یہ کہا کہ میں تمہارے پاس حکمت یعنی وہ باتیں لے کر آیا ہوں جو انسان کی شائستگی کا باعث ہیں اور اس لیے بھی آیا ہوں کہ موسوی شریعت کی اصلاح کروں جو لوگوں نے اختلاف کر کے بگاڑ رکھی ہے سخت احکام کو اٹھائوں اور سیدھا رستہ دکھائوں۔ بنی اسرائیل میں حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) سے پہلے عجائب خرابیاں و اختلافات پھیلے ہوئے تھے۔ فرقہ صدوقی قیامت کا منکر تھا اور فقیہوں اور فریسیوں نے عجب عجب باتیں گھڑ رکھیں تھیں مغز شریعت سے بالکل بیخبر تھے۔ پس اللہ سے ڈرو اے بنی اسرائیل جو مغز شریعت ہے ریاکاری سے باز آئو واطیعون اور میرے کہنے پر چلو ان اللہ ھو ربی وربکم فاعبدوہ اللہ جو میرا اور تمہارا رب ہے اسی کی عبادت کرو۔ صاف اقرار کردیا کہ میں خدا یا خدا کا بیٹا نہیں اور خدا پرستی کا حکم دے دیا۔ اناجیل مروجہ میں بھی یہ بات متعدد مقامات میں مذکور ہے۔ ھذا اصراط مستقیم یہی سیدھا رستہ ہے۔ یہاں تک حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کا قول تھا۔ پھر اس کے بعد جو لوگوں نے خصوصاً عیسائیوں نے بدعات ایجاد کر کے اس کی طرف منسوب کیں ان کو ذکر کرتا ہے فاختلف الاحزاب من بینہم الخ احزاب حزب کی جمع جس کے معنی گروہ کے ہیں یعنی کلیسائوں کے باہم اختلافات ہوگئے کسی نے کہا عیسیٰ خدا اور خدا کا بیٹا تھا کسی نے کہا وہ صلیب نہیں دیا گیا وغیرہ وغیرہ جیسا کہ کلیساء کی تاریخوں میں مفصل مذکور ہے اور یہ فرقے اور اختلافات مسیح کے تھوڑے دنوں بعد سے شروع ہوگئے۔ پولوس بھی اپنے زمانہ میں اس کا شاکی تھا۔ غرض یہ کہ عیسیٰ ( علیہ السلام) کو جو خدا اور خدا کا بیٹا عیسائیوں نے بنا لیا ہے خصوصاً اس وقت میں رومن کا تھولک عیسائی تو ان کی والدہ اور صلیب کو بھی پوجتے تھے۔ یہ عیسیٰ ( علیہ السلام) نے نہیں فرمایا ہے ان جہلانے بنا لیا ہے پھر کیا اس حجت سے تم خوش ہوتے ہو۔ اب ان عیسائیوں کی طرف روئے سخن ہوتا ہے فویل للذین ظلموا الخ کہ ان ظالموں کو بڑے دن میں خرابی اور عذاب ہے۔ اور اب بھی یہ باز نہیں آتے تو کیا قیامت کو باز آویں گے اور کیا اسی کے منتظر ہیں کہ یکایک آجاوے اور ان کو مہلت بھی نہ دے۔ اب اس دن کی کیفیت بیان فرماتا ہے کہ اس روز یہ جو آج باہم دوست ہیں ناحق پر بھی دوستی کی وجہ سے جمعے ہوئے ہیں باہم دشمن ہوجاویں گے صرف پرہیزگاروں کی دوستی اور محبت اس دن باقی رہے گی جن کو یہ کہا جاوے گا یا عباد الخ کہ اے میرے بندو ! آج تم کو کوئی خوف نہیں اور نہ تم کسی بات کا رنج کرو وہ بندے کون ہیں ؟ وہ جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں اور فرمانبرداری کرتے ہیں حکم ہوگا کہ تم اپنی بیویوں کے ساتھ خوشیاں کرتے ہوئے جنت میں چلو وہاں تم کو جو چاہوگے وہ نعمت ملے گی۔ یہ تمہارے اعمال حسنہ کا بدلہ ہے اس کے بعد گناہگاروں کا حال بیان فرماتا ہے کہ وہ ہمیشہ عذاب جہنم میں رہیں گے وہ عذاب کبھی کم نہ ہوگا۔ وہاں موت مانگیں گے موت بھی نہ آوے گی یہ ان پر ہم نے ظلم نہیں کیا وہی اس کے بانی ہیں جو حق کا انکار کیا کرتے تھے۔ سبحان اللہ ان کی حجت جاہلانہ کا کس خوبی کے ساتھ جواب دیا اور اس کے ضمن میں دارآخرت کا بھی حال بیان کردیا جو اہم مقاصد میں سے تھا۔