34. Surah Saba

سبإSheba · 54 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 34:37–45

وَ مَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ بِالَّتِیْ تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنَا زُلْفٰۤى اِلَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا١٘ فَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ جَزَآءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوْا وَ هُمْ فِی الْغُرُفٰتِ اٰمِنُوْنَ Open ayah 34:37 in the Quran reader

اور تمہارے مال اور اولاد ایسے نہیں کہ جو ہمارے نزدیک ہمارے لیے تقرب کا درجہ بڑھادیں، مگر وہ جو ایمان لایا اور اس نے نیک کام بھی کئے۔ سو انہی کو ان کے عمل کا دو چند بدلہ ہے اور وہی بہشت کے دریچوں میں اطمینان سے بیٹھے ہوں گے

وَ الَّذِیْنَ یَسْعَوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ Open ayah 34:38 in the Quran reader

اور وہ جو ہماری آیتوں کے رد کرنے میں کوشش کرتے پھرتے ہیں وہ عذاب میں پکڑ کر حاضر کئے جاویں گے،

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ لَهٗ١ؕ وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَهُوَ یُخْلِفُهٗ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 34:39 in the Quran reader

کہو میرا رب اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے رزق فراخ کرتا ہے (اور جس کے لیے چاہتا ہے) اندازے سے دیتا ہے اور جو کچھ تم خرچ کرتے ہو (زیادہ مقدار میں) اس کے بدلہ میں وہ اور دیتا ہے اور وہ سب سے بہتر روزی دینے والا ہے

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ یَقُوْلُ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اَهٰۤؤُلَآءِ اِیَّاكُمْ كَانُوْا یَعْبُدُوْنَ Open ayah 34:40 in the Quran reader

اور جس دن کہ وہ سب کو جمع کرے گا پھر فرشتوں سے پوچھے گا کہ کیا یہ لوگ تمہی کو پوجا کرتے تھے۔

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ اَنْتَ وَلِیُّنَا مِنْ دُوْنِهِمْ١ۚ بَلْ كَانُوْا یَعْبُدُوْنَ الْجِنَّ١ۚ اَكْثَرُهُمْ بِهِمْ مُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 34:41 in the Quran reader

وہ کہیں گے تو پاک ذات ہے تو ہی ہمارا کارساز ہے نہ وہ لوگ، بلکہ وہ جنوں کو پوجا کرتے تھے، ان میں سے اکثر انہی پر ایمان لائے ہیں۔

فَالْیَوْمَ لَا یَمْلِكُ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ نَّفْعًا وَّ لَا ضَرًّا١ؕ وَ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّتِیْ كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 34:42 in the Quran reader

پھر آج تم میں سے کوئی کسی کے نفع و نقصان کا مالک نہیں اور ہم ظالموں سے کہیں گے تم اس آگ کا عذاب چکھو کہ جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّا رَجُلٌ یُّرِیْدُ اَنْ یَّصُدَّكُمْ عَمَّا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُكُمْ١ۚ وَ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكٌ مُّفْتَرًى١ؕ وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 34:43 in the Quran reader

اور جب ان کو ہماری کھلی ہوئی آیتیں سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں یہ ہے کیا، مگر ایک ایسا شخص کہ جو تم کو اس کی عبادت سے روکنا چاہتا ہے کہ جس کی تمہارے باپ دادا پوجا کرتے تھے اور یہ بھی کیا ہے یہ قرآن مگر جھوٹ بنایا ہوا اور کافروں نے جب کہ حق ان کے پاس آگیا تو کہہ دیا یہ تو کچھ بھی نہیں مگر صریح جادو۔

وَ مَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ كُتُبٍ یَّدْرُسُوْنَهَا وَ مَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمْ قَبْلَكَ مِنْ نَّذِیْرٍؕ Open ayah 34:44 in the Quran reader

اور ہم نے ان (مشرکین عرب) کو کتابیں نہیں دیں کہ جن کو وہ پڑھتے اور نہ آپ سے پہلے ان کے پاس کوئی ڈر سنانے والا بھیجا تھا

وَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۙ وَ مَا بَلَغُوْا مِعْشَارَ مَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ فَكَذَّبُوْا رُسُلِیْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ۠ Open ayah 34:45 in the Quran reader

اور ان سے پہلے لوگ جھٹلاچکے ہیں، حالانکہ ان کو اس کا دسواں حصہ بھی نہیں دیا گیا جو ہم نے ان کو دیا تھا، پھر انہوں نے ہمارے رسولوں کو جھٹلایا پھر کیسا عذاب ہوا۔

اور مال و اولاد کہ جس پر تم کو تفاخر ہے، اللہ کے نزدیک اس سے تمہارا کوئی مرتبہ بلند نہیں ہوجاتا ہے۔ ایماندار اس دنیا میں مسافر ہے، اس کا گھر اوپر ہے، اس کا عیش و آرام اور اس کی زینت و تجمل کی ہمیشہ رہنے والی چیزیں وہیں ہیں، اس کی طرف اس جملہ میں اشارہ فرماتا ہے۔ الامن آمن وعمل صالحا الخ اور وہ اس غرور میں آکر یسعون فی آیتنا معاجزین ہماری آیات کے ابطال میں کوشش کرتے ہیں، وہ وہاں عذاب دائمی میں گرفتار رہیں گے۔ یہ مال و اولاد کچھ کام نہ آوے گا اور یہ بھی خیال نہ کرو کہ کفر کرنے سے دنیا ملتی ہے اور نیکوں کو یہاں کچھ ملتا ہی نہیں بلکہ کہہ دیجئے ان ربی یبسط الرزق لمن یشاء الخ میرا رب جس کو چاہتا ہے، دنیا میں روزی رزق زیادہ دیتا ہے، جس کو چاہے کم۔ اس میں کافروں کی کوئی خصوصیت نہیں، بہت سے ایمانداروں کو دنیا میں وہ کچھ دیا ہے کہ جس کا حساب نہیں دائود و سلیمان ( علیہ السلام) کو دیکھو اور برخلاف تمہارے ایماندار جو اللہ کی راہ میں صرف کرتے ہیں۔ وہ اس کے بدلہ انہیں دنیا میں بھی اور زیادہ دیتا ہے۔ صحیح بخاری میں نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ اے ابن آدم ! خرچ کر کہ تجھ پر خرچ کیا جاوے گا، یعنی دے تجھے اور ملے گا اور صحیح بخاری میں یہ بھی آیا ہے کہ نبی ﷺ فرماتے ہیں۔ ہر صبح کو دو فرشتے نازل ہوتے ہیں، ایک کہتا ہے۔ یا اللہ دینے والے کو دے، دوسرا کہتا ہے۔ یا اللہ ہاتھ روکنے والے کو برباد کر۔ اس بات کا بارہا تجربہ راقم الحروف نے بھی کیا ہے کہ جب تنگدستی آئی اور اللہ کی راہ میں کچھ دیا گیا۔ خدا تعالیٰ نے اس کو دفع کردیا۔ یہ میرا عمل مجرب ہے، جو چاہے تجربہ کر دیکھے۔ ویوم یحشرھم یہاں سے لے کر تکذبون تک حشر کی کیفیت بیان فرماتا ہے کہ جو لوگ دنیا میں ملائکہ کو شفاعت کی غرض سے پوجتے ہیں، وہ وہاں صاف انکار کرجائیں گے اور کہیں گے ہم کو نہیں بلکہ جنون یا ارواح خبیثہ کو پوجتے تھے اور انہی پر اکثر کا ایمان تھا۔ واذا تتلی علیہم آیتنا بینت یہاں سے مشرکین عرب کی ہٹ دھرمی اور حماقت کا اظہار کرتا ہے کہ جب ان کو آیات بینات سنائی جاتی ہیں کہ جن میں ذرا سے غور کرنے سے یہ معلوم ہوسکتا ہے کہ یہ برحق باتیں ہیں تو اس کے جواب میں نہ کوئی دلیل عقلی پیش کرتے ہیں بلکہ جاہلانہ طور سے یہ کہتے ہیں کہ یہ رسول ہم کو ہمارے باپ دادا کے طریقہ سے روکنا چاہتا ہے اور یہ جھوٹا ہے اور یہ قرآن اور اس نبی کے معجزات صریح سحر ہیں اور نہ کوئی دلیل نقلی ان کے پاس ہے۔ کس لیے کہ نہ ان کے پاس کوئی آسمانی کتاب ہے اور نہ کوئی رسول آیا ہے اور نقلی دلیل کتاب اللہ یارسول کے قول پر مبنی ہوا کرتی ہے۔ ایسے معاملات میں وکذب الذین کہ یہ ان کا انکار کوئی نئی بات نہیں، ان سے پہلے بھی جھٹلائے جاچکے ہیں، حالانکہ ان کو اس قدر ثروت و عمر ملی تھی کہ اس کا دسواں حصہ بھی ان کو نہیں ملا، پھر ان پر رسولوں کے جھٹلانے سے کیا بلا آئی، پھر یہ تو کیا چیز ہیں ؟ یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ ان مشرکین عرب کو قرآن و معجزات ایسے دلائل دیے گئے ہیں جو اگلوں کو اس کا دسواں حصہ بھی نہیں ملا تھا، پھر انکار سے ان پر بلا آئی ان پر تو بدرجہ اولیٰ آئے گی۔
Ayahs 34:46–54

قُلْ اِنَّمَاۤ اَعِظُكُمْ بِوَاحِدَةٍ١ۚ اَنْ تَقُوْمُوْا لِلّٰهِ مَثْنٰى وَ فُرَادٰى ثُمَّ تَتَفَكَّرُوْا١۫ مَا بِصَاحِبِكُمْ مِّنْ جِنَّةٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ لَّكُمْ بَیْنَ یَدَیْ عَذَابٍ شَدِیْدٍ Open ayah 34:46 in the Quran reader

کہو میں تو تم کو صرف ایک ہی بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ تم خدا کے لیے دو دو ایک ایک کھڑے ہو کر فکر تو کرو کہ تمہارے اس دوست کو کچھ جنون تو نہیں۔ یہ تو صرف تم کو ایک بڑی آفت کے آنے سے پہلے متنبہ کرنے والا ہے،

قُلْ مَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍ فَهُوَ لَكُمْ١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 34:47 in the Quran reader

کہو اس پر جو کچھ میں نے تم سے اجرت مانگ لی ہو تو وہ تمہارے ہی پاس رہے۔ میری مزدوری تو اللہ ہی پر ہے اور وہ ہر چیز پر گواہ ہے۔

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَقْذِفُ بِالْحَقِّ١ۚ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ Open ayah 34:48 in the Quran reader

کہو میرا رب تو سچ کو ظاہر کررہا ہے (اور) وہ غیب کی باتیں خوب جانتا ہے۔

قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ مَا یُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَ مَا یُعِیْدُ Open ayah 34:49 in the Quran reader

کہو حق ظاہر ہوگیا اور جھوٹے دین سے نہ تو اول ہی سے کچھ کشود کار ہوا ہے نہ آیندہ ہوگا۔

قُلْ اِنْ ضَلَلْتُ فَاِنَّمَاۤ اَضِلُّ عَلٰى نَفْسِیْ١ۚ وَ اِنِ اهْتَدَیْتُ فَبِمَا یُوْحِیْۤ اِلَیَّ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ سَمِیْعٌ قَرِیْبٌ Open ayah 34:50 in the Quran reader

کہو اگر میں گمراہ ہوگیا تو محض اپنے نقصان کے لیے اور اگر میں راہ راست پر ہوں تو اس سبب سے کہ میرا رب میری طرف وحی بھیجتا ہے، بیشک وہ سننے والا نزدیک ہے

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ فَزِعُوْا فَلَا فَوْتَ وَ اُخِذُوْا مِنْ مَّكَانٍ قَرِیْبٍۙ Open ayah 34:51 in the Quran reader

اور کاش آپ اس وقت دیکھیں کہ جب وہ گھبرائے گھبرائے پھریں گے اور بھاگ کر نہ جاسکیں گے اور پاس ہی سے پکڑ لیے آئیں گے

وَّ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖ١ۚ وَ اَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍۚۖ Open ayah 34:52 in the Quran reader

اور کہیں گے ہم اس پر ایمان لائے اور اس دور دراز سے ایمان کو کہاں حاصل کریں گے،

وَّ قَدْ كَفَرُوْا بِهٖ مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ یَقْذِفُوْنَ بِالْغَیْبِ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 34:53 in the Quran reader

حالانکہ پہلے سے تو اس کا انکار کرتے رہے اور دور سے غیب کے گولے پھینکتے رہے

وَ حِیْلَ بَیْنَهُمْ وَ بَیْنَ مَا یَشْتَهُوْنَ كَمَا فُعِلَ بِاَشْیَاعِهِمْ مِّنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا فِیْ شَكٍّ مُّرِیْبٍ۠ Open ayah 34:54 in the Quran reader

اور ان میں اور ان کی خواہش میں آڑ کردی جاوے گی جیسا کہ ان کے ہم جنسوں کے ساتھ پہلے کیا گیا، کیونکہ وہ بڑے قوی شک میں پڑے ہوئے تھے۔

دلائل قائم کرکے ہٹ دھرم مخاطبوں کو اب ایک اور طریقہ سے ہدایت کی طرف بلاتا ہے۔ فقال قل انما اعظکم بواحدۃ کہ میں تم کو ایک ہی بات کہتا ہوں، نصیحت اور خیر خواہی کے طور پر اس کے بھی معنی نہیں کہ آپ ان کو صرف ایک ہی حکم پر مامور کرتے تھے۔ توحید وغیرہ کہ پھر باقی شاخیں قرار دی جاویں، جیسا کہ تفسیر کبیر میں ہے بلکہ یہ ایک محاورہ کی بات ہے۔ جیسا کہ کہا کرتے ہیں۔ لو اب تم ایک کام کرو۔ ان تقوموا للّٰہ کہ ایک ایک تنہا ہو کر اور باہم مل کر خدا کے لیے یہ تو سوچو کہ تمہارے صاحب کو یعنی مجھے کچھ جنون تو نہیں ہے۔ یہ رسالت کے اثبات میں کلام ہے کہ خوب غور کرو کہ میں دیوانہ نہیں ہوں۔ جب دیوانہ نہیں تو کون عاقل ایسی جھوٹی بات کا مدعی بن سکتا ہے کہ جس کے سبب دنیا کا کوئی فائدہ نہ ہو بلکہ سینکڑوں مصائب کا سامنا ہو، پس یہی ہے کہ میں نذیر لکم بین یدی عذاب شدید تم کو ایک سخت عذاب آنے والے سے خبردار کرنے والا ہوں۔ انسان کی دو حالت ہیں، ایک تنہا فکر کرنا دوسرے چند اشخاص کا باہم مجتمع ہو کر فکر کرنا اس لیے ان دونوں باتوں کا ذکر کیا۔ ان تقوموا سے مراد یہ نہیں کہ کھڑے ہو کر فکر کرو بلکہ یہ کہ آمادہ ہوجاؤ یہ بھی ایک محاورہ کی بات ہے، قل ماسالتکم من اجر جب تم کو غور کرنے سے یہ معلوم ہوگیا کہ میں دیوانہ نہیں اور یہ بھی ہے کہ میں تم سے کچھ مانگتا نہیں کہ میرا وعظ و پند کسی طمع دنیاوی پر محمول کیا جاوے بلکہ میری اجرت اللہ کے ذمہ ہے جو ہر بات کو دیکھ رہا ہے، پھر ایسے شخص کو جھوٹا کہنا اور اس سے نفرت کرنا کیسی بےعقلی کی بات ہے۔ حقیقت میں جب کوئی واعظ محض دردمندی سے وعظ کرتا ہے اور دنیاوی طمع بھی نہیں کرتا، اس کا وعظ ضرور اثر کرتا ہے۔ قل ان ربی یقذف بالحق اب اگر کوئی کہے کہ محمد ﷺ تجھے اس خیر خواہی اور درد مندی سے کیا غرض ؟ اس کا جواب دیتا ہے کہ میں مامورِ الٰہی ہوں۔ عالم بالا اور حق سبحانہ کا ہی یہ منشاء ہے کہ حق بات کو ظاہر کرے۔ اندھوں کی آنکھیں کھولے بیماروں کو شفادے، وہ علام الغیوب ہے جس قدر پیش آنے والی باتوں کی خبردی ہے، بجا ہے۔ انبیائِ سابقین بھی خبریں دیتے چلے آئے ہیں کہ اخیر زمانہ تاریک ہوجائے گا۔ اللہ ایک نبی کو برپا کرے گا، وہ عالم کو منور کردے گا، اب وہی زمانہ آگیا ہے، ان سے کہہ دے جاء الحق حق ظاہر ہوگیا۔ ومایبدیٔ الباطل وما یعید بہت دنوں دنیا میں بت پرستی ہوچکی۔ اب نہ سرے سے شروع ہوگی نہ وہ زمانہ لوٹ کر آوے گا، پھر ان کو تسلی دیتا ہے کہ ان ضللت فانما اضل علی نفسی اگر میں تمہارے خیال کے بموجب گمراہی پر ہوں تو تمہارا کیا حرج اس کا وبال مجھ پر ہے، وان اھتدیت فبما یوحی الی ربی اور اگر میں راہ راست پر ہوں (اور ضرور ہوں) تو یہ وحی الٰہی کا سبب ہے وہ مجھ سے قریب ہے، میری بات سنتا ہے۔ مجھے مطلع فرماتا ہے۔ مسئلہ رسالت کے بعد پھر حشر کا مسئلہ بیان کرتا ہے کہ بوقت مرگ یا قیامت میں ان کا کیا حال ہوگا، جبکہ وہ گھبرا ویں گے، فلافوت پھر کہاں جاسکتے ہیں۔ واخذوا من مکان قریب اور دور نہیں جاسکیں گے، وہیں سے پکڑے جاویں گے اور کہیں گے ہم ایمان لائے و انی لھم التناوش اور اس بات کو کہاں حاصل کرسکیں گے۔ التناوش من النوش الذی ھو التناول من مکان بعید ایمان لانے کی جگہ جو دنیا تھی بہت دور رہ گئی، اس دور دراز جگہ میں یہ مراد کہاں ملتی ہے۔ دنیا میں کفر اختیار کرچکے اور یہ عالم وہاں سے بہت دور تھا۔ یہاں کی بابت غیب کی باتیں بےتک کیا کرتے تھے۔ اب یہ مراد نہیں حاصل ہوسکتی، جیسا کہ ان سے پہلوں کو حاصل نہ ہوگی اور نہ ہوئی دنیا میں وہ شک میں تھے۔