Ayah 24:35ترکیب : اللہ متبداء نور السموت الخ خبر، مثل نورہ صفۃ نورہ مبتداء کمشکٰوۃ موصوف فیہا مصباح صفت سب محذوف سے متعلق ہو کر خبر ہوئی تمام جملہ بیان ہوا نور السموات کا المصباح مبتداء فی زجاجہ خبر قس علی ھذا۔ دری منسوب الی الدر اوفعیل کمریق من الدر۔ یوقد صفت ہے مصباح کی۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ اللہ نے تمہارے لیے آیات بینات نازل کیں تم کو جہل کی اندھیریوں سے نکال کر علم کی روشنی میں لایا۔ اب یہاں اپنے اوصاف نورانی اور نور ہدایت کی تمثیل بیان فرماتا ہے کہ وہ اللہ جس نے تم کو جہل کی ظلمات سے نکالا آسمانوں اور زمین کا نور ہے پھر اپنے نور کو اس شمع سے تشبیہ دے کر جو شیشہ کی قندیل میں ہو یہ فرماتا ہے اللہ اپنے اس نور سے جس کو چاہتا ہے مداہت کرتا ہے۔ اللہ نور السموت والارض
بحث اول : نور عرف میں روشنی کو کہتے ہیں وہ ایک عرض قائم بالغیر ہے جو اجسام کو عارض ہوتا ہے جیسا کہ آفتاب و ستارے اور آگ اس معنی سے اس لفظ کا اطلاق اللہ پر حقیقۃً جائز نہیں کس لیے کہ نور بمعنی مذکور ایک عرض ہے وہ حادث اور قابل تقسیم اور قائم بالغیر ہونے کی وجہ سے اِلٰہ نہیں ہوسکتا اس سے فرقہ مانویہ کا بھی قول رد ہوگیا جو نور اعظم کو اللہ کہتے ہیں۔ اس لیے علمائِ اسلام اس جگہ تاویل کرتے ہیں۔ کہ نور بمعنی منور ہے کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو آفتاب و مہتاب کو اکب اور انبیاء و صلحا و ملائکہ سے منور کردیا اور یہ قول ابی بن کعب ؓ و حسن و ابوالعالیہ کا ہے بعض کہتے ہیں بمعنی مدبر السماوات والارض ہے جیسا کہ باخبر رئیس کو کہتے ہیں کہ وہ شہر کا نور ہے یعنی مدبر بتدبیر حسن جیسا کہ جریر شاعر کہتا ہے ع وانت لنانوروغیث و عصمۃ۔ یہ زجاج اور اصم کا قول ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں نور بمعنی ہادی ہے کیونکہ نور سبب ہدایت ہے کہ وہ آسمان اور زمین والوں کا ہادی ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نور کا اطلاق اس پر مبالغہ ہو جیسا کہ عادل کو عدل کہہ دیا کرتے ہیں۔ امام غزالی رحمۃ اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام مشکوٰۃ الانوار رکھا ہے اس میں امام صاحب نے ثابت کردیا ہے کہ اللہ تعالیٰ حقیقۃً آسمانوں اور زمین کا نور ہے اس پر اس الفاظ کا اطلاق حقیقۃً ہے نہ مجازاً بہت سے مقدمات بیان فرما کر یہ کہا ہے کہ ادراک عقلی ادراک بصری سے اشرف ہے اور دونوں کا مقتضٰی ظہور ہے اور خواص نور میں سے ظہور ہی اشرف ہے اس لیے ادراک عقلی ادراک بصری سے بدرجہ اولی انور ہے۔ پھر انوار عقلیہ کی دو قسم ہیں ایک وہ جو سلامۃ الاحوال کے وقت واجبۃ الحصول ہیں یعنی تعقلات فطریہ۔ دوسرے مکتسبہ اور قسم ثانی میں کبھی غلطی بھی واقع ہوجاتی ہے اس لیے اس کے واسطے ہادی و مرشد کی ضرورت ہوتی ہے اور اس امر میں کلام الٰہی اور کلام انبیاء سے زیادہ اور کوئی ہادی و مرشد نہیں اس لیے یہ بھی نور ہیں۔ اس وجہ سے قرآن اور نبی کو بھی نور کہا گیا ہے اور اسی طرح ملائکہ بھی نور ہیں پھر ملائکہ بھی درجہ میں متفاوت ہیں یہاں تک کہ سب سے بڑھ کر نور اعظم وہ روح جو سب ارواح سے اعلیٰ ہے معدن نور ہے۔ پھر یہ سب انوار حسیہ ہوں خواہ سفلیہ جیسا کہ آگ کا نور یا علویہ جیسا کہ آفتاب و ماہتاب ‘ کو اکب کے انوار یا انوار عقلیہ سفلیہ ہوں جیسا کہ ارواح انبیاء و اولیاء یا علویہ ہوں جیسا کہ ملائکہ۔ یہ سب کے سب فی حدذاتہا ممکن ہیں اور ممکن فی حد ذاتہ معدوم ہیں ان کو وجود غیر کی طرف سے عطا ہوتا ہے اور وجود نور اور عدم ظلمت ہے۔ پس کل ممکنات اپنی ذات میں مظلم ہیں نور فی حدذاتہ وہی ہے جس کا وجود ذاتی ہے ممکنات کا وجود اور ان کے صفات اور ان کے سب معارف اللہ کی طرف سے آئے ہیں۔ اب ظاہر ہوگیا کہ نور مطلق وہ اللہ سبحانہ ہی ہے اور غیر پر جو اس لفظ کا اطلاق ہوتا ہے تو مجازاً کیونکہ اس کے سوا جو کچھ ہے من حیث ہو ہو ظلمت محضہ ہے کس لیے کہ وہ من حیث ہو عدم محض ہے بلکہ یہ انوار بھی من حیث ہی ہی ظلمت ہیں۔ خلاصہ یہ کہ وہی نور حقیقی ہے اور جس قدر انوار ہیں اسی کے نور کے پر توے ہیں واللہ اعلم۔
بحث دوم : نور کو السٰمٰوت والارض کی طرف کیوں مضاف کیا ؟ اس لیے کہ سب آسمان اور زمین انوار مجردہ اور مادیہ سے بھرے ہوئے ہیں انوار مادیہ جیسا کہ چاند اور سورج اور ستاروں کی روشنی یہ سب آسمانوں میں ہیں اور زمین پر بھی بھی انوار منعکس ہوتے ہیں کہ جس سے الوان مختلفہ دکھائی دیتے ہیں اور انوار مجردہ سے عالم بالا 1 ؎ پُر ہے اور وہ انوار مجردہ ملائکہ ہیں عالم سفلی میں بھی انوار عقلیہ بہت سے ہیں اور وہ قوائے نباتیہ اور حیوانیہ اور انسانیہ ہیں اور نور انسانی سے جس کے سبب یہ خلیفۃ اللہ فی الارض بنایا گیا عالم اسفل کا نظام ہو رہا ہے
جیسا کہ نور ملکی سے عالم علوی کا نظام قائم ہے اور یہ جملہ انوار بایکے دیگر مرتبط و مسلسل ہیں اور سب کا انتہٰی نورالانوار کی طرف ہے اور وہ اللہ سبحانہ ہے اس لیے اللہ کو نور السموت والارض کہا۔
بحث سوم : مثل نورہ کمشکوۃ الخ اپنے نور کو ایسے چراغ 2 ؎ سے تشبیہ دی جو شیشہ میں ہو اور شیشہ کسی طاق میں ہو اور چراغ زیتون کے تیل سے روشن کیا گیا ہو اور وہ ایسا صاف ہو کہ جو آگ دکھاتے ہی جل اٹھے اور زیتون بھی ایسا ہو کہ نہ شرقی ہو کہ صبح ہی کے وقت اس پر آفتاب کی شعاع پڑتی ہوں پھر نہ پڑیں اور نہ غربی ہو کہ شام کے وقت ہی اس پر دھوپ پڑتی ہو کیونکہ ایسا درخت کچا ہوتا ہے اس کا تیل بھی عمدہ نہیں۔ بخلاف اس کے کہ جو نہ شرقی ہو نہ غربی بلکہ میدان میں یا پہاڑ کی بلندی پر ہو وہ خوب تناور اور پختہ ہوتا ہے اس کا تیل بھی عمدہ ہوتا ہے۔ جس کے ساتھ تشبیہ دی گئی وہ تو یہ چیزیں ہیں بحیثیت مجموعی اور جس کو تشبیہ دی گئی ہے وہ اللہ کا نور ہے مگر کلام اس میں ہے کہ اللہ کے نور سے کیا مراد ہے ؟ جمہور متکلمین کے نزدیک ہدایت مراد ہے یہ معنی کہ اللہ کی ہدایت ظہور میں ایسی ہے کہ جیسا کوئی چراغ ہو جس کی یہ صفت ہوں کہ جس کی ہر صفت روشنی چراغ کو ترقی دیتی ہے۔ سوال : آفتاب کے ساتھ کیوں تشبیہ نہ دی۔ جواب مقصد اس روشنی کے ساتھ تشبیہ دینا ہے جو اندھیریوں میں سے ظاہر ہو البتہ ہدایت ایک ایسی روشنی ہے جو شبہات کی اندھیریوں میں سے ظاہر ہوتی ہے سو یہ بات چراغ کے ساتھ تشبیہ دینے سے حاصل ہوتی ہے کہ جس کے ہر طرف اندھیری محیط ہوتی ہے برخلاف آفتاب کے کہ وہ جب جلوہ گر ہوتا ہے تو تمام عالم اس کے نور سے بھر جاتا ہے ظلمت باقی نہیں رہتی۔ بعض کہتے ہیں نور سے مراد قرآن ہے جیسا کہ فرمایا ہے قد جاؤکم من اللہ نور یہ حسن و سفیان بن عیینہ و زیدبن اسلم کا قول ہے بعض کہتے ہیں اس سے مراد حضرت رسول ﷺ ہیں جن کی صفت میں سراجاً منیرًا آیا ہے۔ یہ عطاء کا قول ہے بعض کہتے ہیں کہ اس نور سے مراد وہ نور ہے کہ جو مومن کے دل میں ایمان و معرفت کا نور ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایمان کو نور اور کفر کو ظلمت سے تعبیر کیا ہے یہ ابی و ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ امام غزالی (رح) فرماتے ہیں انسان کے قوائے مدرکہ پانچ ہیں قوۃِ حسیہ جو حواس خمسہ کو شامل ہے ‘ قوت خیالیہ ‘ قوۃِ عقلیہ جو حقائق کلیہ کا ادراک کرتی ہے ‘ قوۃ فکریہ جو معارف عقلیہ میں ترکیب دے کر نامعلوم بات کو دریافت کرتی ہے قوۃِ قدسیہ جو انبیاء و اولیاء کو حاصل ہے جس سے اسرار غیب ولوائحِ ملکوت ظاہر ہوتے ہیں جس کی نسبت اللہ فرماتا ہے۔ لکن جعلناہ نورانہدی بہ من نشاء من عبادنا۔ یہ پانچوں نور ہیں ہر ایک کو ان پانچوں میں سے ایک ایک کے ساتھ تشبیہ ہے روح حساس کو مشکوٰۃ سے۔ الخ
1 ؎۔ عالم بالا آسمانوں سے بھی اوپر ہے وہ عالم حیات نہیں بلکہ عالم مجردات۔ 12 منہ
2 ؎ کعب احبار کہتے ہیں کہ مشکوۃ سے مراد ہے آنحضرت ﷺ کا سینہ مبارک اور زجاجہ قلب اور اس میں مصباح جو ہے وہ نبوت ہے وہ شجرہ مبارک سے روشن کیا گیا ہے یعنی شجرہ ابراہیمہ سے کہ جو نہ شرقی ہے نہ غربی بلکہ سب کے لیے اس کا فیضان نبوت برابر ہے۔ یکادگو آپ مونہوں سے کچھ اظہار نہ کریں مگر وہ نور نبوت خودبخود کہے دیتا ہے صدہا لوگ آپ کو دیکھتے ہی کہہ دیتے تھے کہ آپ نبی برحق ہیں جیسا کہ زیتون کے تیل صافی میں سلگ اٹھنے کا مادہ تیار ہے نور پر نور ہے ایک نور ابراہیمی جو ان کی دعا اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی پیشین گوئی (سفر استثنیٰ باب 18) کے مطابق پشت در پشت چلا آتا تھا دوسرا خود حضرت ﷺ کا نور محمدی جو تمام انوار حسیہ وعقلیہ کا منتہٰی اور مظہر اول اور منبع ہے۔ 12 ابو محمد عبدالحق
3 ؎ سراج وغیرہ 12۔ منہ
Ayahs 24:36–38ترکیب : : فی بیوت یا تو صفت ہے زجاجہ کی المصباح زجاجۃ وبیوت۔ یا یوقد سے متعلق ہے ای تو قدفی المساجد یا یسبح سے متعلق ہے وھو القویٰ ، رجال یسبح کا فاعل یا مفعول مالم یسم فاعلہ لاتلہیھم رجال کی صفت یخافون صفت ثانیہ لیجزیہم یسبح سے متعلق۔
تفسیر : فی بیوت کو جمہور مفسرین نے کلام سابق کا تتمہ قرار دیکر تشبیہ میں شامل کیا ہے یعنی وہ چراغ جو آئینہ میں ہو اور صاف تیل سے روشن کیا ہو کسی گندہ اور ناپاک مکان میں نہ ہو کہ جس کی روشنی صاف باطنوں کی آنکھوں میں بےقدر معلوم ہوتی ہو بلکہ ان مکانوں میں ہو کہ جن کے بلند کرنے کا اللہ نے حکم دیا ہے یعنی مساجد خانہ کعبہ، مسجد نبوی، بیت المقدس مسجد قبایا عام مساجد اور ان کے بلند کرنے سے مراد یا حقیقۃً بلند کرنا ہے یا تعظیم کرنا۔ ان مقامات خصوصاً بیت المقدس کے قندیلوں کی روشنی جو زیتون کے عمدہ تیل سے روشن ہوتی تھیں ضرب المثل تھی۔ پھر ان گھروں کی صفت میں فرماتا ہے کہ ان میں ایسے لوگ صبح و شام خدا کی تسبیح و تقدیس کیا کرتے ہیں اور اس کا نام لیا کرتے ہیں (یہ عام ہے خواہ نماز فرائض و نوافل کے ذریعہ سے ہو خواہ بغیر اس کے صرف ذکر وتسبیح ہو) کہ جن کو ذکر الٰہی اور نماز پڑھنے اور زکوٰۃ دینے سے نہ تجارت روک سکتی ہے نہ بیع کرنا۔ تجارت عام ہے خرید اور فروخت دونوں کو شامل ہے مگر فروخت میں نقد حاصل کیا جاتا ہے اس میں اور بھی لالچ ہے جو انسان کو ذکرالٰہی سے روک دیتا ہے۔ اس لیے اس کو جداگانہ بھی بیان کیا کہ ان کو فروخت بھی نہیں روک سکتی۔ اور باوجود اس قدر یاد الٰہی میں مشغول ہونے اور زکواۃ و خیرات دینے کے وہ لوگ اپنی عبادت پر نازاں نہیں بلکہ قیامت کے دن سے ڈرتے رہتے ہیں کہ جس دن دل اور آنکھوں کا عجیب حال ہوگا دل صدمات کے مارے ہوا ہوگا اور آنکھیں اوپر کو ٹکٹکی باندھے ہوئے ہوں گی کہ کیا حکم آتا ہے ؟ یہ سب باتیں ان کی اس بات کا سبب ہیں کہ اللہ ان کے عمدہ اعمال کا عمدہ بدلہ دے گا اور نہ صرف بدلہ بلکہ اعمال کے سوا اپنے فضل سے اور بڑھتی بھی عطا کرے گا کیونکہ وہ بےنیاز ‘ بےپروا ہے جس کو چاہتا ہے بےحساب دیتا ہے۔ بعض علماء کہتے ہیں فی بیوت یسبح سے متعلق ہے اور یہ ایک جداگانہ کلام ہے جس میں یہ بتلانا مقصود ہے کہ وہ نور کہ جس کو تشبیہ دی گئی ہے کہاں اور کس جگہ پایا جاتا ہے ؟ پھر آپ ہی بتلاتا ہے کہ ایسے گھروں میں پایا جاتا ہے کہ جن کے بلند کرنے کا اللہ نے حکم دیا اور جن میں اس کی یاد کی جاتی ہے اور وہاں ایسے پاکباز لوگ اس کی تسبیح و تقدیس کیا کرتے ہیں کہ جن کو کوئی شغل دنیاوی ان کے کار سے نہیں روکتا۔ دست بکار دل بہ یار ‘ ان کا شیوہ خاص ہے اور انہیں کے دلوں اور سینوں میں نور الٰہی کا وہ چراغ روشن ہے کہ جس سے ان کو اللہ نے اس راہ راست اور صراط مستقیم کی طرف ہدایت کی ہے واللہ اعلم باسرار کلامہ۔ رجال کے لفظ میں اس طرف اشارہ ہے کہ مساجد میں حاضر ہونا مردوں کے لیے ہے جمعہ اور جماعت انہیں پر ہے نہ عورتوں پر اور یہ بھی اشارہ ہے کہ دراصل رجال یعنی مرد ایسے ہی لوگ ہیں کیونکہ دنیا مردار کے طالب کتے ہیں اور مولیٰ کے طالب مرد ہیں۔ بڑی مردانگی یہی ہے ‘ نہ کھانا ‘ سونا ‘ جماع کرنا ‘ کسی کو مار ڈالنا ‘ نفس کا مار ڈالنا اور نفسانی خواہشوں کو اس چراغ ہدایت سے جلا دینا بڑی مردمی ہے۔ اس کلام پاک کی شرح کے لیے ایک دفتر چاہیے۔
Ayahs 24:39–40ترکیب : بقیعۃ موضع جر میں سراب کی صفت یحسبہ بھی سراب کی صفت قیعۃ جمع قاع ای فی فلاۃ والیاء فی قیعۃ بدل من واولسکونھا و انکسار ماقبلھا لانھم قالوا فی قاع اقوع او کظلمات معطوف ہے سراب پر تقدیرہ اوکاعمال ذی ظلمات فیقدرذی لیعودالضمیر من قولہ اذا اخرج یدہ الیہ ویمکن ان یقال لاحذف فیہ والمعنی انہ شبہ اعمال الکفار بالظلمۃ فی حیا تھا بین القلب و بین مایھتدی الیہ، فی بحر صفت، لظلمات لجی نسبۃ الی اللج ای ذی لجۃ یغشاہ صفۃ اخری۔
تفسیر : اس نور اور نورانی لوگوں کے بعد ظلمت اور ظلمانی لوگوں کا حال بھی تشبیہ میں بیان فرمایا جاتا ہے۔
فقال والذین کفروا الخ کہ کافروں کے اعمال جن کو وہ نیک اور وسیلہ آخرت سمجھ کر کرتے ہیں سراب کی مانند ہیں جس کو جنگل میں دوپہر کے وقت پیاسا دور سے پانی سمجھ کر بڑی بیقراری سے اس کے پاس آتا ہے اور وہاں جا کر کچھ بھی نہیں پاتا یہی حال ان کا ہے کہ بوقت مرگ جن اعمال پر ان کو سہارا تھا ان کو کچھ بھی نہ پاویں گے اور اللہ ہی سے ان کو وہاں معاملہ پڑے گا سو وہ ان کا حساب پورا کر دے گا۔ ازہری کہتے ہیں سراب وہ ہے جو ٹھیک دوپہر میں دور سے پانی ساموجیں مارتے ہوئے دکھائی دیا کرتا ہے یعنی پانی چلتا ہوا دکھائی دیا کرتا ہے یقال سراب الماء یسرب سروبا اذا جری فھو سارب۔ قولہ تعالیٰ ووجد اللہ عندہ ای وجد عقاب اللہ الذی یوعدبہ الکافرعندذلک۔ یہ ان
1 ؎۔ من فوقہ صفۃ الموج والموج الثانی مرفوع بالظرف لانہ قد اعتد ویجوزان یکون مبتداً الطرف خبرہ ومن فوقہ سحاب لغت للموج الثانی ظلمات بالرفع خبرمبتدا محذوف ای ھذہ ظلمات۔ 12 منہ
کے بقیہ احوال کا بیان ہے جو اس کے بعد ان پر عارض ہوگا بطور تکملہ کے تاکہ یہ نہ سمجھا جاوے کہ ان کے حال کا اسی پر حصر ہے بلکہ اس کے بعد اور بھی براحال ہوگا بس یہ لم یجدہ شیئًا پر معطوف نہیں (ابوالمسعود) او کظلمات یہ دوسری مثال ہے کفار کے حال کی پہلی مثال میں یہ بتلایا گیا کہ ان کے اعمال اگر اچھے بھی ہیں تو عقائدِ صحیحہ نہ ہونے کی وجہ سراب کی مانند ہیں آخرت میں ان سے کوئی نفع نہ ہوگا اور اگر برے ہیں تو وہ ظلمات ہیں۔ یا یوں کہو کہ پہلی مثال میں ان کے اعمال کا بیان تھا کہ وہ کچھ بھی فائدہ مند نہیں اور دوسری مثال میں ان کے عقائد کا بیان ہے کہ وہ ظلمات سے مشابہ ہیں جیسا کہ فرمایا یخرجہم من الظلمات الی النور ای من الکفرالی الایمان اگلا جملہ ومن لم
یجعل اللہ لہ نورًا فمالہ من نور اس پر دلالت کرتا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ دریائِ لجی (اے ذواللحجۃ التیھی معظم الماء الغمرالبعید القعر) یعنی بڑے گھرے اور بہت عمیق کی قعر میں اندھیرا ہوتا ہے پھر جب اس پر امواج کا تلاطم ہوتا ہے تو اور بھی اندھیرا زیادہ ہوجاتا ہے اور جبکہ امواج پر بادل اور گھٹا گھنگھور ہوتی ہے تو انتہا درجہ کی اندھیری ہوجاتی ہے تو ایسی حالت میں ہاتھ بھی نہیں دکھائی دیتا حالانکہ پاس کی چیزوں میں سے جو کوئی دیا کرتے ہیں عادتاً ہاتھ ہی بہت قریب سمجھا جایا کرتا ہے۔ اس طرح کا فرتین اندھیریوں میں مبتلا ہیں اول اعتقادِ بد کی ظلمت جو بحر عمیق کے مشابہ ہے اور عقائد کا محل دل ہے جس کو مختلف موجیں مارنے میں اور خطرات و شہوات کے تلاطم میں بڑی مناسبت اور کامل تشبیہ ہے۔ دوم قول بد کی ظلمت جو ان کی زبان سے نکل کر دریا کی طرح موجیں مارتی ہے۔ سوم عمل بد کی ظلمت جو بادل کی طرح محیط ہے یا اس کے قلب اور سمع و بصر کی اندھیریاں مراد ہیں یا اپنے کفر پر جو اس کو اصرار ہے اس کی ظلمات متراکمۃ کو دریا اور امواج اور سحاب کی ظلمات متراکمہ سے تشبیہ دی گئی ہے۔ پس وہ کافران اندھیریوں میں مبتلا ہے اب اگر اس کو اللہ ہی اندھیریوں سے نہ نکالے اور نور میں نہ لائے تو کون نکال سکتا ہے اور نور میں لاسکتا اس لیے فرمایا ومن لم یجعل اللہ لہ نورا فمالہ من نور۔
Ayahs 24:41–45ترکیب : الطیر معطوف علی من جمع طائر صافات حال من الطیر ای باسطات اجنحتین۔ علم کی ضمیر راجع ہے کل کی طرف وھوالاقوی لان القراۃ برقع کل علی الابتداء یزجی یسوقہ برفق۔ بینہ انما جاز دخول بین علی المفردلان المعنی بین اجزاء السحاب۔ رکاما متراکما بعضہ فوق بعض۔ الودق المطر من خلالہ ای مخارجہ جمع خلل کجبال فی جبل من السماء من لابتداء الغایۃ من جبال کا من یا زائدہ ہے اور ممکن ہے کہ پہلے من سے بدل ہو علی عادۃ الجاروالتقدیر نزل من جبال السماء ای من جبال فی السماء من برد بیان للجبال و المفعول محذوف ای ینزل مبتداء من جبال فیھا من بردبرداً ۔
تفسیر : انوار قلوب المومنین و ظلمات قلوب الکافرین کے بعد چند وہ دلائلِ توحید بیان کرتا ہے جن میں نظر کرنے سے حق سبحانہ اور اس کی توحید کا نور متجلی ہو کر نور پر نور کی کیفیت حاصل ہوجاوے۔ فقال الم تران اللہ یسبح الخ یہ اول دلیل ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان ہی پر کیا موقوف ہے جو کچھ کہ آسمانوں میں ہے ملائکہ اور روحانیات اور جو کچھ کہ زمین پر ہے انسان اور حیوان حجر اور شجر بلکہ جو ان کے درمیان ہے پرند جو ہوا میں پر کھولے معلق دوڑتے پھرتے ہیں سب اس کی تسبیح کیا کرتے ہیں۔ الم تر سے مراد الم تعلم ہے کیونکہ ان چیزوں کی تسبیح آنکھوں سے نہیں نظر آتی ہاں دل کی آنکھوں سے دکھلائی دیتی ہے یعنی عقل سے معلوم ہوسکتی ہے۔ تسبیح کرنے سے متکلمین کے نزدیک ان چیزوں کا اس پر دلالت کرنا مراد ہے کہ ان کا خالق صفات نقصان سے منزہ اور بری اور صفات کمال اور لغوت جلال سے موصوف ہے یعنی تسبیح بدلالۃ الحال ہے نہ بالمقال۔ بعض کہتے ہیں بعض چیزیں زبان سے بھی تسبیح کرتی ہیں عقلاً انسان ملائک جن وغیرہ اور بعض بدلالۃ الحال۔ بعض کہتے ہیں کہ ہر چیز اپنی ایک خاص زبان سے جو اس کو عطا کی گئی ہے اس کی تسبیح و تقدیس کرتی ہے جمادات اپنی زبان جمادی سے کرتے ہیں کبھی جمادات کی تسبیح بعض روشن ضمیروں کو بھی سنائی دی جاتی ہے چناچہ ایک بارآنحضرت ﷺ کی مجلس میں کنکروں کی تسبیح سنائی دی گئی اور نیز عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں ولقد کنا نسمع تسبیح الطعام وھویوکل (رواہ البخاری) کہ ہم کھاتے ہوئے کھانے کی تسبیح سنا کرتے تھے۔ اور نبات اپنی زبان نباتی سے تسبیح کرتے ہیں۔
چناچہ مسجد نبوی میں کھجور کا ٹھنڈ جو مسجد کا ستون تھا جس پر آپ سہارا لگا کر خطبہ پڑھا کرتے تھے حضرت ﷺ کے فراق میں رویا اور اس کا رونا سب کو سنائی دیا (رواہ البخاری) رہے حیوانات پرند اور غیر پرند سو ان کے عجائب افعال اس بات کی صریح دلیل ہے کہ خدا تعالیٰ نے ان کو ایک قسم کی گویائی اور ادراک عطا کی ہے اور وہ اللہ کی تسبیح و تقدیس کیا کرتے ہیں اور اللہ نے ہر ایک کو اپنی نماز اور تسبیح فطری طور پر تعلیم فرمائی ہے۔ کل قد علم صلوٰتہ و تسبیحہ اور اسی لیے بعد میں فرمایا واللہ علیم بما یفعلون۔ اس کے بعد مبداؤ معاد کا مسئلہ ظاہر کرتا ہے وللہ ملک السموات والارض کہ ہر چیز کو وجود اس کی طرف سے ہے اور اسی کے قبضہ میں ہے اسی لیے اس کو تسبیح و تقدیس کا استحقاق ہے والی اللہ المصیر اور پھر اس کے پاس جانا بھی ہے اس لیے اس کی تسبیح و تقدیس ضرور ہے آخر اسی سے کام پڑے گا۔ حاصل یہ کہ یہ سب عالم مسخر ہے صغری بد یہی الثبوت ہے اس لیے اس کو الم تری سے تعبیر کیا اور جو چیز مسخر اور منقاد ہے وہ خدا نہیں۔ ثابت ہوا کہ عالم میں سے کوئی چیز بھی قابل پرستش نہیں پھر جو ان کو پوجتے ہیں وہ ظلمات مترا مکہ میں جو ان کے تخیلات باطلہ میں گرفتار ہیں۔ الم تران اللہ یزجی سحابًا یہ دوسری دلیل ہے کہ اللہ بادل پیدا کرتا ہے پھر چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کو جمع کر کے ان کو گھنگور گھٹا بناتا ہے اور ان بادلوں میں سے کس لطف کے ساتھ مینہ برساتا ہے یہ نہیں ہونے دیتا کہ مشک کے دہانہ کھلنے میں جس طرح بےتحاشا پانی گر پڑتا ہے۔ اسی طرح گرے یہ بھی حکیم و قدیر کی عجیب قدرت ہے۔ پھر اس پر اور حکمت دیکھو وینزل من السماء من جبال فیہا من برد کہ انہیں بادلوں میں سے جو پہاڑ کی مانند ہیں جس طرح مینہ برساتا ہے اس طرح جسم جامد اولے بھی برسا دیتا ہے جن کو پتھر کہنا بمناسبت من جبال نہایت مناسب ہے۔ اس پر اور بھی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ قابل غور ہے یکادسنابرقہ یذھب بالابصار کہ اس سرد اور تر جگہ سے کہ جہاں سے اولے اور مینہ برستا ہے بجلی بھی ظاہر کرتا ہے جو سخت آتش بلکہ آتش کی روح ہے پھر وہ اس طرح سے کوندتی ہے کہ دیکھنے والے بھی آنکھ بند کرلیتے ہیں آنکھیں چندھیا جاتی ہیں۔ اس کے دیکھنے کی تاب نہیں لاتیں پھر عاقل بصیران سب چیزوں سے اس قادر حکیم کا جلوہ دیکھ سکتا ہے کہ جس سے عقل کی آنکھیں نہیں چندھیاتیں بلکہ اور بھی اس نور عقلی سے روشن ہوجاتی ہیں۔ کلام میں بلاغت بھی کس درجہ کی ہے کہ مینہ کا سارا سماں باندھ دیا۔ یقلب اللہ الیل والنہار یہ تیسری دلیل ہے کہ اللہ ہی رات دن کو بدلتا ہے۔ رات کے بعد دن ‘ دن کے بعد رات لاتا ہے اور پھر ہر ایک کو چھوٹا بڑا بھی کرتا ہے گویہ آفتاب یا زمین کی حرکت سے ہو مگر ان کی حرکت بھی تو اسی کے ید قدرت میں ہے۔ تمام اسباب کا سلسلہ انجام کا اس کی طرف منتہی ہوتا ہے اس لیے اس کے بعد ارشاد فرماتا ہے : ان فی ذالک لعبرۃ لاولی الابصار کہ ان میں انہیں کے لیے عبرت ہے جو چشم بصیرت رکھتے ہیں۔ وہی ان دلائل سے بانی عالم کا وجود باکمال سمجھ سکتے ہیں اور اس کے صفات کاملہ سمجھنے کے بعد یہ بھی سمجھ سکتے ہیں کہ دنیا میں جس قدر نعمتیں ہیں اس کے ہاں سے آئی ہیں وہی مینہ برسا کر دنیا کو آباد کرتا ہے اور سب کے اسباب وہی مہیا کردیتا ہے اور نیز یہ بھی کہ رحمت ناشکری کے وقت زحمت بھی ہوجاتی ہے بادلوں میں سے پانی بھی برساتا ہے مگر وہیں بجلی اور اولے بربادی کے بھی سامان مہیا کر رکھے ہیں اور نیز دولت کے بعد افلاس اور زوال کے بعد اقبال ‘ صحت کے بعد تندرستی یہ سب باتیں رات دن کی الٹا پلٹی کی طرح وہی الٹتا پلٹتا ہے۔ اگر عقل ہے تو پھر غیر کی پرستش کبھی نہ کرے۔ واللہ خلق کل دابۃ من ماء الخ یہ چوتھی دلیل ہے کہ اللہ نے ہر جاندار کو پانی سے پیدا کیا پھر کسی کو پیٹ کے بل کسی کو دو پائوں پر کسی کو چار پائوں پر چلایا یہ اختلاف اور یہ پیدائش بھی اسی صانع حکیم کا فعل ہے نہ طبیعت کا نہ مادہ کا نہ کسی اور کا۔
سوال : بہت سے جاندار پانی سے نہیں پیدا ہوئے جن آگ سے ‘ ملائکہ نور سے ‘ آدم خاک سے اور نیز مواد ارضیہ سے بھی حیوانات کو پیدا ہوتے دیکھا ہے۔
جواب : من ماء صلہ کل دابۃ کا ہے نہ خلق کا یعنی جو جانور پانی سے بنتے ہیں ان کو اللہ نے ایسا بنایا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اصل جمیع مخلوقات کی پانی ہے پھر اس پانی سے اور عناصر پیدا ہوئے جیسا کہ جلدثانی میں ہم نے بیان کیا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دابۃ سے مراد زمین پر چلنے والے جانور ہیں جن کی پیدائش پانی سے ہے پس جن اور ملائکہ ان میں داخل نہیں من ماء کو نکرہ لا کر یہ بتا دیا کہ ہر نوع دابۃ کو اس پانی سے پیدا کیا جس کے ساتھ وہ مخصوص ہے۔ بعض جانور پیٹ کے بل چلتے ہیں سانپ وغیرہ بعض دو پاؤں سے انسان وغیرہ بعض چار سے گائے بھینس گھوڑا وغیرہ اور بھی عجائب مخلوقات ہیں یا کسی کے چار سے زیادہ پائوں ہیں کنکھحورا وغیرہ تو ان سب کی طرف یخلق اللہ مایشاء ان اللہ علی کل شیء قدیر میں اشارہ کردیا۔
Ayah 24:46(ف) جن سے ہماری قدرت اور کمال واضح ہوتا ہے۔ 12 منہ
Ayahs 24:47–54تفسیر : ان دلائل کے بعد جو انسان کے دل میں نور ابدی اور سرور سرمدی پیدا کرتی ہیں چند گمراہ ازلیوں کا تذکرہ کرتا ہے جو ظلمات میں مبتلا ہیں اور ان ظلمات کے سبب ذرا ذرا سی باتوں میں بھی رسول کریم ﷺ کے ابتاع کرنے سے دل چراجاتے اور حیلہ بہانہ بناتے ہیں۔ یہ چند منافق جو مدینہ منورہ میں رہتے تھے انہی کی طرف ان آیات میں روئے سخن ہے کہ یہ لوگ منہ سے تو ایمان و فرمانبرداری کا اقرار کرتے ہیں اور موقع پر آکر منہ موڑ جاتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ درحقیقت وہ مومن نہیں اور جب کسی باہمی فیصلہ کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلائے جاتے ہیں تو انکار کر جاتے ہیں اور اگر یہ معلوم ہوجاوے کہ فیصلہ ہمارے حق میں ہوگا تو رسول کے پاس دوڑے چلے آتے ہیں پھر کیا ان کے دل میں مرض نفاق ہے یا شک میں پڑے ہوئے ہیں یا یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ اور اس کا رسول ان پر ظلم کرے گا ؟ بلکہ وہی ظالم ہیں جو ایسی بدگمانی رسول اور اللہ کی طرف جائز رکھتے ہیں۔ ایمانداروں کی یہ شان نہیں بلکہ ان کی یہ شان ہے کہ جب ان کو اللہ اور رسول ﷺ کی طرف بلایا جاوے یعنی کوئی حکم دیا جاوے تو سمعناواطعنا کے سوا اور کچھ نہ کہیں یعنی یہی کہیں کہ ہم حکم بردار ہیں۔ اس سرزنش کے بعد وہ منافق قسمیں کھا کر کہتے تھے کہ اگر آپ ہمیں وطن سے نکل جانے کا بھی حکم دیں گے تو ہم تعمیل کریں گے یعنی ہم دل سے مطیع ہیں۔ فرمایا کہہ دو کیوں جھوٹی قسمیں کھاتے ہو وطن سے نکلنے کا کوئی حکم نہیں دیتا۔ دستور کے موافق طاعت کا اللہ اور رسول حکم دیتا ہے اسی پر قائم رہو اور اس پر بھی قائم نہ رہوگے تو رسول پر کچھ نہیں وہ پہنچا چکا اس کا بار تمہیں پر ہے۔
اب اس میں مختلف روایات ہیں کہ ان آیات میں کون منافق مراد ہیں اور کس خاص معاملہ کی طرف اشارہ ہے ؟ مقاتل ؓ کہتے ہیں بشر منافق مراد ہے اس کا ایک یہودی سے جھگڑا تھا جس میں وہ حق پر نہ تھا اس لیے کہتا تھا کہ اس کا فیصلہ کعب بن اشرف سردار یہود کرے گا۔ یہودی جانتا تھا کہ وہ دغاباز ہے اس لیے وہ کہتا تھا کہ آنحضرت ﷺ کی طرف چلو۔ ضماک کہتے ہیں مغیرہ بن وائل منافق اور حضرت علی بن ابی طالب ؓ میں ایک زمین کی بابت نزاع تھی علی ؓ نے کہا آنحضرت ﷺ سے فیصلہ کراؤ اس نے انکار کیا واللہ اعلم۔
Ayahs 24:55–57ترکیب : یستخلفنھم ہو جواب قسم مضمر ای وعدھم واقسم لیستخلفنہم یعبدوننی حال من الذین اواستیناف، لایشرکون حال من الواو ای یعبد وننی غیر مشرکین۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ جو اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرتے ہیں وہی فلاح پاویں گے وہی کامیاب ہوں گے۔ آخرت کی کامیابی تو متعدد مقامات پر بیان ہوچکی تھی اب یہاں دنیا کی کامیابی بیان فرماتا ہے بقولہ وعداللہ الخ اور اس وعدہ کے بعد پھر ان مسلمانوں کو کہ جن کے لیے خلافت و امامت اور زمین پر حکومت و شوکت کا وعدہ کیا ہے واقیمو الصلوۃ واتوا الزکوۃ الخ کا حکم دیتا ہے کہ زمین پر اقتدار پاکر اور سلطنت و شوکت حاصل کر کے بنی اسرائیل کی طرح خدا اور اس کے رسول سے برگشتہ نہ ہوجانا بلکہ نماز و روزہ اور جمیع امور میں اس کے احکام کی پابندی کرنا جن کی طرف واطیعوا الرسول میں اجمالاً اشارہ ہے تاکہ تم پر رحم کیا جاوے ورنہ قہر الٰہی میں مبتلا ہوجائوگے شوکت و سلطنت چھین لے جائے گی اور جو دنیا میں اقتدار پا کر خدا سے سرتابی کرتے ہیں اور تکبر میں آکر دین کی پروا نہیں کرتے ان کو نہ یہ سمجھو کہ وہ خدا کے قبضے میں نہیں رہے۔ دنیا میں بھی وہ رسوا ہوں گے اور آخرت میں بھی ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور نیز اس فقرہ لاتحسبن الخ میں مسلمانوں کو تسلی دیتا اور اپنی وعدہ خلافت کا وثوق ظاہر کرتا ہے کہ اے مسلمانو ! آج جو تم کفار سے دبے ہوئے ہو اور تمہارے مقابلہ میں روم و ایران وغیرہ بڑی بڑی سلطنتیں ہیں یہ سب ہمارے بس میں ہیں ان کو ہم مغلوب و مقہور کرنے پر قادر ہیں۔
پیشین گوئی : حاکم نے بسند صحیح نیز طبرانی نے بھی ابی ابن کعب ؓ سے (اس آیت کے شان نزول میں) یوں روایت کی ہے کہ آنحضرت ﷺ جب ہجرت کر کے مدینہ میں تشریف لائے تو تمام تر عرب دشمن ہوگیا۔ مسلمان ہر وقت خوف کی حالت میں ہتھیاربند رہا کرتے تھے اور آرزو کیا کرتے تھے کہ کبھی ایسے بھی دن آئیں گے کہ ہم بھی امن سے رات کو سویا کریں گے کہ بجز خوف خدا اور کسی کا خوف نہ ہوگا ایسی حالت میں ان کی تسلی دینے کے لیے یہ آیت نازل ہوئی۔ خصوصاً جنگ احزاب میں تو مسلمانوں پر ازحد تکلیف اور سخت خوف و ہراس تھا۔ ابوالعالیہ سے بھی ایسا ہی مروی ہے اور ابن ابی حاتم نے بھی ایسا ہی کچھ نقل کیا ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ اس وقت کے مسلمانوں سے جو نیک تھے بطور پیشین گوئی یہ وعدہ کرتا ہے کہ ہم ان کو زمین پر اس طرح سے خلیفہ کریں گے یعنی سلطنت و حکومت دیں گے کہ جس طرح تم سے پہلوں کو دی تھی۔ حضرت سلیمان و دائود (علیہما السلام) وغیرہ کو اور ان کے حق پسند دین پر ان کو قادر کردیں گے کہ آزادی سے وہ اپنے مذہب کی پابندی کریں گے ‘ کسی کی روک ٹوک نہ ہوگی ہر طرح سے اس مذہب کے پھیلانے پر قادر ہوں گے اور خوف جو ان کو دشمنوں کا رہتا ہے اس کو دور کر کے اس کے بدلہ میں دیں گے۔ کسی سے نہ ڈریں گے کہ دین کو مخفی کریں۔ یعبدوننی میری عبادت کیا کریں گے اور میرا کسی کو شریک نہ کریں گے یعنی بےکھٹک عبادت و توحید کو بجا لائیں گے اور نیک ہوں گے اور جو اس کے بعد ناشکری کرے گا وہ فاسق ہے اس پر حمایتِ الٰہی کا ہاتھ نہ رہے گا۔ صدق اللہ العلی العظیم۔ اس نے یہ وعدہ پورا کیا آنحضرت ﷺ کو جنگ احزاب کے بعد غلبہ دیا اور پھر آپ کے بعد حضرت ابوبکر و عمر و عثمان و علی ؓ کے عہد خلافت میں تنہا عرب بلکہ روم و ایران وغیرہ سرسبز سلطنتیں بھی ان کے ہاتھ میں دیں اور نہایت امن کے ساتھ ان کے زمانوں میں دین اسلام کی اشاعت و ترقی ہوئی۔
خلافت خلفاء اربعہ کا ثبوت : اس آیت سے خلفاء اربعہ کی خلافت کا برحق ہونا صاف صاف ثابت ہوتا ہے۔ خوارج کا قول باطل ہے جو وہ حضرت عثمان و علی ؓ کو خارج کرتے ہیں۔ اسی طرح شیعہ کا قول بھی غلط ہے جو وہ خلفائِ ثلثہ کو خارج سمجھتے ہیں کیونکہ فتوحات اسلام تو انہیں حضرات کے عہد میں ظہور میں آئیں اور حضرت علی ؓ ان کے عقیدہ کے موافق تقیہ کرتے تھے ان کو امن حاصل نہ ہوا وہ اس آیت کے مصداق ہو نہیں سکتے اور اسی طرح باقی آئمہ اطہار کو تو سرے سے حکومت ہی نہیں ملی اور وہ بھی خوف سے تقیہ کرتے رہے ان کے مہدی تو آج تک ڈر کے مارے کسی غار میں چھپے بیٹھے ہیں۔ افسوس بعد میں مسلمانوں نے فسق و فجور اختیار کیا وہ شوکت و قوت بھی ان کی نہ رہی اور اب بھی باز نہیں آتے۔ مسلمانوں کی ترقی اور قومی شوکت کا یہی سبب ہے جس سے آج کل کے ریفارمر غافل ہو کر اور اسباب ترقی تلاش کر رہے ہیں۔ اللہم ارحم المسلمین واھدرئوسائہم۔
Ayahs 24:58–60ترکیب : ثلث مرات فی الاصل مصدرو قد استعملت ظرفافعلی ھذا نصبہا علی الظرفیۃ والعامل لیستاذنکم والقواعد جمع قاعدعن النکاح و امن القعود فقاعدۃ۔
یعنی بڑی بوڑھی عورتیں جو نکاح کے قابل نہ رہی ہوں اپنے گھروں میں اپنے بالائی کپڑے اتار کر بیٹھا کریں بشرطیکہ زینت یعنی وہ اعضاء جو عورتوں کی زینت ہے اور سینہ اور رانیں نہ کھول دیا کریں تو کچھ مضائقہ نہیں۔ 12 منہ
تفسیر : منجملہ اطاعت اللہ اور اس کے رسول کے ایک استیذان و اجازت کا مسئلہ بھی ہے۔ ان آیات میں خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو ادب سکھاتا ہے جو تدبیر المنزل کے متعلق ایک بڑا اہم مسئلہ تھا جس سے آج تک تمام کتب الہامیہ خالی تھیں۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ایک بار آنحضرت ﷺ نے ایک انصاری کے لڑکے کو حضرت عمر ؓ کے بلانے بھیجا۔ دوپہر کا وقت تھا عمر ؓ سوتے تھے گھر میں گھس گیا اور عمر ؓ کو بیدار کیا۔ عمر ؓ کا کپڑا کچھ کھل گیا تھا دل میں خیال آیا کہ ان کے آنے جانے کی بابت بھی کاش خدا تعالیٰ کوئی حکم نازل کرے۔ حضرت ﷺ کے پاس آئے تو آتے ہی حضرت ﷺ نے یہ آیت سنائی۔ شاید اس آیت کے سنانے کے لیے بلایا ہو۔ مقاتل ؓ کہتے ہیں۔
اسماء بنت مرثد کا ایک بڑا لڑکا تھا وہ گھر میں ایک بار ایسے وقت آیا جو ان کو ناگوار معلوم ہوا۔ اس نے آنحضرت ﷺ سے ذکر کیا تب یہ آیت نازل ہوئی (معالم) ۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ غیر مرد اور اجانب جوان یا بالغوں کو تو اجازت لے کر آنے کا پہلے حکم ہوچکا تھا بقولہ تعالیٰ یا ایہا الذین آمنوا لا تدخلوا بیوتا غیر بیوتکم حتی تستانسوا وتسلموا علی اھلھا الآیۃ اب رہے تھے لڑکے بالے جو حدِّبلوغ تک نہیں پہنچے جن سے عادتاً پردہ نہیں کیا جاتا وہ اپنے گھر کے ہوں یا بیگانے اور اسی طرح اپنے غلام اور لونڈی سے بھی آنے جانے میں پردہ نہیں ہوا کرتا۔ یہ خادم ہیں ہر وقت آقا کے پاس آتے جاتے ہیں۔ اس بارے میں کوئی حکم نہیں آیا تھا لیکن مسلمانوں کو بےوقت آنا ان کا بھی ناگوار معلوم ہوتا تھا اور ہونا بھی چاہیے۔ بھلا کس کا دل چاہتا ہے کہ سونے کے وقت جبکہ کپڑے اتار دیے ہوں کوئی ہوشیار لڑکا گوبالغ نہ ہو خواہ وہ اپنا عزیزہی کیوں نہ ہو یا اپنا غلام ہو بےمحابا چلا آوے ؟ اس لیے ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی کہ اے ایمان والو ! چاہیے کہ تمہارے غلام اور نابالغ لڑکے تین وقتوں میں تم سے اجازت لے کر آیا کریں۔ صبح کی نماز سے پہلے اور دوپہر کے وقت جبکہ کپڑے اتار دیے جاتے ہیں (یہ گرمی میں گرم ملکوں میں عام عادت ہے) اور نماز عشاء کے بعد ان اوقات کے بعد پھر اور وقتوں میں بےاجازت اور بےاطلاع آنے جانے کی کچھ ممانعت نہیں اور وہ لڑکے جب بالغ ہوجاویں تب ان کو ہمہ وقت اس طرح سے اذن لے کر آنا چاہیے کہ جس طرح ان سے بڑے اور بالغ لوگ اذن لے کر آیا کرتے ہیں کما استاذن الذین من قبلہم سے یہی مراد ہیں نہ کہ پہلی امتوں کے لوگ۔ ان خاص وقتوں کے علاوہ جبکہ اذن و بےاطلاع آنے کی غلاموں اور لڑکوں کو اجازت دی گئی تو اس کے ساتھ گھر میں عورتوں کو کس حال میں رہنا چاہئے ؟ اس کی بھی تشریح کردی۔ یہ نہیں کہ جوان عورت گھر میں ننگ دھڑنگ رہا کرے یا ستر غلیظ ڈھانکنے کے لیے کوئی کپڑا باندھ کر باقی برہنہ رہا کرے جیسا کہ بعض قوموں میں دستور ہے بلکہ گھر میں بھی ستر پردہ کے کپڑے پہنے رہے والقواعد من النساء الخ ہاں بڑی بوڑھی عورتوں کو اوڑھنایا چادر اتار دینا کچھ مضائقہ نہیں اس طرح پر کہ چھپانے کے اعضاء نہ کھلیں اور اگر یہ بھی گھر میں سر کی اوڑھنی وغیرہ نہ اتارا کریں تو بہتر ہے عواقب امور کو اللہ جانتا ہے۔ یہ پہلے حکم کا تکملہ ہے۔
Ayah 24:61ترکیب : : تحیۃً مصدر من معنی سلمولان سلم وحیا بمعنی من عند اللہ ظرف مستقرصفۃ التحیہ۔
تفسیر : اجازت اور گھروں میں جانے کا ذکر آیا تھا اس لیے اس کے بعد باہم مواکلت اور مشاربت کے مسئلہ کو بھی طے فرما دیا بقولہ العظیم لیس علی الاعمیٰ حرج الخ عبدالرزاق نے مجاہد سے نقل کیا ہے کہ مسلمانوں میں یہ دستور تھا کہ کسی اندھے یا لنگڑے یا بیمار کو کھانا کھلانے کے لیے اپنے باپ وغیرہ اقارب مذکورہ فی ال آیت کے گھر لے جا کر کھانا کھلا دیا کرتے تھے مگر وہ لوگ اپنے تقویٰ و دیانت سے اس میں تردد کرتے تھے کہ ہم کو بیگانہ گھروں میں لے جا کر کھانا کھاتے ہیں۔ یہ آیت نازل ہوئی کہ اس کا کچھ مضائقہ نہیں یعنی درست ہے اکثر مفسرین کہتے ہیں کہ لوگ اندھے اور بیمار اور لنگڑے کے ساتھ مل کر کھانا کھانے میں تامل کرتے تھے اور نیز ان گھروں سے بھی کھانے میں تامل تھا۔ پھر اس کی چند وجہ بیان کی ہیں۔ اندھوں کے ساتھ اس لیے کہ اس کو کھانے میں امتیاز نہیں رہتا اور لنگڑے کے ساتھ اس لیے کہ مجلس طعام میں اس کی نشست جرح انداز خیال کی جاتی تھی اور بیمار سے توتنافر طبعی ہوا ہی کرتا ہے۔ پس خدا تعالیٰ نے رخصت دی۔ صاف معنی یہ ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی لا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل الاان تکون تجارۃ الخ تو تقویٰ و پرہیز گاری کی وجہ سے لوگوں میں یہ بات پیدا ہوگئی کہ اپنے ہی گھروں سے کھانا کھانا درست جانتے تھے۔ رشتہ داروں دوستوں کے گھروں سے کھانا ان کا ناحق مال کھانا سمجھتے تھے اور اسی احتیاط سے اندھے کے ساتھ اور بیمار اور لنگڑے کے ساتھ مشترک کر کے نہ کھاتے تھے کہ اندھے کو اچھا لقمہ نہ سوجھے اور میں کھا جائوں اور بیمار اپنا پورا حصہ نہ کھا سکے گا اور لنگڑے کے آنے میں دیر ہونا معمولی بات ہے مبادا اس سے پیشتر کھا جاوے اور نیز وہ اچھی طرح بیٹھ بھی نہیں سکتا کہ پورا حصہ برابر کھاوے اور نیز چند آدمی باہم مل کر بھی اس خیال سے نہ کھاتے تھے کہ مبادا حصہ سے زیادہ کھایا جاوے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ یہ حرج و وقت کی بات ہے شرع نے تم کو تنگ نہیں کیا ہے اس لیے اندھے اور بیمار اور لنگڑے کو اور خود تم کو اجازت ہے کہ حسب دستور قوم اپنے گھروں سے اور اپنے رشتہ داروں کے گھروں سے اور اپنے دوستوں کے گھروں سے اور نیز اس کے گھر سے کہ جس نے تم کو اپنی کنجیاں دے کر مختار کردیا ہے باہم مل کر کھاؤ یا جدا جدا۔ کس لیے کہ عرب میں عادت اور دستور ہے کہ وہ اپنے عزیزوں اور دوستوں کے کھانے سے خوش ہوا کرتے ہیں۔ سو یہ اجازت ہے اس سے یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ جہاں دستور نہ ہو یا یہ معلوم ہو کہ ہمارے کھانے سے یہ ناخوش ہوگا تو ہرگز جائز نہیں کہ اس کی اجازت بغیر اس کے گھر سے کھائے۔ ان تاکلوا من بیوتکم اپنے گھروں سے کھانے کی جو اجازت دی حالانکہ اجازت کی کوئی بھی ضرورت نہیں تو اس لیے کہ اپنے گھروں سے مراد اپنی بیویوں کے گھر میں یا اپنی اولاد کے گھر اور اس لیے بیویوں اور اولاد کے گھروں کا ذکر آیت میں نہیں آیا فاذا دخلتم بیوتا الخ پھر جب تم ان گھروں میں کھانا کھانے جاؤ تو اول سلام کہہ لیا کرو گو یہ اجازت مانگنا ہے۔ علی انفسکم سے مراد اپنے لوگ ہیں کیونکہ احباب رشتہ دار بمنزلہ ایک جان کے ہیں اور جو وہاں کوئی نہ ہو تو خود اپنے اوپر سلام کہو السلام علینا من قبل ربنا کیونکہ فرشتے جواب دیتے ہیں اور یہ سلام کہنا جن میں سلامتی کی طرف اشارہ ہے اور نیز یہ اللہ کا نام ہے اور مذہب اسلام سے بھی خبر دیتا ہے تمہارے رب کی طرف سے مبارک دعا اور سلام ہے نہ کہ بندگی و کو رنش وغیرہ۔
Ayahs 24:62–64ترکیب : دعاء الرسول امصدر مضاف الی المفعول۔ اے دعائکم الرسول لواذا مصدر فی موضع الحال ویجوزا ان یکون منصوبابیتسللون۔
تفسیر : یہاں سے رسول کی اطاعت کے بارے میں مدینہ کے منافقوں کی مذمت بیان ہے جو وہ اس سے پہلو تہی کرتے تھے۔ اس مناسبت کے لیے سورة کا تتمہ اسی قسم کے آداب پر کرنا ان کے دل میں کیفیت نورانی کا پیدا کردینا ہے اور ان سب امور کے مصالح اور حکمتوں کی طرف اللہ بکل شیء علیم میں اشارہ کردیا اور علم چونکہ نور ہے اس لیے کلام کو اس کے ساتھ ختم کیا۔ ابن اسحاق اور بیہقی نے دلائل میں عروہ و محمد بن کعب قرظی وغیرہما سے روایت کی ہے کہ غزوہ احزاب کے ایام میں ابوسفیان قریش کو لے کر چڑھ آیا اور دومۃ الجندل کنوئیں کے پاس آ اترا ادھر قبیلہ غطفان نے آکر احد پہاڑ کے نیچے ڈیرہ ڈال دیا۔ مدینہ پر حملہ کرنے کے لیے حضرت ﷺ نے خبر پا کر مدینہ کے اردگرد خندق کھودنے کا حکم دیا۔ خود بنفس نفیس اور مسلمان بھی اس میں شریک ہوئے مگر منافقوں نے پہلو تہی کی۔ ذرا سی بات کا بہانہ کر کے بغیر اجازت واذن رسول کریم ﷺ کے چلے جایا کرتے تھے اور جو کسی مسلمان کو کوئی ضرورت پیش آتی تھی تو آپ سے اجازت لے کرجاتا اور کام سے فارغ ہو کر پھر شریک ہوجاتا تھا۔ تب اللہ تعالیٰ نے ان مومنین کی مدح میں آیت نازل فرمائی انما المؤمنون الذین الخ اور ضمناً اس میں منافقوں کی مذمت ہے کہ وہ جو اس کا خلاف کرتے ہیں حقیقی مومن نہیں ہیں۔ ان اللہ غفور الرحیم میں اس طرف اشارہ بھی کردیا کہ ان کو ضروری کام میں اذن لے کر جانا گو جائز ہے مگر تب بھی معافی مانگنا چاہیے۔ امر جامع یعنی وہ کام جو اجتماع کو واجب کرے امر کو جامع علی سبیل المجاز کہا گیا پھر اس امر جامع کی تفسیریوں کی گئی ہے کہ ایسا کام جس میں مسلمانوں کا مجمع ضروری سمجھا جاوے جیسا کہ مخالفین سے لڑائی یا کوئی تعمیرو عمل کے متعلق ایسا کام کہ جس میں عام منفعت ہو یا کوئی مشورہ اس میں جمعہ اور عیدین بھی شامل ہیں۔ جب امر جامع میں سردار کی اطاعت کا حکم دیا اور مخالفت سے منع کیا تو سردار کے متعلق آداب کا بیان کرنا بھی مناسب ہوا کیونکہ سردار کی عظمت بغیر کسی امر جامع کا انتظام نہ ہوگا۔ فقال لاتجعلوا دعاء الرسول الخ یہ گیا رہواں حکم ہے اس آیت کے معنی میں تین قول ہیں : اول یہ کہ رسول جو تم کو پکارے بلائے تو ان کے بلانے کو آپس کے ایک دوسرے کے بلانے کی طرح سرسری نہ سمجھا کرو بلکہ فی الفور حاضر ہوا کرو اور تعمیل حکم کیا کرو۔ دوم یہ کہ رسول کی دعا کو آپس کی دعائوں کی طرح نہ سمجھا کرو رسول جس کام کے صلہ میں دعا دیں تو وہ دعا مستجاب ہے اور جس کو بددعا دیں تو وہ بھی مقبول ہے۔ برخلاف عام لوگوں کی دعائیں بدعائوں کے۔ سوم وہ معنی ہیں جن کو ابونعیم نے ابن عباس ؓ سے بطریق ضحاک نقل کیا ہے کہ لوگ آنحضرت ﷺ کو یا محمد یا ابوالقاسم نام لے کر پکارا کرتے تھے کہ جس طرح آپس میں ایک دوسرے کو اس کا نام لے کر پکارا کرتا تھا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اس طرح نہ پکارو بلکہ یا رسول اللہ یا نبی اللہ کہہ کر پکارو اور اسی طرح اور بزرگان دین کے ساتھ بھی ادب ملحوظ رکھنا لازم ہے۔ قد یعلم اللہ الخ یہاں تعلیم ادب و مومنوں کی مدح کے بعد منافقوں کو متنبہ کرتا ہے کہ وہ آنکھ بچا کر نکل جانے والے ہم سے محفی نہیں رہ سکتے۔ رسول کی مخالفت کرنے والوں کو ڈرنا چاہیے کہ دنیا میں ان پر کوئی بلا نہ آپڑے۔ بیماری ‘ تنگدستی ‘ دشمن سے مقہور ہونا ‘ مرگ جانکاہ ‘ زلزلہ وغیرہ اور آخرت میں دردناک عذاب میں نہ مبتلا ہوجاویں۔ اللہ کو تمہارا سب حال معلوم ہے ماانتم علیہ اس کے قبضہ قدرت میں آسمان و زمین سے عذاب بھیجنے پر بھی قادر ہے۔ اب تم زبان سے جو چاہو لاف زنی کرو مگر جس روز مر کر اس کے پاس جاؤ گے وہ تم کو تمہاری سب کرتوت بتلا دے گا۔ واللہ بکل شیئٍ علیم۔