30. Surah Ar-Room

الرومThe Romans · 60 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 30:41–45

ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 30:41 in the Quran reader

خشکی اور تری میں انسانوں کے کرتوتوں ہی سے خرابیاں نمودار ہوگئی ہیں تاکہ خدا لوگوں کو ان کے عمل بد کا کچھ مزا چکھائے تاکہ وہ باز آجائیں،

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلُ١ؕ كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّشْرِكِیْنَ Open ayah 30:42 in the Quran reader

کہہ دو ملک میں پھر کر تو دیکھو کہ تم سے پہلوں کا کیا انجام ہوا۔ ان میں سے پیشتر تو مشرک ہی تھے،

فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ الْقَیِّمِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ یَوْمَئِذٍ یَّصَّدَّعُوْنَ Open ayah 30:43 in the Quran reader

پھر آپ اس دن کے آنے سے پہلے کہ جو ٹالے نہ ٹلے گا، اپنا رخ سیدھے دین کی طرف قائم رکھیے، اس دن لوگ جدا جدا ہوجائیں گے،

مَنْ كَفَرَ فَعَلَیْهِ كُفْرُهٗ١ۚ وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِاَنْفُسِهِمْ یَمْهَدُوْنَۙ Open ayah 30:44 in the Quran reader

جس نے کفر کیا سو اس کے کفر کا وبال اسی پر ہے اور جو اچھے کام کرتے ہیں سو وہ اپنے لیے سامان کررہے ہیں

لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 30:45 in the Quran reader

تاکہ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام بھی کئے اللہ ان کو اپنے فضل سے بدلہ عطا کرے، البتہ اللہ ناشکروں (متکبروں) کو پسند نہیں کرتا۔

ترکیب : لیذیقیہم متعلق یظہر ای لیصیرحا لھم الیٰ ذلک وقیل التقدیر عاقبھم لیذلقیھم، کان اکثر ھم استینات من اللہ متعلق بیاتی۔ ویجوزان یتعلق بمرد لانہ مصدر علیٰ معنی لایردہ لتعلق ارادتہ القدیمۃ بمجیئہ۔ یومئذ، بدل من یوم والناصب یصدعون ای یتفرقون فریق فی الجنۃ و فریق فی النار کما یقول من کفر فعلیہ کفرہ ای علیہ وبال کفر یمہدون یستو وں منزلا فی الجنۃ لیجزی علۃ لیمہدون او لیصدعون۔ والاقتصار علی جزاء المومنین۔ للاکتفاء علی فحوی قولہ انہ لا یحب الکفرین۔ تفسیر : ظہر الفساد فی البر والبحر ردّ شرک کے قوی دلائل بیان فرما کر اب اس جگہ یہ بات ظاہر فرماتا ہے کہ فطرت اللہ کے ترک کرنے سے اور کفر و شرک اور ہر ایک قسم کی بدکاری سے جس کا مرتکب ہوتا ہے، صرف یہی نتیجہ نہیں کہ دار آخرت کی سعادت سے محرومی نصیب ہوتی ہے بلکہ اور طرح طرح کی عقوبات میں مبتلا ہوتا ہے بلکہ دنیا میں بھی فساد و فتن اور ہر طرح کا رنج و محن دیکھنا پڑتا ہے اور خیروبرکات اٹھ جاتے ہیں۔ فی البر والبحر کے معانی میں علماء کا اختلاف ہے لفظوں کے ظاہری معنی تو یہی ہیں کہ جنگل اور دریا میں انسان کی بدکاری سے خرابی ظاہر ہوگئی۔ وہ کیا کہ انسان پر ان جگہوں میں انواع و اقسام کے مصائب پڑنے لگے۔ جنگل یعنی خشکی میں عام ہے کہ شہر کی زمین ہو یا باہر کی یا بیابان ‘ موقع پر بارش نہ ہونا قحط پڑنا ‘ باغ اور کھیتوں کے پھل پھولوں پر آفت آنا ‘ آندھی اولوں کا آنا، سیلاب کا پھیلنا یا پیداوار کم اور ناقص ہونا ‘ یہاں تک کہ مزے میں بھی کم ہونا ‘ شیرہ والی چیزوں میں سے کم شیرہ برآمد ہونا ‘ مواشی میں مری پڑنا ‘ ان کی نسل کم پھیلنا، دودھ، گھی کم دینا، تجارت اور کاروبار میں نفع کم آنا ‘ مصارف کا بڑھ جانا، ہر چیز کا گراں ہوجانا ‘ حاکم کا ظالم و طماع ہونا ‘ قانون اور انصاف کے پیرایہ میں رعایا کو تباہ کردینا، باہم بادشاہوں اور قوموں میں جنگ قائم ہو کر ہزاروں کا بےخانماں ہوجانا ‘ صدہا کا مارا جانا، بیماریوں کی کثرت ‘ ہیضہ کا زور، خاردار درختوں اور موذی جانوروں کا بکثرت پیدا ہو کر انسان کو تکلیف پہنچانا ‘ باہمی الفت و محبت و اتفاق کی جگہ عداوت و بغض و نفاق پھیلنا ‘ حیاء و شرم کا اٹھ جانا، بےحیائی اور فحش کی ترقی ہونا، چھوٹوں کا بڑوں سے بےادب و گستاخ ہوجانا ‘ باہم چوری اور زناکاری اور خون ریزی اور بدامنی پھیلنا، یہ ہیں وہ بلائیں کہ جو انسان کے کرتوت سے پیدا ہوتی ہیں، اسی طرح دریا کی بلاؤں کو سمجھ لیجئے بعض کہتے ہیں کہ بحر سے مراد شہر ہے۔ قال عکرمہ العرب تسمی الامصار بحارا۔ نیشاپوری فرماتا ہے لیذیقہم بعض الذی عملوا الخ یہ خرابیاں اس لیے ظاہر ہوئیں کہ انسان اپنے کئے کا کچھ دنیا میں بھی تو مزہ اٹھائے تاکہ اس فعلِ بد سے باز آئے، توبہ کرے مگر افسوس ہے کہ آج کل کے زمانہ میں سب خرابیاں ظاہر ہورہی ہیں، مگر بجائے توبہ و استغفار کے الحاد اور بےدینی اور بدکاری کا دریا موج زن ہے۔ فلاسفہ کے نزدیک مذکورہ خرابیوں کا باعث انسانی بدکاری نہیں ہوسکتی، بلکہ ان کے دیگر اسباب ہوتے ہیں۔ ہم اس کو مانتے ہے، مگر وہ دیگر اسباب بھی تو کسی علۃ یا علۃ العلل ہی کا فعل قرار دیں گے جو انسانی بدعملی سے ایسے اسباب پیدا کردیتا ہے۔ قل سیروا الخ یہاں سے ان غافلوں کو یہ بتلاتا ہے کہ اگر تم اپنی صنعت اور ہر قسم کی صناعی و دستکاری و شہ زوری و دولت مندی پر گھمنڈ کرکے یہ کہتے ہو کہ ہم خود ان مصائب کو اپنی تدابیر سے دفع کردیں گے تو ملک میں پھر کر تو دیکھو کہ تم سے پہلوں کا کیا حال ہوا۔ وہ بھی یہی دعوے کیا کرتے تھے اور اکثر شرک میں مبتلا تھے۔ فاقم وجہک الخ یہاں سے حجت تمام کرکے یہ بات فرماتا ہے، اگر کوئی مانے یا نہ مانے تم اے نبی دین قیم یعنی فطرت اللہ پر مستقیم ہوجاؤ، ایسے صیغوں سے مراد اور عام لوگ ہوتے ہیں، مگر حسن بلاغت کے لیے خطاب پیغمبر ( علیہ السلام) سے کیا جاتا ہے۔ خواہ اس دن سے قیامت کا دن مراد ہو اور کوئی برا دن جو ایسی بدکاری کی سزا دینے کے لیے آیا کرتا ہے۔
Ayahs 30:46–47

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ یُّرْسِلَ الرِّیَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّ لِیُذِیْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 30:46 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ وہ خوشی دینے والی ہوائیں چلایا کرتا ہے اور تاکہ تم کو اپنی رحمت کا کچھ مزا چکھائے اور تاکہ اس کے حکم سے کشتیاں چلیں اور تاکہ تم اس کے فضل سے روزی تلاش کرو اور تاکہ تم شکر کرو

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَآءُوْهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَانْتَقَمْنَا مِنَ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا١ؕ وَ كَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 30:47 in the Quran reader

البتہ آپ سے پہلے بھی ہم نے ان کی قوم کی طرف رسول بھیجے ہیں۔ پھر وہ ان کے پاس نشانیاں لے کر آئے، پھر ہم نے مجرموں سے بدلہ لے کر چھوڑا اور ہم پر ایمانداروں کی مدد کرنا ضرور تھا۔

ترکیب : وکان حقًا خبر کان مقدم و نصر اسمہا ویجوزان یکون حقا مصدر اوعلینا الخبر ویجوز ان یکون فی کان ضمیر الشان و حقا مصدر اوعلینا الخبر ویجوز ان یکون نصر مبتداء و خبر فی موضع خبرکان کسفا بفتح السین علی انہ جمع کسفۃ و سکونہا علی ھذا المعنی تخفیفاً قطعاً متفرقہ الودق المطر۔ تفسیر : بروبحر میں انسان کی بدکاری کی وجہ سے خرابی ظاہر ہونے کا بیان فرما کر یہ بات بتلاتا ہے، اس پر بھی ہم رحیم و کریم نظام عالم کو باقی رکھتے ہیں۔ ہوائیں چلاتے ہیں، الخ فقال ومن آیتہ ہواؤں کے چند فوائد بیان فرماتا ہے کہ جن پر بقائِ انسانی موقوف ہے۔ (1) مبشرات کہ وہ خوشی دیتی ہیں، انسان کے بدن پر جب ہوا لگتی ہے تو اس کو فرحت ہوتی ہے اور نیز بارش سے پہلے جب سرد ہوا چلتی ہے تو گویا مینہ کا مژدہ لاتی ہے۔ (2) ولیذیقکم من رحمتہ ہواؤں کی وجہ سے انسان زندہ رہ کر دنیا میں اس کی رحمت اور نعمت کے مزے لیتا ہے اور انہی سے پھل، پھول، کھیتی باڑی تیار ہوتی ہے۔ یہی ہیں جو تعفّنات کو دور کرتی ہیں۔ یہ دونوں باتیں بر یعنی خشکی کے متعلق ہیں۔ (3) ولتجری الفلک اس سے دریا میں کشتیاں چلتی ہیں۔ (4) ولتبلغوا من فضلہ الخ کہ تم دریائی سفروں کی وجہ سے روزی تلاش کرتے ہو، مچھلیوں کا شکار کرتے ہو۔ یہ دونوں باتیں بحر سے متعلق ہیں۔ ولعلکم تشکرون کہ تم شکر کرو سب سے متعلق ہے اور من آیتہ کے ساتھ تعبیر کرنے میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ ہواؤں کا چلانا جس پر مدار زندگی ہے، اس کی قدرت کاملہ کی نشانی ہے، تمہارے معبودوں میں سے کون کرسکتا ہے ؟ یہ دلیل توحید وجودِ باری ہے۔ ولقد ارسلنا من قبلک رسلا الخ یہاں سے مسئلہ نبوت کو کس لطف کے ساتھ ثابت کرتا ہے کہ جس طرح نظام عالم جسمانی کے لیے ہوائیں چلاتے ہیں، اس طرح نظام عالم روحانی کے لیے اپنے فضل سے انبیاء بھیجتے چلے آئے ہیں۔ (کچھ آپ ہی کو نیا نبی نہیں بنایا، جس پر وہ بدکتے ہیں) جو اپنی قوموں کے پاس آیات و معجزات لے کر آئے تھے، پھر جس نے نہ مانا ہم نے اس سے انتقام لیا اور ایمانداروں کی مدد کی، کیونکہ یہ ہم پر لازم تھا کہ ہم ان کی مدد کرتے۔ اس پر کسی کا کوئی حق نہیں نہ کوئی بات لازم ہے مگر اپنے فضل سے وہ لازم کرلیتا ہے۔ اس جملہ میں نہایت اختصار کے ساتھ رسولوں کا بھیجنا اور ان کی امتوں پر سرکشی سے عذاب آنا ‘ ایمان والوں کا نجات پانا بیان فرمادیا اور مخاطبین کو اسرار نبوت سمجھا کر متنبہ کردیا۔ مسئلہ اثبات وجودِ باری و توحید اور مسئلہ نبوت کو کس لطف کے ساتھ ثابت کردیا۔ اس کے بعد مسئلہ معاد کو ثابت کرتا ہے۔
Ayahs 30:48–51

اَللّٰهُ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَیَبْسُطُهٗ فِی السَّمَآءِ كَیْفَ یَشَآءُ وَ یَجْعَلُهٗ كِسَفًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ فَاِذَاۤ اَصَابَ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اِذَا هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَۚ Open ayah 30:48 in the Quran reader

وہ اللہ وہ ہے کہ جو ہوائیں چلاتا ہے، پھر وہ بادل اٹھاتی ہیں، پھر وہ اس کو آسمان میں جس طرح چاہتا ہے پھیلاتا ہے اور اس کو گھنگھور گھٹا بناتا ہے پھر تو (اے مخاطب ! ) تو دیکھتا ہے کہ اس میں سے مینہ برستا ہے۔ پھر جب اس کو اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے پہنچاتا ہے تو جب ہی وہ خوش ہونے لگتے ہیں

وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْهِمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمُبْلِسِیْنَ Open ayah 30:49 in the Quran reader

اور اگرچہ ان پر برسنے سے پیشتر وہ ناامید تھے۔

فَانْظُرْ اِلٰۤى اٰثٰرِ رَحْمَتِ اللّٰهِ كَیْفَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ لَمُحْیِ الْمَوْتٰى١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 30:50 in the Quran reader

پھر (اے مخاطب ! ) تو اللہ کی رحمت کی نشانیاں کو تو دیکھ کہ خشک ہونے کے بعد کس طرح سے زمین کو سرسبز کرتا ہے۔ بیشک وہی مردوں کو پھر زندہ کرنے والا ہے اور وہ ہر بات پر قدرت رکھتا ہے

وَ لَئِنْ اَرْسَلْنَا رِیْحًا فَرَاَوْهُ مُصْفَرًّا لَّظَلُّوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ یَكْفُرُوْنَ Open ayah 30:51 in the Quran reader

اور اگر ہم ہوا کا کوئی ایسا جھونکا چلاویں کہ جس سے وہ اپنی کھیتی کو زرد ہوا دیکھیں تو اس کے بعد ناشکری کرنے لگیں۔

اللہ الذی یرسل الریح الخ یہاں سے اور دوسری نعمت ظاہر فرماتا ہے کہ جس پر نظام عالم منحصر ہے، وہ کیا ؟ بارش کا بھیجنا پھر اس سے زمین کا شاداب کرنا، پھر اس نعمت کے بیان میں کیا کیا اشارات لطیفہ ہیں۔ (1) الذی سے شروع کیا کہ یہ کام جس کا ہے وہ اللہ ہے نہ کہ تمہارے خیالی معبود (2) یرسل الریح کو مقدم ذکر کیا کہ مینہ سے پہلے ہم کیسی ہوائیں چلاتے ہیں، پھر وہ ہوائیں بدلیاں اٹھا لاتی ہیں، پھر اس کو آسمان پر ابر بناکر کس طرح پھیلاتی ہیں۔ کیف یشاء مگر جس طرح اللہ چاہتا ہے کہیں کم ‘ کہیں زیادہ، کبھی ہر جگہ مساوی ‘ کبھی سیاہ رنگ کے بادل، کبھی اور رنگ کے پھر سب کو گھنگھور گھٹا کردیتا ہے، پھر اس میں سے مینہ برساتا ہے جس کو چاہتا ہے اس سے بہرہ مند کرتا ہے، جس کو چاہتا ہے، محروم رکھتا ہے، پھر اس سے بندے کیسے خوش ہوجاتے ہیں، حالانکہ اس سے پہلے کہ جہان میں گردوغبار اور گرمی بیشمار تھی کیسے ناامید تھے۔ (3) یرسل کو بلفظ مضارع بیان فرمایا کہ ایک بار نہیں بلکہ ہمیشہ سے ہم یوں ہی کیا کرتے ہیں۔ (4) پھر اس نعمت سے مسئلہ معاد کو کس لطف کے ساتھ ثابت کیا کہ جس طرح ہم زمین کو زندہ کردیتے ہیں، جس کا ہر سال تم معائنہ کرتے ہو، اس طرح لمحی الموتی ہم مردوں کو زندہ کردیں گے۔ ہم ہر بات پر قادر ہیں، اس کے بعد انسان کی ناشکری کرنے کی عادت بیان فرماتا ہے۔ فقال ولئن ارسلنا الخ کہ اگر ہم ایسی ہوا چلادیں کہ جس سے کھیتی خشک ہوجاوے تو پھر کیسے ناشکر ہوجاتے ہیں اور کیا کیا منہ سے بکنے لگتے ہیں۔
Ayahs 30:52–53

فَاِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 30:52 in the Quran reader

پھر آپ تو نہ مردوں کو اور نہ بہروں کو آواز سناتے ہیں۔ (خصوصاً ) جبکہ وہ پیٹھ پھیر کر بھاگیں

وَ مَاۤ اَنْتَ بِهٰدِ الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ١ؕ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ۠ Open ayah 30:53 in the Quran reader

اور نہ آپ اندھوں کو گمراہی سے ہدایت کرسکتے ہیں۔ آپ تو صرف انہی کو سناتے ہیں۔ جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں، سو وہی مان بھی لیتے ہیں۔

ترکیب : لاتسمع خبر ان اذا متعلق بتسمع۔ مدبرین حال من فاعل ولوا انت اسم ما بہٰد، العمی خبرہ والباء زائدۃ۔ تفسیر : یہاں تک توحید و نبوت و معاد کے مسائل کو براہین قاطعہ و حجج ساطعہ سے ایسا ثابت کیا تھا کہ جو کوئی ذرا بھی عقل سلیم رکھے تو خود سمجھ لے اور جو اس سے بھی بلید الذہن ہو تو ان کی کیفیت کسی سے سن کر مان لے، مگر کفار مکہ اپنی بدقسمتی اور ازلی محرومی سے اس مرتبہ میں بھی نہ تھے، اس پر بھی ان کا وہی اصرار ‘ وہی انکار چلا جاتا تھا۔ تو اب ان کی نسبت یہی صادق آگیا تھا کہ وہ حیات انسانی سے بہرہ ور نہیں۔ گویا مرے ہیں اور نہ ان کے حواس سلیمہ بجا ہیں۔ اندھے، بہرے بھی ہیں۔ ان آیات میں خدا تعالیٰ آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتا ہے کہ اس میں آپ کا کیا قصور ہے ؟ یہ مردے ہیں۔ آپ مردوں کو سنانے نہیں آئے اور بہرے ہیں، ایسے بہروں کو جو پیٹھ پھیر کر بھاگ اٹھیں تو آپ انہیں بھی نہیں سناسکتے۔ کاش بہرے ہوتے اور سامنے آتے ہاتھوں کے اشارے سے ہی سمجھ جاتے مگر جبکہ انہوں نے یہ قصد مصمم کرلیا کہ ہم ہرگز نہیں مانیں گے تو گویا پیٹھ پھیر کر بھاگ اٹھے اور یہ ازلی اندھے ہیں۔ آپ ان کو کیونکر رہنمائی کرسکتے ہو۔ آپ صرف ان لوگوں کے سنانے کو آئے ہیں کہ جن میں ایمان لانے کا مادہ اور صلاحیت ہے، جس کو الامن یؤمن بآتینا کے ساتھ اس لیے تعبیر کیا، ان کی قابلیت و استعداد فعلیت کے مرتبہ کے پاس آلگی ہے۔ پس وہی مانتے ہیں۔ فہم مسلمون فانک لاتسمع الموتی سے لے کر فہم مسلمون تک یہ مطلب ہوا۔ فانک میں جوآئی ہے، وہ اس لیے کہ وہ مردے ہیں۔ حیات انسانی ان میں نہیں، بس آپ مردوں کو نہیں سناتے۔ الموتی سے مراد وہی کفار ہیں کہ جن کو مردوں سے تشبیہ دی گئی اور الصم سے مراد بھی وہی لوگ ہیں کہ جن کو مردوں سے تشبیہ دی گئی اور العمی سے بھی وہی مراد ہیں کہ جن کو اندھوں سے تشبیہ دی گئی۔ میت ‘ صم، عمی کے الفاظ کا اطلاق حقیقت عرفی کے مطابق اسی متعارف مردے، بہرے، اندھے پر ہوتا ہے جو ظاہری جان نہ رکھے نہ ظاہری کان نہ ظاہری آنکھ مگر کنایہ کے طور پر یا مجاز ابعلاقہ تشبیہ ایسے لوگوں پر بھی اطلاق ہوتا ہے۔ اذا ولوا مدبرین کی قید کا فائدہ بھی معلوم ہوگیا کہ جو بھاگ اٹھے تو پھر کسی طرح بھی سمجھ نہیں سکتا، سننا تو درکنار اور الامن یؤمن کے معنی بھی معلوم ہوگئے کہ جن میں ایمان کی قابلیت ہے، پس اب یہ اعتراض بھی اٹھ گیا کہ جو اللہ کی آیتوں پر خود ایمان لاتے ہیں ان کو سنانے کی کیا ضرورت ؟ تحصیل حاصل ہے۔ سماع موتیٰ کی بحث : ان آیات سے بعض علماء نے استدلال کیا ہے کہ مردہ نہیں سنتا اور اس کی سند میں کچھ احادیث و اقوال بھی پیش کرتے ہیں۔ آج کل یہ مسئلہ سماع موتیٰ باہمی قیل و قال کا بڑا میدان ہورہا ہے، اگرچہ اس کی پوری تفصیل کا یہ موقع نہیں ہے، مگر مختصراً کچھ بیان کرتا ہوں۔ ان آیات میں تو عدم سماع موتٰی کا اشارہ تک بھی نہیں اس لیے ان سے استدلال کرنا بےفائدہ بات ہے، رہے احادیث و اقوال ان سے بھی صاف نہیں معلوم ہوتا کہ میت سن نہیں سکتے، بلکہ بہت سی صحیح احادیث اس بات پر دلالت کررہی ہیں کہ مردے زندوں کی آواز سنتے ہیں۔ از آنجملہ وہ احادیث جو زیارت قبور کی بابت وارد ہیں جن میں مردوں سے خطاب کرکے کلام کیا۔ جیسا کہ ترمذی نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ مدینہ کے قبرستان پر سے گزرے تو یہ فرمایا۔ السلام علیکم یا اہل قبور اور اس طرح مسلم نے عائشہ ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بقیع میں جاکر یہ فرمایا۔ السلام علیکم دار قوم مومنین الخ اور ایسا ہی تعلیم بھی فرمایا۔ از آنجملہ احادیث عذاب قبر میں جیسا کہ بخاری و مسلم نے انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب میت کو قبر میں رکھ کر اس کے لوگ واپس پھرتے ہیں تو انہ لسمیع قرع نعالہم وہ ان کی جوتیوں کی آواز سنتا ہے۔ الخ از انجملہ وہ جو بدر کے روز آنحضرت ﷺ نے کفار قریش کے مقتولوں سے خطاب کرکے فرمایا تھا کہ تم نے آج دیکھ لیا، اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ جس پر حضرت عمر ؓ نے عرض کیا یا حضرت یہ کیا سنتے ہیں ؟ فرمایا تم سے بھی زیادہ سنتے ہیں، لیکن جواب نہیں دیتے، اس کو بھی بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے۔ نقلی دلائل کے جواب ہوچکے، اب رہی بحث عقلی سو عقل سلیم یہی کہتی ہے کہ مر کر جسم سے روح کا تعلق بدن سے منقطع ہوجاتا ہے۔ وہ جو حواس کے ذریعہ سے کام لیتا تھا، اب تجرد کی وجہ سے ان کے بغیر کام لیتا ہے، خصوصاً حضرات انبیاء و اولیاء کرام ان کے ادراک کا تو کیا ٹھکانا ہے ؟ رہی یہ بات کہ ان کو قاضی الحاجات مستقل بناکر پوجا جاوے جیسا کہ جہلاء کا دستور ہے وہ ان کی ممات پر کیا موقوف ہے، حیات میں بھی منع ہے، ان کے مقابر مقدسہ سے فیوض و برکات بیشک جاری ہیں۔
Ayahs 30:54–56

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ضُؔعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ ضُؔعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ضُؔعْفًا وَّ شَیْبَةً١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیْمُ الْقَدِیْرُ Open ayah 30:54 in the Quran reader

اللہ ہی ہے کہ جس نے تم کو کمزوری کی حالت سے پیدا کیا، پھر کمزوری کے بعد قوت عطا کی۔ پھر قوت کے بعد ضعف اور بڑھاپا بنایا۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہی علم ‘ قدرت والا ہے

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ١ۙ۬ مَا لَبِثُوْا غَیْرَ سَاعَةٍ١ؕ كَذٰلِكَ كَانُوْا یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 30:55 in the Quran reader

اور جس دن قیامت قائم ہوگی تو گنہگار قسمیں کھائیں گے کہ ہم ایک گھڑی سے زیادہ (دنیا میں) نہیں ٹھہرے، ایسے ہی (دنیا میں بھی) بہکے ہوئے تھے

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَ الْاِیْمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ اِلٰى یَوْمِ الْبَعْثِ١٘ فَهٰذَا یَوْمُ الْبَعْثِ وَ لٰكِنَّكُمْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:56 in the Quran reader

اور علم اور ایمان والے کہیں گے کہ تحقیق اللہ کے دفتر میں تم قیامت تک ٹھہرے رہے ہو، سو یہ ہے قیامت کا دن، لیکن تم تو اس کو جانتے ہی نہ تھے۔

ترکیب : الضعف بالفتح والضم لغتان، من ضعف من للابتدائے ابتداء کم ضعفاء و اساس الانسان الضعف کما قال خلق الانسان من عجل ای من العجلۃ ویمکن ان یقال خلقکم من اصل ضعیف و ہوا لنطفہ علی ان یاول المصدر باسم الفاعل او علی ٰ تقدیر المضاف، ویوم تقوم الساعۃ والعامل فیہ یقسم ای یحلف مالبثوا فی الدنیا اوفی القبور۔ فی کتاب اللہ ای فی علمہ او اللوح المحفوظ، فیومئذ ای یوم کان کذا لاینفع المعذرۃ۔ الذین مفعول لئلا ینفع معذرتھم مصدر مضاف الی الفاعل والمجموع فاعلہ ولاھم یستعتبون ای لا یدعون الیٰ مایزیل عنھم عتبھم ای غضبھم۔ تفسیر : اللہ الذی الخ یہاں سے پھر دلائلِ توحید شروع ہوتے ہیں، پہلے دلائلِ آفاق تھے۔ یہ دلائل الانفس ہیں کہ جو انسان کی ذات اور اس کے حالات سے متعلق ہیں، فرماتا ہے۔ اللہ وہ ہے کہ جس نے تم کو کمزوری کی حالت میں پیدا کیا، یعنی تمہاری ابتداء نہایت کمزوری کے ساتھ تھی۔ تمہاری بنیاد کمزور تھی، جیسا کہ فرمایا۔ وخلق الانسان ضعیفًا یا یوں کہو تم کو ایک کمزور چیز سے بنایا وہ کیا ؟ منی جو ایک قطرہ آب ہے۔ ثم جعل من بعد ضعف قوۃ پھر کمزوری کے بعد تم کو توانائی عطا کی۔ بالغ ہونے کے بعد یا تمہاری ابدان سے روح متعین ہونے کے بعد ثم جعل من بعد قوۃ ضعفا و شیبہ یہ تیسری حالت ہے کہ قوت کے بعد پھر تم کو کمزور اور بوڑھا کردیتا ہے۔ یخلق مایشاء وھو العلیم القدیر وہ جو چاہتا ہے بناتا ہے، اپنے احوال مختلفہ ہی میں غور کرلو کہ تمہاری کیسی صورتیں مختلف بنائیں پھر تم کو قوت اور ضعف کے میدان میں کیسی الٹی پلٹیاں دیں۔ پھر اس کے علیم و قدیر ہونے میں کیا شک ؟ ایسے علیم و قدیر کے نزدیک قیامت قائم کرکے مردوں کو زندہ کرنا اور ان سے حساب و کتاب لینا، کیا بعید ہے ؟ اس لیے فرماتا ہے ویوم تقوم الساعۃ الخ اس جگہ قیامت کی قدرے کیفیت بیان فرماتا ہے اور قرآن کی عادت ہے کہ مبدء کے بعد معاد ذکر فرمایا کرتا ہے۔ وہ کیفیت یہ ہے کہ یقسم المجرمون ما لبثوا غیر ساعۃ گنہگار قسم کھاکر کہیں گے، دنیا میں ہم ایک ساعۃ سے زائد نہیں رہے تھے۔ قیامت کے شدائد کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی اور سالہا سال کی عیش و کامرانی ایک گھڑی بھر کی معلوم ہوگی، وہاں یہ غلط پنداری جاوے گی۔ کذلک کانوا یوفکون دنیا میں بھی ایسے ہی خیال غلط اور اوہام باطلہ میں پڑے ہوئے تھے۔ اللہ کے ساتھ اوروں کو شریک کرتے تھے، دنیا کی چند روزہ کامرانی کو عیش جاودانی سمجھے ہوئے تھے۔ آخرت سے غافل ہو کر اسی کے فکر میں لگے ہوئے تھے۔ پس جس طرح دنیا میں ان کی غلط پنداری کو اہل علم انبیاء یا ان کے نائب ظاہر کرکے راہ حق بتلانے کی کوشش کرتے تھے، پر یہ اس سچ کو جھوٹ جانتے تھے۔ اسی طرح دار آخرت میں اصلی بات بتلا دیں گے۔ وقال الذین اوتو العلم والایمان الخ کہ تم دفترِ الٰہی میں لکھے کے موافق قیامت تک ٹھہرے تھے، پس یہ قیامت موجود ہے جسے تم بھولے ہوئے تھے۔ ولکنکم کنتم لاتعلمون بعض مفسرین کہتے ہیں کہ مالبثوا غیر ساعۃ میں مرنے کے بعد عالم برزخ، میں ٹھہرنے کی بابت کفار کہیں گے۔ جیسا کہ آیا ہے، من بعثنا من مرقدنا کہ کس نے ہم کو ہمارے خواب گاہ سے بیدار کردیا۔ اس تقدیر پر اہل علم و ایمان کا جواب بہت ٹھیک ہوجاوے گا کہ تم یوم البعث تک ٹھہرے ہو۔ اول قول یعنی قیام دنیا مراد لینے کی صورت پر بھی یہ جواب ٹھیک ہوسکتا ہے، کس لیے کہ ان کا کلام جماعت کفار کے مقابلہ میں ہوگا اور گو ہر شخص نہیں جماعت کفار تو دنیا میں یوم البعث تک ٹھہری تھی اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ عالم برزخ کا قیام بھی دنیا کے قیام کا اثر ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 30:57

فَیَوْمَئِذٍ لَّا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَعْذِرَتُهُمْ وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 30:57 in the Quran reader

پس اس دن ظالموں کا عذر کرنا کچھ بھی فائدہ نہ دے گا اور نہ ان کا عذر قبول کیا جائے گا۔

فیومئذ لاینفع الخ فرماتا ہے، اس روز ظالموں کا کوئی عذر نہ قبول ہوگا۔ ولا ھم یستعبتون لایطلب منھم العتبیٰ ای الرجوع الی مایرضی اللہ جلالین یعنی کسی نیک کم کرنے اور اللہ کی طرف رجوع کرنے کی مہلت نہ ملے گی۔
Ayahs 30:58–60

وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١ؕ وَ لَئِنْ جِئْتَهُمْ بِاٰیَةٍ لَّیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُبْطِلُوْنَ Open ayah 30:58 in the Quran reader

اور البتہ اس قرآن میں ہم نے لوگوں کے لیے ہر ایک قسم کی مثال بیان کردی ہے اور اگر آپ ان کے پاس کوئی بھی نشانی لائیں تو جو منکر ہوگئے ہیں، یہی کہیں گے کہ تم (اے مسلمانو ! ) محض فریبی ہو۔

كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:59 in the Quran reader

اللہ نادانوں کے دلوں پر اس طرح سے مہر کردیا کرتا ہے

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لَا یَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِیْنَ لَا یُوْقِنُوْنَ۠ Open ayah 30:60 in the Quran reader

پس (اے نبی ! ) صبر کیجئے بیشک اللہ کا وعدہ حق ہے اور یقین نہ کرنے والے آپ کو خفیف نہ کرنے پائیں۔ (ف)

ترکیب : من کل مثل فی محل النصب لکونہ مفعولا بضربنا ای بیناہ و للناس متعلق بضربنا ای ان القرآن مشحون بقصص و اخبار کلھا کالمثل السائر فی غراب تھا و حسن مواقعھا فصار القرآن فی کل ماجاء بہ کالا مثال السائرۃ حتی لا یجمھا الطبائع الصافیۃ کذالک اے مثل ذلک الطبع۔ تفسیر : مسئلہ معاد کے بعد مسئلہ رسالت پر کس لطف کے ساتھ کلام تمام کرتا ہے۔ فقال و لقد ضربنا للناس فی ھذا القرآن من کل مثل مسئلہ رسالت کی بابت دو باتیں ہیں۔ اول سب سے بڑھ کر اس کتاب کی خوبی پر نظر کی جاتی ہے کہ جس کو رسول اللہ کا دستور العمل بتلاکر عالم کو اس پر چلنے کا حکم دیتا ہے اور جس کو اللہ کی بھیجی ہوئی کتاب کہتا ہے، کیونکہ اس کتاب میں اگر یہ خوبی نہ ہو تو وہ بندوں کی حاجات کو کافی نہ ہو اور انسانی جذبات یا اس کی طبعی جزر و مد میں پوری رہبر نہ ہو، پس وہ کتاب اللہ نہیں، ہر شخص کا کلام خود کہہ دیتا ہے کہ میں کس کا کلام ہوں ؟ بادشاہوں کی بات چیت میں سے وہی شاہی رعب و داب ٹپکتا ہے، حکیم کا کلام حکمت سے پر ہوتا ہے۔ شہوت پرست کے کلام میں شہوانی خیالات ہوتے ہیں، اسی طرح اللہ کا کلام اس کے حوصلہ کے موافق ہوتا ہے۔ (دیکھو آج کل جو کتابیں اہل کتاب کے ہاتھ میں ہیں یا اور لوگ جن کو کتاب الٰہی کہتے ہیں، ان کے مطالب پر غور کرو، صاف معلوم ہوجائے گا۔ یہ کلام اللہ کے لائق نہیں بلکہ کسی مؤرخ یا خیالات باطلہ کے پابند کا کلام معلوم ہوتا ہے) اس سے پہلی بات کے لیے یہ جملہ و لقد ضربنا ارشاد فرمایا کہ قرآن میں لوگوں کے لیے ہر حاجت کا پورا کرنے والا کلام ہے اور کلام بھی فلسفیانہ ایچ و پیچ میں نہیں بلکہ ایسا کہ جیسے مثالیں ہوتی ہیں کہ جن کو طبائعِ بشر یہ بہت جلد قبول کرتی ہیں۔ دوسری بات جو نبوت اور رسالت کے متعلق ہے۔ معجزات ہیں، جن کو آیات کہتے ہیں اس کی بابت فرماتا ہو۔ ولئن جئتہم بآیتہ الخ کہ ان کفار مکہ کا انکار اور ہٹ دھرمی اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ اگر آپ ان کے پاس کوئی بڑے سے بڑا معجزہ بھی لائیں یا کسی قسم کی کوئی نشانی دکھاویں تو وہ ہرگز نہ مانیں گے، بلکہ آپ کو جھوٹا بتلادیں گے۔ انسان کی جب یہ حالت ہوجاتی ہے کہ جس کو دلوں پر خدا کی مہر کرنے کے ساتھ تعبیر کیا جاتا ہو تو اس کی نسبت صاف یہی کہا جاتا ہے کہ کذلک یطبع اللہ علی قلوب الذین لایعلمون کہ ان نادانوں سرکش جاہلوں کے دلوں پر خدا نے مہر کردی اور وہ ایسا ہی کردیا کرتا ہے، یعنی تقدیر ازلی نے ان کو اس قابل ہی نہیں رکھا کہ وہ نبی کی بات مانیں، ایسی حالت میں خدا تعالیٰ کا دستور یوں جاری ہے، ان کے لیے گو وہ ہزار درخواست کریں، معجزہ نہیں دکھایا جاتا کیونکہ اگر معجزہ دکھایا جاوے اور نہ مانیں تو اور بھی عتاب الٰہی میں گرفتار ہوں، خود حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) نے ایسے موقع پر معجزات دکھانے سے انکار کیا ہے، دیکھو انجیل متی کے سولہویں باب کے شروع میں یہ ہے۔ فریسیوں اور صدوقیوں نے آکے آزمائش کے لیے اس سے چاہا کہ ایک آسمانی نشان ہمیں دکھا، اس نے جواب میں ان سے کہا الخ اس زمانہ کے بد اور حرام کار لوگ نشان ڈھونڈھتے ہیں، پر یونس متی کے نشان کے سوا کوئی نشان دکھایا نہ جائے گا اور اسی طرح انجیل مرقس کے آٹھویں باب کے گیارہویں درس میں یہ ہے۔ تب فریسی نکلے اور اس سے حجت کرکے اس کے امتحان کے لیے آسمان سے کوئی نشان چاہا، اس نے اپنے دل سے آہ کھینچ کے کہا کہ اس زمانہ کے لوگ کیوں نشان چاہتے ہیں۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ اس زمانہ کے لوگوں کو کوئی نشان دیا نہ جائے گا اور اسی طرح قرینتون کے اول باب 22 درس میں ہے۔ قرآن مجید میں جہاں کہیں معجزہ دکھانے سے انکار آیا ہے وہ اسی قسم کا ہے۔ پادری آنکھ بند کرکے اعتراض جما دیا کرتے ہیں۔ فاصبر ان وعد اللہ حق۔ جب مخالف کی یہ حالت ہوجاتی ہے تو پھر اس سے سینکڑوں تکالیف اور بدکلامی کی برداشت کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے، اس لیے آنحضرت ﷺ اور ایمانداروں کو صبر کا حکم ہوا اور تسلی دی گئی کہ اللہ کا وعدہ برحق ہے، ان پر ضرور عذاب آوے گا اور ایماندار دنیا و آخرت میں کامیاب ہوں گے۔ ولایستخفنک اور اے نبی ! آپ ان کی تمسخر سے دل میں خفیف نہ ہونا یا یہ معنی کہ ان کے مقابلہ میں آکر آپ کوئی خفیف بات نہ کریں جو شان نبوت کے برخلاف ہو۔ واللہ اعلم بالصواب والیہ المرجع والمآب۔