39. Surah Az-Zumar

الزمرThe Groups · 75 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayah 39:41

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ لِلنَّاسِ بِالْحَقِّ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ۠ Open ayah 39:41 in the Quran reader

ہم نے آپ پر لوگوں کے لیے برحق کتاب نازل کی ہے۔ پھر جو کوئی راہ پر آیا تو اپنے بھلے کے لیے اور جو کوئی گمراہ ہوا تو وہ صرف اپنے خراب ہونے کے لیے گمراہ ہوتا ہے۔ اے رسول ! آپ کچھ ان کے ذمہ دار نہیں۔

ترکیب : للناس متعلق بانزلنا بالحق حال من الفاعل او المفعول بہ ای متلبسًا بالحق فمن شرطیۃ و جو ابہ فلنفسہ و من موصولۃ مبتدء فانما یضل الجملۃ خبر و ما انت جملۃ مستانفۃ ویمکن ان یکون حالامن فاعل یضل۔ تفسیر : پچھلی آیتوں میں خدا تعالیٰ نے مشرکین کے مذہب کو کبھی تو دلائلِ دینیات سے باطل کیا کبھی امثال بیان کرکے اس کی خرابی ظاہر فرمائی اور کبھی دنیا و آخرت میں بلائیں اور عذاب کی سزا سے ڈرایا مگر اس پر بھی وہ کور باطن نہ مانتے تھے اور نبی کو ہمدردی کا جوش جو ان کو جہنم میں گرتے دیکھتا تھا اور آپ کو سخت رنج ہوتا تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ اس آیت میں آپ کو اطمینان دلاتا ہے۔ فقال انا انزلنا الخ کہ ہم نے اے نبی ! آپ پر لوگوں کی رہنمائی کے لیے دنیا میں کتاب نازل کردی ہے۔ یعنی قرآن مجید جو سعادت و شقاوت بیان کرنے میں صاف صاف ہے اور جمیع ضروریات کے لیے دستور العملِ آسمانی ہے اور قرآن بھی کیسا نازل کیا۔ بالحق سچائی اور خوبی کے ساتھ ہر عقلمند غور کرکے کہہ سکتا ہے کہ یہ آسمانی کتاب ہے اور تمام اگلے نوشتوں کا لب لباب ہے، اب اس کے بعد جو کوئی رستے پر آوے اور نیک روی اختیار کرے تو اپنے فائدے کے لیے کرتا ہے اور جو کوئی نہ مانے گمراہی اور کجروی اختیار کرے تو اپنے لیے آپ برباد ہوگا۔ وما انت علیہم بوکیل اور اے نبی ! آپ ان کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ آپ کا کام صرف تبلیغ ہے۔ سو آپ بخوبی کرچکے ہیں اور کررہے ہیں، اسی قسم کے مضامین اور کئی جگہ قرآن مجید میں آئے ہیں۔ فلعلک باخع نفسک علی اثارھم ان لم یؤمنوا۔ وقال لعلک باخع نفسک الا یکونوا مؤمنین۔ وقال فلا تذھب نفسک علیہم حسراتٍ ۔ فائدہ : بعض مفسرین کہتے ہیں۔ یہ آیت منسوخ ہے، آیت سیف سے کیونکہ آیت سیف میں اللہ نے اپنے رسول کو حکم دیا ہے کہ جب تک لوگ توحید و رسالت کا اقرار نہ کریں یعنی دنیا میں آسمانی سلطنت قائم کرلیں، تلوار سے کام لیں یعنی حقوق الٰہی کا مطالبہ بالجبر کریں، مگر تحقیق یہ ہے کہ دونوں آیتوں میں کوئی تعارض نہیں، پھر خواہ مخواہ نسخ کا قائل ہونا ایک بیکار خیال ہے، کس لیے کہ آیت سیف میں قتال کا حکم بجائے خود ہے اور یہاں اس کی ممانعت نہیں، صرف آپ کی تسلی ہے اور ان کی بدبختی کا اظہار ہے۔ پہلے آیا تھا ومن یضلل اللہ فمالہ من مضل جس سے ثابت ہوتا تھا کہ اللہ تعالیٰ گمراہ کرتا ہے اور یہاں آیا ہے جو کوئی آپ گمراہ ہوتا ہے، اس کا جواب ہم کئی جگہ مفصلاً دے چکے ہیں کہ اللہ کی طرف ہدایت و ضلالت کی نسبت کرنا باعتبار حکم ازلی و نوشتہ قضاء و قدر کے ہے اور بندے کی طرف اس کے کسب اور اسباب ہدایت و ضلالت کے عمل میں لانے کی وجہ سے اور اسی طرح ہدایت و ضلالت کبھی اس کے اسباب کی طرف بھی نسبت کی جاتی ہے، کہتے ہیں قرآن یا نبی یا فلاں عالم نے ہدایت دی شیطان یا فلاں ملحد و کافر نے گمراہ کردیا۔
Ayah 39:42

اَللّٰهُ یَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِهَا وَ الَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِهَا١ۚ فَیُمْسِكُ الَّتِیْ قَضٰى عَلَیْهَا الْمَوْتَ وَ یُرْسِلُ الْاُخْرٰۤى اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 39:42 in the Quran reader

اللہ ہی موت کے وقت روحوں کو قبضہ میں کرلیتا ہے اور جو مرتے نہیں ان کی روحوں کو خواب میں قبضہ میں کرلیتا ہے۔ پھر جن پر موت کا حکم ہوچکتا ہے تو ان کو روک رکھتا ہے اور دوسروں کو چھوڑ دیتا ہے، ایک مقررہ وقت تک بیشک اس میں غور کرنے والوں کے لیے بڑی بڑی نشانیاں ہیں۔

تفسیر : ہدایت کو حیات سے مشابہت ہے اور گمراہی کو موت سے اب اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ حکم قضاء و قدر کے ہاتھ میں ہدایت و ضلالت ہے، جیسا کہ موت وحیات۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نفوس کو موت کے وقت اور خواب کے وقت اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے، پھر جس کو چاہتا ہے بیدار کرتا ہے۔ حیات دیتا ہے، جس کو چاہتا ہے سوتے ہی میں موت دیتا ہے، اسی طرح ہدایت بھی اسی کے قبضہ میں ہے۔ اس لیے ان آیات میں اللہ یتوفی الانفس الخ فرمایا یا یوں کہو جس طرح اور دلائل سے اپنی خداوندی و جبروت کا ثبوت کیا تھا، اس جگہ انسان کی روزمرہ حالت خواب و بیداری سے اپنی قدرت کاملہ کا ثبوت کرتا ہے اور اس میں حشر و نشر کا نمونہ اور دنیا کا خواب و خیال ہونا بتلاتا ہے۔ فقال اللہ یتوفی الانفس حین موتہا کہ موت کے وقت اللہ 1 ؎ ہی روحوں کو قبض کرتا ہے اور بدن سے نکالتا ہے، والتی لم تمت اور جو مرے نہیں ان کو فی منامہا ان کے خواب کے وقت قبض کرتا ہے۔ تصرف ظاہری نہیں کرنے پاتے، کھانا پینا ‘ دیکھنا ‘ چلنا ‘ لینا دینا کچھ ان سے نہیں ہوتا، مردے کی طرح پڑے رہتے ہیں۔ فیمسک التی قضی علیہا الموت پھر جن پر موت کا حکم لگ چکا ہے، ان کو روک لیتا ہے، پھر اس بدن کی طرف دنیا میں آنے نہیں پاتے۔ ویرسل الاخری الی اجل مسمی اور دوسروں کو (یعنی جن کو خواب میں قبض کیا تھا) ایک وقت معین تک چھوڑتا ہے۔ یعنی بدن سے تصرفات کرنے لگتے ہیں۔ بیدار ہو کر وقت خاص تک یعنی موت تک۔ واضح ہو کہ نفس انسانی ایک جوہر نورانی روحانی ہے۔ جب ان کا بدن سے تعلق ہوتا ہے تو اس کی روشنی تمام بدن کے اجزاء میں پھیلتی ہے اور اس کو زندگی یا حیات کہتے ہیں اور جب اس کا بدن سے بالکل تعلق منقطع ہوجاتا ہے، ظاہر اور باطن سے تو وہ نورانیت جمیع اجزائِ بدن سے منقطع ہوجاتی ہے، اس کو موت کہتے ہیں اور خواب کے وقت اس کی روشنی صرف ظاہر بدن سے منقطع ہوجاتی ہے، مگر باطن میں رہتی ہے۔ صرف موت اور خواب میں اتنا فرق ہے کہ موت میں انقطاع کلی ہوجاتا ہے اور خواب میں انقطاع ناقص ہوتا ہے۔ بعض وجوہ سے اس لیے کہتے ہیں کہ سویا مرا برابر ہوتا ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ اس قادر ‘ عالم ‘ حکیم نے نفس کا بدن کے ساتھ تین طرح پر تعلق قائم کیا ہے۔ (1) یہ کہ اس کی روشنی ظاہر و باطن میں برابر پہنچی، اس کو بیداری کہتے ہیں۔ (2) یہ کہ صرف ظاہر میں بعض وجوہ کی روشنی نہ ہوئی اس کو نوم یا خواب کہتے ہیں۔ (3) یہ کہ اس کی روشنی بالکل منقطع ہوجاوے اس کو موت کہتے ہیں اور ایسی تدبیر عجیب کا صدور بجز قادر علیم حکیم کے اور سے ناممکن ہے اور یہی مراد ہے اس قول سے ان فی ذلک لایات لقوم یتفکرون پس ایسے کی پرستش کرنی چاہیے نہ اس کی کہ جو خود بےحس و بےقدرت ہو۔ لایاتٍ میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ شب کو سناٹا ہوجاتا ہے۔ گویا تمام شہر مرگیا، جدھر دیکھو سنسان ہے، صبح کو صبح حشر کی طرح پھر وہی ہا ہو، شور ہوجاتا ہے اور نیز اس طرف بھی کہ انسان اپنے مرنے کے وقت کو ایسا سمجھے کہ جیسا خواب میں باتیں کرتے کرتے آنکھ بند ہوجاتی ہے، اسی طرح جن اشغال میں ہوتا ہے انہی میں موت آجاتی ہے اور نیز احادیث صحیحہ میں ان دعائوں کا پڑھنا آیا ہے جو اس کی موت کو یاد دلاتے ہیں اور توبہ و استغفار بھی ضروری ہے اور اس طرف بھی کہ یہ زندگی ایک خواب سا ہے۔ 1 ؎ وائے محرومی کہ وقت مرگ یہ ثابت ہوا خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا۔ 1 ؎ اور کبھی مجازاً یہ توفی ملائکہ کی طرف بھی نسبت کی جاتی ہے، جیسا قل یتوفاکم ملک الموت کیونکہ یہ تدبیر و تصرف عالم کے لیے موکل ہیں، اس علاقہ سے ان کی طرف اسناد مجازی ہوا۔ 12 منہ
Ayahs 39:43–48

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُفَعَآءَ١ؕ قُلْ اَوَ لَوْ كَانُوْا لَا یَمْلِكُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 39:43 in the Quran reader

کیا انہوں نے اللہ کے سوا اور حمایتی بنا رکھے ہیں۔ کہو اگر وہ کچھ بھی اختیار نہ رکھتے ہوں اور کچھ بھی عقل نہ رکھتے ہوں تو بھی (حمایتی بناؤ گے)

قُلْ لِّلّٰهِ الشَّفَاعَةُ جَمِیْعًا١ؕ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 39:44 in the Quran reader

کہو ہر طرح کی حمایت اللہ ہی کے اختیار میں ہے، اس کے لیے بادشاہت ہے۔ پھر تم اس کے پاس لوٹا کر لائے جاؤ گے

وَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحْدَهُ اشْمَاَزَّتْ قُلُوْبُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اِذَا ذُكِرَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِذَا هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ Open ayah 39:45 in the Quran reader

اور جب اکیلے اس کا نام لیا جاتا ہے تو جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے تو ان کے دل بھچنے (نفرت کرنے) لگتے ہیں اور جب اس کے سوا اوروں کا ذکر کیا جاتا ہے تو فوراً خوش ہوجاتے ہیں۔

قُلِ اللّٰهُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ عٰلِمَ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ اَنْتَ تَحْكُمُ بَیْنَ عِبَادِكَ فِیْ مَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 39:46 in the Quran reader

کہو اے اللہ ! آسمانوں اور زمین کے بنانے والے چھپے اور کھلے کے جاننے والے تو بھی اپنے بندوں کی ان باتوں کا کہ جن میں وہ جھگڑ رہے ہیں فیصلہ کردے گا

وَ لَوْ اَنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ مِنْ سُوْٓءِ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ بَدَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مَا لَمْ یَكُوْنُوْا یَحْتَسِبُوْنَ Open ayah 39:47 in the Quran reader

اور اگر ظالموں کے پاس جو کچھ زمین میں ہے سب ہو اور اسی قدر اس کے ساتھ اور بھی ہو تو قیامت کے بڑے عذاب کے معاوضہ میں دے کر چھوٹنا چاہیں گے اور اللہ کی طرف سے ان کو وہ پیش آئے گا کہ جن کا ان کو گمان بھی نہ تھا

وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 39:48 in the Quran reader

اور برے کاموں کی برائی ان پر ظاہر ہوجاوے گی اور ان کو وہ عذاب کہ جن پر وہ ہنسی کیا کرتے تھے پکڑے گا۔

ترکیب : ام منقطعۃ بمعنی بل۔ اولو کان الھمزۃ للانکار والوا وللعطف علی محذوف مقدرای یشفعون ولو کانوا الخ و جواب لو محذوف ای وان کانوا بھذہ الصفۃ تتخذونھم۔ جمیعًا حال من الشفاعۃ مصدر یطلق علی الواحد والکثیر ولھذا اصح وقوع الحال بجمیع منہ وحدہ انتصابہ علی الحال عند یونس و علی المصدر عند الخلیل و سیبویہ۔ اشماء زت الاشمز از النفور والانقباض۔ فاطر السمٰوٰت منصوب علی النداء عالم الغیب بدل منہ اوصفۃ للذین خبران ما فی الارضاسمھا جمیعًا حال منہ و مثلہ معطوف علی ماولذا الا نتصب لافتدوا جواب لو۔ تفسیر : بیان سابق کے بعد مشرکین یہ کہتے تھے کہ ہم ان بتوں کو یا وہ کہ جن کے نام کے بت ہیں، خدا اور خالق ومالک سمجھ کر نہیں پوجتے بلکہ ان کو شفیع اور کارکن جان کر اور اکثر مشرکوں کا مخلوق پرستی کے لیے یہی حیلہ ہوا کرتا ہے، اس کے جواب میں فرماتا ہے۔ ام اتخذوا من دون اللہ شفعًا الخ کہ کیا ان کو شفیع سمجھ لیا ہے کہ اگر وہ ذی روح ہیں تو لایملکون شیئًا ان کے بس میں کچھ بھی نہیں، اس کی اجازت بغیر کوئی کچھ بول بھی نہیں سکتا اور اگر وہ بت ہیں تو لایعقلون وہ بےحس و حرکت و بےعقل ہیں اور ہر قسم کی شفاعت اللہ کے اختیار میں ہے اور حمایت بھی اسی کے بس میں ہے، اسی کے بس میں اور قبضہ اور ملک میں آسمان و زمین ہے اور سب کو اسی کے پاس جانا ہے، پھر اسی کو پکارو پوجو۔ واذا ذکر اللہ وحدہ یہ مشرکوں کی بدعادت اور بےانصافی کا بیان ہے کہ جب صرف اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو آخرت کے منکر نفرت کرتے ہیں اور رکتے ہیں اور جب اوروں کا یعنی ان کے معبودوں کا ذکر کیا جاتا ہے تو اسی وقت خوش ہوجاتے ہیں، ان کے اس اصرار و جہل پر آنحضرت ﷺ کو یہ معاملہ خدا کے سپرد کرنے کا حکم دیا۔ دعا اور اس کے اوصاف حمیدہ کے پیرایہ میں فقال قل اللہم فاطر السمٰوٰت کہ کہہ دے اے اللہ تو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا، چھپی اور کھلی چیزوں کا جاننے والا ہے۔ دلوں کے رازتجھ پر آشکارا ہیں۔ آج جس بات میں تیرے بندے جھگڑتے ہیں ان کا تو فیصلہ کردے گا کہ موحد برحق ہے یا مشرک۔ اس میں بھی مخالف کے دل پر اپنے وثوق جتلانے کے ذریعہ سے بڑا اثر ہوتا ہے۔ آخرت کے فیصلہ کا حوالہ دینے کے بعد وہاں جو کچھ ان پر پیش آوے گا اس کا ذکر کرتا ہے۔ ولو ان للذین الخ کہ ظالموں کے پاس اگر تمام دنیا کی نعمتیں ہوں اور ان کے ساتھ اسی قدر اور بھی ہوں تو ان سب کو دے کر عذاب قیامت سے چھٹنا غنیمت جانیں گے۔ وبدالہم اور اللہ کی طرف سے ان کے لیے وہ مصیبت ظاہر ہوگی کہ جس کا ان کو گمان بھی نہ تھا۔ و بدالہم سیئات اور ان کے حرکات ناشائستہ کی برائی ان کے پیش آوے گی اور جس عذاب جہنم اور آخرت کے معاملات پر وہ ہنسی کیا کرتے تھے وہ ان پر نازل ہوگا۔
Ayahs 39:49–52

فَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا١٘ ثُمَّ اِذَا خَوَّلْنٰهُ نِعْمَةً مِّنَّا١ۙ قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِیْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ١ؕ بَلْ هِیَ فِتْنَةٌ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:49 in the Quran reader

پھر جب آدمی پر کوئی مصیبت آپڑتی ہے تو ہم کو پکارتا ہے۔ پھر جب ہم اس کو اپنی نعمت عطاء کرتے ہیں تو کہتا ہے یہ تو مجھ کو میری عقل سے ملی ہے، بلکہ یہ نعمت آزمائش ہے۔ لیکن ان میں سے اکثر جانتے نہیں

قَدْ قَالَهَا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 39:50 in the Quran reader

یہی بات ان سے پہلے لوگوں نے بھی کہی تھی۔ پھر جو کچھ وہ کیا کرتے تھے ان کے کچھ بھی کام نہ آیا۔

فَاَصَابَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا١ؕ وَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْ هٰۤؤُلَآءِ سَیُصِیْبُهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا١ۙ وَ مَا هُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 39:51 in the Quran reader

پھر ان پر ان کے اعمال کی برائی آپڑی اور جو ان لوگوں میں سے ظالم ہیں ان پر بھی ابھی ان کے اعمال کی برائی آپڑتی ہے اور وہ ہم کو کچھ بھی ہرا نہ سکیں گے۔

اَوَ لَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 39:52 in the Quran reader

کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ جس کے لیے چاہتا ہے روزی فراخ کرتا ہے (اور جس کے لیے چاہتا ہے) تنگ کرتا ہے۔ بیشک اس میں ایمان داروں کے لیے (بڑی) نشانیاں ہیں۔

ترکیب : نعمۃ نصبھا علی الحال ای نعمۃ کائنۃ منا اوتیتہ الضمیر یرجع الی النعمۃ وھی مونث لفظا ولکن یراد بھا الشیء ھذا علی ان تکون ما فی انما کافۃ وعلی علم حال من المرفوع او المنصوب وان جعلت ماموصولۃ فالضمیر الی ما الموصولۃ و علی علم خبرہ قدقالھا الضمیر الی الجملۃ وھی قولہ انما الخ۔ تفسیر : یہاں سے مشرکین کی ایک اور عادت بیان فرماتا ہے۔ فقال فاذا مس الانسان کہ جب ان میں سے کسی کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے بیماری یا رزق کی تنگی وغیرہ تو خدائے تعالیٰ کو پکارتا ہے اور جب خدا اس پر فضل کرتا ہے اور راحت اور آسائش دیتا ہے تو اس کو اپنی دانائی یا تدابیر اور کوشش کی طرف منسوب کرتا ہے فرماتا ہے۔ بلھی فتنۃ بلکہ یہ اس کے حق میں خدا تعالیٰ کی طرف سے آزمائش ہے لیکن اکثر جانتے نہیں۔ فرماتا ہے۔ قد قالہا الذین کہ یہ کوئی نئی بات نہیں، ان سے پہلے لوگ بھی جو نعمت دیے گئے تھے اور خدا تعالیٰ سے تکبر کرتے اور ناشکری میں مبتلا تھے۔ ایسا کہہ چکے ہیں۔ قارون فرعون وغیرہ فما اغنی عنہم پھر ان پر ان کی ناشکری سے بلا نازل ہوئی جس کا دفعیہ ان کی تدبیر و دانش کہ جس کی طرف وہ نعمت کو منسوب کیا کرتے تھے، کچھ بھی نہ کرسکی، آخر فاصابہم سیئات ماکسبوا ان کے بدکام کا برا نتیجہ ان کے سامنے آیا نہ وہ رہے اور نہ ان کا ملک و مال نہ جاہ و سلطنت برے کام اور بدکاری مصیبتوں کے لباس میں پیش آئی، ان کی سب تدبیریں الٹ گئیں۔ اور زمانہ حال کے لوگ یہ خیال نہ کریں کہ یہ ان پہلے لوگوں کے لیے ہوا اور ان کے قصوں کو افسانے سمجھ کر غافل ہوجاویں بلکہ والذین ظلموا من ھؤلاء ان میں سے جو بد کار ستمگار ہیں، ان پر بھی ان کے اعمال بد کا بڑا اثر پڑے گا اور ان کا کوئی زور نہ چلے گا۔ انسان جو کام کرتا ہے اس کا ضرور ایک اثر ہوتا ہے، خواہ نیک خواہ بد اگر اس نے بدکام کو توبہ و ندامت و استغفار کے صابن سے نہ دھویا یا اس کی مکافات میں کوئی عمدہ اور خدا پسند کام نہیں کیا جو اس برے کام کے اثر کو روکے تو ضرور اس پر اس کام کا برا نتیجہ کسی مصیبت کی شکل میں ظہور کرے گا، کسی قدر دنیا میں اور زیادہ تر آخرت میں یہ بڑی مجرب بات ہے، اس میں ذرا بھی شبہ نہیں۔ اولم یعلموا الخ یہاں سے یہ بات بتلاتا ہے کہ وہ ناسپاس جو اس نعمت کو جو دراصل ان کے حق میں فتنہ ہے، اپنی تدبیر اور دانش کا نتیجہ اور خدائے تعالیٰ کی خوشنودی کا باعث جانتے ہیں، غلط خیال ہے کیونکہ وہ خود جانتے ہیں کہ رزق و دولت کی کشائش ان باتوں پر موقوف نہیں ہے، بہت سے عاقل اور صاحب کمالات اور بہت سے باخدا دنیا میں عسرت کے ساتھ زندگی بسر کرگئے ہیں اور بہت سے حمقاء اور بےعلموں اور بدکاروں کو مال و دولت و سلطنت و ثروت دی گئی ہے۔ اگر روزی بدانش برفزودیزناداں تنگ تر روزی نبودی اس میں ایمانداروں کے لیے اس کی قدرت کے بڑے نشان ہیں۔
Ayahs 39:53–59

قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 39:53 in the Quran reader

(اے نبی ! میری طرف سے) کہہ دے کہ اے میرے گناہ گار بندوں اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوجائو، کیونکہ اللہ سب گناہ معاف کردیتا ہے۔ بیشک وہ بڑا معاف کرنے والا (اور) مہربان ہے

وَ اَنِیْبُوْۤا اِلٰى رَبِّكُمْ وَ اَسْلِمُوْا لَهٗ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 39:54 in the Quran reader

اور اپنے رب کی طرف رجوع کرو اور اس کی اس سے پہلے فرمانبرداری کرو کہ تم پر عذاب آجائے۔ پھر تمہاری مدد نہ کی جائے

وَ اتَّبِعُوْۤا اَحْسَنَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً وَّ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 39:55 in the Quran reader

اور اس عمدہ بات پر چلو جو تمہارے رب کے ہاں سے تمہارے پاس بھیجی گئی ہے۔ اس دن سے پہلے کہ تم پر یکایک عذاب آجائے اور تم کو خبر بھی نہ ہو۔

اَنْ تَقُوْلَ نَفْسٌ یّٰحَسْرَتٰى عَلٰى مَا فَرَّطْتُّ فِیْ جَنْۢبِ اللّٰهِ وَ اِنْ كُنْتُ لَمِنَ السّٰخِرِیْنَۙ Open ayah 39:56 in the Quran reader

(یہ اس لیے کہ کل) کوئی نہ کہے کہ اے افسوس ! میں نے اللہ کی طرف سے بڑی کوتاہی کی اور میں تو ہنسی ہی کرتا رہ گیا۔

اَوْ تَقُوْلَ لَوْ اَنَّ اللّٰهَ هَدٰىنِیْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 39:57 in the Quran reader

یا یہ کہنے لگے کہ اگر اللہ مجھے ہدایت کرتا تو میں بھی پرہیزگار ہوجاتا

اَوْ تَقُوْلَ حِیْنَ تَرَى الْعَذَابَ لَوْ اَنَّ لِیْ كَرَّةً فَاَكُوْنَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 39:58 in the Quran reader

یا عذاب دیکھتے وقت یہ کہنے لگے کہ اے کاش ! مجھ بار دیگر دنیا میں بھیجا جائے تو پھر میں بھی نیک ہوجائوں

بَلٰى قَدْ جَآءَتْكَ اٰیٰتِیْ فَكَذَّبْتَ بِهَا وَ اسْتَكْبَرْتَ وَ كُنْتَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 39:59 in the Quran reader

(جواب ملے گا) ہاں تیرے پاس میری آیتیں آئیں پھر تو نے ان کو جھٹلایا اور تکبر کیا اور منکر ہوگیا۔

ترکیب : ان تقول۔ مفعول لہ ای کر اہتہ ان تقول۔ وقال الکوفیون، لئلا تقول۔ حسرتی الالف مبدل من یاء المتکلم و ان کنت ان مخففۃ من الثقیلۃ ای انی۔ تفسیر : وعید کے بعد اپنے بندوں سے مغفرت کا وعدہ فرماتا ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید کی عادت ہے۔ فقال قل یا عبادی الذین اسرفوا الخ کہ اے محمد ﷺ میرے ان بندوں سے کہہ دے کہ جنہوں نے اپنے لیے زیادتی کی ہے۔ یعنی گناہ کئے ہیں کہ وہ اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو ویں کیونکہ وہ سب گناہ بخش دیتا ہے، وہ بڑا معاف کرنے والا مہربان ہے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں، اس کے یہ معنی ہیں کہ گناہ گار یہ نہ سمجھیں کہ اب کسی طرح سے ہمارے گناہوں کی خدا تعالیٰ کے یہاں معافی ہی نہیں بلکہ وہ غفار ہے جو کوئی گناہ کرچکا صغیرہ یا کبیرہ کفر و شرک سب کو توبہ کے بعد وہ معاف کردیتا ہے۔ بعض کہتے ہیں عبادی سے مراد ایماندار ہیں، ان کے گناہوں کو خدا بغیر توبہ کے بھی بخش دے گا یا تو بالکل سزا نہ دے نہ دنیا میں نہ آخرت میں یا کچھ سزا دے کر پھر گناہوں سے مراد کبائر ہیں۔ بخاری نے روایت کیا ہے کہ چند مشرکوں نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ ہم نے زنا و قتل کیا اور بہت کچھ کیا، پھر تیرے دین کو اختیار کرلیتے، اگر ہمارے گناہوں کا کفارہ ہوتا تب یہ آیت والذین لایدعون الخ اور یہ آیت قل یا عبادی الخ نازل ہوئی۔ اس لیے اس کے بعد ان کو خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے اور فرمان بردار ہونے کا حکم ہوتا ہے۔ وانیبوا الی ربکم الخ کہ اپنے رب کی طرف رجوع کرو اور اس کا حکم مانو، عذاب آنے سے پہلے اور قرآن کی عمدہ باتوں اور احکام محکمہ پر چلو، اس دن سے پہلے کہ دفعتاً تم پر عذاب آجاوے اور تم کو خبر بھی نہ ہو اور پھر حسرت و ندامت کرنے لگو کہ افسوس میں نے اللہ کی طرف سے بڑی کوتاہی کی اور میں تمسخر ہی کرتا رہا۔ (الجنب و الجانب بمعنی جہۃ الشیء و اطلاقہ علی الطاقہ مجاز) یا یہ کہنے لگے کہ اگر مجھے اللہ ہدایت کرتا تو پرہیز گار ہوجاتا یا قیامت کے دن اور مرنے کے بعد عذاب دیکھ کر کہنے لگے کہ اگر مجھے بارد گرد دنیا میں بھیجا جائے تو نیکی کروں اور اس کے جواب میں اس کو یہ کہا جائے بلی قد جاء تک کہ تیرے پاس ہماری آیتیں آئیں تو نے ان کو جھٹلایا اور سرکشی کی اور انکار کیا۔ ، کفر بکا اب تیرا کوئی عذر مسموع نہیں نہ تجھ کو کوئی عذر کرنے کی جا ہے۔
Ayahs 39:60–63

وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تَرَى الَّذِیْنَ كَذَبُوْا عَلَى اللّٰهِ وُجُوْهُهُمْ مُّسْوَدَّةٌ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 39:60 in the Quran reader

اور (اے مخاطب ! ) جن لوگوں نے اللہ پر جھوٹے بہتان باندھے ہیں تو ان کو قیامت کے دن روسیاہ دیکھے گا۔ کیا جہنم میں غرور کرنے والوں کا ٹھکانا نہیں ؟

وَ یُنَجِّی اللّٰهُ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا بِمَفَازَتِهِمْ١٘ لَا یَمَسُّهُمُ السُّوْٓءُ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 39:61 in the Quran reader

اور اللہ ان کی پرہیز گاری کے سبب نجات دے گا کہ کوئی ان کو تکلیف نہ پہنچے گی اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

اَللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ١٘ وَّ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌ Open ayah 39:62 in the Quran reader

اللہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہی ہر چیز کا نگہبان ہے۔

لَهٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 39:63 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کی کنجیاں اسی کے ہاتھ میں ہیں اور جو اللہ کی آیتوں کے منکر ہوئے وہی نقصان میں پڑے ہیں۔

ترکیب : وجوھھم مبتدء مسودۃ خبرد الجملۃ فی موضع الحال ھذا قول الاخفش ھذا علی تقدیر ان تکون تری من الرؤیۃ البصیریۃ و ان کانت قلبتہ فھی مفعول ثان بمفازتہم قرأ الجمہور علی الافراد قال المبر دالمفازۃ مفعلۃ من الفوز و ھو السعادۃ مصدر میمی من الفوز و ھوا لظفر و قری بمفازاتھم جمع مفازۃ کسعادۃ و سعادات الاعتبار الانواع والمعنی تنجیھم بفوزھم ای بنجاتھم من النار و فوزھم بالجنۃ لایمسہم الجملۃ مفسرۃ بمفازتھم او منصوبۃ علی الحال من الذین اتقوا۔ لہ مقالید جملۃ۔ مستانفۃ قال الجوہری المقالید المفاتح والمقالید جمع و قیل لا واحدلہ۔ تفسیر : یہ ان کی ایک اور سزا بیان فرماتا ہے۔ ویوم القیامۃ لخ کہ اللہ پر جھوٹ بولنے والوں کا قیامت میں منہ سیاہ ہوگا۔ کذب کہتے ہیں، خلاف واقع کوئی خبر دینا بعض کہتے ہیں، اس میں یہ بھی شرط ہے کہ قصداً ہو۔ اللہ پر جھوٹ بولنے سے مراد خدا کی مرضی اور اصل واقعہ کے برخلاف اس کی نسبت کوئی خبر دینا کہ اس کے بیٹا ہے یا جورو ہے یا اس نے فلاں چیز حلال فلاں حرام کی ہے، حالانکہ ایسا نہیں کیا جیسا کہ اہل ادیان باطلہ و مشرکین کہا کرتے تھے اور کہتے ہیں، پھر فرماتا ہے۔ الیس فی جہنم الخ کہ روسیاہی پر بس نہیں بلکہ ان کا جہنم ٹھکانا ہے۔ اس کے بعد نیک لوگوں کا حال بیان فرماتا ہے۔ وینجی اللہ الخ کہ پرہیز گاروں کو اللہ ان کی فلاح کاری اور سعادت کے سبب نجات دے گا کہ لایمسہم السوء کہ نہ ان کو کوئی تکلیف پہنچے گی اور نہ ان کو کوئی رنج و غم پیش آئے گا۔ ہمیشہ شادان و فرحان رہیں گے۔ اتقوا سے مراد شرک و معاصی سے بچنے والے جو شرک و کبائر سے بچے متقی ہے اور جو صغائر سے بھی بچے وہ تو کامل متقی ہے۔ بعض کہتے ہیں، اس جگہ پر صرف اللہ پر جھوٹ بولنے سے بچنا مراد ہے۔ مشرکین بڑا اللہ پر جھوٹ یہ بولتے تھے کہ اس کے بیٹا اور بیوی ہے اور فلاں فلاں اس کے کارخانہ قدرت کے مختار ہیں، اس لیے اس خیال کے رد کرنے کے لیے فرماتا ہے۔ اللہ خالق کل شیئٍ کہ اللہ نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور بیٹے جورو مالک و مختار اس کے پیدا کئے نہیں ہوتے کہ جس کے وہ بیٹے یا جورو یا مختار ہیں، پھر اگر وہ اللہ کے پیدا کئے ہیں تو بیٹے جورو نہیں اور اگر ازخود پیدا ہوئے ہیں تو یہ بھی غلط ہے کیونکہ پھر تو وہ برابر کے خدا ہیں اور جورو اور مختار بن کر کم مرتبہ ہونے کی کیا وجہ ؟ اور نہیں تو بتلاؤ کہ وہ اور کون ہے ؟ کہ جس نے ان کو پیدا کیا ہے۔ سبحان اللہ کیا عمدہ دلیل ہے، اس آیت سے اہل سنت معتزلہ کے مقابلہ میں یہ ثابت کرتے ہیں کہ بندے کے افعال نیک و بد کا بھی اللہ خالق ہے۔ کل شیء میں وہ بھی داخل ہیں۔ ہاں بندہ کا سبب ہے اور مباشر جو فی الجملہ اختیار خداداد کی وجہ سے سزا اور جزا کا مستوجب ٹھہرتا ہے، بعض کا یہ بھی خیال تھا کہ وہ بیٹے جورو تو نہیں پر اس نے اپنے سب معاملات ان کے سپرد کردیے ہیں اور آپ کچھ نہیں کرتا، اس کی رد میں فرماتا ہے۔ وھو علی کل شی وکیل کہ سب کاروبار و ہر چیز اسی کی سپردگی میں ہے۔ بعض سمجھتے ہیں کہ ہماری روزی رزق ان کے ہاتھ ہے، اس کے رد میں فرماتا ہے۔ لہ مقالید السمٰوٰت والارض کہ اس کے ہاتھ آسمان اور زمین کی کنجیاں یا خزانے ہیں۔ مقالید کنایہ ہے، تصرفات و تدبیر سے کہ سب رزق و روزی اور سب سامان اس کے قبضہ میں ہیں۔ والذین کفروا فرماتا ہے، جو آیات الٰہیہ کے منکر ہیں اور ان باتوں پر اعتقاد نہیں رکھتے، وہی نقصان میں ہیں۔ دنیا میں حیرانی و تشویش اور مفت کی غلامی آخرت میں عذاب ہے۔
Ayahs 39:64–67

قُلْ اَفَغَیْرَ اللّٰهِ تَاْمُرُوْٓنِّیْۤ اَعْبُدُ اَیُّهَا الْجٰهِلُوْنَ Open ayah 39:64 in the Quran reader

کہو اے جاہلو ! کیا مجھے اللہ کے سوا اور کی عبادت کرنے کا حکم دیتے ہو،

وَ لَقَدْ اُوْحِیَ اِلَیْكَ وَ اِلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ لَئِنْ اَشْرَكْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 39:65 in the Quran reader

حالانکہ آپ کو بھی اور آپ سے پہلے ان (انبیاء) کو بھی وحی کے ذریعے سے مطلع کردیا گیا ہے کہ اگر آپ نے شرک کیا تو ضرور آپ کے عمل برباد ہوجائیں گے اور آپ خسارہ میں پڑجائیں گے

بَلِ اللّٰهَ فَاعْبُدْ وَ كُنْ مِّنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 39:66 in the Quran reader

بلکہ اللہ کی عبادت کیا کرو اور شکر کرنے والوں میں ہو کر رہو

وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ١ۖۗ وَ الْاَرْضُ جَمِیْعًا قَبْضَتُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ السَّمٰوٰتُ مَطْوِیّٰتٌۢ بِیَمِیْنِهٖ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 39:67 in the Quran reader

اور لوگوں نے اللہ کی قدر نہ کی، جیسا کہ اس کی قدر کرنی چاہیے تھی اور (وہ ایسا بھی ہے) کہ زمین قیامت کے روز اس کی ایک مٹھی میں ہوگی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے، وہ پاک اور بلند ہے ان کے شرک کرنے سے۔

ترکیب : الاستفہام لانکار و الفاء للعطف علی مقدر افغیر اللہ منصوب اعبدو تامرونی اعتراض و معناہ افغیر اللہ اعبد بامرکم۔ ویمکن ان یکون منصوبابتا مرونی و اعبد بدلا منہ والتقدیر قل افتامرونی بعبادۃ غیر اللہ ھذا من بدل الاشتمال و من باب امر تک الخیر ویجوزان یکون منصوبا بفعل محذوف ای افتلزمونی غیر اللہ و فسرہ مابعدہ۔ ولقد اللام دالۃ علی قسم مقدر لئن جواب القسم و ھذا اللام ایضاد الۃ علی قسم لیحبطن ولتکونن وہاتان اللامان واقعۃ فی جواب القسم الثانی والثانی جو ابہ جواب الاول و جواب الشرط محذوف لد لالہ جواب القسم علیہ والارض مبتدء و قبضتہ الخبر و ان یکون خبر اثانیا۔ تفسیر : دلائلِ توحید بیان کرنے کے بعد بھی جب وہ ہٹ دھرم اپنی کج بحثی سے باز نہ آئے اور بت پرستی کو ترجیح دینے لگے تو اب اور طرح سے آنحضرت ﷺ کو کلام کرنے کا حکم دیا۔ فقال قل افغیر اللہ تامرونی الخ کہ اے نادانو کیا تم مجھے اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کا حکم کرتے ہو۔ یعنی ایسا ہرگز نہ ہوگا اور پھر اس حکم کو مؤکد کرتا ہے۔ ولقد اوحی الیک والی الذین من قبلک الخ کہ اے محمد ﷺ تیری طرف اور تجھ سے پہلے انبیاء کی طرف ہم یہ حکم بھیج چکے ہیں کہ اگر تو اے محمد ﷺ بالفرض یا تجھ سے پہلے انبیاء فرضاً شرک کریں تو ان کے نیک کام اکارت ہوجائیں اور بڑی بربادی میں پڑیں۔ یہ کلام جلالی اور شاہنشاہی رعب کے قاعدہ پر ہے۔ آنحضرت ﷺ اور اگلے انبیاء سے شرک سرزد ہونا محال تھا، کیونکہ انبیاء معصوم ہیں، مگر مخاطب کے سنانے کو ایسا پرزور حکم سنادیا کہ یہ مذموم کام کسی کو بھی معاف نہیں۔ بل اللہ فاعبدوکن من الشاکرین بلکہ خاص اللہ ہی کی عبادت کرو اور تمام نعماء اسی کی طرف سے سمجھ کر شکر کیا کرو۔ وماقدرواللہ حق قدرہاب پھر بندوں کی ناسپاسی کا شکوہ کرتا ہے کہ افسوس انہوں نے جیسا کہ اللہ کی قدرومنزلت ‘ عزت و عظمت کرنی چاہیے تھی ویسی نہ کی کہ اس کے سوا اس کی مخلوق کو بھی اس کے ساتھ ملانے اور نافع اور ضار سمجھنے لگے اور نالائق اوصاف سے اس کو متصف بتانے لگے۔ حقیقت میں اللہ کی قدردانی جیسا کہ چاہیے تھی، ہم بندوں سے نہ ہوسکی۔ سینکڑوں راحتوں اور نعمتوں پر ذرا بھی کوئی تکلیف پیش آتی ہے تو کلمات شکوے کے منہ پر آجاتے ہیں اور ہم اپنی اوقات عزیز کو اس کی یاد سے غافل ہو کر دنیائے فانی اور خواہش نفسانی کے حاصل کرنے میں جوانی جو فانی ہے، کس طرح سے صرف کررہے ہیں۔ یہ پوری قدردانی صاحبان خدا کا کام ہے۔ اس کے بعد اپنی عظمت و جلال کبریائی ظاہر فرماتا ہے۔ والارض جمیعًا قبضتہ الخ کہ قیامت کے روز تمام زمین اس کے قبضہ قدرت میں ہوگی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔ معتزلہ آیت کے یہ معنی لیتے ہیں کہ قبضہ سے مراد تصرف ہے نہ مٹھی میں ہونا اور دائیں ہاتھ میں آسمانوں کے لپٹنے سے مراد اس کی قدرت میں ہونا۔ اہل سنت کا یہ مذہب ہے کہ ید اور یمین کے حقیقی معنی یہاں مراد نہیں ہوسکتے، کس لیے کہ وہ اعضائِ جسمانی سے پاک ہے، پس اس کے الفاظ پر ایمان ہے اور ان کی حقیقت وہی جانتا ہے جو یمین اور قبضہ اس کی ذات کے لائق ہے نہ یہ کہ جو جسمانیت کے لائق ہو اور تائید کرتی ہے، اس کی وہ حدیث کہ جس کو بخاری اور مسلم نے نقل کیا ہے کہ قیامت کے روز اللہ زمین کو ایک مٹھی میں لے لے گا اور آسمان کو دائیں ہاتھ میں اور کہے گا کہاں گئے جبار و متکبر کہاں گئے زمین کے بادشاہ، میں بادشاہ ہوں، مطلب یہ کہ اس روز قدرت کا اظہار کرے گا۔
Ayahs 39:68–70

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ١ؕ ثُمَّ نُفِخَ فِیْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ Open ayah 39:68 in the Quran reader

اور صور پھونکا جاوے گا، پھر آسمانوں اور زمین کے رہنے والے بےہوش ہوجائیں گے، مگر جس کو اللہ چاہے گا پھر دوبارہ اس میں پھونکا جائے گا، پھر تو سب کھڑے ہوئے دیکھتے راہ تکیں گے

وَ اَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ وَ جِایْٓءَ بِالنَّبِیّٖنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 39:69 in the Quran reader

اور زمین اپنے رب کے نور سے روشن ہوجائے گی اور نامہ اعمال (لاکر) رکھے جائیں گے اور نبیوں اور گواہوں کو بلایا جاوے گا اور ان کا انصاف سے فیصلہ ہوگا اور (کچھ بھی) ان پر ظلم نہ کیا جائے گا

وَ وُفِّیَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا یَفْعَلُوْنَ۠ Open ayah 39:70 in the Quran reader

اور ہر شخص کو جو کچھ اس نے کیا تھا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور وہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ کرتے تھے۔

تفسیر : آسمانوں کے لپیٹنے یعنی فنا کرنے کا ذکر آگیا تھا، اس طرح پر کہ اللہ کی قدرت کی اور اللہ ایسا جلیل و جبار ہے کہ آسمانوں و زمین دنیا کو فنا کردے گا۔ قیامت کے روز اس مناسبت سے اور حشر کی مجملہ کیفیت بیان فرماتا ہے۔ فقال و نفح فی الصور کہ صور پھونکا جائے گا۔ صور تر ہی یا بگل کی قطع کی ایک چیز ہوگی کہ جس کو زور سے اسرافیل بجاویں گے، اس میں پھونک مار کر بعض کہتے ہیں، ان کے ساتھ جبرئیل بھی ہوں گے، جیسا کہ حدیث ابن ماجہ اور ابو دائود سے پایا جاتا ہے۔ صور کئی بار پھونکے گا یہ اول بار پھونکنے کا ذکر ہے فصعق من فی السمٰوٰت والارض الامن شاء اللہ اس کے پھونکنے سے آواز کی کڑک اور تیزی ہوگی جس سے آسمانوں کے فرشتے اور زمین کے جاندار بےہوش ہوجاویں گے، مگر وہ نہ ہوں گے جن کو اللہ چاہے گا۔ حسن کہتے ہیں جبرئیل و میکائیل اور رضوان اور حوران جنت اور حاملان عرش بےہوش نہ ہوں گے، بعض کہتے ہیں حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) بھی بےہوش نہ ہوں گے۔ جیسا کہ بخاری و مسلم کی حدیث سے پایا جاتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے سب سے اول میں قیامت کو اٹھوں گا، پھر دیکھوں گا کہ موسیٰ عرش کا پایہ پکڑے ہوئے کھڑے ہیں۔ مجھے علم نہ ہوگا کہ وہ مجھ سے پہلے اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ بعض کہتے ہیں شہداء بھی بےہوش نہ ہوں گے، جیسا کہ بیہقی اور سعید بن منصور و ابو یعلی و دار قطنی و حاکم نے روایت کیا ہے۔ بعض نے اس پر اشکال وارد کیا ہے کہ یہ استثناء نفخہ صعق کے بعد ہوگا اور یہ پہلا نفخہ ہے کہ جس میں سب مرجاویں گے، اس کے جواب میں بعض مفسرین نے بڑی قیل وقال کی ہے مگر مطلب صاف ہے کس لیے کہ صعقہ اول میں خدا تعالیٰ بعضوں کا بےہوشی سے محفوظ رہنا بیان فرماتا ہے۔ پس ملائکہ اور روحانیات پر خصوصاً ارواح طیبات پر جو دوسرے عالم میں ہوں گی فنائِ دنیا کے صور سے کوئی بےہوشی نہ ہوگی۔ ان میں حضرت موسیٰ اور ابراہیم اور عیسیٰ ( علیہ السلام) بھی شریک ہیں۔ یہ بےہوشی اہل دنیا پر طاری ہوگی اور آسمانوں کے ملائکہ پر بھی کس لیے کہ آسمان بھی تو فنا ہوں گے، مگر وہاں کے بعض ملائکہ جو تجرد اور نورانیت میں عالم قدس میں ملحق ہیں، محفوظ رہیں گے۔ ثم نفخ فیہ اخرٰی فاذاھم قیام ینظرون پھر دوسری بار صور پھونکا جائے گا تو تمام لوگ قبروں سے نکل کر کھڑے اور انتظار کرتے ہوں گے کہ فیصلہ کب ہوگا ؟ یہ دوسرا نفخہ ہے۔ قرآن شریف سے دو ہی بار صور پھونکنا ثابت ہے اور ان دونوں میں چالیس روز یا مہینوں یا برسوں کا فاصلہ ہوگا، جیسا کہ بخاری و مسلم کی اس حدیث سے پایا جاتا ہے۔ جو ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے۔ جمہور کہتے ہیں کہ تین بار صور پھونکا جائے گا۔ اول گھبراہٹ اور بےہوشی کا کماقال و نفخ فی الصور ففزع دوسرا موت کا تیسرا بار دیگر زندہ ہونے کا۔ و اشرقت الارض بنور ربہا اور زمین نور رب سے منور ہوجائے گی۔ اور نئی زمین اور نیا آسمان ہوگا۔ کما قال تعالیٰ یوم تبدل الارض غیر الارض الخ تخت رب العالمین رکھا جائے گا، چونکہ وہ نور ہے اس کا وہاں جلوہ اور تجلی ہوگی نہ یہ کہ خدا انسانوں کی طرح مجسم ہو کر تخت پر بیٹھے گا۔ ووضع الکتاب اور نامہ اعمال رکھے جائیں گے اور انبیاء اور گواہ لائے جاویں گے اور کسی پر کچھ بھی ظلم نہ ہوگا اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا بدلہ دیا جائے گا اور اللہ کو لوگوں کے اعمال خوب معلوم ہیں، یعنی کامل انصاف ہوگا۔
Ayahs 39:71–75

وَ سِیْقَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَتْلُوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِ رَبِّكُمْ وَ یُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ لٰكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 39:71 in the Quran reader

اور منکر گروہ کے گروہ جہنم کی طرف ہجائیں گے۔ یہاں تک کہ جب وہاں آویں گے تو اس کے دروازے کھول دیے جاویں گے اور اس کے داروغہ ان سے کہیں گے کہ کیا تمہارے پاس تمہاری قوم کے رسول نہ آئے تھے جو تم کو تمہارے رب کی آیتیں سنایا کرتے اور آج کے دن کے پیش آنے سے تمہیں خوف دلایا کرتے تھے، وہ کہیں گے ہاں لیکن عذاب کا حکم (علم ازلی میں) منکروں پر ہوچکا تھا،

قِیْلَ ادْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 39:72 in the Quran reader

کہا جائے گا جہنم کے دروازہ میں گھسو جس میں تم کو سدا رہنا ہوگا، پھر کیا بری جگہ ہے غرور کرنے والوں کی

وَ سِیْقَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ اِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا وَ فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْهَا خٰلِدِیْنَ Open ayah 39:73 in the Quran reader

اور جو اپنے رب سے ڈرا کرتے تھے، ان کے غول کے غول جنت کی طرف روانہ کئے جاویں گے۔ یہاں تک کہ وہ جب وہاں پہنچیں گے اور اس کے دروازے کھول دیے جائیں گے اور وہاں کے پاسبان ان سے کہیں گے تم پر سلام تم اچھے لوگ ہو، چلو اس میں ہمیشہ کے لیے داخل ہوجائو

وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ صَدَقَنَا وَعْدَهٗ وَ اَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الْجَنَّةِ حَیْثُ نَشَآءُ١ۚ فَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَ Open ayah 39:74 in the Quran reader

اور وہ کہیں گے شکر ہے اللہ کا کہ جس نے ہم سے اپنا وعدہ سچا کردیا اور ہم کو اس زمین کا مالک بنادیا۔ اس بہشت میں جہاں چاہیں رہا کریں، پھر کیا خوب بدلہ ہے عمل کرنے والوں کا

وَ تَرَى الْمَلٰٓئِكَةَ حَآفِّیْنَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ١ۚ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ قِیْلَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 39:75 in the Quran reader

اور (اے رسول ! ) آپ فرشتوں کو عرش کے اردگرد حلقہ باندھے ہوئے دیکھیں، تسبیح کرتے ہوں گے اپنے رب کی تعریف کے ساتھ اور ان میں انصاف سے فیصلہ ہوگا اور کہا جائے گا الحمدللہ رب العالمین۔

ترکیب : زمرا جمع زمرۃ وھی الجماعۃ، حال فی الموضعین و فتحت الوا و زائدۃ عند قوم لان الکلام جواب حتی اذا ولیست زائدہ عند قوم فالجواب محذوف ای دخلو ھا نتبوا حال من الفاعل او المفعول وحیث مفعول بہ حافین حال من الملائکہ یسبحون حال منھا۔ تفسیر : فیصلہ ہونے کے بعد کا نتیجہ بیان فرماتا ہے کہ کفار کی جماعتیں جہنم کی طرف ہان کی جاویں گی، وہاں فرشتے ان سے ملامت کے طور پر پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس دنیا میں رسول نہ آئے تھے جو آیات الٰہی سنایا کرتے اور اس روز کے پیش آنے سے ڈرایا کرتے تھے ؟ وہ کہیں گے ہاں آئے تھے مگر تقدیر میں یہی تھا، فرشتے کہیں گے تو جہنم میں گرو کہ ہمیشہ وہاں رہا کرو گے جو بری جگہ ہے اور پرہیز گاروں کو جنت کی طرف روانہ کریں گے، جب وہاں آویں گے تو اس کے دروازے کھلے پاویں گے اور فرشتے ان سے سلام کہیں گے اور ان کو ہمیشہ رہنے کا مژدہ دیں گے اور جنتی وہاں خدائے تعالیٰ کی حمد کریں گے کہ اس نے ہم سے وعدہ سچ کر دکھایا اور جنت کی زمین کا مالک کیا جہاں چاہیں رہیں۔ اللہ فرماتا ہے پھر کیا عمدہ اجر ہے، عمل کرنے والوں کا یعنی جس نے دنیا میں اچھے عمل کئے، ان کا اجر وہاں بہت عمدہ ہے۔ اس کے بعد پھر عرصات کا بیان فرماتا ہے۔ وتری الملائکۃ کہ اے محمد ﷺ ! تو دیکھے گا کہ تخت رب العالمین کے اردگرد فرشتے حلقہ باندھے ہوئے، اس کی حمد و تقدیس و تسبیح کرتے ہوں گے اور لوگوں کا انصاف کے ساتھ وہ فیصلہ کردے گا اور فیصلہ کے بعد ایماندار اور ملائکہ مل کر کہیں گے۔ الحمدللہ رب العالمین اور دربار برخاست ہوگا۔ یہ ایسا ہے کہ جیسا کسی عمدہ کام کرنے والے کو تمام کرنے پر کلمات تحسین سے یاد کیا جاتا اور اس کا آوازہ بلند کیا جاتا ہے۔ بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے، پہلی جماعت جو جنت میں جاوے گی، ان کے چودھویں رات کے چاند جیسے منہ روشن ہوں گے اور جو ان کے بعد والے ہیں، وہ روشن ستارے کے مانند ہوں گے۔ اس مختصر سے بیان میں حشر سے پہلی کیفیت کہ صور پھنکے گا، لوگ بےہوش ہو کر گر پڑیں گے، پھر مرجائیں گے، پھر دوبارہ صور پھنکے گا تو میدان عدالت میں حاضر ہوں گے اور وہاں تخت رب العالمین اس شان سے رکھا جائے گا اور نیکوں کا یہ اور بدکاروں کا یہ انجام ہوگا۔ حقیقت میں اعجاز اسی کا نام ہے۔ والحمد للہ۔