Ayahs 41:40–44تفسیر : دعوت الی اللہ اور اس کے طرق اقامۃ الدلائل کے بعد یہ بیان کرتا ہے کہ جو آیات الٰہیہ میں کجروی کرتے ہیں۔ وہ ہم پر مخفی نہیں، یعنی دنیا و آخرت میں سزا یاب ہوں گے، آخرت میں آگ میں ڈالے جائیں گے، پھر جو آگ میں ڈالا جائے گا، اس کے برابر ہوسکتا ہے، جو امن سے آوے گا ؟ نہیں ہرگز نہیں۔ دونوں طریقوں کی برائی بھلائی تم کو خوب معلوم ہوگئی۔ اللہ کے رستہ کی بھی اور آیات اللہ میں کجروی کی بھی۔ اب تم کو اختیار ہے جو چاہو سو کرو، کیونکہ وہ تمہارے کاموں کو دیکھ رہا ہے۔ الالحاد المیل والعدول و منہ اللحد فی البقرلانہ امیل الی ناحیۃ منہ یقال الحد فی دین اللہ اے مال عنہ۔ الالحاد فی الآیات کے معنی ہیں ان میں تحریف کرنا اور ہیر پھیر کر ان سے غلط مطلب ثابت کرنا۔ متبادر معنی کو بلا ضرورت چھوڑ دینا۔ حقیقت میں یہ بڑا عیب ہے۔ خصوصاً کلام اللہ میں ایسا کرنا۔ مکہ کے کفار بھی ایسا کیا کرتے تھے، یہ تحریف و ہیر پھیر دراصل معنی کا انکار ہے۔ اس لیے اس کے بعد فرماتا ہے۔ ان الذین کفروا بالذکر الخ ان کی خبر بعض کے نزدیک محذوف ہے، جیسا کہ اور جگہ بھی قرآن مجید میں سامع کی سمجھ پر چھوڑ کر جملے عبارت میں محذوف کردیے گئے ہیں، اس کی خبر یجازون۔ بعض کہتے ہیں اولئک ینادون من مکان بعید خبر ہے کہ وہ جو قرآن کا جس میں آیات اللہ ہیں، ان کے پاس پہنچنے کے بعد بھی انکار کرتے ہیں، اپنے انکار کی سزا پائیں گے۔ اس کے بعد قرآن مجید کی صفت بیان کرتا ہے جس کا وہ انکار کرتے ہیں۔ وانہ الکتاب الخ (1) یہ کہ قرآن کتاب ہے۔ (2) کیسی کتاب عزیز زبردست یا بےنظیر جس کے مطالب کی خوبی اس کے بےنظیر ہونے کی آپ سند ہے۔ (3) لایاتیہ الباطلالخ کہ اس میں غلط کو دخل نہیں، نہ بالفعل نہ اس کے بعد کوئی اس کو غلط ثابت کرسکے گا، نہ اس میں غلطی ملاسکے گا، نہ کوئی پہلی کتاب اس کو منسوخ کرسکتی ہے نہ آیندہ کوئی منسوخ کرنے والی آئے گی، نہ اس میں زیادتی ہوسکتی ہے نہ نقصان۔ (4) تنزیل من حکیم حمید حکیم اور حمید کی نازل کی ہوئی جس کی کوئی بات بھی حکمت کے خلاف نہیں۔ حکیم بھی کیسا کہ حمید بھی ہے، اس کی حکمت جابرانہ نہیں بلکہ قابل تعریف۔ اس کے بعد آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتا ہے اور اسی جملہ میں کفار کا بھی اطمینان کرتا ہے۔ فقال مایقال لک الاما قد قیل للرسل من قبلک کہ اے محمد ﷺ ! آپ کو جو کچھ یہ کفار کہتے ہیں، نئی بات نہیں پہلے رسولوں کو بھی ایسا ہی کہا گیا ہے۔ جھوٹا جادوگر وغیرہ، یا یہ معنی کہ آپ کو توحید و مکارم اخلاق کا کوئی نیا حکم نہیں دیا گیا بلکہ وہی جو ہمیشہ سے رسولوں کو دیا گیا ہے۔ نوح ‘ ابراہیم ‘ اسحاق ‘ یعقوب ‘ موسیٰ بھی اپنی امتوں سے یہی کہا کرتے تھے، جو تم کہتے ہو اور آپ کو اور اگلے انبیاء کو یہ احکام کیوں دیے گئے اس لیے کہ ان ربک الخ کہ آپ کا رب معاف بھی کرتا ہے اور سزا بھی دیتا ہے۔ عمدہ باتوں سے خوش اور بری باتوں سے ناخوش ہوتا ہے۔ اس لیے اس نے انبیاء کی معرفت اپنی پسند اور ناپسند باتوں سے لوگوں کو خبردار کردیا تاکہ موجبات سزاء و انعام سے واقف ہوجائیں، یہ وجہ ہے قرآن کے نازل کرنے کی اور انبیاء کے بھیجنے کی۔
اس کے بعد ان کے اس شبہ کا جواب دیتا ہے۔
قلوبنا فی اکنۃ مماتدعونا الیہ ہمارے دلوں پر غلاف ہے اور یہ قرآن مجید کس لیے عربی زبان میں آیا، ایسی زبان تو ہم بھی بول سکتے ہیں۔ فقال ولوجعلناہ یعنی اگر ہم اس قرآن کو عجمی زبان میں اتارتے تو یہ عذر کرتے کہ عربی شخص عجمی زبان بولتا ہے، کلام عجمی و رسول عربی عربی و عجمی میں یای مبالغہ کے لیے ہے، جیسا کہ احمری میں عجم اس کو کہتے ہیں جو اچھی طرح بول نہ سکے اور اس لیے حیوانات کو عجماء کہتے ہیں اور عرب کے مقابلہ میں غیر زبان والے فصیح نہیں سمجھے جاتے اس لیے عرب کے سوا سب کو عجم کہتے ہیں اور کبھی ان میں خاص اہل ایران پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ حمزہ و کسائی و عاصم نے آ اعجمی کو دو ہمزہ کے ساتھ پڑھا ہے، ایک استفہام انکاری کے لیے اور بعض نے ایک ہمزہ سے بطور اخبار کے، پھر جواب پہلی بات کا دیتا ہے۔ قل ھو للذین آمنوا ھدی و شفاء کہ کہہ دے قرآن مجید ایمان والوں کے لیے ہدایت اور امراض قلبیہ کے واسطے شفاء ہے، ان کے دلوں پر اس سے غلاف نہیں۔ والذین لا یومنون الخ ہاں جو ایمان اس پر نہیں لاتے، ان کے دلوں میں حسد و عداوت کا پردہ پڑا ہوا ہے جس لیے فی اذانہم وقر ان کے کان بھی اس سے بہرے ہیں، سنتے ہی نہیں اور جو کوئی سنانا چاہے تو کان بند کرلیتے ہیں۔ وھو علیہم عمٰی اور آنکھوں پر اس سے پردہ پڑا ہوا خود بھی نہیں دیکھتے۔ اندھیرا چھایا ہوا ہے۔ اولئک ینادون من مکان بعید اب ان کی ایسی حالت ہے کہ جیسا کسی کو دور سے آواز دے کر پکارا جاتا ہے، جس طرح بہائم کو پکارتے ہیں۔ گائے بھینس وغیرہ کہ آواز سنتے ہیں، بات نہیں سمجھتے۔ خلاصہ یہ کہ قرآن مجید میں کوئی عیب نہیں، تمہارے دلوں اور دیگر حواس میں فتور ہے۔ جس لیے قرآن سے دلوں اور آنکھوں اور کانوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں اور اس میں اختلاف کرتے ہو،
Ayahs 41:45–46تفسیر : پھر یہ بھی کوئی نئی بات نہیں۔
ولقد آتینا موسیٰ الکتاب فاختلف فیہ ہم نے موسیٰ کو بھی کتاب دی تھی، یعنی تورات سو اس میں بھی لوگوں نے اختلاف کیا، کسی نے مانا کسی نے انکار کیا۔ اب غضب الٰہی تو یہی چاہتا تھا کہ اس سرکشی پر ہلاک کردیے جائیں مگر اس کی رحمت سے ان کے ہلاک ہونے کا ایک خاص وقت مقرر ہوچکا ہے اور کسی کے لیے ایک وقت میں آکر ایماندار ہونا لکھ دیا ہے اور کسی کے ہلاک نہ ہونے کی وجہ کوئی خاص مصلحت رکھی ہوئی ہے کہ یتیم اس کے ساتھ متعلق ہیں یا کوئی اور بات ہے، اس لیے ان کا ابھی فیصلہ نہیں ہوتا، اس سے وہ اور بھی قرآن مجید سے بڑے شک میں پڑگئے کہ اگر یہ کلام الٰہی تھا تو اس کے انکار سے ہم پر بلا کیوں نہ آئی ؟ اور قرآن اور نبی ان کو اپنے کام کے لیے نہیں بلاتا جو وہ کھنچتے ہیں وہ تو انہی کو بھلائی برائی کا رستہ بتاتا ہے۔ پھر من عمل صالحًا فلنفسہ جو کوئی نیکی کرتا ہے تو اپنے لیے ‘ اس کا فائدہ دنیا و آخرت میں اسی کو ہے، کسی پر کیا احسان ہے ؟ ومن اساء فعلیہا اور جو کوئی برائی کرتا ہے تو اپنے اوپر اس کا بد نتیجہ آپ ہی پاوے گا۔ ومار بک بظلام للعبید اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ یہ کڑوے پھل دنیا کی مصیبت ‘ آخرت کا عذاب اسی کے ہاتھ کے بوئے ہوئے درخت کے ہیں۔ سبحان اللہ کیا پر اثر کلام اور کیا موعظت بلیغہ ہے کہ جس کے سننے سے سنگدل بھی نرم ہوجاتے ہیں، مگر شقی ازلی بےبہرہ رہتے ہیں۔ ظلام بروزن فعال نسبت کا صیغہ ہے، جیسا کہ تمارو بقال چھوارے بیچنے والا اور ترکاری بیچنے والا ظلام ظلم کرنے والا، بعض کہتے ہیں۔ مبالغہ کا صیغہ ہے، مگر نفس ظلم مراد ہے تاکہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ بہت ظلم کرنے والا نہیں، تھوڑا سا روا رکھتا ہے۔ (سبحان اللہ عما یصفون) ۔
Ayahs 41:47–49ترکیب : وما تخرج مانا فیۃ و من الاولی للاستغراق والثانیۃ للابتداء وقیل ماموصولۃ فی محل جرعطفا علی الساعۃ ای علم الساعۃ وعلم التی تخرج۔
تفسیر : جبکہ کفار کے مقابلے میں یہ کہا گیا تھا کہ جو نیکی کرتا ہے اپنے لیے اور بدی جو کرتا ہے تو اپنے لیے۔ جس سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ پوری جزاء و سزا قیامت کو ملے گی، اس پر سامع کا خیال جاسکتا تھا کہ قیامت کب ہوگی، اس بات کا جواب دیتا ہے، الیہ یردعلم الساعۃ کہ قیامت کی خبر اس کے پاس ہے، یعنی جب کوئی کسی سے اس کے تعین وقت سے سوال کرتا ہے تو اس کی خبر اللہ ہی کے سپرد کی جاتی ہے کہ وہی جانتا ہے اور اس پر کیا موقوف ہے جو کچھ عالم غیب سے دنیا میں ظہور کرتا ہے، جیسا کہ گابھے کے اندر پھل اور مادہ کے پیٹ میں بچہ سب کی خبر اسی کو ہے۔ ابو عبیدہ کہتے ہیں۔ اکمام کم یا کمہ کی جمع ہے۔ میوے یا پھل کے اوپر جو چیز لپٹی ہوئی ہوتی ہے، اس کو کم کہتے ہیں اور اس لیے آستین کو بھی۔ مغیبات پر رمل یا نجوم یا تعبیر خواب سے علم حاصل نہیں ہوتا۔ ظن ہوتا ہے، علم یقینی نہیں اور جو انبیاء اور اولیائِ کرام کو الہام یا مکاشفہ سے کچھ بتایا جاتا ہے تو اللہ ہی کے بحر علم کا ایک قطرہ ہوتا ہے اور وہ بھی اسی قدر کہ جس قدر اس نے ان کو بتادیا، وہی علام الغیوب ہے۔
اس کے بعد کچھ قیامت کے احوال بیان فرماتا ہے۔ ویوم ینادیہم الخ کہ اس روز مشرکین سے پکار کر پوچھا جائے گا کہ میرے شریک جو تم نے دنیا میں بنا رکھے تھے کہاں ہیں ؟ کہیں گے ہم نے بتا تو دیا یعنی آپ کو خود علم ہے کہ ہم میں سے ان کو کوئی بھی دیکھنے والا نہیں، یعنی نظر نہیں آتے یا یہ معنی کہ ہم میں سے کوئی بھی شہادت نہیں دیتا کہ اللہ کا کوئی شریک ہے، یعنی انکار کریں گے، جیسا کہ ملزم سزا کے وقت ارتکاب جرم کا انکار کیا کرتے ہیں۔ وضل عنہم الخ اور دنیا میں جن کو پہلے پوجتے تھے وہ ان سے غائب ہوجاویں گے اور جان لیں گے کہ ہماری خلاصی نہیں۔ انسان کو یہ تبدل و تغیر کچھ آخرت ہی میں پیش نہ آئے گا کہ جن بتوں اور خیالی معبودوں کو دنیا میں پکارا کرتے تھے ان سے عذاب دیکھ کر برأت کریں گے بلکہ دنیا میں بھی اس کی ایسی حالت ہے کہ لایسئم الانسان من دعاء الخیر اپنے لیے بھلائی مانگنے میں تھکتا نہیں۔ وان مسہ الشرفیؤس قنوط اور جو دکھ پہنچتا ہے تو ناامید اور ہراساں ہوجاتا ہے۔ ولئن اذقناہ رحمۃ منا اور جو اس مصیبت کے بعد ہم پھر راحت عطا کرتے ہیں، اپنی مہربانی سے تو کہتا ہے میں اسی کا مستحق اور اسی کے لائق ہوں اور پھر اسی عیش و کامرانی میں ایسے پھولتے ہیں اور یہاں کے رہنے کو ایسا پسند کرتے ہیں کہ قیامت کے بھی منکر ہوجاتے ہیں۔ وما اظن الساعۃ قائمۃً اور اگر بالفرض میں اپنے رب کے پاس گیا بھی تو مجھے وہاں بہتری ہوگی، کیونکہ دنیا میں بھی میں معزز تھا، وہاں بھی معزز رہوں گا۔ دنیا پر آخرت کا قیاس کرتا ہے، یہ معلوم نہیں وہاں کے اور ہی حالات ہیں۔ یہ قول بطور حسن ظن کے نہ تھا جو باخدا لوگوں کو اللہ سے ہوتا ہے بلکہ بطور تکبر و سرکشی کے اس لیے فرماتا ہے۔ فلننبئن الذین کہ ہم کافروں کو ان کے اعمال پر متنبہ کریں گے اور سخت عذاب چکھائیں گے، یعنی ان کے لیے اس جہاں میں بہتری تو کیا ہے عذاب شدید ہے۔
Ayahs 41:50–54تفسیر : واذا انعمنا اور جب ہم انسان پر عنایت کرتے ہیں تو سرکشی کرتا ہے۔ (والجانب مجاز عن النفس و نائی بمعنی بعد یقال نائت و تنایت ای بعدت وتباعدت والمتنائی الموضع البعید) اور جب اس پر بلا آتی ہے تو بڑی دعا کرتا ہے۔ (العرض والطول یستعمل فی الکثرۃ مجازا فی کلام العرب) یہ انسان کی جبلی بات ہے، غرض یہ کہ یہ تمام سرکشی خدا تعالیٰ کی عطاء کی ہوئی نعمت کی بدہضمی سے ہے۔
اس کے بعد پھر کفار کے شبہات دفعہ کرتا ہے۔ فقال ارایتم ان کان من عنداللہ الخ ان سے کہہ دے تم جو قرآن مجید کا انکار کرتے ہو اچھا یہ بھی تو خیال کرلو (کیونکہ تمہارے انکار پر کوئی حجت قوی نہیں ہے صرف توہمات ہیں) کہ اگر یہ اللہ کی طرف سے ہو اور تم نے اس کا انکار کیا، پھر تم سے زیادہ کون گمراہ اور ضدی ہے ؟ (ممن ھو صلہ منکم وضع من ھو فی شقاق موضع الضمیر لبیان حالھم نے الشاقۃ) یہ ایک الزامی گفتگو ہے، مخاطب کو قائل کرنے کے لیے جبکہ وہ خلاف حق ہو کر اپنے توہمات پر اصرار کرے۔
اس کے بعد ایک پیشین گوئی فرماتا ہے۔ اسلام اور قرآن کے برحق ہونے پر فقال سزیہم آیا تنافی الآفاق الخ آفاق جمع افق عناق کا عناق اس کے معنی ہیں کنارے کے۔ آیت کی تفسیر میں علمائِ کرام نے متعدد وجوہ بیان فرمائے ہیں، مگر صاف یہ ہے اور یہی سیاق کلام سے چسپاں زیادہ ہے کہ ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے۔ وہ دو قسم کی ہوں گی، ایک آفاق یعنی بلاد و ممالک کے متعلق اور دوسری وہ جو ان کی ذات سے علاقہ رکھتی ہوں گی۔ وہ جو آفاق سے علاقہ رکھتی ہیں، بہت سی نشانیاں ہیں کہ جن کی رسول کریم ﷺ نے خبر دی تھی، جن کا لوگوں نے معائنہ کیا اور یتبین لہم انہ الحق اور ان پر حق ظاہر ہوگیا جیسا کہ تھوڑے سے دنوں میں اسلام کا دور دراز ملکوں میں ظہو کرنا کسریٰ و قیصر کا مقہور ہونا ‘ عرب کا کایا پلٹ ہوجانا ‘ سب میں ایک نئی زندگانی کا پیدا ہونا وغیرہ ذلک۔ اس طرح زلزلوں کا آنا ‘ بڑے بڑے حوادث کا ظہور کرنا ججاز میں مہینوں تک ایک عجیب و غریب آگ کا مشتعل ہونا وغیر ذلک جن کی تفصیل کے لیے ایک بڑی مجلد کتاب بھی کافی نہیں اور آیات انفس بھی بہت لوگوں نے دیکھیں۔ مکہ میں ہجرت سے پہلے ایک انقلاب شروع ہوا اور ہجرت کے بعد سے ترقی کرتا گیا، سنگدل سفاک رحم دل ہوگئے۔ بت پرستوں کو خدا پرستی سوجھنے لگی، وحشی اور جاہلوں کو قیصر و کسریٰ کے ملک کے انتظام کا علم آگیا۔ دغا بازی کی جگہ راست بازی کی طرف طبائع مائل ہوگئے۔ نفاق کی جگہ دلوں میں اتفاق نے گھر بنایا، پست حوصلگی کی جگہ بلند حوصلگی پیدا ہوئی۔ ان کے سینے علوم و حکمت کے چشمہ بن گئے۔ پھر ان آیات کے دکھانے پر وثوق دلاتا ہے۔ فقال اولم یکف بربک الخ کیا یہ بات کافی نہیں کہ تیرا رب ہر چیز پر شہید ہے، کوئی بات اس کی قدرت و علم سے باہر نہیں، پھر وہ کیا ان آیات کے دکھانے پر قادر نہیں ؟ یہ سب کچھ ہے، مگر الا انہم فی مریۃ من لقاء ربہم وہ اپنے رب کے ملنے سے شک میں ہیں، جانتے ہیں کہ مر کر مٹی ہوجاویں گے، خدا کے پاس کیا جانا ہے، جس لیے وہ یہ باتیں کرتے ہیں مگر وہ کہاں جاسکتے ہیں۔ الا انہ بکل شیئٍ محیط ہوشیار وہ ہر چیز کو احاطہ کئے ہوئے ہے، کوئی اس کی قدرت سے باہر نہیں، سب کو گھیر کر اپنے پاس دربار عدالت میں حاضر کرے گا۔ سبحان اللہ کس موقع پر کلام کو تمام کیا ہے اور اثنائے کلام میں کیا کیا باریکیاں رکھی ہیں۔ صدق اللہ العلی العظیم۔